Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 16)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt


حسن آرا نے فاریہ کو زور سے زمین پر پٹخنا چاہا۔۔۔۔ مگر وہ سامنے کسی مظبوط شخص کی باہوں میں جھولی تھی جس نے اسے گرنے سے بچایا۔۔۔۔ جب فاریہ نے آنکھیں اوپر اٹھاتے ہوئے اس شخص کا چہرہ دیکھا تو اس کے سمیت باقی کالونی والے جو وہاں پر موجود تھے سب حیران رہ گئے۔۔۔۔۔!!! ” کون ہے کہ لڑکا ؟؟ ” حسن آرا نے سوچا۔۔۔۔ اس لڑکے کے چہرے پر غصہ دیکھ کر ایک لمحے کے لیے حسن آرا ڈر گئی تھی۔۔۔۔

” آپ کی ہمت کیسے ہوئی فاریہ جی کے ساتھ یہ سلوک کرنے کی ؟؟؟ “

آتش کاظمی تھا وہ،،، فاریہ نے اپنے پیروں پر کھڑے ہوتے ہوئے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں اسے غصے کے سوا کچھ بھی دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔ آتش نے غصے سے حسن آرا کو دیکھ کر کہا تو مٹھیاں بھینج گئی۔۔۔۔ اس نے فاریہ کا ہاتھ اب بھی تھاما ہوا تھا۔۔۔۔

” اوو لڑکے کون ہو تم ؟؟ “

حسن آرا نے وہاں موجود لوگوں کی طرف دیکھا جو کھڑے ہو کر یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔۔!!!! اور نظر گھماتے ہوئے سامنے کھڑے آتش کو دیکھا جس نے فاریہ کا ہاتھ تھاما تھا۔۔۔۔

” آپ کو جاننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے!! آپ سے جتنا سوال کیا جائے بس اتنا ہی جواب دے مجھے “

آتش نے قہر برساتی نگاہوں سے سامنے کھڑی حسن آرا کو دیکھا اور اس سے کہا کہ وہ صرف اتنا ہی جواب دے جتنا اس سے پوچھا جائے !!

” بھئی!! پہلے پتہ تو چلے ہمیں کہ تم کون ہو ؟ فاریہ کے کیا لگتے ہو ؟؟ تم نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا ہے ؟ ضرور اس کے جاننے والے ہو گے کون ہو تم ؟ کیا لگتے ہو فاریہ کے تم “

وہاں پر موجود کالونی کے ہی ایک شخص نے کہا کہ وہ کون ہے کیا لگتا ہے وہ فاریہ کا کیوں تھاما ہے اس نے فاریہ کا ہاتھ ؟؟ جس پر سب کالونی والوں سمیت حسن آرا نے بھی اس بات کی تصدیق چاہی تھی اس سے !!!!کہ وہ کون ہے ؟؟

” میں فاریہ جی کا ہونے والا شوہر ہوں “

اس کے کہے ہوئے الفاظ وہاں ہر موجود ہر شخص کو حیرانگی میں مبتلا کر گئے تھے۔۔۔۔ جبکہ فاریہ نے یہ سنتے ہی اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا لیکن اس کی گرفت اتنی مظبوط تھی کہ یہ ممکن ہی نا ہوا!! یہ الفاظ اس پر کسی بجلی سے کم نا گرے تھے!!!!! پھر اسے اس قدر حیرانگی تھی کہ وہ کیسے دھڑلے سے کر رہا تھا یہ سب کچھ !!! سادیہ جو بھی یہ سن کر بہت زیادہ حیرانگی ہوئی تھی آج سے پہلے اس نے کبھی بھی فارہہ کے منھ سے آتش کا ذکر نہیں سنا تھا۔۔۔۔” اور وہ خود کو اس کا ہونے والا قہر بتا رہا تھا۔۔۔

” کیا ؟؟ شوہر ؟؟ “

حسن آرا کو بھی یہ سن کر بہت حیرانگی ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ تو یہ سمجھتی تھی کہ فاریہ جیسی لڑکی کی شادی کسی غریب گھرانے میں ہو گی۔۔۔۔لیکن اس کا منگیتر تو دکھنے میں کسی امیر زادے سے کم نہیں تھا۔۔۔۔۔”

” ایسا کچھ بھی ن”

” ایسا ہی ہے میں آتش کاظمی فاریہ جی کا ہونے والا شوہر ہوں سمجھ گئے آپ سب لوگ ؟؟ “

فاریہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ جیسا وہ لڑکا ان سب کو بتا رہا ہے ویسا کچھ بھی نہیں ہے!! لیکن آتش نے اس کے الفاظ درمیان میں ہی کاٹتے ہوئے کہا تو فاریہ اپنا ہاتھ بڑی مشکل سے اس کے ہاتھ سے چھڑوا ہی لیا۔۔۔۔!!!

” اور کیا کہہ رہی تھی آپ ؟؟ فاریہ جی نے آپ کی انگھوٹی چرائی ہے ؟؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہے،،، بلکہ یہ کام تو کسی اور کا ہے !! “

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے آتش نے حسن آرا اور وہاں پر موجود باقی کالونی والوں کو یہ بتایا کہ فاریہ نے اس کی انگھوٹی نہیں چرائی کسی اور نے چرائی ہے۔۔۔۔ جس پر فاریہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔

” اچھا !! تو پھر بتاؤ کس نے کیا ہے یہ کام ؟؟ “

حسن آرا نے طنزیہ مسکراتے ہوئے اس کی اور فاریہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔!! اور آتش سے سوال کیا کہ اگر فاریہ نے ان کی انگھوٹی نہیں چرائی تو پھر کس نے چرائی ہے ؟ اب تو کالونی والوں کو بھی یہ بات جاننے کا تجسس تھا۔۔۔۔

” صادق “

جیسے ہی حسن آرا نے سوال کیا تو آتش نے غصے کی نگاہ اس پر ٹکائے ہوئے ایک آواز اپنے منھ سے نکالی۔۔۔۔!!! جس پر صادق اور اس کے ساتھ ایک اور شخص شیراز ( حسن آرا کا بیٹا ) وہاں پر پہنچے صادق نے شیراز کو پکڑا ہے۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہی حسن آرا کے ہوش اڑ گئے۔۔۔۔

” یہ تو میرا بیٹا “

” جی بالکل !! یہ آپ کا ہی بیٹا ہے۔۔۔۔۔ اور یہ انگھوٹی بھی آپ کی ہی ہے۔۔۔۔ اور آپ کی یہ انگھوٹی فاریہ جی نے نہیں چرائی ہے۔۔۔ بلکہ آپ کی یہ انگھوٹی آپ کے ہی اپنے بیٹے نے چرائی تھی۔۔۔۔ آپ جاننا چاہے گی کہ اس نے ایسا کیوں کیا ؟؟ چلیں کوئی بات نہیں ہے میں ہی بتا دیتا ہوں آپ کے بیٹے نے یہ انگھوٹی چرائی اسے بیچنے کے لیے تا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر جوا جیسی حرام کھیل کھیل سکیں اور آپ نے بنا سوچے سمجھیں ہماری فاریہ جی پر الزام لگا دیا “

آتش نے قدم حسن آرا کی طرف بڑھائے اور ان کے پاس جاتے ہوئے ان کے ہاتھ میں انگھوٹی دی۔۔۔۔۔!! آتش کی بات سن کر حسن آرا نے حیرانگی سے اپنے بیٹے جو دیکھا جس نے اس کی سونے کی انگھوٹی جوا کھیلنے کے لیے چرائی تھی۔۔۔ سادیہ نے غصے شیراز کو دیکھا۔۔۔۔

” ایسا کچھ بھی نہیں ہے تم جھوٹ بول رہے ہو ؟؟ “

حسن آرا نے اب کالونی والوں کے سامنے اپنے بیٹے کی عزت جو بچانے کے لیے خود یہ جھوٹ بولا کہ آتش کی کہی ہوئی بات جھوٹی ہے !! جس پر آتش کو طنزیہ مسکراتے ہوئے دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔۔۔۔

” ارے!! ایسا میں تھوڑی کہہ رہا ہوں !! ایسا تو آپ کے بیٹے نے کہا ہے مجھ سے ،،،، اس کی بات پر تو یقین کرتی ہیں نا آپ ؟؟ چلو بھئی شیراز اپنی امی کو یہ انگھوٹی تم نے ہی چرائی ہے “

آتش نے اپنی بات کرتے ہوئے ایک مرتبہ بھی پیچھے کھڑے ہوئے شیراز کی طرف نہیں دیکھا تھا جس سے یہ بات صاف ظاہر تھی کہ وہ شیراز کو بالکل بھی دھمکا نہیں رہا تھا اور اب تو صادق نے بھی شیراز کو چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔

” ج۔۔۔ی امی میں نے ہی کیا ہے یہ “

شیراز نے نظریں جھکائے ہوئے اپنی والدہ کو اور باقی سب کالونی کو یہ بتایا کہ اس نے ہی انگھوٹی چرائی ہے ” جس پر کالونی والے اسے ہی باتیں سناتے ہوئے وہاں سے اپنے اپنے کاموں کے لیے چلے گئے۔۔۔۔ اب وہاں پر صادق ، آتش ، فاریہ ، سادیہ ، حسن آرا ، شیراز موجود تھے۔۔۔۔

” اب جب آپ کے سامنے سارا سچ آ ہی گیا ہے تو اب آپ فاریہ جی سے معافی مانگیں۔۔۔۔ اور ابھی کچھ دن انھیں اپنے پاس رکھیں پھر میں دلہا بن کر اپنی دلہن کو لینے کے لیے آ جاؤ بس چھ سے سات دن “

آتش نے جب اپنے آخری الفاظ ادا کیے تو فاریہ کو شدید غصہ چڑھا۔۔۔۔ جبکہ اس کی بات سنتے ہی حسن آرا نے نظریں جھکا لی۔۔۔۔

” اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ شیراز کو لے کر اندر جائیں “

فاریہ نے آگے بڑھتے ہوئے غصے کی نگاہ سے آتش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تو وہ تینوں اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔”

” تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہاں پر آنے کی ؟؟ “

فاریہ ان تینوں کے جاتے ہی غصے سے آتش کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔ جو اس کے چہرے کے غصے کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ غصے میں بھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔

” ہمت تو مجھ میں بہت ہے فاریہ جی !! ہر فلحال آپ ابھی ان باتوں کو چھوڑیں۔۔۔۔ ہماری شادی کی تیاری کریں جو آج سے ٹھیک چھ دن کے بعد ہے کل آؤ گا میں آپ کو شاپنگ پر لے جانے کے لیے اب بہت ہم دونوں ایک ہونے والے ہیں “

” چٹاخ “

اس کی باتیں سنتے ہوئے فاریہ اپنا قابو کھو بیٹھی تھی۔۔۔۔۔ اس کی سمجھ سے باہر تھا یہ شخص ؟؟ اب وہ مزید برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔ اسی وجہ سے اس کا ہاتھ آتش کاظمی پر اٹھ گیا۔۔۔۔!! جس پر صادق کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔

” اپنی بکواس بند کرو کس قدر بے حیا ہو تم ؟؟ “

فاریہ نے ایک ایک لفظ پر زور ڈال کر کہا۔۔۔۔ لیکن اس آتش کو تو جیسے اس کی کسی بھی بات کا اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔ اس کی تھپڑ کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا!!

” تھپڑ ہی سہی لیکن آپ نے ہمیں چھوا تو “

اس نے پیار بھرے لہجے میں کہتے ہوئے مسکرا کر اپنی اس گال پر ہاتھ پھیرا جہاں فاریہ نے اس کے چہرے پر تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔ جس پر فاریہ مزید حیران ہوئی تھی کس قسم کا انسان تھا وہ تھپڑ کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا اس پر “

” دفع ہو جاؤ یہاں سے “

اس کو غصے سے دیکھتے ہوئے فاریہ نے غصے سے کہا کہ وہ یہاں سے چلا جائے اور وہ خود بھی وہاں سے جانے کے لیے مڑی تھی۔۔۔۔ جب ہی وہ مسکرا اٹھا۔۔۔

” کل تیار رہئیے گا فاریہ جی “

وہ مسکرا کر اسے بلند آواز میں کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔!! جبکہ اس کی آواز سنتے ہوئے فاریہ غصے سے اپنی مٹھیاں بھینج گئی تھی اور سخت قدم لیے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔!!

رات کے سائے سارے آسمان پر چھا گئے تھے۔۔۔۔ اندھیرے نے ہر طرف بسیرا کر لیا تھا۔۔۔۔ دن سے رات ہو گئی تھی!! ازا کمرے میں چینج کر کے پہنچی تو کایان کو صوفے پر لیٹا ہوا بک پڑھنے میں مصروف پایا۔۔۔

ایک نگاہ جیسے ہی ازا نے اس پر ڈالی تو اس کے سامنے آج صبح کا منظر دوڑا تھا۔۔۔ اس کے چہرے پر شرم کے تاثرات چھا گئے تھے۔۔۔۔۔ وہ نظریں جھکاتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ اس کی یہ شرماہٹ بھی کایان کی نظروں سے بچ نہیں پائی تھی۔۔۔ وہ مسکرا گیا تھا۔۔۔۔” ازا بیڈ کی ایک طرف ہوتے ہوئے لیٹی اور کنفرٹر اپنے پر چڑھا لیا۔۔۔۔۔

” ویسے میں سوچ رہا تھا !! “

ازا ابھی سونے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ کایان کی آواز نے اس کا تعاقب کیا اور اسے اپنی طرف متوجہ کروایا!! اس نے معصوم لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔۔!!!

” کیا ؟؟ “

اس کی بات سنتے ہوئے ازا نے اس سے سوال کیا۔۔۔۔ کہ وہ کیا سوچ رہا ہے ؟؟ جس پر کایان مسکرا کر صوفے پر سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔۔

” میں یہ سوچ رہا تھا کہ کتنی ہی دیر ہو گئی ہے ہماری شادی کو اور ہم نے کبھی کھل کر ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کی۔۔۔۔ نا ایک دوسرے کے متعلق کبھی جاننے کی کوشش کی۔۔۔۔ آج آپ مجھے اپنے بچپن کے بارے میں کچھ بتائے ؟ “

اس نے مسکرا کر کہا کہ وہ اس کے بارے میں جاننا چاہتا ہے تو ازا بھی بالکل اس کے سامنے بیڈ پر سیدھی ہو کر بیٹھی اور مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔!!

” آپ جاننا چاہتے ہیں کہ میرا بچپن کیسے گزرا ؟؟ “

ازا نے اس کی بات سن کر سیدھے بیٹھ کر کایان سے سوال کیا کہ کیا وہ اس کے بچپن کے بارے میں جاننا چاہتا ہے ؟

” بالکل میں آپ کے بارے میں بھی جانتا چاہتا ہوں “

کایان نے مسکرا کر اسے بتایا کہ وہ نا صرف اس کے بچپن کے بارے میں جاننا چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے بارے میں بھی جاننا چاہتا ہے۔۔۔۔ جس پر ازا مسکرائی۔۔۔

” اوکے !! میں بتاتی ہوں۔۔۔۔۔!!! میرا بچپن بہت لاڈ پیار میں گزرا ہے۔۔۔۔ کیونکہ میں گھر میں سب سے پہلی بچی تھی،،، اور اپنے ماں باپ کی پہلی اولاد تھی تو انھوں نے میرا بہت خیال رکھا۔۔۔۔

میری ہر خواہش ،، میری ہر وہ بات جو میرے منھ سے نکلتی تھی کبھی ایسا ہوا تھا ہی نہیں کہ بابا وہ پوری نا کریں!!!! جب میں تین سال کی ہوئی تو میرا چھوٹا بھائی ہوا۔۔۔ لیکن پھر بھی میرے ماں باپ کا پیار کبھی بھی میرے لیے کم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔

انھوں نے کبھی بھی اپنے بیٹے کو اپنی بیٹی پر فوقیت نہیں دی تھی۔۔۔۔!!!! انھوں نے ہمیشہ میری بات کو سراہا اس کے کچھ سال بعد میری پڑھائی کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔۔

پڑھائی میں بھی میں اللہ کا شکر ہے بہت اچھی تھی۔۔۔۔ بابا کے بھائی ہمیشہ میری پڑھائی پر اعتراض کرتے تھے۔۔۔۔۔ وہ کبھی بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ میں پڑھو لیکن میرے بابا کی خوائش تھی کہ میں اچھی تعلیم حاصل کرو۔۔۔۔ میرے بابا نے کبھی بھی میری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیے۔۔۔۔

اس کے بعد میری زندگی کا ایک نیا سفر شروع ہوا جس میں آپ میرے ساتھ آئے!! آپ نے مجھے عزت دی مقام دیا مرتبہ دیا،، ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا آپ نے تھینک یو سو مچ !!!”

ازا نے اپنی پیدائش سے لے کر اس کے ساتھ آنے تک ہر بات اسے بتائی تھی۔۔۔۔ جس سے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے۔۔۔۔۔۔ ماں باپ کو کیسے بھول سکتی تھی وہ ؟؟ اس کی بات سن کر کایان کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی تھی۔۔۔۔!!!

” شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے اور میں نے آپ کو پہلے بھی اتنی مرتبہ کہا ہے کہ یوں بار بار شکریہ کہہ کر مجھے شرمندہ مت کیا کریں۔۔۔۔ میں آپ کا شوہر ہوں۔۔۔۔ یہ میرا فرض ہے “

کایان نے چہرے پر سنجیدگی جمائے ہوئے ہوئے اس سے کہا کہ وہ اس کا شکریہ ادا نا کیا کرے۔۔۔۔۔!!! اس نے پہلی مرتبہ اپنے شوہر ہونے کا کہہ کر اسے اپنا فرض کہا تھا۔۔۔۔۔

” ( اور آپ کو یہاں بھی وہی پیار ملے گا جیسا کہ آپ کو اپنے گھر میں اور میں دوں گا آپ کو پیار !! ) “

کایان نے اپنے دل میں سوچا اور ازا کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔ جو اپنے والدین کی سوچوں میں گم تھی!!

” آپ بھی بتائے نا اپنے بچپن کے بارے میں “

کچھ لمحات کی خاموشی کے بعد ازا نے اس سے کہا کہ وہ بھی اسے اپنے پچپن کے بارے میں جس پر کایان ماضی کی تلخ یادوں میں کھو گیا تھا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *