Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 51) Last Episode

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

جیسے ہی ازا نے اسٹیج پر چڑھنے کے لیے قدم اٹھایا تو اسے ایک دم سے چکر آگئے۔۔۔ اسے سب کچھ گھومتا ہوا دیکھائی دیا۔۔۔۔!!

وہ اوپر کی طرف بڑھانے کی بجائے چکر کھاتی ہوئی پیچھے کھڑے کایان کی باہوں میں جھول گئی۔۔۔۔! کایان نے اسے پریشانی سے دیکھا جو بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔!!!!

” ازا !!! “

کایان نے آہستگی سے ازا کے گال تھپھاتے ہوئے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی لیکن بے سود رہی۔۔۔! سب لوگ کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔!!!! شہناز بیگم حیرانگی و پریشانی سے ان کی طرف بڑھی !!!

” کایان جلدی سے ازا کو اندر لے چلو۔۔۔!!! اور رہان تم ڈاکٹر کو فون کرو !!! “

شہناز بیگم نے کایان سے کہا تو وہ فوراً ازا کو باہوں میں بھرتا ہوا اسے اوپر اپنے کمرے کی طرف لیے ہوئے بڑھ گیا۔۔۔ اور اس کے جاتے ہی شہناز بیگم نے رہان کو حکم دیا تھا جس پر وہ سر ہاں میں ہلاتا ہوا ڈاکٹر کو فون کرنے لگا۔۔۔

سب کے چہروں پر پریشانی چھا گئی تھی۔۔۔۔۔۔.!!!

کمرے میں لاتے ہوئے کایان نے آہستگی سے ازا کو بیڈ پر لٹایا۔۔۔۔ اس کا دل بہت گھبرا رہا تھا کہ نا جانے اسے کیا ہو گیا ہے۔۔۔ وہ بالکل اس کے سامنے، اس کا جاتے تھامے ہوئے بیٹھا تھا۔۔۔ جب ہی دروازے پر دستک ہوئی تو اس نے مڑ کر دیکھا تو ڈاکٹر کھڑی تھی وہ فوراً انھیں اندر کی طرف آنے کا اشارہ دیتے ہوئے وہاں سے اٹھتا ہوا انھیں جگہ دے گیا تھا۔۔۔۔!!!

سارے حویلی والے بھی وہاں پر پریشانی سے جمع ہوئے تھے !! ڈاکٹر نے ازا کا چیک اپ کیا !!!

” ڈاکٹر گھبرانے کی کوئی بات تو نہیں ہے نا ؟ “

کایان نے ازا کے لیے لہجے میں پریشانی لیے ہوئے ڈاکٹر صاحبہ سے سوال کیا۔۔۔!!

” نہیں !! پریشانی کی کوئی بھی بات نہیں ہے بلکہ آپ سب کے لیے گڈ نیوز ہے شی از پریگننٹ!!! “

ڈاکٹر صاحبہ اس کی بات سنتے ہوئے ہلکا سا مسکراتی ہوئی بولی۔۔۔۔!! یہ سن کر کہ وہ باپ بننے والا ہے کایان کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔

اس کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔۔!!!

” بس یہ تھوڑی سی ویک ہیں۔۔۔! زیادہ چلنا ، یا کام کرنا ان کے لیے بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔۔۔۔!!

آپ کوشش کریں کہ یہ پوری طرح سے بیڈ ریسٹ لیں اور ان کی ڈائٹ کا بھی پورا خیال رکھیں یہ کچھ میڈیسنز میں نے لکھ دی ہیں بروقت انھیں کھلائیں!

تھکن کی وجہ سے یہ بے ہوش ہو گئی ہیں میں نے انھیں انجیکشن دے دیا ہے ایک سے دو گھنٹے تک ہوش میں آ جائیں گی “

ایک ایک کر کے ڈاکٹر صاحبہ نے ساری تفصیلی بات بتائی انھیں۔۔۔!! سب کے چہرے پر خوشیاں ہی خوشیاں چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔!!

” آپ فکر مت کریں ڈاکٹر ہم ان کا پورا خیال رکھیں گے !!! “

کایان نے میڈیسنز کی لسٹ پکڑتے ہوئے ڈاکٹر کو تسلی دیتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا گئی۔۔۔!!! اور اٹھتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی انھیں باہر تک چھوڑنے کے لیے ربعیہ اور رہان ان کے ساتھ گئے تھے۔۔۔

” آج اس خوشی کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور خوشی کی خبر سنا دی۔۔۔!!! اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے “

شہناز بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا تو کایان، صائمہ سمیت سب مسکرا گئے تھے۔۔۔! یہ خوشخبری ان کے لیے کوئی چھوٹی بات نہیں تھی۔۔۔

حویلی میں اتنی دیر بعد بچے کی آوازیں گونجنے والی تھی۔۔۔!!! سب بہت خوش تھے کیونکہ ایک ننھا سا مہمان آنے والا تھا۔۔۔۔ شہزاد ملک بھی یہ سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔۔۔

کچھ دیر تک سب حویلی والے وہی رہے باتیں کرتے رہے ہنستے رہے مسکراتے رہے۔۔۔ کچھ دیر بعد مہندی کی رسم کو پورا کرنے کے لیے وہ لوگ گاڑدن کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔۔۔

جبکہ ازا اور کایان ابھی بھی کمرے میں ہی تھے۔۔۔۔!! کافی دیر بعد ازا نے ہلکی ہلکی سی آنکھیں کھولیں !!!

” ک۔۔یان “

اس نے آہستگی سے پکارہ جس پر کایان جو بالکل اس کے ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔

” جی کایان کی جان “

ازا نے ہلکی ہلکی سی آنکھیں کھولیں تو وہ بالکل اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ اس کے چہرے پر اپنے لیے پریشانی دیکھ اسے اب یاد کہ کیسے وہ بے ہوش ہو گئی تھی اور اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔۔!

وہ ہمت کرتی ہوئی سیدھی ہو کر بیٹھی تھی۔۔۔۔!!! کایان نے اسے سہارا دیا۔۔۔

” کیا ہوا تھا ؟ مجھے ؟ “

اس کے چہرے کی پریشانی کو نوٹ کرتے ہوئے ازا نے آنکھیں کھولتے ہوئے اس سے دریافت کیا۔۔۔۔!!!

کایان ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔۔۔!!!

” ہوا تو نہیں !! ہونے والا ضرور ہے “

وہ ذو معنی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے بولا۔۔۔۔! کایان کی بات سنتے ہوئے ازا نے حیرانگی سے اسے دیکھا اسے سمجھ ہی نہیں آئی تھی کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے ؟؟

” مطلب ؟؟ “

ماتھے پر بل پڑتے ہوئے اس نے تجسس سے بھرپور لہجے میں اس سے کہا۔۔۔!!!

” مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری سن لی !!! “

کایان نے ایک مرتبہ پھر سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہا تو وہ مزید سوچوں میں پڑ گئی۔۔۔ وہ بے ہوش تھی ابھی ہوش میں آئی تھی دماغ میں کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا ابھی۔۔۔۔۔!!!

” کایان کیوں پہلیاں بھجوا رہے ہیں آپ ؟؟ سیدھے سیدھے بتائیں کہ کیا بات ہے ؟؟ “

ازا اس کی بات سنتے ہوئے چڑ سی گئی تھی اسے غصہ چڑھ رہا تھا اب !! اس نے غصے سے بھرپور لہجے میں کہا۔۔۔۔!

” اچھا ٹھیک ہے بتاتا ہوں ! ہم !! والدین بننے والے ہیں “

وہ ہنوز اس پر نظریں ٹکائے ہوئے خوشی، شوخ سے بھرپور لہجے میں اسے بتانے لگا۔۔۔

” We are going to be parents!!! A little one to come in our Life to make our Life more Beautiful”

کایان نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا تو ازا کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی۔۔۔!!!!

” Really? Are you serious”

ایک لمحے کے لیے تو جیسے ازا کو یقین ہی نہیں آیا تھا۔۔۔۔

” yes !! I am Serious!!! Why I’ll joke ?? “

کایان نے مسکراتے ہوئے کہا تو ازا فوراً آگے بڑھتے ہوئے اس کے گلے سے لگ گئی تھی۔۔۔!!! کایان نے بھی اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اسے خود میں بھینج لیا تھا۔۔۔

” اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس نعمت سے نواز ہے۔۔۔۔!!! “

ازا نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا گیا۔۔۔ کایان نے آہستگی سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا!!

” تھینک یو سو مچ ازا !! مجھے دنیا کی سب سے حسین نعمت سے نوازنے کے لیے!!! مجھے بابا بنانے کے لیے !!! “

کایان نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا۔۔۔

آج اللہ تعالیٰ کے کرم سے ان کی زندگی مکمل ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ چاہے ازا کی زندگی میں ہر خوشی تھی لیکن ماں باپ کو کھونے کا غم ان سب پر بھاری تھا۔۔۔ اس موقع پر اسے اپنے ماں باپ کی بہت یاد آئی تھی۔۔۔!!!

لیکن اس کے ہر دکھ، پر غم کو سمیٹنے کے لیے کایان کو اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی میں بھیج دیا تھا۔۔۔

وہ کمرے میں آتی ہوئی جیولری اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتی ہوئی میک اپ صاف کرنے لگی۔۔۔۔!جب ہی کمرے کا دروازا کھولتے ہوئے رہان کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔

وہ آہستگی سے قدم اس کی طرف بڑھانے لگا۔۔۔۔!!!

” آپ کو بہت بہت مبارک ہو چاچو بننے والے ہیں !! “

رہان آہستگی سے شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی ربعیہ کی طرف بڑھ ہی رہا تھا۔۔۔۔!!! جب ہی ربعیہ کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تھی۔۔

” خیر مبارک !!! آپ کو بھی مبارک ہو چچی بننے والی ہیں !! ہم تو بابا بننے کی تیاریوں میں ہیں !!! “

رہان نے پہلے خوشی اور پھر آس لگاتے ہوئے کہا تو ربعیہ کا چہرہ جھٹ سے سرخ پڑ گیا۔۔۔۔۔

” جی ؟؟ “

ربعیہ نے سرخ پڑتے ہوئے چہرے کو لیے ہوئے رہان کی طرف مڑ کر دیکھا۔۔۔۔ اور جیسے سوالیہ لہجے میں اس سے کہا۔۔۔

” کیا ہوا ؟ آپ نہیں چاہتی ہیں کہ ہمارے بچے ہوں ؟؟؟؟ “

رہان نے ایک منٹ سے پہلے ساری کی ساری بات اس پر ڈال دی تھی ابھی ربعیہ کی پچھلی سرخی نہیں اتری تھی وہ مزید سرخ ہو گئی۔۔۔۔ جب کہ رہاں نے قدم اس کی طرف بڑھائے۔۔۔!

” نہیں !! م۔۔ میرا مطلب ہے ہاں ! میں کیوں نہیں چاہوں گی کہ ہمارے بچے ہوں۔۔۔۔ مجھے بھی بچے بہت زیادہ پسند ہیں !!! “

ربعیہ نے شیشے میں ہی سے اس کا عکس دیکھتے تھوڑے سے ہچکچاتے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔

رہان اسے بازوؤں سے پکڑتا ہوا بیڈ کے قریب لایا۔۔۔ ربعیہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔

” کیا___؟ “

اس نے ابھی کہا تھا ہی کہ جب ہی رہان اسے نیچے جھکاتا ہوا بیڈ سے اس کی پشت لگاتا ہوا خود اس پر جھکا تھا۔۔۔

” مسسز رہان ملک !! آپ تو جانتی ہی ہو گی نا بچے ہونے کے لیے کچھ کرنا پڑتا ہے !! “

وہ شوخ لہجے میں کہتا ہوا اس کے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات پھیلاتا ہوا اس پر جھکنے ہی لگا تھا کہ اسی وقت ربعیہ نے اپنی پوری قوت لگاتے ہوئے اسے پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے بیڈ سے اپنا وجود اٹھایا۔۔۔۔

” ربعیہ !!! “

رہان بیڈ پر سیدھا ہو کر لیٹتا ہوا مسکرا کر اس کی پشت کی طرف دیکھتا ہوا حسرت بھرے لہجے میں بولا جبکہ ربعیہ کپڑے چینج کرنے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گئی تھی!!!

سب مہمان دیے گئے وقت کے مطابق کاظمی ہاؤس پہنچ چکے تھے۔۔۔!! زریر اور انوشا بھی کچھ حسین دن لندن میں گزارنے کے بعد اب پاکستان واپس آ چکے تھے۔۔۔

یہ پارٹی آتش نے اسپیشل بچوں کے لیے رکھی تھی۔۔۔۔!!! کیونکہ فاریہ کو بچے بہت پسند تھے۔۔۔!! اس نے صرف یہ اس لیے رکھا تھا تا کہ فاریہ خوش ہو جائے !!!

سب لوگ وسیع ہال میں کھڑے ہوئے ” فاریہ ” کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔!!! بچوں کے لیے ایک جگہ رکھی گئی تھی جہاں صرف وہ تھے۔۔۔!! اور وہ کھیل رہے تھے!! ان کے کھیلنے کے لیے مختلف گیمز بھی رکھی گئی تھی۔۔۔۔!!! اس پارٹی میں زریر اور انوشا نے بھی شرکت کی تھی۔۔۔۔!!!

سب لوگ اپنی ہی باتوں میں مصروف تھے جب ہی وسیع ہال کی لائٹس آف کر دی گئی اب لائٹ کا مرکز صرف سیڑھیوں سے اترتی ہوئی فاریہ پر تھا۔۔۔

آتش آخری سیڑھی کے سامنے کھڑا ہوا اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔! جب ہی وہ ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔ پنک لانگ فراک اور وائٹ کلر کی سیش جس پر لکھا ہوا تھا

” Mother To be !! “

اس میں وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ یہ جوڑا اس کے لیے آتش خود پسند کر کے لایا تھا۔۔۔ اور اس کی چوائس بہت اچھی تھی۔۔۔۔!!!!

آتش کی نظروں کا مرکز بھی صرف فاریہ ہی بنی ہوئی تھی۔۔۔ وہ ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے نیچے پہنچی تو آتش نے اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے کی طرف بڑھایا!!!

” ویسے تو میں آپ کو اپنی باہوں میں بھر لیتا لیکن پھر آپ شرما جاتی چلیں کوئی بات نہیں ہم ہاتھ تھامنے سے ہی کام چلا لیں گے !!! “

آتش نے شرارتی لہجے میں کہا تو فاریہ ہلکا سا مسکراتی ہوئی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ تھما گئی تھی۔۔۔۔!

” ایک دن اللہ تعالیٰ ہمیں بھی خوشی سے نوازے گا “

زریر نے اپنے ساتھ کھڑی ہوئی انوشا سے کہا۔۔۔۔۔ عمرہ کرنے کے بعد انوشا نے اپنا سٹائل بالکل چینج کر لیا تھا۔۔۔!! اس نے دوپٹے سے اپنے پورے سر کو ڈھک ہوا تھا۔۔۔۔ اور نیلے رنگ کی پیروں تک چھوتی ہوئی فراک بھی پہنی تھی۔۔۔

” آمین “

انوشا نے مسکرا کر کہتے ہوئے اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیلا دی۔۔۔۔!

کیک کٹ کرنے کے بعد فاریہ اور انوشا بچوں سے کھیلنے میں مصروف ہو گئی تھی!!! انھیں بچوں کے ساتھ کھیل کر بہت مزہ آ رہا تھا۔۔۔۔۔!!

” اللہ تمھیں نیک اور صالح اولاد عطا فرمائے آمین!!! “

زریر نے مسکرا سامنے کھڑے ہوئے آتش کو دعا دی۔۔۔

” آمین “

وہ مسکرا کر بولا

” چلو بھئی گروپ فوٹو بنوانے ہیں اور اس دن کو یاد گار بناتے ہیں!!!!! “

آتش نے بلند آواز سے کہا تو سب ایک جگہ اکٹھے ہوئے گروپ فوٹو بنوانے کے لیے۔۔۔۔ سب کی زندگیوں میں سکون پھیلا ہوا تھا۔۔۔ محبت کی برسات ہو رہی تھی۔۔۔۔!!!

سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔۔۔ اور ان کی زندگی کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے ایک ننھا سا مہمان آ رہا تھا۔۔۔۔ جو ان کی زندگی جو چار چاند لگانے والا تھا۔۔۔۔ زریر اور انوشا بھی بہت جلد اس مقام پر فائز ہونے والے تھے۔۔۔۔

مہندی کے فنکشن کے بعد بارات کے فنکشن کی باری تھی!! بارات کے فنکشن کے لیے اسما تیار ہوئی شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔

جب ہی حماد جو نیلے رنگ کے پینٹ کوٹ میں ملبوس تھا کمرے میں داخل ہوا تو سامنے نظر اس حسن پری پر پڑی جو نیلے رنگ کے لہنگے میں بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔!!

حماد ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے اس کی طرف بڑھا اور شیشے میں اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔!! اس کا عکس اسما شیشے میں دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی!!

” کیا بات ہے بیگم ؟؟ آج تو بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ !! مجھے لگتا ہے کہ آج تو دلہن کی جگہ سب لوگ آپ کو ہی دیکھیں گے۔۔۔۔!!!!! “

حماد نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی ہلکا سا مسکرائی!

” حماد آپ بھی نا “

وہ اسے پیچھے کرتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی جب ہی اس کی دروازے پر لگی ہوئی کسی چیز پر پڑی جسے دیکھ وہ بہت ڈر گئی اور ایک دم سے پیچھے ہوئی۔۔۔

اس تیز ہونے والی افتاد پر حماد کا بیلنس قائم نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ دونوں بیڈ پر گرے تھے۔۔۔۔

حماد نیچے اور اسما اس کے سینے پر گری تھی۔۔۔۔!!!!! وہ چیز چھپکلی تھی جس سے اسما ڈری تھی۔۔۔

” ویسے کیا کہتی ہیں بیگم آپ کو اس خوبصورتی کا گفٹ دے ہی نا دو؟؟ “

حماد نے پہلے تو ایک زوردار قہقہہ لگایا لیکن پھر رومینٹیک موڈ میں آتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” نہیں !! ویسے بھی ہم لیٹ ہو رہے ہیں !! “

وہ غصے سے کہتی ہوئی اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔۔۔!!! جبکہ حماد نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور اس کے پیچھے چل دیا۔۔۔! ان کی زندگی بھی خوشیوں سے بھرپور ہو گئی تھی۔۔۔۔!!

بارات کا فنکشن شروع ہو چکا تھا۔۔۔۔ سب مہمان میرج ہال پہنچ چکے تھے۔۔۔!! دلہن بھی تیار ہو چکی تھی وہ برائیڈل روم میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔!

جب ہی کچھ دیر بعد یہ شور مچ گیا تھا کہ برات آ گئی برات آگئی ! دلہن والوں نے گلاب کے پھولوں سے دلہے والوں کا پر زور استقبال کیا تھا۔۔۔۔۔

بارات آنے کے کچھ دیر بعد ہی نکاح و رد کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔۔۔۔۔!!! نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے دو لوگوں ساتھ ساتھ دو خاندان بھی جڑ گئے تھے!!!

کچھ دیر بعد دلہن کو اسٹیج تک لایا گیا۔۔۔۔۔۔۔!!! سجاد اور صائمہ کی جوڑی بھی بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔۔! سارے حویلی والے اسٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔سب نے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک خوبصورت گروپ فوٹو بنوانی تھی۔۔۔۔!

سب لوگ خوش تھے سب کے چہروں پر خوشی کی لہر تھی۔۔۔۔!!! سب لوگ خوش تھے! لیکن کیا یہ خوشیاں صدا بہار رہنے والی تھی ؟ نہیں کوئی خوشی ایسی نہیں جو ہمیشہ رہے !!!

دکھ بھی انسانی زندگی کا ایک اہم پہلو جو ہر انسان کی زندگی کا مقدر ہے۔۔۔! خوشی بھی انسانی زندگی کا ہی ایک اہم پہلو ہے۔۔۔!!

انسانی کہانیاں کبھی ختم نہیں ہوتی ہمیشہ چلتی ہی رہتی ہیں۔۔۔۔!! لیکن ایسا موڑ بھی آتا ہے جب انسان خوش ہوتا ہے۔۔۔

ازا کایان ، رہان ربعیہ ، اسما حماد خوش تھے وہی دوسری طرف آتش فاریہ ، زریر اور انوشا بھی اپنی زندگیوں میں خوش تھے۔۔۔۔! یہ اللہ کا کرم تھا کہ ان کی زندگیوں میں خوشیاں چھا گئی تھیں!!!

اللہ یوں ہی ہمیشہ انھیں خوش رکھیں ( آمین )

_______( ختم شد )______

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *