Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 7)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt


” یہ لڑکی کوئی اور نہیں اس گھر کی عزت ہے!!! اور آپ نے اس گھر کی عزت پر کیچڑ اچھالنے کی ہمت کی ہے۔۔۔۔۔!!

شرم آنی چاہئیے آپ کو!! “

رہان نے اس کے دونوں کالرز کو ہاتھوں میں لیتے ہوئے غصے سے کہا۔۔۔۔ جب ہی سارے گھر والے وہاں پر پہنچے۔۔۔۔۔

ربعیہ اب بھی رہان کے پیچھے کھڑی اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔!! ” وہ اس کے محافظ سے کم ثابت نہیں ہوا تھا۔۔۔۔!!

” رہان یہ کیا حرکت ہے ؟ “

شہزاد ملک نے اپنے ہی چھوٹے بیٹے کا بڑے بیٹے کے ساتھ یہ رویہ دیکھا تو انھیں بہت غصہ آیا اور اسی غصے کے عالم میں انھوں نے رہان سے کہا۔۔۔۔

” آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ یہ حرکت کیا ہے ؟ اس گھٹیا شخص سے نہیں پوچھے گے کہ اس نے کیا ہے ؟ یہ اتنے نیچ ہوں گے میں نے کبھی بھی یہ سوچا نہیں تھا۔۔۔۔!!!

آج انھوں نے گھٹیا پن کی ہر حد پار کر دی ہے۔۔۔۔!!! “

رہان نے جب اپنے والد کی بات سنی تو ڈھکے چھپے الفاظ میں کہتے ہوئے غصے کی نگاہ سے اس نے ارحم کو دیکھا اور ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا۔۔۔۔۔

” آخر کیوں تم اتنے آگ کے شعلے بنے پھر رہے ہو ؟ ہمیں بھی تو پتہ چلا کہ آخر بات کیا ہے ؟؟؟ کیا کیا ہے میرے بیٹے نے ؟؟”

شہناز بیگم بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر تلملا اٹھی۔۔۔۔ اور غصے سے رہان سے سوال کیا۔۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ آخر کیا بات ہے ؟؟ کیوں رہان غصے میں تھا ؟

” آپ کے اس ہو نہار بیٹے نے اس حویلی کے عزت کے ساتھ ک۔۔۔ھلواڑ کرنے کی کو۔۔۔۔شش ک۔۔ی ہے۔۔۔۔”

رہان کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کہے گئے الفاظ سب کے چہروں پر حیرانگی و پریشانی کے تاثرات پھیلا گئے۔۔۔۔

” جھوٹ ہے یہ سب۔۔۔۔!! یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔۔ اسے میں چھوڑو گا نہیں!! “

ارحم غصے سے کہا کہ رہان کے کہے گئے الفاظ جھوٹ ہے کیوں کہ اس سے ربعیہ نے جھوٹ بولا ہے۔۔۔۔ ربعیہ کی والدہ اس کے پاس کھڑی تھی اس کے سامنے رہان کی ڈھال تھی۔۔۔۔

لیکن ان سب باتوں کو اگنور کرتا ہوا ارحم قدم ربعیہ کی طرف بڑھانے لگا۔۔۔۔

” چٹاخ۔۔۔۔”

اس نے قدم ربعیہ کی طرف بڑھائے ہی تھے کہ جب ہی پیچھے سے کسی نے اس کا رخ اپنی طرف کیا اور وہ آدمی اپنے ہاتھ کی چھاپ ارحم کے چہرے پر چھوڑ گیا۔۔۔۔

وہ آدمی کوئی اور نہیں بلکہ ارحم ملک کا اپنا ہی باپ ” شہزاد ملک ” تھا۔۔۔ ارحم نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے حیرانگی سے اپنے باپ کو دیکھا جن کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔۔۔۔

” کاش!! یہ تھپڑ میں نے تمھیں بہت پہلے ہی مار دیا ہوتا تو آج یہ نوبت نا آتی۔۔۔۔۔!!! “

شہزاد ملک کو احساس ہوا کہ انھیں ارحم کو اتنے بے جا لاڈ پیار میں رکھنا ہی نہیں چاہئیے تھا،،، اس کی ہر جائز نا جائز خوائش کو ماننے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے تھی تو آج ان کے پاس یہ نوبت کبھی بھی نا آتی۔۔۔۔۔!!!

” شہزاد صاحب جوان پر بیٹے پر ہاتھ!!! “

” بکواس بند کرو اپنی تم بھی،،، تمھارے اسے بے جا لاڈ پیار نے بگاڑ دیا ہے اسے۔۔۔۔۔!!! خبردار جو اب ایک لفظ بھی منھ سے نکالا۔۔۔ تم نے تو۔۔۔۔!! ورنہ مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ہوگا “

شہناز بیگم نے کچھ کہنا چاہا تو شہزاد ملک کی گرجتی ہوئی آواز اس کا منھ بند کروا گئی تھی۔۔۔۔۔!!!

” اور تم دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔!!! اپنی شکل مت دکھانا مجھے۔۔۔”

شہزاد نے غصے کے عالم میں ارحم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو وہ چہرے سے ہاتھ ہٹاتا ہوا ایک قہر برساتی نگاہ رہان کے پیچھے کھڑی ربعیہ پر ڈالتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔

جب ہی ازا اور کایان بھی گھوم پھر کر واپس آئے تھے۔۔۔۔ جب کایان اور ازا حویلی داخل ہوئے تو ارحم شدید غصے میں وہاں سے جا رہا تھا کایان نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ نا رکا اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔!!

وہ دونوں اندر پہنچے تو سارے خاندان کو اکٹھا پایا۔۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پایا کہ کیا ہوا ؟

” آگئی یہ جوڑی کہاں گئے تھے آپ لوگ ویسے بتانا پسند کرے گے ؟؟ کایان صاحب۔۔۔”

شہناز نے طنزیاتی لہجے میں کہا ان سب کو دیکھتی ہوئی ازا ڈرتی سہمتی ہوئی کایان کے پیچھے ہوئی۔۔۔

” میں ازا کو باہر لے کر گیا تھا۔۔۔۔۔۔!!! لیکن یہاں کیا ہوا ہے ؟ “

ان کا لہجہ دیکھتے ہوئے کایان کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔!!!

” رہان میں تمھارا شکر گزار ہوں کہ تم نے وقت پر اس گھر کی عزت کو بچا لیا۔۔۔۔۔!! اگر آج تم نا ہوتے گھر پر تو شائید آج کیا ہو جاتا ؟ “

شہزاد ملک نے رہان کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ ربعیہ ماں کے ساتھ وہی ہر کھڑی تھی۔۔۔۔ حالت اب اس کی کافی بہتر تھی۔۔۔۔ رونق بند کر گئی تھی وہ”

” اس میں شکریہ والی کوئی بات نہیں ہے ؟ یہ میرا فرض تھا”

اس کی بات سن کر شہزاد ملک مسکرائے وہ چھوٹا تھا اور ہو کر اس قدر سلجھ گیا تھا اور ارحم بڑا ہو کر اس قدر بے شرم تھا!!

” بھائی جان۔۔۔۔۔!! مجھے نہیں لگتا کہ اب اس رشتے میں کچھ بھی بچا ہے۔۔۔ میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں اپنی بیٹی کا رشتہ ارحم جیسے بگڑے لڑکے کے ساتھ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔ لیکن آپ کے اسرار کرنے پر میں مجبور ہو گیا۔۔۔ اور میں مان بھی گیا۔۔۔ لیکن اب اگر آپ کا بیٹا ارحم سونے کا بھی بن جائے تو میں اس کے ساتھ کبھی بھی اپنی بیٹی کی شادی نہیں کروں گا۔۔۔۔۔”

باسط ملک ( ربعیہ کے والد ) جو کب سے اپنے غصے پر قابو پا رہے تھے۔۔۔۔!! اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو بول پڑے۔۔۔۔

” یہ کیا بات ہوئی باسط ؟؟ نکاح میں صرف دو دن باقی ہیں اور اب یہ رشتہ کیسے ختم ہو سکتا ہے؟ “

شہناز بیگم نے ہر دفعہ کی طرح اب بھی اس بات میں اپنی ٹانگ اڑانا ضروری سمجھا۔۔۔۔

” بھابھی آپ کو اب بھی لگتا ہے کہ آپ اس بے غیرت بیٹے کے ساتھ میں اپنی بیٹی کا رشتہ جوڑو گا ؟؟؟ “

باسط نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھتے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

” باسط بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔۔۔ ربعیہ کی شادی ارحم سے نہیں ہو گی۔۔۔۔!!! “

شہزاد ملک کی بات سن کر وہاں ہر موجود ہر شخص حیرانگی میں مبتلا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ کایان کو بھی اب اسما نے حقیقت سے آگاہ کر دیا تھا۔۔۔۔۔!!!

” شہزاد صاحب!! یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ؟؟ سارے کارڈز بانٹے جا چکے ہیں۔۔۔۔ خاندان والوں کو کیا منھ دکھائے گے ہم ؟ “

شہناز بیگم نے شہزاد ملک کے دوبدو آتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تو وہ ایک گہری سوچ میں پڑ گئے۔۔۔

” تو کس نے کہا کہ دو دن بعد نکاح نہیں ہو گا ؟ “

شہزاد ملک نے کہا تو سب حیران ہوئے۔۔۔۔

” پر بھائی ؟ “

باسط نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔۔۔!!

” ربعیہ کا نکاح میں رہان کے ساتھ کروں گا۔۔۔۔ اور مجھے امید ہے کہ رہان کو اس رشتے سے کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔”

شہزاد ملک کی آواز پر سب چونک اٹھے۔۔۔۔۔!!! ازا ، کایان ، شہناز بیگم ، رہان ، ربعیہ ، باسط ملک سمیت سب کے چہروں پر حیرانگی کے تاثرات پھیل گئے۔۔۔۔

” واٹ ؟ “

رہان حیران ہوا۔۔۔۔

” بیٹا۔۔۔!! جیسے تم نے ربعیہ کی حفاظت کی۔۔۔۔۔ اس کے لیے تم سے بہتر جوڑ کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔۔ اور مجھے امید ہے کہ ربعیہ اور باسط کو بھی اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہو گا!! اور رہان بیٹا تم بھی پلیز مجھے مایوس مت کرنا۔۔۔۔!!! “

وہ کہتے ہوئے رہان کو لا جواب کر گئے تھے۔۔۔۔۔!!! رہان نے کچھ کہنا چاہا مگر باپ کی بات سن کر چپ ہو گیا۔۔۔۔۔!!!

” کیوں باسط کیا تمھیں اس رشتے سے اعتراض ہے ؟ “

انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی سے سوال کیا۔۔۔

” بھائی مجھے رہان اور ربعیہ کے رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے!!!! “

باسط کی بات سن کر ربعیہ نے اپنے باپ کو دیکھا،،،، رشتہ اس کا کیا جارہا تھا اور پچھلی مرتبہ کی طرح اس سے ایک مرتبہ بھی پوچھا نہیں گیا۔۔۔۔

” رہان میں چاہتا ہوں کہ تم اس رشتے کے لیے ہاں کر دو۔۔۔۔”

شہزاد ملک نے رہان کو قائل کرنے کی کوشش کی۔۔۔

” ٹھیک ہے۔۔۔۔!!! “

کئی لمحات سوچنے کے بعد وہ کسی نتیجے پر پہنچا تو باپ کی بات مان ہی گیا۔۔۔۔ باقی سب کو بھی یہی بہتر لگا۔۔۔۔۔ کایان نے بھی شہزاد ملک کا ساتھ دیا۔۔۔۔۔ شہناز نے کچھ کہنا چاہا مگر شہزاد نے اشارے نے اس کی بولتی بند کر دی۔۔۔۔۔!! جبکہ ربعیہ سے کسی نے بھی سوال نہیں کیا۔۔۔ اس سے پوچھا تک نہیں گیا اور اس کا رشتہ رہان سے جوڑ دیا گیا۔۔۔ رہان نظریں جھکائے کھڑا تھا۔۔۔۔ ربعیہ اور رہان کا رشتوں کی الجھنوں سے بنا یہ رشتہ ناجانے لے گا کیا موڑ ؟؟

” اتنا سب ہو گیا ؟ مجھے ربعیہ کے لیے بہت برا لگ رہا ہے”

ازا اور کایان کمرے میں آئے تو ازا نائٹ ڈریس پہنے کے لیے چینجگ روم میں چلی گئی۔۔۔۔ کپڑے تبدیل کر کے واپس آئی تو مایوسی سے کایان سے کہا۔۔۔۔ جو موبائل یوز کرنے میں مصروف تھا اس کی طرف سن کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔

” ازا یہ تو خوشی کی بات ہے!! کہ ربعیہ کی زندگی برباد ہونے سے بچ گئی۔۔۔۔ اور وقت پر ہی ہم سب کے سامنے ارحم کی حقیقت کھل گئی۔۔۔۔ ورنہ اس معصوم کی زندگی برباد ہو جاتی!!! “

کایان نے ازا کی مایوسی کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔۔!!! “

ازا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔۔

” خیر آپ ان باتوں کا اپنے ذہن پر دباؤ مت ڈالیں۔۔۔۔ “

کایان نے مسکرا کر کہا۔۔۔

” میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی۔۔۔ آپ میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔۔۔۔ اور آج بھی دن بیت خوبصورت گزرا جو آپ کے ساتھ کے بغیر کبھی بھی ممکن نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔!!!! “

ازا نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

” شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ آپ کا خیال رکھنا میرا فرض ہے۔۔۔۔۔!!! “

کایان نے کہا تو وہ مسکرا گئی۔۔۔۔ جبکہ وہ کسی کام سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!!

اس کے جاتے ہی ازا بیڈ پر لیٹتی ہوئی آج کے دن کے گزرے ہوئے لمحات میں کھو سی گئی۔۔۔۔۔ وہ لمحات بہت حسیں تھے اور بہت خوبصورت تھے۔۔۔۔!!”

” What?? What are you saying dada jan ? you want to say that I will marry that guy ? “

” ( کیا ؟ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ دادا جان ؟ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں اس لڑکے سے شادی کرلو!! ) “

انوشا اپنے دادا جان کی بات سن کر بہت حیران رہ گئی۔۔۔۔ وہ اس بات سے بالکل بھی زخمت نہیں تھی۔۔۔۔ وہ اس بات سے بھی انجان تھی کہ زریر باہر کھڑا ہو کر ان کی ساری باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔

” بیٹا میں کوئی عجیب بات تو نہیں کر رہا کیا ایسا ہے ؟ کبھی نا کبھی تو تمھیں شادی کرنی ہے نا تو پھر بیٹا زریر سے ہی کیوں نہیں ؟ پھر تم میرے پاس یہی رہنا پاکستان میں۔۔۔۔”

اس کے دادا جان زاہد صاحب نے سمجھانا چاہا۔۔۔!! پر وہ کچھ سمجھنے کے موڈ میں ہی نہیں تھی۔۔۔۔

” دادا جان پلیز۔۔۔۔!!!! مجھے یہاں رہنے کے لیے کسی بھی رشتے ناطے کی ضرورت نہیں ہے! اور شادی اس کے بارے میں میرا ابھی کوئی خیال نہیں ہے اور ہو سکتا کہ میں کبھی بھی شادی نا کرو۔۔۔۔

اور وہ بھی اس لڑکے سے کبھی بھی نہیں !! مجھے تو وہ ویسے ہی بالکل بھی اچھا نہیں لگتا،،، مجھے تو اسے دیکھتے ہی غصہ آ جاتا ہے۔۔۔ اس جیسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔۔۔ بہت اکڑ ہے اس شخص میں۔۔۔ آپ بھی اس کے لہجے سے واقف ہوں گے کہ کس قدر بد تمیز ہے وہ !!! تو پلیز آپ یہ خیال اپنے ذہن سے نکال دیں۔۔۔۔”

اس کا ایک ایک لفظ سن کر زریر کو غصہ آ رہا تھا وہ شخص جو کچھ دیر پہلے تک یہ کہہ رہا تھا کہ کاش وہ انکار کر دے۔۔۔۔ اب انکار سنتے ہی غصے ہر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا !!

” ( میری انسلٹ کر کے تم نے اچھا نہیں کیا !! ) “

غصے سے مٹھیاں بھینجتا ہوا سوچ کر وہ وہاں سے نکل گیا۔۔۔ اس کے نکلتے ہی انوشا بھی کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔ زاہد صاحب نے پریشانی سے انوشا کی طرف دیکھا جو تیز قدم لیے وہاں سے جا رہی تھی۔۔۔۔

” تم نے دادا جان کو اس شادی سے انکار کیوں کیا ؟؟ “

خوش ہونے کی بجائے اسے غصہ آ رہا تھا۔۔۔۔ کہ انوشا نے شادی سے انکار کیوں کیا ؟؟ انوشا قدم گاڑڈن کی طرف بڑھا رہی تھی جب ہی وہ اس کے سامنے آ رکتا ہوا اس سے سوال کرنے لگا۔۔۔۔۔

“میری زندگی میری مرضی !!! “

اس کے سوال کی اسے سمجھ نہیں آئی کہ اس کے سوال کا کیا مطلب ہوا ؟ اس کی مرضی تھی تو اس نے انکار کر دیا۔۔۔۔

” وہ تو تمھاری مرضی ؟ لیکن میری انسلٹ کرنے کا کوئی خاص مقصد ؟ “

وہ اس کے سامنے آتا ہوا ہاتھ سینے پر باندھتا سوال کرنے لگا تو انوشا نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔۔

” تم ہماری باتیں سن رہے تھے ؟ “

انوشا نے حیرانگی سے پوچھا!!

” اتنے بھی مینرز نہیں ہیں کہ کسی کی باتیں چھپ نہیں سنتے ؟ “

انوشا نے اسے مینرز سیکھاتے ہوئے کہا تو زریر کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔!!! اس نے غصے پر با مشکل ہی قابو کیا۔۔۔۔

” یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔۔۔۔۔!!! “

زریر نے غصے سے کہا۔۔۔

” میں نے پہلے ہی جواب دے دیا ہے تمھارے سوال کا!!! اور اب زیادہ میرے ارد گرد مت گھومو سمجھے

Stay Away from Me !!! “

انوشا غصے سے کہتے ہوئے مڑی۔۔۔۔

” اتنی بھی کوئی تم حسن پری نہیں ہو ؟ “

زریر کی طنزیہ بات سنتے ہی وہ مڑی۔۔۔۔

” تو تم کونسا حسن پرے ہو ؟؟ تم بھی تو باقی لڑکوں کی طرح بہت چیپ ہو۔۔۔!! بد تمیز ہو !! اور تم جیسے شخص شادی کے قابل نہیں ہوتے میرا خیال اپنے ذہن سے نکال دو۔۔۔۔!! اور ویسے تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے شادی کے بارے میں سوچنے کے لیے بھی ؟ یو تھنک میں تم سے شادی کروں گی ؟؟ “

اس کی انسلٹ کرتے ہوئے وہ جا چکی تھی جبکہ زریر نے غصے سے مٹھیاں بھینج لی تھی۔۔۔۔!!! انوشا نہیں جانتی تھی کہ یہ اس کی کتنی بڑی غلطی تھی۔۔۔۔!! اس نے زریر کے بارے میں بہت غلط رائے قائم کر لی تھی۔۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *