Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 49)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 49)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
کمرے میں آتے ہوئے وہ لائٹ آن کرتی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔!!! وہ ابھی سارے حویلی والوں سے مل کر آئی تھی۔۔۔۔!!سب اس کے لیے بہت پریشان تھے۔۔۔۔!! لیکن اسے صحیح سلامت دیکھ کر سب بہت خوش بھی ہوئے تھے۔۔۔۔!!!
وہ دونوں کافی دیر تک حویلی والوں کے ساتھ بیٹھے رہے تھے۔۔۔! لیکن اب زیادہ رات ہو جانے کی وجہ سے، اور تھکن ہو جانے کی وجہ سے وہ اپنے کمرے میں آ گئے تھے۔۔۔
کمرے میں قدم رکھتے ہوئے ازا کو کچھ دیر کے لیے تو اپنے اور کایان کے ایک ساتھ گزرے ہوئے خوبصورت لمحات یاد آئے تھے۔۔۔۔!! وہ تمام لمحات اس کی آنکھوں کے سامنے کسی خوبصورت فلم کے منظر طرح چلنے لگے تھے۔۔۔۔!!!!
وہ انھیں یاد کرتی ہوئی مسکرائی۔۔۔۔!!!!
” ویسے مجھے آپ پر غصہ تو بہت آیا تھا “
کایان ایک شرارتی آواز میں اس سے مخاطب ہوتا ہوا، اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا تو ازا جو اپنے ہی خیالات میں کھوئی ہوئی تھی اس کی آواز سنتے ہوئے یک دم چہرے سے مسکراہٹ ختم کرتے ہوئے اس کی طرف مڑی!!!
” کیوں ؟؟؟ “
ازا اس کی طرف مڑی تھی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ جب اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔۔۔!! تو پھر اس نے یہ بات کیوں کی ؟
” کیوں ؟؟؟ یہ کوئی سوال کرنے والا ہے ؟ “
وہ سنجیدہ ہوا تھا۔۔۔۔! کایان نے اپنی بات جاری رکھی تھی۔۔۔۔!!
” آپ کا دل نہیں دہلا تھا۔۔۔ ؟ یہ کہتے ہوئے کہ آپ مجھ سے محبت نہیں کرتی ہیں !!! “
کایان کی آنکھوں میں جزبات کا دریا امڈ آیا تھا۔۔۔۔!
” یہ کہتے ہوئے کہ آپ نے مجھے دھوکا دیا تھا۔۔۔۔؟؟ یہ کہتے ہوئے آپ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہیں ؟؟ میرے لیے تو یہ مرنے کا مقام تھا۔۔۔۔۔!!!! “
ازا کی آنکھوں میں ہلکے ہلکے آنسو جھلک رہے تھے۔۔۔ اس نے آنکھیں سختی سے میچ لی تھی۔۔۔۔ جب کہ کایان اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولتا رہا اس سے گلہ کرتا رہا۔۔۔
کایان کے لیے یہ سننا بھی بہت مشکل تھا۔۔۔ کہ ازا اس سے دور جا رہی ہے وہ اس سے محبت نہیں کرتی ہے۔۔۔۔
” کایان !!! تو کیا میرے لیے جینے کا مقام تھا نہیں ؟ میرے لیے بھی مرنے کا مقام ہی تھا۔۔۔۔!!
لیکن میری مجبوری تھی ! اگر میں وہ سب کچھ نا کہتی تو آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔۔۔ میں پہلے ہی اپنے ماں باپ کو کھو چکی ہوں۔۔۔!!!
لیکن آپ!! آپ کو نہیں کھو سکتی ہوں اب میں کایان۔۔۔! آئم سوری کایان۔۔۔۔! “
وہ روتے روتے ہی بولی تھی۔۔۔۔! جبکہ کایان اس کی باتیں سنتا ہوا افسردگی سے اسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔
” آپ مجھے ایک بات بتائیں کہ کیا آپ کا شوہر کمزور ہے!!!! “
کایان نے اس سے سوالیہ لہجے میں سوال کیا تھا جس پر ازا نے صاف طور پر اپنا سر نفی میں ہلا دیا تھا۔۔۔!!
” تو پھر ؟ کیوں ڈر گئی آپ ان سے ؟ جب آپ کا شوہر مظبوط ہے تو آپ کو کسی بھی شخص سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے “
کایان نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوئے آہستگی سے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی تھی۔۔۔!
اس سے پہلے کہ کایان مزید کچھ بھی کہتا وہ فوراً اس کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔۔ !!
” آج کے بعد اگر آپ نے اس قسم کی بات چاہے کسی بھی وجہ سے کی ہو آپ نے میں بالکل بھی برداشت نہیں کروں گا اس دفعہ تو میں نے کچھ بھی نہیں کہا لیکن یاد رکھیے گا اگلی دفعہ میں ناراض ہو جاؤ گا ازا !!! “
کایان ملک ازا ملک کو سب کچھ باورا کرواتا ہوا اسے مزید خود میں سمیٹ گیا تھا۔۔۔ ازا اس کے سینے سے لگی ہوئی اس کے دل کی دھڑکنیں محسوس کر پا رہی تھی۔۔۔!!! جو بہت تیز رفتار سے چل رہی تھی۔۔۔۔
کایان ملک کی دھڑکنیں، اس کی باتیں یہ سب کچھ اس کا ازا ملک کے لیے پیار دیکھا رہا تھا!! ازا اس کے انداز فکر پر ہلکا سا مسکرائی تھی۔۔۔۔!!! کایان اس کے لیے اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہی تھی تھا جسے اللہ نے اس کے لیے ہی بنایا تھا۔۔۔ وہ خوش تھی کہ اس سب سے اعلیٰ و برتر ذات نے اسے کایان جیسے انمول تحفے سے نوازا تھا۔۔۔۔ کایان ملک جیسا شوہر ملنا بہت نصیب کی بات ہے۔۔۔!!
ربعیہ بیٹھ کر ٹیسٹ تیار کر رہی تھی کیونکہ صبح اس کا ٹیسٹ تھا۔۔۔۔!!!!! اور اس کی تیاری صفر تھی۔۔۔۔!! پہلے اسے رہان نے تنگ کر کے رکھا تھا۔۔۔ اور بعد میں ازا کا کڈ نیپ ہونا اس سب کے دوران اس سے بالکل بھی پڑھا نہیں گیا تھا۔۔۔
لیکن اب رات کے اس پہر وہ بیٹھ کر کتاب کے رٹے لگا رہی تھی۔۔۔ جبکہ رہان ساتھ ہی لیٹا ہوا موبائل استعمال کرنے میں مصروف تھا۔۔۔
” رہان !! اگر ازا بھابھی کہ جگہ میں ہوتی تو ؟ “
ناجانے اسے کیا سوجھا جو وہ اس سے سوال کر بیٹھی تھی۔۔۔ رہان جو موبائل یوز کر رہا تھا اس کی بات سنتا ہوا اسے ترچھی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
” کیوں ہوتی آپ؟؟ “
رہان کو اس کی یہ بات بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی!! اس نے سرد مہری کا لہجہ اپناتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔۔
” میں بس ایک جنرل بات کر رہی ہوں “
اس کے لہجے میں آتی ہوئی سرد مہری کو دیکھتے ہوئے ربعیہ نے اس آہستگی سے اسے جواب دیا۔۔۔۔
” جنرل ہی سہی لیکن آپ بات وہ کریں جو قابلِ قبول ہو !!! یہ کیا بات ہوئی کہ اگر آپ کو کڈ نیپ کیا جاتا ؟ کڈ نیپ کرنا تو دور کی بات ہے آپ کو کوئی بھی ہاتھ بھی لگا کر دیکھائے اس کے ہاتھ توڑ کر رکھ دوں گا میں۔۔۔۔!!! میرے ہوتے ہوئے کوئی بھی غیر آپ کو آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتا ہے کیونکہ آپ کو دیکھنے کا اور چھونے کا حق صرف رہان ملک کے پاس ہے “
وہ اس کے دوبدو آتے ہوئے اس سے کہنے لگا تو ربعیہ نے حیرانگی سے اسے جو اس بات کو کافی سریس کے گیا تھا۔۔۔
” اچھا ٹھیک ہے رہان!!! میں نے تو یوں ہی پوچھ لیا تھا “
وہ اس کے قریب ہوا تو ربعیہ تھوڑا سا دور ہوتے ہوئے اسے وضاحت دینے لگی۔۔!
” آج تو پوچھ لیا !!! لیکن آج کے بعد کبھی بھی ایسا سوال مت کیجئے گا۔۔۔۔!!! جس میں آپ کے لیے کوئی بھی مسئلہ ہو۔۔۔۔!! کیونکہ مسسز رہان ملک آپ مسٹر رہان ملک کی واحد محبت ہیں۔۔۔!! آپ کے بغیر رہان ملک ایک لمحہ بھی گزارنے کا نہیں سوچ سکتا ہے۔۔۔! “
اس کی کمر کے گرد سے بازو حائل کرتا ہوا اسے اپنے قریب کرتا ہوا ایک ایک لفظ کو محبت اور عقیدت سے کہہ گیا تھا۔۔۔۔۔!!!
اگلے لمحے وہ اس کے لبوں پر جھک گیا تھا۔۔۔
” رہان ٹیسٹ”
ربعیہ آہستگی سے پیچھے ہوتے ہوئے بولی۔۔۔
” یہ وقت ٹیسٹ کا نہیں میرا ہے “
وہ کہتا ہوا مکمل طور پر اس پر قابض ہو گیا تھا۔۔۔۔!!!
حماد کی کنڈیشن اب پہلے سے کافی بہتر ہو گئی تھی۔۔۔ چونکہ اسے اتنی گہری چوٹ لگی تھی ہی نہیں تو وہ دو سے تین میں ہی ریکوری کر گیا تھا۔۔۔۔!!!
لیکن وہ ابھی بھی مکمل طور پر صحیح نہیں ہوا تھا۔۔۔ اب بھی اس کا رخم کبھی کبھار رسنے لگ جاتا تھا۔۔
پھر بھی پہلے دن سے حالت کافی بہتر ہو گئی تھی۔۔۔!! اور جس نے اسے اس حالت میں پہنچایا تھا وہ آمنہ وہ اس جرم میں جیل میں سڑ رہی تھی۔۔۔!!
” آپ بیٹھیں میں چائے لے کر آتی ہوں “
اسما کافی دنوں سے گھر ہی تھی۔۔۔۔! وہ حماد کی دیکھ بھال کرنے میں اپنا وقت گزارتی تھی۔۔۔ اور ساتھ ہی کچھ وقت اس کی والدہ کے ساتھ بھی گزارتی تھی۔۔۔۔!!!
” رکیں تو سہی “
وہ دونوں شام کے وقت گاڑدن میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ شام کا یہ پہر کافی خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔ جب ہی اسما کا چائے پینے کا دل کیا تو وہ کہتی ہوئی اٹھی۔۔۔! وہ ابھی اسے کہہ کر اٹھی تھی ہی کہ حماد نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے روکتے ہوئے کہا۔۔۔
” ارے میں چائے بنا کر کا رہی ہوں “
اسما نے مڑ کر اس کی طرف پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔!!
” نہیں !!! مجھے چائے نہیں پینی ہے آپ میرے پاس بیٹھے ورنہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ مجھے درد ہونا شروع ہو جائے گا اور پھر میں شکایت کروں گا۔۔۔
لیکن اگر آپ میرے پاس بیٹھی رہیں گی تو ہاں پھر مجھے درد نہیں ہو گا۔۔۔ کیونکہ جب تک میری نگاہیں آپ کا دیدار کرتی رہیں گی میرے دل کو سکون ملتا رہے گا اندر اسٹینڈ “
وہ تھوڑا سا رومینٹیک موڈ میں آتے ہوئے اسے پیار سے بتانے لگا کہ اگر وہ اس کے پاس بیٹھی رہے گی تو اسے سکون ملے گا۔۔۔ لیکن اگر وہ یہاں سے اٹھتی ہوئی اس کے پاس سے اٹھ کر چلی گئی تو پھر اسے سکون نہیں بلکہ درد ہو گا۔۔۔ اس کی باتیں سنتے ہوئے اسما نے اسے حیرانگی سے دیکھا۔۔۔
” افف!! کس مٹی کے بنے ہیں آپ ؟ چوٹ لگی ہے پھر بھی صاحبزادے کو رومینس کی پڑی ہوئی ہے !!!! “
اسما نے ایک لمحے کے لیے تو اس کی باتیں سنتے ہوئے حیران رہ گئی تھی لیکن پھر وہ ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑواتی ہوئی اندر کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ حماد کے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ رونما ہوئی تھی یہی تو تھی ان کے پیار کی خوبصورتی!!!! وہ بھی آہستگی سے اٹھتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
صبح سے ہی فاریہ کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔۔!!! بلکہ کل رات سے ہی اسے عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ اور صبح تو وہ وامٹ بھی کرنے لگی تھی۔۔۔۔ اس کی بگڑتی حالت کو دیکھ آتش بہت پریشان ہوا تھا۔۔۔۔!!!!!
اس نے تو فاریہ سے رات کو ہی کہا تھا کہ وہ اسے ہسپتال لے چلتا ہے لیکن وہی تھی جس نے کہا کہ نہیں وہ ٹھیک ہو جائے گی صبح تک!! لیکن صبح اس کی حالت مزید خراب ہو گئی تھی۔۔۔!! تو اب آتش نے اس کی ایک بھی نہیں سنی تھی اور اسے ڈاکٹر کے پاس لایا تھا۔۔۔
” شی از ایکسپیکٹنگ!!! آپ بابا بننے والے ہیں “
لیڈی ڈاکٹر نازیہ فاریہ کا چیک اپ کر چکی تھی۔۔۔ ایکس رے سے انھیں پتہ لگا تھا کہ فاریہ ماں بننے والی ہے۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سنتے ہوئے آتش نے ایک نظر فاریہ کی طرف جس کے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ ضرور تھی لیکن یہ بات بھی صاف ظاہر تھی کہ وہ بہت تھکی تھکی سی لگ رہی ہے۔۔۔! جیسے اس کی طبعیت بہت زیادہ خراب ہو۔۔۔!
” ڈاکٹر نازیہ لیکن فاریہ جی حالت خراب ہے “
اس نے ڈاکٹر کا دھیان فاریہ کی طبعیت کی طرف کرواتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔۔!!!
” مسٹر آتش اس میں گھبرانے کی کوئی بھی بات نہیں ہے پریگنینسی کے شروعاتی دنوں میں ایسا ہو جاتا ہے۔۔۔۔!!! آپ فکر مت کریں۔۔۔
یہ کچھ میڈیسنز میں نے لکھ دی ہیں آپ وہ انھیں با قاعدگی سے کھلائیں۔۔۔۔! اور ان کی صحت بھی بہت ویک ہے۔۔۔۔! کافی کمزور ہیں یہ انھیں اپنی صحںت کا بہت خیال رکھنا ہو گا۔۔۔ کافی ویک ہیں یہ جو ان کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر نے آتش کی بات کو سنتے ہوئے اسے بتایا کہ ایسی کنڈیش میں یہ ایک نارمل سی بات ہے۔۔۔۔!!! لیکن ایک بات ہے جو فاریہ کے لیے بالکل بھی اچھی نہیں ہے اور وہ ہے اس کی ویکنس۔۔۔
ڈاکٹر نے اسے دوائیاں لکھ کر دی تھی جنھیں لیے ہوئے وہ فاریہ کو ساتھ لے کر وہاں سے باہر نکلا تھا۔۔۔ اس کے چہرے پر بظاہر صرف خوشی تھی لیکن باپ بننے کا سن کر اس کے دل میں جشن منایا جا رہا تھا جشن،،، اس کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے لڈو !!
” ویسے فاریہ میرا تو دل کر رہا ہے کہ آپ کو اپنی باہوں میں بھر کر لے کہ جاؤں لیکن کیا کروں ؟ مجھے یہاں کھڑے لوگوں سے ڈر نہیں لگتا لیکن آپ سے لگتا ہے کیوں کہ آپ بہت غصے والی ہیں۔۔۔۔!!! “
آتش شرارتی لہجے میں بولا تو فاریہ نے ایک زوردار قہقہ لگایا تھا۔۔۔
” اگر ہم کل رات کو ہی آ جاتے تو ہمیں پتہ چل جاتا کہ ہم والدین بننے والے ہیں خیر کوئی بات نہیں “
وہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔۔ یہ ان دونوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری تھی کہ وہ دونوں اس اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے والے تھے۔۔۔۔!! وہ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کرتے کم تھا کیونکہ یہ نعمت ہی ایسی تھی۔۔۔!
