Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 22)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 22)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” کیا لگا آپ کو فاریہ جی کہ آپ مجھ سے دور چلی جائے گی ؟؟ “
فاریہ جو گلاب کے پھولوں میں مگن دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔ ایک ایسی آواز اس کے کانوں میں پڑی جو اس کی ساری مسکراہٹیں چھین لے گئی تھی۔۔۔۔ اس نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا تو حیران رہ گئی۔۔۔ سامنے کھڑا شخص شدید غصے میں دکھائی دے رہا تھا!!! لیکن ایک لمحے کے لیے فاریہ کو محسوس ہوا کہ فاریہ کو دیکھتے ہی آتش کی نگاہوں سے غصہ اڑ گیا تھا۔۔۔۔!! اب اسے ان آنکھوں میں صرف اپنے لیے فکر دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔”
” آتش ؟؟؟ آپ یہاں ؟ “
فاریہ نے حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے سوالیہ لہجے میں کہا۔۔۔۔!!! اس کی نظروں میں یہ سوال تھا کہ وہ یہاں کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ اسے کیسے پتہ چلا کہ فاریہ یہاں پر رہ رہی ہے۔۔۔۔”
” یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہئیے فاریہ جی کہ آپ یہاں کیسے ؟؟ “
اس کی بات پر آتش ہلکا سا سا مسکرایا اور اس کا کیا ہوا سوال کے بدلے میں سوال کیا کہ وہ یہاں کیسے پہنچی ؟؟ اس کا کیا گیا یہ سوال فاریہ کو حیران ہونے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔”
” کیا مطلب ؟؟ “
وہ دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔ اس کی نگاہوں میں میں سوال امڈ آئے تھے۔۔۔!! جبکہ آتش پر سکون سا دیکھائی دیتا ہوا اس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔ فاریہ مزید حیران ہوئی !!
” مطلب یہ ہے کہ یہ تو میری خالہ جان کا گھر ہے فاریہ جی “
جب آتش نے اسے یہ بتایا کہ جس گھر میں فاریہ رہ رہی ہے۔۔۔۔ وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اس کی خالہ کا ہے تو وہ چونک گئی۔۔۔۔!!!
” کیا ؟؟ “
اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اس سے بچ کر آئی تھی یہاں اور یہاں بھی وہ ہے ” بلکہ ایک طریقے سے یہ اسی کا گھر ہے۔۔۔۔ فاریہ کو اس سے خوف محسوس ہوا تھا!!!
” جی!! کنول بیگم!! وہ میری خالہ لگتی ہیں فاریہ جی۔۔۔!! آپ سعدیہ کے کہنے پر یہاں آگئی۔۔۔!! میں نے آپ کو دو دن ہر جگہ ڈھونڈ لیا۔۔ لیکن مجھے آپ نا ملی تو میں نے خالہ سے بات کی اور اپنا مسئلہ انھیں بتایا۔۔۔ اس وقت انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک فاریہ دو دن پہلے ہی ان کے گھر میں رہنے کے لیے آئی ہے کہیں وہ ہی تو میری والی فاریہ جی نہیں ؟؟ اور پھر انھوں نے مجھے آپ کی کچھ تصاویر جو اسی منظر کی تھی بھیجی تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ کہیں اور نہیں بلکہ میری خالہ کے گھر ہیں “
آتش نے اسے بتایا کہ کنول بیگم ہی اس کی خالہ ہیں۔۔۔۔!!! تو فاریہ جو بہت زیادہ حیرانگی ہوئی تھی۔۔۔۔ اور ان ہی باتوں کے درمیان اسے یاد آیا کہ کل رات ہی کنول بیگم نے اس کے ساتھ کچھ تصاویر بنوائی تھی۔۔۔۔۔” جو اس مقصد کے لیے بنائی گئی تھی۔۔۔۔!!!
” فاریہ جی !!! دو دن کی دوری برداشت کرنی پڑے مجھے آپ سے۔۔۔!!! چلیں کوئی بات نہیں۔۔۔۔ اس دوری سے ہم مزید قریب آ جائے گے کیونکہ کل ہمارا نکاح کو گا ٹھیک ہے “
ایک لمحے کے لیے تو فاریہ چونک گئی تھی۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے اسے ؟؟ کنول بیگم نے دو دن تک اس کے ساتھ ناٹک کیا تھا!! جب ہی آتش نے اسے اپنی طرف متوجہ کرواتے ہوئے بتایا کہ وہ دو دن تک اس سے دور رہا لیکن اب اس دوری سے ہی وہ دونوں مزید قریب آ جائے گے نکاح کی صورت میں۔۔۔۔!!!
” جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔!!! خبردار جو ایک لفظ نکالا تم نے اپنے منھ سے ورنہ جان لے لوں گی تمھاری۔۔۔۔ تمھیں شرم نہیں آتی ؟؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہو ؟؟ میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں کہ میرا پیچھا کرنا چھوڑ دو “
اب وہ سکتا گئی تھی اس سے۔۔۔۔ فاریہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔۔۔۔ اب وہ مزید اس کی باتیں سننے کے موڈ میں نہیں تھی جب ہی اس نے بولنا شروع کیا اور بولتی چلی اور اپنے آخری جملے کو کہتے ہوئے اس نے ہاتھ بھی جوڑے تھے اس کے سامنے۔۔۔۔!!
” آخر چاہتے کیا ہو تم ؟؟ کیوں نہیں چھوڑ دیتے تم میرا پیچھا ؟؟ کیا بگاڑہ ہے میں نے تمھارا ؟؟ خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو میری زندگی جہنم مت بناؤ آتش کاظمی “
فاریہ نے لال انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔۔ آتش کو اس کی قہر برساتی نگاہوں میں اپنے لیے نفرت صاف دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔!!! جسے وہ مسلسل اگنور کر رہے تھا “
” میں صرف آپ کو چاہتا ہو فاریہ جی “
اس نے آہستگی سے کہا۔۔۔
” پر میں نہیں چاہتی تمھیں سمجھ آیا ؟؟ میں تم سے نفرت کرتی ہوں بہت زیادہ نفرت۔۔۔۔!!! اور جیسی حرکتیں تم کرتے ہو نا میرے پیچھے آنا، مجھے اپنی ہونے بیوی کہلوانے کی کوشش کرنا اس سے تمھیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔۔۔۔ لیکن مجھے ضرور حاصل ہو گا بدنامی ، رسوائی ، ذلت بد کردار تک کہہ دیا جا سکتا ہے مجھے۔۔۔۔ بٹ نو واٹ میں یہاں ایک منٹ بھی نہیں رکو گی میں ابھی کے ابھی یہاں سے جاؤ گی۔۔۔ “
اس کی کہیں ہوئی باتیں آتش کاظمی کو ایک گہری سوچ میں ڈال گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے اسے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اندر کی طرف اپنا سامان پیک کرنے کے لیے بڑھ گئی تھی۔۔۔۔ جبکہ وہ وہی کھڑا اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔۔!!!
رات کا سایہ صبح کے سویرے میں ڈھل گیا تھا۔۔۔۔ صبح کے تقریباً آٹھ بجے ربعیہ کی آنکھ کھلی تو سامنے ہی رہان کو تیار کھڑا پایا تھا۔۔۔۔!!! جیسے اس نے کہیں جانا ہو !!
ربعیہ کو نہیں معلوم کہ وہ رات کو کمرے میں کب آیا ؟؟ پر کیونکہ رات کو جیسے ہی وہ کمرے میں آئی تھی تو وہ چینج کر کے سو گئی تھی۔۔۔۔ اس نے کچھ دیر اس کا انتظار کیا مگر تھکن کی وجہ سے نیند نے ایسا بسیرہ کیا اس پر کہ اسے کچھ ہوش ہی نا رہا۔۔۔۔ لیکن وہ اتنا جانتی تھی کہ رات کو وہ اس کی لیفٹ سائیڈ پر ہی سویا ہوا تھا۔۔۔۔!!
” گڈ مارننگ!!! آپ تیار ہو جائیں پھر ہم ناشتہ کرنے کے لیے نیچے چلے جائے گے !!! “
اسے جاگتا ہوا دیکھ کر رہان نے مسکرا کر پہلے تو اسے صبح بخیر کہا اور پھر اسے تیار ہونے کے لیے کہا تا کہ وہ نیچے ناشتے کے لیے سب کے ساتھ جا سکیں !! جسے سن ربعیہ نے سر ہاں میں ہلایا اور بیڈ سے اترتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
اس کے ذہن میں ابھی بھی صرف اور صرف ارحم کا خیال ہی چل رہا تھا۔۔۔۔!!! وہ خوف میں مبتلا تھی کہ کہیں وہ کچھ بد مزگی پیدا نا کرے لیکن وہ مطمئن بھی تھی کیونکہ اس کے پاس رہان جیسا محافظ بھی موجود تھا۔۔۔۔”
کچھ دیر بعد جب ربعیہ واش روم سے تیار ہو کر نکلی تو سامنے ہی رہان اس کی طرف پشت کیے ہوئے کھڑا تھا۔۔۔۔!!! ربعیہ آہستگی سے قدم بڑھاتے ہوئے شیشے کے سامنے جا رکی۔۔۔۔ رہان نے جیسے ہی اس کی آہٹ محسوس کی تو وہ فوراً مڑا۔۔۔۔”
” ربعیہ !! “
اس نے آہستگی سے پکارہ۔۔۔
” جی “
آہستگی سے ہی جواب دیا گیا تھا۔۔۔۔۔!!!
” یہ آپ کی منھ دکھائی کا گفٹ ہے،،، ویسے مجھے دینا تو رات کو ہی چاہئیے تھا۔۔۔۔ لیکن جب میں کمرے میں آیا تو اس وقت آپ سو چکی تھی میں نے آپ جگانا مناسب نا سمجھا اسی لیے یہ لیں “
اس نے ایک سونے کے قیمتی سیٹ کا ڈبہ اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔!! اور اسے یہ منھ دکھائی کا تحفہ رات کو نا دینے کی وجہ بھی بتائی٬٬٬٬٬٬ اس کی بات سنتے ہوئے ربعیہ نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔ اور اس سیٹ کو پکڑا۔۔۔۔!
” اس کی ضرورت تو نہیں تھی کہ بٹ تھینک یو سو مچ “
ربعیہ نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا تھا۔۔۔۔ جس پر وہ بھی مسکرا گیا۔۔۔۔
” چلیں ؟؟ “
کچھ لمحات کی خاموشی چھانے کے بعد رہان نے اس سے پوچھنا چاہا کہ اگر وہ تیار ہے تو وہ دونوں نیچے چلیں ؟؟ جس پر وہ سر میں ہلا گئی اور اس کے ساتھ نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
” یہ لو!!! “
زریر کافی دیر سے شاپنگ کرنے کی غرض سے گیا ہوا تھا۔۔۔۔ اور جب واپس آیا تو معلوم ہوا کہ دادا جان گھر پر نہیں ہیں تو وہ سیدھا انوشا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔ اس کے کمرے میں پہنچتے ہوئے اس نے اسے کچھ شاپنگ بیگز تھمائیں جس پر انوشا نے حیرانگی سے انھیں دیکھا۔۔۔
” یہ کیا ہے ؟؟ “
اس نے بیگز کو بیڈ پر رکھا اور ان میں دیکھنے لگی کہ کیا لایا ہے وہ ؟؟؟؟ اس نے بیگز کچھ کپڑوں کو پایا۔۔۔ جو پاکستانی کلچرز کے تھے۔۔۔۔” انوشا نے وہ کپڑے کبھی بھی نہیں پہنے تھے۔۔۔۔ اس نے زریر سے سوال کیا تھا۔۔۔۔!!!!
” یہ کپڑے ہیں اور آج سے تم یہی کپڑے پہنو گی!!!! میں نہیں چاہتا کہ تم کسی کی بھی سامنے ان کے علاؤہ کسی بھی کپڑوں میں جاؤ !! “
زریر اس دن تو چپ کر گیا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اس نے یہ سوچ لیا تھا۔۔۔۔ ورنہ وہ چپ کرنے والوں میں سے نہیں تھا “
” جی نہیں !!! میں نہیں پہنو گی “
انوشا نے کبھی بھی یہ کپڑے نہیں پہنے تھے۔۔۔۔!! اسے بہت عجیب لگتی تھی یہ ڈریسنگز،،، یہ کپڑے اسے کافی بھاری لگتے تھے۔۔۔۔” یہی وجہ تھی کہ اس نے زریر کو ان کپڑوں کے پہننے کے لیے صاف انکار کر دیا تھا۔۔۔۔”
” کیوں نہیں پہنو گی ؟؟ پہننے تو تمھیں یہی ہو نگے کیونکہ میں نہیں چاہتا ہوں کہ میرے سوا کوئی غیر مرد تمھارے حسن کو دیکھے مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا ہے۔۔۔۔!!! “
ایک لمحے کے لیے وہ مسکرایا تھا۔۔۔۔۔ لیکن پھر وہ اپنی مسکراہٹ کو ختم کرتا ہوا سنجیدگی کا لہجہ اپنا گیا تھا۔۔۔۔!!! اس کے ایک ایک لفظ پر انوشا چونک رہی تھی۔۔۔۔۔!!!
” اور تم پر لازم ہے کہ تم میری ہر کہی ہوئی بات کو مانو آفٹر آل پھر میں تمھارا شوہر ہوں اور اپنے شوہر کی ہر بات کو ماننا تمھارا فرض ہے۔۔۔۔!!! اب بغیر بحث کیے ہوئے ان کپڑوں کو کل سے پہننا شروع کر دو اگر آفس جانا ہے تو “
یہ اس کا غصہ نہیں تھا۔۔۔۔!!! بلکہ اس کے لفظوں میں انوشا کے لیے اپنا پن جھلک رہا تھا۔۔۔ آج انوشا کو بالکل بھی یہ محسوس نہیں ہوا تھا کہ جیسے وہ اس پر رعب جھاڑ رہا ہو۔۔۔۔!! یا اس پر اپنا حق جتانے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔۔ بلکہ آج تو وہ اس سے اس طریقے سے بات کر رہا تھا جیسے کہ وہ اس سے ریکوئسٹ کر رہا تھا۔۔۔۔
اپنی بات مکمل کر کے اس نے انوشا کو ایک لمحہ کے لیے بھی بولنے کا موقع نا دیا اور خود کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔ جبکہ انوشا ان کپڑوں کو دیکھنے لگی جو وہ اس کے لیے لایا تھا۔۔۔۔”
” نہیں!!! نہیں !!! نہیں !!! یہ مجھے کیا ہو رہا ہے ؟؟ میں کیوں سوچ رہا ہوں اتنا اس کے بارے میں ؟؟؟ میں کیوں جا رہا ہوں بار بار اس کے قریب ؟؟ کیوں میرا دل کرتا ہے کہ ازا میرے قریب رہے۔۔۔۔وہ مجھ سے دور جا جائے۔۔۔۔۔ آخر کیوں ؟؟ “
کایان سردی کے موسم کی ٹھنڈی چلتی ہوئی ہواؤں کے بیچ وہ بیچ کھڑا ہوا اپنے آپ سے ہی سوالات کر رہا تھا۔۔۔۔ یہاں پر اس کے سوا کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔۔۔” کیوں وہ ازا کے قریب جاتا ہے ؟؟ کیا ہے ایسا جو اسے ازا کے قریب لے کر جاتا ہے ؟؟
” کیوں ؟؟ کیا ہے وہ احساس ؟؟کیا یہ تو نہیں ؟ کہ کہیں مجھے ازا سے محبت تو نہیں ہو گئی !!!! “
ازا کے لیے اس کا پیار ہی تو نہیں وہ جو اسے ازا کے قریب لے کر جاتا ہے ؟؟؟ اس نے اپنے آپ سے ہی سوال کیا تھا کہ کیا وہ ازا سے محبت تو نہیں کرتا ؟؟
” ہاں !! یہی ہے وہ احساس !!! یہ ہی ہے وہ محبت کا احساس جو میں نے ازا کے لیے محسوس کیا ہے۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ یہی ہے !! یہی ہے وہ احساس!!!!! اس کا مطلب مجھے ازا سے محبت ہو گئی ہے،،،،
ہاں بالکل !! کایان ملک تمھیں ازا کایان ملک سے پیار ہو گیا ہے “
اس کی بات میں وہ خوشی تھی جیسے کسی بھی ننھے سے بچے کو اس کے سوالوں کے جواب مل گئے ہوں۔۔۔۔ اس کے سوالات کا بس یہی جواب تھا کہ وہ ازا سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ ہاں وہ ازا سے محبت کرتا ہے !!!!
