Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 26)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

” رکو !!! “

وہ ابھی کمرے کی جانب بڑھی تھی ہی کہ اسے پیچھے سے کنول بیگم کی آواز سنائی دی تھی۔۔۔۔۔!!! انھیں نے اسے رکنے کا کہا تھا جس پر فاریہ کے قدم وہی ٹھہر گئے تھے۔۔۔۔

” کہاں جا رہی ہو ؟؟؟ “

آج ان کے لہجے میں وہ نرمی نہیں تھی جو ان کے لہجے میں ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔۔۔۔ آج ان کا لہجہ بہت کرہت تھا۔۔۔۔

” وہ!! اندر آت۔۔ش “

” کوئی ضرورت نہیں ہے تمھیں آتش کے پاس جانے کی میں خود دیکھ بھال کر لوں گی اپنے بچے کی۔۔۔۔ ایسی منحوس ہو تم کہ تم نے میرے دونوں بچوں کو لڑوا دیا۔۔۔۔!!

اب بہتر یہی ہے تمھارے لیے کہ تم یہاں سے چلتی بنو سمجھی “

انھوں نے نا گواری کا لہجہ اپناتے ہوئے کہا ،،،،، فاریہ نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔۔۔ کنول بیگم نے اسے یہاں سے جانے کے صاف کہہ دیا تھا۔۔۔۔!! اور خود وہ اندر کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔

فاریہ کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ اس شخص کو چھوڑ یہاں سے کدھر چلی جائے جس نے اس کی جان بچائی تھی۔۔۔۔ جس نے خود کی پرواہ کیے بغیر اس کی پرواہ کی تھی۔۔۔۔۔!!!

آتش کے ہی کہے ہوئے لفظ آج اس کے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔۔۔”

( ” میں فاریہ جی کا ہونے والا شوہر ہوں ” )

جب کالونی میں اس سے سوال کیا گیا تھا کہ وہ فاریہ کا کیا لگتا ہے ؟؟

( ” تھپڑ ہی سہی لیکن آپ نے ہمیں چھوا تو ” )

جب فاریہ نے اس پر ہاتھ اٹھایا تو کوشش کرتا۔۔۔۔ اس کے برے رویے پر اس نے کبھی بھی غصہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔!!

تم لاکھ کوشش کرو مجھ سے دور ہونے کی

یہ میری بھی ضد ہے کہ میں تمھیں ہر دعا میں مانگوں گا

وہ اس کے خیالات میں ہی گھم سم سی گھر کی باہر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔”

” فاریہ جی کہاں ہے ؟؟ “

اب کی مرتبہ اس نے دوسری دفعہ سامنے کھڑی میڈ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ جبکہ وہ دوسری مرتبہ بھی وہاں بیٹھی ہوئی کنول بیگم کی طرف دیکھا وہ پہلی دفعہ بھی اس کی بات ٹال گئی تھی۔۔۔۔ آتش نے پہلے بھی سختی سے مٹھیاں بھینج گیا تھا۔۔۔۔ اب اس نے دوسری مرتبہ سوال کیا تھا۔۔۔۔

” نیلم !!! تم جاؤ اور اپنا کام کرو “

کنول بیگم نے نیلم کو وہاں سے جانے کا کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی تھی۔۔۔۔!!! جبکہ دوسری مرتبہ بات ٹالے جانے آتش غصے میں آ گیا تھا۔۔۔۔!!!!

” میں تم سے دوسری مرتبہ پوچھ رہا ہوں کہ فاریہ جی کہاں ہیں ؟؟ اور تم ہر مرتبہ میری بات ٹال رہی ہو ؟؟ مجھے بتاؤ کہ فاریہ جی کہاں ہیں ؟ “

آتش جو بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا وہ غصے سے کھڑا ہوتا ہوا غرایا تھا۔۔۔۔ جبکہ نیلم سمیت کنول بیگم خود بھی بہت اہم گئی تھی۔۔۔۔ انھوں نے آج سے پہلے سے آتش کا یہ روپ کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔!!

” سر وہ ک۔۔نول بیگم نے انھیں گھر سے نکال دیا ہے “

اس کا غصہ دیکھ کر نیلم کافی ڈر اور سہم گئی تھی۔۔۔۔۔ اسے لگا نا جانے کیا ہو جائے گا ؟؟ اس نے فوراً حقیقت اپنے سے منھ سے نکال دی تھی تھی۔۔۔۔!!

” What ?? “

آتش نے حیرانگی سے کہا۔۔۔

” یہ کیا کہہ رہی ہے خالہ کیا آپ نے فاریہ جی کو گھر سے نکالا ؟؟؟ “

اس نے ایک غصے کی نگاہ سے دیکھا تھا کنول بیگم کو دیکھا اور پھر ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے ان سے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔۔۔۔

” ہاں میں نے ہی اس سے کہا تھا کہ وہ اس گھر سے چلی جائے !! اس منحوس کی وجہ سے اتنا سب کچھ ہو گیا۔۔۔۔!!! اور تمھیں لگتا ہے کہ میں اسے یہاں رہنے دوں گی “

کنول بیگم نے فاریہ کے متعلق اپنا سارا غصہ نکالا تھا۔۔۔۔

” غلطی فاریہ جی کی نہیں بلکہ آپ کے بیٹے کی تھی۔۔۔۔۔!!! اور بغیر کچھ بھی جانے کیسے انھیں قصور وار ٹھہرا سکتی ہیں۔۔۔۔ مجھے یہ امید نہیں تھی آپ سے خالہ جان ایٹ لیسٹ آپ تو کچھ سوچ سمجھ کر کرتی !!! “

آتش کنول بیگم کی بھڑاس ان کر جب بولنے پر آیا تو بولتا چلا گیا۔۔۔۔!!! اس نے کنول بیگم کو آگاہ کیا کہ غلطی فاریہ کی نہیں بلکہ ان کے اپنے بیٹے بہزاد کی تھی جو اس وقت جیل میں تھا۔۔۔۔

غصے سے کہتا ہوا وہ کمرے سے باہر نکل گیا،،، کنول بیگم نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی مگر وہ نہیں رکا تھا۔۔۔۔۔”

” فاریہ جی “

وہ تیز ٹھنڈی ہواؤں کے زیرِ سایہ گھر کے گیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔!!! موسم کا حال دیکھے بغیر بھی ہر کوئی یہ بتا سکتا تھا کہ بارش ہونے والی ہے۔۔۔۔!! اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔۔” جب ہی اسے پیچھے سے کسی بھاری لہجے والے شخص کی آواز سنائی دی۔۔۔۔ وہ جھٹ سے پہچان گئی تھی کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ آتش کاظمی ہی تھا۔۔۔” فاریہ نے فوراً اپنے آنسو صاف کیے اور اپنے قدم اسی جگہ پر روک لیے!!

” کہاں جا رہی ہیں آپ ؟؟ “

وہ تیز قدم لیے ہوئے اس کی طرف بڑھا اور اس کے قریب پہنچتے ہوئے اس کے بازو کو تھامتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔۔ اور سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے ؟؟

” یہاں سے بہت دور !!! تم سے دور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے “

پہلے تو اسے معصومیت سے فاریہ نے دیکھا اور کچھ لمحات کی خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔۔!! اس کے بعد فاریہ نے نظریں جھکا لی اور پھر نظریں جھکائے ہوئے اس سے کہا وہ یہاں سے،،، اس سے بہت دور جا رہی ہے !! جسے سن آتش نے تھوڑا سا ناراضگی سے دیکھا۔۔۔۔

” اور کیا لگتا ہے آپ کو ؟؟ میں آپ کو جانے دوں گا ؟؟ نہیں کبھی بھی نہیں۔۔۔۔ اگر آج آپ یہاں سے چلی بھی گئی تو یاد رکھیے گا کہ میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گا ہمیشہ آپ کے قریب رہوں گا پھر یہ گلہ مت کیجئے گا کہ میں آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتا “

ایک زور دار بجلی گرجی تھی آسمان میں۔۔۔۔ ہواؤں کی روانگی مزید تیز ہو گئی تھی۔۔۔۔۔!! فاریہ کے کھلے بال ہواؤں سے ادھر اُدھر اڑ رہے تھے۔۔۔۔!!

” کیوں ؟؟ کیوں پیچھا نہیں چھوڑو گے میرا ؟؟ کیا لگتی ہوں میں تمھاری ؟ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔ تم ہمیشہ میرا خیال رکھتے ہو کیوں رکھتے ہو ؟ آج تم نے میرے لیے گولی کھائی یہ جانتے ہوئے بھی اگر یہ گولی تھوڑا سا بھی ادھر اُدھر ہوتی تو یہ تمھارا سینہ چیر سکتی تھی ؟؟ کیوں ؟ “

ہلکی ہلکی سی بارش شروع ہو چکی تھی مگر انھیں پرواہ نہیں تھی،،، وہ دونوں یونہی کھڑے تھے۔۔۔۔ فاریہ نے ایک لمبی سوالوں کی قطار لگائی تھی اس کے سامنے !!! جنھیں سنتے ہوئے آتش کاظمی طنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔۔۔”

” Because I Love You “

اس کی باتیں سنتا وہ طنزیہ مسکراتے ہوئے دو لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا تھا۔۔۔۔ اور پھر آہستگی سے یہ چار الفاظ کہتا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے،، فاریہ کو خاموش ہونے ہر مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔!! بارش جو پہلے ہلکی ہلکی سی برس رہی تھی اب اس کی روانی بھی بڑھ گئی تھی،،،، وہ دونوں بارش میں کھڑے ہوئے بھیگنے لگے تھے۔۔۔۔۔ فاریہ کا چہرہ لال پڑ گیا اور دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئی۔۔۔۔۔

” محبت کرتا ہوں میں آپ سے !! محبت !! اور محبت میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آپ اپنے محبوب کے لیے جان دے رہے ہیں بس جان دے دی جاتی یے۔۔۔۔ اور میں نے صرف اپنے بازو پر گولی کھائی ہے۔۔۔۔ اگر مجھے یہی گولی اپنے سینے پر بھی کھانی پڑتی تو ہنسی ہنسی کھا جاتا !!! “

اس کے کہے ہوئے الفاظ فاریہ کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے تھے۔۔۔!! بارش مزید تیز ہو گئی تھی وہ دونوں بارش میں کھڑے آدھے سے زیادہ بھیگ چکے تھے !! مگر انھیں اس بار کی کوئی بھی پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔!!!!!

” میں تمھاری شکر گزار ہوں،،، آج اگر میں زندہ سلامت اپنے پیروں پر یہاں کھڑی ہوں تو صرف اور صرف تمھاری وجہ سے۔۔۔۔۔ لیکن یہ تمھارے بازو زخم پر بھی تو میری وجہ سے ہی ہیں۔۔۔۔ لیکن محبت!!!!!”

فاریہ نے مسکراہٹ چہرے پر ہوئے کہا۔۔۔۔ آخر میں وہ کچھ بولنے لگی تھی لیکن پھر خاموش ہو گئی۔۔۔۔ تو وہ بھی مسکرایا۔۔۔

” اس زخم کا کیا ہے ؟؟ آج ہے کل نہیں ہو گا۔۔۔۔ پر اگر آج آپ یہاں سے چلی گئی تو میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ کل اس زخم کے ساتھ ساتھ میں بھی نہیں رہوں گا !! “

آتش کی بات سنتے ہوئے وہ ایک لمحے کے لیے تڑپ گئی تھی!!! کچھ لمحات کے لیے تو وہ خود یہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ اسے آتش کی بات سن کر کیوں برا لگا تھا ؟؟ کیوں وہ تڑپی تھی۔۔۔۔

” خبر دار جو تم نے یہ بات اپنے منھ سے نکالی بھی تو !!! “

فاریہ نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے اسے خاموش کرواتے ہوئے اسے وارننگ دی تھی کہ آج کے بعد وہ کبھی بھی اس قسم کی بات اپنے منھ سے نہیں نکالے گا۔۔۔۔ جسے سنتے ہی آتش مسکرا گیا تھا۔۔۔۔

” آپ کی یہی فکر یہ ظاہر کرواتی ہے کہ آپ بھی مجھ سے محبت کرتی ہیں۔۔۔۔!!! اور پھر آپ کہتی ہیں کہ آپ مجھ سے محبت نہیں کرتی !!! “

اس کی بات سن کر وہ مسکرایا اور اسے بتایا کہ اس کی فکر ہی یہ ظاہر کروا دیتی ہے کہ وہ اس سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔!!! جس پر فاریہ تھوڑا جھجکی۔۔۔۔!!! جبکہ وہاں پر ہوتی ہوئی بارش سے وہ دونوں مکمل طور پر بھیگ چکے تھے۔۔۔۔

” محبت کرنے میں اور فکر کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے مسٹر “

فاریہ نے اس سے رخ موڑتے ہوئے اس کی طرف پشت کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔!!!!! تو وہ لب بھینج گیا۔۔۔۔

” محبت نا سہی فکر ہی سہی!!! لیکن ہم تو آپ سے محبت کرتے ہیں نا!!! “

آتش نے مسکراتے ہوئے اسے اپنی محبت کا احساس دلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” دیکھ لینا آگ ہوں میں محبت کروں گے مجھ سے تو جل جاؤ گے اس آگ میں!!! “

فاریہ نے اس کی طرف مڑتے ہوئے مسکرا کر کچھ سوچتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا گیا۔۔۔۔!!!!

” میں بھی محبت کی آگ میں جلنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔۔!!! “

آتش نے بھی مسکراتے ہوئے اس کی محبت کی آگ میں جلنے کی خامی بھر لی تھی۔۔۔۔!!! ایک مرتبہ پھر سے زور سے بادل گرجا تھا۔۔۔۔

” so, Will you merry me ?? “

اس نے موقع ملتے ہی اس سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ اس سے شادی کرے گی ؟؟ جسے سنتے ہی فاریہ کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔۔۔ اسے سمجھ نا آیا کہ کیا جواب دے۔۔۔۔!!!

” پلیز مان جائیں۔۔۔۔۔ میں آپ کو ہمیشہ خوش رکھوں گا۔۔۔۔ خوشیوں کی کوئی کمی نہیں ہو گی آپ پلیز بس ایک مرتبہ ہاں کہہ دیں پلیز !! “

آتش نے اس سے درخواست کی تھی کہ وہ اس شادی کے لیے ہاں کہہ دے جب ہی فاریہ کو صادق کی کہی ہوئی بات یاد آئی۔۔۔۔!!!

( ” بھابھی کیا اب آپ کو بھائی کے پیار پر یقین ہو گیا ؟؟؟ بھابھی!!! وہ شخص آپ پر اپنی جان تک نچھاور کر سکتا ہے۔۔۔ تو کیا آپ کو واقع ہی لگتا ہے کہ وہ آپ سے محبت نہیں کرتا ہے ؟؟؟ ” )

پھر اس کے ذہن میں آتش کے کچھ جملے گردش کیے تھے۔۔۔۔۔!!!

( ” تھپڑ ہی سہی لیکن آپ نے ہمیں چھوا تو ” )

( ” میں فاریہ جی کا ہونے والا شوہر ہوں ” )

” بولیں نا فاریہ جی کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ؟؟؟ “

فاریہ کافی دیر تک اپنی ہی سوچوں میں اسے سوچتی رہی جب ہی آتش نے اسے حال میں لاتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کروایا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ اس سے شادی کرے گی ؟؟؟ بارش کی روانی پہلے سے کچھ کم ہو گئی تھی۔۔۔!

” yes !!! “

فاریہ نے کچھ سوچتے ہوئے اسے اس شادی کے لیے ہاں کہہ دی تھی۔۔۔۔!!! جس سنتے ہی آتش کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہی۔۔۔۔۔”

” تھینک یو سو مچ فاریہ جی میں آپ سے وعدہ کرتا ہو دنیا جہاں کی خوشیاں آپ کے قدموں میں لا کر رکھ دو گا۔۔۔۔ آپ کی آنکھ میں ایک بھی آنسو نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔!!! ہمیشہ خوش رکھوں گا آپ کو۔۔۔۔ “

اس نے فاریہ کی بات سنتے ہوئے ہنستے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما اور مسکرا کر ایک ایک لفظ سے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا،،، بارش اب مکمل طور پر رک چکی تھی۔۔۔۔ آتش اس قدر خوش تھا کہ اسے اپنے بازو پر موجود زخم کی بھی پرواہ نہیں رہی۔۔۔

” ٹھیک ہے !! پر ابھی تو کپڑے بدل لیں۔۔۔ ورنہ ٹھنڈ لگ جائے گی “

وہ دونوں بھیگ چکے تھے اس بارش میں فاریہ جو ٹھنڈ لگنا محسوس ہوئی تھی،،،، فاریہ نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی سر ہلاتے ہوئے مسکرا گیا اور اندر کی طرف بڑھا تھا جبکہ وہ اس کے پیچھے بڑھی تھی۔۔۔۔ یہ تیز بارش انھیں بہت قریب لے آئی تھی۔۔۔۔!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *