Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 29)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 29)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
چاہے ابھی شام کے سات ہی بجے تھے!! مگر پھر بھی مری کی گلیوں میں رات دس بجے والا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔۔!!!! سردی اپنی شدت پر تھی۔۔!!
ربعیہ کافی لیے ہوئے اپنے کمرے کی بالکونی پر پہنچی جہاں رہان پینٹ شرٹ اور اوپر کوٹ اوڑھے کھڑا تھا!!! ربعیہ نے بھی کالے رنگ کی گرم فراک اور اس کے اوپر کوٹ پہنے ہوئے اس کی طرف بڑھی!
” یہ لیں !!! “
ربعیہ نے کافی کا کپ رہان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا !!!
” تھینک یو “
رہان نے گرم گرم کافی کا کپ پکڑتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔ جس پر ربعیہ مسکرائی” وہ دونوں وہی پر پڑے ہوئے ایک صوفے نما لوہے کے چنے ہوئے آلے پر بیٹھ گئے!!!
آسمان میں کہیں کہیں انھیں چمکتے ہوے تارے دیکھائی دے رہا تھے۔۔۔۔۔!! وہ دونوں وہی بیٹھیں کافی کا لطف اٹھانے لگے تھے!!!
” کتنا اچھا موسم ہے نا یہاں کا ؟ “
رہان نے کہا۔۔۔۔۔
” جی بالکل !!! آپ کو پتہ ہے کہ مجھے سردی کا موسم بہت زیادہ پسند ہے!!!! اور ادھر آکر مجھے بہت مزہ آ رہا ہے !! “
ربعیہ نے مسکرا کر کہا تو وہ بھی مسکرا گیا۔۔۔۔!!
وہ دونوں اس کے بعد یوں ہی کچھ باتوں میں مصروف ہو گئے اور کافی کا لطف اٹھانے لگے!!!! کافی ختم کرنے کے بعد ربعیہ کو اپنی آنکھوں میں نیند محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!!
اس نے کوشش کی کہ وہ نیند دور ہو جائے لیکن ایسا ممکن ہی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ رہان جو آسمان کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اچانک ہی ربعیہ کا سر اپنے کندھے پر محسوس کرتے ہوئے مسکرایا تھا۔۔۔۔!!!
ربعیہ اس کے کندھے پر اپنا ٹکاتی ہوئی نیند کی وادیوں میں کھو سی گئی تھی!!! لیکن ٹھنڈ کی شدت بڑھتی جا رہی تھی اور ایسے موسم میں ان دونوں کا باہر سونا بالکل بھی ٹھیک نہیں تھا وہ بیمار پڑ سکتے تھے۔۔۔!!!
رہان نے آہستگی سے ربعیہ کو اپنی باہوں میں بھرا اور اسے لیے ہوئے اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔ ربعیہ گہری نیند میں تھی۔۔۔۔ رہان نے آہستگی سے اسے بیڈ پر لٹایا اور اس کر کنفرٹر چڑھا دیا۔۔۔۔ وہ تھوڑا سا کسمسائی لیکن ایک مرتبہ پھر سے نیند کی گہری وادیوں میں کھو گئی!!!
رہان بھی کوٹ اتارتا ہوا بیڈ کی دوسری جانب کنفرٹر خود پر بھی اوڑھتا ہوا لیٹ گیا۔۔۔۔!! اس نے اپنا رخ ربعیہ کی طرف کیا اور جیسے ہی نگاہیں ربعیہ کی طرف کی تو نگاہوں نے اس پر سے ہٹنے سے انکار کر دیا۔۔۔۔
اس نے چہرے پر معصومیت چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ وہ سوتے وقت بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔ رہان کو دل ٹوٹ کر اس پر پیار آیا تھا۔۔۔۔!!!
وہ آہستگی سے بڑھتا ہوا اپنے لب اس اس کے ماتھے پر رکھ گیا تھا۔۔۔۔” ربعیہ نیند میں ہی کسمسائی تھی۔۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا رخ اس کی طرف ہی رکھتا ہوا آنکھیں موند گیا تھا!! جبکہ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔
زریر نے تیز رفتار گاڑی کو ایک جگہ لا کر روکا۔۔۔۔ اگر انوشا نے سیٹ بیلٹ نا پہنا ہوتا تو یقیناً وہ گاڑی کے اگلے حصے سے ٹکرا جاتی!!!
زریر گاڑی سے اترا اور پھر اپنے قدم اس کی طرف بڑھائے۔۔۔۔ دوسری طرف پہنچتے ہوئے زریر نے اس کی سائیڈ سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔۔ اور اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔
انوشا آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے گئی تھی۔۔۔۔” اور گاڑی سے اترتے ہوئے اس کے ساتھ چل دی۔۔۔۔ زریر نے اب بھی اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔۔۔۔
” میں یہاں تمھیں کچھ خاص دیکھانے کے لیے، اور کچھ بتانے کے لیے لایا ہوں !!! “
زریر جو اس ہاتھ تھامے آگے کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔!! کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد انوشا سے بولا تو انوشا نے اسے تجسس خیز نگاہوں سے دیکھا!!!
” کیا ؟؟ “
انوشا کو یہ جاننے کے لیے تجسس ہوا تھا کہ ایسا بھی کیا ہے جو اسے دکھانا چاہتا ہے، اور اسے سنانا چاہتا ہے ؟ اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا !
” ارے چلو تو سہی پھر سب خود ہی پتہ چل جائے گا تمھیں !!! “
اس کی سوالیہ نگاہوں کو دیکھتے ہوئے وہ مسکرایا اور پھر اسے سے کہا کہ پہلے وہ اس کے ساتھ چلے تو پھر اسے خود بخود ہی پتہ لگ جائے گا وہ اسے کیا دکھانا، اور سنانا چاہتا ہے ؟
یہ شائید کسی قسم کا پارک تھا!!! جو خالی تھا وہ اسے پارک کی دوسری طرف لیے ہوئے بڑھ رہا تھا!!!
جیسے ہی وہ پارک کے درمیانی حصے سے ہو کر دوسری جانب پہنچے تو سامنے جو انوشا کو دیکھائی دیا اسے دیکھتے ہی وہ حیران رہ گئی تھی!!
سامنے اسے ایک نہایت ہی خوبصورت منظر تھا!!! جس کے بالکل سامنے انگریزی میں ویلکم لکھا گیا تھا !!! اسے دیکھتی ہوئی مسکرائی تھی۔۔۔!!!!!
کچھ لمحات تک سامنے لگے ہوئے اس ٹینٹ کے بیچ میں موجود دو کرسیوں کے درمیان پڑے ہوئے میز اور اس پر موجود کھانے پر انوشا کی نظر ٹکی رہی۔۔۔۔
لیکن پھر اس نے مڑ کر پیچھے کھڑے ہوئے زریر کی طرف دیکھا۔۔۔۔” جس نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا تھا!!! وہ ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے آگے کی طرف بڑھی تھی!!
جیسے ہی وہ ٹینٹ کے اندر پہنچی تو زریر جو اس کے پچھلی جانب کھڑا تھا اس نے وہاں پر لٹکی ہوئی ایک رسی کھینچی۔۔۔۔ جس سے گلاب کی بے شمار پتیاں انوشا پر گری تھی!!!
انوشا کے لبوں پر مسکراہٹ چھا گئی!! زریر بھی مسکرایا “
” یہ تو ہو گیا دکھانے والا کا لیکن سننے والا تو رہ گیا !!! “
زریر مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا اور زیر لب کچھ ادا کیا۔۔۔۔ انوشا نے تجسس کن نگاہیں اس کی طرف دوڑائی!!
” میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب میں نے تم سے زبردستی نکاح کیا تھا۔۔۔ تو اس وقت میرے دل میں صرف اور صرف نفرت اور بدلے کی آگ بھڑک رہی تھی!!!
مجھے صرف اور صرف اپنی اس بے عزتی کا بدلہ لینا تھا جو تم نے میری کی تھی۔۔۔۔ اس کے سوا میرا کچھ بھی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔ میں صرف تم سے نکاح کر کے تم سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔۔
لیکن پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا۔۔۔۔ تو مجھے احساس ہوا کہ نہیں میرے دل میں صرف تمھارے لیے نفرت نہیں ہے !!! کچھ احساس بھی ہے!!!!
جب بھی تم اس واسط سے بات کرتی !! یا جب بھی وہ تم سے زیادہ فری ہونے کی کوشش کرتا۔۔۔۔ اور جب بھی کوئی غیر مرد تمھاری طرف دیکھتا!!
تو مجھے بہت زیادہ غصہ آتا تھا!! میرا دل کرتا تھا کہ میں اس کی جان کی لے لوں !! جن نگاہوں سے وہ واسط کا بچہ تمھیں دیکھتا تھا میرا دل کرتا تھا کہ میں ان آنکھوں کو ہی نوچ ڈالوں!!!
پھر میں نے خود سے یہ سوال کیا کہ جب میرا تم سے کوئی خاص تعلق بھی نہیں ہے پھر بھی مجھے کیوں اتنا برا لگ رہا ہے ؟؟ کیوں غصہ آ رہا ہے مجھے تمھارا کسی اور کے ساتھ بات کرنا دیکھ کر ؟؟
اور پھر مجھے یہ جواب ملا کہ میرے دل میں تم بس چکی ہوں۔۔۔۔ ہاں !! انوشا زریر عباس یہ کمبخت دل تم سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ اس دل میں تم بسنے لگی ہو!!! نہیں رہ سکتا میں تمھارے بغیر “
زریر نے اپنی بات اپنے اور اس کے نکاح کی بات سے کی تھی!! جس میں زریر نے اسے بتایا کہ جب اس نے انوشا سے نکاح کیا تھا تو اس وقت وہ صرف نفرت کرتا تھا اس سے !!
بدلہ لینا چاہتا تھا وہ اس سے اپنی بے عزتی کا !! لیکن پھر جیسے جیسے وقت گزرا اور جب زریر نے واسط اور انوشا کو بڑھتی دوستی کو دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا!!!
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ واسط کو جان سے ہی مار دے!! لیکن اس نے بہت مشکل سے خود پر قابو پایا تھا!!!
سب سے آخر میں زریر نے اسے اپنے دل کی کیفیت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے !!! اس کے دل میں انوشا بستی ہے۔۔۔۔ اس کے بغیر وہ نہیں رہ سکتا !!
جبکہ انوشا کے کانوں میں صرف زریر کے یہی لفظ ” ہاں !! انوشا زریر عباس یہ کمبخت دل تم سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔ اس دل میں تم بسنے لگی ہو!!! نہیں رہ سکتا میں تمھارے بغیر ” بار بار گھوم رہے تھے!! وہ کچھ لمحات کے لیے خاموشی اختیار کر گئی تھی”
” دیکھو !! زریر !! میں سمجھتی ہوں کہ تم کیا کہنے چاہتے ہو ؟؟ لیکن میں تم سے اتنا ضرور کہوں گی کہ جیسے بھی یہ رشتہ تم نے میرے ساتھ قائم کیا !!
اسے سمجھنے میں!! تمھیں سمجھنے میں!! مجھے تھوڑا سا وقت ضرور لگے گا میں ابھی کچھ بھی نہیں کہہ سکتی ہوں “
انوشا نے کچھ لمحات کی خاموشی کے بعد اسے بتانے کی کوشش کی وہ ابھی اس رشتے کو سمجھنے کے لیے کچھ وقت چاہتی ہے۔۔۔۔
بھئی اب تھوڑی قدر تو زریر کو بھی ہونی چاہئیے نا اس کی !! ایک تو اس نے زبردستی نکاح کر لیا۔۔۔۔ اب ضروری تو نہیں کہ ہر مرتبہ انوشا ہی جھکے اس دفعہ تھوڑا سا زریر جو تڑپنا ہو گا۔۔۔۔
” ٹھیک ہے!!! تمھیں جتنا بھی وقت چاہئیے تم سکتی ہو،،، ایک دن، دو دن، ایک ہفتہ ، ایک مہینہ ، ایک سال جتنا بھی وقت تم چاہو میں مرتے دم تک تمھارا انتظار کروں گا “
زریر نے مسکرا کر اپنے دل سے نکلی ہوئی آواز اسے سنائی تھی جس پر انوشا ہلکا سا مسکرائی!!!
” پر فلحال ہم ابھی ڈنر تو کریں مجھے بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی ہے ۔۔”
کچھ وقت کے لیے انوشا چپ کر گئی تھی۔۔۔۔ پھر زریر نے نہایت ہی معصوم سا منھ بناتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور اسے کہا اسے بہت بھوک لگ رہی ہے انھیں ڈنر کرنا چاہئیے۔۔۔۔
اس کی شکل دیکھ کر انوشا نے اپنی ہنسی کو با مشکل قابو میں کیا اور سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔ وہ دونوں اس میز پر بیٹھ کر ڈنر شروع کر چکے تھے۔۔۔۔ آج ان کا رشتہ ایک نئے موڑ پر آ گیا تھا۔۔۔۔”
” فاریہ جی !! یہ دیکھیں کیسا لگے گا آپ پر یہ ڈریس ؟ “
فاریہ، آتش دونوں شاپنگ مال میں اپنی شادی کی شاپنگ کرنے کے لیے آئے تھے!! ہاں۔۔۔ فاریہ نے اسے شادی کے لیے ہاں کہہ دی تھی جس پر آتش بہت زیادہ خوش تھا۔۔۔۔
اسے امید تھی کہ کبھی نا کبھی تو اس کے دل کی ضرور سنی جائے گی جو اب سنی گئی تھی!!! وہ بہت ہی زیادہ خوش تھا۔۔۔۔ آتش نے شادی میں ذیادہ دیر نہیں کی تھی!
آج منگل تھا اور پرسو یعنی جمعرات کو ان کی مہندی اور جمعہ کے مبارک دن پر ان کا نکاح تھا اور اس کے بعد ولیمہ۔۔۔۔ مال میں آتش کو ایک خوبصورت ڈی فراک فاریہ کے لیے پسند آئی تھی اس نے فوراً فاریہ کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس سے پوچھا تھا کہ یہ اس پر کیسا لگے گا ؟
” بہت پیارا ہے !!!! “
اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔ فاریہ نے اس شادی کے لیے ہاں دل سے کہی تھی۔۔۔!! وہ آتش کو لگی ہوئی گولی ضائع تھوڑی جانے دے سکتی تھی!!!!!
اور اس سے بھی بڑی ایک یہ حقیقت تھی کہ وہ آہستہ آہستہ آتش کاظمی کے سحر میں گرفتار ہو رہی تھی اس سے محبت کرنے لگی تھی!!
” تو ٹھیک ہے ہم یہ بھی لے لیتے ہیں !! “
وہ مسکرا کر کہہ گیا۔۔۔۔
جبکہ وہ دونوں بقیہ شاپنگ کے لیے مال کے اندرونی حصے کی طرف بڑھے!!!
