Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 15)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 
نکاح کرنے کے بعد زریر اسے سیدھا گھر لایا تھا۔۔۔۔ پورے راستے اس کے دل میں یہی خوشی تھی کہ اس نے بے عزتی کا بدلہ لے لیا ہے !!!! لیکن انوشا کے چہرے پر افسردگی کے سوا کچھ نہیں تھا جیسے وہ اس سے بہت بڑی جنگ ہار گئی ہو !!

گاڑی کو اس نے شعیب ہاؤس کے سامنے روکا تھا۔۔۔۔۔!! زریر گاڑی سے اتر گیا جبکہ انوشا کے ذہن میں صرف وہی منظر گھوم رہا تھا جب اس نے تین مرتبہ اس شخص کے لیے قبول ہے ،، قبول ہے کہا تھا اور اس کے لیے یہ منظر اس کی زندگی کا سب سے برا منظر تھا۔۔۔۔ اس نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا جو ہو گیا تھا۔۔۔۔

گاڑی سے اترتے ہوئے زریر گاڑی کے اس دروازے کی طرف بڑھا جس طرف انوشا بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اس دروازے کے عین سامنے پہنچتے ہوئے زریر نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے اس کا ہاتھ تھامنے کی غرض سے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔

جس پر انوشا نے غصے کی نگاہ سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔ اس کا دل تو کر رہا تھا کہ اس لڑکے کی جان نکال دے لیکن وہ غصے پر قابو پاتی ہوئی اسے مکمل طور پر اگنور کرتے ہوئے گاڑی سے اترتی ہوئی اس کے ہاتھ کو پیچھے کی طرف جھٹکتے ہوئے وہ اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

اس کا یہ عمل دیکھ کر زریر کو غصہ تو بہت زیادہ آیا تھا لیکن وہ بھی اسے اگنور کرتا ہوا مٹھیاں زور سے بھینجتا ہوا غصے پر قابو پاتا ہوا اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔!!!

” انوشا بیٹا حد کر دی تم نے صبح کی گئی ہوئی اب شام کو لوٹ رہی ہو تم ؟؟؟ کہاں تھی بیٹا اتنی دیر سے ؟؟ مجھے تمھاری اتنی فکر کو رہی تھی “

جیسے ہی وہ دونوں اندر پہنچے تو سامنے ہی اپنے دادا جان کو اپنے لیے پریشان کھڑا ہو پایا تھا انھوں نے !! جو انوشا نو دیکھتے ہی اس کی طرف بڑھے اور پریشانی سے اس سے سوال کیا کہ وہ صبح کی گئی ہوئی اب واپس آ رہی ہے ؟؟ کہاں گئی تھی وہ ؟ اس کے دادا جان اس کے لیے پریشان تھے۔۔۔۔ پریشانی ان کے چہرے پر صاف ظاہر تھی۔۔۔۔

ان کے پریشانی سے کیے گئے سوالات سنتے ہی اس نے زریر کی طرف دیکھا جو اسے ہے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ شائید وہ اس کے جواب کا منتظر تھا کہ وہ کیا جواب دیتی ہے ؟؟ ایک لمحے اس کے چہرے کی طرف دیکھنے کے بعد اس نے اپنی نظروں کا رخ پھیر کر اپنے دادا جان کی طرف کر لیا۔۔۔۔۔”

” وہ میں شاپنگ میں بیزی ہو گئی تھی تو مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ ٹائم کب گزر گیا ؟؟؟ “

اس کا جواب سن کر اس کے دادا جان کی پریشانی کم ہوئی تھی جبکہ زریر نے حیرانگی سے اسے دیکھا کہ اس نے حقیقت دادا جان پر عیاں کیوں نہیں کی تھی ؟؟ یہی سوال زریر کے ذہن میں سب سے پہلے آیا تھا۔۔۔۔۔۔!!!

” دادا جان میں تھوڑا تھک گئی ہوں کمرے میں جانا چاہتی ہوں “

انوشا نے عجیب بیزاریت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔ اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔ دل کر رہا تھا سارے گھر کو ٹہس نہس کر دے۔۔۔۔!!!!!!!!!

” ہاں ٹھیک ہے جاؤ بیٹا آرام کرو “

اس کے دادا جان نے اس کی حالت سے یہی محسوس کیا کہ وہ کافی تھک چکی ہے ” جب ہی انھوں نے انوشا کو بھی جانے کا کہا تا کہ وہ آرام کر سکے،،،، ان کی بات سنتے ہی انوشا فوراً اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔۔!!! زریر حیران تھا کہ اس نے دادا جان کے سامنے ایسے ہی شو کروایا تھا جیسے کہ کچھ بھی ہوا ہی نا ہو !!!

” میں بھی کمرے میں جا رہا ہوں “

زریر نے جاتی ہوئی انوشا کو دیکھ کر کہا جس پر دادا جان نے سر ہاں میں ہلایا انھیں یہی لگ رہا وہ اپنے کمرے میں جا رہا ہے لیکن حقیقتاً تو وہ انوشا کے پیچھے گیا تھا۔۔۔۔۔!!!

” یہ تم نے جھوٹ کیوں بولا ؟؟ سچ کیوں نہیں بتایا دادا جان کو ؟؟؟؟ “

انوشا نے کمرے کے قریب پہنچتی ہوئی کمرے کا دروازا کھولنے کے لیے جیسے ہی ہاتھ آگے کی طرف بڑھایا اسی وقت زریر نے اس کا وہی ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اس نے سوال کیا کہ اس نے انھیں حقیقت کیوں نہیں بتائی ؟؟

” جس حقیقت کا وجود ہی نہیں رہے گا اس حقیقت کا اب کو بتا کر کیا کرنا ؟؟ “

وہ غصے سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی بولی اور اس سے دور ہوتے ہوئے کمرے کا دروازا کھولتے ہوئے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔ زریر دروازہ بند ہوتے ہی وہاں سے گھر کی بیک سائیڈ پر چلا گیا۔۔۔

انوشا کمرے کا دروازا بند کرتے ہوئے اس لاک کرتے ہوئے وہی اس کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔ وہ سب کے سامنے چاہے جتنی ہی بہادر کیوں نا بن لے ؟ لیکن ہے تو وہ بھی ایک عام انسان ہی نا !!

وہ منظر بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا جب اس نے زریر عباس کو قبول کر لیا تھا۔۔۔۔

( قبول ہے ، قبول ہے)

یہ الفاظ اس کے سر میں کسی ہتھوڑے کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔۔ اس کا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔۔۔۔۔” وہ شدید درد میں مبتلا ہو رہی تھی۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوئے۔۔۔۔

گلے میں آنسوؤں کا پھندا اٹک گیا۔۔۔۔۔ وہ یونہی دروازے سے ٹیک لگاتی ہوئی نیچے کی طرف بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔ پہلے صرف آنسو بہے ، پھر آہستہ آہستہ وہ روانی سے رونے لگ گئی تھی۔۔۔۔ اس کی سسکیوں کی آواز پورے کمرے میں پھیل رہی تھی۔۔۔۔

جبکہ باہر اس کے روم کی بالکونی پر کھڑا شخص جو گھر کی بیک سائیڈ سے ہوتے ہوئے چڑھ کر وہاں پر اس کی حالت دیکھنے آیا تھا۔۔۔۔۔ زریر اسے دیکھ کر مسکرایا۔۔۔۔

” واہ بھئی تمھاری ہمت کو تو داد دینی پڑی گی انوشا زریر عباس!! کیا ناٹک کیا تم نے نیچے اور اب کیسے بلک بلک کر رو رہی ہو ؟؟؟ “

انوشا رونے میں اتنی مصروف تھی کہ اسے اس بات کا بالکل بھی علم نہیں تھا کہ زریر اس کی بالکونی پر کھڑا ہے۔۔۔۔ جبکہ اسے ایسے بچوں کی طرح روتے ہوئے دیکھ کر زریر نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ لیکن اسے سکون ملنا چاہئیے تھا جو اسے میسر نہیں آ رہا ہے۔۔۔۔ اسے تو یہ سب دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔۔

وہ وہاں سے نیچے اتر گیا تھا۔۔۔۔ جیسے آیا ویسے ہی وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ اور نیچے گاڑدن میں پہنچتے ہوئے جیب سے سگریٹ نکال کر سگریٹ نوشی کرنے میں مبتلا ہو گیا۔۔۔۔

وہ اندر بیٹھی تو رہی تھی اور یہ شخص باہر کھڑا ہو کر خود کو جلانے میں مصروف تھا۔۔۔۔!!!

ازا کچن سے کچھ کام کر کے آئی تھی جو اسے شہناز بیگم نے سونپے تھے۔۔۔۔۔!! وہ کام کر کے تھک سی گئی تھی جب ہی وہ کمرے میں آ کے دروازے کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔

دروازا اس کے لیے تو بظاہر بند تھا لیکن دروازہ بند نہیں تھا۔۔۔۔۔ وہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا۔۔۔۔۔ جب ہی کایان کمرے کے قریب پہنچتا ہوا کمرے کا دروازہ کھولنے کے لیے اسے دھکا دیتا ہوا اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔

اس نے اتنی زور سے دروازے کو دھکا دیا تھا کہ اس کے پیچھے ازا اپنے توازن برقرار نہیں رکھ پائی تھی۔۔۔۔ اور ایک دم گرنے لگی۔۔۔۔۔ جب ہی کایان کی نظر اس پر پڑی تو اس نے فوراً بڑھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی اور ہاتھ پکڑ بھی لیا مگر نیچے موجود میٹ کی وجہ سے کایان کا خود کا پاؤں ہی سلپ ہو گیا۔۔۔۔۔!!

اور وہ ازا کی طرف گرنے کے انداز میں بڑھا اور ازا کو لیے ہوئے زمین پر گرا۔۔۔۔ وہ اس کے اوپر تھا اور ازا اس کے وجود کے نیچے تھی جس نے آنکھیں بند کی ہوئی تھی۔۔۔۔

ازا نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو کایان کو اپنے اوپر پایا۔۔۔۔۔ وہ اس کی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔ اگر وہ مزید تھوڑا سا اس کے اوپر جھکتا تو ان دونوں کے لب آپس میں مس ہو جاتے۔۔۔۔۔!!!

ازا کا چہرہ سرخ پڑتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔ اس کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔ اس کے سرخ پڑتے ہوئے چہرے اور اس کے بڑھتی ہوئی سانسوں کو محسوس کرتے ہوئے کایان یک دم پیچھے ہوتا ہوا کھڑا ہوا اور کھڑے ہوتے ہی اس نے ازا کا ہاتھ تھامنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔۔!! جس پر ازا نے آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور اس کا سہارا لیتے ہوئے کھڑی ہوئی۔۔۔۔ چہرہ ابھی بھی سرخ تھا اس کا۔۔۔۔!!

” آئم سوری وہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ آپ دروازے کے پیچھے ہیں۔۔۔۔ !! “

ازا نے جیسے ہی اپنا دوپٹہ کیا تو کایان نے اپنا رخ اس کی طرف کرتے ہوئے سوری کہا کہ اسے علم نہیں تھا کہ ازا دروازے کے پیچھے کھڑی ہے!!!

” اٹس اوکے “

وہ صرف اتنا ہی کہہ پائی تھی۔۔۔۔ اس میں مزید بولنے کی ہمت نہیں تھی۔۔۔۔ وہ کہتے ہوئے کمرے سے ایسے بھاگی جیسے کوئی قید سے آزاد ہونے پر۔۔۔۔ ازا کی اس دوڑ کو دیکھتے ہوئے کایان کے لبوں پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔۔۔۔ اسے انھی قریبی لمحوں کی تو خوائش تھی۔۔۔

رہان اس وقت ہال میں بیٹھا ہوا موبائل یوز کرنے میں بیزی تھا جب ہی ربعیہ اس کے پاس آ کر کھڑی ہوئی۔۔۔۔

” وہ مجھے کچھ بات کرنی تھی آپ سے “

ربعیہ اس کے قریب پہنچتی ہوئی کھڑی ہوئی اور آہستگی سے نظریں جھکائے ہوئے کہا۔۔۔۔ اس کی آواز سن کر رہان موبائل کو چھوڑتا ہوا اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔!!

” جی کہیں “

اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوا کھڑا ہوا اور نہایت ہی ادب سے پکارتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔۔ رہان کے لہجے میں ربعیہ نے اپنے لیے وہ عزت محسوس کی تھی جو اس نے ارحم کے لہجے میں کبھی بھی نہیں کی تھی۔۔۔۔۔

” و۔۔۔ہ میں مزید پڑھائی کر۔۔۔نا چاہتی ہوں “

ربعیہ نے کچھ الفاظ صحیح ادا کیے تو کچھ ٹوٹے پھوٹے ہی ادا کر دے تھے۔۔۔۔ اس نے رہان سے کہا تھا کہ وہ آگے پڑھنا چاہتی ہے۔۔۔۔

” بابا نے اجازت دی تھی نا تو آپ کر لیں پڑھائی “

رہان نے اس سے کہا کہ شہزاد ملک اس کے بابا کے ربعیہ کو آگے پڑھنے کی اجازت جب دی ہے تو وہ پڑھیں !!!

” وہ میرا ایڈمیشن”

ربعیہ نے نہایت ہی سست روی کا لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

” اس کی فکر مت کریں آپ وہ ہم کل ہی جا کر کروا آئیں گے۔۔۔۔!!! میں آج فارم لے آؤ گا آپ بس اسے فل کر لیجئے گا۔۔۔۔ یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروا دوں گا میں آپ کا “

وہ مسکرا کر کہتا ہوا اس کی مشکل آسان کرتا ہوا اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔ ربعیہ کا دل میں لڈو پھوٹے تھے پڑھائی کا سن کر “

” سن فاریہ بتا دے کہ تو نے ہی میری سونے کی انگھوٹی کی چدائی ہے نا ؟؟؟ “

فاریہ جس گھر میں رہتی تھی یہ وہاں کی مالکن تھی وہ نیچے والے پورشن میں رہتی تھی۔۔۔۔ ان کی کوئی قیمتی سونے کی انگھوٹی چوری ہو گئی تھی جس کا وہ سیدھا سیدھا الزام” فاریہ ” کو دے رہی تھی کہ اس نے ان کی انگھوٹی چرائی ہے۔۔۔۔۔

” نہیں آنٹی !! میں نے آپ کی انگھوٹی نہیں چرائی “

فاریہ اور اس کی دوست سادیہ جو اس عورت کی بیٹی تھی وہ دونوں اسے یہی سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی فاریہ نے اس کی انگھوٹی نہیں چرائی!!

” امی !! جب فاریہ کہہ رہی کہ اس نے انگھوٹی نہیں چرائی تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے انگھوٹی نہیں چرائی آپ مان لیں یہ بات !! “

سادیہ نے اپنی ماں سے کہا تو انھوں نے غصے سے اپنی بیٹی کو دیکھا جس پر وہ خاموش ہو گئی۔۔۔۔

” سادیہ !! تم نہیں جانتی اس جیسی لڑکیاں بہت تیز اور بہت ہی زیادہ چالاک ہوتی ہیں۔۔۔۔۔!!! مجھے پتہ ہے کہ اس نے ہی میری انگھوٹی چرائی ہے اور اب یہ سارا سچ پولیس کے سامنے کی اگلے گی “

وہ غصے سے اس کا ہاتھ تھامتی ہوئی فاریہ کو صدر دروازے کی طرف لے کر جانے لگی۔۔۔۔ وہ ایک کالونی میں رہتے تھے۔۔۔۔۔!! جو اتنی بڑی نہیں تھی دس سے پندرہ مکان ہی تھے یہاں پر ” حسن آرا ( سادیہ کی امی ) فاریہ کو گھر کے داخلی دروازے سے باہر لائی۔۔۔۔ اس دوران فاریہ نے خود کو چھڑوانے کی لاکھ کوششیں کی مگر بے سود رہی۔۔۔۔

حسن آرا نے فاریہ کو زور سے زمین پر پٹخنا چاہا۔۔۔۔ مگر وہ سامنے کسی مظبوط شخص کی باہوں میں جھولی تھی جس نے اسے گرنے سے بچایا۔۔۔۔ جب فاریہ نے آنکھیں اوپر اٹھاتے ہوئے اس شخص کا چہرہ دیکھا تو اس کے سمیت باقی کالونی والے جو وہاں پر موجود تھے سب حیران رہ گئے۔۔۔۔۔!!! ” کون ہے کہ لڑکا ؟؟ ” حسن آرا نے سوچا۔۔۔۔ اس لڑکے کے چہرے پر غصہ دیکھ کر ایک لمحے کے لیے حسن آرا ڈر گئی تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *