Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 38)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 وہ نیلے رنگ کے گرم سوٹ، کھلے بالوں ، اور لائٹ میک اپ کے ساتھ شیشے کے سامنے کھڑی اپنا عکس اس میں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ کایان کافی لمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر آہستگی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔ اور اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ اس کا عکس اپنے پیچھے شیشے میں دیکھتی ہوئی ازا ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!!!

” کیا بات ہے ؟ آج بہت خوبصورت لگ رہی ہیں۔۔۔۔”

کایان اس کے قریب پہنچتا شیشے میں اپنا اور اس کا عکس دیکھتا ہوا مسکرا اس سے شوخ لہجے میں کہنے لگا تو وہ ہلکا سا مسکرائی!!!

” آپ نے ہی تو کہا تھا کہ آپ کو پرانی والی ازا واپس چاہئیے۔۔۔۔!!! ہاں !! اگر آپ کہتے ہیں تو میں کپڑے تبدیل کر لیتی ہوں کوئی مسئلہ نہیں ہے “

اس کی بات سن کر ازا جو اس کی طرف پشت کر کے کھڑی تھی اس کی طرف مڑی اور ہیزل نگاہوں سے اس کی کالے رنگ کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔! اور آہستگی سے کہا تو کایان نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔

” بالکل بھی نہیں۔۔۔۔!!! میں نے کب کہا کہ مجھے کوئی بھی مسئلہ ہے ؟ بلکہ مجھے تو اچھا لگ رہا کہ آپ یوں تیار ہیں۔۔۔ میں شروع سے ہی یہ چاہتا تھا کہ آپ ہمیشہ یونہی تیار رہا کریں،، خوش رہا کریں۔۔۔!!

اور اب سے آپ روز تیار ہوا کریں گی!!! میرے لیے “

وہ اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا اسے اپنے قریب کرتا ہوا پیار بھرے لہجے میں کہنے لگا تھا !!! کہ وہ یہی چاہتا ہے کہ ازا ہمیشہ یونہی سج سنور کر ہمیشہ کے لیے خوش رہے!!! اور وہ روز اس کے لیے یونہی تیار ہو۔۔ یہ کہتا ہوا وہ پیار سے اس کے ماتھے پر جھکتا ہوا اسے چوم گیا تھا۔۔۔ ازا ہلکا سا مسکرائی۔۔۔!!

” صرف دس منٹ !! دس منٹ میں کپڑے چینج کر کے آتا ہوں اس کے بعد ہم گھومنے چلیں گے “

آپ ی گرفت سے اسے آزاد کرتے ہوئے کایان نے مسکرا کر کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی! آج ازا کو کایان کے چہرے پر وہ خوشی دیکھائی دی تھی جو آج دو مہینے پہلے ہمیشہ اس کے چہرے پر ہوتی تھی۔۔۔

اس کی چاہت، اس کی محبت کو دیکھ کر ازا نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا تھا کہ اسے اللہ نے کایان جیسے خوبصورت تحفے سے نوازا تھا۔۔ آج اس کے ماں باپ اس کے ساتھ نہیں تھے۔ لیکن پھر بھی وہ اکیلی نہیں تھی کیونکہ کایان اس کے ساتھ تھا۔۔ ماں باپ ایک مرتبہ سے اس کی آنکھیں بھر لائی تھی۔۔۔

ٹھیک دس منٹ کے بعد وہ کپڑے تبدیل کرتا ہوا واش روم سے نکلا اور اسے لیے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔ ازا بھی نیم مسکراہٹ لیے ہوئے اس کے ساتھ چل دی۔۔۔

” ماشاءاللہ بہت پیارے لگتے ہو تم دونوں ایک ساتھ اللہ کرے تم دونوں ہمیشہ اسی طرح خوش رہو آمین “

وہ دونوں نیچے ہال میں پہنچے تو شہناز بیگم نے انھیں ایک ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تو مسکرا کر انھیں دعا دی۔۔۔

” آمین!!! اچھا تائی جان ہم ہو سکتا ہے کہ رات کو لیٹ ہو جائیں تو کھانے پر ہمارا انتظار نا کیجیے گا۔۔۔۔ “

کایان نے مسکرا کر کہا۔۔۔

” ٹھیک ہے خوب مزے کرنا “

شہناز بیگم نے مسکرا کر کہا تو وہ دونوں مسکراتے ہوئے حویلی سے باہر کی طرف بڑھے اور گاڑی میں بیٹھتے ہوئے حویلی سے کہیں دور زندگی کے مزے لینے کے لیے نکل گئے تھے۔۔۔

” یہ سب کیا ہے ؟ “

ربعیہ لیکچرز سے فری ہو کر سیدھا رہان کی گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔!! جہاں پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ ربعیہ نے اس سے اس کی حرکت کہ متعلق پوچھا تھا جو وہ اس کی یونیورسٹی میں پروفیسر لگ گیا تھا۔۔۔ اس کا سوال سنتا ہوا رہان ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔

” کیا تھا مطلب ؟ میں نے آپ سے کہا تھا کہ میں آپ کو ایک سرپرائز دوں گا۔۔۔ اور یہ سرپرائز وہی تھا۔۔۔۔ “

ربعیہ کی بات سنتا ہوا رہان مسکرا کر اسے بتانے لگا تھا کہ اس نے پہلے ہی اسے بتا ہی چکا تھا کہ وہ اسے ایک سرپرائز دینے والا اور وہ سرپرائز یہی تھا۔۔۔۔!! کہ وہ اس کی یونیورسٹی میں پروفیسر لگے گا۔۔۔

” یہ سرپرائز نہیں ہے جھٹکا ہے۔۔۔۔!!! اور آپ مجھے بتانا پسند کریں گے کہ آپ نے یہ سب کیوں کیا ہے ؟ “

ربعیہ نے منھ بناتے ہوئے اسے بتایا تھا کہ یہ اس کے لیے سرپرائز نہیں ہے بلکہ یہ اس کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہے۔۔۔ اس کے بعد وہ اس سے سوال کرنے لگی کہ یہ سب کچھ اس نے کیوں کیا ؟

” اپنی بیوی کے قریب رہنے کے لیے !!! “

اس کے کہے ہوئے لفظ کچھ دیر کے لیے ربعیہ کو چپ کروا گئے تھے۔۔۔!!! ربعیہ نے اسے گھور کر دیکھا!!

” میں آپ کے قریب ہی ہوتی ہوں۔۔۔۔ اور مجھے بالکل بھی یہ اچھا نہیں لگا کہ آپ نے یونیورسٹی میں جاب کرنی شروع کی ہے !!! “

اس نے معصوم منھ بناتے ہوئے کہا تو رہان نے نگاہیں چھوٹی کر کے، ماتھے پر بل لیے ہوئے اسے دیکھا۔۔

” کیوں ؟ “

رہان نے اس سے سوال کیا !!!

” کیونکہ یونیورسٹی میں میرے علاؤہ اور بھی بہت ساری لڑکیاں ہوتی ہیں۔۔۔۔!!! اور آپ کو پتہ ہے آج جب آپ لیکچر کے بعد گئے تو کافی لڑکیاں آپ کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کر رہی تھی۔۔۔ اور مجھے وہ بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔۔”

ربعیہ نے معصوم سی شکل بناتے ہوئے اسے بتایا کہ جب وہ لیکچر دے کر کلاس سے چلا گیا تو اس کے بعد لڑکیاں اس کے متعلق باتیں کرنے لگی تھی۔۔۔۔!!! جو اسے بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ اس کی باتیں سنتا رہان کا ایک زور دار قہقہہ لگا!!! ربعیہ نے اسے غصے سے دیکھا!!

” کیا کرے اب ؟ میں ہینڈسم ہی بہت ہوں۔۔ اچھا بتائیں تو سہی کیا کہہ رہی تھی ؟ وہ لڑکیاں ؟ “

رہان نے فخر سے اسے بتایا کہ وہ ہینڈسم ہی بہت ہے۔۔ جس پر ربعیہ نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔ جو اپنی تعریف کرنے میں مصروف تھا۔۔۔ اس نے بعد رہان نے اس سے سوال کیا کہ کیا کہہ رہی تھی وہ لڑکیاں جو اسے اتنا برا لگ رہا ہے۔۔۔۔!!

” وہ لڑکیاں کہہ رہی تھی کہ آپ بہت ہینڈسم ہیں۔۔۔! بہت پیارے ہیں۔۔۔ کاش آپ ان کے لائف پارٹنر ہوتے۔۔۔ اور وغیرہ وغیرہ “

وہ اسے کچھ لمحات کے بعد ایک مرتبہ پھر سے معصومیت بھرے لہجے میں اسے بتانے لگی تھی کہ وہ لڑکیاں اسے ہینڈسم ، خوبصورت ، اور اپنا لائف پارٹنر ہونے کی حسرتیں رکھ رہی تھی! آگے اس سے بولا نا گیا تو وہ بات کو ایک جگہ ختم کر گئی۔۔۔

” اچھا بتائیں ان میں سے کوئی بات بھی انھوں نے غلط کہی تھی ؟؟ “

رہان نے اسے مزید جلاتے ہوئے کہا تو ربعیہ نے غصے سے اسے دیکھا !!!!

” جو بھی ہو مجھے بالکل بھی نہیں پسند کی کوئی بھی میرے شوہر پر نظر رکھے۔۔۔ یا کوئی اور لڑکی اس کے متعلق بات بھی کرے مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہے!!! “

ربعیہ نے اس کے لیے پوزیسیسو ہوتے ہوئے کہا تو رہان کو جیسے سکون ملا۔۔۔ وہ یہی چاہتا تھا کہ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے دل میں چھپے ہوئے اس کے لیے پیار کو ظاہر کرے!!!

” بیگم صاحبہ آپ بہت غصے میں ہیں۔۔۔ آپ کو کچھ ٹھنڈا ٹھنڈا کھلا کر ٹھنڈا کرنا پڑے گا “

رہان گاڑی سٹارٹ کرتا ہوا مسکرا کر بولا!!! ربعیہ نے ناک پر ابھی بھی غصہ جما ہوا تھا۔۔۔۔ جو اس کے دل میں موجود رہان کی محبت کی وجہ سے تھا۔۔۔ رہان پل بہ پل اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔

” اچھا ویسے میں ایک بات بتاؤ آپ کو۔۔۔!!! جیسے آپ مجھے کلاس میں گھور گھور کر قہر برساتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی مجھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی میری جان نکال لیں گی آپ۔۔۔!! “

اس نے گاڑی کو ایک جگہ روکی اور مسکرا کر ربعیہ کو دیکھتے ہوئے اسے شوخ لہجے میں کہا کہ جیسے وہ کلاس میں اسے دیکھ رہی تھی اسے بہت خوف آ رہا تھا کہ جیسے وہ کہیں کھا ہی نہیں جائے۔۔ ربعیہ نے اسے دیکھا تو رہان نے آنکھ ونک کی۔۔۔ ربعیہ نظریں گھماتے ہوئے گاڑی سے اتر گئی۔۔۔۔ وہ بھی مسکراتے ہوئے اترا تھا!!!

” کیا کھانا ہے آپ کو ؟ “

وہ گاؤں سے شہر پہنچ چکے تھے۔۔۔۔!! کایان نے مسکراتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا وہ کیا کھانا چاہتی ہے ؟

” آئسکریم”

ازا کی طرف سے جھٹ سے جواب دیا گیا تھا۔۔۔

” ٹھیک ہے “

کایان کی بات سنتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔۔ کایان جانتا تھا کہ اسے آئسکریم بہت پسند تھی۔۔۔ وہ اسے ڈنر کروانا چاہتا تھا اس لیے منع بھی کر سکتا تھا۔۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اسے منع کر دیتا تو ازا کو برا لگتا!!!

اتنے دنوں بعد وہ خوش ہوئی تھی۔۔۔۔ اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے برا لگے۔۔۔! اس کا دل دکھے۔۔۔

وہ دونوں کچھ دیر پارک میں گھومنے کے بعد ریسٹورنٹ چکے گئے تھے۔۔۔۔!! اور کھانا کھانے کے بعد وہ دونوں رات کو لیٹ نائٹ حویلی واپس گئے تھے۔۔۔!

خوبصورت اسٹیج کے ارد گرد لگے ہوئے پھولوں کے درمیان وہ بیٹھی ہوئی اپنے محبوب کے نام کی مہندی لگوا رہی تھی۔۔۔۔ وہ ستم پرست سامنے کھڑا ہوا معنی خیز مسکراہٹ لیے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ انوشا کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی۔۔۔

وہ مہندی کے فنکشن کے لیے حاص تیار کیے گئے جوڑے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔!!! اور وہ سامنے سفید رنگ کے کرتے میں ملبوس کھڑا تھا۔۔۔۔

سارے مہمان سمیت انوشا کی ساری دوست بھی جمع کو چکی تھی۔۔۔۔ خوب رونق لگ چکی تھی۔۔۔ زریر کے دوستوں نے بھی ایک بہت اچھی سی پرفارمینس دی تھی۔۔۔۔

ان کے دادا جان بھی بہت لطف اٹھا رہے تھے اس سب سے۔۔۔۔ انھیں بہت خوشی ہو رہی تھی،،، کیونکہ ان کی خوائش پوری ہو رہی تھی۔۔۔۔!!!!!

مہندی پوری ہونے کے بعد انوشا بھی سامنے دی جانے والی تمام پرفارمینسز سے لطف اٹھا رہی تھی۔۔۔ جب ہی انوشا کے پاس اس کی دوست آ رکی تھی۔۔۔

” انوشا نشا تمھیں بلا رہی ہے اسے کچھ ضروری بات کرنی ہے تم سے۔۔۔!!! تم پلیز پانچ منٹ کے لیے اوپر اپنے روم میں چلی جاؤ “

انوشا کی ہی ایک دوست شیزا جو لندن سے اس کی شادی اٹینڈ کرنے کے لیے آئی تھی۔۔۔ اس نے انوشا کے پاس آتے ہوئے اسے بتایا تھا کہ اس کی ہی دوست نشا اس سے کچھ بات کرنا چاہتی ہے۔۔۔ تو وہ اپنے کمرے میں جا کر اس کی بات سن لے۔۔۔” خوب میوزک کی آواز میں اس لڑکی نے بہت اونچا بولا تھا۔۔۔۔

” کیا بات کرنی ہے اسے ؟ “

انوشا نے تیز میوزک میں با مشکل ہی اس کی بات سنی اور اس سے سوال کیا کہ نشا اس سے کیا بات کرنا چاہتی ہے ؟؟؟

” مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا بات کرنا چاہتی ہے تم سے !! لیکن تم پلیز اس کی بات سن لو جا کر اوپر کمرے میں!!! “

نشا نے اسے کھڑا کرتے ہوئے اس کے کانوں میں بڑی ہی اونچی آواز میں کہا۔۔۔ کیونکہ اگر وہ آواز نیچی کر کے کچھ بھی کہتی تو اسے کچھ بھی سمجھ نا آتا کیونکہ میوزک پرفارمینسز کی وجہ سے بہت رونق لگی ہوئی تھی اور اس میں عام آواز میں بات کرنا بالکل بھی ممکن نہیں تھا۔۔۔۔!!!

” نشا “

وہ اوپر کمرے میں پہنچی تو ہر جگہ ہی اندھیرا پایا۔۔۔!!! اس نے نشا کو آواز دی کیونکہ شیزا نے اسے یہی بتایا تھا نشا اس کا انتظار اس کے کمرے میں کر رہی ہے۔۔۔!!

اس نے دو سے تین مرتبہ نشا کو آواز دی لیکن پھر جب اسے کوئی بھی جواب نا ملا۔۔۔۔ تو وہ کمرے سے باہر کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔

لیکن اسی وقت کسی نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کی پشت کو دیوار سے لگاتے ہوئے اس کے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔!!!

اس عمل سے انوشا کی چیخ بلند ہونے والی تھی!!! لیکن اس شخص نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔۔۔ وہ ” زریر عباس ” ہی تھا۔۔۔

” بس یہی تمھاری خوبصورت آنکھیں دیکھنی تھی مجھے۔۔۔۔!!! “

زریر نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھے ہوئے لائٹ آن کی تھی!!! اور پھر اس کی ہیزل نگاہوں میں دیکھتے ہوئے خمار بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ تو انوشا کی آنکھوں میں غصہ اترا۔۔۔ اس نے زریر کو پیچھے کی طرف دھکا دیا!!!

” ارے واہ بیگم !!! تم تو بہت زیادہ طاقت ور ہو گئی ہو۔۔۔۔ کیا کھا رہی ہو آج کل ؟؟ “

انوشا کے ایک مرتبہ دھکا دینے سے ہی وہ پیچھے کی طرف دھکیلا گیا تھا۔۔۔۔!! زریر نے اسے حیرانگی سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

” کیا حرکت تھی یہ ؟؟؟ “

وہ تو جیسے اس پر برس ہی پڑی ہو۔۔۔

” میں تو بس تمھیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ اپنی خوبصورت بیوی کو، اس کے ہاتھوں پر لگی میرے نام کی مہندی کو “

زریر نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے اپنے اور اس کے درمیان دو قدم کا فاصلہ چھوڑتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ اسے، اس کے ہاتھوں پر لگی ہوئی اپنے نام کی مہندی کو دیکھنا چاہتا ہے!!

” دادا جان نے منع کیا ہے کہ ہم شادی سے پہلے نہیں مل سکتے ہیں۔۔۔۔!!! “

انوشا نے معصوم منھ بناتے ہوئے کہا!!!

” اچھا جی !! تو اب ہم سے دور رہنے کا دل کر رہا ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں گن کر چوبیس گھٹنے بھی نہیں ہیں!! پھر تم میری پناہوں میں ہی ہو گی۔۔۔ پھر میں بھی دیکھو گا کہ کیسے دور جاتی ہوں تم مجھ سے !!!!”

زریر نے نیم مسکراہٹ سے کہتے ہوئے اس کے چہرے کا رنگ سرخ کر دیا تھا۔۔۔

” چلو بھئی دلہے راجا ملاقات کا وقت ہوا ختم “

اس سے پہلے کہ انوشا اسے کچھ بھی کہتی شیزا نے اینٹری مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” سچ میں پیار کی دشمن کو تم!!! “

زریر منھ بنا کر کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا جبکہ شیزا نے اسے حیرانگی سے دیکھا کہ ایک تو اس نے انوشا کے ساتھ اس کی ملاقات کرائی پھر بھی اس کے نخرے نہیں ختم ہو رہے تھے!

” تمھیں تو میں بتاتی ہوں “

انوشا غصے سے کہتی ہوئی شیزا کی طرف بڑھی جبکہ وہ کمرے سے باہر نکل چکی تھی۔۔۔۔ یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان کے چہروں پر مسکراہٹ کا باعث بنتی تھی۔۔۔ اس کے بعد مہندی کی رسومات شروع کی گئی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *