Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 34)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

وہ تقریبا گھنٹے کا سفر طے کرتے ہوئے دوسرے گاؤں عباس چوہدری کے گھر پہنچے تھے!!! وہاں ویرانی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔!!!

ایسا لگتا تھا کہ جیسے خاموشی نے کب سے بسیرہ کر رکھا ہو یہاں پر۔۔۔۔!!! وہ گاڑی سے گھبراتے ہوئے اتری تھی اب اس کے دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئی تھی۔۔۔!!!

وہ گھر کی بیل کی طرف بڑھی تو سانس سوکھ سی گئی۔۔۔۔!!! بیل پر خون کے نشانات تھے۔۔۔۔! اس کے چہرے پر پریشانی چھا گئی تھی۔۔۔۔!!!!

کایان کو بھی یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی تھی۔۔۔۔!!! انھیں دروازہ کھلا ہوا ملا تھا!!! ازا بھاگتے ہوئے اندر کی طرف بڑھی کایان اس کے پیچھے تھا۔۔۔۔!!!

” ماما۔۔۔۔!!! بابا۔۔۔!!! بھائی۔۔۔۔!!”

اسے گھر میں کسی کی بھی آہٹ سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔! جیسے گھر پر کوئی ہو ہی نا۔۔۔۔ خاموشیاں چھائی ہوئی تھی وہاں پر!!! وہ اندر کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔

جب ہی ازا کی نظر ایک کمرے سے بہتے ہوئے خون کی طرف گئی۔۔۔۔۔ اسے دیکھ اس کا دل پریشانی میں مبتلا ہو گیا تھا!!

” کایان !!! “

اس نے تڑپ کر اسے پکارہ تھا۔۔۔ وہ جو اس کے پیچھے ہی آ رہا تھا۔۔۔۔! اس کی آواز سنتا ہوا وہ اس کی طرف بھاگا تھا!!!!

” کیا ہوا ازا؟؟ “

وہ اس کے پاس آیا اور اس کی طرف دیکھا ازا میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ کچھ کہے،بولے اس نے اشارتاً ہی اس کا دھیان اس خون کی طرف کروایا تو وہ بھی حیران رہ گیا!!

ازا ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے اس طرف بڑھی۔۔۔۔

” بابا۔۔۔۔!!! ماما۔۔۔۔!!! “

سامنے ماں باپ کو زمین پر لہو لہان، خون سے لت پت دیکھ وہ زور سے چلائی تھی۔۔۔!!! اس کی چیخ سنتا ہوا کایان فوراً وہاں آیا۔۔۔ عباس چوہدری اور نرمین چوہدری کو یوں دیکھ وہ سختی سے آنکھیں میچ گیا تھا۔۔۔۔

” بابا۔۔۔۔!!! “

وہ آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے ہوئے ایک مرتبہ پھر سے چلاتی ہوئی اپنے بابا کی طرف بڑھی جو زمین پر آنکھیں موندے لیٹے ہوئے تھے۔۔۔۔

” بابا !!! آنکھیں کھولیں نا پلیز بابا آنکھیں کھولیں!!! بابا مزاق مت کریں میرے ساتھ !!! آنکھیں کھولیں!! بابا۔۔۔۔!!! “

وہ عباس چوہدری کے گال تھپتھپاتے ہوئے انھیں پکار رہی تھی کہ وہ آنکھیں کھولے،، اس کا دل یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔ کہ یہ اس کے بابا ہیں۔۔۔۔

وہ چیخ رہی تھی چلا رہی تھی اور کایان چاہ کر بھی اس کے آنسو صاف نہیں کر پا رہا تھا بلکہ اس کی آنکھوں سے خود آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔

” مما !!! “

وہ اچانک سے عباس چوہدری سے نظریں ہٹاتی ہوئی نرمین چوہدری کی طرف بڑھی تھی !!!! اور انھیں پکارہ تھا!!!

” مما۔۔۔۔!! ماما۔۔۔۔ آنکھیں کھولیں ماں آنکھیں کھولیں بس ایک مرتبہ بس ایک مرتبہ مجھ سے بات کریں بس ایک مرتبہ پلیز ماں “

آنسوؤں کا پھندا اس کے گلے میں اٹکا۔۔۔۔ اس کے لیے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔۔!!! سانسیں پھولنے لگی تھی اس کی!!! پھر وہ روانگی سے اس سے بول رہی تھی کہ بس ایک مرتبہ صرف اور صرف ایک مرتبہ وہ اپنی آنکھیں کھولیں اسے دیکھ لیں اس سے بات کر لیں۔۔۔۔

لیکن وہ آنکھیں کیسے کھولتے ؟؟ وہ اب دنیا میں تھوڑی رہے تھے۔۔۔۔!!! وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔۔۔۔ کایان نے اس کی بگڑتی ہوئی حالت کو دیکھتے ہوئے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے ہمت دی تھی!!!

جبکہ وہ خود کافی دیر تک صدمے میں رہا تھا یہ سب دیکھ کر۔۔۔۔!!

” ماں!! بابا!!! “

وہ اس کے سینے سے لگی ہچکونے لے کر رو رہی تھی۔۔۔۔!!! ازا کی سمجھ سے باہر تھی یہ بات کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے ؟ جبکہ کایان خود اس سوچ میں مبتلا تھا کہ کون کر سکتا تھا ایسا۔۔۔۔؟؟ ازا کبھی ماں کے پاس جاتی تو کبھی باپ کی لاش گرد چکر کاٹتی۔۔۔۔!!! کایان کا دل اسے دیکھ کر بہت دکھی ہو رہا تھا۔۔۔۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ جس کسی نے بھی یہ سب کچھ کیا ہے وہ صرف ایک مرتبہ اس کے سامنے آ جائے وہ اس کی جان لے لے گا۔۔۔۔!!

وقاص چوہدری ( ازا کا بھائی ) بھی اب یونیورسٹی سے گھر لوٹ آیا تھا!!! گھر پہنچ کر اسے بہت بڑا صدمہ لگا تھا۔۔۔۔!!! یہ خبر اس پر بجلی کی طرح گری تھی۔۔۔۔ صبح تک وہ اپنے ماں باپ کو تندرست گھر چھوڑ کر گیا تھا اور جب واپس آیا تو یہ خبر سننے کو ملی۔۔۔۔ کایان کبھی اسے دلاسہ دے رہا تھا!!! تو کبھی ازا کو دلاسہ دے رہا تھا۔۔۔۔ اس نے یہ خبر حویلی بھی فون کر کے بتا دی تھی۔۔۔۔

پولیس آفیسرز بھی وہاں پہنچ چکے تھے!!! کیونکہ یہ ایک مرڈر کیس تھا۔۔۔۔!!! وہ اپنی انکوائری کرنے کے لیے آئے تھے تا کہ جلد ازا جلد پتہ لگوا سکیں کہ یہ گھٹیا حرکت کس کی ہے۔۔۔۔

” آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا آپ کے والد صاحب کی کسی کے ساتھ دشمنی تو نہیں تھی ؟؟؟ “

پولیس آفیسر نے ازا اور اس کے بھائی وقاص چوہدری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے ان سے سوال کیا تھا۔۔۔

” نہیں!!! بابا کی کسی کے ساتھ بھی کسی بھی قسم کی کوئی بھی دشمنی نہیں تھی۔۔۔ “

وقاص جس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔!!! اس نے آہستگی سے اس پولیس اہلکار کو بتایا کہ اس کے ابو کی کسی کے ساتھ کوئی کوئی دشمنی نہیں۔۔۔

” ٹھیک ہے!!! ہم اپنی انکوائری کر لی ہے۔۔! جس سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ جس نے بھی یہ سب کیا ہے اس نے بہت ہی صفائی سے یہ کام کیا ہے کوئی شواہد، کوئی ثبوت نہیں چھوڑا اس نے گولی چلا ان دونوں کا ق*تل کہا ہے اور بہت ہم جلد اس کا قا*تل کو ڈھونڈ نکالیں گے۔۔۔!!! آپ لوگ حوصلہ رکھیں۔۔۔!!! “

اس پولیس اہلکار نے انھیں حوصلہ رکھنے کے لیے کہا کایان نے افسردگی سے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔

” جلد از جلد وہ قا*تل پکڑا جانا چاہئیے !!! “

کایان نے افسردہ لہجے میں سرد مہری لیے ہوئے کہا تو وہ پولیس اہلکار سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔

لیکن وہ لوگ حوصلہ کیسے رکھتے ؟ کیسے کرتے صبر یہ ان کے لیے کوئی عام بات تو نہیں تھی!!! ان کے ماں باپ کا ق*تل ہوا تھا۔۔۔ وہ دونوں بہن بھائی کیسے حوصلہ کر سکتے تھے !!!!

” ازا !!! بیٹا حوصلہ رکھو۔۔۔۔!!!! اللہ کا حکم تھا بیٹا۔۔۔ “

شہناز بیگم اپنے بیٹے ارحم کے ساتھ ازا کے گھر آئی تھی۔۔۔۔!!! وہ دونوں اندر پہنچے تو ازا کو رونے میں مصروف پایا۔۔۔۔ ازا انھیں دیکھتے ہی ان سے لپک گئی تھی۔۔۔۔!!!

شہناز بیگم نے اسے ہمت و حوصلہ دیتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا!!!

” آنٹی !! مجھے تو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ یہ سب ایسے اچانک کیسے ہو گیا ؟؟ میرے بابا کی تو کسی سے بھی کوئی دشمنی بھی نہیں تھی۔۔۔۔!! نا جانے کس نے کیا ہے یہ !!! “

ازا نے شہناز بیگم کے ساتھ ہی لپکے ہوئے روتے ہوئے کہا تو وہ اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔

گاؤں کے لوگ بھی یہ سن کر بہت اداس ہوئے تھے۔۔۔ انھوں نے غم کا اظہار کیا تھا۔۔۔۔!!! گاؤں کی عورتیں گھر میں جمع ہوچکی تھی۔۔۔!!

کوئی کہہ سکتا تھا کیا جس گھر میں کل رونق تھی۔۔۔۔ چہک و پکار سے عیاں تھا گھر !!! آج اسی گھر میں دو میتیں پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ آج اسی گھر میں سوگ منایا جا رہا تھا۔۔۔۔ اسی گھر میں ماتم منایا جا رہا تھا۔۔۔۔!!!!

” اللہ تمھیں صبر عطا کرے !!!! “

شہناز بیگم نے ازا کو تسلی دیتے ہوئے کہا تھا!!! جب ہی ان کے گھر کا ایک ملازم وہاں پر آیا۔۔۔۔!!

” صاحب !! میں جانتا ہوں کہ یہ کس نے کیا ہے ؟ “

اس ملازم کے الفاظ وہاں پر موجود ہر شخص کو حیرانگی میں مبتلا کر گئے تھے۔۔۔۔!!! سب نے اسے حیرانگی سے دیکھا!!!

” کس نے کیا ہے یہ ؟ بشارت انکل!! “

وقاص کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔۔!!!! وہ ملازم وہاں پر کئی سالوں سے کام کر رہا تھا جب ازا پیدا ہوئی تھی اس سے بھی پہلے کا!!!

اس لیے وقاص، ازا انھیں ادب دیتے ہوئے انکل کہہ کر پکارتے تھے !!

” صاحب!!! میں نے عباس صاحب کا نمک کھایا ہے۔۔۔۔ اور میں نمک حرام نہیں ہوں جو یہ بات چھپا لیتا۔۔۔!!

جس وقت وہ شخص گھر میں آیا تو میں نے عباس صاحب اور نرمین بی بی کی آواز سنائی دی۔۔۔۔!!! میں جب تک وہاں پہنچا تو وہ بے رحم نرمین بی بی پر گولی چلا چکا تھا۔۔۔۔!!!

اس سے پہلے کہ وہ عباس صاحب پر گولی چلاتا میں نے چھپ کر اس کی ویڈیو بنا لی تھی۔۔۔۔ اگر میں اس کے سامنے جاتا تو شائید وہ مجھے بھی مار دیتا!!!!

وہ جیسے ہی باہر نکلا تو میں اس کے پیچھے چلا گیا لیکن یہ سب بے سود رہا کیونکہ وہ فرار ہو چکا تھا اور جب صاحب اور بیگم صاحبہ کے پاس واپس لوٹا تو وہ دونوں اس فانی دنیا سے رخصت ہو چکے تھے!!! مجھے معاف کر دیں میں انھیں بچا نہیں پایا”

بشارت نے انھیں ایک ایک کر کے تفصیل کے ساتھ ساری بات بتائی تھی جسے سنتے وہ سب مزید دکھی جوتے چلے گئے تھے!!! جبکہ ان میں سے کوئی گھبرا رہا تھا۔۔۔۔

” بشارت چچا کیا اس ویڈیو میں اس شخص کا چہرہ دکھ رہا ہے ؟؟ “

ازا کو ان کی بات سن کر کچھ امید ملی تھی کہ وہ اپنے ماں باپ کو انصاف دلوا پائے گی۔۔۔!!!

اس نے آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے ان سے پوچھا تھا!!

” جی ازا بیٹا۔۔۔۔!! ہے اس کا چہرہ اور وہ شخص یہی ہے “

بشارت کی بات پر سب چونک اٹھے تھے۔۔۔۔۔!!! انھیں سمجھ نا آئی کہ یہاں تو سب ان کے اپنے گھر والوں میں سے ہیں۔۔۔۔۔!!! تو پھر کون ہو سکتا ہے ؟؟

بشارت نے انھیں ویڈیو دیکھائی جس میں صاف پتہ لگ رہا تھا کہ یہ دونوں ق*تل ” ارحم ملک ” نے کیے تھے۔۔۔۔!!!

پہلے تو سب اس کی بے رحمی پر چونک اٹھے جس بے رحمی سے اس نے عباس چوہدری اور نرمین چوہدری پر گولیاں چلائیں تھی سب نے آنکھیں میچ لی تھی۔۔۔۔ ازا تڑپ اٹھی تھی یہ سب دیکھ کر !!!

” ارحم تم نے عباس چوہدری اور ان کی بیوی کو کیوں مارا ؟ “

کایان کو جیسے یقین نہیں آیا تھا کہ اس کا اپنی بھائی ایسی گری ہوئی حرکت کر سکتا ہے ؟

” بولو نا چپ کیوں ہو ؟ کیوں مارا تم نے میرے ماں باپ کو !!! “

ارحم غصے سے مٹھیاں بھینج گیا تھا کہ بشارت اس کی نظر سے کیسے بچ گیا ؟ وقاص نے کسی کو فون ملایا!!!

جب کچھ دیر ارحم منھ میں گھنگرایاں ڈالے خاموش کھڑا رہا۔۔۔۔ تو ازا نے غصے سے اس کی طرف بڑھی، اسے پیچھے کی طرف دھکیل کر وہ اس پر غرائی تھی!!!

” ہاں کیا ہے میں نے تمھارے ماں باپ کا قتل !!! “

خود کو ایک دم دھکیلے جانے پر وہ طیش میں آتا ہوا اپنا سچ خود ہی اپنے منھ سے بول گیا تھا !!!

” جانتی ہو کیوں تمھاری وجہ سے۔۔۔۔!!! تمھاری خوشیاں ہیں تمھارے ماں باپ کی قا*تل۔۔۔۔ حویلی میں تم ایک ونی میں آئی ہوئی لڑکی تھی۔۔۔۔!!!!

اور تم حویلی میں بہو بن کر رہ گئی تھی!! میرے بھائی کے ق*تل کے عوض آئی تھی تم !!! مجھ سے یہ بالکل بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میری امی بھی تمھارا ساتھ دے رہی تھی میں کیسے برداشت کرتا یہ اس لیے میں نے ایک ترغیب سوچی کہ میں تمھارے ماں باپ کو مار دو!!! تا کہ تم تکلیف میں آ جاؤ اور دیکھو اب تم تکلیف میں ہو!!!

پر تم بہت لکی ہو کہ تم یہ راز جان گئی کہ انھیں میں نے مارا ہے۔۔۔۔ ہاں !! میں نے ہی وہ گولیاں چلائیں تھی سنا تم نے “

چونکہ ارحم کا بھید پہلے ہی سب کے سامنے کھل چکا تھا۔۔۔۔!! تو وہ اب لاکھ مرتبہ بھی چھپا لیتا لیکن اب یہ بات چھپائی نہیں جا سکتی تھی۔۔۔۔!!!

اسی وجہ سے وہ اپنا سارا سچ خود ہی بول گیا تھا!!!

” یو نو واٹ یہ دونوں فضول میں مارے گئے !!! میرے بھائی کو تو تمھارے اس بھائی نے مارا تھا میں اسے بھی مار دیتا ہوں !!! “

ارحم غصے سے کہتا ہوا آگے بڑھا تھا!!! جب ہی ازا نے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا۔۔۔۔

” چٹاخ !!! “

ارحم کے چہرے پر زوردار پڑنے والا ازا کی طرف سے تھپڑ وہاں کھڑے ہر شخص کو حیران کر گیا تھا!!! وہ لوگ ابھی اس ٹروما میں ہی تھے کہ یہ سب کچھ ارحم نے کیا تھا۔۔۔۔!!

” چٹاخ “

ارحم غصے سے ازا کی طرف بڑھنے لگا تھا ہی کہ شہناز بیگم نے آگے بڑھتے ہوئے اس کے چہرے پر تھپڑ رسید کیا تھا !!!

” مجھے شرم آ رہی ہے کہ میں نے تجھ جیسے نا سور کو جنم دیا !!! ارے تمھیں تو پیدا ہوتے ہی مار دینا چاہئیے!!!!

مجھے گن آ رہی ہے تمھیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے!!! آج تم نے میرا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔۔۔!!

پتہ ہے تمھیں یہ سب شے کیسے ملی ہے ؟؟ یہ سب کچھ میرے بے جا لاڈ پیار کا ہی نتیجہ ہے۔۔۔۔!! اگر میں نے تمھیں سر پر نہیں چڑھایا نا ہوتا تو کبھی بھی یہ دن نا آتا۔۔۔

ارے تمھیں زرا بھی خیال نہیں آیا ؟ میری تربیت تو ایسی نہیں تھی!!! میں نے تمھیں کبھی بھی کسی کے ساتھ غلط کرنا نہیں سیکھایا تھا۔۔۔۔!!!!!! تو پھر تم نے یہ کیوں کیا ؟ “

اپنی ماں کی باتیں سنتا ہوا وہ شرمسار ہو گیا تھا۔۔۔ شہناز بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔۔۔

جب ہی وہاں پر پولیس آفیسرز پہنچے جنھیں وقاص نے فون کر کے بلایا تھا!!!

” انسپکٹر صاحب !! گرفتار کر لیجئے اسے ! اس نے ہمارے ماں باپ کا ق*تل کیا تھا۔۔۔!! “

وقاص نے ارحم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،،، بشارت نے انھیں وہ ویڈیو بطور ثبوت دیکھایا تھا!!! پولیس آفیسر کے کہنے پر ارحم کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔۔۔۔

لیکن ان کے ماں باپ تو اس دنیا سے چلے گئے تھے!!! پولیس انھیں کے گئی تھی۔۔۔ شہناز بیگم نے بے بسی سے اپنے اس بے حیا بیٹے کی طرف دیکھا تھا!!

اسے پولیس لے کر جا چکی تھی!!! اب اس کی سزا عمر قید یا پھانسی کی تھی۔۔۔۔!!!

ازا فوراً زمین پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔!! ماں باپ کو یاد کرتے ہوئے وہ زور سے روئی تھی جب ہی کایان نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔

شہناز بیگم نے اسے حسرت و لا چارگی سے دیکھا وہ کس منھ سے دلاسا دیتی اسے ؟ لیکن عباس چوہدری اور نرمین چوہدری کو انصاف مل گیا تھا!!! اب ارحم کا انجام بہت برا ہونے والا تھا!!

” اسلام علیکم امی !!! “

اسما ابھی شاپنگ کر کے اپنی دوست کے ساتھ واپس لوٹی تھی جب ہی اس نے حماد کی والدہ سے سلام لیا!!!

” وعلیکم السلام!! اسما ادھر آؤ!!! “

ان کے لہجے میں سرد مہری تھی۔۔۔۔! اسما کو کچھ عجیب سا لگا۔۔۔۔! وہ ان کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔!!

” یہ کیا ہے ؟ “

جیسے ہی اسما ان کے پاس پہنچی !! انھوں نے ایک کاغذ اس کی طرف لہرایا۔۔۔۔” اور اس سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے ؟ حماد بھی وہاں پر پہنچ چکا تھا!!! اسما نے حیرانگی سے اس کاغذ کی طرف دیکھا اور اسے پکڑا۔۔۔۔

جیسے ہی ان دونوں نے وہ کاغذ دیکھا تو ان دونوں کے ہوش اڑ گئے تھے!!! وہ وہی کنٹریکٹس کا صفحہ تھا!

” تم دونوں نے کنٹریکٹ میرج کی ہے ؟؟؟ “

حماد کی والدہ کے لب وہ لہجے میں غصہ جھلک رہا تھا۔۔۔۔!! انھیں یہ بالکل بھی امید نہیں تھی ان دونوں سے۔۔۔۔!!! کہ وہ کچھ ایسا بھی کر سکتے تھے !!!

” امی ! “

حماد نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔۔

” ارے نہیں امی!!! ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔! یہ تو کل رات میں پڑھ رہی تو مائنڈ فریش کرنے کے لیے میں نے اور حماد نے کچھ شرائط لکھی تھی۔۔۔۔ مزاق کے طور پر کہ اگر کنٹریکٹ میرج ہو شادی کے لیے کونسی شرائط ہونی چاہئیے۔۔۔۔

ایسا کچھ بھی نہیں ہے آپ ایسا مت سوچیں پلیز اور یہ آپ کو کہاں سے ملا ؟ “

حماد کچھ کہنے ہی لگا تھا جب ہی اسما نے اس کی بات کو کاٹتے ہوئے اس کی امی کو دلاسہ دیا۔۔۔

” بیڈ کے نیچے سے “

انھوں نے آہستگی سے کہا۔۔۔

” تو آپ خود سوچیں کہ اگر یہ کوئی کنٹریکٹ ہوتا تو بیڈ کے نیچے نہیں بلکہ الماری کے کسی کونے میں پڑا ہوتا۔۔۔۔”

اسما نے یوں بات سنبھال لی تھی تا کہ اس کی والدہ کی طبعیت خراب نا ہو!!! حماد کی والدہ کو مزید تسلی دلانے کے لیے اس نے وہ کاغذ پھاڑ کر ٹکرے ٹکرے کر دیا تھا!!!

حماد کو جیسے اس کا یہ عمل اچھا لگا تھا۔۔۔۔ امی ان کی طرف دیکھتے ہوئے معصومیت سے مسکرائی!!!

” اچھا تو یہ بات ہے میں فضول میں ہی گھبرا گئی تھی!!!! مجھے لگتا ہے کہ میں ہی کچھ زیادہ سوچ رہی ہوں۔۔۔۔ اسما ایسا کبھی بھی نہیں کر سکتی ہے وہ بہت پیاری بچی ہے۔۔۔ میں بھی فضول میں ہی شک کر رہی تھی تم دونوں پر۔۔۔”

ان کی بات پر وہ دونوں مسکرا گئے تھے !!! حماد کو بہت اچھا لگا تھا جیسے اسما نے یہ بات سنبھالی تھی!!! اور اس سے بھی بڑھ اس کا کنٹریکٹ والا صفحہ پھاڑنا اچھا لگا تھا حماد کو!!! وہ لوگ ابھی ازا کے والدین کے ساتھ ہونے والے واقع سے بے خبر تھے!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *