Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 31)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 دن کا اجالا رات کے گہرے سائے میں بدل گیا تھا!!! زیادہ نقصان نا ہونے سبب حویلی والے زیادہ پریشان نا تھے۔۔۔۔ اور رات کے اس پہر سکون حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے کمروں میں تھے!!!

ازا کپڑے بدل کر کمرے میں آئی تو کایان نے لائٹس آن کی۔۔۔۔!! وہاں کا سارا منظر دیکھتے ہوئے ازا حیران رہ گئی تھی۔۔۔!!

اس نے بیڈ کو پھولوں سے سجایا تھا۔۔۔۔” اور اس پر بہت ہی خوبصورتی سے لکھا تھا آئی لو یو ازا۔۔۔!! جسے دیکھ کر ازا ہلکا سا مسکرائی تھی۔۔۔۔!!!

” کیسا لگا آپ کو یہ ؟؟ “

کایان جو اس کے پیچھے کھڑا تھا اس کی مسکراہٹ کو پھانپتا ہوا اس کے قریب آیا اور اس کندھوں پر اپنا بازو رکھتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔!

” بہت اچھا “

وہ بے ساختہ بولی تھی۔۔۔۔!!!

” اچھی بات ہے۔۔۔۔ پر مجھے ایک بات بتائیں کہ کیا آپ کا کچھ کھانے کا دل کر رہا ہے ؟؟ “

اس نے نگاہیں چھوٹی چھوٹی کرتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا کہ کہیں اسے بھوک تو نہیں لگی، کچھ کھانا تو نہیں ہے اسے !!

” کھانا ہے !! “

اس کی بات پر وہ حیران رہ گیا!!!

” کیا ؟ “

کایان نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

” آئسکریم!!! “

ازا نے کچھ سوچتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ آئسکریم کھانا چاہتی ہے۔۔۔۔!! جس پر کایان حیران ہوا تھا کہ اس وقت اسے آئسکریم کھانی تھی وہ بھی اس قدر سردی میں۔۔۔۔

” آئسکریم ؟؟ “

کایان نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا کہ کیا اس نے آئسکریم ہی کہا تھا ؟ جس پر ازا نے اپنا سر ہاں میں ہلایا تھا۔۔۔۔!!!

” وہ بھی اسٹیباری فلیور !!! “

ازا نے اپنا سر ہاں میں ہلاتے ہوئے اسے بتایا تھا کہ اسے آئسکریم ہی کھانی ہے۔۔۔!! اور وہ بھی اسٹیباری فلیور میں۔۔۔۔!! اس کی چھوٹی سے فرمائش پر کایان مسکرایا تھا۔۔۔۔

” آپ کو پتہ ہے کایان سردیوں کی رات کی ٹھنڈی ہواؤں میں بیٹھ کر ٹھنڈی ٹھنڈی آئسکریم کھانے کا الگ ہی مزہ ہے!! ہم آئسکریم کھانے چلتے ہیں۔۔۔۔!!! “

وہ مسکراتے ہوئے اسے بتانے لگی تھی کہ سردیوں کی ٹھنڈی ہواؤں میں آئسکریم کھانا بہت زیادہ پسند ہے۔۔۔۔ بات کے آخر میں اس نے کایان سے ایک فرمائش کی تھی کہ وہ اس وقت آئسکریم کھانا چاہتی ہے تو وہ دونوں چلتے ہیں آئسکریم کھانے !!!

کایان جو اس کے ساتھ کچھ حسین لمحات گزارنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔ وہ کب سے اس کی باتیں ہی سنے جا رہا تھا اور اب اس کی فرمائش سنتا ہوا وہ حیران ہوا تھا!!

” اس سے گلا بھی خراب ہو جاتا ہے “

کایان نے اس کے سائیڈ ایفیکٹس بتائے تھے اسے۔۔۔

” کچھ بھی نہیں ہوتا ہم چلتے ہیں نا “

ازا نے ضد پکڑی تھی۔۔۔

” ازا اس وقت ؟؟ “

کایان نے گھڑی کی طرف نظر دوڑائی تو وقت ساڑھے نو بج رہے تھے!!! اس نے ازا سے کہا تھا کہ کیا وہ اس وقت جانا چاہتی ہے ؟

” پلیز !!! “

ازا نے معصوم سا منھ بناتے ہوئے کہا تو کایان سے رہا نا گیا۔۔۔۔

” اچھا ٹھیک ہے ازا !!! “

وہ فوراً مان گیا تھا اپنی معصوم سی بیوی کا کہا۔۔۔۔ اس کی بات سنتے ہی ازا کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی جسے دیکھ وہ بھی مسکرا گیا اور وہ دونوں باہر کی طرف بڑھے۔۔۔

وہ دونوں باہر آتے ہوئے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے حویلی سے باہر کی طرف نکل گئے تھے!!! جبکہ اوپر اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑے ہوئے شخص نے غصے سے انھیں دیکھا۔۔۔۔

وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ ” ارحم ملک ” ہی تھا!!! اس سے بالکل بھی برداشت نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔!!! کہ ازا اس حویلی میں ہنسی خوشی رہ رہی ہے۔۔۔!!!

وہ تو اس گھر میں ایک ونی کی صورت میں آئی تھی۔۔۔۔ اور یہاں پر تو وہ ایک رانی کی زندگی گزار رہی تھی اور وہ بس چپ چاپ یہ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

اور اب تو اس کی ماں بھی ازا کا ساتھ دے رہی تھی!!! اسے اس گھر کی بہو تسلیم کر چکی تھی وہ،،، اور اس کی نظر میں اس کی بہن صائمہ کا بھی خون سفید ہو چکا تھا۔۔۔۔

وہ بھی اب ازا کو اپنی بھابھی کا درجہ دیتی تھی۔۔۔۔۔ اسے عزت دیتی تھی اسے بھابھی کہہ کر بلاتی تھی!!! جو اس سے بالکل بھی برداشت نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔

” یہ ازا !! اس حویلی کی بہو نہیں ہے۔۔۔۔ ونی میں آئی ہوئی معمولی سی لڑکی ہے یہ جس کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ وہ اس حویلی پر راج کرے۔۔۔۔

اس کی اوقات صرف اور صرف ایک کام والی کی ہے۔۔۔۔ لیکن حویلی والوں نے اپنے بے جا لاڈ پیار سے اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔۔۔ لیکن میں اتنا بیوقوف نہیں ہوں۔۔۔۔

کہ میں بھی اسے اس حویلی کی بہو اور اپنی بھابی مان لوں کبھی بھی نہیں!!! میں اسے کوئی تکلیف نہیں دے سکتا ہوں!! لیکن اس کے گھر والوں کو ضرور نقصان پہنچا سکتا ہوں میں۔۔۔۔

اب اسے میں ایسی تکلیف دوں گا کہ یہ پوری زندگی یاد رکھے گی۔۔۔۔!!! اور ابھی تو ربعیہ سے بھی اس تھپڑ کا بدلہ لینا ہے جو بابا نے میرے چہرے پر ماری تھی۔۔۔۔۔!!!! “

وہ کھڑکی میں کھڑا ہوا خود سے ہی بول رہا تھا کہ وہ ازا کو خوش نہیں دیکھ سکتا وہ اسے اس حویلی کی بہو اور اسے اپنی بھابی نہیں مانے گا۔۔۔۔

کیونکہ ازا اس کے بھائی کے قتل کی وجہ سے ونی میں آئی تھی۔۔۔۔ اب وہ اسے خوش نہیں رہنے دے سکتا تھا!!! اس نے یہ سوچا تھا کہ وہ ازا کو اس کے گھر والوں کو نقصان پہنچا کر اسے تکلیف دے گا۔۔۔

اور آخر میں نے اس نے اپنا مقصد ربعیہ کے متعلق بھی آشنا کیا تھا کہ وہ اس سے اس تھپڑ کا بدلہ لینا چاہتا ہے جو اس رات شائید ربعیہ کی وجہ سے شہزاد ملک نے اس کے چہرے پر مارا تھا۔۔۔۔”

رات کے تقریباً گیارہ بجے کے قریب وہ دونوں حویلی واپس لوٹے تھے۔۔۔۔!!! ان دونوں نے آئسکریم کھانے کے ساتھ ساتھ کچھ وقت باہر ایک دوسرے کے ساتھ گزارا تھا۔۔۔۔

گاڑی کھڑی کرنے کے بعد وہ دونوں اندر کی طرف بڑھے تھے !!! کمرے میں پہنچتے ہوئے کایان نے لائٹس آن کی تھی!!!

” ویسے کایان !! آپ نے بتایا نہیں کہ یہ ساری ارینجمینٹس کس وجہ سے ہیں ؟ “

آئسکریم کھا کر ازا کا موڈ بہت خوشگوار ہو گیا تھا۔۔۔۔ وہ کمرے میں پہنچی تو اسے وہی سارا منظر نظر آیا جو جانے سے پہلے بھی تھا اس نے مسکرا کر کایان سے سوال کیا تھا کہ یہ سب اس نے کیوں کیا ؟؟

” ظاہر سی بات ہے ہم دونوں کے لیے۔۔۔۔”

کایان نے اس کی بات سنی اور وہ اس کی طرف بڑھتا ہوا اسے بتانے لگا کہ یہ ساری ارینجمینٹس اس نے اپنے اور اس کے لیے کی ہیں۔۔۔۔!!!

” کیوں ؟؟ “

ازا نے سوال کیا۔۔۔۔

” وہ جو کام کل رہ گیا تھا اسے پورا کرنے کے لیے “

اس نے ذو معنی لہجے میں کہا تو ازا کا چہرہ اس کے کانوں تک سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔۔!!! ازا کو سمجھ ہی نا آیا کہ وہ اس کا کیا جواب دے ؟

” کیا ؟؟ “

ازا نے سرخ پڑتے ہوئے چہرے کے ساتھ با مشکل ہی کہا۔۔۔۔

جب ہی کایان آہستگی سے اس کی کمر کے گرد ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا۔۔۔۔۔!!! جب ہی اس کے قریب جاتے ہوئے ازا نے نظریں جھکا لی تھی!!! اس کی جھکتی ہوئی نظروں کو دیکھتے ہوئے کایان ہلکا سا مسکرا گیا تھا۔۔۔

” ویسے آپ بہت شرمیلی ہیں۔۔۔۔ میرے قریب آتے ہی آپ کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں!! آپ کا چہرہ سرخ پڑ جاتا ہے۔۔۔!!! آپ کی نظریں جھک جاتی ہیں “

کایان نے مسکراتے ہوئے اس کے گالوں پر بوسہ دیتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔۔!!! تو ازا بھی ہلکا سا مسکرائی!!!

” شرمیلے تو آپ بھی بہت ہیں جب بھی میں آپ کو کس کرتی ہوں۔۔۔!! آپ کے چہرے کا رنگ بھی سرخ ہو جاتا ہے !!! “

ازا نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا کہ جب بھی وہ اسے کس کرتی ہے تو اس کے چہرے کا رنگ سرخ پڑ جاتا ہے۔۔۔۔!!! اور اگلے ہی لمحے ازا نے اپنے نرم لب اس کی گالوں پر رکھ دیے تھے۔۔۔۔

اس کے لبوں کا نرم و ملائم لمس محسوس کرتے ہوئے کایان ہلکا سا مسکرایا اور ازا کے کہے مطابق اس کے چہرے کا رنگ بھی سرخ پڑ گیا تھا!!

اس سے پہلے کہ ازا اس سے دور ہوتی کایان اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اپنے لب اس کے لبوں سے جوڑ گیا تھا۔۔۔۔ اور اس پر مکمل قابض ہو گیا۔۔۔۔۔ ازا اس کی شدتوں میں گھلتی ہوئی اپنا آپ اسے سونپ گئی تھی۔۔۔۔” آج کے درمیان پائی جانے والی ہر دوری خود بخود دور ہو گئی تھی۔۔۔۔!!!!!

اسما آج یونیورسٹی نہیں گئی تھی کیونکہ آج وہ اپنی امی ( حماد کی والدہ ) کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔۔۔۔!!! اور اس کے علاؤہ آج رات کو انھوں نے حویلی دعوت پر بھی جانا تھا۔۔۔۔!!!

اسما کمرے میں آئی اور سیدھا الماری کی طرف بڑھی!! حماد کی والدہ اس وقت آرام کر رہی تھی۔۔۔۔ الماری کے پاس پہنچتے ہوئے اس نے الماری کا دروازا کھولا!

اور اس میں سے حماد کی شرٹ نکالتے ہوئے اس نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔۔ اور اس شرٹ سے ہی وہ اس کی خوشبو محسوس کر رہی تھی اور اس سے ہی وہ حماد کے اپنے قریب ہونے کی آہٹ محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔!!!

” کیا مجھے واقع ہی حماد سے محبت ہونے لگی ہے ؟؟ کیا واقع ہی مجھے اس کی آہٹ سے بھی سکون پہنچتا ہے ؟ میں چاہتی ہوں کہ وہ میرے قریب رہے۔۔۔!!!!

ہاں شائید یہ سب کچھ سچ ہی ہے۔۔۔۔!!! میں محبت کرنے لگی ہوں حماد سے!! “

آج اسما نے اس بات کا اعتراف کر لیا تھا کہ وہ حماد سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔!! حماد کا قریب ہونا اسے سکون میسر کرتا تھا اور وہ یہی چاہتی تھی کہ حماد اس کے قریب رہے اس نے پاس رہے۔۔۔۔

وہ اس کی شرٹ کو لیے ہوئے پورے کمرے میں جھوم رہی تھی۔۔۔ اس کے چہرے پر آج ہی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔!!! اس شرٹ سے وہ یہ تصور کر رہی تھی کہ حماد اس کے قریب ہے!!

آتش اور فاریہ کی مہندی کا فنکشن ابھی تک جاری تھا۔۔۔۔ دلہن کمرے میں تھی لیکن باہر سب لوگ خوب مزے کر رہے تھے۔۔۔۔ کافی اچھی رونق لگی ہوئی تھی یہاں۔۔۔۔

انوشا جو کافی دیر سے باہر ہی بیٹھی ہوئی تھی اب اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ دیر جا کر فاریہ کے پاس بیٹھ جائے کیونکہ اب وہ باہر بیٹھی ہوئی بور ہو رہی تھی۔۔۔۔!!!

” بیگم کدھر جا رہی ہیں ؟؟؟ “

انوشا جو فاریہ کی طرف بڑھ رہی تھی راستے میں زریر نے آتے ہوئے اس کا راستہ روکا تھا!!!! اور اس سے سوال کیا تھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے ؟؟

” وہ میں فاریہ کے پاس جا رہی ہوں۔۔۔۔”

سامنے کھڑے زریر کو انوشا نے دیکھتے ہوئے اسے بتایا وہ فاریہ کے پاس جا رہی ہے۔۔۔۔!!!

” ویسے بیگم میں کیا کہہ رہا تھا کہ ہر عورت اپنے ہاتھ پر اپنے شوہر کا نام لکھوا رہی ہے۔۔۔۔!! آپ بھی لکھوا لیں اس بندہ نا چیز کا نام اپنے ہاتھ پر۔۔۔۔”

زریر کی فرمائش پر انوشا نے اسے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھا!!

” اب ہر عورت کنویں چھلانگ مار رہی ہو تو میں بھی تھوڑی مار دو گی!!! “

اس نے مسکرا کر کہتے ہوئے زریر کے چہرے کی ساری مسکراہٹ اڑا دی تھی۔۔۔!!! اور وہ اس کے پاس سے گزر گئی تھی اس کا نام اپنے ہاتھ پر لکھوانے کے لیے بظاہر انوشا نے اسے منع کر دیا تھا مگر وہ اس کی بات ٹال نہیں سکتی تھی!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *