Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 12)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 
اسما کو دیکھنے کے لیے جن لوگوں کو شہناز بیگم کو بلایا تھا وہ لوگ حویلی آ چکے تھے۔۔۔۔۔ ربعیہ اور رہان کا نکاح کچھ وجوہات کی بنا پر دو دن ڈیلے کر دیا گیا تھا۔۔

چونکہ نکاح میں صرف حویلی کے لوگ اور شہزاد ملک کے ایک سے دو قریبی عزیز رشتے داروں نے ہی شریک ہونا تھا تو انھیں مسئلہ نا ہوا باقی شادی اپنے وقت پر ہی ہونی تھی۔۔۔۔

اسما کمرے میں بیڈ پر پڑے ہوئے نیلے رنگ کے جوڑے کے سامنے کھڑی اسے گھورے جا رہی تھی ابھی کچھ لمحات پہلے ہی اس کی والدہ اسے یہ جوڑا پہننے کے لیے کہہ کر گئی تھی کہ اسے دیکھنے کے لیے لوگ آ گئے ہیں!!

اور اسے سختی سے تاکید بھی کر کے گئی تھی کہ کوئی بھی بد مزگی پیدا نہ کرے اور اچھے سے تیار ہو کر مہمانوں کے سامنے آکر بیٹھے۔۔۔۔!!!!!!!

وہ جوڑا اٹھاتے ہوئے منھ بنائے ہوئے واش روم کی طرف بڑھی لیکن اس کا بالکل بھی دل نہیں تھا کہ تیار ہو !! لیکن مجبوری تھی کہ وہ جا کر تیار ہو۔۔۔۔۔!!!

دل کہتا تھا کہ رہنے دو اپنے خواب پورے کرو۔۔۔۔۔!!! لیکن دماغ ماں باپ کی نفرت سے ڈرتا تھا۔۔۔۔ وہ دل و دماغ کی اس لڑائی میں پھنسی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

وہ کپڑے پہن کر واش روم سے نکلی تو خود کو شیشے میں دیکھا ،، کھلے بال ، چہرہ میک اپ سے پاک , سے بھی اس کی خوبصورتی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ وہ بغیر کسی بھی رایکشن کے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔۔ جب ہی کمرے کا دروازا کھلا اور وہاں سے شہناز بیگم کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔

” چلیں ؟ میں تیار ہوں “

انھیں دیکھتے اسما نے نظریں گھمائی۔۔۔۔ شہناز کو سامنے کھڑا ہوا پا کر اس نے کہا کہ وہ تیار ہے تو چلیں نیچے۔۔۔۔ !! اس کے لہجے میں عجیب بیزاریت تھی جیسے لہجہ میں شدید روکھا پن ہو !!

” یہ تم تیار ہو ؟ جاؤ جا کر میک اپ کرو “

اس کے چہرے کی طرف شہناز بیگم نے دیکھا تو وہاں ہر میک اپ کا ایک بھی ذرہ نہیں تھا۔۔۔۔ جسے دیکھ شہناز بیگم نے طنزیہ کہا۔۔۔۔

” امی پلیز !! یہ تماشے مجھ سے نہیں ہوتے!! آپ نے مجھ سے کہا کہ میں تیار ہو جاؤ میں ہو گئی ہوں۔۔۔ اب مزید مجھ سے کسی بھی قسم کی کوئی توقع نا رکھیے گا “

اسما اب مزید برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔ وہ کتنا سہتی ؟ ان کے کہنے پر وہ کر تو رہی تھی شادی !! اس نے بیزار لہجے میں کہا اور کمرے سے نکل گئی جب ہی شہناز بیگم کو اس پر غصہ چڑھا مگر وہ ظاہر نہین کر سکتی تھی۔۔۔۔۔

اسما ماں کے ساتھ ڈرائنگ روم میں پہنچی جہاں پر مہمان بیٹھے ہوئے تھے اس کا بھائی ، والد ، کایان اور ایک لڑکے کے ساتھ اس کی والدہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔

وہ آہستگی سے روم میں داخل ہوئی تو اس لڑکے کی اور اس کی والدہ کی نظر اس پر پڑی۔۔۔۔ حماد کی والدہ اسے دیکھتے ہی مسکرائی۔۔۔۔ وہ پہلے بھی اسما کو دیکھ چکی تھی۔۔۔۔ اور وہ انھیں بہت پسند بھی تھی۔۔۔۔!!

” ادھر آؤ بیٹا میرے پاس بیٹھو “

حماد کی والدہ ( سائرہ ) نے اسما کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اس سے کہا کہ وہ ان کے پاس آ کر ان کے ساتھ بیٹھے !! جس پر اسما سر اثبات میں ہلاتی ہوئی ان کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

” ماشاءاللہ بہت پیاری ہے آپ کی بیٹی۔۔۔۔ مجھے شروع سے ہی اسما بہت پسند تھی اور میں شروع سے ہی یہ چاہتی تھی کہ اسما ہی میرے گھر کی بہو بنے اور میرے بیٹے کی بیوی !! “

سائرہ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جب سے انھوں نے اسما کی تصویر دیکھی تھی اس وقت سے ہی انھیں اسما اپنے بیٹے کے لیے بہت پسند آئی تھی اور وہ شروع سے ہی یہ چاہتی تھی کہ ان کی بہو اسما بنے۔۔۔۔!!

” جی وہ تو ہے !! ماشاءاللہ اسما ہے ہی اتنی پیاری “

سائرہ کی بات سن کر حماد کے چہرے کی سنجیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔!! جب ہی شہناز بیگم اور شہزاد ملک کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی جبکہ شہناز بیگم نے کہا۔۔۔۔

” بالکل ٹھیک کہا ہے آپ نے۔۔۔۔!! آپ ہماری طرف سے رشتہ پکا ہی سمجھے۔۔۔۔!! مجھے اسما بہت پسند ہے “

سائرہ کی بات سن کر اسما اور حماد دونوں کے چہروں کے رنگ اڑ گئے۔۔۔۔۔ اسما میں بالکل بھی ہمت نہیں تھی یہ باتیں سننے کی جب وہ وہاں سے اٹھتی ہوئی ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئی،،

” شرما گئی ہے “

اس کی رویہ اس کا انداز وہاں پر موجود لوگوں میں سے سوائے شہناز بیگم کے کوئی بھی سمجھ نہیں پایا تھا۔۔۔۔ جب شہناز بیگم کو اس بات کا احساس ہوا تو انھوں نے مسکرا کر کہا جس پر سائرہ نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔۔ جبکہ رہان بھی اس کے انداز کو پہنچان گیا تھا۔۔۔۔۔”

دو لمحات بعد حماد کا فون رنگ ہوا۔۔۔۔!! اس کے آفس سے کوئی کام تھی۔۔۔۔ جو اس کے لیے اٹینڈ کرنا ضروری تھی۔۔۔

” Excuse me”

وہ کہتا ہوا وہاں سے اٹھ کر باہر گاڑدن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔ جبکہ باقی سب باتوں میں مشغول ہو گئے۔۔۔

اسما گاڑدن میں آکر کھڑی ہوگئی۔۔۔۔۔ باہر کی تازہ ہوا میں اس کی سانس نکلی۔۔۔۔۔ اندر بیٹھے ہوئے اسے اپنا گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔”

اب اسے لگ رہا تھا کہ جیسے اس کی جان میں جان آئی۔۔۔۔ اس کی سانسیں بحال ہوئی۔۔۔۔۔

” مجھے نہیں کرنی ہے یہ شادی !! کیسے بتاؤ میں آپ سب کو ؟؟ مجھے پڑھنا ہے ایک قابل انسان بننا ہے “

وہ کھڑی ہوئی سانس بحال کرتی ہوئی بولی جبکہ اس کی باتیں اس کے پیچھے کھڑا ہوا شخص سن چکا تھا جو اب قدم بڑھاتا ہوا اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔!!!

” کیا ؟؟ “

اس کے ایک دم سامنے آ جانے سے اسما تھوڑا سا ڈر گئی کہ کہیں اس نے اس کی باتیں سن تو نہیں لی ؟ لیکن اگر حماد نے اس کی باتیں نا سنی ہوتی تو اس کے چہرے پر تجسس ہوتا جو اسما کو کہیں بھی نظر نا آیا اس کا مطلب صاف تھا کہ وہ اس کی باتیں سن چکا ہے۔۔۔۔

” مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔!!! “

اسما نے آہستگی سے کہا تو حماد کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی!! وہ اس کی یہ بات پہلے بھی سن چکا تھا۔۔۔۔

” تو مجھے کونسا کرنی ہے ؟؟ “

لہجہ مزاخیہ تھا۔۔۔۔ یہ سن کہ وہ بھی اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا تو اسما حیران ہوئی!!

” تو پھر آپ نے ہاں کیوں کی ؟؟ کیوں کر رہے ہیں آپ یہ شادی ؟؟ “

اسما نے سوالیہ لہجے میں اس سے کہا! وہ جاننا چاہتی تھی کہ جب اسے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے اس شادی میں تو وہ کیوں کر رہا ہے اس سے شادی ؟

” مجھ پر امی نے پریشر ڈالا تھا ہاں کرنے کے لیے!! وہ چاہتی تھی کہ میں شادی کر لوں اور آپ سے ہی کروں کیونکہ وہ آپ کو بہت پسند کرتی ہیں۔۔۔ جو بھی ہے مجھے اس سے کیا؟ میں نے صرف اپنی والدہ کے لیے اس شادی کے لیے ہاں کی ہے “

حماد نے سچائی کا ایک پہلو اسے بتایا۔۔۔۔۔!!

” دیکھیں جو بھی ہے آپ پلیز شادی کے لیے منع کردیں مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔ بلکہ آپ سے ہی کیا کسی بھی اور سے نہیں کرنی!!!”

اسما نے آہستگی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ خود ہی اس رشتے سے انکار کر دے۔۔۔۔ کیونکہ وہ خود انکار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔” لیکن اس یہ بات کہتے ہوئے اس کا دل زور سے ڈھڑک رہا تھا!!

” میں نے بھی آپ کو بتایا ہے کہ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔ لیکن میں یہ شادی صرف اور صرف اپنی والدہ کے لیے کر رہا ہوں۔۔۔۔۔!!!! “

حماد نے سمجھانا چاہا۔۔۔۔

” ایسی بھی کیا مجبوری ہے ؟؟؟؟ پلیز آپ اس شادی سے منع کر دیں!! میں ابھی پڑھنا چاہتی ہوں کچھ بننا چاہتی ہوں۔۔۔۔ “

اسما نے کہا تو اس کے چہرے پر سنجیدگی چھائی۔۔۔

” آپ کو شائید معلوم نہیں ہے کہ میری والدہ دل کی مریضہ ہیں۔۔۔۔۔ ان کی یہ خوائش تھی کہ میں آپ سے شادی کروں۔۔۔۔۔ اور اگر میں نے انھیں منع کروں گا۔۔۔۔

تو انھیں بہت برا لگے گا۔۔۔۔! اور پھر وہ ٹینشن لے لیں گی۔۔۔ جو ان کی صحت کے لیے بالکل بھی اچھی نہیں ہے،،،،،!”

حماد نے جیسے ہی ساری حقیقت اسما پر آشنا کی تو وہ اس کی والدہ کے لیے پریشان ہوئی!!

” لیکن آپ فکر مت کریں اگر یہ شادی ہوتی بھی ہے تو میری طرف سے آپ پر کوئی بھی زور زبردستی نہیں ہو گی!!!

آپ کا جو دل کرے گا آپ وہ کیجئے گا۔۔۔۔ میں آپ کو نہیں روکو گا!!! “

حماد نے اس سے کہا کہ شادی کے بعد وہ جو بھی کرنا چاہے کر سکتی ہے اسے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔ تو اسما ایک گہری سوچ میں پڑ گئی،،،،

” ایسی بات ہے تو ہم کنٹریکٹ میرج کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔!! “

اسما کی بات پر وہ مسکرایا۔۔۔۔ اور ایک گہری سوچ میں ڈوب گیا۔۔۔۔ کسی حد تک سوچا جائے تو وہ بھی کنٹریکٹ میرج ہی چاہتا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!”

” جیسا آپ کو مناسب لگے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔ مجھے پرواہ ہے تو صرف اور صرف اپنی والدہ کی۔۔۔۔”

حماد نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔ اسما کو امید نہیں تھی کہ وہ اتنی آسانی سے مان جائے گا۔۔۔۔! لیکن اب وہ اپنے خواب پورے کر سکتی تھی۔۔۔۔!!!

” میری کچھ شرائط ہو نگی ! “

اسما نے کہا۔۔۔

” میری بھی!! “

حماد کی طرف سے کہا گیا۔۔۔

” آپ کو بھی شرط رکھنی ہے رکھ سکتی ہیں۔۔۔۔ لیکن میری صرف ایک ہی شرط ہے کہ آپ میری والدہ کا خیال رکھیں گی ان کے ساتھ ہر وقت ہنستی مسکراتی رہے گی۔۔۔۔۔!!! تا کہ انھیں کوئی تکلیف نا ہو “

حماد نے اس سے کہا کہ اسے جو بھی شرط رکھنی ہے وہ با آسانی رکھ سکتی ہے اس کی ہر شرط اسے منظور ہو گی لیکن اس کی صرف ایک ہی شرط ہے کہ وہ اس کی والدہ کا خیال رکھے” جس پر اسما سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔

ازا کچھ کام کر کے کمرے میں پہنچی تو کایان کو کسی سوچ میں ڈوبا ہوا پایا۔۔۔۔۔ ازا کو کایان کچھ پریشان سا لگا تھا۔۔۔۔!! وہ بیڈ پر بیٹھا بظاہر لیپ ٹاپ ہی یوز کر رہا تھا اور دیکھنے والے کو بھی یہی لگ رہا تھا لیکن حقیقت میں تو وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا پریشان تھا۔۔۔

ازا اٹھتی ہوئی گئی اور اس کے سامنے جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔!! لیکن کایان کو اس کی آہٹ محسوس نہ ہوئی وہ اسی پوزیشن میں بیٹھا رہا جس سے ازا جو یہ معلوم ہوا کہ کایان کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا ہے۔۔۔

” کایان کیا ہوا ؟؟ کیا سوچ رہے ہیں ؟؟ “

ازا نے آہستگی سے اس سے کہا اس کی آواز سن کر کایان جو کافی دیر سے کسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا وہ ہوش میں واپس آیا۔۔۔ تو ازا کو اپنے سامنے پایا۔۔۔

” کچھ نہیں وہ !! “

” شنائل کے متعلق سوچ رہے ہیں ؟؟ “

وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا جب ہی ازا کے کہے گئے الفاظ اسے خاموش کروا گئے تھے۔۔۔۔ کایان کو بہت حیرانگی ہوئی یہ جان کر ازا کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے ؟

” آپ کو کیسے پتہ چلا ؟ “

ازا کی بات سن کر چند لمحات کے لیے وہ خاموش ہو گیا تھا۔۔۔۔!! اس کے بعد اس نے سوالیہ تاثرات لیے ہوئے اس نے کہا تو ازا ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!!!

” آپ کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر صاف معلوم ہو رہا تھا کہ وہ لڑکی آپ کے حواسوں پر چھائی ہوئی ہے۔۔۔۔”

ازا کی بات پر اس نے اسے گھور کر دیکھا جس نے یہ کہا تھا کہ شنائل کایان کے حواسوں پر چھائی ہوئی ہے!!

” ایسا کچھ بھی نہیں ہے میرے حواسوں پر تو “

اس کی بات سنتے ہی اگلے ہی لمحے کایان نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن اس نے جملے کے ابھی آدھے ہی لفظ کہے تھے باقی لفظ اس نے منھ میں ہی رہنے دیے۔۔۔۔

” جو بھی ہے !! تھینک یو سو مچ کہ آپ نے مجھ پر یقین کیا میرا ساتھ دیا۔۔۔۔”

اس کی بات کو سنتے ہوئے ازا بھی دو لمحوں کے لیے چپ ہو گئی تھی۔۔۔۔!!! جب ہی کایان نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تو ازا کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی ئی۔۔۔

” اس میں شکریہ والی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ میں آپ کو جانتی ہوں۔۔۔ آپ کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کرے گے جس سے ایک لڑکی کی عزت برباد ہو۔۔۔ جس سے اس کی ذات جو نشانہ بنایا جائے ۔۔ آپ پاک دامن ہیں۔۔۔ لیکن نا جانے شنائل نے ایسا کیوں کیا ؟؟ “

ازا نے اس سے کہا کہ وہ اس پر بھروسہ کرتی ہے۔۔۔۔ وہ جانتی ہے کہ کایان پاک دامن ہے وہ کبھی ایسی کوئی بھی حرکت نہیں کرے گا جس سے کسی کی عزت کر آنچ آئے۔۔۔۔ جسے سن کر کایان مسکرایا۔۔۔۔

” شنائل کو چھوڑیں اب۔۔۔۔ وہ جا چکی ہے۔۔۔ اور مجھے اپنے بارے میں آپ کے خیالات جان کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔۔ “

اس کی بات سن کر ازا ہلکا سا مسکرائی جبکہ کایان اس کے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ میں ہی کھو سا گیا تھا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *