Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 47)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 ازا جیسے ہی گاڑی میں گھٹن محسوس کرتی ہوئی گاڑی سے اترتے ہوئے باہر نکلی تو پیچھے سے کسی نے اس کے چہرے پر ماسک رکھ دیا جس پر بیہوشی کا کیمیکل لگا ہوا تھا۔۔۔

ازا نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر بے سود رہی وہ لوگ اسے گاڑی میں ڈالتے ہوئے لے گئے تھے۔۔۔!!! جبکہ کایان جو دکان پر تھا اس کا دھیان اس طرف نہیں گیا تھا۔۔۔

وہ کچھ دیر کے بعد آئسکریم لیتا ہوا ان کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔!!! لیکن جیسے ہی وہ گاڑی کے قریب پہنچا تو آئسکریم اس کے ہاتھوں سے گر گئی تھی۔۔۔

وہاں پر ازا تھی ہی نہیں لیکن وہاں پر کچھ لوگ ضرور تھے جو کچھ دیر پہلے ہوا واقع جانتے تھے!!! ان میں سے کچھ لوگوں نے کایان کو بتایا تھا کہ کس طرح وہ غنڈے ازا کو اغواہ کر کے لے گئے تھے۔۔۔۔!!

لیکن ساتھ ہی ساتھ انھوں نے کایان کو اس گاڑی کا نمبر دے دیا تھا۔۔۔۔!!!! کیونکہ وہ اس وقت تو ازا کو نہیں بچا پائے تھے لیکن انھوں نے اس گاڑی کا نمبر ضرور کر دیا تھا۔۔۔۔

کایان کا دل بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔۔! جیسے کہیں اس کے ساتھ کچھ برا نا ہو جائے وہ یہ سب سنتا ہوا ہر بڑا سا گیا تھا!!!

اس نے فوراً پولیس میں فون کرتے ہوئے انھیں سارے معاملے کے بارے میں بتایا تھا اور انھیں کہا تھا کہ وہ فوراً ڈھونڈے ازا کو!!!

وہ خود بھی لوگوں کے بتائے ہوئے راستے پر، جس راستے پر ازا کو لے جایا گیا تھا اس راستے کی طرف گاڑی لیے ہوئے بڑھ گیا تھا۔۔۔!! پولیس بھی اس گاڑی کو ڈھونڈنے میں مصروف ہو گئی تھی۔۔۔

” ربعیہ ٹیسٹ تیار کریں “

رہان جو لیپ ٹاپ پر یونیورسٹی کا کچھ کام کرنے میں مصروف تھا اسے اچانک سے یاد آیا کہ کل ربعیہ کا یونیورسٹی میں انگلش کا ٹیسٹ ہے۔۔۔ اور وہ محترمہ انھوں نے بالکل بھی تیاری نہیں کی تھی۔۔۔!!!!

تو رہان نے اسے پکارتے ہوئے کہا۔۔۔ حویلی میں کسی کو بھی ازا کے کڈنیپ ہونے کے بارے میں پتہ نہیں چلا تھا۔۔۔

” مجھے کیا ضرورت ہے ؟ جب میرا شوہر ہی انگلش کا پروفیسر ہے !!!! “

ربعیہ نے اس کے پاس آتے ہوئے فخریہ لہجے میں کہا تو رہان نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔

” اور جب یہی شوہر آپ کو فیل کرے گا تو آپ کو پتہ ہے کہ کیا ہو گا پھر ؟؟؟ “

وہ طنزیہ لہجے میں کہتا ہوا آنکھیں چھوٹی چھوٹی سی کر کے اسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔!!

” کیا ہو گا ؟ اگر مجھے فیل کریں گے آپ تو میں یہ کمرہ چھوڑ کر پورے ایک ہفتے کے لیے ناراض ہو کر اپنے کمرے میں چلی جاؤ گی “

ربعیہ نے اس کی دکھتی رگ کو پکڑتے ہوئے کہا تھا۔۔۔! کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ اسے یہ دھمکی دے گی تو وہ غصے میں آتا ہوا فوراً اس کی بات مان جائے گا۔۔۔! اس کی بات سن کر رہان نے اسے غصے سے دیکھا تھا۔۔۔۔

” آپ اس کمرے سے نکلنے کے بارے میں سوچیں تو سہی۔۔۔۔!!! اس کمرے کو میں نے حویلی کا کباڑ خانہ نا بنا دیا تو میرا نام بھی رہان ملک نہیں “

رہان کو اس کی یہ بات بالکل بھی پسند نہیں آئی تھی چاہے ربعیہ نے جس مقصد کے لیے بھی کی ہو!!! وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوتا ہوا اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھتا ہوا شدت بھرے لہجے میں بولا تو ربعیہ نے اسے مسکرا کر دیکھا۔۔۔

” حوصلہ رکھیں شوہر !!! میں کونسا جا رہی ہوں۔۔۔۔؟؟؟ میں تو صرف آپ کو بتا رہی ہوں کہ اگر آپ نے مجھے پاس نا کیا تو اس کے سائیڈ ایفیکٹس کیا ہو سکتے ہیں !!! “

ربعیہ مسکرا کر کہتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔!!! اور ایک ایک لفظ مسکرا کر کہتے ہوئے ہی اسے بتانے لگی کہ وہ کونسا کمرے سے جا رہی ہے ؟؟ وہ تو صرف اور صرف اسے دھمکا رہی ہے کہ اگر اس نے اس کا کام نہیں کیا تو وہ کمرے سے چلی جائے گی اس کی بات پر رہان نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔

” آپ کی عادت ہو گی دھمکانے کی۔۔۔۔!! پر مجھے دھمکانا نہیں آتا اور جو میں کہتا ہوں اسے کر کے دیکھتا ہوں۔۔۔

اور اگر آپ نے پڑھنا شروع نہیں کیا تو میں آپ کو سچ میں بتا رہا ہوں کہ پھر آپ کے عقل میں خود ٹھکانے لگاؤ گا “

وہ غصے میں بھی کہتا ہوا اس کے چہرے پر سرخی طاری کر گیا تھا!!! ربعیہ نے اسے منھ بناتے ہوئے دیکھا اور کتاب پکڑنے کے لیے اپنے کبڑد کی طرف بڑھی تھی!! جب ہی رہان کا فون بجا تھا۔۔۔ اس نے فون اپنی جیب سے نکال کر دیکھا تو ” کایان ” اسے فون کر رہا تھا!!! رہان نے فون اٹھاتے ہوئے اسے کان سے لگایا۔۔۔!!!

” واٹ ؟؟؟ “

اس نے فون پر کایان سے ازا کے اغواہ ہونے کے متعلق خبر سنی تو وہ حیران رہ گیا۔۔۔۔!

” کیا ہوا رہان ؟؟ “

ربعیہ اس کی حیرانگی و پریشانی سے بھرپور آواز سنتے ہوئے اس کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔۔!!! جبکہ رہان فون بند کر چکا تھا۔۔۔ ربعیہ نے اس کے پاس آتے ہوئے اس سے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔!!

” وہ ازا بھابھی کو اغواہ کیا گیا ہے!!! میں کایان بھائی کے پاس جا رہا ہوں تم پریشان مت ہونا “

وہ آہستگی سے اسے بتاتے ہوئے بولا۔۔۔۔! یہ سن کر کہ ازا کو اغواہ کیا گیا ہے ربعیہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔۔۔!! رہان نے اپنی ساری بات آہستگی سے کی اور پھر ربعیہ کو تاکید کرتے ہوئے وہ کمرے سے نکلتا ہوا حویلی سے گاڑی لے کر نکل گیا تھا مگر ربعیہ پریشانی سے وہی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ بھی ہو جائے گا۔۔۔!!

زریر نے تیز رفتار گاڑی اچانک سے اس شخص کی گاڑی کے سامنے روکی تھی۔۔۔!!! ان دونوں نے غصے سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔۔۔ زریر غصے سے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے گاڑی سے اترا تھا جبکہ مقابل شخص بھی گاڑی کا دروازہ کھولتا ہوا گاڑی سے اترا تھا۔۔۔ راستہ کافی سنسان محسوس ہوتا تھا۔۔۔!

” یہ کیا حرکت ہے ؟؟ زریر ! کیوں یوں سڑک۔۔۔۔ آہ “

واسط غصے سے اترتا ہوا اس کی طرف بڑھا تھا وہ ابھی اپنی بات کر ہی رہا تھا جب ہی زریر نے اس کے مکمل طور پر مقابل آتے ہوئے ایک زوردار پنچ اس کے چہرے پر مارا تھا۔۔۔۔!! جس سے واسط ایک طرف لڑکھڑایا تھا۔۔۔ وہ درد سے کراہا تھا۔۔۔

” سڑک!!!! سڑک گئی بھاڑ میں۔۔۔۔ تمھاری ہمت کیسے ہوئی اتنی گھٹیا حرکت کرنے کی ؟؟ ہممم !!! تمھیں میں پہلے بھی سمجھا چکا ہوں کہ انوشا سے دور رہو۔۔۔! پھر بھی تم نے اس دن اپنے آدمی بھیج کر مجھ پر اور انوشا پر حملہ کروایا ؟؟؟ “

وہ واسط ہی تھا جس نے زریر اور انوشا پر اس دن ان آدمیوں سے حملہ کروایا تھا۔۔۔ وہی تھا جس نے اس دن لڑکوں کو انوشا کو لینے کے لیے بھیجا تھا۔۔۔

وہی تھا جو اس دن درخت کے پیچھے چھپ کر سارا منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ ہی تھا جو ان کے جانے بعد اپنے آدمیوں کی اچھی خاصی بے عزتی کر چکا تھا۔۔۔

واسط کو اس کی بات سن کر سب سے زیادہ حیرانگی ہوئی تھی کیونکہ وہ سمجھ ہی نہیں پایا تھا کہ اسے واسط کے متعلق کیسے پتہ چلا ؟

زریر نے کل جب اپنے دوست سوہم کو ان کا پتہ لگانے کے لیے کہا تو اس کی دوست سوہم کل رات ٹھیک نو بج کر چھتیس منٹ پر اسے واسط کے متعلق بتا تھا جس کی وجہ سے زریر کل سے ہی واسط پر بہت غصہ تھا یوں مانو کہ اس کے خون کا پیاسا بنا گھوم رہا تھا!!!

” تمھیں پتہ ہے انوشا زریر کی ہے۔۔۔۔!!! بیوی ہے وہ میری اور پھر بھی تم نے یہ جرات کیسے ہوئی کہ تم زریر عباس کی عزت پر نگاہ ڈالو ہمم !!! “

واسط جب نیچے لڑکھڑایا تھا تو اسی وقت زریر نے اس کا کارلر پکڑ کر غصے سے کہا۔۔۔! جبکہ واسط کو اب تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ اسے یہ سب کیسے پتہ چلا ؟

لیکن فلحال اگر وہ ان کے بارے میں سوچتا تو زریر اس کا کچومر بنا دیتا۔۔

” ہاں میں نے ہی بھیجا تھا ان لڑکوں کو !!! کیا کر کو گے تم ہاں کیا کر کیا لو گے تم ؟

میں نے ہی بھیجا تھا ان لڑکوں کو تا کہ وہ انوشا کو پکڑ کر لائے کیونکہ وہ میری ہے۔۔۔! کیا کر لو گے تم ؟ “

واسط اپنا کارلر چھڑواتا ہوا اسے پیچھے کی طرف دھکیلتا ہوا ڈھٹائی سے بولا تو زریر غصے سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔

” میں تمھاری جان لے لوں گا۔۔۔۔!! “

وہ اس کی باتیں برداشت نہیں کر پایا تھا اس نے آگے بڑھتے ہوئے واسط کے چہرے پر پنچ مارا۔۔۔!!

” اور خبردار جو انوشا کا نام بھی اپنی زبان سے لیا!!! وہ میری بیوی ہے۔۔۔!! “

زریر نے غصے سے کہا تھا جبکہ اس مرتبہ واسط نے برداشت نہیں کیا تھا۔۔۔!! وہ بھی زریر کو پنچ مارنے کے لیے آگے کی طرف بڑھا،، اس نے ہوا میں ہاتھ لہرایا۔۔۔!!!

جب ہی زریر نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا تھا۔۔۔۔! جس سے وہ اپنے گاڑی کے اگلے حصے سے جا ٹکرایا۔۔۔ واسط اس کے مزید دو سے تین پنچ ہی سہہ سکا اس سے زیادہ سہنے کی واسط کی ہمت نہیں تھی وہ ڈھیر ہوتا ہوا زمین بوس ہو گیا تھا۔۔۔۔!!

” خبردار جو آج کے بعد میرے اور میری بیوی کے راستے میں بھی آنے کی کوشش کی !!!

اور ہمارا کمپنی میں جو بھی پروجیکٹ چل رہا تھا مجھے امید ہے کہ تم آج کے بعد ہماری کمپنی میں آنے کی کوشش نہیں کرو گے “

زریر اسے کمپنی سے بے دخل کرتا ہوا وہاں سے جانے کے لیے اپنی گاڑی کی طرف مڑا۔۔۔!! لیکن پیچھے سے واسط ہمت کرتا ہوا اٹھا اور غصے سے اس کی طرف بڑھا!!

” کچھ پتہ چلا ؟ “

کایان کو فون کر کے پولیس آفیسرز نے اسے ایک جگہ بلوایا تھا۔۔۔۔!! وہ فوراً اس جگہ پر پہنچا تھا رہان بھی اس کے سارے پہنچا تھا۔۔۔! اس کا پریشانی سے برا حال ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔ اسے خود پر غصہ آ رہا تھا کہ اس کے ہونے کے باوجود بھی کیسے ازا کو کڈنیپ کر لیا گیا ؟

کیسے وہ اتنا غیر زمہ دار ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟؟ کیسے وہ اس کی حفاظت نہیں کر سکا تھا۔۔ اس نے آتے ہوئے بس ایک ہی سوال کیا تھا آتے ہوئے۔۔۔۔!!!

” نہیں لیکن ہمیں ایک بات ضرور پتہ چلی ہے کہ وہ گاڑی اس جنگل میں گئی ہے۔۔۔۔!!! “

وہ ایک جنگل کے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔! پولیس آفیسر نے اسے بتایا کہ اس گاڑی کا نمبر انھوں نے ٹریس کروایا ہے جس سے انھیں یہ معلوم ہوا کہ وہ گاڑی جنگل کے اندرونی حصے کی طرف بڑھ گئی ہے۔۔۔۔!!!

” تو پھر ہم لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟؟ “

کایان کو ازا کی فکر کھائی جا رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی نا کسی طریقے سے اپنی ازا کو ڈھونڈ نکالے تا کہ اسے معلوم ہو کہ وہ ٹھیک ہے بھی کہ نہیں ؟؟

” وہ لوگ ناجانے کیسے گاڑی لے گئے ہیں اندر ہمیں سمجھ نہیں آئی لیکن ہم اتنا یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں وہ گاڑی کو زیادہ دور تک لے کر نہیں گئے ہوں گے۔۔۔۔!!

اور ہمارے گاڑیاں بھی جنگل کے اندر نہیں جا سکتی ہیں !!! تو ہمیں چل کر ہی جانا ہو گا وہاں پر “

سپہر کا وقت تھا۔۔۔ پولیس آفیسر نے انھیں بتایا تو وہ لوگ بغیر کچھ بھی کہے ہوئے اس جنگل کے اندرونی حصے کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔

وہ لوگ سارے مل کر چل رہے تھے لیکن پھر بھی وہ لوگ ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے تقریباً وہ چھ آدمی تھے۔۔۔

” یہ گاڑی کے ٹائروں کے نشانات ہیں ان کو فالو کرتے ہیں “

وہ لوگ چلتے جا رہے تھے چلتے جا رہے تھے۔۔۔۔!!! جب ہی کایان کو گاڑی کے ٹائروں کے نشانات دیکھائی دیے تھے۔۔۔۔ جو بالکل سیدھے جا رہے تھے۔۔۔۔!!!

کایان کی بات پر وہ لوگ ان نشانات کو فالو کرتے ہوئے آگے کی طرف بڑھتے جا رہے تھے۔۔۔۔!!!

جب ہی وہ ایک جگہ جا رکے جہاں پر وہ گاڑی کھڑی تھی۔۔۔۔ پولیس آفیسر کی بات درست ثابت ہوئی تھی وہ جنگل میں اتنا آگے نہیں آئے تھے!!! اور گاڑی یہی پر رکی ہوئی تھی!! گاڑی آگے جا ہی نہیں سکتی تھی کیوں کہ جنگل کا راستہ بہت تنگ تھا جہاں سے دو سے تین انسان بھی اکٹھے نہیں گزر سکتے تھے۔۔۔۔! انھوں نے گاڑی چیک کی تو اس میں کچھ بھی نہیں تھا،کوئی بھی شخص نہیں تھا جس سے وہ بہت مایوس ہوئے تھے۔۔۔۔۔!!

” سر یہ دیکھیں “

ایک کانسٹیبل نے دوسری طرف سے انھیں آواز دیتے ہوئے کہا تو وہ سب اس کی طرف بڑھے۔۔۔

” کیا ؟ “

رہان نے سوال کیا۔۔۔

” سر یہ جوتا پڑا ہے یہاں “

اس نے وہاں سے ایک جوتا اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” یہ۔۔۔یہ تو ازا کا جوتا ہے “

کایان کو وہ جوتا دیکھتے ہوئے جیسے امید کی کوئی کرن دیکھائی دی تھی۔۔۔۔!!

” اور یہ بھی دیکھیں کایان بھائی یہ نشانات جو کسی کے چل کر جانے کے ہیں اور کسی کے گھسیٹے جانے کے ہیں “

رہان نے وہاں سے کچھ آگے جاتے ہوئے انھیں اشارہ کرتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کروایا۔۔۔

تو وہ سب لوگ اس کی طرف بڑھے تھے!! اور وہ پانچوں ان نشانات کو فالو کرتے ہوئے آگے کی طرف بڑھنے لگے تھے۔۔۔!!!

لیکن ایک مقام ایسا بھی آیا تھا جہاں جب وہ لوگ پہنچے تو وہ نشانات ختم ہو گئے تھے۔۔۔۔!!! “

” No…No..No “

کایان غصے سے چلایا تھا۔۔۔ وہ سمجھ نہین پا رہا تھا کہ اب کیسے بچائے گا وہ ازا کو؟؟

” تو ان کڈنیپرز نے ہمارے ساتھ گیم کھیلنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔!!!! انھوں نے پہلے گاڑی کو وہاں کھڑا کیا اور پھر یہ نشانات بنائے تا کہ وہ ہمیں دسٹریکٹ کر سکیں !!! اب ہمیں علیحدہ علیحدہ جانا ہو گا مسسز ملک کو ڈھونڈنے “

پولیس آفیسر کو ایک منٹ لگا تھا ان ہیکرز کی گیم کو سمجھنے میں۔۔۔۔!!! آخر میں اس نے ایک ہی حل بتایا تھا انھیں کہ اب وہ الگ الگ راستوں پر جا کر ہی ڈھونڈ سکتے ہیں ازا کو !!!

” ٹھیک ہے “

کایان نے کہا۔۔۔۔

” سب لوگ دھیان سے جانا اور سب ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا اگر کسی کو کوئی بھی خبر ملے تو ہمیں ضرور اطلاع کر دے “

پولیس افسران کہتے ہوئے مختلف راستوں پر چل دیے۔۔۔

” میں اس راستے پر جا کر دیکھتا ہوں۔۔۔! آپ ادھر چلیں جائے ازا بھابھی ہمیں بہت جلد مل جائیں گی!!!! “

رہان بھی اسے دلاسہ دیتے ہوئے چلا گیا۔۔۔

کایان اکیلا تیزی تیزی سے ان راستوں پر چلنے لگا تھا۔۔۔

” ازا۔۔۔۔!!!!! ازا۔۔۔۔۔!! “

کایان پل بہ پل وہاں چلتا ہوا ازا کو آواز لگا رہا تھا کہ شائید کہیں سے اسے ازا کی آواز سنائی دے دے،، کہیں سے اس کی آہٹ ہی محسوس ہو جائے لیکن اب تک ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔

” ازا !!!! “

اس نے ایک مرتبہ پھر سے ایک زوردار آواز لگائی تھی۔۔۔۔ اس کی آواز میں تڑپ تھی، شدت تھی وہ آواز کئی لمحات بعد بھی اس ویران جگہ ہر گھونج رہی تھی۔۔۔ جبکہ ہی اسے پیچھے سے پتوں کی سرسراہٹ محسوس ہوئی وہ فوراً پیچھے مڑا کہ کہیں کوئی جنگلی جانور تو نہیں ؟

اس نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا تو وہ ایک پیارا سا خرگوش تھا۔۔۔۔۔ اسے دیکھتا ہوا کایان ہلکا سا مسکرایا۔۔۔ جبکہ اسی وقت وہاں پر اسے کچھ دیکھائی دیا وہ اس کے قریب پہنچا تو اسے ازا کے ڈوپٹے کا پھٹا ہوا حصہ ایک جھاڑی میں اٹکا ہوا دیکھائی دیا۔۔۔

یہ اس کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔۔ کیونکہ اب اسے پتہ چل گیا تھا کہ ازا جو کس راستے سے لے جایا گیا ہے۔۔۔۔!!!

وہ اسی سمت میں بھاگا تھا۔۔۔ اور آخرکار وہ ازا تک پہنچ ہی گیا تھا۔۔۔۔۔!!!! اسے دیکھ کر کایان کی روح تک کو سکون پہنچا تھا مگر ابھی مکمل طور پر سکون نہیں آیا تھا۔۔۔

اس نے دیکھا کہ ازا کو درخت کے ساتھ باندھا گیا تھا وہ درد میں تھی لیکن ایک بات کایان کو سمجھ نہیں آئی کہ وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا خیر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟؟ وہ اس کی طرف بھاگا۔۔۔

” کایان “

ازا نے اسے دیکھتے ہوئے تڑپتے لہجے میں اسے پکارہ۔۔۔۔

” ازا !!! آپ فکر مت کریں۔۔۔۔! میں آگیا ہوں نا اب !! “

وہ اس کی رسیاں کھولتے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔! اسے اپنے سامنے صحیح سلامت دیکھتے ہوئے کایان کو بہت سکون محسوس ہوا تھا۔۔۔۔ اس کی بے چینی کافی حد تک دور ہو گئی تھی۔۔۔۔

” چلیں !!! “

کایان اسے مکمل طور پر رسیوں سے آزاد کرتا ہوا بولا اور اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔

” میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی “

ازا نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور کچھ الفاظ کرتے ہوئے کایان کو حیرانگی میں مبتلا کیا۔۔۔۔!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *