Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 1)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

یہ منظر دو گاؤں کے درمیان بیٹھی ایک پنچائت کا تھا!! جہاں ایک طرف ایک گاؤں سے شہزاد ملک اور ان کے عزیز و اقارب بیٹھے ہوئے تھے وہی مخالفت میں مخالف گاؤں سے عباس چوہدری تھے۔۔۔۔!!

” مجھے میرے بیٹے کے قتل کے عوض عباس چوہدری کی بیٹی ازا چوہدری چاہئیے۔۔۔۔!! “

شہزاد ملک نے عباس چوہدری کی دکھتی رگ پکڑی اور اپنے بیٹے کے ہوئے قتل کے بدلے عباس چوہدری کی بیٹی کا مطالبہ کیا۔۔۔۔!!”

وہ بہت اچھے طریقے سے جانتے تھے کہ عباس چوہدری کے لیے ان کی بیٹی سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔!! وہ اس دنیا میں اگر ماں باپ کے بعد اگر کسی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ ان کی بیٹی ” نور چوہدری ” ہے!!

” آپ کچھ اور مانگ لیں جائیداد وغیرہ کچھ بھی!!! “

عباس چوہدری نے اس مطالبے پر اعتراض کرنا چاہا کیونکہ یہ ان کے لیے مشکل ہی نہیں نا ممکن سا تھا!!

” نہیں ہمیں اور کچھ بھی نہیں چاہئیے ہم تمھاری بیٹی کا نکاح اپنے بیٹے کے ساتھ کر کے ونی میں اسے لے کر جائے گے۔۔۔۔۔!! “

شہزاد ملک نے اس کے اعتراض پر شیطانی مسکراہٹ کو دبائے ہوئے کہا۔۔۔!! وہ اس کی گھبراہٹ کو اچھے طریقے سے بھانپ چکے تھے!!!

” اب دیکھو نا تم لوگوں نے قتل کیا ہے ہمارے بھائی کا تو اس کے بدلے کچھ تو گنوانا پڑے گا۔۔۔۔!! “

اب کی مرتبہ شہزاد ملک نہیں بلکہ ان کا بڑا بیٹا ارحم ملک بولا۔۔۔۔ جس پر عباس چوہدری نے ساتھ کھڑے ہوئے اپنے بیٹے وقاص چوہدری کو دیکھا جس نے آج سے کچھ دن پہلے شہزاد ملک کے بیٹے فائق ملک کا دوستوں کی آپسی لڑائی میں قتل کردیا۔۔۔۔۔۔

آج اس بیٹے کی وجہ سے ان کی پھول جیسی بچی کو ونی میں جانا پڑ رہا تھا!!!

ان کے لیے بہت ہی مشکل سماع تھا نا وہ بیٹی کو کھو سکتے تھے اور نا ہی وہ بیٹے کو کھو سکتے تھے!!!

لیکن اب جو جرم انھوں نے کیا تھا اس کی سزا تو انھیں بھگتنی ہی تھی نا”

” عباس تمھیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئیے اس سے!! “

سر پنچ صاحب نے سمجھانے والے لہجے کو اپناتے ہوئے کہا!

” ٹ۔۔ھیک ہے میں ت۔۔یار ہوں اپنی بیٹی کے ن۔۔کاح کے لیے!!! “

عباس چوہدری کے بکھرتے الفاظوں کو سنتے ہوئے ارحم ملک اور شہزاد ملک کو بہت اچھا لگا ان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔”

جبکہ ان کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے کایان ملک کو یہ سب کچھ بہت ہی برا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔!! اسے اپنے کزن کے قتل کا دکھ بہت زیادہ تھا!! بہت مشکل تھا اس کے قتل کو قبول کرنا۔۔۔ پورے خاندان کے لیے۔۔۔ سب ہی بہت بڑے ٹروما سے گزرے تھے۔۔۔۔۔۔

پل پل اس کی یاد انھیں ستاتی تھی۔۔۔ اب سے برا حال تو فائق ملک کی ماں کا تھا!!

لیکن وہ ان چیزوں کو بہت ہی برا سمجھتا تھا۔۔۔۔ معافی بھی تو جائز ہے نا اسلام میں!!

شائید اس وجہ سے کہ وہ کبھی اتنا یہاں رہا ہی نہیں ماں کے انتقال کے بعد وہ اٹلی اسٹڈی کے لیے چلا گیا۔۔۔۔!! اور تقریباً سات سال بعد وہ واپس آیا تھا۔۔۔۔”

یہ سب باتیں اس کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھی!!!”

” ارحم ہم تمھارا نکاح کرنا چاہتے ہیں ازا چوہدری کے ساتھ!! “

شہزاد ملک نے تھوڑی کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے اپنے بڑے بیٹے ارحم سے کہا۔۔۔۔!! جس پر وہ طیش میں آیا!!

” بابا میں اس غلیظ خون سے نکاح نہیں کروں گا!!! جس نے میرے بھائی کا قتل کیا۔۔۔”

ارحم نے اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔

” اگر آپ کو نکاح کرنا ہی ہے تو کایان کا نکاح کروا دے اس لڑکی کا!! اور ویسے اگر میں ایسا کچھ بھی کرو گا تو یہ غلط ہو گا کیونکہ آپ لوگ ہی مجھے پہلے بھی ایک رشتے کے بندھن میں باندھ چکے ہیں!!! اور یہ سراسر ربعیہ کے ساتھ نا انصافی ہوگی!! “

ارحم نے کہا تو شہزاد ملک کو اس کی بات کسی حد تک سہی لگی!! ارحم خاندان کا پہلا وارث تھا جو شہزاد ملک کی دوسری شادی کے دو سال بعد ہوا۔۔۔۔

پہلی شادی ان کی سات سال تک رہی لیکن اولاد نا ہونے کی وجہ سے انھوں نے دوسری شادی کی!! تو اس لحاظ تقریباً نو سال بعد ارحم کی پیدائش ہوئی اور باقی سب اس سے چھوٹے تھے!!

اس کو بہت لاڈ پیار سے پالا گیا۔۔۔۔ اس کی ایک ایک بات کو سر آنکھوں پر رکھا جاتا۔۔۔۔ اور اسی بے جا لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا تھا۔۔۔۔” لیکن اب بھی اس کی ہر فضول بات تک کو مانا جاتا تھا!!!!”

” بالکل ٹھیک کہہ کر رہا ہے میرا بیٹا،، آپ اس ازا سے کایان کا نکاح کروا دیں۔۔۔۔!! ( میرا بیٹا کیوں اس منحوس کے گلے لگے ؟ ) “

شہناز ( ارحم ، رہان کی والدہ ) نے اپنے بیٹے ارحم کا ساتھ دیتے ہوئے کہا!!!

” ٹھیک ہے!! “

شہزاد ملک اس کی بات مان گئے۔۔۔

” واٹ پر تایا جان میں کیسے یہ نکاح کر سکتا ہوں ؟ “

جب شہزاد ملک نے کایان سے ازا چوہدری سے نکاح کی بات کی تو اس کا رد عمل یہ تھا۔۔۔۔

” کیا مطلب کیسے کر سکتے ہو ؟؟ بیٹا اپنے بھائی فائق کے لیے تمھیں یہ نکاح کرنا ہو گا۔۔۔۔۔!! اور ہمیں انکار نہیں سننا۔۔۔۔”

شہباز بیگم نے ٹانگ اڑائی۔۔۔۔!” کایان اپنے مرحوم کزن بھائی کے لیے اتنا تو کر ہی سکتا تھا۔۔۔۔۔

” ٹھیک ہے میں تیار ہوں۔۔۔۔”

کایان نے کہا۔۔۔۔

اس نے اعتراض کرنا چاہا لیکن پھر اس نے یہ سوچ کر ہاں کر دی کہ کبھی نا کبھی تو شادی کرنی ہی ہے نا ؟؟ تو پھر ازا چوہدری سے کیوں نہیں ؟؟

اس کے گھر والے بھی تو یہی چاہتے تھے !!!

” کیا ؟؟ بابا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ م۔۔۔ یرا نکاح !!! “

عباس چوہدری نے گھر پہنچ کر سب کو ساری حقیقت بتائی۔۔۔۔۔ یہ سن کر کہ ازا کا نکاح مخالف گاؤں میں کیا جا رہا ہے اس کی ماں کا دل دہل گیا۔۔۔۔

جبکہ ازا نے حیرانگی کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔”

” بیٹا!! مجھے معاف کر دو!! میں تمھارے ساتھ بہت غلط کر رہا ہوں۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دینا۔۔۔

اس کے علاؤہ ان لوگوں نے کوئی اور شرط رکھی ہی نہیں تھی!! “

عباس چوہدری بیٹی کے سامنے بہت شرمندہ تھے۔۔۔۔۔ جسے انھوں نے ہمیشہ پھول کی طرح رکھا آج خود ہی اسے جہنم میں دھکیلنا پر رہا تھا انھیں۔۔۔۔!!

عباس نے ازا کے سامنے ہاتھ باندھے جسے دیکھ ازا کا دل دہل گیا وہ سختی سے لب بھینج گئی!!!!!

” نہیں بابا یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟؟ اور ویسے بھی میں آپ کے ٬ بھائی کے کام نہیں آؤ گی تو کیا فایدہ؟

بھائی کی جان بچانے کے لیے اگر مجھے اپنی جان بھی قربان پڑی تو میں کر دوں گی۔۔۔۔ اور شائید خدا نے میری قسمت میں یہی لکھا ہے! “

ازا نے بہت بڑے پن کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔! اس کی باتیں سنتے ہوئے اس کا بھائی وقاص چوہدری جو اس کے پاس کھڑا تھا سختی سے آنکھیں میچ گیا!!

” میں تیار ہوں اس نکاح کے لیے!! “

وہ اپنے رونے پر با مشکل قابو کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔! لیکن آنسو بھی آنکھ سے رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے!!!

” مجھے معاف کر دینا ازا!! یہ سب میری وجہ سے ہو رہا ہے!!”

وقاص نے بھی اس سے معافی مانگی۔۔۔۔ چاہے ان کی بنتی نہیں تھی پھر بھی بہن کے درد کا احساس ہی اسے تڑپا رہا تھا!!!!

” کوئی بات نہیں۔۔۔۔ سوائے ایک،، کہ میں آپ سب کو بہت مس کروں گی!! “

اس نے آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کرتے ہوئے باپ کے سینے سے لگتے ہوئے کہا!!

ازا کی زندگی اس شخص سے جڑی تھی جس کے متعلق نا اس نے کبھی سنا اور نا ہی کبھی اس شخص کو دیکھا!! کیا وہ شخص ازا کے حق میں اچھا ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔؟؟

” ازا چوہدری ولد عباس چوہدری آپ کا نکاح کایان ملک ولد زوریز ملک کے ساتھ بعوض حق مہر شرعی کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “

مولوی صاحب کے سوال پر ازا نے آنکھیں سختی سے میچ لی۔۔۔۔!! اسے تو نام بھی اب معلوم ہو رہا تھا اس شخص کا۔۔۔۔!!

” ق۔۔۔بول ہے!!! “

یہ کہتے ہوئے ایک آنسو اس کی آنکھ سے نکلتا ہوا گال پر بہہ گیا۔۔۔۔۔!

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

ازا کے بعد مولوی صاحب کایان سے متوجہ ہوئے اور یہی سارے سوالات اس سے کیے۔۔۔۔

” کایان ملک ولد زوریز ملک آپ کا نکاح ازا چوہدری ولد عباس چوہدری کے ساتھ بعوض حق مہر شرعی کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “

” قبول ہے۔۔۔۔!! “

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

کایان نے تینوں مرتبہ سنجیدگی سے ” قبول ہے ” کہہ کر اسے اپنا بنا لیا تھا۔۔۔۔!! اب ازا چوہدری سے وہ ازا کایان ملک بن چکی تھی۔۔۔۔!!

اس کی زندگی اب ایک نئے موڑ پر چل گئی تھی۔۔۔۔!!! کیا اس نے مشکالات کا سامنا کرنا تھا ؟

پاکستان کی زمین پر اس نے آج پہلی مرتبہ قدم رکھا تھا۔۔۔۔ وہ بچپن سے ہی لنڈن میں رہی تھی۔۔۔۔۔!!! آج انوشا پہلی مرتبہ پاکستان کی سر زمین پر آئی تھی!!

وہ ائیر پورٹ پر پہنچتے ہوئے اس شخص کو ڈھونڈنے لگی۔۔ اسے تجسس تھا کہ اسے ائیر پورٹ سے لینے کون آیا ہے ؟؟

جب ہی اسے ایک شخص وہاں پر نظر آیا جو اس کے نام کا بورڈ لیے کھڑا تھا۔۔۔۔!!! انوشا اس شخص کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔!!

” شائید آپ کسی کو لینے آئے ہیں۔۔۔۔!! “

اس شخص کے قریب جاتے ہوئے انوشا نے آہستگی سے کہا تو زریر جو موبائل استعمال کرنے میں بیزی تھا۔۔۔۔

اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔

” جی اور مجھے لگتا ہے کہ وہ آپ ہی ہیں۔۔۔۔!!! “

زریر نے غور سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ جو چہرے پر غصہ سجائے ہوئے بیٹھی تھی۔۔۔۔!!

” جی۔۔۔۔ اور میں کب سے تمھیں ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔۔ اور تم یہاں موبائل یوز کر رہے ہو۔۔۔۔!!! “

انوشا نے غصے سے کہا تو زریر نے گھور کر اسے دیکھا کہ وہ کس حق سے اس پر چلا رہی تھی۔۔۔۔

” اب میری شکل کیا دیکھ رہے ہو ؟؟ یہ سامان پکڑو اور چلو کتنی گرمی ہے یہاں۔۔۔۔۔!! “

اس سے پہلے کہ زریر کچھ بھی بولتا وہ کافی روڈ ہوتی ہوئی اس سے کہتی ہوئی ہاتھ سے خود کو ہوا دیتی وہاں سے نکلی۔۔۔۔ اور ایک بیگ وہاں چھوڑ گئی۔۔۔

زریر نے اسے دیکھتے ہوئے اپنے غصے پر قابو پایا۔۔۔۔ اس کی اتنی ہمت کہ وہ اس پر حکم چلائی گی ؟؟ زریر سختی سے بیگ کو زمین پر پٹکا اور اسے گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ لے جانے لگا۔۔۔۔

گاڑی کے پاس پہنچ کر زریر نے بیگ کو گاڑی ڈگی میں رکھا اور اس کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔۔۔۔

” میں پیچھے بیٹھو گی۔۔۔۔!! “

وہ مسکرا کر کہتی ہوئی پیچھے کا دروازہ کھولتی وہاں پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ زریر کو ایک مرتبہ پھر سے اس پر غصہ آیا۔۔۔۔

” یہ سمجھتی کیا ہے خود کو ؟؟ اس کی عقل ٹھکانے لگانی پڑے گی۔۔۔!! “

غصے سے وہ سوچتا ہوا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتا ہوا گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔۔۔۔!! جبکہ انوشا پیچھے بیٹھ اپنی تھکاوٹ اتارنے کے لیے سو چکی تھی،،،

” ارحم ملک اور رہان ملک ” دونوں سگے بھائی تھی۔۔۔۔ یہ دونوں شہزاد ملک کے بیٹے تھے۔۔۔۔۔

اور ان میں ارحم سے چھوٹا تھا کایان ملک۔۔۔۔!!

جو شہزاد ملک کے چھوٹے بھائی زوریز ملک کا بیٹا تھا۔۔۔۔ اس کی پیدائش کے تقریباً ساڑھے سات سال بعد کایان کی والدہ کا انتقال کینسر کی بیماری کی وجہ سے ہو گیا تھا۔۔۔۔

اس کے بعد کایان اپنی خالہ کے ساتھ اٹلی شفٹ ہو گیا۔۔۔۔ اور جب وہ چودو سال کا ہوا تو والد بھی اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔۔۔۔ اس کے لیے یہ بالکل بھی قابلِ برداشت نہیں تھا۔۔۔ لیکن وہ صبر کرنے کے علاؤہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔

لیکن جانے سے پہلے اپنا سارا کاروبار اور حویلی کا حصہ اس کے نام کے گئے۔۔۔۔ اس دوران وہ دو سال تک یہاں رہا لیکن پھر واپس اٹلی چلا گیا۔۔۔۔

اور اپنی اسٹڈیز کانٹنیو کی۔۔۔۔ اور اب جب وہ پچیس سال کا ہو گیا تو اپنی پڑھائی مکمل کر کے اپنے والد کے بزنس کو سنھبالنے کے لیے حویلی واپس آگیا۔۔۔۔

اور سب حویلی والے اس بات سے بہت زیادہ خوش بھی تھے۔۔۔۔

اب اگر ہم بات کریں شہزاد ملک کے سب چھوٹے بھائی جو زوریز ملک سے بھی چھوٹے تھے ” باسط ملک ” جن کی ایک چاند سی بیٹی تھی ” ربعیہ ملک “

جس کا رشتہ انھوں نے بڑے بھائی کے کہنے پر اپنے بیٹے ارحم کے ساتھ کر دیا تھا۔۔۔۔۔!! لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ فیصلہ اس معصوم کے لیے کتنا برا ثابت ہونے والا ہے۔۔۔۔

ربعیہ تقریباً اکیس سال کی تھی جبکہ ارحم ملک اٹھائیس سے زیادہ عمر کا شخص تھا۔۔۔۔۔ رہان ملک چوبیس سال کا تھا۔۔۔۔”

لیکن اس عمر میں بھی وہ ایک میچور شخصیت سے کم نا تھا۔۔۔۔!!!

اور اگر ہم بات کریں ازا چوہدری کی تو وہ بائس سال کی عمر میں ہی ونی میں جا چکی تھی۔۔۔۔۔!!

زمہ داریوں کا بوجھ اس کے سر پر آن پڑا تھا۔۔۔۔!! نا جانے وہ یہ سب کیسے سنبھالے گی ؟ یقیناً یہ سب اس کے لیے بہت زیادہ مشکل ہونے والا تھا۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *