Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 41)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 41)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
عروسی رنگ کا جوڑا پہنے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہوئی تو ایک دلفریب مہک نے اس کا استقبال کیا۔۔۔!!
کمرے کے دروازے پر پہنچتے ہی ربعیہ کے لبوں پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔ وہ آہستگی سے اندر کی طرف بڑھی۔۔۔۔!!
اندر رہان جس نے اندر کمرے کو اس کے لیے سجا کر رکھا تھا۔۔۔۔!! گلاب کے پھولوں کی پتیاں پچھی ہوئی تھی۔۔۔۔ لال پتیوں کے درمیان خوبصورت سا کر کے مختصر طور پر لکھا ہوا تھا کہ ” آر پھر دل آر ” جس کا اگر مطلب نکالا جائے تو رہان لو ربعیہ !!
اسے دیکھتے ہوئے ربعیہ مسکرائی تھی۔۔۔ اور اس کی طرف بڑھی۔۔۔
” یہ سب کس لیے ؟ “
ربعیہ نے آنکھوں میں سوال لیے ہوئے اس سے سوال کیا کہ یہ سب تیاریاں اس نے کیوں کی ہیں۔۔۔؟؟
جب ہی رہان جو بالکل سامنے کھڑا تھا اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے اس کی کمر کے گرد حائل کرتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔
” آپ ہی کہہ رہی تھی کہ آپ کو جلن ہو رہی تھی کہ لڑکیاں مجھ سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔!!!
تو میں نے سوچا کہ میں آپ کی جلن کو ختم کر دو۔۔۔۔ “
اس کی کمر کے گرد بازو حائل رہان نے لبوں پر مسکراہٹ لیے ہوئے پیار بھرے لہجے میں اس سے کہا۔۔ ربعیہ نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
” جلن تو آپ کو بھی ہو رہی تھی۔۔۔!!! جب اس لڑکے نے مجھ سے بات کی تھی۔۔۔ “
ربعیہ نے اس انداز میں ہی اس سے کہا تھا جس انداز میں رہان نے اس سے بات کی تھی۔۔۔۔ اس کی بات پر رہان نے اسے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھا۔۔۔
” اسی وجہ سے تو میں نے یہ سارا کمرہ تیار کیا ہے کہ ہمارے درمیان کوئی ایسا تعلق ہی نا بچے جس سے ہمیں ایک دوسرے سے جلن ہو۔۔۔!!
بلکہ ہم ہمیشہ کے لیے ایک ہو جائیں۔۔ ایک دوسرے کے قریب آ جائے اور اتنا قریب آ جائیں کہ ہمیں کوئی بھی الگ نا کر سکے!!! ہم ایک ہو جائیں۔۔!!! “
اس کے بے باک الفاظ سنتے ہوئے ربعیہ کا چہرہ کانوں تک سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔! وہ جو رہان پر نظریں گاڑھے ہوئے کھڑی تھی اس کی باتیں سن کر ربعیہ نے اپنی نظریں گھمائی۔۔۔!!!
اس سے پہلے کہ ربعیہ اسے مزید کچھ بھی کہتی ہوئی وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا۔۔۔۔ اور اس کے لبوں کو اپنی سخت گرفت میں لیتے ہوئے اس کے سانس کو پھولنے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔
کچھ دیر کے بعد آہستگی سے وہ پیچھے ہٹتا ہوا اس کے ماتھے پر پھیلے ہوئے بالوں کو ان پر سے ہٹا گیا تھا۔۔!! جیسے ہی ربعیہ کو اس کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہوئی محسوس ہوئی تو ربعیہ فوراً پیچھے ہوئی!!!
” اتنی بھی جلدی کیا ہے بیگم ؟ آج رات آپ کو مجھ سے کوئی بھی بچا نہیں سکتا !! “
ربعیہ نے پیچھے ہونے کی کوشش کی لیکن رہان نے ایک مرتبہ پھر سے اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے ذو معنی لہجے میں کہا تو ربعیہ کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔
اس کے چہرے پر شرم کے تاثرات ظاہر ہو رہے تھے۔۔۔ جبکہ رہان ملک کی بے باکیاں عروج اختیار کر چکی تھی۔۔۔ گہری رات ڈھلتی جا رہی تھی۔۔۔۔جو دو جانوں کا ملاپ کروا گئی تھی!!
” کیا ہوا بہت خوش نظر آ رہے ہیں ؟ “
ازا شہناز بیگم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔!! لیکن جب وہ کمرے میں پہنچی تو کایان کو فون پر کسی سے باتوں میں مصروف پایا۔۔۔ تقریباً دس منٹ کے بعد کایان نے فون بند کیا۔۔۔!!
ازا نے اس سے دریافت کیا کہ وہ بہت خوش نظر آ رہا ہے ؟؟ کایان مسکراتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا!!
” جی وہ میرے دوست کا بیٹا ہوا ہے۔۔۔!!! “
ازا کی بات سنتے ہوئے اس نے مسکرا کر ازا کی طرف دیکھا اور اسے بتایا کہ اس کے دوست کا بیٹا ہوا ہے!!!
” ما شاءاللہ یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔۔!! “
اس کی بات سنتے ہوئے ازا کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔ کایان اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا۔۔۔۔
” آپ کو پتہ ہے کایان !! مجھے بچے بہت زیادہ پسند ہیں۔۔”
ازا نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔۔!!
” ہاں بھئی مجھے بھی بچے بہت پسند ہیں!!! اللہ کرے کہ ہمارے بچے بھی جلدی سے ہو۔۔۔ میری خواہش ہے کہ میری ایک کیوٹ سی بیٹی ہو۔۔۔!! “
اس کی باتیں سن کر ایک لمحے کے لیے تو ازا مسکرائی لیکن پھر وہ اس بات کا دوسرا حصہ سنتے ہوئے شرما سی گئی۔۔۔
” کایان م۔۔جھے ک۔۔چھ کام ہے میں پہلے وہ کر کو پھر آتی ہوں “
ازا نے ہلکے سے ہچکچاہٹ بھرے لہجے میں اسے بتایا کہ وہ مصروف ہے کچھ کام کرنا ہے وہ کر کے آئے گی۔۔۔!! یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکلنے ہی لگی تھی۔۔۔۔!! جب ہی کایان نے تھوڑا سا آگے ہوتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روکا۔۔۔
” کوئی بھی کام نہیں ہے !!! آپ کو پتہ نہیں ہے شوہر کے ہوتے ہوئے سارے کاموں کو خدا خافظ کہہ دینا چاہئیے۔۔۔!! اور صرف اپنے شوہر کو وقت دینا چاہئیے۔۔۔!!
لیکن ایک آپ ہیں جو مجھے دیکھتے ہی ایسے بھاگنے کی کوشش کرتی ہیں جیسے میں کوئی جلاد ہوں اور کھا جاؤ گا آپ کو “
وہ بیڈ پر اسے اپنے سامنے بیٹھاتے ہوئے اسے سمجھانے والے لہجے میں بتانے لگا کہ جب بھی شوہر ہو بیوی کے پاس تو بیوی کو ہر کام کو خدا خافظ کہہ دینا چاہئیے اور صرف اور صرف اپنے شوہر کو وقت دینے کی کوشش کرنی چاہئیے!! لیکن وہ تو اسے دیکھتے ہی بس اس سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے! ازا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی اس کے شکوے پر وہ اسکے سامنے بیٹھ گئی تھی۔۔۔
” مجھے یہ بتائیں کہ جب ہمارے بچے جو نگے تو ہم ان کا نام کیا رکھیں گے ؟؟؟ “
وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔۔۔!! جب ہی کایان جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا اسے سامنے دیکھ کر وہ سیدھا ہو کر بیٹھتا ہوا اس سے سوال کرنے لگا !!!
ازا اس کی باتوں پر ہلکا سا مسکرائی تھی!!
” اممم!!! اگر ہمارا پیارا سا بیٹا ہوا تو ہم اس کا نام ” سادان ” رکھیں گے اور اگر ایک کیوٹ سی بیٹی ہوئی تو اس کا نام۔۔۔۔”
” بیٹی ہوئی تو اس کا نام میں رکھوں گا “
ازا سوچ کر بولنے میں مصروف تھی ہی کہ کایان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے اسے کہا کہ اگر ان کی بیٹی ہوئی تو اس کا نام وہ رکھے گا۔۔۔!! جس پر ازا مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگا لگی۔۔۔!!
” اگر ہماری بیٹی ہوئی تو اس کا نام ہم ” ماہم ” رکھیں گے۔۔۔۔!! “
کایان نے اسے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے گھر اللہ کی رحمت ہوئی تو وہ اس کا نام ” ماہم ” رکھیں گے۔۔۔ ازا مسکرائی۔۔۔
” بیٹا !!! ہو یا بیٹی !! اللہ کسی نے کسی سے نوازے گا تو سہی۔۔۔ بس میری یہی خواہش ہے کہ اللہ ہمیں جلد اس نعمت سے نواز دے۔۔۔!!! آمین۔۔!”
کایان نے مسکراتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی اللہ انھیں جس سے بھی نوازے۔۔۔!!! اس کی خواہش ہے کہ اللہ انھیں جلد از جلد اس نعمت سے نواز دے سہی۔۔۔۔!! جس پر ازا نے ” آمین ” کہا تھا۔۔۔ اس کے آنے سے ازا کی زندگی بہت حسین ہو گئی تھی۔۔۔
اب اس کی خوشیوں کی وجہ صرف ” کایان ملک ” ہی تھا۔۔۔ وہ یونہی کچھ دیر تک باتیں کرتے رہے!
کنول بیگم فاریہ کے کمرے سے نکل گئی تھی!!! جبکہ فاریہ وہی بیٹھی رہ گئی تھی۔۔۔ وہ بہت بڑے شاک میں تھی۔۔۔ جب ہی اسے کسی کے بھاری قدموں کی آہٹ سنائی دی۔۔۔
فاریہ نے فوراً نظریں اٹھا کر اس شخص کی طرف دیکھا۔۔۔ سامنے ہی آتش کاظمی کھڑا تھا!!
جو افسردہ دیکھائی دے رہا تھا۔۔ جس کے چہرے پر دکھ کے سوا کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔
فاریہ نے لا چارگی سے اسے دیکھا اور فوراً اس کی طرف لپکی۔۔۔۔!!! وہ جو سامنے چپ چاپ، خاموش سا کھڑا تھا۔۔۔ سامنے سے آتی فاریہ کو دیکھ کر بھی وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا تھا۔۔۔ اس کے قریب پہنچتے ہوئے وہ اس کے گلے سے جا لگی تھی۔۔۔کچھ لمحات گزرنے کے بعد آتش نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے مزید اپنے قریب کر لیا تھا۔۔۔
” آیم سوری آتش !!! مجھے آپ سے یہ بات نہیں چھپانی چاہئیے۔۔۔ آتش پلیز مجھے معاف “
” شش!!! فاریہ جی معافی تو مجھے مانگنی چاہئیے آپ سے !!! جو آپ کے بارے میں سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی میں نے آپ کا یقین نہیں کیا۔۔۔ مجھے لگا کہ میری خالہ ہیں وہ ایسا کیسے کر سکتی ہیں ؟ لیکن وہ تو میری کچھ بھی لگتی تھی ہی نہیں !!! اگر انھوں نے کبھی مجھے پیار دیا تھا بھی تو صرف اور صرف اپنا مقصد نکلوانے کے لیے۔۔۔۔!!!!
مجھے معاف کردیں فاریہ مجھے آپ کی بات سننی چاہئیے تھی “
فاریہ کی آنکھیں بھر آئی تھی۔۔۔ اسے لگا کہ آتش اب بھی اس سے ناراض ہے وہ نہیں جانتی تھی کہ آتش ساری حقیقت جان چکا ہے۔۔۔ وہ معافی مانگنے لگی اس سے لیکن آتش نے اس کی بات کو درمیان میں ہی کاٹتے ہوئے اپنی الفاظ ادا کیے۔۔۔!!
اس کی باتوں سے فاریہ ہر یہ واضح ہوا تھا کہ وہ ساری حقیقت، کنول بیگم کے متعلق سارے سچ جو جان گیا تھا۔۔۔! آتش نے اس سے معافی مانگی تھی کہ اس نے کیوں اس کا یقین نہیں کیا۔۔؟ یہ تو سب سے بڑی غلطی تھی اس کی،، اس نے فاریہ کا یقین نہیں کیا۔۔۔!!! فاریہ کا یقین کرنا تو دور کی بات اس نے تو فاریہ کی بات ایک مرتبہ بھی سننے کی کوشش نہیں تھی۔۔۔!!! لیکن اب کنول کی ہی باتوں سے اسے سارا سچ معلوم ہو گیا تھا۔۔۔!! کہ کنول نے ہی اس کے ماں باپ، اور اس کی پھوپھو پھوپھا یعنی فاریہ کے ماں باپ کا ق*تل کروایا تھا۔۔ وہ اس کی سگی خالہ نہیں ہے بلکہ اس کا تو کوئی رشتہ ہی نہیں ہے آتش سے !!!
” نہیں۔۔۔۔!!! آپ کیوں معافی مانگ رہیں ہیں مجھ سے ؟ غلطی تو میری تھی نا مجھے آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہئیے تھا۔۔۔۔ خیر یہ سب باتیں چھوڑیں جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے اب ہم آگے کیا کریں گے ؟ “
فاریہ جو اس کے سینے سے لگی ہوئی تھی وہ تھوڑا سا پیچھے کی طرف ہوئی اور اس کی گالوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے پیار بھرے لہجے میں کہا۔۔۔ اور پھر آخر میں اس سے سوال کیا کہ اب جب وہ سارا سچ جان چکا ہے تو اب وہ کیا کریں گے ؟
” کرنا کیا ہے ؟ ہم ان کے خلاف ثبوت ڈھونڈیں گے۔۔۔!! اور انھیں سزا دلوائے گیں۔۔۔ چار ق*تل کیے ہیں انھوں نے۔۔۔۔ معافی تو نہیں ملے گی !!! “
آتش نے اس کی بات سنتے ہوئے چہرے پر سنجیدگی لیے ہوئے اس سے کہا۔۔۔
” ثبوت اکٹھا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔!! کیوں کہ کنول بیگم کے خلاف سارے ثبوت میں پہلے ہی اکٹھا کر چکی ہوں۔۔! اب بس انھیں پولیس کے حوالے کرنا باقی رہ گیا ہے۔۔!!”
اس کی بات سن کر آتش نے حیرانگی سے اسے دیکھا جو بہت تیز ثابت ہوئی تھی اس معاملے میں۔۔۔ لیکن اسی وقت انھیں پیچھے سے کسی کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ دونوں جیسے ہی مڑے تو پیچھے کوئی شخص ان کر بندوق تان کر کھڑا تھا۔۔۔ اسے دیکھتا آتش فوراً فاریہ کے سامنے آ کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔!
رات کی گہرائی دن کے اجالے میں تبدیل ہو چکا تھا۔۔۔
مہندی اور بارات کا فنکشن ہو جانے کے بعد ولیمے کے فنکشن کی تیاریاں دھوم دھام سے جاری تھی۔۔۔
انوشا کو بیوٹیشنز کچھ دیر پہلے ہی تیار کر کے گئی تھی۔۔۔!!! وہ لائٹ پنک کلر کے موتیوں سے بھرے لہنگے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
زریر بھی بلیک کلر کے تھری پیس پینٹ سوٹ میں ملبوس بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔ وہ کمرے کا دروازا کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا۔۔۔ اور سیدھا انوشا کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
وہ اس کی پشت کو اپنے سینے سے لگاتا ہوا اس کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی ٹکا گیا تھا۔۔۔۔!!!
” بہت خوبصورت لگ رہی ہو تم۔۔۔۔۔!!!! “
اس کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی ٹکائے ہوئے اس نے مسکرا کر خمار آلود لہجے میں کہا۔۔۔ تو انوشا ہلکا سا مسکرائی!!!
جب ہی زریر نے اسے اس کے بازوؤں سے پکڑتے ہوئے اپنے طرف موڑا۔۔۔!!!!!!
” تو پھر کیسا لگ رہا ہے انوشا ؟ “
اس نے سوال کیا تھا۔۔۔
” انوشا ؟؟؟؟ مسسز زریر عباس”
انوشا نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی حیرانگی بھری مسکراہٹ بھر گیا۔۔۔۔! انوشا نے فخریہ لہجے میں کہا تھا۔۔
” چلیں ؟ لوگ انتظار کر رہے ہیں “
زریر نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا تھا کیونکہ ولیمے کا فنکشن شروع ہونے والا تھا وہ دونوں چہرے پر خوشی، مسکراہٹ، لیے ہوئے کمرے سے نکل گئے تھے۔۔۔!!
وہ ٹھیک اس جگہ پر پہنچ گئی تھی جہاں اس کی امی نے اسے بھیجا تھا کچھ سامان دے کر تا کہ وہ سامان اپنی ماں کی دوست تک پہنچا سکے۔۔۔!!
شہناز بیگم نے اسما کو ایک ہوٹل میں اپنی دوست سے ملنے کا کہہ کر اسے بھیجا تھا اور اسے کچھ سامان دیا تھا یہ کہہ کر کہ وہ یہ سامان اس کی دوست کو دے آئے !
وہ ہوٹل کے ٹھیک اس کمرے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔!! جس کے متعلق اسے شہناز بیگم نے بتایا تھا۔۔۔!!!
اسما نے دروازہ کھڑکایا تو ایک چھوٹے قد کی خاتون نے دروازہ کھولا۔۔۔!!!!! اسما سلام لیتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔ لیکن جیسے ہی وہ اندر پہنچی اور وہ سامان بیڈ پر رکھا تو وہ عورت کمرے سے نکل گئی اور ایک شخص کمرے میں داخل ہوا۔۔۔!! جسے دیکھ کر اسما حیران رہ گئی تھی۔۔۔ ان دونوں کے علاؤہ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔۔۔”
