Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 4)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt


فجر کی اذان سے ازا کی آنکھیں کھلی تھی۔۔۔۔۔!! وہ آہستگی سے اٹھی۔۔۔۔ وہ خود کو فریش محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔!!! کیونکہ نیند پوری ہو جانے کی وجہ سے اب اس کی ساری تھکان دور ہو گئی تھی۔۔۔۔

اس کی گھڑی پر نظر پڑی تو دیکھا کہ صبح کے ساڑھے چار بج رہے تھے وہ بیڈ سے نیچے اتری۔۔۔۔۔ اس نے کمرے میں نظر دوڑائی تو اسے کایان کہیں بھی نظر نہیں آیا۔۔۔۔

لیکن جیسے ہی اس کی نظر صوفے پر پڑی تو وہاں پر ایک تکیہ پڑا ہوا نظر آیا۔۔۔۔ جس سے وہ یہ جان گئی کہ کایان رات کو کمرے میں ہی تھا۔۔۔۔۔!!

لیکن ابھی وہاں پر وہ موجود نہیں تھا۔۔۔۔۔ ازا آہستگی سے اٹھی اور فریش ہو کر وضو کرنے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

وضو کر کے اس نے نماز ادا کرنے کے لیے جائے نماز بچھایا اور نماز شروع کی۔۔۔۔ نماز مکمل کرنے کے بعد اس نے تسبیح کر کے خدا سے دعا مانگنے کے لیے ہاتھ اٹھائے۔۔۔۔۔ پہلے درود شریف پڑھا اور پھر بولنا شروع کیا۔۔۔

” اے میرے اللہ۔۔۔۔!! تو غفور الرحیم ہے تو ہی ہمارا مالک ہے!! یا اللہ میری زندگی میں جو بھی ہو رہا ہے بے شک وہ تو نے ہی میری قسمت میں لکھا تھا۔۔۔۔

یا اللہ میرے میں تجھ سے صرف اتنا چاہتی ہوں کہ تو میرے والدین کو صبر عطا فرمانا۔۔۔۔ یا اللہ میری ہر مشکل کو آسانی میں بدلنا۔۔۔۔ بے شک تو نہایت رحم کرنے والا اور بخشنے والا مہربان ہے!! آمین ثم آمین “

یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے اس نے اپنی پوری کی۔۔۔۔ اس کی آنکھ سے آنسو بہا لیکن اس نے ہمت کرتے ہوئے اسے صاف کر دیا۔۔۔۔۔!!

اور اٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت شروع کی۔۔۔۔۔۔” قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے بعد وہ قرآن پاک کو اس کی جگہ پر واپس رکھ گئی۔۔۔۔

ازا نے جیسے ہی نظر دوبارہ گھڑی کی طرف دوڑائی تو دیکھا کہ وقت چھ کے قریب تھا۔۔۔۔ لیکن کایان ابھی تک لوٹا نہیں تھا۔۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ؟؟ باہر کہ نا جائے!! اس کا حلیہ بھی بہت خراب تھا اس نے کل سے ہی ایک جوڑا پہنا ہوا تھا۔۔۔۔!!!!!!”

کایان نے کہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں بعد میں بات کرے گے ؟؟ لیکن اب وہ کیا کرے ؟ وہ گھبرا رہی تھی۔۔۔۔

” کیا فرق پڑتا ہے کہ میں ان کپڑوں میں جاؤ یا کسی اور کپڑوں میں۔۔۔۔۔ میں اس حویلی کی بہو تھوڑی نا ہوں۔۔۔۔ میں تو ونی میں آئی ہوں۔۔۔۔!! “

ازا نے مایوسی سے کہا۔۔۔۔۔

” فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔!!! حویلی کی بہو ہیں آپ تو یہ کپڑے کچھ سوٹ نہیں کر رہے آپ پر۔۔۔۔ آپ چینج کر لیں۔۔۔۔۔!!! “

اس کی بات سن کر پیچھے کھڑے شخص نے کہا تو ازا اس کی طرف مڑی۔۔۔۔ کایان کو اس کا شفاف چہرہ چمکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔ اور حجاب جو اس نے دوپٹے کا ہی کیا ہوا تھا اس کی خوبصورتی کو مزید چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔۔

” یہ لیں میں آپ کے لیے کپڑے لے آیا ہوں۔۔۔۔ آپ ان میں سے کوئی بھی اچھا سا جوڑا پہن لیں۔۔۔۔!!! “

کایان نے پانچ سے چھ بیگ اس کے سامنے رکھے جو کپڑوں سے بھرے پڑے تھے۔۔۔۔ ازا نے حیرانگی سے اسے دیکھا کہ وہ اتنی صبح اس کے لیے کپڑے لینے گیا تھا ؟

” یہ میرے لیے ہیں۔۔۔۔۔!!! “

ازا نے حیرانگی سے کہا۔۔۔۔

” ظاہر سی بات ہے میں تو لڑکیوں والے کپڑے نہیں نا پہن سکتا!!! تو یہ آپ کے لیے ہی ہیں۔۔۔۔۔!! “

کایان نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔ اس کی بات کر وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔

” پر یہ تو بہت مہنگے ہیں۔۔۔۔!! “

ازا نے معصومیت سے کہا۔۔۔۔

” آپ ان چیزوں کو چھوڑیں اور یہ والا ڈریس پہنے۔۔۔۔!!! “

کایان اس کی معصومیت پر مسکرایا اور اسے ایک نیلے رنگ کا خوبصورت ڈریس نکال کر دیا۔۔۔۔!!! اور کہا کہ ازا یہ والا ڈریس پہنے!!

ازا آہستگی سے سر ہاں میں ہلاتی ہوئی وہ کپڑے لیتے ہوئے وہاں سے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

کپڑے چینج کر کے جیسے ہی وہ نکلی تو سامنے ہی کایان کو پایا۔۔۔۔ کایان جو فون یوز کرنے میں بیزی تھا۔۔۔۔۔۔

جیسے ہی دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو نگاہوں سے جھکنے سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔۔

ازا بلیو کلر کے جوڑے میں نہایت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ ایک لمحے کے لیے تو کایان کا دل کیا کہ یہ لمحہ یہی رک جائے۔۔۔۔۔ اور یونہی وہ اسے دیکھتا رہے۔۔۔۔۔

بغیر میک اپ کے۔۔۔۔ بغیر زیورات کے بھی وہ کسی آسمان سے اتری ہوئی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔ اس کی جھکی نظریں کایان کے دل کو چھو رہی تھی۔۔۔۔

لیکن پھر وہ ان خیالات سے باہر نکلا۔۔۔

” چلیں ؟؟ “

کایان نے آہستگی سے سوال کیا۔۔۔۔

” جی۔۔۔۔”

ازا نے نظریں جھکائے ہوئے کہا۔۔۔”

ازا کا جواب سنتے ہی وہ اسے لیے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔!!! ازا کو اس بات کی بہت خوشی تھی کہ چاہے پورا خاندان اس کے خلاف ہی کیوں نا تھا،،، لیکن اس کے شوہر نے اس کا ساتھ دیا تھا،،، اور اسے امید تھی کہ آگے بھی وہ ہمیشہ اس کا محافظ بن کر رہے گا اس کے سامنے۔۔۔۔

” کہاں جا رہی ہو ؟؟ “

کایان ازا کے ساتھ باہر نکلا ہی تھا کہ اسے آفس سے ایک نہایت ہی اہم فون کال آگئی تھی۔۔۔۔۔ جس کو اٹینڈ کرنے کی غرض سے وہ باہر بڑھ گیا۔۔۔۔ ازا ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی جب ہی شہناز بیگم کی نظر اس کر پڑی تو انھوں نے غصے والے لہجے میں پوچھا۔۔۔۔

” وہ کایان۔۔۔۔!! “

وہ کچھ کہنے ہی لگی کہ شہناز بیگم نے اس کی بات کاٹی۔۔۔۔

” کیا کایان ؟؟ اور یہ تمھیں کپڑے کس نے لا کر دیے ؟؟ مت بھولو نوکرانی ہو۔۔۔ بہو رانی نہیں۔۔۔۔ جو یہ کپڑے پہنیں ہیں۔۔۔۔

ابھی کے ابھی یہاں سے دفع کو جاؤ اور جا کر ان کپڑوں کو چینج کرو سمجھی۔۔۔۔!!! “

انھوں نے غصے سے کہا۔۔۔۔

” جی ٹھیک ہے پر وہ کایان۔۔۔۔!! “

ازا کچھ کہنے ہی لگی۔۔۔

” کیا کایان ؟؟؟ تمھیں میری بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔۔ آگے سے زبان چلا رہی ہو تم ؟؟ شہناز بیگم کے سامنے!!! “

وہ غصے میں آپے سے باہر کو گئی۔۔۔۔ جب ہی ان کا ہاتھ ازا پر اٹھا۔۔۔۔ ازا نے آنکھیں فوراً بند کر لی۔۔۔

لیکن شہناز بیگم کا ہاتھ کسی نے ہوا میں ہی روک دیا تھا۔۔۔۔۔!!! وہ کوئی اور نہیں کایان تھا۔۔۔۔۔جو ابھی ہی فون کال سن کر ازا کے پاس آیا تھا۔۔۔۔!! جب ازا نے آنکھیں کھولیں تو اسے سامنے پایا۔۔۔۔!!!!!

شہناز بیگم نے غصے سے اپنا ہاتھ کایان نے ہاتھ سے چھڑایا۔۔۔۔ جس کی آنکھوں میں غصے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔۔!!!

” کایان تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرا ہاتھ روکنے کی ؟؟ “

شہناز بیگم نے غصے سے کہا۔۔۔۔۔

” آپ کی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی ؟؟ “

دوبدو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا گیا۔۔۔۔

” تم اس منحوس کی وجہ سے مجھ سے سوال کر رہے ہو کایان۔۔۔۔؟؟؟ “

شہناز بیگم نے حقارت بھری نگاہ سے ازا کی طرف دیکھا جو کایان کے پیچھے کھڑی تھی۔۔۔۔۔!!!

” یہ منحوس نہیں اس حویلی کی بہو رانی اور میری بیوی ہے۔۔۔۔!!! “

کایان نے ان کے لہجے میں ہی کہا تو شہناز بیگم نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔!!

” یہ اس گھر کی بہو نہیں میرے بیٹے فائق کے قاتل کی بہن ہے۔۔۔۔۔۔ جب بھی میں اسے دیکھتی ہوں تو مجھے میرے فائق کی لاش دیکھائی دیتی ہے۔۔۔۔ میرا دل کرتا ہے کہ میں اسے مار دوں۔۔۔۔!! “

انھیں نے آنکھوں میں آنسو لیے ہوئے کہا اور آخری جملہ اتنی شدت سے کہا جیسے اگلے کہ لمحے وہ ازا کی جان لے لیں گی۔۔۔۔

” ازا آپ روم میں جائیں۔۔۔۔۔!! “

شہناز بیگم کی حالت کو دیکھتے ہوئے کایان کو یہی صحیح لگا تو اس نے ازا سے بڑے احترام سے کہا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر ازا فوراً وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔!!!! شہناز بیگم نے اسے غصے سے دیکھا۔۔۔۔

” کیا آپ کے بیٹے کا قتل ازا نے کیا ہے ؟؟ “

کایان نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے سوال کیا۔۔۔

” نہیں۔۔۔!! لیکن آئی تو یہ میرے بیٹے کے قتل کے عوض ہی ہے نا!!”

شہناز بیگم کی آنکھ سے آنسو بہا۔۔۔۔۔ وہ منظر بار بار ان کی آنکھوں کے سامنے آ رہا جب ان کے بیٹے کی لاش ان کے سامنے لائی گئی تھی۔۔۔۔۔

” کیا فائق تمھارا بھائی نہیں تھا ؟ کیا تمھارا دل نہیں کرتا اس کے قتل کا بدلہ لینے کا۔۔۔۔۔!! کیا تمھیں اس کی یاد نہیں آتی ؟؟ “

شہناز بیگم نے اسے ایمویشنل بلیک میل کرنا شروع کیا۔۔۔۔ تا کہ وہ ازا کا ساتھ دینا چھوڑ دے۔۔۔۔

” تائی جان۔۔۔۔!! بدلہ اس انسان سے لیا جاتا جس نے آپ کا کچھ بگاڑہ ہو۔۔۔۔۔ لیکن وہ شخص جس نے آپ کو اپنی زندگی میں کبھی دیکھا بھی نا ہو تو اس سے بدلہ کیسا ؟؟ “

کایان نے آرام سے انھیں سمجھایا تو وہ چپ کر گئی۔۔۔۔

” کیا قرآن میں کہیں بھی یہ لکھا گیا ہے کہ بدلہ لینا جائز ہے ؟ نہیں۔۔۔۔ کیا کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلے کو صحیح کہا ہے ؟ نہیں۔۔۔۔

بلکہ وہ تو ان چیزوں کو بہت معیوب سمجھتے تھے۔۔۔۔۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلہ سے زیادہ معافی کی اہمیت بیان کی ہے۔۔۔۔!!!!

جب انھوں نے اتنی عظیم الشان ہستی ہو کر کبھی بھی کسی سے بدلہ نہیں لیا تو ہم تو پھر عام سے انسان ہیں۔۔۔۔

ہم کون ہوتے ہیں بدلہ لینے والے ؟؟ مجھے آپ خود بتائیں جو کچھ بھی میں نے کہا کیا اس میں سے کچھ بھی غلط ہے ؟؟؟ “

کایان نے قرآن و سنت کا حوالہ دیتے ہوئے شہناز بیگم کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔ کایان کی باتیں سن کے شہناز بیگم خاموش ہو گئیں۔۔۔۔ کیونکہ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ جو کچھ بھی کایان کہہ رہا تھا وہ سب کچھ سچ ہی تھا۔۔۔۔۔!!

کچھ لمحات کے لیے وہاں ہر خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔۔

” جو بھی ہے اس لڑکی کو میں کبھی بھی اس گھر کی بہو نہیں مانو گی۔۔۔۔۔ سمجھے!! “

کچھ لمحات تک جب شہناز بیگم خاموش رہی تو فائق کا خون سے لت پت جسم ان کی نظروں کے سامنے آ گیا۔۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہے۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد شہناز بیگم نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے۔۔۔۔!!! اور ناراض لہجے میں کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔

” پر میں آپ کو ازا کو کوئی بھی تکلیف نہیں پہنچانے دو گا تائی جان۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اب میں وہ سات سال کا چھوٹا بچہ نہیں جسے آپ ڈرا کر کمرے میں بند کر دے گی۔۔۔۔!!!! اور میں ڈر جاؤ گا۔۔۔۔!! “

کایان کے ذہن میں اس کے بچپن کی تلخ یادیں ڈوری تو اس نے شہناز بیگم کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔!!

” ارحم آپ نے کہا تھا کہ آپ میرے گھر رشتہ بھیجے گے ہم ایک ہو جائیں گے۔۔۔۔!!!! “

ہوٹل کے کمرے میں وہ شرٹ لیس بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ جب ہی حوریں کپڑے پہنتی ہوئی واش روم سے نکلی۔۔۔۔ ارحم کے لباس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ایک حسین رات اس کے ساتھ گزار چکا ہے۔۔۔۔

جب ہی حورین نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔ اس کی بات کو سنتے ہوئے ارحم نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔!

” کونسا رشتہ ؟؟ میں نے کب کہا ؟؟ اور رہی بات ایک ہونے کی تو ہم ایک ہو تو گئے۔۔۔۔!! اور کیا چاہئیے ؟ “

اس کی سرد لہجے میں کہی گئی باتیں حوریں کو دھنک کر گئی تھی۔۔۔۔!! سارا کچھ خود کہنے کے باوجود وہ اپنی ہی بات سے مکر گیا تھا۔۔۔۔!!

” ارحم۔۔۔۔!! آپ مزاق کر رہے ہیں نا ؟؟؟ “

حوریں نے اس بات کو مزاق لیتے ہوئے کہا تو وہ مسکرایا۔۔۔۔

” ڈئیر ارحم ملک کو مزاق کرنے کی بالکل بھی عادت نہیں ہے!! “

اس کے یہ الفاظ حورین کی زندگی برباد کر گئے تھے۔۔۔۔۔!! جبکہ وہ پر سکون انداز میں شڑٹ پہنتا ہوا وہاں سے نکلنے لگا۔۔۔

” ارحم آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ؟؟ اگر آپ کو مجھ سے شادی نہیں کرنی تھی تو میرے قریب کیوں آئے ؟؟

کیوں آپ نے میری زندگی برباد کی۔۔۔۔!!! “

حوریں نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کی تو ارحم نے اس کا بازو جھٹک دیا۔۔۔۔

” میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔ میرے قریب تو تم آئی تھی۔۔۔۔”

ارحم نے چہرے پر ایسے تاثرات ظاہر کیے جیسے اسے اس کی کوئی بھی پرواہ تھی ہی نہیں۔۔۔۔”

” اور فکر نہیں کرو۔۔۔۔ تمھیں تمھاری پوری رقم موصول ہوگی۔۔۔۔ بیڈ کے دائینے سائیڈ ٹیبل کے دراڑ میں دو لاکھ روپے پڑے ہیں جاؤ ایش کرو۔۔۔۔!!

اور اب مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کر کرنا کیونکہ میری کچھ ہی دنوں میں شادی ہے۔۔۔۔!! “

اس نے حوریں سے آہستگی سے کہا۔۔۔۔ حوریں کو دھچکے پر دھچکے لگ رہے تھے۔۔۔۔!!! اس ہر تو جیسے آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔۔۔

” یہ تم نے اچھا نہیں کیا ارحم ملک۔۔۔۔!! تمھارے قریب میں نہیں آئی تھی تم میرے قریب آئے تھے اور تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مجھ سے شادی کرو گے۔۔۔۔!!

لیکن تم نے میری زندگی برباد کر دی۔۔۔ پر یاد رکھنا خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔۔۔۔ میں تمھیں بد دعا دیتی ہوں ارحم ملک کہ تمھیں کبھی بھی محبت نصیب نا ہو۔۔۔

تمھیں کہیں بھی چین نا ملے۔۔۔۔!! تم رو تڑپو پر تمھارے پاس کوئی بھی نا ہو۔۔۔ تم خدا سے موت کی بھیگ مانگو پر تمھیں موت بھی نا آئے۔۔۔۔!!! یہ بد دعا ہے تمھیں میری ارحم ملک اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے!!! “

حوریں کی باتیں اسے بہت فضول لگی۔۔۔۔ ارحم نے اس کی طرف پشت کر کے ہی اس کی باتیں سنی اور ان پر مسکرایا۔۔۔۔ اور مسکراتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔

جبکہ وہ زمین پر بیٹھتی ہوئی روانگی سے رونے لگی۔۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *