Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 46)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 46)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” تم لوگوں کو سمجھ آ گئی ہے نا ؟؟؟ کہ کرنا ہے کیا ؟ “
وہ لوگ ایک بند کمرے میں بیٹھے میں میز کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ کمرے میں ہر روشنی والی چیز بند تھی۔۔۔ سوائے اس بلب کے جو میز کے اوپر لگا ہوا، اپنے بالکل نیچے پڑی ہوئی اس لڑکی کی تصویر کو ان سب پر عیاں کر رہا تھا۔۔۔!!
وہ تقریباً تین سے چار آدمی، اور ایک عورت تھے۔۔۔!! جو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔۔۔!!!
” جی باس ہم سب سمجھ گئے ہیں “
ان سب کی ہیڈ ( باس ) ایک عورت تھی جو بالکل ٹیبل کی شروعات میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔!!
” کیا سمجھے ہو ؟ “
ان کی باس نے ان سے تصدیق چاہی تھی کہ وہ اس کی بات سن کر کیا سمجھ پائے ہیں ؟
” ہمیں سمجھ لگ گئی ہے باس کہ اس لڑکی جس کا نام ازا کایان ملک ہے اسے ہمیں اٹھا کر جنگل کی طرف لے کر جانا ہے۔۔۔۔! کیونکہ یہ کایان ملک کی بیوی ہے۔۔۔ اور ازا ملک کے عوض ہمیں کایان ملک سے اس کی کمپنی کے کاغذات مانگنے ہو گیں۔۔۔۔!!!
اور اسے کہنا ہو گا کہ اگر وہ ازا ملک کو بچانا چاہتا ہے تو اسے اپنی کمپنی آپ کے نام کرنی ہو گی۔۔۔ لیکن ایسا کرنے سے پہلے ہمیں اسے پورے طریقے سے توڑنا بھی ہو گا۔۔۔
اور اس کے لیے ازا ملک کو ڈرانا ہو گا۔۔۔۔!!! کیونکہ تبھی کایان ہماری باتوں میں آئے گا۔۔۔ جب وہ ہمت ہار جائے گا تو اس وقت ہمیں اس سے ساری کمپنی آپ کے نام لکھوانی ہو گی۔۔۔۔! “
ان آدمیوں میں سے ایک آدمی نے اپنی بات کرتے ہوئے اپنا سارا کھیل اپنی باس کو سمجھایا تھا جس پر وہ مسکراتی ہوئی سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔!!!!!
” کمپنی کے کاغذات تو اپنے نام کروانا صرف ایک بہانہ ہے ہمیں تو اس کو اندر سے توڑ کر رکھ دینا ہے۔۔۔۔!!! تڑپانا ہے اور اس کی سب سے بڑی کمزوری ازا ملک ہے اس کے علاؤہ کوئی بھی نہیں۔۔۔۔”
وہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے مسکراتے ہوئے کہہ گئی۔۔۔!
وہ لوگ ملک کمپنیز کے حریف تھے۔۔۔! اور وہ اس وقت اپنی دشمنی نبھا رہے تھے ملک فیملی سے کیونکہ کچھ دن پہلے پانچویں مرتبہ انھیں ملک کمپنیز کی وجہ سے بڑے بڑے آرڈرز مل نہیں پائے تھے۔۔۔!
انھوں نے ہی شہزاد ملک اور ان کے بھائیوں کی بنائی ہوئی فیکٹری میں شارٹ سرکٹ کروایا تھا۔۔۔!! لیکن وہ تو اللہ کی مہربانی تھی کہ کچھ بھی زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا!!
لیکن اب وہ ایک نئی چال چلنے کا سوچ رہے تھے۔۔۔!!!
صبح کے تقریباً نو بجے اٹھتا ہوا وہ اس کے قریب آیا۔۔۔ جو کچھ دیر پہلے ہی اٹھ کر اب فریش ہو کر واپس نکل آئی تھی۔۔۔
” ازا !!! “
کایان نے آہستگی سے اسے پکارہ۔۔۔۔
” جی “
وہ بھی آہستگی سے اس کی طرف بڑھتی ہوئی بولی!!!
” میں ایک بات سوچ رہا تھا۔۔۔!!! “
وہ سوچ میں پڑنے والے لہجے میں بولا۔۔۔۔!!
” کیا ؟؟ “
ازا نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔
” آپ کو پتہ ہو گا کہ ہماری زندگی میں کبھی نا کبھی ایسے حالات ضرور آتے ہیں جب ہم پریشان ہوتے ہیں اور ہم کسی کو بتا بھی نہیں سکتے ہیں کہ ہم پریشان ہیں۔۔۔۔
جبکہ سامنے والے شخص چاہے آپ کے جتنا بھی قریب ہی کیوں نا ہو لیکن پھر بھی ہماری زندگی میں ایسی مشکلات ضرور ہوتی ہیں جنھیں ہم اگلے کو نہیں بتا سکتے ہیں۔۔
تو ایسے حالات میں مجھے کیسے پتہ چلے گا ؟؟؟ کہ آپ پریشان ہیں کہ نہیں ؟ میں کیسے جان پاؤں گا یہ ؟ “
وہ پر سوچ لہجے میں بولا۔۔۔ ازا بھی اس کی باتوں میں کھو سی گئی تھی۔۔۔ !! کایان نے بات ختم کرتے ہوئے اس سے سوال کیا تو وہ بھی ایک گہری سوچ میں مبتلا ہو گئی تھی۔۔۔۔!!
” ہمم!!! اس کے متعلق میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔۔۔۔!!! “
کچھ لمحات تک ازا گہری سوچ میں ڈوبی رہی۔۔۔۔ اور اس کے بعد اچانک حال میں لوٹتی ہوئی کہہ گئی تھی۔۔۔!
” کیا ؟ “
کایان نے مسکرا کر سوال پوچھا۔۔۔
” دیکھیں کایان ہم اسے دکھ سے ریلیٹ کرتے ہیں!!! اور سوال بناتے ہیں ایک “
اس کی باتیں کایان کے سر کے اوپر سے گزر گئی تھی۔۔۔۔!
” کیا ؟؟ “
اس نے پھر سے سوال کیا۔۔۔
” اگر کبھی بھی آپ کو لگے کہ میں پریشان ہوں۔۔۔!! اور میں آپ کے ساتھ اپنی اس پریشانی کو شئیر نہیں کر رہی ہوں۔۔۔۔!!! تو آپ مجھ سے پوچھ لیجئے گا کہ کیا میں دکھی ہوں؟؟ “
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔ جبکہ وہ مسکراتے ہوئے اسے سننے میں مصروف تھا۔۔۔
” تو آپ کہیں گی کہ آپ دکھی ہیں !!! “
کایان نے خود سے ہی ایک اندازہ لگاتے ہوئے کہا تو وہ سر نفی میں ہلا گئی۔۔۔!!
” نہیں !!! میں آپ سے کہوں گی کہ میں دکھی نہیں ہوں۔۔۔ جس سے آپ سمجھ جائیے گا کہ میں کسی ایسی پریشانی میں مبتلا ہوں۔۔۔!! جس کو میں آپ کے ساتھ شئیر نہیں کر پارہی ہوں “
وہ ایک مرتبہ پھر سے اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔۔۔!
” اچھا تو میں آپ سے پوچھتا ہوں ازا کیا آپ دکھی ہیں ؟؟ “
اس نے ٹیسٹ کے طور پر ازا سے سوال کرتے ہوئے کہا۔۔۔
” میں دکھی نہیں ہوں “
ازا نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔
” کیوں پریشان ہیں آپ ؟؟ “
ویسے تو وہ اس پر ٹیسٹ ہی کر رہا تھا لیکن پھر اس کی بات سنتا ہوا اسے آنکھیں چھوٹی چھوٹی کر کے دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا کہ وہ کیوں پریشان ہے جس پر ازا ہلکا سا مسکرائی!!
” آپ کے قریب آنے سے پریشان ہوں میں “
وہ اسے تنگ کرنے والے لہجے میں کہتی ہوئی وہاں سے اٹھتے ہوئے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔!!! کایان نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلاتے ہوئے اسے دیکھا!!! اور خود اٹھتا ہوا فریش ہونے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!
ایک حسین ترین صبح کا آغاز ہو چکا تھا۔۔۔!!! حماد اسما اور ان کی امی ناشتہ کر چکی تھی۔۔۔! آج حماد نے آفس نہیں جانا تھا۔۔۔ اور نا ہی اسما نے یونیورسٹی جانا تھا۔۔۔ وہ دونوں آج ایک ساتھ وقت گزارنا چاہتے تھے۔۔۔!! ان کی والدہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔! اور وہ دونوں تازہ ہوا کا لطف اٹھانے کے لیے گاڑدن کی طرف بڑھ آئے تھے۔۔۔۔!!!
گاڑڈن میں ہلکی سی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی۔۔۔!
” میں آپ کو ایک بات بتاؤ اسما “
حماد کی بات سنتے ہوئے وہ اس کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔ حماد نے اسے اس کے دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے اپنی طرف موڑا۔۔
” جب آپ چلی گئی تھی تو مجھے لگا تھا کہ جیسے میں نے آپ کو کھو دیا ہے۔۔۔!! شائید اب آپ کبھی واپس نہیں آئی گی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہیں آپ۔۔
لیکن پھر مجھے شہناز امی نے ہمت حوصلہ دیا۔۔۔ آپ نے انھیں اس سب کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔۔۔۔!!! تو انھوں نے مجھے آپ کو منانے کے لیے ایک طریقہ بتایا۔۔ جس پر میں نے عمل کیا تو مجھے امید کی کرن دیکھائی دی کہ میں آپ کو منا سکتا ہوں !!!
ورنہ میں امیر کھو چکا تھا کہ شائید میں آپ کو کبھی ملوں گا بھی!!! اور مجھے تو لگ__ “
وہ بول ہی رہا تھا جب ہی اسما نے اس کے لبوں پر اپنی انگلیاں رکھتے ہوئے ان کے ہلنا بند کروایا۔۔۔
” شش!! ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔ کہ میں آپ کے پاس واپس نا آتی کنٹریکٹ ہی سہی لیکن کرتی تو میں بھی آپ سے محبت تھی۔۔۔
اس دن نہیں تو کچھ دن ٹھہر کر سہی۔۔۔ کیونکہ اس وقت میں غصے میں تھی۔۔۔!!!! ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ میں آپ کو چھوڑ دیتی !!! “
وہ اسے چپ کرواتے ہوئے بولنے لگی تو بولتی ہی چلی گئی۔۔۔ اسما نے اپنی بات کا ایک ایک حرف نہایت ہی عقیدت سے ادا کیا تھا۔۔۔!! اس کی بات سنتے ہوئے حماد مسکرا گیا تھا۔۔۔
جب ہی وہی درخت کے پیچھے چھپی ہوئی آمنہ نے انھیں غصے کی نگاہ سے دیکھا تھا وہ رات سے ہی ان کے گھر میں گھس گئی تھی اور ابھی تک وہی تھی۔۔۔!!
اس نے ہاتھ میں چاقو پکڑ رکھا تھا۔۔۔
” ( تم نہیں چھوڑو گی تو میں خود چھڑوا لوں گی ) “
ان دونوں مسکراتے ہوئے دیکھ کر آمنہ نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے اپنے دل میں ہی سوچا تھا۔۔۔ وہ دونوں مسکرا رہے تھے۔۔۔ آمنہ آہستگی سے ان کی طرف بڑھی۔۔۔!
اسما کی اس کی طرف پشت تھی جبکہ اسے اپنی طرف تیز روانی سے پڑھتا ہوا دیکھ دیکھ کر حماد کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی وہ ایک لمحہ لگائے بغیر اسما کو دوسری طرف کرتا ہوا اسما کی جگہ کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔ جبکہ آمنہ جو اسما کی طرف چاقو لیے ہوئے تیز رفتار سے بڑھ رہی تھی۔۔۔!!!
اچانک سے حماد کے سامنے آنے پر خود کو روک نہیں پائی تھی اور وہ چاقو حماد کی پشت کو چھلنی کر گیا تھا۔۔۔
” حماااااد !!! “
اسما ایک لمحے میں سارے منظر کو سمجھتے ہوئے زور سے چلائی تھی۔۔۔۔! حماد کا ہاتھ اب بھی اس کے بازو پر تھا۔۔۔ ” اسما نے اترتے چہرے کے ساتھ ایک نظر آمنہ کو دیکھا اور پھر ایک نظر حماد کی طرف دوڑائی جو اس وقت درد میں مبتلا تھا۔۔۔
اسما نے فوراً اسے گاڑڈن میں پڑی ہوئی کرسی پر بٹھایا۔۔۔ جبکہ اس سب سے آمنہ خود سکتے میں آگئی تھی۔۔
اسے سمجھ ہی نہیں آیا تھا کہ یہ سب کیسے ہو گیا ؟ وہ تو اسما کو مارنے چلی تھی لیکن یہاں تو یہ وار حماد پر ہی ہو گیا تھا۔۔۔
” چٹاخ !!! “
اسما نے آگے بڑھتے ہوئے ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا تھا۔۔۔۔!
” تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔؟؟ “
اسما اس پر غرائی تھی۔۔۔
حماد کو کرسی کا سہارا مل جانے کی وجہ سے کافی حد تک آرام ملا تھا۔۔۔۔!
اللہ تعالیٰ کا شکر تھا کہ اسے زیادہ گہری چوٹ نہیں لگی تھی۔۔۔!! آمنہ اسما کو پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے وہاں سے بھاگنے کی تیاریوں میں تھی۔۔۔
لیکن اسما نے اس کا بازو پکڑتے ہوئے اسے گھما کر اس کی پشت سے لگایا تو آمنہ درد سے کراہ اٹھی۔۔۔!!!
” بالکل نہیں آمنہ تم یہاں سے صرف اور صرف پولیس کے ساتھ ہی جاؤ گی۔۔ “
اسما نے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا۔۔۔۔!!! اور اندر سے نوکرانی کو آواز لگاتے ہوئے آمنہ کو گھر سے نا نکلنے دینے کا کہا۔۔۔ اور خود حماد کی طرف بڑھی اس کی والدہ دوائی لے کر گہری نیند میں سو رہی تھی۔۔۔!!!!!!
” حماد !!! کچھ بھی نہیں ہو گا “
وہ اس کے قریب آتی ہوئی اسے ہمت دیتی ہوئی ڈاکٹر کو فون کرنے لگی۔۔۔۔!! اسے درد میں دیکھ کر وہ خود درد میں تھی کیونکہ یہ چوٹ اسما کو لگنے والی تھی اگر حماد درمیان میں نا آتا۔۔۔!!!
فاریہ کمرے میں داخل ہوئی تو پھولوں کی خوشبو نے اس کا استقبال کیا۔۔۔ اس نے نظر کمرے پر دوڑائی تو کمرہ اسی طریقے سے سجا ہوا تھا جیسے کہ شادی کی رات کو سجایا گیا تھا۔۔۔ آتش کمرے میں اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔ وہ دیوار سے پشت لگائے ہوئے اسے کو تکنے میں مصروف تھا۔۔۔۔
” یہ سب ؟”
فاریہ نے دو قدم آگے کی طرف بڑھتے ہوئے حیرانگی سے سوال کیا !!!
” کیا ہے یہ سب ؟؟ “
ایک مرتبہ پھر سے فاریہ نے اس سے سوال کیا تو وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔ فاریہ کے قریب پہنچتے ہوئے آتش نے اس کی کمر کے گرد سے بازو حائل کرتا ایک جھٹکے سے اسے اپنے سینے سے لگا گیا تھا!!!
” کیا ہے مطلب ؟ آپ کو نہیں پتہ ہے کہ کمرہ کیوں سجایا جاتا ہے فاریہ جی ؟؟؟ “
وہ اس کے چہرے کو قریب کرتا ہوا آہستگی سے سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ تو فاریہ کے دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہوگئیں۔۔۔۔!
وہ اس کی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر پا رہی تھی۔۔۔!!!
” کتنی دیر ہو گئی ہے !!! ہم نے بالکل بھی ایک ساتھ وقت نہیں گزارا ہے۔۔۔!!! ہنی مون سے جب کہ واپس آئے ایک لمحہ بھی ہم نے سکون کا نہیں گزارا!
پہلے میں میٹینگ کے لیے چلا گیا۔۔۔ اس کے بعد وہ سب کچھ لیکن اب جا کر ہماری زندگیوں میں کچھ بہتر ہوا ہے۔۔۔!! اور دیکھیں نا ہمیں اس سب سے ایک اور بات کا بھی علم ہو گیا کہ آپ میری کزن ہیں میری پھوپھو کی بیٹی !!!
اسی لیے تو نہیں کہتے کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے “
آتش پہلے منھ بنائے ہوئے اسے بتا رہا تھا۔۔۔!!! لیکن پھر آہستہ آہستہ اس کا موڈ رومینٹیک ہوتا گیا۔۔۔ فاریہ اس کے سینے سے لگی ہوئی اب بھی اس کی ساری باتیں سننے میں مصروف تھی۔۔۔!!!!
” آج اتنے بعد جا کر ہمیں ایک ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا ہے تو اسے ضائع کیوں کرے فاریہ جی ؟؟ “
وہ ذو معنی مسکراہٹ چہرے پر لیے گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔۔!!! فاریہ کے چہرے کا رنگ تو اس وقت اڑا جب وہ اس کے لبوں پر جھک گیا تھا۔۔۔!!!!!!
یوں ہی آہستہ آہستہ وہ اپنے اور اس کے درمیان ہر پردے کو ہٹاتا ہوا اسے اپنا بناتا چلا گیا تھا۔۔۔۔!!!!
” سوہم جلد ازا جلد ان کا پتہ کرواؤ یہ آدمی کہاں سے آئے تھے ؟؟ کیا مقصد تھا ان کا اور یہ لڑکے کس وجہ سے انوشا کو اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتے تھے ؟
اور پتہ لگواؤ کہ یہ کس کے لیے کام کرتے ہیں ؟؟؟ “
زریر انوشا کو ریسٹ کرتا ہوا چھوڑ اپنے دوست سوہم کے پاس آیا تھا۔۔۔۔!!! اور اسے آج ان کے ساتھ جو بھی معاملہ پیش آیا تھا اسے سب بتایا تھا۔۔۔
اور اس کے ساتھ زریر نے ایک یہ کام بھی کیا تھا کہ وہ آتے ہوئے ان میں چند ایک کی تصویریں بھی لے کر آیا تھا۔۔۔ اور ساتھ ان گاڑیوں کی نمبر بھی نوٹ کر لیے تھے اس نے!!
” ٹھیک ہے۔۔۔۔!! تم فکر نہیں کرو رات تک تمھیں ساری ڈیٹیلز مل جائیں گی۔۔۔۔”
سوہم نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔!! زریر اس کی بات سنتا ہوا اس سے مل کر گھر کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔۔۔۔!
ان دونوں نے دادا جان کو اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا البتہ وہ گھر پر تھے ہی نہیں وہ آفس میں تھے !!! زریر گھر پہنچتا ہوا سیدھا کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔
” کیا ہوا زریر کچھ پتہ لگا ؟؟؟ “
وہ جیسے ہی کمرے کا دروازا کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا تو انوشا کو اپنا انتظار کرتے ہوئے پایا۔۔۔ وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی لیکن جیسے ہی وہ کمرے میں گیا تو انوشا اس طرف بڑھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔
” نہیں!! بہت جلد لگ جائے گا۔۔۔ تم ریسٹ کرو میری جان “
وہ پیار سے اس کے گالوں کو تھپھتھاتا ہوا بولا۔۔۔ اور کہیں جانے ہی لگا کہ اسی وقت انوشا نے اس کا ہاتھ پکڑ اسے روکا۔۔۔
” یہاں بیٹھیں “
وہ اسے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی!!!
” کیا ہوا ؟ “
زریر نے سوال کیا۔۔۔
جب ہی وہ مرہم پٹی کرنے کے لیے فرسٹ باکس لاتی ہوئی اس کے پاس آئی۔۔۔
” اس کی ضرورت نہیں ہے میں بالکل ٹھیک ہوں میری جان “
اس نے آہستگی سے معصوم منھ بناتے ہوئے کہا۔۔
” کیا خاک ٹھیک ہیں ؟ دیکھیں سارے زخم عیاں ہو رہے ہیں آپ کے۔۔۔۔!!! “
چاہے وہ بے رخی سے بولی تھی لیکن پھر بھی اس کے ہر حرف میں زریر کے لیے پریشانی صاف عیاں ہو رہی تھی۔۔۔ جسے دیکھ زریر ہلکا سا مسکرایا اور اسے اپنے زخموں پر مرہم کروانے لگا!!!
” رکیں گاڑی میں ہی آپ میں آئسکریم لے کر آتا ہوں۔۔۔۔!!! “
ازا کا دل گھبرا رہا تھا تو کایان اسے گھمانے کے لیے باہر لے آیا تھا تا کہ اس کا دل بہل جائے۔۔۔۔!
وہ جانتا تھا کہ ازا کا دل صرف آئسکریم سے ہی بہل سکتا ہے تو وہ ایک جگہ گاڑی روکتا ہوا آئسکریم لینے کے لیے چلا گیا۔۔۔
ازا کو بہت گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی گاڑی میں اسی وجہ سے وہ گاڑی سے اتر کر باہر نکلی۔۔۔
اور جیسے ہی وہ گاڑی سے اترتے ہوئے باہر نکلی تو پیچھے سے کسی نے اس کے چہرے پر ماسک رکھ دیا جس پر بیہوشی کا کیمیکل لگا ہوا تھا۔۔۔
ازا نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی مگر بے سود رہی وہ لوگ اسے گاڑی میں ڈالتے ہوئے لے گئے تھے۔۔۔!!! جبکہ کایان جو دکان پر تھا اس کا دھیان اس طرف نہیں گیا تھا۔۔۔
