Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 14)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 14)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” شادی تو تم مجھ سے ہی کرو گی،،،، اس کے علاؤہ تمھارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے مس انوشا “
زریر نے آنکھ ونک کرتے ہوئے انوشا سے کہا کہ انوشا کے پاس زریر سے شادی کرنے کے سوا کوئی بھی چوائس نہیں ہے ” جس پر انوشا نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔ جو چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے ہوئے کھڑا تھا”
” تمھیں اتنا یقین کیسے ہے ؟؟ “
انوشا کے سوال پر اس نے ایک مسکراہٹ کو اپنے چہرے پر لانے کی کوشش کی۔۔۔!!!
” یقین تو گا نا ڈئیر فیوچر وائف! کیا تم دادا جان کے پاس نہیں جانا چاہتی ؟؟ کیا اپنے خواب پورے نہیں کرنا چاہتی ہو تم ؟؟؟ اگر نہیں تو ٹھیک ہے نا کرو نکاح میں بھی دادا جان سے کہہ دوں گا کہ انوشا ناجانے کہاں چلی گئی ہے ؟؟ اور وہ سامنے دیکھ رہی ہو ٹائیگر وہ بے چارہ بہت بھوکا ہے !! یہ بات یاد رکھنا کہ جسے میں چاہو کہ وہ میرا ہو جائے اور وہ میرا نا ہو !! تو میں اسے کسی اور کے قابل بھی نہیں چھوڑتا!! “
پہلے چند جملے جو زریر کے لبوں سے ادا ہوئے تھے وہ اس نے آہستگی سے ادا کیے تھے لیکن کچھ آخری الفاظ جو اس نے کہے تھے ان میں انوشا میں اس کے جنونی پن کے سوا کچھ بھی دیکھائی نہیں دیا تھا۔۔۔۔ انوشا اس کی بات کا مطلب فوراً سمجھ گئی تھی۔۔۔۔
” تمھیں کیا لگتا ہے کہ میں تم سے ڈر جاؤ گی ؟؟ “
اس شخص کی طنزیاتی مسکراہٹ ہو دیکھ کر انوشا کو بہت غصہ آ رہا تھا۔۔۔۔ جب ہی اس نے بہادری پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے کہا تو زریر نے قہقہ لگایا۔۔۔۔
” تمھیں کس نے کہا کہ مجھ سے ڈرو ؟؟ تمھیں مجھ سے نہیں ڈرنا چاہئیے بالکل بھی ڈرنا نہیں چاہئیے!!
you are a brave girl….
آؤ کچھ دیکھاؤ میں تمھیں۔۔۔۔۔ “
زریر نے قہقہ لگا کر کر کہا تو انوشا نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینج لی۔۔۔۔۔!! وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی ابھی کیونکہ وہ ابھی اس کے سامنے بے بس تھی “
اور وہاں پر موجود لوگ بت بنے یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔ جب ہی وہ اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا اسے باہر گاڑدن کی طرف لے کر بڑھا جہاں پر اس نے اسے ٹائیگر دیکھایا تھا۔۔۔۔۔
” یہ دیکھو کتنا پیارا ہے یہ “
زریر نے وہاں پہنچتے ہوئے اس ٹائیگر کو آواز لگائی تو وہ دوڑتا ہوا اپنے مالک کے پاس آیا۔۔۔۔ انوشا کا دل سہم گیا تھا۔۔۔۔ وہ یک دم ڈرتی ہوئی زریر کے پیچھے ہوئی وہ ٹائیگر اس کے بچپن سے ہی زریر کے پاس تھا۔۔۔۔ مطلب پالتو تھا۔۔۔۔ لیکن پھر بھی انوشا نے جب اسے اتنے قریب سے دیکھا تو اس کا دل زوروں کی اسپیڈ پر دھڑکنے لگا۔۔۔۔
” د۔۔۔و۔۔ر ک۔۔ر۔۔و ” ( دور کرو )
انوشا نے اس سے کہنا چاہا کہ وہ اس ٹائیگر کو اس سے دور کر دے۔۔۔ مگر اس کے اندر اتنا خوف پیدا ہو چکا تھا اس ٹائیگر کا کہ اس کے الفاظ بھی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے۔۔۔۔!!!
” کیوں ؟؟ تم بات مان رہی ہو میری ؟ جو میں تمھاری بات مانو گا ؟؟ اگر تم نکاح کے لیے تیار ہو تو ٹھیک ہے میں اسے دور کر دو گا ورنہ نہیں “
زریر نے اپنے الفاظ ادا کرتے ہوئے ٹائیگر کو مزید انوشا کے قریب کرتے ہوئے کہا تو انوشا ڈرتی سہمتی ہوئی پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔
” ٹ۔۔ھی۔۔۔ک ہ۔۔۔ے ” ( ٹھیک ہے )
انوشا نے ڈرتے سہمتے ہوئے پیچھے ہوتے ہوئے کچھ ٹوٹے پھوٹے الفاظ اپنے منھ سے نکالے جنھیں زریر عباس سننا چاہتا تھا۔۔۔ ان الفاظ کو سنتے ہی اس نے ٹائگر کو پیچھے کیا جس پر انوشا کی جان میں جان آئی!!!
” کیا تم نے قبول کیا یہ رشتہ ؟؟ “
زریر نے اس انداز میں کہا تھا کہ جیسے اسے اپنے ہی کانوں سے سنی ہوئی بات پر یقین نا آیا ہو کہ انوشا نے اس رشتے کو قبول کر لیا ہے!!!! جسے دیکھ کر انوشا نے اپنا سر ہاں میں ہلایا تو زریر عباس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔۔
” تو چلو نا نکاح کرتے ہیں !! کس بات کی دیر ہے ؟ “
وہ مسکرا کر کہتا ہوا اندر کی طرف بڑھ گیا تھا جبکہ انوشا کچھ دیر وہی کھڑی رہ اپنے ذہن کو سکون پہنچانے کی کوشش کرنے لگی اس نے کچھ سوچ کر ہی اس رشتے کے لیے خامی بھری تھی۔۔۔۔!! کچھ لمحے وہاں کھڑے رہنے کے بعد وہ اندر کی طرف بڑھی تھی۔۔۔
” انوشا سرفراز ولد سرفراز شعیب آپ کا نکاح زریر عباس ولد عباس شعیب کے ساتھ بعوض حق مہر پانچ لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “
مولوی صاحب نے اجازت طلب کرتے ہوئے نکاح کی رسم کا آغاز کرت ہوئے انوشا سے سوال کیا تھا کہ کیا اسے زریر عباس کے ساتھ نکاح قبول ہے ؟؟
” ق۔۔۔بول ہے!!! “
یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے انوشا کے چہرے آنسو بہہ آئے تھے۔۔۔۔ اس نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں یہ موڑ بھی آئے گا !!
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “
” قبول ہے!!! “
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “
” قبول ہے!!! “
انوشا کے بعد مولوی صاحب زریر عباس سے متوجہ ہوئے اور یہی سارے سوالات اس سے کیے۔۔۔۔
” زریر عباس ولد عباس شعیب آپ کا نکاح انوشا سرفراز ولد سرفراز شعیب کے ساتھ بعوض حق مہر پانچ لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “
” قبول ہے۔۔۔۔!! “
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “
” قبول ہے!!! “
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “
” قبول ہے!!! “
زریر نے بھی تینوں مرتبہ ” قبول ہے ” کہتے ہوئے اور نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے اپنی ضد میں انوشا کو اپنا بنا لیا تھا۔۔۔۔۔ زریر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جبکہ انوشا کے چہرے پر افسردگی ، غصہ ، دکھ کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا یہی دیکھنا چاہتا تھا زریر عباس تا کہ وہ اپنی بے عزتی کا بدلہ کے سکے۔۔۔۔۔!!!
فاریہ جو اپنے والدین کو بچپن میں ہی کھو چکی تھی!! اور اب وہ ایک کرائے کے گھر میں رہتی تھی ایک طرح سے وہ ایک گھر ہی تھا کیونکہ اوپر والے پورشن میں وہ اکیلی رہتی تھی۔۔۔۔ اور گھر کے نچلے حصے میں اس گھر کے مالک مکان جو ایک ماں بیٹی ، اور ان کا بیٹا تھا۔۔۔۔۔!!!
اس وقت وہ اس گھر سے نکلتی ہوئی اپنی یونیورسٹی کی طرف جانے کے لیے رکشہ لینے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔
رکشہ لیتے ہوئے وہ یونی کی راہ پر نکل پڑی تھی۔۔۔۔۔!! یونیورسٹی کے سامنے اترتے ہوئے اس نے رکشے والے جو کرایہ دیا اور جیسے ہی یونی کے گیٹ کی طرف قدم بڑھائے اس کے سامنے کوئی شخص آ رکا جو اسے قدم روکنے کے مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔۔
” کیسی ہیں آپ فاریہ جی ؟؟ “
اسے دیکھتے ہی فاریہ کو مال والا واقع یاد آیا یہ وہی لڑکا تھا جس نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر فاریہ نے اس سے بات نہیں کی تھی !!! وہ اس شخص کا نام بھی نہیں جانتی تھی !!!!
” تم یہاں ؟؟ اور تمھیں میرا نام کیسے معلوم ہوا ؟؟ “
اسے حیرانگی سے دیکھتے ہوئے فاریہ نے اس سے کہا اور سب سے زیادہ حیرانگی اسے اس بات پر ہوئی تھی کہ وہ اس کا نام کیسے جانتا ہے ؟؟؟؟
” نام ہی نہیں مجھے تو آپ کے بارے میں سب معلوم ہے “
اس لڑکے نے فاریہ کی ہیزل نگاہوں میں جن میں غصے کے سوا کچھ بھی دیکھائی نہیں دیتا تھا دیکھتے ہوئے کہا تو فاریہ نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔!!!!!
” کیا کہا ؟؟ “
” کچھ بھی تو نہیں !! “
” میرے راستے سے ہٹو !! “
فاریہ نے غصے سے کہا۔۔۔۔
” اور اگر نا ہٹو تو ؟؟؟ “
فاریہ کی بات سنتے ہوئے مسکرایا اور چہرے پر سوالیہ تاثرات لیے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس کے راستے سے نا ہٹا تو وہ کیا کرے گی فاریہ ؟؟؟ جس پر فاریہ نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔۔
” بڑے ہی ڈھیٹ شخص کو تم !! “
اس کے سوال کو سنتے ہوئے فاریہ کا پارا ساتویں آسمان کو جا چھوا تھا۔۔۔۔! اسے سامنے کھڑے اس شخص ہر شدید غصہ آ رہا تھا”
” وہ تو میں ہوں۔۔۔۔!!! ویسے آپ نے میرا نام نہیں پوچھا ؟؟ “
” مجھے آپ کے نام میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے “
اس نے سوال کا دو ٹوک جواب دیا تھا فاریہ نے۔۔۔۔
” چلیں کوئی بات نہیں!! میں خود ہی بتا دیتا ہوں ” آتش کاظمی ” نام ہے میرا “
وہ کوئی اور نہیں بلکہ آتش کاظمی ( زریر عباس کا دوست) تھا۔۔۔۔!!!! اس کا نام سن کر فاریہ نے نظریں گھمائی۔۔۔۔”
” واٹ ایور !! دیکھو میری بات سنو میرے راستے سے ہٹو اور خبردار جو آئندہ میرے راستے میں آنے کی کوشش بھی کی تو !! “
فاریہ نے اسے انگلی دیکھاتے ہوئے غصے سے وارن کرنے والے لہجے میں کہتی ہوئی اسے پیچھے دھکیلتے ہوئے وہاں سے چلی گئی جبکہ آتش نے مسکراتے ہوئے اس کی پشت کو دیکھا۔۔۔۔
” فاریہ جی۔۔۔۔۔!!!! اب تو آپ کو آپ کا یہ دیوانہ ہر جگہ موجود ملے گا “
آتش نے پیار کی انتہا کو چھوتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ اور اس کے خیالات میں ہی گھم سم سا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
” کیوں ؟؟ آخر کیوں ؟؟ “
وہ ٹیرس پر کھڑا تھا۔۔۔۔۔ ٹھنڈی ہوا اس کے بدن کو چھو کر گزر رہی تھی!!! جو شائید اسے سکون پہنچا رہی تھی۔۔۔۔
” آخر کیوں ؟؟ کیوں ازا میرے حواسوں پر چھا رہی ہے ؟؟؟ کیوں مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ میں اس کی طرف کیوں بڑھ رہا ہوں ؟؟ کیوں میرا دل اس کی طرف مائل ہو رہا ہے “
کایان ٹیرس پر موجود تھا۔۔۔۔ اسے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی کیوں اس کا دل ازا کی طرف مائل ہو رہا تھا۔۔۔۔ کیوں وہ اس کے ذہن کو گماں پر چھا رہی تھی”
” کہیں مجھے سے ازا سے محب۔۔۔۔۔۔۔”
کایان یہ کہنا چاہتا تھا کہ کہیں اس سے ” محبت ” تو نہیں ہو گئی لیکن اس کے یہ الفاظ اس کے منھ میں ہی رہ گئے تھے اس میں ہمت ہی نہیں ہوئی تھی کہ وہ یہ الفاظ ادا کر سکے۔۔۔۔
” How it was possible?? “
اس کے دماغ سے ایک پکار اس تک پہنچی کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟؟
” it was possible”
( یہ ممکن ہے )
دماغ سے جیسے ہی اسے پکار ملی۔۔۔۔!! اسی وقت دل سے بھی ایک آواز اس تک پہنچی جس پر وہ مسکرایا۔۔۔۔
