Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 42)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 42)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
اسما نے دروازہ کھڑکایا تو ایک چھوٹے قد کی خاتون نے دروازہ کھولا۔۔۔!!!!! اسما سلام لیتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔ لیکن جیسے ہی وہ اندر پہنچی اور وہ سامان بیڈ پر رکھا تو وہ عورت کمرے سے نکل گئی اور ایک شخص کمرے میں داخل ہوا۔۔۔!! جسے دیکھ کر اسما حیران رہ گئی تھی۔۔۔ ان دونوں کے علاؤہ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔۔۔”
” تم ؟؟ “
اسما نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ اس کا وہ ستم گر محبوب” حماد ” کھڑا تھا۔۔۔!
اسے دیکھتے ہی اسما کے لب و لہجہ میں غصہ خود بخود طاری ہو گیا تھا۔۔۔۔
” جی میں اور مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ؟؟ “
حماد نے اس کے لب و لہجے کو مکمل طور پر اگنور کرتے ہوئے اس کے سوال پر دھیان دیا تھا وہ شائید یہ پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ یہاں کیا کر رہا ہے ؟؟
اسی وجہ سے حماد نے خود ہی اسے بتایا۔۔۔
” اب بات کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا یے۔۔۔۔!!! اب ہماری اگلی ملاقات وکیل کے پاس ہی ہو گی۔۔۔۔”
اسما ابھی تک وہ منظر بھولی نہیں تھی۔۔۔ کہنے کو تو ایک ہفتہ گزر چکا تھا لیکن اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا اب تک۔۔۔
وہ آہستگی سے کہتی ہوئی ہوٹل کے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔!!!!
” کیوں نہیں بچا بات کرنے کو ؟؟ مجھے آپ سے بات کرنی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے اور میری بات سنے بغیر آپ یہاں سے ایک قدم بھی نہیں باہر نکال سکتی ہیں اسما “
اسما جیسے ہی باہر کی طرف بڑھی تو حماد نے اس نے راستے میں آتے ہوئے اس کا بازو پکڑتے ہوئے اسے اپنے سامنے کیا۔۔۔۔ اور ایک ایک لفظ جنون بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
حماد نے لہجے میں جنون تھا، شدت تھی، اسما نے اسے حیرانگی سے دیکھا۔۔۔
” زبردستی کریں گے آپ مجھ سے “
اسما نے آنکھیں موندے تو وہی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے ایک مرتبہ پھر سر جھلک اٹھا۔۔۔ اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے آہستگی سے کہا۔۔۔!!
” ہاں کروں گا میں زبردستی۔۔۔!!! نہیں جانے دوں گا میں آپ کو یہاں سے!!! میں بھی دیکھتا ہوں کیسے جائیں گی آپ یہاں سے ؟؟ یہ کوئی طریقہ ہے کہ اگلے کی بات سنے بغیر ہی آپ فیصلہ سنا دیں ؟ کون کرتا ہے اس طرح ؟ بتائیں مجھے جب بھی کوئی فیصلہ کرنا ہوتا ہے تو دونوں اطراف کی بات سنی جاتی ہے۔۔
لیکن آپ نے میری ایک بات بھی نہیں سنی یہ کیا بات ہوئی ؟؟ اور کیا کہا آپ نے کہ آپ وکیل کے پاس جائے گی ؟ کیا کرنے ؟؟ یاد رکھیے گا آپ صرف میری ہیں صرف میری !!! تو یہ خیال تو آپ اپنے ذہن سے نکال ہی دیں کہ میں کبھی آپ کو چھوڑو گا۔۔۔”
حماد نے اس کے بازو جو چھوڑتے ہوئے شدت بھرے لہجے میں اس سے سوال کیے تھے کہ وہ کیسے خود ہی فیصلہ سنا سکتی ہے ؟ اس نے ایک مرتبہ بھی اس کی بات سننا تک گوارہ نہیں کیا۔۔۔! اس کے بعد حماد نے اسما کی اس بات کا جواب دیا تھا جب اس نے کہا کہ وہ دونوں اب وکیل کے پاس ہی ملیں گے۔۔۔!!! یہ کہتے ہوئے کہ وہ مر کر بھی اسے اکیلا نہیں چھوڑے گا۔۔۔! یہ اس کی محبت ہی تو تھی جو اس کے ایک ایک حرف سے ٹپک رہی تھی اسما کے لیے۔۔۔ اس کا جنونی انداز اس کی شدت سے بھرا لہجہ ہی اسما کے لیے محبت کی ضمانت تھی!!!
تم لاکھ کوشش کرو مجھ سے دور جانے کی
یہ میری بھی ضد ہے کہ میں تمھیں ہر دعا میں مانگوں گا
” کس بنا پر کہہ رہے ہیں آپ یہ سب ؟؟ آپ بھول رہیں ہیں کہ ہمارے درمیان کوئی بھی تعلق نہیں تھا بلکہ ہماری شادی تو کنٹریکٹ میرج تھی لیکن پھر مجھے آپ سے مح_____!!! “
اسما کچھ لمحات کے لیے خاموش ہوئی تھی لیکن پھر اس نے حماد سے سوال مانگے تھے کہ وہ کس طرح کہہ سکتا ہے یہ ؟ کیسے زبردستی کر سکتا ہے وہ ؟ کس حق سے ؟ کیونکہ ان کی شادی تو صرف ایک کنٹریکٹ میرج تھی۔۔۔! لیکن پھر بھی وہ اس سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔!!! پر محبت کے لفظ پر آتی وہ اٹک گئی تھی!!! جبکہ حماد اس کا مطلب سمجھ گیا تھا۔۔۔
” پھر بھی آپ کو مجھ سے محبت ہو گئی !!! اسما جس سے محبت کرتے ہیں اس پر یقین کرتے ہیں پر آپ کم از کم میری بات تو سنتی!!! میں آپ کو سب سچ بتاتا۔۔”
حماد نے اس کے باقی بچے ہوئے لفظ نرمی سے ادا کرتے ہوئے کہا۔۔ تو وہ حیران رہ گئی۔۔۔
” کیا یقین کرتی میں ؟ کس سچائی کی بات کر رہیں آپ ؟ کیا سنتی میں آپ کی بات جب میں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ کیا تھا۔۔۔۔۔!!! “
اسما جب بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی۔۔ اس نے حماد سے سوال پوچھے۔۔۔!!!
” سچ سنتی !!! حقیقت سنتی کہ جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔! کوئی دھوکا نہیں دیا میں نے آپ کو “
حماد نے ایک مرتبہ پھر سے شدت سے پھرپور جنونی لہجہ اپنایا تھا۔۔۔!!! اسے بتایا تھا اس نے اس دن جو بھی اس نے دیکھا وہ سب صرف اور صرف ایک جھوٹ تھا۔۔
” وہ لڑکی میری کچھ بھی نہیں لگتی !!! “
حماد نے مزید وضاحت دی۔۔
” میں نے آپ سے کوئی بھی صفائی مانگی ہے کیا ؟؟ کیا میں نے کہا کہ حماد مجھے بتائیں کہ وہ لڑکی کون ہے ؟ کیا لگتی ہے آپ کی ؟؟ نہیں نا تو آپ مجھے مت بتائیں۔۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ امی نے مجھے یہاں بھیجا تھا اپنی دوست کا کہہ کر وہ کہاں ہے ؟؟ “
اسما نے نے جان بوجھ کر برا لہجہ اپنایا تھا!!!!
” اگر صفائی نہیں چاہئیے۔۔۔۔!! تو پھر آپ نے کیوں غصہ کیا اس بات کا ؟ ہمم!! کیوں آپ گھر چھوڑ کر چلی گئی ؟ خیر جو بھی ہو رہی بات آپ کی امی کی دوست کی تو یہاں ان کی کوئی بھی دوست نہیں رہتی۔۔۔!!
انھیں میں نے ہی کہا تھا کہ وہ آپ کو یہاں بھیجے تا کہ میں آپ سے بات کر سکوں۔۔۔۔!!! تا کہ میں آپ کو سمجھا سکوں کہ جیسا آپ سوچ رہی ہیں ویسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔ “
حماد نے جب اسے یہ سب بتایا تو وہ حیران رہ گئی۔۔۔ اسے یقین ہی نہیں آیا کہ شہناز بیگم نے اس سے جھوٹ کہہ کر اسے یہاں بھیجا تھا اسے یہاں بھیجنا اپنی دوست کا کہہ کر کہ شہناز بیگم اور حماد کی ملی بھگت تھی۔۔۔!!! حماد نے ہی اسے یہاں پر بلایا تھا اور وہ اسی سے ملنے کے لیے آئی تھی۔۔۔!!!
اسما نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔۔۔ جو نیم مسکراہٹ لیے ہوئے اس کے سامنے کھڑا تھا!!
” کیوں بلایا ہے مجھے یہاں ؟؟؟”
وہ جانتی تھی کہ وہ اسے یہاں سے اتنی آسانی سے تو جانے نہیں دے گا۔۔۔ کیونکہ اس کا جنونی انداز، اس کے لہجے کی شدت وہ پہلے ہی دیکھ چکی تھی اس لیے اس نے سیدھا سوال کرنا ہی اس سے مناسب سمجھا تھا!!
” میں آپ کو پہلے بھی کئی مرتبہ بتا چکا ہوں کہ میں نے آپ کو یہاں ساری حقیقت کے بارے میں بتانے کے لیے بلایا ہے۔۔۔ اور سچ، حقیقت یہی ہے کہ میں اس لڑکی کو نہیں جانتا۔۔۔
وہ مجھے ہماری شادی سے دو سال پہلے تک پسند کرتی تھی لیکن میں نہیں۔۔۔!!! پھر وہ غائب ہو گئی تھی۔۔ لیکن پھر اچانک وہ یوں اس دن آفس آگئی۔۔ اور وہ سب__
میں نے اس لڑکی کے بارے میں کبھی بھی یوں نہیں سوچا۔۔۔!!! اور نا ہی کبھی بھی ایسا ہو گا۔۔۔
وہ دو سال پہلے تک مجھے پسند کرتی تھی۔۔۔ پاگل تھی وہ میرے پیچھے۔۔۔! لیکن مجھے وہ بالکل بھی پسند نہیں تھی۔۔ اور نا ہی وہ کبھی مجھے پسند آئے گی اور اب تو بالکل بھی نہیں
کیونکہ اب تو میری زندگی میں آپ آ گئی ہیں۔۔۔۔!!! میرے دل میں تو آپ بستی ہیں۔۔۔ تو کوئی اور اس میں کیسے اپنی جگہ بنا سکتا ہے ؟؟ “
ایک لمبی گفتگو کرتے ہوئے اس نے اسما کو بتایا تھا کہ آمنہ اسے پسند کرتی تھی لیکن دو سال پہلے وہ کہیں چلی گئی تھی اور پھر اچانک وہ یوں واپس آگئی۔۔۔
لیکن حماد کے دل میں اس سے کے لیے کوئی بھی جذبات کوئی بھی فیلنگز نہیں ہیں کیونکہ وہ تو اسے ( اسما ) کو پسند کرتا ہے!!! اس کے دل میں اسما بستی ہے۔۔
اس کی باتیں سنتے ہوئے اسما کی آنکھیں نم ہو گئی تھی۔۔۔ وہ بہت دنوں سے ان آنسوؤں پر قابو کیے ہوئے بیٹھے پر اب نہیں اب وہ مزید ان آنسوؤں کو بہنے سے نہیں روک سکتی تھی۔۔۔
” تو پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے یہ سب !!! پہلے کہاں تھا آج سات دن بعد یاد آیا تھا مجھ سے بات کرنا ؟؟ اتنے دن تک سوئے ہوئے تھا کیا ؟
ایک دفعہ بتایا تو ہوتا مجھے۔۔۔!!!! تو میں بھی آپ کو بتاتی کہ ہاں میں کرتی ہوں آپ سے محبت آئی لو یو حماد !! پاگل ہوں میں آپ کے پیچھے۔۔۔!!! اسیر ہوں میں آپ کی، آپ کی محبت کی “
وہ اس کے سینے پر مکے برساتی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئی تھی جبکہ وہ اسے اپنے سینے میں بھینج گیا تھا۔۔۔۔!! اسے خود میں سمیٹ گیا تھا۔۔۔!
حماد نے آہستگی سے اس نے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے۔۔۔۔ اس نے اسما کو ہلکا سا پیچھے کرتے ہوئے دیکھا تو اب تک اس کی آنکھیں نم تھیں۔۔۔۔!!! حماد آہستگی اس کے اس کی آنکھوں پر لب رکھتا ہوا اس کے آنسوؤں کو اپنے لبوں سے چن گیا تھا!!! اس کے قریب ہونے سے اسما گھبرا سی گئی تھی۔۔۔
” ہاں تو میں بھی محبت کرتا ہوں آپ سے!!! “
اس کے آنسوؤں کو چنتا ہوا وہ پیچھے ہوا تو مسکرا کر کہہ گیا۔۔۔
” ایک بات تو بتائے کہ جب آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں تو پھر وہ کنٹریکٹ ختم !! “
حماد نے مسکراتے ہوئے سوال کیا تھا۔۔۔۔ جس پر وہ آہستگی سے سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔۔۔
” آپ پھول رہیں ہیں کہ وہ کنٹریکٹ میں پہلے ہی پھاڑ چکی ہوں “
اسما نے اسے وضاحت دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ بھول رہا ہے کہ وہ کنٹریکٹ کا صفحہ پہلے ہی پھاڑ چکی ہے۔۔۔!!!
” دیکھ لیجئے گا بعد میں مجھے مت کہیے گا کہ آپ کنٹریکٹ میرج ہی رکھنا چاہتی ہیں۔۔۔!!! “
ذو معنی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے حماد نے کہا۔۔۔ جیسے ہی اسما کو اس کا مطلب سمجھ آیا تو شرم سے اس کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا پر اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دیے بغیر حماد اسما کے لبوں پر جھک چکا تھا۔۔۔ انھیں اپنی قید میں لیتا وہ اس پر مزید جھکتا ہوا اپنی شدتیں اس پر نچھاور کرنے لگا تھا۔۔۔!! آج رات ان کی ہر رنجش ختم ہو گئی تھی!!!!
فاریہ کی بات سن کر کہ وہ کنول بیگم کے خلاف ثبوت اکھٹا کر چکی ہے۔۔۔۔!!!
آتش نے حیرانگی سے اسے دیکھا جو بہت تیز ثابت ہوئی تھی اس معاملے میں۔۔۔ لیکن اسی وقت انھیں پیچھے سے کسی کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ دونوں جیسے ہی مڑے تو پیچھے کوئی شخص ان کر بندوق تان کر کھڑا تھا۔۔۔ اسے دیکھتا آتش فوراً فاریہ کے سامنے آ کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔!
” آپ !!! “
آتش نے حیرانگی سے سامنے کھڑی ہوئی شہناز بیگم کو دیکھا۔۔۔۔!!! جو ان پر بندوق تان کر کھڑی تھی۔۔۔
” ہاں میں۔۔۔!! تمھیں کیا لگا کہ میں بیوقوف ہوں ؟؟ یا تم لوگ مجھے بیوقوف بنا لو گے۔۔۔؟؟ میں نے دیکھ لیا تھا تجھے جب تو کمرے کے دروازے سے دور ہٹتا ہوا چھپا تھا اور میں یہ بھی جان گئی تھی تم نے ہماری ساری باتیں سن لی ہیں تب ہی تو تم یوں دروازے کے پیچھے چھپ رہے تھے۔۔۔!! اسی لیے تو میں یہ بندوق لینے کے لیے گئی تھی !!! اور اب تو میں یہ بھی جان چکی ہوں کہ تم دونوں کے پاس میرے خلاف ثبوت ہیں۔۔۔!!! “
کنول بیگم نے اسے بتایا تھا کہ جب وہ کمرے کے دروازے سے پیچھے ہٹتا ہوا چھپا تھا تو انھوں نے اسے دیکھ لیا تھا۔۔۔ وہ جان گئی تھی کہ آتش نے اس کی اور فاریہ کی باتیں سن لی تھی۔۔۔ انھیں نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے کہا۔۔!! آتش ابھی بھی فاریہ کے سامنے کھڑا تھا!!!
” خالہ !!! آ۔۔ آپ ایسی نہیں ہیں۔۔ پلیز یہ بندوق نیچے رکھ دیں۔۔۔!!! آپ نے مجھے ہمیشہ سنبھالا ہے پالا ہے اسے نیچے رکھ دیں “
آتش کنول بیگم کو کوئی ایمویشنل بلیک میل نہیں کر رہا تھا۔۔۔ وہ تو دل سے کہہ رہا تھا اسے!! کیسے ایک لمحے میں وہ سب کچھ ختم کر کے اس سے نفرت کر سکتا تھا ؟
” ہاہاہا۔۔۔!! “
کنول بیگم نے شیطانی قہقہہ لگایا!!!
” خالہ ؟؟ کون خالہ ؟؟ تم نے ہماری بات نہیں سنی تھی کیا ؟؟ میں نے صاف لفظوں میں بتا دیا تھا کہ میرا تم سے کوئی بھی رشتہ نہیں ہے۔۔۔!! اور نا ہی میں تم سے کوئی رشتہ جوڑ رہی یوں۔۔۔ کچھ نہیں لگتے تم دونوں میرے۔۔ و
اب میری بات غور سے سنو وہ جو ثبوت ہیں نا تمھارے پاس وہ چپ چاپ مجھے دے دو!!! ورنہ یاد رکھنا چار لوگوں کی قا*تل تو میں پہلے ہی ہوں۔۔۔ دو ق*تل میں مزید اپنے سر لے لوں گی کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔!! اگر تم دونوں چاہتے ہو کہ زندہ رکو تو وہ ثبوت مجھے لا کر دے دو۔۔۔!!!!!!!! اور اب تو میرے پاس تم دونوں کو ختم کرنے کی بہت بڑی وجہ بھی ہے کیونکہ تم دونوں کی وجہ سے میرا بیٹا جیل میں بیٹھا ہوا ہے۔۔۔ “
کنول بیگم کے لہجے میں اس قدر سفاکیت کو دیکھ کر آتش حیران رہ گیا تھا۔۔۔۔!!! کہ بچپن سے وہ ان کے ساتھ رہ رہا تھا۔۔۔اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ اسے یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔۔۔”
” خالہ___ “
وہ کچھ کہنے کے لیے بڑھا تھا ہی کہ کنول بیگم نے گولی چلائی تھی۔۔۔!!!!!
” آتش”
فاریہ زور سے چلائی تھی مگر وہ گولی آتش کو نہیں بلکہ اس کے پیچھے جو بانس پڑا تھا اسے جا لگی تھی۔۔۔۔۔ آتش نے آنکھوں سے ہی فاریہ کو اشارہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ ٹھیک ہے۔۔۔!!!
” یاد رکھنا آتش اگلی مرتبہ اس بندوق کی ساری گولیاں تمھارے سینے میں پیوست ہو جائیں گی!!!
فاریہ اگر تم چاہتی ہو کہ تمھارے اس شوہر کی جان بچ جائے تو وہ ثبوت لا کر مجھے دے دو “
پہلے وہ آتش سے متوجہ ہوئی اور پھر وہ فاریہ سے متوجہ ہوئی تھی۔۔۔!!!
” فاریہ جی نہیں۔۔۔۔ آپ انھیں وہ ثبوت نہیں دے گی “
آتش نے اسے منع کیا۔۔۔
” لگتا ہے آتش تمھیں اپنی جان عزیز نہیں ہے!!! فاریہ مین دس تک گنوں گی پھر ساری گولیاں اس کے سینے میں ہونگی اب فیصلہ تمھارا ہے کہ تمھیں کیا کرنا ہے ؟؟ “
فاریہ کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ اب کیا کرے ؟؟ کیونکہ ایک طرف اس کے ماں باپ کا قاتل تھا اور دوسری طرف اس کا پیار تھا کسی بچاتی وہ ؟؟؟ وہ ایک کشمکش میں مبتلا ہو گئی تھی!!!
