Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 19)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 19)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” کافی بہت اچھی ہے “
انوشا نے کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے سامنے بیٹھے ہوئے واسط سے کہا۔۔۔۔۔!!! واسط نے انوشا کو پورے آفس کا راؤنڈ کروایا تھا!! دادا جان نے انوشا کا تعارف کمپنی میں کروا دیا تھا اور اب انوشا اور واسط کی کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔۔۔۔!!! جس سے مسٹر زریر عباس کو کافی جلن ہو رہی تھی۔۔۔”
” ہمم !!! یہ تو ہے۔۔۔۔ آپ اب اپنا کام ختم کر لیں میں بھی کچھ اہم کام نپٹا لوں “
واسط نے مسکرا کر کہا تھا۔۔۔۔ جس پر انوشا بھی مسکرائی تھی۔۔۔۔!!! اور واسط جو اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اٹھتا ہوا دروازے کی جانب بڑھا اور جیسے ہی وہ وہاں پر پہنچا تو دروازہ باہر کی جانب سے کسی نے کھولا۔۔۔!! واسط نے دیکھا تو سامنے ہی زریر کے کھڑا تھا جو اسے دیکھ کر شدید غصے میں آ گیا تھا جبکہ واسط مسکراتے ہوئے وہاں سے نکل گیا اور زریر غصے سے اندر بیٹھی ہوئی انوشا کی طرف بڑھا تھا!!!!
” یہ کیا کر رہا تھا یہاں ؟؟ “
انوشا اس بات سے بے خبر تھی کہ زریر اس کے آفس میں آیا ہے وہ واسط کے جاتے ہی اپنے کمپیوٹر میں مصروف ہو گئی تھی جب ہی زریر نے وہاں آتے ہوئے اس سے سوال کیا کہ وہ یہاں کیا کر رہا تھا ؟؟
” جو بھی کر رہا تھا تمھیں اس سے کیا ؟؟ “
اس دن سے مسلسل انوشا زریر جو اگنور پر اگنور کیے جا رہی تھی۔۔۔۔ اب بھی اس نے یہی کیا تھا اس نے کمپیوٹر سے ایک نظر بھی اٹھا کر اس کی طرف نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔!! اور کمپیوٹر پر ہی نظریں ٹکائے ہوئے اسے دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔۔۔ اب اس کا زریر کو یوں اگنور کرنا زریر سے برداشت نہیں ہو رہا تھا!! اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔۔۔۔!!!!!
” میرے سوالات کے جواب صحیح دیا کرو سمجھی اور خبردار جو مجھے آج کے بعد اگنور کرنے کی کوشش بھی کی ہو تو ورنہ مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ہو گا “
وہ غصے سے اس کی طرف بڑھتا ہوا اسے بازو سے پکڑتا ہوا بولا۔۔۔۔!! انوشا نے حیرانگی سے اس کی ہیزل نگاہوں کی طرف دیکھا جن میں اسے صرف اور صرف جنون دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔
” تم سے برا کوئی ہے بھی نہیں !! اور اب میرے راستے سے ہٹو مجھے میٹینگ اٹینڈ کرنی ہے “
اگلے ہی لمحے انوشا نے غصے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوایا تھا۔۔۔۔۔!! اور اپنے طور پر اسے بتایا کہ اس سے برا شخص اس دنیا میں کوئی ہے بھی نہیں ہے۔۔۔۔!!!
” تم کوئی میٹینگ اٹینڈ نہیں کرنے جاؤ گی یہاں پر تم صرف اور صرف میرے کہے کے مطابق کام کرو گی۔۔۔۔!! کیونکہ تم میری بیوی ہو اور تم پر فرض ہے کہ تم اپنے شوہر کی بات مانو “
اس دن سے لے کر پہلی آج کے دن تک زریر نے پہلی مرتبہ اسے اپنی بیوی کہتے ہوئے اس پر اپنا حق جتایا تھا اور اسے کہا کہ وہ اس کے کہنے کے مطابق ہی کام کیا کرے گی کمپنی میں “
” بیوی ؟؟ ہمم کونسی بیوی ؟؟ بھولو مت زریر کہ تم نے مجھ سے شادی زبردستی کہ ہے میں نے تم سے شادی نہیں کی ہے جو میں تمھارے ہر حکم کی پابندی کرو گی سمجھے۔۔۔!! میں میٹینگ ضرور سٹینڈ کرو گی اور میں بھی دیکھتی ہوں کہ مجھے کون روکتا ہے ؟ “
اس کی بات سنتے ہی انوشا کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔۔۔ وہ بولنا شروع ہوئی اور بولتی چلی گئی اس دوران زریر کو وہ کئی مرتبہ انگلی بھی دیکھا چکی تھی۔۔۔۔ آخری الفاظ ادا کرتے ہوئے وہ فائل لیتے ہوئے آفس سے باہر نکل گئی جبکہ زریر نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔!!! اور سختی سے مٹھیاں بھینج گیا!!!
حویلی میں مہندی کا فنکشن عروج حاصل کر چکا تھا۔۔۔۔ ہر طرف خوشیوں کا سماع تھا۔۔۔۔!!! پھول تو حویلی میں ایسے لگے ہوئے تھے جیسے حویلی کو پھولوں میں لاد دیا گیا ہو “
آج اسما حماد اور ربعیہ رہان کی مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔۔!!! حماد کی مہندی کا فنکشن اس کے گھر میں ہی ہونا باقی کا حویلی میں “
ربعیہ،اسما کو بیوٹی پارلر سے کچھ بیوٹیشنز تیار کرنے کے لیے آئے تھے۔۔۔۔!!!سارے مہمان آ چکے تھے۔۔۔۔ اور اب صرف مہندی کی رسومات شروع ہونے کا انتظار تھا۔۔۔۔
اور اس انتظار کو ختم کرنے کے لیے ربعیہ اور اسما کو کچھ لڑکیوں کے ہمراہ اسٹیج تک لایا گیا تھا۔۔۔۔ رہان بھی وہی ایک طرف کھڑا تھا۔۔۔۔” اس کی نگاہیں جو ہی ربعیہ پر پڑی تو اسے احساس ہوا کہ وہ کس قدر خوبصورت ہے۔۔۔۔!!!! خدا نے کتنا حسین ساتھ اس کی قسمت میں لکھ دیا تھا۔۔۔۔! وہ اسے دیکھتا ہوا ہلکا سا مسکرایا تھا جب ہی ربعیہ جو پلکیں جھکائے اسٹیج کی طرف بڑھ رہی تھی اس نے اسٹیج کے قریب پہنچتے ہوئے ایک لمحے کے لیے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا تو رہان فوراً نظریں جھکا گیا۔۔۔”
اسما کے چہرے پر سنجیدگی تھی اسے تو صرف اور صرف اس بات سے فرق پڑتا تھا وہ شادی کے بعد اپنی پڑھائی جاتی رکھ سکے گی جو اس کے لیے بہت بڑی خوشی تھی۔۔۔۔
دونوں دلہنوں کو اسٹیج ہر موجود صوفے پر بیٹھایا گیا۔۔۔۔۔ اور پھر مہندی کی رسومات کی ابتدا کی گئی تھی۔۔۔۔۔ سب سے پہلے حویلی کے بڑے شہزاد صاحب اور شہناز بیگم نے مہندی کی رسم ادا کی تھی۔۔۔۔!!
اس کے بعد ربعیہ کے والدین اور مزید چند قریبی رشتہ داروں کے رسم ادا کرنے کے بعد ازا اور کایان مہندی کی رسم ادا کرنے کے لیے اسٹیج کی طرف بڑھے۔۔۔۔!!!
ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر شہناز بیگم کے چہرے پر غصے والے تاثرات پھیل گئے تھے۔۔۔۔!!! انھیں آج بھی ازا میں اپنے بیٹے کا قاتل دکھتا تھا۔۔۔۔ آج بھی ازا کے خون میں اپنے بیٹے کے قاتل کا خون محسوس ہوتا تھا ان دونوں کو ساتھ دیکھتے ہوئے وہ اپنے چہرے کا رخ پھیر گئی تھی۔۔۔۔
” ایک منٹ !!! بڑی ہی بے حیا نوکرانی رکھی ہے آپ نے ایک تو اتنا بن ٹھن کر آئی ہے اور پھر حویلی کے لڑکے کے ساتھ مہندی کی رسم ادا کرنے بھی چل پڑی “
ازا اور کایان ابھی سامنے بیٹھی ہوئی ربعیہ اور اسما کی طرف بڑھے تھے ہی کہ پیچھے سے ایک رشتہ دار خاتون نے غصے سے ازا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ یقیناً یہ نوکرانی والی بات ان کے دماغ میں شہناز بیگم نے ہی ڈالی تھی۔۔۔۔!!
ان کی بات سنتے ہوئے کایان اور ازا فوراً پلٹے تھے۔۔۔۔!!!
” کیا مطلب ہے آپ کی بات کا کیا کہنا چاہتی ہیں آپ ؟؟؟؟ “
ان کی بات سنتے ہوئے کایان کی رگیں تن گئیں تھی۔۔۔۔!!! اس نے ماتھے کر بل نمودار ہوئے تھے۔۔۔۔۔ ازا نے پریشانی سے کایان کی طرف دیکھا تھا جو کافی طیش میں آ گیا تھا۔۔۔
” مطلب ؟ شہناز بولیں نا آپ کچھ !! آپ نے ہی ہمیں بتایا تھا نا کہ یہ لڑکی حویلی میں رہنے والی نوکرانی ہے۔۔۔ پر یہ تو بے حیا بھی بہت ہے۔۔۔۔ “
اس رشتہ دار خاتون نے شہناز بیگم کو متوجہ کرتے ہوئے کہا تو کایان نے قہر برساتی نگاہوں سے شہناز بیگم کو دیکھا۔۔۔۔!!! جو نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔ کایان غصے سے ان کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ ازا نے فوراً آگے بڑھتے ہوئے اس کا بازو تھام کر اسے روکا۔۔۔۔
” ویسے تم واقع ہی ہو تو بہت بے حیا !! جو یوں غیر مرد کے ہاتھ پکڑ رہی ہو ؟؟ کس حق سے ؟؟ تم جیسی لڑکیوں کا کام ہی یہ ہوتا ہے امیر لڑکوں پر دوڑے ڈالنا۔۔۔۔۔”
وہی خاتون جو پہلے بولی تھی۔۔۔۔!!! اب پھر سے وہی ازا کا برا بھلا سنانے لگی۔۔۔۔۔ وہاں کھڑے لوگ یہ سارا تماشا دیکھ رہے تھے اور یہ دیکھ کر شہناز بیگم کے دل کو کچھ راحت مل رہی تھی۔۔۔۔!!! ازا نے ان کی بات سنتے ہوئے کایان کے بازو سے ہاتھ ہٹائے تو اگلے ہی لمحے کایان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔
” آنٹی !!! پہلے تو آپ اپنی زبان کو لگام دیجئے۔۔۔۔۔ آپ کسی اور سے نہیں بلکہ میری بیوی ” ازا کایان ملک ” سے بات کر رہی ہیں اور جب وہ میری بیوی ہے تو لازمی ہے کہ وہ میرے ساتھ ہی مہندی کی رسم ادا کرے گی۔۔۔۔ آج بس ایک دفعیہ میں نے آپ سب کو بتا دیا کہ یہ لڑکی میری بیوی ہے۔۔۔ اور آپ سب پر لازم ہے کہ آپ اسے وہی عزت دے جو عزت مجھے یا کسی بھی حویلی کے فرد کو دیتے ہیں اور آنٹی آپ کی اور آپ کے ان شہناز بیگم کی غلط فہمی کو دور کر دیا ہے آج کے بعد غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی “
اس نے ازا کو عزت دیتے ہوئے سامنے کھڑی اس خاتون سمیت شہناز بیگم کی بولتی بھی بند کروا دی تھی۔۔۔۔ جبکہ رہان اور ربعیہ دونوں کے چہروں پر اس کی باتیں سن کر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔۔ ازا جو اس کے ساتھ کھڑی تھی اس کے منھ سے اپنے لیے یہ الفاظ سن کر اس نے عقیدت سے کایان کے چہرے پر دیکھا جس کی نگاہوں میں اس عورت کے لیے ابھی بھی غصہ تھا جس نے ازا کی بے عزتی کی تھی۔۔۔۔
” چلیں مہندی کی رسم ادا کرتے ہیں “
کایان نے مسکراتے ہوئے ازا کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔ وہ مزید بد مزگی پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اسی وجہ وہ اسے لیے ہوئے مہندی کی رسم ادا کرنے لگا اس کی باتیں سن کر ازا کو بہت خوشی ملی تھی۔۔۔۔۔!!! مہندی کی رسومات ادا کرنے کے بعد سب لوگ ہلا گلا کرنے میں مصروف ہو گئے تھے!! شہزاد ملک نے شہناز بیگم کی کافی جھاڑ کی تھی۔۔۔۔
” صادق مجھے کچھ بھی نہیں جانتا !! زمین میں کے کونے کونے کو چھان مارا لیکن مجھے فاریہ جی چاہئیے ہر حال میں “
وہ دونوں پچھلے دو دنوں سے فاریہ جو ڈھونڈنے میں مصروف شہر کے ہر کونے میں انھوں نے اسے ڈھونڈا۔۔۔۔ کوئی سکول ، کوئی ہسپتال ، مال ، کالونیز ، ایسی نہیں تھی جہاں پر انھوں نے فاریہ کو نا ڈھونڈا ہو لیکن وہ انھیں کہیں بھی نہیں ملی تھی۔۔۔۔!!!
” بھائی مجھے تو لگتا ہے کہ بھابھی یہاں سے بھاگ گئی ہیں “
صادق بھی اس کے ساتھ ہی اسے ڈھونڈنے میں مصروف تھا۔۔۔۔!! لیکن اب اس کی بس ہو گئی تھی ،،، جب ہی اس نے آتش سے کہا۔۔۔
” فاریہ جی !! مجھ سے چاہے کتنا ہی دور کیوں نا چلی جائے لیکن ہمیشہ میری ہی رہیں گی۔۔۔۔ انھیں تو میں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالا گا۔۔۔!!! “
آتش نے جنونی لہجہ اپناتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔ وہ پھر سے اس کی تلاش کرنے کے لیے گاڑی میں بیٹھتا ہوا نکل گیا تھا اور ہمیشہ کی طرح صادق اس کے ساتھ تھا۔۔۔۔
” کیا نام ہے تمھارا لڑکی ؟؟ “
کنول بیگم نے سامنے کھڑی ہوئی اس پرکشش اور خوبصورت لڑکی کو دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا کہ اس کا نام کیا ہے ؟؟
” فاریہ “
فاریہ یہاں پر تھی۔۔۔۔۔ اس نے سامنے بیٹھی ہوئی کنول بیگم کو بتایا تھا کہ اس کا نام ” فاریہ ” ہے۔۔۔
” نام پیارا ہے تمھارا سعدیہ نے مجھے کہا تھا کہ تمھیں رہائش کی ضرورت ہے تم یہاں پر رہ سکتی ہو۔۔۔۔!! بس گھر کا کچن تمھیں سمبھالنا ہو گا “
کنول بیگم نے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی جس کا مطلب صاف تھا کہ اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے !! وہ یہاں پر سعدیہ کے کہنے پر آئی تھی۔۔۔۔ دو دن پہلے رات کو جب سعدیہ اس کے کمرے میں آئی تھی اس وقت ہی اس نے فاریہ کو یہاں پر آنے کا کہا تھا اور اسے یہ بھی کہا تھا کہ آتش سے بچنے کی یہ سب سے بہترین جگہ ہو گی۔۔۔۔
” جاؤ نیلم آپی کو کمرہ دیکھا دو ان کا “
کنول بیگم نے نیلم سے کہا تو وہ فاریہ کو لیے ہوئے یہاں سے چلی گئی۔۔۔۔جب ہی بہزاد ( کنول کا بیٹا ) وہاں پر پہنچا جس کی نظریں فاریہ پر پڑی تھی۔۔۔۔۔
” یہ کون ہے ماں ؟؟ “
اس نے کنول بیگم سے سوال کیا۔۔۔۔
” رہنے کے لیے آئی ہے “
کنول بیگم نے کہا اور فون مین مصروف ہو گئی جبکہ بہزاد کی نگاہیں اس کا پیچھا کر رہی تھی۔۔۔۔۔!!!! اس کی نظروں میں ہوس تھی۔۔۔۔!!! کیا فاریہ نے یہاں آ کر غلطی کی تھی ؟ کیا کبھی آتش فاریہ کو تلاش کر سکے گا۔۔۔۔ یا وہ دونوں فاریہ کے اس قدم سے ہمیشہ کے لیے الگ ہو جائیں گے ؟؟
