Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 5)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 
” کایان کی حرکتیں دیکھ رہی ہیں آپ ؟ اس منحوس کو آئے ابھی ایک دن بھی نہیں ہوا اور اس کے ارد گرد گھوم رہا ہے!! “

ارحم گھر آیا تو سیدھا ماں کے پاس آ گیا۔۔۔۔ راستے میں اسے ایک نوکر ملا جو کسی کے لیے ناشتہ لے کر جا رہا تھا اس کے پوچھنے پر اس نوکر نے اسے بتایا کہ وہ یہ ناشتہ کایان صاحب کے کہنے پر ازا بی بی کے لیے کے کر جارہا ہے تو ارحم کا میٹر شارٹ ہوا۔۔۔۔ اور ماں کے پاس آتے ہوئے اس نے غصے سے کہا جہاں صائمہ بھی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

” دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔ کیا کر سکتی ہوں میں ؟ پتہ نہیں کیا جادو کر دیا ہے اس منحوس نے ایک ہی رات میں کایان پر ؟ “

شہناز بیگم نے ازا کے لیے منحوس کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا تو ارحم اور صائمہ کے چہرے پر غصے کے تاثرات پھیل گئے۔۔۔۔

” امی!!! ہمیں کچھ بھی کر کے کایان کو ازا سے دور کرنا ہو گا۔۔۔۔۔ میں اپنے بھائی کے قاتل کی بہن کو اس گھر کی بہو کبھی بھی تسلیم نہیں کرو گی یاد رکھیے گا آپ میری یہ بات!!! “

صائمہ نے غصے سے کہا۔۔۔۔ تو شہناز بیگم طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔

” تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔ ہمیں کچھ نا کچھ تو کرنا ہی ہوگا۔۔۔۔۔!! یوں اس لڑکی کو اس گھر کی مالکن تھوڑی مان سکتے ہیں ہم۔۔۔۔”

شہناز بیگم نے کہا تو صائمہ اور ارحم نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔

” اور ارحم تم بھی زرا ربعیہ کی لگامیں کھینچو۔۔۔۔ بہت ہوا میں اڑ رہی ہے پڑھائی کی اجازت جو مل گئی ہے۔۔۔۔ نکاح کے بعد اس کی یہ پڑھائی رکواؤ اور گھر داری کی تاکید کرو اسے۔۔۔۔ سمجھے!! “

شہناز بیگم نے ارحم کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھانا شروع کردی۔۔۔۔

” جی امی۔۔۔۔!!! “

وہ سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔” صائمہ اٹھتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔

کایان ناشتہ کرنے کے بعد آفس کے لیے نکل گیا۔۔۔۔۔!!! ازا کمرے سے باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے ہی صائمہ کو کھڑا ہوا پایا۔۔۔۔”

” رانی صاحبہ اگر آپ کے نکھرے ختم ہو گئے ہوں نا تو یہ پکڑو کپڑے اور انھیں پریس کر کے دو مجھے۔۔۔۔۔ سمجھی۔۔۔۔!!! یہاں سے لیفٹ پر جاؤ تو پریسنگ روم ہوگا”

صائمہ اس کے ہاتھ میں کچھ کپڑے تھماتی ہوئی بولی تو ازا اس کے حکم پر سر ہاں میں ہلاتی ہوئی لیفٹ سائیڈ کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

آئرن اسٹینڈ پر آتی ہوئی وہ کپڑے پریس کرنے لگی۔۔۔۔ دوپٹہ پریس کرتے ہوئے اچانک ہی اس کے ذہن میں اس کے ماں باپ کا خیال آیا۔۔۔۔

اس کی آنکھ سے فوراً آنسو بہا۔۔۔۔۔!!! اور وہ ماں باپ کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات میں ایسی کھوئی کہ اسے علم ہی نہیں ہوا کہ نیچے سے ڈوپٹہ جل چکا ہے۔۔۔۔

” ازا۔۔۔۔۔۔!!! “

ہوش میں تو وہ اس وقت آئی جب ایک زور دار چیخ کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔۔۔۔!!! وہ اچانک ہونے والے اس عمل سے ڈر سی گئی تھی۔۔۔۔۔!!!

جب ہی صائمہ نے اسے پیچھے دھکا دیا اور آئرن اسٹینڈ سے اپنا دوپٹہ اٹھایا۔۔۔۔ تو دیکھا کہ وہ کافی حد تک جل چکا تھا۔۔۔۔ جب ہی اس ڈوپٹے پر ازا کی نظر پڑی تو اسے اپنی انجانے میں ہوئی غلطی کا احساس ہوا!!!!!

” کہاں کھوئی ہو تم ؟؟ دھیان سے کام نہیں کر سکتی ہو ؟؟ ایک کام دیا تھا میں نے تم سے وہ بھی نہیں ہوا “

صائمہ نے غصے سے ڈوپٹہ آئرن اسٹینڈ پر پھینکا اور غصے سے ازا پر چلائی۔۔۔۔۔!!!! ازا نظریں جھکائے مزید سہم گئی۔۔۔۔

” س۔۔۔ سوری غ۔۔لطی سے ہو گیا۔۔۔۔”

ازا نے اس سے معافی مانگنی چاہی۔۔۔

” کیا سوری ؟؟ تم معافی کے نہیں سزا کے لائق ہو!!! اور تمہیں میں ضرور سزا دوں گی۔۔۔۔۔”

صائمہ نے غصے سے کہا کہ اسے معافی نہیں سزا ملے گی۔۔۔۔!! اور اگلے ہی لمحے اس نے آئرن اسٹینڈ سے استری اٹھائی۔۔۔

” نہ۔۔۔۔یں پل۔۔۔۔یز بس ا۔۔۔۔یک دفع معا۔۔۔ف کر۔۔دیں۔۔۔”

ازا اس کے ارادے بھانپتی ہوئی اس سے معافی کی بھیگ مانگنے لگی۔۔۔۔۔!! لیکن صائمہ پر اسکا کوئی اثر بھی نہیں ہوا۔۔۔۔ اس نے ازا کا بازو پکڑتے ہوئے استری کے ساتھ لگا دیا۔۔۔۔

” آہہہہ۔۔۔۔!! “

ازا سسک پڑی آنکھوں سے آنسو تیز روانی سے نکل پڑے۔۔۔۔۔!!!! اس نے بازو چھڑوانے کی کوشش کی لیکن صائمہ نے یہ ممکن نا ہونے دیا۔۔۔۔۔!!!!!دو لمحات بعد صائمہ نے اس کا بازو سے استری سے ہٹایا۔۔۔ ازا نے فوراً پھونک ماری اسے اس قدر تکلیف ہو رہی تھی جو اس کی برداشت سے باہر تھی۔۔۔۔!!!!!!!

” مجھے لگتا ہے کہ یہ کافی ہے تمھاری عقل ٹھکانے لگانے کے لیے۔۔۔۔!!”

صائمہ نے غصے سے کہا اور وہاں سے باہر نکل گئی جبکہ اس کے جاتے ہی ربعیہ جو ازا کی سسکیاں سن کر اس طرف بڑھی تھی وہاں پر پہنچی تو ازا کا بازو ایک طرف سے جلا ہوا پایا۔۔۔۔

ازا تیز روانی سے رو رہی تھی۔۔۔۔۔

” بھابھی یہ کیسے ؟؟ صائمہ نے کیا ہے یہ!!! “

پہلے ربعیہ نے سوال پوچھنا چاہا لیکن پھر صائمہ کے غصے کو دیکھتے ہوئے اس نے خود سے ہی اندازہ لگایا۔۔۔۔

اس کا جلا بازو ، اس کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو ، اور تکلیف کو دیکھتے ہوئے ربعیہ کی آنکھیں بھی نم ہوئی۔۔۔۔

” بھابھی آئے میرے ساتھ میں آپ کے زخم پر ٹیوب لگا دیتی ہوں اس سے زیادہ درد نہیں ہو گا آپ کو آئیں۔۔۔۔!! “

ربعیہ نے آہستگی کا لہجہ اپناتے ہوئے ازا سے کہا اور اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگی۔۔۔۔ تا کہ وہ اس کے زخم پر مرہم لگا سکے۔۔۔۔ جبکہ ازا سے یہ تکلیف برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔

” بھابھی!! آپ نے کیوں صائمہ کی یہ حرکت برداشت کی ؟؟ آپ نے کیوں نہیں روکا اسے ؟ کایان بھائی بھی تو آپ کے ساتھ ہیں!! یہ ظلم برداشت مت کریں۔۔۔!!! “

ربعیہ ازا کو سمجھا رہی تھی۔۔۔۔۔ کہ وہ یہ ظلم برداشت مت کریں اگر صائمہ نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی تو اسے روکنا چاہئیے تھا اسے۔۔۔۔۔

ربعیہ نے اس کے زخم پر ٹیوب لگا دی۔۔۔۔۔۔ اب ازا کو زخم کا کافی آرام تھا۔۔۔۔۔!!!! اور جلن بھی کافی کم ہو گئی تھی۔۔۔۔

” میں کچھ بھی نہیں کر سکتی ہوں ربعیہ یہ سب ظلم برداشت کرنا میری قسمت میں لکھا ہے۔۔۔۔!! “

ازا نے مایوسی سے کہا۔۔۔۔

” نہیں۔۔۔۔۔ بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔!!!! یہ ظلم آپ کی قسمت میں نہیں لکھے گئے ہیں یہ سب ظلم مظالم آپ جان بوجھ کر برداشت کر رہی ہیں۔۔۔۔!!!

اگر یہ آپ کی قسمت میں لکھے ہوتے نا تو کایان بھائی کبھی بھی آپ کا ساتھ نا دیتے۔۔۔۔۔ آپ سمجھے اس بات کو کہ اللہ تعالیٰ نے بھائی کو آپ کا محافظ بنایا ہے۔۔۔۔!!!! “

ازا کی مایوسی والی باتیں سن کر ربعیہ کو بہت زیادہ دکھ ہوا۔۔۔۔۔ ربعیہ نے اسے سمجھایا کہ یہ دکھ درد تکلیفیں وہ برداشت نا کرے۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ کایان کھڑا ہے ہمیشہ اس کا محافظ بن کر۔۔۔۔

” Hello Girls!! “

اس کی بات سنتے ہوئے ازا کچھ دیر کے خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔ جب ہی کایان نے دروازہ ناک کیا اور انھیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔!!!

اور ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے وہ اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔ جیسے ہی بیڈ کی طرف بڑھا تو اسے کا ازا کا بازو ایک طرف سے جلا ہوا دیکھائی دیا جاے وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔

” ازا۔۔۔۔۔!! یہ کیا ہوا آپ کے ہاتھ پر ؟؟ یہ کیسے جلا ؟؟”

کایان نے آہستگی سے اس کا ہاتھ تھاما تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا بازو جلا ہوا ہے۔۔۔۔۔ اس کے سوال پوچھنے پر ازا کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے ؟

” وہ۔۔۔۔۔ غ۔۔لطی۔۔۔۔س۔۔ے!!! “

” نہیں بھابھی !! آپ بھائی سے مت چھپائے!! سچ بتائیں کہ یہ کس نے کیا ہے۔۔۔۔؟؟ “

ازا نے اس سے بات چھپانی چاہی تو ربعیہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا تو اس کی بات سن کر کایان حیران ہوا کہ کس نے کیا ہو گا یہ ؟

” بتاؤ مجھے ربعیہ بچے کہ یہ کس نے کیا ہے۔۔۔۔؟؟ “

کایان نے غصے ہر قابو پاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔!!!

” بھائی صائمہ نے ازا بھابھی کو کچھ کپڑے پریس کرنے کے لیے دیے تھے۔۔۔۔۔ اور وہ بھابھی سے غلطی سے جل گئے۔۔۔۔!!! اور صائمہ نے غصے میں بھابھی کا بازو استری کے ساتھ لگا دیا۔۔۔۔۔”

اس کی بات سن کر کایان اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا۔۔۔۔۔ جب اس نے ایک مرتبہ ان سب کو کہہ دیا تھا کہ وہ ازا کوئی تکلیف نہیں دے گے،،،، تو پھر صائمہ کی یہ ہمت کیسے ہوئی یہ سب کچھ کرنے کی ؟؟؟؟؟؟

وہ غصے سے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔ ازا نے اسے پریشانی سے دیکھا اور دل اس کا گھبراتا گیا۔۔۔ نا جانے اب کیا ہو گا ؟؟ کیونکہ کایان بہت غصے میں کمرے سے نکلا تھا۔۔۔۔۔

ربعیہ اور ازا اس کے پیچھے گئی۔۔۔۔

” دادا جان یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ؟؟ آپ کو معلوم ہے کہ مجھے اس شادی وغیرہ میں کوئی بھی انٹرسٹ نہیں ہے!!!

اور اگر کبھی میں نے شادی کی بھی تو میں انوشا سے کبھی بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ کتنی بد زبان ہے۔۔۔۔؟ میں اس بد زبان لڑکی سے کبھی بھی شادی نہیں کرو گا۔۔۔۔”

آج انوشا کو یہاں آئے ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔۔۔۔ اس کے اس زاہد صاحب ( زریر ، انوشا کے دادا ابو ) نے زریر سے اس کی شادی کی بات کی انوشا کے ساتھ۔۔۔۔!!!

” بیٹا۔۔۔۔۔!!! وہ کبھی اس ماحول میں نہیں رہی ہے۔۔۔۔!!! اس وجہ سے اس ماحول میں فوراً تھوڑی ڈھل سکتی ہے،،، اور جب اس کی شادی تم سے ہو جائے گی تو وہ مسلسل یہی رہے گی اور یہاں کے رنگ میں ڈھل جائے گی۔۔۔۔!!!! “

اس کے دادا جان نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اس اکڑو لڑکی سے کبھی بھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

” دادا جان جو کچھ بھی ہو۔۔۔۔۔ میں اس لڑکی سے شادی کبھی بھی نہیں کرو گا۔۔۔۔۔۔!!! “

زریر نے صاف طور پر اس رشتے سے انکار کر دیا تھا۔۔۔۔

” بیٹا۔۔۔۔ میں نے تو صرف اس وجہ سے کہا تھا کہ ایک تو اس معصوم کے ماں باپ بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔۔۔۔

اور میں بھی آج ہوں کل نہیں رہوں گا۔۔۔۔ ایسے میں وہ معصوم کہاں جائے گی ؟؟ لیکن تم اپنی انا کی تسکین کے لیے میری اتنی بھی بات نہیں مان سکتے!!!

چلو کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔!!! “

انھوں نے زریر کو ایمویشنل بلیک میل کیا تو زریر نے گھور کر انھیں دیکھا کہ صرف اس لڑکی سے شادی کی ہاں کے لیے وہ یہ سب کچھ کہہ رہے تھے۔۔۔۔!!!

” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔!!! “

اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ساری بات ایک ہی سانس میں کہہ دی جو اس کے دادا ابو کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر گئی۔۔۔۔

” مجھے معلوم تھا کہ تم میری بات کبھی بھی نہیں ٹالو گے۔۔۔۔!!! اب میں انوشا سے بھی بات کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔!!! “

ان کی بات سن کر زریر کو حیرانگی ہوئی۔۔۔۔۔!!!

” آپ نے ابھی تک اس سے بات نہیں کی ( شکر ہے اب اللہ کرے وہ خود ہی اس شادی سے انکار کر دے۔۔۔۔!! ) “

اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔

” نہیں لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ وہ میری بات ضرور مانے گی اور رشتے کے لیے ہاں کر دے گی۔۔۔۔!! “

انھوں نے مسکرا کر کہا اور کمرے سے نکل گئے جب ہی زریر سر ہاتھوں میں دے کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

” اب ہمیں ارحم اور ربعیہ کی شادی کے بارے میں بھی سوچنا چاہئیے۔۔۔۔!!! “

شہناز بیگم نے سامنے بیٹھے ہوئے شہزاد ملک سے کہا تو انھوں نے سر ہاں میں ہلایا اور کسی کام کے عوض وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔ اب وہاں ہر شہناز بیگم ، صائمہ ، اور ربعیہ کی والدہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔

کایان غصے سے وہاں پر پہنچا اور ان سب کے سامنے آ رکا۔۔۔۔۔!! اس کے پیچھے ہی ازا اور ربعیہ بھی آ رکی۔۔۔۔

” صائمہ تم نے ازا سے بد تمیزی کیوں کی ؟؟ “

اس نے بڑے ضبط سے سوال کیا تھا۔۔۔۔۔ اس کی تربیت میں یہ شامل نہیں تھا کہ وہ کسی سے بھی برے لہجے میں سوال کرے۔۔۔۔

” صرف بد تمیزی نہیں میں نے اس کا ہاتھ جلایا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اس نے میرا دوپٹہ جلا دیا۔۔۔۔۔۔!!! “

صائمہ نے بڑی ہی ڈھٹائی سے کہا۔۔۔۔۔ کایان کا ضبط اب ٹوٹ رہا تھا”

” تمھارے ہاتھ ٹوٹ گئے تھے کیا ؟ خود استری نہیں کر سکتی تھی کیا کپڑے ؟ “

ربعیہ نے اس کی ڈھٹائی کو دیکھتے ہوئے کہا تو شہناز بیگم نے اور صائمہ نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔

” اوو تو تم بھی اب ان محترمہ کا ساتھ دو گی!!! ایک کم تھا کیا۔۔۔۔۔ اب یہ لڑکی ہمارے گھر والوں کو ہمارے ہی خلاف کر رہی ہے۔۔۔۔!!! میرا تو دل کرتا ہے کہ میں اسے جان سے ہی مار دوں۔۔۔۔”

صائمہ نے غصے سے کہا اور غصے سے ازا کی طرف اسے مارنے کے ارادے سے بڑھی۔۔۔۔۔

” چٹاخ۔۔۔۔۔!!! “

ایک زور دار مردانہ تھپڑ صائمہ کے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔۔!!

” اگر اسے خلاف ہی کرنا ہوتا تو کل رات ہی مجھے بتا دیتی کہ اس کے سر پر دیا گیا زخم بھی تمھاری وجہ سے ہی ہے۔۔۔۔۔۔!!!! “

کایان کے الفاظ پر ازا حیران ہوئی کہ اسے کیسے معلوم ہوا کہ صائمہ کی وجہ سے اس کے سر پر چوٹ لگی تھی۔۔۔۔ جبکہ صائمہ اپنے پر ہاتھ رکھے حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *