Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 3)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 
رات کے گہرے سائے ڈھل چکے تھے۔۔۔۔ ہر طرف بادل ہی بادل تھے۔۔۔۔۔!! تیز ٹھنڈی ہوائیں شہر میں ہر طرف چل رہی تھی۔۔۔۔

ایسا لگتا تھا کہ تیز بارش ہو گی۔۔۔۔۔ بہت تیز طوفان آئے گا۔۔۔۔ جیسے جیسے رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔ ہواؤں کی روانی بھی تیز ہوتی جا رہی تھی!!!

ازا کمرے میں زمین پر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی رونے میں مصروف تھی۔۔۔۔!! سر میں شدید درد کی لہریں اٹھ رہی تھی۔۔۔۔۔

جن کو وہ مسلسل اگنور کر رہی تھی!!! سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہاں سے خون رس رہا تھا۔۔۔۔۔!! خون کی لڑیاں اس کے ماتھے سے ہوتی ہوئی اس کی گالوں سے ہوتے ہوئے اس کی گردن تک جا رہی تھی!!!!

اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ یہاں کیسے رہے گی ؟؟ اس کی آنے والی زندگی میں کیا ہونے والا ہے ؟؟

وہ سوچوں میں گم تھی جب ہی کایان کمرے کا دروازہ کھولتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔

جیسے ہی کایان کمرے میں داخل ہوا تو اسے کسی کی سسکیاں سنائی دی۔۔۔۔ کایان نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔ جو زمین پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی۔۔۔۔

کایان اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔

” ازا ؟ کیا ہوا آپ زمین پر کیوں بیٹھی ہو ؟؟ اور رو کیوں رہی ہیں ؟؟ “

اس نے نہایت ہی احترام سے اس سے کہا۔۔۔۔۔ اور آہستگی سے اس کے بازوؤں کو تھامتے ہوئے کھڑا کیا!! وہ جو سر جھکائے ہوئے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔

جیسے ہی کھڑی ہوئی تو اس کے سر پر لگی ہوئی چوٹ کایان کے سامنے عیاں ہوئی۔۔۔۔۔!!!! تو کایان نے پریشانی سے اسے دیکھا۔۔۔۔

” What is this ??

یہ چوٹ کیسے لگی ؟؟ “

کایان نے پریشانی سے کہا۔۔۔۔۔ تو ازا نظریں جھکا گئی!! کیا کہتی وہ اسے ؟؟ کہ یہ صائمہ نے کیا ہے!!

” آپ بیٹھو ادھر پٹی کرنی پڑے گی۔۔۔۔!! میں فرسٹ ایڈ باکس کے کر آتا ہوں۔۔۔!! “

کایان نے ازا کو بیڈ کی دائیں جانب بیٹھاتے ہوئے اس کی فکر کرتے ہوئے کہا اور خود بیڈ کی بائیں جانب والے سائیڈ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس نکالنے اس جانب بڑھا۔۔۔۔

ازا ڈری سہمی سی وہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔

” ( اگر اس لڑکی کی کہی ہوئی بات سچ ہوئی تو ؟؟ ) “

اس بات کو ذہن میں لاتی ہوئی وہ مزید سہم گئی۔۔۔۔!!

جب ہی وہ فرسٹ ایڈ باکس لیتا ہوا اس کی جانب آیا اور بیڈ پر اس کے سامنے کچھ فاصلے سے بیٹھتا ہوا فرسٹ ایڈ باکس سے کچھ پھولنے لگا۔۔۔

” آپ نے بتایا نہیں کہ یہ چوٹ کیسے لگی آپ کو ؟؟ “

فسرٹ ایڈ باکس سے روئی نکالتے ہوئے اس نے پائیوڈین سے اس کے ماتھے سے بہتا ہوا خون صاف کرتے ہوئے آہستگی سے اس سے کہا۔۔۔۔

اس کی انگلیوں کا لمس وہ محسوس کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔ اس کے ہر انداز میں اس کے لیے فکر تھی۔۔۔۔!!! ازا نے آنکھیں سختی سے میچ لیں۔۔۔۔!!

” وہ غلطی سے پاؤں سلپ ہو گیا۔۔۔۔۔!! “

ہڑ بڑی میں وہ جھوٹ بول گئی۔۔۔۔

” How would you so care less ??

دھیان سے چلا کریں۔۔۔۔”

کایان نے تھوڑا سیا سنجیدہ پڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔!!! اور اسے آیندہ خیال رکھنے کی تاکید کی۔۔۔۔۔!! جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔

” آپ ایک کام کرو سو جاؤ رات بہت ہو چکی ہے۔۔۔۔۔ کپڑے چینج کر کے سو جاؤ آپ۔۔۔۔۔!! “

کایان نے اس کے سر پر مرہم لگا کر فرسٹ ایڈ باکس کو اس کی جگہ پر رکھتے ہوئے کہا تو ازا نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔

” و۔۔۔ وہ میرے پ۔۔۔۔اس کپڑے نہیں ہ۔۔۔ی۔۔ں !! “

ازا نے جھجکتے ہوئے آہستگی سے کہا کہ اس کے پاس کپڑے موجود نہیں ہیں۔۔۔۔۔!!! تو کایان کے ذہن میں بھی یہ بات گھومی کہ کپڑے کیسے ہونگے ؟ جن حالات میں نکاح ہوا تھا اسے خود کی ہوش نہیں تو کپڑے کی کیسے ؟

” کوئی بات نہیں!!! آپ سو جاؤ ہم اس کے بارے میں سوچتے ہیں کچھ۔۔۔۔۔!! آپ ریسٹ کرو۔۔۔۔ تھک گئی ہو گی آپ۔۔۔۔”

کایان نے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔۔!!

” میں کہاں سو گی ؟؟ “

ازا کے سوال پر وہ حیران ہوا۔۔۔۔

” کیا مطلب ہے یہی سوئے گی آپ اسی کمرے میں آپ بیڈ پر سو جانا اور میں صوفے پر سو جاؤ گا!!! “

کایان نے اسے کہا کہ بھئی یہ کیسا سوال ہوا بھلا ؟؟ ظاہر سی بات ہے کہ وہ یہی سوئے گی اسی کمرے میں۔۔۔۔۔

اس نے یہ بھی کہا کہ وہ بیڈ پر سو جائے اور وہ صوفے کر سو جائے گا۔۔۔۔۔!!! جس پر ازا نے بغیر کوئی بھی سوال کیے ہوئے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔۔!!

جب ہی وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔ ازا بیڈ پر سیدھی ہوتی ہوئی کنفرٹر خود پر چڑھاتی ہوئی ماں باپ کے خیالات میں کھو گئی۔۔۔۔۔

اب وہ ان سے کبھی بھی مل نہیں سکتی تھی ؟؟ اس کی آنکھ سے آنسو بہا اور پھر آنسو بہنا شروع ہو گئے۔۔۔۔۔!!

سر میں شدید درد تھا۔۔۔۔۔ جس۔ وجہ سے نیند جلد اس پر غالب ہوگئی۔۔۔۔ ازا کی آنکھ کب لگی اسے خود معلوم نہیں تھا۔۔۔۔

” مجھے ازا کو ان سب مظالم سے بچانا ہو گا۔۔۔۔! اس کا تو اس میں کوئی قصور نہیں ہے!!!

کیا اس نے مارا تھا فائق کو۔۔۔۔۔ یا اس کے قتل میں کہیں بھی اس کا ہاتھ تھا ؟؟ نہیں!! بالکل بھی نہیں!!

اس نے تو شائید کبھی فائق کو دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔۔!! مجھے اس کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔۔۔۔

کیونکہ اگر میں نے اس کا ساتھ نا دیا۔۔۔۔۔ اس کی حفاظت نہیں کی تو یہ دنیا اسے نوچ کھائے گی!!! مجھے اس کا محافظ بننا ہے۔۔۔۔۔

اسے ہر ظلم اور ہر زیادتی سے بچانا ہو گا!! وہ اس سب کے اہل نہیں تھی۔۔۔ وہ اس طرح یہ سب کچھ ڈیزرو نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔

کیونکہ اس کا کوئی بھی قصور نہیں ہے۔۔۔۔!! “

باہر گاڑدن میں آتے ہوئے تیز ہواؤں میں کھڑے ہو کر اس نے ایک ایک حرف ادا کیا۔۔۔۔۔ اس کے ہر حرف میں ازا کے لیے پریشانی تھی۔۔۔۔۔

اس کی خالہ نے اسے بچپن میں سیکھایا تھا کہ ظلم برداشت نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ ظلم برداشت نہیں کرنا چاہئیے!! کیونکہ ظلم برداشت کرنے سے بڑھتا ہے ختم نہیں ہوتا!!

اسے ہی مد نظر رکھتے ہوئے وہ ازا کی حفاظت کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔ اسے ہر ظلم۔سے بچانا چاہتا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ اس کی بیوی تھی۔۔۔۔ اس کی حفاظت کرنا اس کا فرض تھا۔۔۔۔!!!

” امی!! میں نے آپ سے کہا نا مجھے شادی نہیں کرنی تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔!!! “

اسما نے غصے سے ماں کو اس شادی سے منع کر دیا تھا۔۔۔۔۔

” کیوں ؟ کیوں نہیں کرنی ہے شادی ؟؟ “

شہباز بیگم نے اس سے وجہ معلوم کرنی چاہی کہ آخر وجہ کیا ہے جو اسما شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔

” کیونکہ امی۔۔۔۔!! میں ابھی پڑھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔!!! میں کچھ بننا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔!! میں ان شادی کے چھمبیلوں میں نہیں پڑ سکتی۔۔۔۔۔!!!!!!!! “

اسما نے کہا تو شہباز بیگم نے سے غصے سے دیکھا۔۔۔۔۔”

” خبردار اسما۔۔۔۔۔!! جو یہ بات تم نے اپنے منھ سے کسی کے بھی سامنے نکالی ورنہ تمھاری جان نکال دوں گی میں تمھاری۔۔۔۔۔ سمجھی تم۔۔۔۔

اور اگر زیادہ چوں چاں کی نا تم نے تمھارا نکاح بھی میں ربعیہ اور ارحم کے نکاح والے دن ہی کروا دوں گی۔۔۔۔!!! “

شہناز نے غصے سے کہا۔۔۔۔ اسما کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ یہ کیوں کر رہی ہیں ؟ “

” پر امی۔۔۔۔!! “

” خبردار جو ایک لفظ بھی منھ سے نکالا ورنہ تمھاری زبان گدھی سے کھینچ لوں گی میں۔۔۔۔۔

اپنے والد صاحب کے سامنے جا کر چپ چاپ اس رشتے کے لیے ہاں کہہ دو ورنہ مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔

شادی نہیں کرنی انھیں۔۔۔۔!! پڑھنا ہے۔۔۔ ہہہ۔۔۔!! “

شہناز بیگم ایک مرتبہ پھر سے اس پر چلائی۔۔۔۔۔ اور آخری جملہ انھوں نے طنزیہ کہا اور کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔

دوسری طرف اسما وہی غصے سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔ اسے شدید غصہ آ رہا تھا۔۔۔۔۔!! اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ سارے کمرے کا خشر نشر کر دے۔۔۔۔”

” یہ کیسے کپڑے پہن رکھے ہیں تم نے ؟؟ “

زریر آفس سے ابھی واپس آیا تو گاڑڈن میں انوشا کو ایک عام سا ٹراؤزر شڑٹ پہنے پایا تو اسے شدید غصہ آیا۔۔۔۔

“وہ کیسے اتنی لا پرواہ ہو سکتی تھی ؟؟ اسے اپنے لباس کا خیال خود رکھنا چاہئیے!! وہ بچی تھوڑی ہے۔۔۔۔

جو ایسے کپڑے پہن رہی ہے۔۔۔۔!!! گھر میں میل ملازم بھی ہوتے وہ کیا سوچے گے اس کے متعلق ؟؟ “

یہی سب کچھ سوچتے ہوئے زریر غصے سے اس کی طرف بڑھا اور غصے سے ہی کہتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کر گیا۔۔۔۔

” کیا مطلب ہے کیا مسئلہ ہے ان کپڑوں میں ؟؟ “

انوشا نے لا پرواہی سے کہا۔۔۔۔ اپنے لحاظ سے وہ سہی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہی لندن رہی تھی اور وہاں ان باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔۔۔۔

” یہ لندن نہیں ہے۔۔۔۔ پاکستان ہے۔۔۔۔!! یہاں ایسے کپڑے نہیں پہنتے ہیں۔۔۔۔ سمجھی جاؤ ابھی جا کر یہ سب چینج کرو۔۔۔۔!! “

زریر نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔ جب ہی انوشا نے اسے غصہ سے دیکھا۔۔۔۔

” تم کون ہوتے ہو مجھے حکم دینے والے ؟؟ مجھے معلوم ہے کہ مجھے کیا پہننا ہے اور کیا نہیں!! تمھیں مجھے آگاہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے تم۔۔۔۔!! “

انوشا نے اس سے غصے سے کہتے ہوئے اس کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔۔۔۔۔!!!

” میں تمھارا۔۔۔۔۔!! “

اس نے مشکل سے ہی اپنے غصے پر قابو پایا!

” ڈرائیور ہوں۔۔۔۔!!!! “

وہ اسے بھسم کر دینے والے انداز میں کہہ گئی۔۔۔۔

” اور ایک اور بات!! کسی کا بھی کوئی بھی حکم انوشا کر نہیں چل سکتا سمجھے تم۔۔۔۔!!! انوشا اپنی مرضی کی مالک ہے!! “

وہ اسے وارننگ دینے والے انداز میں ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ سمجھانا چاہتی تھی کہ وہ اس پر اپنا حکم نہیں چلا سکتا۔۔۔۔

اس لیے زریر کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس سے دور رہے۔۔۔۔!!! ” وہ کہتے ہوئے اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

جب ہی زریر نے اسے اکڑو لڑکی کی پشت کو گھورتے ہوئے اپنا مٹھیاں سختی سے بھینج لی۔۔۔۔!!

ربعیہ پڑھتے ہوئے ہال میں آئی۔۔۔۔ وہ اپنی پڑھائی میں اتنی مصروف تھی کہ اسے معلوم ہی نہیں ہوا کہ وہ ہال میں آگئی ہے چلتے چلتے۔۔۔۔!!!

وہ کچن کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن ہال میں موجود صوفے سے اس کی ٹانگ ٹکڑا گئی۔۔۔۔۔ ااس کی کتاب اس کے ہاتھ سے نکلتی صوفے پر گڑی جبکہ وہ کسی کی مظبوط پناہوں میں جھول گئی۔۔۔۔

اس نے سختی سے آنکھیں میچ کی تھی لیکن خود کو کسی کی باہوں میں پا کر اس نے آنکھیں کھولیں تو رہان کو پایا۔۔۔۔۔

اسے دیکھتے ہوئے وہ شرم سے فوراً کھڑی ہوئی۔۔۔۔!! وہ نظریں جھکائے اس کے سامنے کھڑی ہوئی۔۔۔۔

” Are you Ok ?? “

رہان نے آہستگی سے نہایت ہی ادب سے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔!!!! تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔

” Yes !! “

ربعیہ نے آہستگی سے کہا۔۔۔۔ اور وہاں سے اپنی کتاب پکڑتے ہوئے وہاں سے بھاگنے والے انداز میں نکلی۔۔۔۔۔!!

رہان اپنی راہ پر چلا گیا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *