Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 43)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 کنول بیگم کی دھمکی سن فاریہ کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ اب کیا کرے ؟؟ کیونکہ ایک طرف اس کے ماں باپ کا قاتل تھا اور دوسری طرف اس کا پیار تھا کسی بچاتی وہ ؟؟؟ وہ ایک کشمکش میں مبتلا ہو گئی تھی!!!

” ایک دو تین___”

کنول بیگم نے اپنے کہے کے مطابق دس تک گنتی گننا شروع کر دی تھی۔۔۔!!! جبکہ فاریہ مزید کشمکش میں مبتلا ہو گئی تھی۔۔۔!! اب اسے ایک ہی راہ دیکھائی دی تھی۔۔۔!!

” پانچ چھ سات___”

کنول بیگم کی گنتی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔

” ٹھیک ہے میں ثبوت دینے کے لیے تیار ہوں “

کنول بیگم کے حالات کو سریس دیکھتے ہوئے فاریہ نے اسے سارے ثبوت دینے کے لیے خامی بھری تھی!!!!

آتش نے اسے حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔

” نہیں فاریہ جی۔۔۔۔!!!! آپ انھیں کوئی بھی ثبوت نہیں دیں گی۔۔۔!!! اگر آپ کو وہ ثبوت کسی کو دینے بھی ہیں تو آپ پولیس آفیسرز کو دیں گے۔۔۔۔ میری جان کی پروا مت کریں آپ “

آتش نے فاریہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کروایا تھا۔۔۔۔۔۔!!! اور اسے سمجھایا تھا کہ وہ اس کی جان کی پرواہ مت کرے۔۔۔!! وہ انھیں ثبوت نہیں دے گی بلکہ وہ ثبوت صرف پولیس آفیسرز کو ہی دے گی۔۔۔۔!

” نہیں آتش۔۔۔!!! میں کیسے آپ کی جان خطرے میں ڈال دوں ؟؟؟ میں ایسا کبھی بھی نہیں کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔!!!

میرے ماں باپ اب میرے پاس نہیں رہے ہیں۔۔۔ میں آپ کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی ہوں۔۔۔!! “

فاریہ نے اسے سمجھایا تھا کہ وہ اس کی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی ہے۔۔۔۔!! وہ اپنے ماں باپ کو پہلے ہی کھو چکی ہے۔۔! لیکن اب اسے نہیں کھو سکتی ہے وہ !!

” ارے بس کرو یار یہ اپنا بورنگ ڈرامہ فاریہ میں مزید ایک منٹ رکو گی۔۔۔!!! پھر یہ ساری گولیاں اس کے سینے میں اور اگر تم چاہتی ہو کہ ایسا کچھ بھی نا ہو،، تو جاؤ اور جا کر وہ ثبوت لا کر دو مجھے !!! “

ان دونوں کو دیکھ کر کنول بیگم نے غصے سے بھرے ہوئے لہجے میں کہا تو فاریہ نے قہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھا!!!

” رکو لاتی ہوں۔۔۔!!! “

فاریہ نے انھی قہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھا اور ہر لفظ کو چبا کر کہتے ہوئے وہ اندر کی طرف بڑھی۔۔۔!! آتش نے لا چارگی سے اسے دیکھا تھا جو اگلے ہی لمحے ایک چپ ( کارڈ ) لے کر آئی تھی جس میں کچھ ویڈیوز تھی اور ان میں کنول بیگم نے اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا۔۔۔!!! جو فاریہ نے بہت محنت کر کے اکٹھا کیا تھا۔۔۔!! لیکن اب آتش کی جان بچانے کے لیے اسے یہ سب کنول بیگم کو دینا ہو گا۔۔۔!!

کچھ لمحات کے لیے وہ ایک جگہ رک سی گئی تھی جیسے وہ یہ ثبوت کنول کو نا دینا چاہتی ہو۔۔۔ لیکن اب اسے دینا ہو گا!!! آتش نے افسوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔

فاریہ نے اگلے ہی لمحے وہ چپ کنول بیگم کی طرف بڑھائی تھی۔۔۔۔۔ کنول بیگم نے اس چپ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا جیسے انھیں بہت خوشی ملی ہو۔۔۔

فاریہ کی آنکھوں میں غصہ کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔۔۔ جبکہ کنول بیگم کی گرفت بندوق پر ڈھیلی پڑھتی جا رہی تھی کیونکہ وہ اس بات کی خوشی منا رہی تھی کہ انھیں سارے ثبوت مل چکے ہیں جو ان کے خلاف اکٹھے کیے گئے تھے۔۔۔

” آتش “

پر اگلے ہی لمحے ساری کایا پلٹ گئی تھی جب آتش نے کنول بیگم کے ہاتھ سے وہ بندوق چھینی تھی اور ان پر ہی تان لی تھی۔۔۔۔اب کنول بیگم کو سمجھ آیا تھا کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔۔۔ وہ خود ہی پھنس گئی تھی۔۔۔ فاریہ نے اسے حیرانگی سے دیکھا جبکہ کنول بیگم کے چہرے پر خوف ظاہر ہونے لگا تھا۔۔۔

” اب میں آپ کو دھمکی دیتا ہوں کہ چپ چاپ یہ چپ میرے حوالے کر دیں ورنہ اب کی مرتبہ گولی میں چلاؤں گا۔۔۔”

اس کے لیے آسان نہیں تھا یہ سب کہنا اپنی سوتیلی ہی سہی مگر خالہ سے۔۔۔ لیکن پھر بھی اس نے کہا کیونکہ کسی بھی بے قصور کے ساتھ نا انصافی نہین ہونے دے سکتا تھا۔۔۔

” آتش!!!! میرے بچے میں تو صرف مزاق کر رہی تھی۔۔۔۔ بیٹا میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔ تم تو جانتے ہو مجھے میں ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتی ہوں “

جب کنول بیگم کو محسوس ہوا کہ اب وہ ان کی بات نہیں سنے گا نا کی سمجھے گا۔۔۔ کیونکہ اب تو وہ حقیقت سے آشنا ہو چکا ہے تو انھوں نے اسے ایمویشنل بلیک میل کرنا ہی مناسب سمجھا۔۔۔!!! لیکن آتش اس کی باتوں میں نہیں آیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کا فریب ہے یہ جو پچھلے بیس سال سے وہ اس کے ساتھ کر رہی ہے۔۔۔!!

” آپ مزاق کر رہی ہوں گی لیکن یاد رکھیے گا میں بالکل بھی مزاق نہیں کر رہا ہوں چپ چاپ یہ کارڈ فاریہ جی کو پکڑا دیجئے “

آتش کچھ لمحات کے لیے تو جیسے اس کی باتوں میں آنے لگا ہی تھا لیکن پھر اس نے اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئے مظبوط لہجے میں اسے بتایا کہ چاہے وہ مزاق کر رہی ہو لیکن وہ مزاق نہیں کر رہا ہے اس کے ساتھ!!! وہ سنجیدہ ہے۔۔۔!

” لاؤ یہ چپ مجھے دے دو “

فاریہ کنول بیگم کی طرف بڑھتے ہوئے رعب دار لہجے میں بولی تھی۔۔۔!!!!

اس کی بات سنتے ہوئے کنول بیگم نے ایک نظر اس بندوق کو دیکھا جو آتش کے ہاتھوں میں تھی اور پھر ایک نظر انھوں نے فاریہ اور اس چپ کی طرف دوڑائی۔۔۔

“( ایک دفعہ میری جان بچ گئی تو یہ چپ میں کبھی بھی حاصل کر سکتی ہوں ) “

اس سارے منظر کو دیکھتے ہوئے کنول بیگم کو صرف اور صرف یہی سمجھ آئی تھی۔۔۔!! انھوں نے وہ چپ ( کارڈ ) فاریہ کی طرف بڑھایا۔۔۔۔!!!! فاریہ نے جیسے ہی وہ کارڈ پکڑا تو کنول بیگم نے اسے آتش کی طرف دھکیلا جس سے فاریہ پیچھے کی طرف ہوتی ہوئی آتش کے سینے سے ٹکرا گئی تھی۔۔۔!!!

آتش دو قدم پیچھے ہوا مگر وہ خود کو اور فاریہ کو سنبھال گیا تھا جبکہ کنول بیگم باہر کی طرف بھاگ گئی تھی!!!

” آتش کنول بیگم!!! “

فاریہ نے پریشانی سے آتش کی طرف دیکھا۔۔۔۔!!! تو آتش نے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے اسے تسلی دی تھی۔۔۔

اور اس کے بعد آتش نے اسے بتایا تھا کہ کنول بیگم یہاں سے بھاگ نہیں سکتی ہیں۔۔۔!! کیونکہ وہ گھر کے ملازمین اور گارڈز سے پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ وہ کنول بیگم کو کسی بھی صورت باہر نہیں جانے دیں گے۔۔۔ جس پر فاریہ نے سکھ کا سانس لیا!! اور ٹھیک ایسا ہی ہوا تھا جیسے ہی کنول بیگم نے بھاگنے کی کوشش کی تو گھر کے سارے ملازمین نے ان کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا تھا اور انھیں ان کے ہی کمرے میں بند کر دیا تھا۔۔۔!

” گڈ مارننگ سویٹ وائف !!!! “

رات کا گہرا سایہ صبح کے سویرے میں ڈھل چکا تھا۔۔۔!! صبح زریر کی آنکھ کھلی تو اس نے انوشا کو اپنی آغوش میں اپنی باہوں میں پایا تھا۔۔۔!!

وہ بھی ہلکا سا کسمسائی تھی جیسے اٹھنے والی ہو۔۔۔ اس کی طرف دیکھتے ہوئے زریر ہلکا سا مسکرایا۔۔۔!!! وہ اس کے گال پر جھکتا ہوا نرمی سے بوسہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔!!!

انوشا نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں تو وہ مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔!!!

” گڈ مارننگ “

وہ بھی نرم و نازک لہجے میں کہتی ہوئی اٹھی اور کپڑے لیے ہوئے واش روم کی طرف فریش ہونے کے لیے چلی گئی۔۔۔!!! جبکہ زریر وہی بیٹھا اسے ہی دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔!!!

وہ فریش ہوتی ہوئی واپس آئی تو دیکھا کہ وہ بھی فریش ہو کر چینج کر چکا تھا۔۔۔۔!!

” انوشا یہ لو!!!! “

زریر نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف ایک بند لفافہ کیا اور کہا تو انوشا نے حیرانگی سے اسے دیکھا کہ کیا ہے اس میں جو وہ اسے دیکھانا چاہتا ہے ؟؟

” یہ کیا ہے ؟؟ “

انوشا نے سامنے کھڑے بلیک ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس تھا اس سے سوال کیا !!!

” کھول کر دیکھ لو “

اس کی بات سنتے ہوئے زریر نے کہا تو وہ لفافے کو کھولنے لگی۔۔۔!! اس نے جیسے ہی لفافہ کھولا تو اس میں انوشا کو کچھ ٹکٹس ملی تھی!!!!

” یہ۔۔۔!! “

اس نے سرپرائز ہوتے ہوئے اس سے سوال کیا تھا۔۔!!

” یہ لندن کی ٹکٹس ہیں تم نے مجھ سے کہا تھا نا کہ تم لندن جانا چاہتی ہو۔۔۔!!! تو میں نے ہنی مون کی ٹکٹس وہی پر کروا لی تھی!!! لیکن اس سے پہلے ہم اللہ کے گھر کی زیارت کریں گے۔۔۔! عمرے پر جائیں گے “

ان ٹکٹس کو دیکھ کر انوشا کو بہت خوشی ہوئی تھی جو اس کے سنبھالے بھی سنبھل نہیں رہی تھی۔۔۔!

” تھینک یو سو مچ زریر “

وہ بے ساختہ سی آگے بڑھتے ہوئے اس کے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔ زریر نے بھی مسکراتے ہوئے اسے خود میں بھیج لیا تھا۔۔۔

اس نے صرف ایک مرتبہ اس سے خوائش کی تھی کہ وہ عمرہ کر کے لندن جانا چاہتی ہے کچھ دنوں کے لیے۔۔۔!!! اور اس نے اس کی خواہش اتنی جلدی پوری کر دی تھی انوشا کو خود یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔ یہ ان دونوں کے لئے بہت خوشی کی بات ہے کہ وہ دونوں اللہ کے گھر جا رہے تھے، دادا جان بھی ان کے ساتھ جا رہے تھے۔۔۔۔ یہ ان کے لیے ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی۔۔۔

حویلی میں خوشیوں کا سماع تھا۔۔۔!! وہ تمام تعلق جو درست ہونے تھے وہ درست ہو چکے تھے۔۔۔!! آج حویلی میں اسما اور حماد کی دعوت کی گئی تھی۔۔۔ کیونکہ پچھلے ایک ہفتے سے ان کی لڑائی چل رہی تھی۔۔۔!!! لیکن اب ان کے درمیان بھی ان کچھ ٹھیک ہو چکا تھا۔۔۔

وہ سب خوش تھے۔۔۔ شہزاد ملک، شہناز بیگم، کایان ملک، ازا ملک، رہان ملک،ربعیہ ملک، اسما،حماد، اور حماد کی والدہ،صائمہ ملک سب ایک میز پر بیٹھے ہوئے رات کا کھانا انجوائے کر رہے تھے۔۔۔

کایان کو آفس سے ایک اہم فون کال آئی تھی جسے سننے کے لیے وہ کھانے کی میز سے اٹھتا ہوا باہر کی طرف بڑھ گیا تھا!!!

اسما ازا کو لیے ہوئے ایک طرف آگئی تھی۔۔۔ وہ اس سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔!!! جبکہ باقی سب وہی بیٹھے ہوئے باتوں اور کھانے میں مصروف تھے۔۔۔ آج کئی دنوں کے بعد حویلی میں چہل پہل پیدا ہوئی تھی۔۔۔

” بھابھی آپ کا بہت شکریہ !!! “

اسما نے ازا کو ان سب سے تھوڑا سا دور لاتے ہوئے اس سے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔

” آپ نے کسی کو بھی نہیں بتایا۔۔۔! کہ میں نے حماد سے کنٹریکٹ میرج کی تھی۔۔۔۔ آپ چاہتی تو آپ یہ بات سب کو بتا سکتی تھی لیکن آپ نے نہیں بتائی !!! “

وہ دونوں اپنی ہی دھن میں باتیں کرنے میں مصروف تھے جبکہ دوسری طرف دروازے کے پیچھے کھڑا کایان ان کی باتیں سنتا ہوا طیش میں آیا تھا۔۔۔ اس نے غصے سے ان دونوں کی طرف دیکھا تھا کہ اتنی بڑی بات کہ اسما نے حماد کے ساتھ شرائط کی بنا پر شادی کی تھی وہ ازا نے جانتے ہوئے بھی انھیں نہیں بتائی تھی۔۔۔! اس نے اتنا ہی سنا تھا اور غصے سے وہاں سے قدم آگے کی طرف بڑھائے۔۔

” آپ چاہتی تو کسی بھی شخص کو بتا سکتی تھی۔۔۔ کایان بھائی کو، امی کو ، ابو کو، لیکن آپ نے نہیں بتائی مجھ سے کیا ہوا وعدہ نبھایا آپ نے۔۔۔!!

اور آج شائید اسی وجہ سے میں حماد کے ساتھ بہت خوش ہوں۔۔۔!! “

اسما نے مسکراتے ہوئے کہا تو ازا بھی مسکرائی۔۔۔!!

” اس میں شکریہ والی کوئی بھی بات نہیں ہے!!! آپ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں یہ بات کسی کو بھی نا بتاؤ تو میں کسی کو بھی کیسے بتا دیتی یہ سب ؟؟ وعدہ خلافی تو نہیں کر سکتی تھی میں۔۔۔!!!!!! اور میں خوش ہوں کہ آپ اپنے گھر میں خوش ہیں۔۔۔”

ازا نے اس کے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے اسے مظبوطی سے تھامتے ہوئے آہستگی سے کہا تو اسما کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی۔۔۔ جب ہی وہاں پر صائمہ آئی تھی۔۔۔

” گرلز چلو سب کے ساتھ بیٹھو۔۔۔!! اور اسما تمھیں پتہ ہے کہ تمھاری ساس کیا کہہ رہی ہیں ؟ وہ کہہ رہی ہیں کہ انھیں ہوتا پوتی کی بہت خوائش ہے۔۔۔!! “

صائمہ شرارتی لہجے میں کہتے ہوئے بل بھر میں اسے غصہ چڑھا گئی تھی!!!! جبکہ ازا ہلکا سا مسکرا گئی تھی۔۔۔۔!

انوشا آفس کے کمرے میں بیٹھی ہوئی اپنا کام کرنے میں مصروف تھی۔۔۔!!! جب ہی اس کے کمرے کا دروازا کھولتے ہوئے زریر اس کے پاس آیا تھا۔۔۔!! اور اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے اسے دیکھنے لگا !!!

” کیا ؟؟ “

اس کی حرکتوں کو دیکھتے ہوئے انوشا نے اس سے سوال کیا تھا۔۔۔

” تمھارے بغیر میرا دل نہیں لگتا ہے کیا کرو ؟؟ بہت کوشش کی کم از کم دس منٹ ہی نکل جائے تمھیں دیکھے بغیر لیکن ایک لمحہ بھی تم سے دوری برداشت نہیں ہو رہی “

زریر خمار آلود لہجے میں کہتا ہوا اس کے نازک ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگا گیا تھا!!! انوشا کے چہرے پر شرماہٹ پیدا ہوئی۔۔۔

ان کی کہانی لڑائیوں، رنجشوں سے شروع ہوئی تھی مگر آج!!! ماضی اور حال کا مقابلہ کیا جائے تو کوئی بھی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ کل تک وہ ایک دوسرے کی جان لینے کو تیار تھے مگر آج ایک دوسرے سے نر مٹنے والا پیار کرتے تھے۔۔۔

انوشا کے آفس کی بنی کھڑکی میں سے سامنے کھڑے واسط نے حسرت و غصے سے انھیں دیکھا۔۔۔ جو مسکرا کر ایک دوسرے سے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *