Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 44)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

سب لوگ کھانا کھانے کے بعد ایک خوبصورت گفتگو میں مصروف ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔!! جبکہ کایان وہاں پر موجود نہیں تھا۔۔۔!! ازا کچھ دیر تک تو ان میں ہی بیٹھی رہی لیکن پھر اسے تجسس ہوا کہ کایان کہاں رہ گیا ہے؟؟ اسے اب تک آ جانا چاہئیے تھا!!! اور اسی وجہ سے وہ ڈرائنگ روم سے اٹھتی ہوئی باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

اس نے حویلی میں تین سے چار جگہوں پر دیکھا لیکن کایان وہاں پر موجود نہیں تھا۔۔۔!!! اب اس کا ارادہ اپنے کمرے میں جا کر دیکھنے کا تھا۔۔۔!!! وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔! کمرے کے دروازے پر پہنچتے ہوئے اس نے آہستگی سے دروازہ کھولا تو کمرے کو اندھیرے میں ڈوبا ہوا پایا۔۔۔

اس اندھیرے میں بھی ازا سامنے چمکتے ہوئے سفید کڑتے پاجامے میں ملبوس کایان کی پشت دیکھ پا رہی تھی۔۔۔!!! وہ ہلکا سا مسکرائی اور اس کی طرف بڑھی۔۔۔

” دروازہ بند کر دیں !!! “

وہ ابھی اندر کی طرف بڑھی تھی ہی کہ کایان کی طرف سے سرد مہری میں حکم جاری ہوا تو اس نے فوراً دروازہ بند کیا۔۔۔

” کیوں کیا آپ نے ایسا ؟؟؟ “

دروازہ بند کرتے ہوئے ازا نے ابھی لائٹ آن کی ہی تھی کہ اس کی طرف سے ایک اور سرد مہری کا جملہ ادا کیا گیا جس پر ازا ٹھٹک کر رہ گئی تھی کہ اس نے کیا کر دیا ہے ؟؟

” کیوں چھپائی مجھ سے اتنی بڑی بات ؟؟؟ “

وہ ابھی دو قدم ہی آگے کی طرف بڑھی تھی لیکن اسی وقت وہ چہرے پر بے یقینی، سرد مہری سجائے ہوئے اس کی طرف بڑھا۔۔۔!!! اس کے چہرے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ازا کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔۔!!!

” ک۔۔ کیا ؟؟؟ “

ازا نے آج پہلی مرتبہ اس کا غصہ دیکھا تھا وہ بہت ڈر سی گئی تھی سہم سی گئی تھی۔۔۔ اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کیے۔۔!!

” یہی کہ اسما نے حماد سے کچھ شرائط کے عوض شادی کی !!! اور یہ بات آپ جانتی بھی تھی پھر بھی آپ نے یہ بات ہم سب سے چھپائی۔۔۔!

ہم سب کو چھوڑیں بلکہ یہ بات آپ نے یہ بات مجھے تک نہیں بتائی۔۔۔!! اتنی بڑی بات تھی یہ ازا حویلی کے بیٹی کے حوالے سے!!! اور آپ !!! آپ نے مجھ سے یہ بات چھپائی کیوں ؟؟

میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا ازا کہ آپ مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائیں گی۔۔۔!!! مجھے بہت نا امید کیا ہے آپ نے ازا!!!

میں تو یقین کرتا تھا آپ پر!! لیکن آپ نے میرا یقین توڑ دیا۔۔ “

وہ اس نے بازوؤں کو اپنی گرفت میں لیتا ہوا لب و لہجہ میں غصہ لیے ہوئے بولا تو ازا نے حیران، پریشان نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔ جس بات کا اسے ڈر تھا وہی ہوئی تھی!!! وہ ڈر کے مارے آنکھیں سختی سے بند کر گئی تھی۔۔۔!!

” اب بولیں بھی بتائیں بھی مجھے کہ کیوں چھپائی آپ نے یہ بات ہم سب سے ؟؟؟ “

کایان نے اس سے سوال کیا تو اس نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں جبکہ ابھی بھی کایان کے چہرے پر غصے کے تاثرات دیکھ وہ ڈر رہی تھی کہ نا جانے کیا ہو گا اب ؟؟

” و۔۔ وہ ک۔۔۔یان”

اس کے غصے کو دیکھ کر ازا کو ڈر لگ رہا تھا۔۔۔! وہ ایک مرتبہ پھر سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کر رہی تھی۔۔۔۔!! وہ نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔! آنکھیں بھر آئی تھی اب لگ رہا تھا کہ اس نے کیوں کایان سے یہ بات چھپائی تھی۔۔۔؟ اس کی حالت خراب ہونے والی ہو گئی تھی جب ہی کایان نے ایک زور دار قہقہہ لگایا تھا۔۔۔ اس کے قہقہ سنتے ہوئے ازا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔۔۔! ازا نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔ کہ ابھی تو اس کی آنکھوں میں ، اس کے چہرے پر غصہ تھا لیکن اب وہ ہنس رہا تھا۔۔۔۔!!! ازا کے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات دیکھتا ہوا وہ خاموش ہوتا اپنی لبوں پر ہاتھ رکھتا ہوا ہنسی کو کنٹرول کرتا آنکھیں چھوٹی چھوٹی کرتا ہوا اسے دیکھنے لگا۔۔۔

” کیا ؟؟ آپ کو واقع لگا کہ میں آپ پر غصہ کر رہا ہوں ؟؟ ہمم ایسا کبھی ہو سکتا ہے ؟ نہیں۔۔۔!!!

ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جب میں نے آپ کی اور اسما کی باتیں سنی تو میں کچھ لمحوں کے لیے آپ سے ناراض ضرور ہوا تھا!!! لیکن اسی وقت میں نے اسما کی اگلی بات سن لی تھی اسی وقت مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ اسما نے آپ سے وعدہ لیا ہے کہ آپ یہ بات کسی کو بھی نہیں بتائیں گی۔۔۔ اور آپ نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا۔۔۔ خیر اب ان پرانی باتوں کو کریدنے کا کیا فائدہ ؟؟ اب تو وہ دونوں ایک ساتھ ہیں خوش ہیں۔۔!! ان باتوں کو کرنے کا کوئی بھی فایدہ نہیں ہے “

ازا حیران رہ گئی تھی کایان کی باتیں سن کر۔۔۔۔!!! ایک لمحے پہلے تک وہ ڈر رہی تھی کہ اس سے کیا کہے گی ؟؟ کیا بتائے گی اسے ؟؟ کیوں چھپائی اس نے اس سے یہ بات !!! اس کا دل خوف میں ڈوبا جا رہا تھا۔۔۔۔۔!

پر اب اسے معلوم ہوا تھا ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔!! وہ سب پہلے ہی جان گیا تھا۔۔۔ جب کایان ان کی بات سنتا وہاں سے جانے لگا تو وہ اسما کی بات سننے کے لیے رک گیا اور اس سے اسے معلوم ہوا تھا کہ اس میں ازا کا بھلا کیا قصور اس نے تو صرف اپنا وعدہ نبھایا تھا!!!!

ازا کو ساری بات اب سمجھ آئی تھی کہ اس کے الفاظ، اس کا غصہ، اس کی تلخیاں سب ایک جھوٹ تھا!!! وہ صرف مزاق کر رہا تھا اڈے تنگ کر رہا تھا اسے۔۔۔!!

وہ جیسے ہی چپ ہوا تو ازا نے پل پل چہرے پر پھیلتی ہوئی غصے کی سرخی کو لیے ہوئے اسے گھورنے لگی تھی جبکہ کایان کو امید تھی اس پر مکے برسنے والے ہیں اور ایسا ہی ہوا ازا نے اس کے سینے پر مکے برسانے شروع کر دیے تھے۔۔۔

” میں نے یقین توڑا ہے آپ کا !!!! مین بیت بری ہوں”

وہ ایک ایک لفظ چبا کر کہتی ہوئی اس کے سینے پر مکے برسا رہی تھی جبکہ وہ اس کی ایک ایک ادا پر مسکرا رہا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ اسے اپنے سینے سے جوڑ گیا تھا۔۔۔۔!!!

” آپ کو پتہ ہے۔۔۔!! آپ غصے میں بھی بہت خوبصورت لگتی ہیں ازا۔۔۔!! اسی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے تو میں نے اتنا سب ناٹک کیا۔۔۔!! ویسے ایک بات سچی سچی بتائیے گا کہ میں ایکٹنگ کیسی کرتا ہوں ؟ اچھی نا “

ازا کو سینے سے لگائے ہوئے پہلے کایان نے پیار بھرے لہجے میں اس کی تعریف کی لیکن اس کے بعد وہ شرارتی لہجے میں اسے چھیڑنے لگا۔۔۔!

” بہت بری ایکٹنگ کرتے ہیں آپ !!! “

ازا نے غصے سے بھرپور لہجے میں منھ بنائے ہوئے کہا تو کایان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلتی گئی۔۔۔!!! وہ جان بن گئی تھی اس کی، اس کی زندگی کی وجہ بن گئی وہ، وہ ہزار مرتبہ اس سے ناراض ہوتی تو وہ ہر مرتبہ اسے منانے کے لیے تیار تھا۔۔۔

” ویسے ازا !!! مجھے نا ہمارے بچے بالکل آپ پر چاہئیے۔۔۔۔!!! معصوم ، کیوٹ، ننھے سے۔۔۔۔!!! “

وہ اسے سینے سے لگائے ہوئے خوبصورت انداز میں بولا تو ازا کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔۔۔!! ان کی زندگی مکمل ہو گئی تھی۔۔۔ وہ دونوں خوش تھے۔۔ اب انھیں کوئی بھی الگ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ ازا اس کی اسیر ہو گئی تھی۔۔۔۔ لیکن ایک سچ یہ بھی تھا کہ وہ ماں باپ کا دکھ کبھی بھی بھول نہیں سکتی تھی !!! وہ جب بھی انھیں یاد کرتی تو آنکھیں بھر آتی۔۔۔ کیونکہ یہ غم ہی ایسا تھا وہ جب اسے یاد آتا تو اس کے زخم تازہ ہو جاتے!!! اس کے زخم، غم کو دور کرنے کے لیے کایان تھا۔۔۔ لیکن ماں باپ کا غم کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔

ڈرائنگ روم کے دروازے پر کھڑی ربعیہ سب لوگوں کی طرف دیکھ رہی تھی جن میں سے بہت لوگوں کی پشت تھی اس کی طرف۔۔۔!! سوائے صائمہ کے۔۔۔۔!!!! وہ خاموش سی کھڑی ہوئی ان کی باتیں سن رہی تھی۔۔

اس کے پیچھے سے آتے ہوئے بلیک پینٹ شرٹ میں آتے ہوئے رہان نے جیسے ہی اس کی کمر کی طرف ہاتھ نکالتے ہوئے اسے دوسری طرف کھینچتے ہوئے اپنے سینے سے لگا تو ربعیہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھی۔۔۔

” ک۔۔ کیا کر ۔۔رہے ہ۔۔یں آپ “

اس کی حرکت پر وہ شرم سے چور ہو گئی تھی۔۔۔ وہاں پر سب لوگ بیٹھے ہوئے لیکن رہان کو تھوڑی سی بھی شرم محسوس نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔!!

” ارے !! مجھے لگا کہ مجھے دیکھ کر آپ خوش ہو نگی۔۔۔ پر آپ تو ڈر رہی ہیں کہ آپ کا شوہر آپ کو اپنے قریب کر رہا ہے “

رہان نے آہستگی سے اس کے کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے نیم مسکراہٹ لیے ہوئے کہا۔۔۔ جیسے اسے تنگ کرنے میں مزہ آ رہا تھا۔۔۔ اور کسی کی تو نظر نہیں پڑی تھی ان پر سوائے سامنے بیٹھی صائمہ کے جو دھیرے سے مسکرا بھی رہی تھی انھیں دیکھ کر لیکن اس سے پہلے رہان، ربعیہ میں سے کوئی بھی اسے دیکھتا وہ فوراً نظریں جھکا گئی تھی یہ دیکھاتے ہوئے اس کا دھیان بالکل بھی ان کی طرف نہیں ہے۔۔۔

” کیا اچھا لگے گا ؟؟ یہاں پر سب بیٹھے ہوئے ہیں !! دور ہٹیں آپ۔۔۔۔!!! “

ربعیہ نے اسے کہتے ہوئے پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اسے انچ بھی ہلا نہیں پائی تھی۔۔۔

” میرے آپ کے ساتھ دو رشتے ہیں۔۔۔ ایک تو میں آپ کا استاد ہوں اور دوسرا آپ کا مجازی خدا!! اور یہ دونوں رشتے ہی آپ کے لیے بہت قابلِ احترام ہونے چاہئیے۔۔ آپ کو چاہئیے کہ آپ اپنے شوہر کی بات مانیں بجائے اس کے کہ وہ آپ کے قریب آئے تو آپ اسے خود سے دور رہنے کا کہیں یہ بات بالکل بھی اچھی نہیں ہے۔۔۔ بیڈ مینرز “

وہ مسکراتے ہوئے اسے تنگ کرنے والے لہجے میں بھی نہایت معصومیت سے، آہستگی سے بولا تو ربعیہ نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔

” ویسے ایک بات تو بتائیں آج آپ خاص میرے لیے تیار ہوئی ہیں ؟؟؟ “

اس نے سوال کیا۔۔۔

” مطلب ؟؟ “

جواباً پھر سے سوال کیا گیا تھا۔۔۔

” مطلب یہ کہ پہلے آپ کبھی اتنا اچھے سے تیار نہیں ہوئی نا۔۔۔!!! لیکن آج تو آپ قیامت لگ رہی ہیں۔۔۔! یقیناً میرے لیے ہی تیار ہوئی ہیں۔۔۔!! ویسے ایک بات بتاؤ بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہی ہیں آپ۔۔۔!!! آج یہ بندہ بشر بے ایمان ہو رہا ہے!!! “

وہ ایک ایک حرف آہستگی سے بولا تھا تا کہ کوئی بھی اس کی بات سن نا لے۔۔۔!!! جبکہ اس کے الفاظ ربعیہ کا چہرہ سرخ کر گئے تھے وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی لیکن اس کے لبوں نے بولنے سے انکار کر دیا۔۔۔ رہان مسکراتا ہوا اس سے دور ہوا اور معصومیت سجائے آگے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ ربعیہ نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔

کچھ دیر مزید بیٹھنے کے بعد حماد، اسما، حماد کی والدہ اٹھے تھے۔۔۔ کیونکہ انھیں شہر جانے میں بھی وقت درکار تھا۔۔۔ اور اب تو رات بھی کافی جو گئی تھی۔۔۔ شہزاد ملک نے تو ان سے کہا تھا کہ وہ رک جائیں لیکن بضد تھے کہ گھر جائیں گے۔۔۔

اسما ایک مرتبہ پھر سے رخصت ہوئی تھی۔۔۔۔ حماد کی والدہ بہت خوش تھی کیونکہ ان کے لیے یہی اہم تھا کہ اسما واپس آ جائے۔۔۔!!! کایان اور ازا بھی وہاں پر پہنچ گئے تھے۔۔۔ سب لوگ خوش تھے۔۔۔ کسی میں بھی کوئی نا چاقی، کوئی لا تعلقی تعلقی نہیں تھی!!!

حماد، اس کی امی اور اسما گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہاں سے شہر اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔۔۔۔!!! جبکہ حویلی والے اپنے کمروں میں آرام کی غرض سے چل دیے تھے۔۔۔۔!! آج کا دن بہت خوبصورت، خوشیوں سے بھرا اور تھکا دینے والا تھا ان کے لیے۔۔۔!!

” تمام ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر کنول بیگم کو عمر قید کی سزا سنائی جاتی ہے !!! “

اس رات جب ملازمین نے کنول بیگم کو کمرے میں بند کیا تو انھوں نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ وہ کسی بھی طرح بس وہاں سے بچ کر نکل جائیں لیکن فاریہ اور آتش نے مل کر ان کے اس مقصد کو ناکام بنا دیا تھا۔۔۔!!!

وہ بچ نہیں پائی تھی وہاں سے۔۔ اور اس اگلے دن ہی انھیں پولیس کے حوالے کرتے ہوئے عدالت میں کیس چلایا گیا تھا البتہ یہ آتش نے لیے بہت مشکل تھا کہ وہ انھیں سزا دلوائے لیکن ایک حقیقت تو یہ بھی تھی کہ ان کی ہی وجہ سے وہ ہمیشہ اپنے ماں باپ کے لیے تڑپا تھا۔۔

عدالت میں ان کے خلاف سارے ثبوت درست ثابت ہو چکے تھے۔۔۔ وہ اس*تل ثابت کو چکی تھی۔۔۔۔!! کنول بیگم نے کئی مرتبہ ان سے کہا کہ یہ سارے ثبوت جھوٹے لیکن ان کی باتیں یقین کے قابل نہیں تھی کیونکہ عدالت کے پاس ثبوت کے طور پر ویڈیو تھی۔۔۔!!! جس میں کنول بیگم خود اپنے گناہوں کا اعتراف کر رہی تھی۔۔۔۔!!!

آج آتش، فاریہ ان دونوں کے والدین کو انصاف مل گیا تھا!!! چاہے بیس سال بعد ہی سہی !!!

زریر، انوشا اور ان کے دادا جان کی ٹکٹس کنفرم ہو چکی تھی!!! پہلے انھوں نے عمرے کی فضیلت حاصل کرنی تھی اور اس کے بعد دادا جان نے واپس پاکستان آ جانا تھا۔۔۔

لیکن زریر اور انوشا نے عمرہ کرنے کے بعد لندن ایک ہفتے کے لیے جانا تھا!!!

ان کے جانے میں صرف تین دن ہی باقی تھے۔۔۔!!! انھوں نے اپنی پیکینگ کرنی شروع کر دی تھی۔۔۔۔!!! کچھ ضروری اشیاء کی شاپنگ وغیرہ بھی شروع کر دی تھی انھوں نے!!!

اس وقت وہ دونوں آفس سے واپسی پر شاپنگ کر کے گھر کی طرف ایک سنسان راستے سے جا رہے تھے۔۔۔۔ یہاں پر انھیں کوئی بھی زی روح دیکھائی نہیں دے رہی تھی!!!

لیکن اچانک ہی سامنے سے ایک تیز رفتار گاڑی آ کر ان کے سامنے رکی تھی۔۔۔۔ اگر زریر وقت پر بریک نا لگاتا تو ان کا ایکسیڈینٹ پکا تھا۔۔۔ اچانک بریک لگنے کی وجہ سے وہ دونوں ایک جھٹکے سے آگے ہوئے اور پھر پیچھے سیٹ سے ان کی پشت ٹکرائی۔۔۔!!

اس سے پہلے زریر گاڑی وہاں سے نکالتا ان کے چاروں اطراف گاڑیاں آ رکی تھی۔۔۔۔!! زریر کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔ جبکہ انوشا کا دل گھبرا گیا تھا!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *