Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 30)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 30)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
ہر طرف ہی خوشیوں کا سماع تھا!!! مہندی کے فنکشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی تھی!! آج رات فاریہ اور آتش کی مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔۔!!!
وسیع لان میں خوبصورت سیٹ اپ لگایا تھا۔۔۔۔!! پھولوں اور پودوں پر مختلف رنگوں کے پھول لادے گئے تھے!!! جو بہت زیادہ خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے!!!
دونوں اطراف پر مہمانوں کے لیے کرسیاں لگائی گئی تھی۔۔۔۔!!! اور اس کے درمیان سے ہی ایک داخلی راستہ قالین کی صورت میں نکالا گیا تھا۔۔۔۔ اس قالین محتلف عمر کی عورتیں بیٹھی ہوئی ڈھولک بجانے اور مختلف گیت گانے میں مصروف تھیں۔۔۔۔
جبکہ اس قالین کے بالکل سامنے لکڑی کے بنے اسٹیج جسے بھی قالین سے ڈھکا گیا تھا۔۔۔ جس پر مختلف مہمانوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی!!! ان میں ہی سے ایک خاص جگہ دلہن کے لیے بھی مقرر تھی۔۔۔۔”
اس پر بیٹھی ہوئی مہندی کے جوڑے میں فاریہ اس سب کا لطف اٹھا رہی تھی!!!
انوشا اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ ان دونوں کی دوستی آج پورے دن ایک ساتھ رہنے کے عوض بہت اچھی ہو گئی تھی!!!
فاریہ جس نے اپنے ہاتھ پر اپنے ہونے والے شوہر ” آتش کاظمی ” کا نام لکھوایا تھا وہ بار بار اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
” لگتا ہے بہت یاد آ رہی ہے !!! “
انوشا جو بالکل فاریہ کے داہنے ہاتھ پر بیٹھی ہوئی تھی اسے بار بار اپنا ہاتھ اٹھاتا دیکھ اور آتش کا نام پڑھتے ہوئے دیکھ کر انوشا نے شرارت سے کہا تو فاریہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا!!!
” ن۔۔۔ہیں!! ایسا کچھ ب۔ھی نہیں ہے م۔۔یں تو بس دیکھ رہی تھی کہ مہندی لگانے والی نے نام صحیح لکھا بھی ہے کہ نہیں ؟ “
اس نے بات سنتے ہوئے ایک لمحے کے لیے تو فاریہ چپ کر گئی تھی لیکن پھر اس فوری طور پر ایک بہانہ سوچتے ہوئے انوشا کو بتایا کہ وہ تو صرف یہ دیکھ رہی تھی کہ مہندی لگانے والی نے آتش کا نام صحیح لکھا بھی ہے کہ نہیں !!!!!
” اوو اچھا مجھے لگا تم اپنے سیاں جی کو یاد کر رہی ہو !!! “
انوشا نے آنکھیں گھماتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سے شرارتی لہجے میں فاریہ سے کہا تو فاریہ نے ایک مرتبہ پھر سے اسے حیرانگی اور سرخ پڑتے ہوئے چہرے سے دیکھا !!
ان دونوں کی کچھ باتوں کے بعد کنول بیگم نے نا چاہتے ہوئے بھی مہندی کی رسم کی شروعات کی تھی!!!! وہ نہیں چاہتی تھی کہ آتش کی شادی فاریہ سے ہو !!!
لیکن پھر وہ کیا کر سکتی تھی ؟؟ آتش کی ضد کے سامنے انھیں جھٹکنا ہی پڑا تھا۔۔۔۔۔” بیٹا ان کا جیل میں بیٹھا ہوا تھا اور خود وہ یہاں پر مہندی کی رسمیں ادا کر رہی تھی!!
کنول بیگم کے بعد مختلف مرد و خواتین نے مہندی کی رسمیں ادا کی تھی!! فاریہ نے مہندی کی محتلف رسومات کو بہت زیادہ انجوائے کیا تھا !!!!
مہندی کی رسومات مکمل ہونے کے بعد وہ اٹھتی ہوئی اندر کی طرف بڑھی تھی!!!! کیونکہ اب اس کی بدن تھکن سے چور ہو چکا تھا۔۔۔۔”
وہ اندر پہنچی تو اپنے قدم کمرے کی طرف رواں رکھے !!! وہ قدم کمرے کی طرف بڑھا ہی رہی تھی لیکن ایک دم اس کے قدم رک گئے جب گھر کی ساری لائٹس آف ہو گئی اور اسے اپنے پاس کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا!!
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بھی سمجھتی یا کچھ بھی کہتی وہاں اندھیرے میں کھڑے اس شخص نے اس کو اپنی طرف کھینچا!!!
” آ___ !! “
اس اچانک ہونے والے عمل سے فاریہ ڈر سی گئی تھی!!! اس نے چیخ مارنے کی کوشش کی مگر مگر مد مقابل شخص نے اس کے لبوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے اسے چپ کروایا تھا!!! فاریہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔!!
” فاریہ جی !!! آپ تو ڈر گئی “
وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ آتش کاظمی تھا !!! اس کی آواز سے اسے پہنچانتے ہوئے فاریہ نے اپنے دل میں پیدا ہوتے ہوئے خوف کو جھٹ سے ختم کیا۔۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے لائٹ آن ہوئی جس سے آتش کا چہرہ فاریہ پر ظاہر ہوا۔۔۔۔ فاریہ نے اسے پیچھے دھکیلا “
” یہ کیا حرکت تھی ؟ میں ڈر گئی تھی “
اس نے آتش کو پیچھے کی طرف دھکیلتے غصے کی نگاہ سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” میں تو آپ کے ہاتھ پر اپنا لکھا ہوا نام دیکھنے آیا تھا۔۔۔”
اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو فاریہ کے چہرے، اور دل میں جو بھی غصہ تھا سب ہوا ہو گیا وہ بھی ہلکا سا مسکرائی تھی۔۔۔۔!!!
” تمھیں پتہ نہیں ہے ؟ کہ شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی نہیں مل سکتے !! یہاں سے جاؤ اگر کنول آنٹی نے دیکھ لیا تو بہت بڑا مسئلہ ہو جائے گا “
فاریہ کے دل میں خوف پیدا ہوا تھا!!! کہ کہیں انھیں کنول بیگم نے دیکھ لیا تو کوئی مسئلہ نا ہو جائے۔۔۔۔!!! جس پر وہ مسکرایا۔۔۔۔
” مجھے تم سے ملنے سے کوئی روک سکے ؟ اتنی ہمت کسی میں بھی نہیں ہے۔۔۔۔!!! “
آتش تھوڑا سا اس کے قریب ہوا تھا جبکہ فاریہ دو قدم پیچھے ہو گئی تھی اس کے قدم اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے آتش نے اس کا دائیاں ہاتھ پکڑتے ہوئے اپنی طرف اٹھایا تھا۔۔۔۔۔ اور اس پر اپنا نام پڑھ کر وہ کھلکھلا کر مسکرایا تھا۔۔۔۔”
” دیکھیں کیسے چمک رہا ہے یہ نام آپ کے ان خوبصورت ہاتھوں پر!!! “
اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔ لیکن پھر اچانک سے فاریہ نے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا۔۔۔
” جاؤ یہاں سے “
فاریہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔
” آج تو جا رہا ہوں لیکن کل اتنا قریب آؤ گا کہ چاہے کر بھی آپ مجھے خود سے دور نہیں کر سکتی !!! “
وہ مسکرا کر کہتا ہوا وہاں سے غائب ہو گیا لیکن فاریہ کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا اس کی بات سن کر !!
” رہان میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں !!! “
رہان اس وقت آفس کے کمرے میں بیٹھا ہوا کچھ فائلز کو ریویو کر رہا تھا۔۔۔۔ وہ لوگ ایک ہفتے کے بعد اب گاؤں لوٹ کر آئے تھے۔۔۔!! انھوں نے بہت لطف اٹھایا تھا اس جگہ سے” جب ہی ارحم اس کے آفس میں آیا اور اس کے بالکل سامنے بیٹھتے ہوئے اس سے کہا کہ وہ اس سے کچھ بات کرنا چاہتا ہے ” جس پر رہان نے اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا کہ کیا کہنا چاہتا ہے وہ اسے ؟
” میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہو چکا ہے۔۔۔۔!! میں نے ربعیہ کے ساتھ جو کچھ بھی کیا وہ سب کچھ بہت زیادہ غلط تھا !!!
مجھے بہت ندامت ہے خود پر میں معافی مانگنا چاہتا ہوں تم سے اور ربعیہ سے!!! اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمھیں میری وجہ سے ربعیہ کے ساتھ شادی کرنی پڑی تھی!!!!
اور مجھے معلوم ہے کہ تم اس کے ساتھ خوش نہیں ہو۔۔۔
اس کی بات سنتے ہوئے رہان نے زور سے اپنی مٹھیاں بھینج لی تھی مگر ارحم نے اپنی بات جاری رکھی تھی!!
اور وہ بھی تمھارے ساتھ خوش نہیں ہے۔۔۔۔ میں اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں تمھیں کہ وہ آج بھی مجھ سے محبت کرتی ہے !!! وہ تم سے محبت نہیں کرتی ہے وہ میرے ساتھ “
بس وہ اتنی ہی بکواس سن سکا تھا وہ اس بے غیرت شخص کی۔۔ رہان نے فوراً ٹیبل پر موجود فائلز کو اٹھا کر نیچے زمین پر پٹخا تھا!!! اس کے غصے کی انتہا کو دیکھتے ہوئے ارحم کی بولتی بند ہوگئی تھی!!!
” How dare you? “
وہ جو اب تک چپ چاپ اسے اپنا بھائی سمجھ کر اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔۔” اب جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو وہ اس گھٹیا شخص کی طرف بڑھا۔۔۔۔ اور غصے سے اس کا گریبان پکڑتے ہوئے رہان اس پر چلایا۔۔۔۔
” تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہ سب باتیں کرنے کی ؟؟ ربعیہ میری بیوی ہے !!! وہ میری ہے سمجھے تم خبردار جو اس کا خیال تم نے اپنے ذہن میں لانے کی کوشش بھی کی ہو تو سمجھے ورنہ تمھاری لینے میں بھی میں ایک لمحہ نہیں لگاؤ گا “
رہان نے غصے سے کہتے ہوئے اسے آفس سے باہر کی طرف دھکیلا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہاں پر موجود ہر کمپنی کے ورکر نے یہ سارا منظر دیکھا تھا۔۔۔ اور کچھ نے تو ویڈیو بھی بنا لی تھی!!!!
” سر ابھی فون آیا ہے !! فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے “
رہان غصے سے ارحم کی طرف بڑھ ہی رہا تھا جب ہی ایک ورکر وہاں ہر گھبرایا ہوا آیا اور رہان کو متوجہ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے!!!
” واٹ ؟؟ کب کیسے ؟؟ “
رہان نے حیرانگی سے اسے پوچھا ارحم جو زمین پر بیٹھا ہوا تھا وہ وہاں سے کھڑا ہوا۔۔۔۔
” سر !! فیکٹری میں شارٹ سرکٹ ہونے کی وجہ سے آگ لگ گئی ہے۔۔۔۔!!!! آگ پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔۔۔۔
پر ہمارے مال کا کافی نقصان ہوا ہے۔۔۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ کسی بھی جان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا”
اس ورکر نے رہان کو ساری تفصیل بتائی تھی کہ آگ کب اور کیسے لگی ؟؟ اور اس سے کیا نقصانات ہوئے۔۔۔۔ لیکن شکر تو اس بات کا ہے کہ کسی بھی انسانی جان کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔۔۔۔
اس کی بات سنتے ہوئے رہان فوراً باہر کی طرف بھاگا تھا۔۔۔۔ اور ارحم اس کے پیچھے۔۔۔۔ وہ دونوں اپنی اپنی گاڑیوں میں فیکٹری چلے گئے تھے۔۔۔۔!! فلحال کے لیے رہان نے اپنے غصے پر قابو پایا تھا کیونکہ جو مصیبت اب ان پر آئی تھی وہ اس سے بھی بڑی تھی!!!
سب لوگ بہت زیادہ پریشان تھے !! کایان بھی فیکٹری چلا گیا تھا۔۔۔۔ لیکن اللہ کا شکر تھا کہ کسی بھی ورکر کی جان کو خطرہ نہیں ہوا تھا!! اور اس کے علاؤہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بڑے نقصانات سے بچایا تھا۔۔۔۔
پر ابھی بھی سب کو فکر تھی کیونکہ حویلی کے سارے لڑکے اس وقت فیکٹری میں تھے اور کسی سے کوئی بھی رابطہ نہیں ہو رہا تھا!!
ربعیہ اس وقت لان میں کھڑی ہوئی رہان کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔۔!!! باقی سب حویلی والے اندر تھے۔۔۔۔”
” ربعیہ !!! “
وہ لان میں کھڑی ہی تھی جب ہی اسے پیچھے سے کسی شخص کی آواز سنائی دی تھی!! وہ مڑی تو اس سے کافی فاصلے پر ارحم اور اس کے عین پیچھے رہان کھڑا تھا!!! اسے آواز بھی کسی اور نے نہیں بلکہ رہان نے ہی دی تھی”
” آپ ٹھیک ہیں ؟؟ “
ربعیہ نے سوال کیا تھا۔۔۔۔ رہان اور ارحم دونوں کو ہی یہ لگا تھا کہ اس نے یہ سوال ارحم سے کیا ہے !!! ارحم کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی تھی۔۔۔۔ پر رہان مٹھیاں بھینچتا ہوا آنکھیں بند کر گیا تھا۔۔۔۔
اس کے ذہن میں ارحم کی یہی بات گھومی تھی کہ ” وہ مجھ سے محبت کرتی ہے “
اگلے ہی لمحے ربعیہ نے قدم اس کی طرف بڑھائے تھے ارحم کو لگا کہ جیسے وہ اس کی طرف آ رہی ہے!!! ارحم مسکرایا تھا۔۔۔۔ ربعیہ جیسے ہی اس کے قریب پہنچی تو رہان کو اپنی سانس رکتی کوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
ربعیہ ارحم کے پاس رکی نہیں تھی!!! بلکہ اس کے قدم تو رہان کی طرف گامزن تھے۔۔۔!!! وہ تیز قدم لیے ہوئے رہان کے پاس پہنچی اور اس کے سینے سے جا لگی !!!
وہ جیسے ہی اس کے سینے سے لگی تو رہان کو خود میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔ اس نے ارحم کی طرف مسکرا کر دیکھا جو ان کی طرف غصے و حیرانگی کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
رہان نے بھی اسے خود سمیٹ لیا۔۔۔۔ اور کچھ دیر اس کا لمس محسوس کیا۔۔۔۔ جبکہ ارحم غصے سے وہاں سے اندر کی طرف بڑھ گیا تھا اور کایان ویسے ہی کسی کام سے باہر تھا!!!
” میں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ ٹھیک ہیں ؟؟ “
وہ اس کے سینے سے الگ ہوئی تھی!!! اور ایک مرتبہ پھر سے ربعیہ نے پریشانی سے اس سے سوال کیا کہ کیا وہ ٹھیک ہے ؟؟
رہان اس کی نگاہوں میں اپنے لیے پریشانی دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔۔۔
” میں بالکل ٹھیک ہوں،،، آپ پریشان مت ہوں “
رہان نے آہستگی سے اس کے گالوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے!! جس پر ربعیہ کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی تھی اور وہ دونوں کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد اندر کی طرف بڑھ گئے تھے!!!!
