Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 50) 2nd Last Episode

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 زریر اور انوشا ان کے دادا جان پاکستان سے فلائٹ پر کچھ گھنٹوں کی مسافت طے کرنے کے بعد مکہ مکرمہ میں اللہ تعالیٰ کے گھر خانہ کعبہ پہنچ چکے تھے۔۔۔!!!

یہ اس عظیم ذات کی مہربانی تھی کہ اس نے ان تینوں کو اپنے گھر بلایا تھا۔۔۔۔!

اگر ان سے کوئی جانے ان جانے میں گناہ ہوا ہے تو وہ اس کی اللہ تعالیٰ سے ان کی معافی مانگ کیونکہ وہ ذات رحیم ہے۔۔۔!!!

احرام باندھ کر ان تینوں نے اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت کی تھی۔۔۔۔!! یہ شرف حاصل کیا تھا انھوں نے!!!

” زریر بہت شکریہ آپ کا !!! میری ہمیشہ سے خوائش تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کے گھر کی زیارت کروں۔۔۔۔!!! اور آج میری خوائش پوری ہو گئی ہے۔۔۔۔!!! “

وہ مکمل طور پر حجاب اور برکے میں تھی۔۔۔۔ انوشا نے زریر سے کہا۔۔۔۔!!!!

” میری جان !!! میرا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرو۔۔۔۔! جنھوں نے ہماری قسمت میں ان کے گھر کی زیارت لکھی ہے۔۔۔۔۔!!!! یہ تو ان کا کرم ہے کہ ہم جیسے گنہگار بندوں کو اپنے گھر بلایا!!!! “

زریر نے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!!!

یہاں پر ان کا اسٹے ایک ہفتے کا تھا وہ سارے دنوں کو اللہ کے گھر کی زیارت سے مزین کرتے ہوئے مختلف تاریخی مقامات پر جا کر لطف اٹھاتے ہوئے لندن کی طرف روانہ ہو گئے۔۔۔ یہ سات دن ان تینوں کی زندگی کی سب سے خوبصورت دن تھے۔۔۔۔!!!

” صائمہ کل تمھارے سسرال والے آ رہے ہیں ہم اب تمھارے فرض سے بھی سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔۔۔! کل تمھاری تاریخ بھی طے کر دے گے ہم “

شہناز بیگم نے صائمہ کو پاس بلاتے ہوئے اسے بتایا تو صائمہ نے حیرانگی و غصے سے ان کی طرف دیکھا۔۔۔ رشتہ اس کا ایک سال پہلے ہی طہ ہو چکا تھا اب اس کی شادی کی باری تھی۔۔۔۔!!!

” امی !!! مجھے ابھی کوئی بھی شادی نہیں کرنی ہے “

صائمہ نے منھ بناتے ہوئے کہا۔۔۔

” کیوں نہیں کرنی ہے ؟؟؟ کیا ساری عمر ماں باپ کے گھر ہی رہنا ہے ؟؟ اور ویسے بھی پہلے تو سجاد ( صائمہ کا منگیتر ) یہاں نہیں تھا اب تو وہ بھی آ گیا ہے۔۔۔۔!!! اب مزید تمھارا کوئی بہانہ نہیں سنو گی میں ویسے بھی تمھاری شادی تو ہمیں اسما کی شادی کے ساتھ ہی کر دینی چاہئیے تھی۔۔۔۔!!! “

شہناز بیگم نے تھوڑا سا تلخ رویہ اپناتے ہوئے کہا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر وہ جانتی تھی کہ ان کا تلخ رویہ ہی صائمہ کی نا کو ہاں میں بدلے گا۔۔۔

اپنی امی کی بات سنتے ہوئے صائمہ کے چہرے پر غصہ جھلکا لیکن وہ ماں تھی انھیں وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی۔۔۔ وہ چپ چاپ اٹھتی ہوئی چلی گئی تھی۔۔۔۔!

جب کہ اسما، ربعیہ اور ازا اس کے پیچھے گئی تھی!! اسما بھی کچھ دن حویلی رہنے کے لیے آئی تھی۔۔۔۔

صائمہ کمرے میں آ کر بیٹھی ہی تھی جب ہی وہ تینوں اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔!!!

” صائمہ آپی یہ کیا بات ہوئی ؟ شادی کیوں نہیں کرنی ہے آپ کو ؟؟؟ “

ان تینوں نے اسے اپنے سامنے بیٹھایا تو اسما نے اس سے سوال کیا۔۔۔

” بس بھئی مجھے نہیں کرنی ہے شادی تو کیا ہوا ؟؟ مجھے ڈر لگتا ہے شادی کرنے سے !!! نا جانے کیا ہو گا ؟ کیسے ہوں گے وہ لوگ ؟ “

صائمہ چڑتے ہوئے بولی تو وہ تینوں ہلکا سا مسکرائی! اور ازا نے بولنا شروع کیا۔۔۔

” تو تم اس ڈر سے شادی نہیں کرو گی صائمہ ؟ ہمم !! اس ڈر سے گھر ہی بیٹھی رہو گی !! تم نے وہ کہاوت تو سنی ہوگی نا کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا۔۔۔۔!!!!

اور ویسے بھی شادی تو خوشیوں کی وجہ بنتی ہے۔۔۔!! ضروری تو نہیں کہ ہر کوئی برا ہی ہو !!! اب دیکھو میرا شادی کرنے کا دور دور تک کوئی بھی ارادہ نہیں تھا۔۔۔

لیکن پھر کیا ہوا ؟؟ ایک اچانک ہی کرنا پڑا نا نکاح اس دن کی صبح تک بھی مجھے نہیں پتہ تھا کہ میری شادی ہو رہی ہے۔۔۔!!! کیا مجھے پتہ تھا ؟ کہ کایان اچھے ہیں یا برے !!! ہاں ڈر ضرور تھا میرے اندر لیکن دیکھو کہ آج میں خوش ہوں کایان کے ساتھ۔۔۔۔۔ جس طرح انھوں نے میرا خیال رکھا جو سلوک میرے ساتھ کیا میں کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتی ہوں کہ وہ برے ہیں۔۔۔۔اللہ نے تحفے کے طور پر دیا ہے انھیں مجھے۔۔ “

ازا نے ایک لمبی گفتگو کر کے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ شادی ہونے سے ڈر پیدا نہیں کرنا چاہئیے خود میں اور نا ہی اس کی وجہ سے شادی سے انکار کرنا چاہئیے۔۔۔

” بالکل۔۔۔۔!!! اب تم مجھے ہی دیکھ لو کیا جانتی تھی میں رہان کے بارے میں ؟ نکاح سے ایک دن قبل مجھے یہ پتہ چل رہا تھا کہ میری شادی رہان سے کی جا رہی ہے !!!

کیا کسی کو بھی پتہ تھا کہ میری زندگی میں اتنا بڑا واقع پیش آ جائے گا ؟ کہ یوں اچانک ہی میری شادی رہان کے ساتھ ہو جائے گی !! نہیں کسی کو بھی نہیں پتہ تھا۔۔۔

کیا میں جانتی تھی کہ رہان کیسے ہیں ؟ نہیں کیوں کہ میں نے کبھی انھیں اپنے شوہر کے روپ میں دیکھا تھا ہی نہیں !!! “

ازا نے بعد ربعیہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی جب ربعیہ خاموش کوئی تو اسما نے اپنی کہانی اس پر عیاں کی تھی۔۔۔۔

” اور میری تو کہانی ہی سب سے الگ ہے۔۔۔۔!!! جس نے شادی کے بندھن سے بچنے کے لیے ایک سال کا کنٹریکٹ کیا تھا۔۔۔ لیکن کسی کو کیا پتہ تھا کہ مجھے محبت ہو جائے گی حماد سے!!

ایک دن میں خود ہی اس کنٹریکٹ کو پھاڑ کر پھینک دوں گی۔۔۔! مجھے وہ لوگ اس قدر پسند آئے گے کہ میں چاہے کنٹریکٹ ہی سہی لیکن پھر بھی ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔۔۔!

وہ کنٹریکٹ بنانے والی بھی میں اور اسے چار ماہ کے اندر پھاڑ کر پھیکنے والی بھی میں خود ہوں۔۔۔۔!!!! “

اسما کی بات سنتے ہوئے صائمہ نے ان تینوں کی بات پر غور کی تھی۔۔۔۔!!!!

” صائمہ ہم سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ ہماری شادی کس سے ہو گی پھر بھی آج الحمدللہ ہم تینوں خوش ہیں تم تو پھر سجاد بھائی کو جانتی ہو بلکہ ان سے کئی مرتبہ تم بات بھی کر چکی ہو !! تو تمھیں تو یوں نہیں کرنا چاہئیے “

ازا نے شرارتی، سمجھانے والے انداز کو ملاتے ہوئے اسے سمجھا کر کہا۔۔۔۔۔۔!!! تو صائمہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔!

ان تینوں کی بات سے اسے صرف ایک ہی بات سمجھ آئی تھی کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر کسی کی شادی کا ایکسپیرئنس ( Experience) برا ہو۔۔۔

اس شخص کے ساتھ آپ کا رشتہ مختلف وجوہات کی بنا پر جڑ سکتا ہے لیکن اصل کامیابی تو اس وقت ہے جب آپ اس رشتے جو اچھے طریقے سے نبھائیں اس پر عمل کریں۔۔۔! “

وہ مان گئی تھی شادی کے لیے۔۔۔۔! شادی کے لیے تو اسے ماننا تھا ہی کہ کیونکہ سجاد کے ساتھ تو وہ پہلے ہی رشتے میں جڑ چکی تھی بس اب اس رشتے کو پایا تکمیل تک پہنچانا تھا۔۔۔!!

اگلے دن اس کے سسرال والے حویلی آئے تھے اور اس کی شادی کی تاریخ طہ کر کے گئے تھے۔۔۔۔۔!! صائمہ کی شادی اگلے ماہ طہ پائی تھی۔۔۔ لیکن اب اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا اب اس نے دل کا فیصلہ دماغ سے نہیں لیا تھا۔۔۔۔!!!

کیونکہ دل کے فیصلے کبھی بھی دماغ سے نہیں لیے جاتے ہیں۔۔۔۔!!!

” یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟؟؟ “

فاریہ صبح نو بجے کے قریب اٹھی تو وہ فریش ہوتی ہوئی نیچے آ گئی۔۔۔۔!!

آتش کمرے میں نہیں تھا۔۔۔ اسے تعجب ہوا کیونکہ آج سے پہلے جب تک فاریہ آٹھ نا جاتی تو وہ نہیں جاتا تھا۔۔۔ پھر اسے لگا کہ شائید اس کی کوئی اہم میٹینگ ہو گی اس وجہ سے وہ جلدی چلا گیا ہو گا۔۔۔۔!!!!

وہ سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے پہنچی تو نیچے کچھ آدمی کچھ سیٹ اپ لگا رہے تھے۔۔۔۔!!!

فاریہ نے تجسس بھری نگاہوں سے انھیں دیکھتے ہوئے ان سے سوال کیا تھا۔۔۔۔!!! جیسے کسی فنکشن کا سیٹ اپ لگایا جا رہا ہو !!!

” میم وہ آتش سر نے ہمیں یہ سب کرنے کا کہا ہے “

ان میں سے ایک شخص اس سے نہایت عزت سے نظریں جھکا کر مخاطب ہوتا ہوا سوال پوچھنے لگا۔۔۔۔

” پر وہ ہیں کہاں ؟؟؟ “

ان کی بات سنتے ہوئے فاریہ نے چہرے پر سوالیہ تاثرات لیے ہوئے آتش نے متعلق ان سے سوال کیا تھا۔۔۔۔!!!

” میں یہاں ہوں “

پیچھے سے آتی ہوئی آواز پر وہ آتش کی طرف مڑی تھی۔۔۔!!! جو بالکل ہی اس کے پیچھے کھڑا ہوا اسے گھور کر دیکھ رہا۔۔۔

جیسے ہی وہ اس کی طرف مڑی تو آتش اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لیے ہوئے چل دیا۔۔۔!!!

” میں نے منع کیا تھا نا آپ کو۔۔۔۔!!! کہ آپ کمرے سے باہر نہیں نکلیں گی تو پھر آپ نے میری بات کیوں نہیں سنی ؟ آپ کو یاد ہے نا فاریہ جی کہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ آپ بہت ویک ہیں اور آپ کو مکمل طور پر بیڈ ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔!! اور آپ سیڑھیاں اتر کر نیچے آ گئیں !!!!! میں آپ پر اور اپنے ہونے والے بچے پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی رسک نہیں لے سکتا ہوں “

آتش نے اس کے لیے اپنی فکر مندی کو ظاہر کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔!

” ارے آتش کچھ نہیں ہوتا “

فاریہ نے لاپرواہی سے کہا تو وہ فوراً اسے اپنی باہوں میں بھر گیا تھا۔۔۔۔۔!! فاریہ نے اسے حیرانگی سے دیکھا اور پھر اس ملازمہ کو جو وہاں سے گزرتے ہوئے انھیں دیکھ نظریں چراتی شرمیلی مسکراہٹ لیے ہوئے، قدم تیز کرتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔!

” آتش مجھے نیچے اتاریں “

فاریہ نے اسے آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” بالکل بھی نہیں!! اب سے جو میرا دل کرے گا وہ میں کروں گا اور میں اپنے بچے کی صحت پر کوئی بھی رسک نہیں لے سکتا ہوں ڈیٹس اٹ !!

اور ویسے بھی آپ ریسٹ کریں اوپر نیچے آدمی فنکشن کی تیاری کر رہے ہیں “

وہ اس کی بات کو اگنور کرتا ہوا اپنی باہوں میں بھرتا ہوا اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!! اور اسے آہستگی سے بتانے لگا !!

” فنکشن ؟؟ کونسا فنکشن ؟؟ “

اس کی بات سنتے ہوئے فاریہ نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔۔

” جی ہمارے والدین بننے کی خوشی میں میں نے ایک پارٹی رکھی ہے آج شام کو۔۔۔!! خاص کر بچوں کے لیے۔۔۔۔!!

کافی مزہ آنے والا ہے رات کو !!!! “

پیار بھرے لہجے میں کہتا ہوا وہ ارے مزید تفصیلات بتانے لگا تھا۔۔۔۔ جبکہ وہ اس کی باہوں میں ساری باتیں سنتی جا رہی تھی۔۔۔۔!! اس کے قریب آنے سے اسے سکون ملتا تھا کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے اسیر ہو چکے تھے۔۔۔۔!!!!

وقت پر لگا کر اڑ گیا۔۔۔ صائمہ کی شادی قریب سے قریب تر آگئی تھی۔۔۔۔ !!! آج رات کو صائمہ کی مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔! مہندی کا فنکشن دونوں فیملیز نے الگ الگ رکھا۔۔۔ لڑکا اور لڑکی کی مہندی ایک ساتھ نہیں کی جا رہی تھی۔۔۔ !!!

خوبصورت وسیع و عریض حویلی کے لان کو خوبصورت مختلف اقسام کے پھولوں سے مزین کیا گیا تھا۔۔۔!!

لان کو دیکھ کر صاف پتہ چل رہا تھا کہ اسے مہندی کے فنکشن کے لیے تیار کرنے والے کی خوب محنت لگی ہے اس پر !!

لوہے کے اسٹیج کو مختلف قالین سے ڈھک کر اس پر مختلف لوگوں کی نشتیں بنائی گئی تھی۔۔۔۔!! جن میں سے ایک محصوص نشست دلہن کے لیے رکھی گئی تھی۔۔۔۔!!

خوبصورت پہلے رنگ کے لہنگے میں ملبوس وہ اسٹیج پر رکھے ہوئے جھولے جسے دلہن کے لیے ہی رکھا گیا تھا، پر بیٹھ کر سامنے بیٹھی ہوئی لڑکیوں کے گانے سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔۔۔۔!

اس کے ساتھ والی کرسی پر ایک طرف شہناز بیگم بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!! اور ایک طرف شہزاد صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ باقی سب لوگ مہمانوں کی میزبانی کرنے میں اور مہندی کی رسومات شروع کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔۔۔

ازا مہندی کی رسم ادا کرنے کے لیے سامان لیے ہوئے لان کی طرف بڑھ ہی رہی تھی۔۔۔۔۔!!! جب ہی کسی نے پیچھے سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچ کر اسے دیوار سے اس کی پشت لگاتے ہوئے اس کے دونوں اعتراف ہاتھ رکھے تھے۔۔۔۔

ازا کے ہاتھ سے سامان با مشکل گرتے ہوئے بچا تھا!!!!

” کایان یہ کیا حرکت ہے ؟؟ “

ازا نے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی لیکن وہ پیچھے ہٹنا تو دور اس کے مزید قریب ہو گیا تھا۔۔۔۔!!

” ارے آپ تو ایسے ڈر رہی ہیں کہ جیسے مجھے جانتی ہی نا ہوں!!! یا میں پہلے کبھی بھی آپ کے قریب نا آیا ہوں !!!! “

وہ اس اپنا اور اس کا فاصلہ دو قدم میں طے کرتا ہوا بولا تو ازا نے اسے فوراً پیچھے کی طرف دھکیلا۔۔۔!! وہ ہنوز اس کی نظروں میں ہی اپنا عکس دیکھ رہا تھا۔۔۔

” میرے پاس آپ کے اس فضول رومینس کے لیے وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔!!!! “

وہ کایان کو پیچھے کرتی ہوئی باہر کی طرف بڑھنے لگی جبکہ کایان نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔۔۔۔!! لیکن اسی وقت ازا کا سر چکرا سا گیا۔۔۔۔!! اگر کایان آگے بڑھتے ہوئے اسے نا پکڑتا تو شائید وہ زمین بوس ہو چکی ہوتی۔۔۔۔!

” ازا آپ ٹھیک ہیں ؟؟ “

کایان نے فکر مندی سے سوال کیا۔۔۔

” ج۔۔ی ٹھیک ہوں مجھے لگتا ہے صبح سے کچھ کھایا نہیں ہے اس وجہ سے شائید چکر آ گئے !!! آپ پریشان مت ہوں “

ازا نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” دھیان رکھا کریں اپنا اور یہ سامان رکھ کر چلیں میرے ساتھ اور کھانا کھائیں اس کے بعد آپ کسی بھی کام کو ہاتھ نہیں لگائیں گی “

کایان اس کے ہمراہ چلتے ہوئے بولا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔!!

کچھ دیر بعد مہندی کی رسومات کا باقاعدہ آغاز کیا گیا تھا۔۔۔

” ازا کایان !!! تم دونوں بھی رسم کرو “

شہناز بیگم نے خود مہندی کی رسم ادا کرنے کے بعد ازا اور کایان کو آواز دیتے ہوئے کہا تو وہ دونوں سر ہاں میں ہلاتے ہوئے مسکراتے ہوئے اسٹیج کی طرف بڑھے۔۔۔!

لیکن جیسے ہی ازا نے اسٹیج پر چڑھنے کے لیے قدم اٹھایا تو اسے ایک دم سے چکر آگئے۔۔۔ اسے سب کچھ گھومتا ہوا دیکھائی دیا۔۔۔۔!!

وہ اوپر کی طرف بڑھانے کی بجائے چکر کھاتی ہوئی پیچھے کھڑے کایان کی باہوں میں جھول گئی۔۔۔۔! کایان نے اسے پریشانی سے دیکھا جو بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *