Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 20)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt


” یہ کنٹریکٹ صرف ایک سال کا ہو گا۔۔۔۔ اس کے بعد آپ اپنے راستے اور میں اپنے راستے “

وہ دونوں فون پر بات کر رہے تھے۔۔۔۔ اسما نے کچھ شرائط لکھ کر اس کی تصویر بنا کر حماد کو بھیجی تھی اور اس کے بعد حماد کا فون آیا۔۔۔ اسما نے حال احوال پوچھنے کے مرحلے کے بعد اس سے کہا۔۔۔۔

” مجھے منظور ہے !! میری والدہ کا آپریشن تین ماہ کے بعد ہے اور انھیں مکمل ٹھیک ہونے میں اتنا وقت تو لازمی لگ جائے گا۔۔۔۔ “

حماد نے اس کی بات سنتے ہوئے بڑے ہی تحمل والے لہجے میں کہا تو وہ مسکرائی۔۔۔۔۔!! اور مزید کچھ بات کر کے اس نے فون کاٹ دیا تھا۔۔۔۔!!! اور پھر سونے کے لیے کپڑے بدلنے چلی گئی۔۔۔۔”

دن کے روشنی رات کے گہرے سائے میں ڈھل گئی تھی۔۔۔۔۔!! رات کے تقریباً نو بجے کا وقت تھا۔۔۔۔۔!!! ازا کمرے میں پہنچی تو سامنے ہی کایان کو کھڑا ہوا پایا۔۔۔۔!! وہ کھڑکی کے بالکل سامنے کھڑا ہوا کھلی کھڑکیوں سے چاند کی چاندنی کو اندر آنے کی اجازت دے رہا تھا!! ازا اس کی طرف بڑھی۔۔۔۔

” Thank you so much kayan “

اس کے قریب پہنچتی ہوئی وہ مسکراتے ہوئے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر کہا تو کایان اس کی طرف مڑا اور خفگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔

” یہ آپ کی تھینک یو والی عادت کب جائے گی ازا ؟؟ “

کایان نے مڑتے ہوئے خفگی سے اسے کہا تو ازا نے مسکرا کر اسے دیکھا جو اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ جس پر ازا نے سر نفی میں ہلایا تو وہ بھی مسکرا گیا!!

” کبھی بھی نہیں !!!! ویسے آپ مجھے یہ بتائے کہ کیا ضرورت تھی آپ کو وہ سب کچھ کہنے کی ؟؟ آپ ان کو بعد میں کہہ دیتے !! اور ایسے بھی میرا کیا ہے ؟؟ ہوں تو میں یہاں___ “

کایان کی نگاہیں اس کے گلاب لبوں پر آ ٹکی تھی۔۔۔۔!!!! جو مسلسل ہل رہے تھے وہ اس کی باتیں بڑے ہی غور سے سننے میں مصروف تھا۔۔۔۔!! اس کی باتوں پر اس کے لبوں پر ہلکی ہلکی مسکراہٹ پھیلتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔!!

لیکن جب ازا اپنے متعلق کچھ غلط کہنے لگی تو وہ یک بڑھتا ہوا اس کے لبوں پر جھکا تھا۔۔۔۔!!! اس کے لب ازا کے لبوں کے ہلنے کو ایک دم روک گئے تھے۔۔۔۔

ازا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی،،، اس کے چہرے کا رنگ سرخ پڑ گیا تھا!! یہ وہ عمل تھا جس کی اس نے کبھی امید بھی نہیں تھی۔۔۔۔!! کایان اس کے لبوں پر مکمل طور پر جھکتا ہوا انھیں اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔۔۔۔”

جبکہ ازا کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی!! کچھ لمحات خود کو سیراب کرنے کے بعد کایان اس کے لبوں کو آزادی بخشتا ہوا پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔” لیکن ابھی بھی وہ ازا کے بہت قریب تھا۔۔۔۔ ازا اس کی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر پا رہی تھی!!!

” انھوں نے میری بیوی کی تزلیل کی تھی جو بات مجھے بالکل بھی نہیں پسند !! اور اگر ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شائید صحیح سلامت یہاں سے واپس نا جاتا میں نے صرف ان کی عمر کا لحاظ کیا تھا۔۔۔۔۔۔ “

یہ کایان کا جنونی انداز تھا جو ازا نے آج پہلی مرتبہ تھا۔۔۔۔ آج سے پہلے وہ کبھی بھی اس کے قریب نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔ اس نے جنونی پن اپناتے ہوئے ازا کو بتایا تھا کہ اس نے صرف اور صرف اس عورت کی عمر کا اور اس کے ساتھ رشتے خیال کیا تھا اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو شائید حویلی سے باہر صحیح سلامت قدم بھی نا رکھ پاتا۔۔۔۔”

اسے کہتا ہوا وہ یک دم پیچھے ہوا تھا۔۔۔۔۔!!!! اس لمحے ازا کی جان میں جان آئی تھی۔۔۔۔!! وہ بھی پیچھے ہوئے تھی اسے سمجھ ہی نہیں آیا تھا کہ یہ کیا ہوا تھا ؟ وہ فوراً نظریں جھکاتے ہوئے وہاں سے نکلی تھی۔۔۔۔!!! جبکہ اس کی شرماتی ہوئی نگاہوں کو دیکھتے ہوئے وہ کھلکھلا کر مسکرایا!! “

کچھ لمحات بعد جب ازا کپڑے تبدیل کر کے کمرے میں آئی تو اسے بیڈ پر لیٹا ہوا پایا۔۔۔۔!! ازا نے حیرانگی سے اسے دیکھا ویسے تو صوفے پر سوتا تھا لیکن آج بیڈ کی ایک طرف وہ لیٹا ہوا تھا اور دوسری طرف اس نے ازا کے لیے جگہ چھوڑی تھی۔۔۔!!!

” آپ آج یہاں سوئے گے ؟؟ “

ازا نے اس کی طرف دیکھا جو مسکرا کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا پھر اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ دیر پہلے والا واقعہ گھوما اس کی دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہوئی۔۔۔۔ پر اگلے ہی لمحے اس نے کایان سے سوال کیا۔۔۔

” وہ کیا ہے نا صوفے پر صحیح نیند نہیں آتی کبھی کبھی تو میں پوری پوری رات جاگتا رہتا ہوں اس لیے میں نے سوچا کہ میں بیڈ کر دوسری سائیڈ پر لیٹ جاتا ہوں اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہے تو آپ مجھے بتا دو میں صوفے پر ہی سو جاؤ گا “

اس نے بڑا ہی معصوم منھ بناتے ہوئے کہا تھا گویا وہ یہی چاہتا تھا کہ آیت اس کی بات مان لے کہ وہ صوفے پر ہی سو جائے۔۔۔۔ پر آخری جملے کہتا ہوا بیڈ پر اترنے کے لیے بیٹھا تھا۔۔۔۔

” نہیں کوئی بات نہیں آپ سو جاؤ بیڈ پر اور آپ یہی سو جایا کرے۔۔۔!!! “

ازا نے ایک مرتبہ صوفے کی طرف دیکھا جو کافی چھوٹا تھا۔۔۔۔۔!! اور اسے یقین ہو گیا کہ کایان واقع ہی اس صوفے پر صحیح طریقے سے نہیں سو سکتا تھا تو ازا نے اسے وہاں سے اٹھنے سے منع کر دیا،،، جس پر کایان نے سر ہاں میں ہلایا جبکہ ازا خود بیڈ کی دوسری طرف بڑھی جبکہ کایان کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی تھی وہ یہی چاہتا تھا کہ وہ ازا کے ساتھ سوئے”

ازا اس کی طرف پشت کرتے ہوئے لیٹ چکی تھی۔۔۔۔!! اسے اتنا قریب سے دیکھ کر گویا کایان کی آنکھوں کو راحت مل رہی تھی۔۔۔۔!!!! وہ ہلکی سی مسکراہٹ لیے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا جو نیند کی وادیوں میں کھو چکی تھی۔۔۔۔۔ اور اسے دیکھتے دیکھتے کایان کی خود کی آنکھ کب لگ گئی اسے اس بات کا علم بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔

انوشا ابھی ہی میٹینگ روم سے نکلی تھی اور اپنے آفس کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ زریر غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔!!

پوری میٹینگ کے دوران زریر کی نگاہیں واسط پر تھی جو پوری میٹینگ کے دوران صرف اور صرف انوشا کو ہی حوس بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ اسے دیکھ کر زریر کا غصہ بہت بڑھ رہا تھا مگر وہ وہاں ہر بیٹھے ہوئے سارے گیسٹس کی وجہ سے خاموش رہا۔۔۔۔ لیکن اب وہ انوشا پر برسنے کے ارادے رکھتا تھا۔۔۔۔

انوشا ابھی اپنے آفس میں آکر اپنی کرسی پر بیٹھی ہی تھی جب ہی کسی نے تیز روانی سے آفس کا دروازا کھولا۔۔۔۔ اور وہ شخص غصے سے اندر داخل ہوا جبکہ وہ آفس کا دروازہ بند کرنا نہیں بھولا تھا۔۔۔۔ انوشا جو ریسٹ کرنے والی پوزیشن میں بیٹھی تھی اچانک سے سامنے آتے ہوئے زریر جو دیکھتی ہوئی وہ سیدھی ہو کر بیٹھی!!

” تمھیں جب میں نے کہا تھا کہ تم میٹینگ اٹینڈ نہیں کروں گی تو تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہ میٹینگ اٹینڈ کرنے کی ؟؟؟؟ “

زریر نے غصے سے آگے آتے ہوئے اپنے دونوں زور سے ٹیبل پر رکھے تھے۔۔۔ اور شدید غصے سے اس سے سوال کیا کہ وہ اس کے منع کرنے کے باوجود کیون میٹینگ اٹینڈ کرنے گئی ؟؟ یقیناً اسے واسط کی حرکت دیکھ کر بہت زیادہ غصہ آیا تھا۔۔۔۔!!

” اور میں نے بھی کہہ دیا تھا کہ مجھ پر تمھاری مرضی نہیں چلے گی !!! “

انوشا نے نگاہیں اٹھاتے ہوئے بڑے ہی پر سکون انداز میں کہا تھا۔۔۔۔ زریر سختی سے لب بھینج گیا تھا۔۔۔۔

” ایک تو تم نے دھنگ کا لباس نہیں پہنا ہوا تھا۔۔۔۔!!!! اور اوپر سے تم میٹینگ اٹینڈ کرنے چل پڑی !! تمھیں میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ یہاں پر یہ لباس قابل قبول نہیں ہے !! میری بات کان کھول کر سن لو کل سے تم آفس نہیں آؤ گی “

زریر نے اصل مدہ اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

” میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں مسٹر زریر عباس !! میں تمھاری غلام یا تمھاری ماتحت نہیں ہوں۔۔۔۔ میرا جو دل کرے گا میں ویسا ہی کرو گی سمجھے۔۔۔۔!! “

وہ کچھ فائلز اٹھاتے ہوئے پر سکون انداز میں کہتی ہوئی آفس سے نکل گئی جبکہ زریر سختی سے مٹھیاں بھینج گیا تھا۔۔۔۔!!! اسے کیوں جلن ہو رہی تھی کسی کے انوشا کو دیکھنے سے کیا وہ اس محبت کرتا تھا ؟؟ بالکل بھی نہیں ایسا تو کچھ بھی نہیں تھا تو پھر ایسا کیوں ؟

اس کیوں کا جواب خود زریر عباس کے پاس بھی موجود نہیں تھا۔۔۔!!!

حویلی کو کل کی طرح آج پھر سے ایک خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔!!! کیونکہ آج اسما اور حماد کے نکاح کے ساتھ ساتھ دونوں جوڑوں کا بارات کا فنکشن بھی منعقد ہونا تھا۔۔۔۔ آج اسما نے اپنے گھر سے ، اس حویلی سے رخصت ہو جانا تھا۔۔۔۔ لیکن ربعیہ نے رہان کے ساتھ حویلی میں ہی رہنا تھا۔۔۔۔

اسما اور حماد ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ درمیان میں پھولوں کی لڑیاں گری ہوئی تھی جو ان کے درمیان پردہ حائل کرنے کام کر رہی تھی۔۔۔

مولوی صاحب نے شہزاد صاحب کی اجازت لیتے ہوئے نکاح پڑھانا شروع کیا۔۔۔

” اسما ملک ولد شہزاد ملک آپ کا نکاح حماد اعجاز ولد اعجاز کھرل کے ساتھ بعوض حق مہر آٹھ لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “

مولوی صاحب نے اجازت طلب کرتے ہوئے نکاح کی رسم کا آغاز کرت ہوئے اسما سے سوال کیا تھا کہ کیا اسے حماد اعجاز کے ساتھ نکاح قبول ہے ؟؟اس نے ایک نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ شائید اسی کے جواب کا منتظر تھا۔۔۔!!

” ق۔۔۔بول ہے!!! “

اس نے ایک دم کہا یہ الفاظ اس کے منھ سے بے ساختہ نکل پڑے تھے۔۔۔۔” لیکن ان میں سے کسی بھی شخص نے یہ محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔۔ اس کا جواب سن وہاں پر موجود ہر شخص مسکرایا تھا سوائے حماد کے،،، حماد کی والدہ کو دلی خوشی ہوئی تھی جب ان کی خوائش پوری ہوئی تھی۔۔۔۔

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

اسما کے بعد مولوی صاحب حماد سے متوجہ ہوئے اور یہی سارے سوالات اس سے کیے۔۔۔۔

” حماد اعجاز ولد اعجاز کھرل آپ کا نکاح اسما ملک ولد شہزاد ملک کے ساتھ بعوض حق مہر آٹھ لاکھ روپے کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “

” قبول ہے۔۔۔۔!! “

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “

” قبول ہے!!! “

اس کے بعد ان دونوں نے نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے ایک دوسرے کو اپنا بنا لیا تھا۔۔۔۔ وہاں کھڑا ہر شخص مسکرا اٹھا تھا۔۔۔۔” کیونکہ یہ خوشی کا موقع تھا۔۔۔۔

دعا مانگنے کے حماد کھڑا ہوتا ہوا سب سے ملا تھا۔۔۔ اس کی والدہ نے آکر اسما کا ماتھا چوما تھا جس پر وہ مسکرائی تھی۔۔۔۔!!! ازا اور کایان بھی کافی خوش تھے ان دونوں کے لیے!! لیکن جن کا نکاح ہوا تھا اسما اور حماد وہ تو بظاہر یہ دیکھا رہے تھے کہ وہ خوش ہیں اندر سے تو وہ دونوں ہی بالکل بھی خوش نہیں تھے !!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *