Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 39)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

تقریباً دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد اسما حویلی پہنچی تھی۔۔۔۔ حویلی میں گاڑی کھڑی کرتی ہوئی وہ اندر کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔

” اسما کیسی ہو بیٹا ؟؟ “

شہناز بیگم جو وہاں سے گزر رہی تھی بیٹی کو آتا دیکھ مسکرا گئیں۔۔۔!!!! اور اس کا نام لے کر اسے پکارتے ہوئے اس کا حال پوچھا کہ وہ کیسی ہے !

” کیا ہوا اسما پریشان لگ رہی ہو ؟ “

اس کے ہاتھ میں اس بیگ جس میں سامان رکھا جاتا تھا اور اس کے چہرے چھائی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے شہناز بیگم کو کچھ عجیب سا لگا تو انھوں نے اس سے سوال کیا۔۔۔

” آپ کو ہی بہت شوق تھا میری شادی کا “

وہ ان سے گلہ کرتے ہوئے اندر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ شہناز بیگم اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی کہ یہ اس نے کہا کیا تھا ان سے ؟ وہ پریشان تھی یقیناً کوئی مسئلہ ہوا ہو گا۔۔۔۔!!! اسی وجہ سے یہ بھی پریشان ہے۔۔۔ شہناز بیگم سوچتے ہوئے اس نے پیچھے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔

” کیا ہوا اسما ؟؟ کوئی بات ہوئی ہے کیا ؟؟ کیا تمھارا اور حماد کا کوئی جھگڑا ہوا ہے۔۔۔ “

شہناز بیگم کمرے میں داخل ہوئی تو اسے سامنے ہی بیڈ پر بیٹھے ہوئے سر ہاتھوں میں دے کر پایا۔۔۔!!! شہناز بیگم کو وہ بہت پریشان لگ رہی تھی۔۔۔۔

انھوں نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے اس سے سوال کیا!!! انھوں نے خود سے ہی قیاس کیا تھا کہ کہیں اس کا حماد کے ساتھ کوئی جھگڑا وغیرہ تو نہیں ہوا ؟؟

” جی امی!!! جھگڑا ہو گیا ہے حماد سے میرا “

اس نے منھ بنائے ہوئے کہا۔۔۔

” کیا کوئی سخت جھگڑا ہوا ہے ؟؟؟ “

شہناز بیگم نے آہستگی سے کہا!!!!

” نہیں امی !!! چھوٹی سی بحث ہوئی ہے بس۔۔۔۔!!! اور میرا دل کر رہا تھا کہ کچھ دن میں آپ لوگوں کے ساتھ رہو تو میں آ گئی۔۔۔۔”

وہ چھپا گئی تھی وہ بات جو اس کے دل میں تھی!!! جو اس کا ایک وہم تھا!!! جو اسے لگتا تھا کہ حماد اسے دھوکا دے رہا ہے جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔

” بیٹا۔۔۔۔ جو بھی ہو یوں لڑائی ہونے کے تمھیں یہاں نہیں آنا چاہئیے تھا۔۔۔ اپنے شوہر کے پاس رہنا چاہئیے تھا۔۔۔ اس کی خدمت کرنی چاہیے تھی تاکہ یہ مسائل ختم ہو جائیں تم دونوں کے درمیان!!! اور بیٹا شوہر__”

” امی پلیز میں فریش ہونا چاہتی ہوں “

i

شہناز اسے سمجھا ہی رہی تھی جب ہی وہ چہرے پر بیزاریت لاتے ہوئے ان کی بات سننے سے منع کر گئی تھی!! جبکہ اس کے رویے کو دیکھتے ہوئے شہناز بیگم کو بہت عجیب سا لگ رہا تھا انھیں لگ رہا تھا کہ بات صرف بحث تک نہیں ہے بلکہ اس سے اوپر کی ہے۔۔۔ وہ خاموشی سے وہی پریشان ہوتی ہوئی بیٹھ گئی۔۔

بارات کے فنکشن کے لیے مزید مہمان آ چکے تھے۔ ان میں سے تو کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے مہندی کا فنکشن انجوائے نہیں کیا تھا۔۔۔۔ وہ صرف بارات اور ولیمے کا فنکشن اٹینڈ کرنے کے لیے آئے تھے۔۔۔۔

وسیع میرج ہال میں سارے مہمان خوبصورت نمائشی چمکتے دمکتے جوڑوں میں بیٹھے ہوئے خوشیاں منا رہے تھے۔۔۔۔ کچھ دیر بعد دلہن کی انٹری کروانے کا مرحلہ آیا تھا۔۔۔ سب کرسیاں دونوں طرف کرتے ہوئے درمیان سے جگہ چھوڑی گئی تھی۔۔۔۔

اس جگہ کے ارد گرد انار لگائے گئے اسی وجہ سے بچوں کو وہاں سے دور کر دیا گیا۔۔۔۔ کچھ مہمان کھڑے تھے۔۔۔!!! تو کچھ بیٹھے ہوئے دیکھ رہے تھے۔۔۔ ساری لائٹس آف کر دی گئی تھی۔۔۔ ایک ہی مین لائٹ چل رہی تھی جس کا فوکس اس راہ کی شروعات پر کھڑی چمکتی ہوئی انوشا پر تھا۔۔۔

خوبصورت چمکتے دمکتے، موتیوں سے بھرے، جو چمک رہے تھے بھرے ہوئے لہنگے مین درمیان میں دلہن ( انوشا ) کھڑی تھی۔۔۔۔ جس نے اس راستے سے چل کر سامنے اسٹیج کر بیٹھے ہوئے اپنے شوہر کے پاس جانا تھا۔۔۔۔

چہرے پر مسکراہٹ لیے ہوئے وہ ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے آگے کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ ویسے ویسے انار بلائے جا رہے تھے۔۔۔ اس پر پھولوں کی برسات کی جا رہی تھی۔۔۔

وہ سامنے بیٹھے ہوئے زریر کو دیکھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائی۔۔۔؟جو اس کی طرف دیکھتا ہوا مسکرانے میں مصروف تھا، اور اس کو آتا ہوا دیکھ اپنی نشست سے کھڑا کو چکا تھا تا کہ وہ اس کا ہاتھ تھام سکے۔۔۔۔!!!

کچھ قدم مزید چلتے ہوئے وہ اس کے بہت قریب پہنچ چکی تھی۔۔۔۔!! وہ جیسے ہی اس نے قریب پہنچی تو زریر نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ کو تھامتے نے کے لیے اپنا آگے کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔

اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے انوشا نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دیا تھا۔۔۔۔ جس پر وہاں پر موجود شخص نے زبردست ہوٹنگ کی تھی۔۔۔۔ ان دونوں کو اپنے اوپر گلاب کی پتیاں گرتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔

اب لائٹ کا فوکس ان کی مسکراہٹ، صرف وہی دونوں تھے۔۔۔۔!!! جیسے ہی انوشا اس کا ہاتھ تھامے ہوئے اوپر کی طرف بڑھی تو ہال کی ساری لائٹس آن کی تھی۔۔۔۔!!!!

” ما شاءاللہ اللہ میرے بچوں کو کسی کی بھی نظر نا لگائے اللہ کرے یہ دونوں ہمیشہ اسی طرح خوش و آباد رہیں۔۔۔۔!!!! آمین۔۔۔”

سامنے کھڑے ہوئے سفید رنگ کے کڑتے میں ملبوس دادا جان نے انھیں مسکراتے ہوئے دل سے دعا دی تو وہ دونوں بھی ان کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائے تھے۔۔۔۔!!!

” ویسے بہت خوبصورت لگ رہی ہو دلہن۔۔۔۔!! دیکھ لو میرے ساتھ رہ رہ کر خوبصورت اور عقل مند بھی ہو گئی ہو تم۔۔۔۔!!! “

زریر نے سب پر نظریں گھماتے ہوئے آہستگی سے انوشا کے کانوں میں سرگوشی کی تھی۔۔۔ اس نے اسے جتایا کہ وہ عقل مند اور خوبصورت صرف اس کے ساتھ رہ رہ کر لگنے لگی ہے۔۔۔۔!! انوشا نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔

” ایسا ویسی کوئی بھی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔!!! میں ہمیشہ سے ہی عقل مند بھی ہوں اور خوبصورت بھی ہوں۔۔۔ سمجھے مسٹر “

اس نے اسے دیکھتے ہوئے طنزیہ طور پر مسکراتے ہوئے فخریہ لہجے میں بتایا کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے کہ وہ اس کے ساتھ رہ کر عقل مند اور خوبصورت نہیں ہوئی بلکہ وہ پیدا ہی ایسی ہوئی تھی۔۔۔ جس پر کایان نے اپنے سر کو مسکراتے ہوئے اثبات میں ہلایا۔۔۔

” لیکن فلحال تو خوبصورت لگنے سے زیادہ میں اس جوڑے کی گرمی میں جل رہی ہوں۔۔۔ آف اس قدر گرم جوڑا ہے میں نے آج تک اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں پہنا اور اوپر سے چودہ کے جی ( کلو ) کا تو صرف زیور ہی پہنا دیا ہے “

انوشا لندن سے رہ کر آئی اور اسے ایسے ڈریسز پہنے کی بالکل بھی عادت نہیں تھی۔۔۔۔ پر جب اس کی شادی پاکستان میں ہو رہی تھی تو اسے سجنا بھی اسی طریقے سے تھا۔۔۔

پہلے تو وہ مان گئی تھی اس جوڑے کو پہننے کے لیے لیکن اب اسے پچھتاوا ہو رہا تھا کہ اس نے منع ہی کیوں نہیں کیا۔۔۔ ؟ لیکن اب تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا تھا !

” تم اب ہی اتنا ڈر رہی ہو تو بعد میں کیا ہو گا تمھارا ؟؟ “

وہ ذو معنی مسکراہٹ لیے ہوئے ہلکا سا اس کا چہرہ سرخ کر گیا تھا۔۔۔۔ اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے انوشا سر سے پیر تک شرم۔سے نڈھال ہوئی تھی۔۔۔ اس نے غصے سے زریر کی طرف دیکھا۔۔۔ جب ہی ان کے دادا جان ان کے پاس آ کر بیٹھ گئے اور وہ دونوں ان سے باتیں کرنے میں مصروف ہو گئے۔۔۔

مختلف رسمیں ادا کرنے کے بعد وہ رخصت ہو کر اپنے شوہر کمرے میں پہنچی تھی۔۔۔۔!! کچھ لڑکیاں اسے کمرے میں چھوڑتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔

انوشا نے کمرے میں پھیلے ہوئے خوبصورت پھولوں کو دیکھا۔۔۔۔!!!! جن کی خوبصورت مہک اسے مہکا رہی تھی۔۔۔۔!!!! لیکن اس وقت سے گرمی سے نڈھال ہوئے جا رہی تھی۔۔۔۔

وہ باقی دلہنوں کی طرح بیڈ پر لہنگا پھیلا کر بیٹھ کر اپنے شوہر کا انتظار نہیں کر رہی تھی۔۔۔!! بلکہ شیشے کے سامنے جاتے ہوئے اپنا زیور اتارنے لگی تھی۔۔۔۔۔!!!

کچھ دیر بعد زریر کمرے میں داخل ہوا تو وہ اپنا زیور مکمل طور پر اتار چکی تھی۔۔۔۔۔!!! زریر نے حیرانگی سے دیکھا وہ ایکسپیکٹ کر رہا تھا کہ وہ گھونگھٹ نکال کر بیڈ پر بیٹھ پر اس کا انتظار کرے گی لیکن یہاں پر تو معاملہ ہی الٹا پر گیا تھا۔۔۔!!!

” ارے بیوی۔۔۔!! تم نے تو اپنے زیور اتار دیے مجھے لگا تھا کہ تم بیڈ پر بیٹھ کر میرا انتظار کرو گی۔۔۔! میں تمھیں منھ دیکھائی کا گفٹ دوں گا۔۔۔ لیکن تم نے تو میرے ارمانوں پر پانی ہی پھیر دیا۔۔۔۔

خیر کوئی بات نہیں میں یوں ہی منھ دیکھائی کا گفٹ دے دوں گا تمھیں نو پروبلم “

وہ کالے رنگ کے کڑتے میں ملبوس منھ بنا کر بولا تو انوشا نے اسے غصے سے دیکھا!!! جس پر اس نے معصومیت بھرے لہجے میں کہا اور سائیڈ کے دراڑ میں سے خوبصورت ڈائمنڈ کا نکلس نکالا تھا۔۔۔!! اور اسے آگے بڑھتے ہوئے انوشا کے گلے میں پہنا دیا۔۔۔!

” تھینک یو سو مچ میں چینج کرنے جا رہی ہوں “

وہ مسکرا کر کہتی اٹھی۔۔۔

” ارے ابھی کہاں منھ دکھائی والا گفٹ کہاں پورا ہوا بیگم۔۔۔!! ابھی تو میں نے ایک اور گفت دینا ہے تمھیں۔۔۔!!! “

وہ جیسے ہی اٹھی تھی تو اسی وقت زریر نے اس کا بازو تھامتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا،اور مسکرا کر کہتے ہوئے اس کے بالوں میں اپنا منھ چھپایا۔۔۔۔ اور اس کی گردن پر اپنی شدتوں کے نشانات چھوڑنے لگا!! یہ عمل اس قدر جلد بازی میں ہوا تھا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔۔! کچھ لمحات کے بعد وہ ہلکا سا پیچھے ہوتا ہوا مسکرایا۔۔۔

” مجھے نہیں لگتا ہے کہ یہ میرے لیے کافی ہو گا “

زریر نے خمار آلود لہجے میں کہتے ہوئے اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔۔ وہ اس کی شدتوں میں گھلتی ہوئی اپنا آپ اسے سونپ گئی۔۔۔۔!!! باہر ڈھلتی ہوئی گہری رات دو لوگوں کا ملاپ کروا گئی تھی۔۔۔!!!

” آتش میری بات سنیں !! “

رات سے دن ہونے کو آیا تھا۔۔۔۔ وہ ستم گر کمرے میں واپس نہیں آیا۔۔۔ فاریہ نا جانے کب سے اس کا انتظار کرتی رہی۔۔۔ رات کو ٹھنڈ بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ کیونکہ فروری کی رات اور طوفانی بارش وہ بستر میں لیٹی ہی کہ اس کی آنکھ لگ گئی صبح جب آتش کمرے میں آیا تو وہ جاگ چکی تھی۔۔۔ وہ فوراً آتش کی طرف بڑھی۔۔۔ لیکن آتش نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔

” فاریہ جی مجھے کمپنی جانا ہے دیر جو رہی ہے۔۔۔۔ بعد میں بات کریں گے!!! “

اس نے ایک نظر اسے دیکھا تک نہیں۔۔۔۔ اگر آتش کی طرف سے سوچا جائے تو دھوکا ملنے پر اس کا ضبط تھا جو یوں سکون سے بیٹھا تھا ورنہ اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو فاریہ کو گھر سے نکال چکا ہوتا!!!!!!

اس کے لہجے میں ابھی بھی فاریہ کے لیے عزت تھی۔۔۔ احترام تھا لیکن اب کی مرتبہ سرد مہری اس کا سارے دے رہی تھی۔۔۔۔ اس کے لہجے میں کوئی انتہا درجے کی سرد مہری تھی۔۔۔۔ اس محبوب نے تو ایک نظر اٹھا کر دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔

فاریہ تو صرف اس کے انداز کو ہی دیکھ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔ اسے غصہ آ رہا تھا کنول بیگم پر جن کی وجہ یہ سب کچھ ہو رہا تھا۔۔۔۔

” چ چ چ !!! بہت افسوس ہوا یہ دیکھ کر بہو رانی کہ دلہے راجا نے تو تمھیں منھ بھی نہیں لگایا۔۔۔ تم نے جو باتیں کی ہیں نا بہت جلد چھوڑ دے گا وہ تمھیں کچھ دنوں کی مہمان ہوں تم یہاں!! یاد رکھنا۔۔۔۔۔!! بڑی چلی تھی تم کنول بیگم سے پنگا لینے ہمم “

جیسے ہی آتش باہر کی طرف بڑھا تو اس کے رویے کو دیکھتے فاریہ کی آنکھوں میں آنسو بہے تھے۔۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کر لی۔۔۔ لیکن اگلے ہی اس کے کانوں میں کنول بیگم کی طنزیہ آواز سنائی دی۔۔۔ اس نے فوراً آنکھیں کھولیں اور غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ کنول بیگم نے ایک ایک لفظ، ایک ایک حرف چبا چبا کر کہا تھا اسے!!! فاریہ کی آنکھوں میں غصہ اترا۔۔

” اس کی فکر مت کریں آپ بہت جلد آتش کے سامنے ساری حقیقت خود با خود کھل جائے گی۔۔۔۔ “

فاریہ نے پر امید لہجے میں کہا تو انھوں نے طنزیاتی قہقہہ لگایا!!!

” اب کیسے بتاؤ گی ؟ کیسے یقین دلاؤ گی اپنے پیا کو ؟ کہ اس کی خالہ نے ہی اس کی سگے ماں باپ کو مروایا تھا۔۔۔ بلکہ نہیں۔۔۔۔۔ اب تم اتنا کچھ جان ہی گئی ہو تو یہ بھی جان لو کہ میں آتش کی سگی نہیں سوتیلی خالہ ہوں۔۔۔۔اس کی ماں کی سوتیلی بہن جس نے اپنی سوتیلی بہین اور اس کے شوہر کا قتل کروا دیا اور ساتھ ہی ساتھ تمھارے ماں باپ کا بھی۔۔۔۔”

وہ اپنی ہی دھن میں بولی جا رہی تھی اس بات سے بے خبر کو کر کہ آتش جو فایل لینے کے واپس کمرے کی طرف آیا تھا ان کی بات سنتا ہوا وہی رکا اور اب وہ کنول بیگم کی ساری باتیں سن چکا تھا۔۔۔ فاریہ کی بے گناہی ثابت ہو گئی تھی!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *