Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 24)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 24)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” کہاں جائیں گی آپ فاریہ جی ؟؟ بتائیں مجھے “
فاریہ غصے میں کمرے میں آ گئی تھی۔۔۔۔ اور کمرے میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے اپنا سامان پیک کرنا شروع کیا تھا اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے اب ؟ اسے آتش سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔!! جب ہی آتش کمرے میں پہنچتا ہوا اس کے ارادے بھانپتا ہوا اس سے سوالات کرنے لگا۔۔۔
” میں جہاں بھی جاؤ وہ میری مرضی ہے۔۔۔۔!! خبردار جو اب تم نے میرا پیچھا کرنے کی کوشش بھی کی تو !!! “
وہ اس پر چلائی تھی۔۔۔۔!! غصہ کی شدت کی وجہ سے فاریہ کا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔۔۔۔ آتش نے اس کے رویے کو حیرانگی سے دیکھا۔۔۔۔”
” ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا ہے۔۔۔۔!! جہاں آپ ہونگی وہی میں ہوں گا۔۔۔۔ کیونکہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔”
آتش نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر آج فاریہ کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔۔۔۔!
” محبت !!! محبت کرتے ہوں نا تم مجھ سے تو میری ہر بات بھی مانو گے۔۔۔۔!!! ہمم اگر تم مجھ سے اتنی ہی محبت کرتے ہوں نا تو تم مجھ سے دور چلے جاؤ اور کبھی بھی میری زندگی میں واپس مت آنا “
اس کے محبت کا امتحان لے رہی تھی وہ لڑکی۔۔۔۔۔!!! اس کی بات سنتے ہی آتش ایک جگہ منجمند ہو گیا تھا۔۔۔۔
” آپ میری محبت کا امتحان لے رہی ہیں ؟؟؟ “
آتش نے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائی تھی اور پھر اس سے پوچھا کہ کیا وہ اس کی محبت کا امتحان لینے کا ارادہ رکھتی ہے ؟
” بالکل !!! امتحان لینا چاہتی ہوں میں “
فاریہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔۔۔
” لیکن معزرت کے ساتھ میں اس امتحان میں فیل ہو جاؤ گا۔۔۔۔!!!!!!! کیونکہ اب آپ اور میں صرف موت کی صورت میں ہی ایک دوسرے سے دور ہو سکتے ہیں۔۔۔۔ اس کے سوا ہمیں کوئی بھی دنیاوی طاقت الگ نہیں کر سکتی ہے “
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب نہیں دیا گیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ اس کی بات سے انکار کر رہا تھا۔۔۔!! فاریہ جسے امید تھی کہ وہ اس کی بات مان لے گا،،، لیکن اب اس کا جواب سن کر وہ دنک رہ گئی تھی۔۔۔۔
” زبردستی کوئی آپ کا اسیر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔!!! محبوب کے دل میں اترنے کے لیے لاکھ جتن کرنے پڑتے ہیں۔۔۔۔۔ اتنی ہی آسانی سے محبوب آپ کا نہیں ہو جاتا “
یہ چند الفاظ فاریہ نے بڑی ہی سنجیدگی سے کہے تھے۔۔۔۔۔ اس نے کہے ہوئے یہ الفاظ آتش کاظمی کو سوچنے پر مجبور کر گئے تھے۔۔۔۔ جب ہی فاریہ اپنا سامان لیے ہوئے اپنے کمرے سے نکلی تھی۔۔۔۔” اور آتش اس کے پیچھے بڑھا تھا۔۔۔۔
فاریہ کمرے سے باہر نکل کر گھر کے داخلی دروازے پر پہنچی ہی کہ سامنے ہی بہزاد کھڑا تھا۔۔۔۔۔!!! جو اسے ہوس بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
” کہاں جا رہی ہو ؟؟؟ “
بہزاد کو اگنور کرتی ہوئی وہ دروازے کی طرف بڑھی تھی ہی کہ جب ہی وہ دراز قد کا شخص اس کے راستے میں آ گیا۔۔۔۔ اور اس کا راستہ روکتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔۔!!!
” یہاں سے جا رہی ہوں میں۔۔۔۔”
وہ نظریں جھکائے مدھم سے ناراض لہجے میں بولی کہ وہ یہاں سے جا رہی ہے بہزاد اس بات سے بے خبر تھا کہ آتش بھی گھر میں ہی موجود ہے۔۔۔۔
” ایسے کیسے جا رہی ہیں ؟؟؟ “
اس نے مدھم سے گھٹیا لہجے میں کہتے ہوئے اپنے سامنے سے گزرتی ہوئی فاریہ کا ہاتھ پکڑ اس روکنا چاہا تھا۔۔۔۔ اس کا یہ عمل فاریہ کو طیش دلا گیا تھا۔۔۔۔”
” چٹاخ۔۔۔۔!!! “
فاریہ نے غصے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑواتے ہوئے ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا تھا۔۔۔۔ بہزاد نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی لال انگارہ سرخ نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔!!!
” لڑکی تمھاری اتنی ہمت کہ تم مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ ؟؟ “
بہزاد نے اپنی سرد ہوتی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے غصے سے کہا اور پھر اس پر ہاتھ اٹھانے کے لیے اپنا ہاتھ ہوا میں لہرایا۔۔۔۔۔ فاریہ نے سختی سے آنکھیں میچ کی تھی۔۔۔۔،!!! لیکن وہ ہاتھ کسی نے ہوا میں ہی روک دیا تھا۔۔۔۔ بہزاد نے دیکھا تو وہ کوئی نہیں بلکہ آتش ہی تھا۔۔۔۔! جس نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا آتش کو دیکھتے ہی فاریہ کی جان میں بھی جیسے جان آئی تھی۔۔۔۔”
” تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی فاریہ جی کو ہاتھ لگانے کی ؟؟؟ “
آتش اس وقت اس لڑکے کے ساتھ اپنے سارے رشتے تعلق بھول چکا تھا۔۔۔۔!! اسے یاد تھی تو صرف ایک بات کہ اس گھٹیا شخص نے اس کی فاریہ جی کو چھوا تھا۔۔۔۔ آتش کا جنوبی لہجہ و انداز دیکھتے ہوئے فاریہ سمیت بہزاد بھی حیران رہ گیا تھا۔۔۔۔
” آتش تم غلط سمجھ رہے ہو !! “
آتش کی آنکھوں میں غصے کی لہر کو دیکھتے ہوئے بہزاد نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہا تو آتش نے اس کا کالر پکڑتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔۔”
” کیا واقع آپ نے کچھ نہیں کیا ؟؟؟؟ “
اس کے کالر کو پکڑتے ہوئے آتش نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔ اس کے غصے کے عالم کو دیکھ کر فاریہ کے دل میں سکون سا پیدا ہوا کہ وہ اس کی زندگی میں ہے کہ خدا کا شکر ہے،،، اگر وہ آج نا ہوتا تو نا جانے بہزاد اس کے ساتھ کیا کر دیتا ؟؟
” ہاں میں نے لگایا اس لڑکی کو ہاتھ!!! کیا کر لو گے تم؟؟؟ بولو ؟؟ آخر لگتی کیا ہے یہ لڑکی تمھاری ؟ “
ایک ہی جھٹکے میں بہزاد نے اپنا کالر آتش کے ہاتھوں سے چھڑوایا اور بلند آواز میں اس سے کچھ سوالات پوچھے تھے۔۔۔۔
” یہ لڑکی میری محبت ہے !!!! “
آتش نے بھی اس کے والا ہی لہجہ اپناتے ہوئے فاریہ کو اپنی محبت قرار دیا تھا۔۔۔۔۔!!! جس پر فاریہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔
” یہ تمھاری جو بھی لگتی ہو!!!! پر اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی سنگین غلطی کی ہے اور اسے اس غلطی کی سزا مل کر رہے گی !!! اور جو بہزاد ہر ہاتھ اٹھاتا ہے نا اس کا ٹھکانہ صرف اور صرف موت ہوتی ہے۔۔۔۔!!! “
بہزاد نے اپنی پینٹ کی پچھلی طرف سے بندوق نکالتے ہوئے فاریہ پر تانی لی تھی۔۔۔۔ جسے دیکھ کر فاریہ کی سانس اٹک گئی تھی،،، جبکہ آتش نے غصے سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔
” بہزاد نہیں “
آتش اس کی حرکت کو دیکھتے ہوئے غصے سے اس پر چیخا تھا کہ وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔ لیکن بہزاد نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے گولی چلا دی تھی۔۔۔۔۔”
گولی چلنے کی آواز سنتے ہی آتش فاریہ کے سامنے آ گیا تھا اور وہ گولی جو بہزاد نے مظاہر فاریہ پر چلائی تھی وہ آتش کاظمی کے بازو میں پیوست ہوئی تھی۔۔۔۔
اس کے بازو بہتا ہوا خون فاریہ کے ہاتھوں پر گرا تھا۔۔۔۔ جبکہ آتش زمین بوس ایک لمحے میں ہی زمین بوس ہوا۔۔۔
” آتش “
فاریہ نے تڑپ کر اسے پکارہ تھا۔۔۔۔۔!! جبکہ بہزاد وہی کھڑا حیرانگی سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا غصے میں اس نے یہ کیا کر دیا تھا ؟؟ بندوق بھی اس کے ہاتھوں سے گر پڑی تھی۔۔۔۔۔!!
فاریہ نے آتش کے بہتے خون کو دیکھا اور اسے کھڑا ہونے کی ہمت دی۔۔۔۔۔!! اس کی آنکھوں سے منظر برداشت نہیں ہوا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔۔۔۔۔!!!! اس سے آتش کی یہ حالت برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔!!! اس نے آتش کا ایک ہاتھ تھاما اور ایک ہاتھ اس کے کندھے کے گرد ڈالتے ہوئے کھڑا کیا۔۔۔۔ آتش اس وقت شدید درد میں مبتلا تھا۔۔۔۔ اس کا خون بہنا رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔!!!
اس نے آتش کو کھڑا کرتے ہوئے صوفے کر بیٹھایا اور اس کے زخم پر کوئی کپڑا باندھا تا کہ اس کا مزید خون نا بہے۔۔۔۔!!! اور پھر ڈاکٹر کو فون کیا۔۔۔۔ جبکہ بہزاد وہاں سے فرار ہو چکا تھا لیکن بھاگ کر جاتا کہاں ؟؟؟ لوٹنا تو اسے یہی تھا نا!!!
ازا سارے کام نپٹا کر کمرے میں آئی تو اچانک حویلی کی لائٹ بند ہو گئی تھی۔۔۔۔۔!!! اس نے سرد آہ بھری اور بیڈ کی ایک طرف لیٹ گئی۔۔۔۔!! آج کایان کو کمپنی اور فیکٹری میں کچھ کام تھا تو وہ رات کو دیر سے آنے والا تھا۔۔۔۔!!
لیکن جیسے ہی کچھ لمحے گزرے تو اسے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔۔!!! وہ فوراً بیڈ پر اٹھ کر بیٹھ گئی تو واقع ہی اسے اندھیرے میں کوئی کالے کپڑوں میں ملبوس شخص دیکھائی دیا۔۔۔۔”
” کون ہے ؟؟؟ “
اس نے خوف سے بھر پور لہجے میں سوال کیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہاں پر کھڑا شخص کایان تو نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔ کیونکہ یہ اس کی آہٹ تھی ہی نہیں۔۔۔۔ جب ازا کو کوئی بھی جواب موصول نا ہوا تھا وہ فوراً بیڈ سے اتری تھی،،،، اسے دیکھ وہ شخص اس کی طرف لپکا تھا۔۔۔!!
ازا کافی حد تک ڈر گئی تھی۔۔۔۔!! جیسے ہی وہ شخص اس کی طرف بڑھا اس نے فوراً اسے پیچھے کی طرف دھکیلا اور خود کمرے سے باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔ جبکہ وہ شخص وہاں پر موجود جس کے ذریعے وہ کمرے میں آیا تھا وہی سے وہ کمرے سے باہر کی طرف بھاگ گیا تھا۔۔۔۔۔”
ازا کمرے سے باہر بھاگی تھی کمرے سے باہر بھی ساری کی ساری حویلی اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ اندھا دھن بھاگ رہی تھی جب ہی کسی شخص سے وہ جا ٹکرائی۔۔۔۔!!!!
” ک۔۔۔یان !! وہ کمرے میں ہے کوئی !!!!! “
جس شخص سے وہ ٹکرائی اسے یہی لگا تھا کہ وہ کایان ہے،،، اسی وجہ سے وہ خوف کے مارے بوکھلائی ہوئی اسے بتانے لگی کہ کمرے میں کوئی ہے۔۔۔۔
” ازا !!! “
وہ کمرے کی طرف مڑ کر اسے بتا ہی رہی تھی کہ لائٹ آن ہوئی اور ساری حویلی میں روشنی چھا گئی تھی۔۔۔۔!!! جب ہی اسے اپنے سے کچھ فاصلے کھڑے شخص کی آواز سنائی دی تھی جو کایان کی آواز تھی وہ بخوبی پہنچان گئی تھی اس آواز کو۔۔۔ لیکن وہ جیسے ہی مڑی تو دیکھا کہ کایان تو اس سے کافی دور تھا۔۔۔۔!!!! تو اس کے سامنے جون کھڑا تھا ؟؟؟
اس نے جیسے ہی اپنے سامنے کھڑے شخص جو دیکھا تو وہ فوراً پیچھے کی طرف بڑھی ؟
” ک۔۔۔ون ہو تم !!! “
وہ ناجانے کون تھا ؟؟ آج سے پہلے اس نے اسے کبھی بھی دیکھا نہیں تھا۔۔۔۔!!! اور نا ہی وہ اسے پہنچانتی تھی۔۔۔۔!!!
” یہی سوال تو ہم تمھیں پوچھنے آئے ہیں !!! کہ کون ہے یہ لڑکا ؟؟”
شہناز بیگم کی طنزیہ آواز جیسے ہی ازا کے کانوں میں پڑی تو اس نے مڑ کر شہناز بیگم کو دیکھا اور پھر ایک دفعہ کایان کی طرف جس کی آنکھوں میں حیرانگی تھی۔۔۔
” مجھے کیا پتہ یہ لڑکا کون ہے ؟؟ میں نہیں جانتی اسے مجھے لگا کہ میرے کمرے میں کوئی ہے تو میں باہر کی طرف بھاگی اور اس سے ٹکرا گئی۔۔۔۔ میں اسے نہیں جانتی !!! “
ازا نے ایک ہی سانس میں وہاں پر موجود کایان،شہناز بیگم، اور صائمہ کو ساری حقیقت بتائی تھی۔۔۔۔۔!!!
” ازا کیوں جھوٹ بول رہی ہو ؟؟؟؟ بتا دو سب کو سچ !! “
اس لڑکے نے نہایت معصوم شکل بناتے ہوئے ازا سے کہا تو ازا نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔ جبکہ وہ لڑکا کایان کی طرف بڑھا۔۔۔۔ شہناز بیگم طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔۔
” کایان میں جانتا ہوں تمھیں سننے میں عجیب لگے گا پر یہ سب سچ ہے کہ میں ازا سے ہی ملنے آیا تھا۔۔۔۔!!! اور وہ مجھے پسند “
” جھوٹ بول رہا ہے یہ!! جھوٹ ہے یہ سب کایان میں تو اس لڑکے کو جانتی تک نہیں ہوں۔۔۔۔!! “
وہ لڑکا بول ہی رہا تھا کہ جب ہی ازا جس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔!!!
” جھوٹ ؟؟ کیا تمھیں لگتا ہے کایان یہ لڑکا جھوٹ بول رہا ہو گا ؟؟؟ یا پھر یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔۔ مجھے شروع سے پتہ تھا کہ یہ لڑکی بدچلن “
” بس !!!! “
شہناز بیگم نے ازا بات سن کر طنزیہ طور پر کہا اور ہر حد پار کرتے ہوئے وہ بولتی گئی جب کایان کی برداشت کی حد ختم ہو گئی تو اس کی گرجتی ہوئی شہناز بیگم کے کانوں میں پڑی اور انھیں چپ کروا گئی۔۔۔۔!! یہ سب کچھ شہناز بیگم نے کروایا تھا۔۔۔۔ تا کہ وہ کایان کو ازا کی طرف سے بد گمان کر سکیں۔۔۔۔ لیکن انھیں معلوم نہیں تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔۔۔۔!! اب تو صائمہ بھی خاموش کھڑی تھی کیونکہ اتنا تو وہ بھی جانتی تھی ازا ایسی حرکت کبھی بھی نہیں کر سکتی ہے۔۔۔۔!!!
” کایان!!! آنٹی سچ کہ”
” چٹاخ “
اس لڑکے نے شہناز بیگم کو خاموش ہوتا دیکھ کر کچھ کہنا چاہا جبکہ اگلے ہی لمحے کایان کا مردانہ تھپڑ اس کے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔ جو وہاں پر موجود سب لوگوں کو حیران کر گیا تھا۔۔۔۔
” خبردار جو ازا کا نام بھی اپنی گندی زبان سے لیا تو ورنہ جان نکال دوں گا تمھاری میں “
کایان نے غصے سے بھرپور لہجے میں اس سے کہا تو سامنے کھڑی ازا نے خدا کا شکر ادا کیا کہ کایان کو اس پر یقین ہے۔۔۔۔ وہ اس کے ساتھ ہے ورنہ وہ بہت ڈر گئی تھی کہ ناجانے آج کیا ہو جائے گا ؟
” اور تائی جان آپ بھی ازا کے متعلق یہ فضول باتیں کرنے سے گریز کریں۔۔۔۔ وہ میری بیوی ہے۔۔۔۔ آپ کا جو دل کرتا ہے آپ وہ بول دیتی ہیں۔۔۔۔۔!!!
اور رہی بات اس لڑکے کی تو مجھے اپنی بیوی پر بھروسہ ہے۔۔۔۔ ازا پاک دامن ہے۔۔۔۔ وہ ایسی حرکت کرنے تو دور ایسا خیال کبھی اپنے ذہن میں لا بھی نہیں سکتی ہے۔۔۔۔۔!!!
اس کے کردار کی گواہی دینے کے لیے میں کافی ہوں۔۔۔۔۔!! آپ میں سے کسی بھی شخص سے اس کے کردار کی گواہی نہیں مانگی گئی۔۔۔۔!! اور جس نے یہ حرکت کی اور کیوں کی وہ سب میں بہت ہی اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔۔۔۔ اور مجھے امید ہے کہ وہ خود ہی سمجھ گیا ہو گا!!!
ازا نے آج تک کبھی بھی مجھ سے جھوٹ نہیں بولا۔۔۔۔!! اور جب اس نے کہا ہے کہ کمرے میں کوئی ہو گا تو اس کا مطلب صاف تھا کہ کمرے میں واقع ہی کوئی شخص تھا جو اس لڑکے کا ساتھی تھا اور اب وہ نیچے گارڈ کی گرفت میں ہے اور یہ دونوں آب پولیس اسٹیشن جائے گے۔۔۔۔”
کایان کے الفاظ ازا کے چہرے پر مسکراہٹ پیدا کر رہے تھے۔۔۔۔۔ اس کے الفاظ سن کر ازا جہاں ہنس رہی تھی وہی آنسو بھی اس کے چہرے کے زینت بنے ہوئے تھے اور وہ آنسو خوشی کے تھے۔۔۔۔ صائمہ بھی اس کی باتیں سن کر مسکرائی تھی۔۔۔۔
جبکہ اس لڑکے نے غصے و حیرانگی سے کایان کو دیکھا جو اتنا سب کچھ سننے کے بعد بھی ازا پر بھروسہ کر رہا تھا۔۔۔۔! کایان کی باتیں سن کر شہناز بیگم بھی گھبرا گئی تھی کیونکہ اس نے دھکے چھپے لفظوں میں بتا دیا تھا کہ جس کسی نے یہ کام کیا ہے وہ جانتا ہے اسے!!! اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ جانتا تھا کہ یہ کام کسی اور کا نہیں بلکہ شہناز بیگم کا ہی ہے،،،
کایان آہستہ آہستہ قدم لیتے ہوئے ازا کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔!!! جس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔ وہ اس کے قریب جا کر کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔!!!!
” مجھے آپ پر پورا یقین ہے۔۔۔!!! میں آپ پر کبھی بھی شق نہیں کروں گا۔۔۔۔”
اس نے اپنی انگلیوں کے پوروں سے ازا کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو صاف کیے تھے۔۔۔۔۔!!! ازا نے نظریں جھکائی تھی۔۔۔۔ دل بہت خوش تھا اس کا مگر اسے ابھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے ؟؟ اگلے ہی لمحے کایان اسے خود میں سمیٹ گیا تھا۔۔۔۔
صائمہ انھیں دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی تھی جبکہ شہناز بیگم نے غصے سے انھیں دیکھا تھا۔۔۔۔!!!
” ( اتنی آسانی سے تو یہ کھیل ختم نہیں ہو گا شہناز بیگم!!! آپ کی وجہ سے میں اور میرا دوست جیل کیوں جائے ؟ اگر ہم جیل جائے گے تو چین سے تو میں آپ کو بھی نہیں رہنے دوں گا۔۔۔۔!! ) “
اس لڑکے نے اپنے دل میں ہی غصے سے شہناز بیگم کو دیکھا اور پھر اگلے ہی لمحے اس کی نظر پاس پڑی پھلوں کی ٹوکری میں چھری پر گئی اور پھر صائمہ نے اس نے بغیر کسی کا دھیان اپنے طرف کروائے وہ بھری اٹھائی اور صائمہ جو اس کے قریب ہی کھڑی اسے پکڑتے ہوئے اس کی گردن پر چھری رکھی۔۔۔۔
” صائمہ !! “
بیٹی کو یوں دیکھتے ہوئے شہناز بیگم تڑپ گئی تھی۔۔۔۔۔!!! ان کی تڑپتی ہوئی آواز سن کر کایان اور ازا نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو حیران رہ گئے۔۔۔۔!! اس لڑکے نے صائمہ کے گلے پر چھُری رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔!! جسے دیکھ کایان حیران رہ گیا جبکہ ازا ڈر سی گئی تھی۔۔۔۔
