Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 10)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 
” اسما آج شام تمھیں دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آ رہے ہیں۔۔۔!! “

اسما یونی سے واپس آئی اور تھکن ہو جانے کی وجہ سے وہ سیدھا کمرے میں آگئی تھی۔۔۔۔۔ جب ہی کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے شہناز بیگم اندر داخل ہوئی اور بغیر کسی بھی سوال و جواب کے اس سے کہا تو اسما کی تھکن ہوا ہو گئی اور وہ شاکڈ رہ گئی۔۔۔

” واٹ ؟ “

حویلی میں اتنا سب کچھ چل رہا تھا پہلے ازا کا آنا ، پھر ارحم کی وہ حرکت ، ربعیہ اور رہان کا رشتہ۔۔۔۔!!! ان سب میں وہ اس بات کو بھول گئی تھی کہ اس کی والدہ اس کے رشتے کی بھی بات کر رہی ہیں۔۔۔!!!!” اب ان کی بات سن کر اسے جیسے جھٹکا ہی لگ گیا تھا۔۔

” اس میں حیران ہونی والی کیا بات ہے ؟؟ میں نے تمھیں پہلے ہی بتا دیا تھا نا ؟ کہ میں اب تمھاری شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔!!! تو آج شام ان لوگوں کو میں نے بلا لیا ہے “

اس کی حیرانگی کو دیکھ کر شہناز بیگم نے اس سے کہا کہ اس میں حیران ہونے والی تو کوئی بات نہیں ،، وہ اسے پہلے ہی آگاہ کر چکی تھی کہ وہ اس کی شادی کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔

” اب مجھے کوئی بہانہ نہیں چاہئیے ہے تمھارا۔۔۔۔!! رات کو اچھے طریقے سے تیار ہو جانا ورنہ مجھ سے برا کوئی بھی نہیں ہو گا۔۔۔۔ کوئی اچھا سا خوبصورت سا دریس نکال لو اور تمھارے بابا بھی یہی چاہتے ہیں کہ جلد از جلد تمھارے فرض سے سبکدوش ہو جائیں وہ”

شہناز نے جیسے ہی اپنی پہلی بات مکمل کی تو اسما کو کچھ بھی کہے سنے کا موقع دیے بغیر وہ اپنی دوسری بات کہنے لگی اور بات مکمل کرتے ہی کمرے سے باہر کی طرف قدم بڑھا گئی تھی،،،، جبکہ اسما نے حیرانگی سے اپنی ماں کی پشت کو دیکھا۔۔۔۔

اس کے خواب ، پڑھائی ، سب کچھ ختم ہوتا دکھائی دے رہا تھا اسے۔۔۔!!!!

ازا ربعیہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ جبکہ کایان کمرے میں موجود تھا۔۔۔۔!! کایان کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوا کسی گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔۔۔۔۔۔

” کیسے آ سکتی ہو تم واپس ؟ تم تو ہمیشہ کے لیے یہاں سے چلی گئی تھی تو کیوں آئی ہو واپس ؟؟ کیا ایک دفعہ میرے زندگی برباد کر کے تمھیں سکون نہیں ملا ؟ جو اب پھر سے میری زندگی میں واپس آگئی ہو۔۔۔۔ کیوں آئی تم واپس شنائل ؟؟؟؟ کیوں ؟؟ “

کایان کچھ سوچتا ہوا بیڈ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔!!! اس کے ذہن میں ماضی کی تلخ یادیں گھوم رہی تھی۔۔۔۔۔!!

آج سے ٹھیک پانچ سال پہلے کایان ایک سال کے لیے پاکستان آیا تھا۔۔۔۔!! جب اس کے دادا جان نے اس کا رشتہ شنائل جو اس گھر کی بیٹی نہیں تھی اس کے ساتھ طہ کر دیا تھا۔۔۔

شنائل اس حویلی کی بیٹی نہیں تھی۔۔۔۔ بیس سال پہلے اسے کوئی حویلی کے دروازے ہر چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔۔ دادا جان کے کہنے پر اسے حویلی میں رکھا گیا ،، اسے پال پوس کر بڑا کیا گیا۔۔۔۔۔!!!! لیکن اپنا خون اپنا ہی ہوتا ہے!!! شنائل ہمیشہ حویلی کے بچوں سے حسد کرتی رہی بچپن سے ہی اس کی عادت تھی کہ خود غلطی کر کے وہ دوسروں پر ڈال دیتی تھی۔۔۔۔!!!!

اور یہی اس نے اس وقت کیا تھا۔۔۔۔ رشتہ پکا ہونے کے بعد جس دن ان دونوں کی منگنی تھی۔۔۔۔ اس دن شنائل نے اس رشتے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ کایان اس کے قابل نہیں تھا۔۔۔۔!!! وہ اس سے شادی کر کے اپنی زندگی برباد نہیں کر سکتی ہے۔۔۔۔۔ اسے اپنی خواب پورے کرنے ہیں اور حویلی والے یہ چاہتے ہی نہیں کہ وہ اپنے خواب پورے کرے !! وہ جلتے ہیں اس سے !! جبکہ یہ ساری حصوصیات اس میں تھی حویلی والوں کی بجائے۔۔۔۔

شنائل کی یہ تلخ کلامی سن کر سب کو بہت برا لگا اور وہ کایان کے دادا جان جنھوں نے ہمیشہ اسے حویلی کی بیٹیوں سے بڑھ کر چاہا۔۔۔۔ وہ اس کی باتیں سن کر درد سہہ نا سکے اور ہارٹ اٹیک سے اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔۔۔۔ جبکہ شنائل ان کی وفات پر بھی نہیں آئی۔۔۔۔ اسے کوئی دکھ بھی نہیں ہوا کیونکہ وہ تھی ہی احسان فراموش اور آج پانچ سال کے بعد وہ ان کی زندگیوں میں، حویلی میں، واپس آ گئی تھی۔۔۔۔۔!!

” کیوں آئی ہو واپس ؟؟ کیوں ہماری زندگیوں میں تم زہر گھولنے لوٹ آئی ہو ؟؟ تمھاری وجہ سے دادا جان اس دنیا سے چلے گئے۔۔۔۔!!! تمھیں میں یہاں ایک پل بھی برداشت نہیں کروں گا!!! “

ماضی کی تلخ یادوں میں سے نکلتے ہوئے اس نے غصے سے کہا۔۔۔۔ وہ اپنا فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔ لیکن اسے ابھی ربعیہ اور رہان کے نکاح تک صبر کرنا تھا اسے برداشت کرنا تھا۔۔۔

” محبت ؟؟ “

شہناز بیگم شنائل کے کمرے میں آئی اور اس سے سوال کیا کہ کیا وہ کایان سے محبت کرتی ہے ؟ جس پر وہ محبت لفظ طنزیہ کہتے ہوئے طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔

” کونسی محبت ؟ کہاں کی محبت ؟ کیا لگتا ہے آپ کو مجھے اس سے محبت ہے ؟ نہیں اگر محبت ہی ہوتی تو یوں میں منگنی والے دن اسے چھوڑتی ؟ “

اس نے ایک مرتبہ پھر سے طنزیاتی لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ اسے کایان سے محبت نہیں ہے جس پر شہناز بیگم نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔!!!!!!

” اگر محبت نہیں تو اسے حاصل کیوں کرنا چاہتی ہو ؟ “

شہناز بیگم کو یہ سن کر بہت حیرانگی ہوئی تھی کہ شنائل کو کایان سے محبت نہیں ہے!! پر وہ لڑکی تو اس کے لیے جیسے پاگل بنی گھوم رہی تھی ،، اسی وجہ سے انھوں نے اس سے سوال کیا۔۔۔۔!!!

” محبت نہیں ضد ہے وہ میری !!! “

شنائل نے کایان کو اپنی ضد قرار دیتے ہوئے شہناز بیگم کو یہ بتایا کہ کایان اس کی محبت نہیں ہے بلکہ اس کی ضد ہے !! جسے سن کر شہناز بیگم کا سر گھوم گیا۔۔۔ کہ آخر یہ لڑکی چاہتی کیا ہے ؟

” آپ کو کونسا فرق پڑتا ہے کہ کایان میری محبت ہے کہ نہیں !! آپ نے مجھے کایان کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے بلایا ہے،،،، تا کہ وہ ازا سے دور ہو سکے !!! رائٹ !! آپ فکر مت کریں میں یہ کام بخوبی کر لوں گی۔۔۔۔”

شنائل نے شہناز بیگم کی طرف رخ موڑتے ہوئے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا اور اس سے کہا اسے کچھ بھی فرق نہیں پڑتا کہ کایان اس کی محبت ہو یا ضد !! اس نے تو اسے ازا اور کایان کو علیحدہ کرنے کے لیے بلایا ہے۔۔۔۔

” دیکھتے ہیں !! “

شہناز بیگم نے سر کو ہلاتے ہوئے ترچھی نگاہوں سے اس گھمنڈی لڑکی کو دیکھا جس کا گھمنڈ بہت جلد ٹوٹنے والا تھا۔۔۔ !!

” چھوڑو مجھے!! نکالو مجھے یہاں سے باہر۔۔۔۔!! “

انوشا کئی مرتبہ اس بند کمرے کا دروازہ کھڑکا چکی تھی۔۔۔۔ لیکن ہر مرتبہ اسے بس تکلیف کے سوا کچھ بھی نہیں ملا تھا۔۔۔۔!!! اسے لگ رہا تھا کہ اسے بچانے والا شائید یہاں پر کوئی بھی نہیں ہے!!

” نکالو۔۔۔۔۔!! مجھے یہاں س۔۔ے “

وہ تقریباً دو گھنٹوں سے اس کمرے میں بند تھی جہاں پر اسے اندھیرے اور خوف کے سوا کچھ بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا،،، اسے اب خوف آ رہا تھا۔۔۔۔ سانس بھی اکھڑ رہی تھی اس کی۔۔۔۔ اب اس میں بولنے کی بھی مزید ہمت نہیں رہی تھی۔۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بھی بہہ رہے تھے۔۔۔۔!!!

جب ہی اس کمرے کا دروازا کھلا۔۔۔۔ انوشا کو لگا جیسے اس کی قسمت کھل گئی،،، لیکن دروازہ کھلنے سے سامنے جو شخص کھڑا تھا اس کی شکل دیکھ پانا مشکل تھا۔۔۔۔ کیونکہ باہر سے پڑنے والی تیز روشنی سے اس کا سایہ دیکھائی دے رہا وہ دکھائی دے رہا مگر پیچھے سے آنے والی روشنی سے اس کا چہرہ دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔!!

انوشا نے اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے اس شخص کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔۔۔۔ جب ہی سامنے کھڑے شخص نے ہاتھ اوپر کی طرف بڑھاتے ہوئے لائٹ بلب آن کیا۔۔۔۔ اور پورے کمرے میں روشنی چھا گئی۔۔۔۔!! باہر سے آنے والی روشنی اور اندر کی روشنی سے اس شخص کا سایہ ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ اور اس کا چہرہ دیکھتے ہی انوشا دنک رہ گئی۔۔۔۔!!

وہ کوئی اور نہیں بلکہ ” زریر عباس” تھا۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہی انوشا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی،،، اسے جیسے یقین ہی نہیں آیا۔۔۔۔۔!!

” تم ؟؟ تم مجھے یہاں لائے ؟ “

انوشا جو زمین پر بیٹھی ہوئی تھی اس نے کمرے کی لائٹ آن ہوتے ہی نظر دوڑائی تو کمرے کو خالی پایا۔۔۔۔!! لیکن فوراً کھڑے ہوتے ہوئے اس شخص کی طرف بڑھی جو چہرے پر سنجیدگی چڑھائے کھڑا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!

” ہاں میں تمھیں یہاں لایا ہوں !! “

اس کی بات سنتے ہوئے زریر نے یونہی چہرے پر سنجیدگی سجائے ہو کہا۔۔۔۔۔ تو انوشا نے حیرانگی سے اسے دیکھا کہ اسے اپنی بات پر کوئی بھی ندامت نہیں تھی…

” یہ کیسا مزاق ہے ؟ اور تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے یہ مزاق کرنے کی ؟ پیچھے ہٹو مجھے جانا ہے یہاں سے !! “

انوشا نے غصے سے کہا اور اور اسے پیچھے کی طرف کرتے ہوئے وہ کمرے کے دروازے کی جانب بڑھی۔۔۔۔!! لیکن جیسے ہی وہ آگے کی طرف بڑھی لیکن اسی وقت زریر نے اس کا بازو تھامتے ہوئے اسے واپس پیچھے کی طرف دھکیلا۔۔۔۔۔!!!

” مجھے مزاق کرنے کی عادت نہیں ہے !! اور مجھ میں ہمت بھی بہت زیادہ تبھی تو تمھیں یہاں ہر بھی لے آیا بغیر کسی خوف کے !! “

اس کا بازو پکڑتے ہوئے اس نے انوشا کو پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا تو انوشا نے اسے حیرانگی سے دیکھا،،،

” کیوں کر رہے ہو تم یہ سب ؟؟ کیا بگاڑہ ہے میں نے تمھارا ؟ “

وہ غصے سے اس پر چلائی۔۔۔۔!! جس پر وہ مسکرایا وہ مسکراہٹ اس قدر طنزیہ تھی کہ انوشا کو خود بھی اس سے جیسے خوف محسوس ہوا۔۔۔۔!!

” بدلہ !! تم نے میری انسلٹ کی تھی اس کا بدلہ ! “

زریر بغیر کسی بھی بحث کے اصل مدعے پر آیا۔۔۔۔ اس کی شیطانی مسکراہٹ کو دیکھ کر انوشا کے چہرے پر غصے کے تاثرات امڈ آئے۔۔۔!!

” انسلٹ کا بدلہ ؟ میرے ساتھ مزید مزاق مت کرو اور چپ چاپ مجھے جانے دو یہاں سے سمجھے۔۔۔۔۔!!! ورنہ”

” ورنہ کیا ؟ “

انوشا غصے سے کچھ بول ہی رہی تھی جب ہی زریر نے اس کی بات کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اسے یہاں سے جانے نہیں دیتا تو وہ کیا کر کے گی ؟؟

” تم یہاں سے صرف ایک ہی صورت میں جا سکتی ہو!! جب تم مجھ سے ” نکاح ” کر لوں گی۔۔۔۔”

زریر نے اس کی مشکل کو آسان کرتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ وہاں سے صرف اور صرف ایک ہی صورت میں جا سکتی ہے جب وہ اس سے نکاح کر لے گی اس سے پہلے نہیں۔۔۔۔!!! “

” میں مر جاؤ گی ہر تم سے شادی کبھی بھی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ تم جیسا گھٹیا شخص میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا!! “

زریر نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا جسے انوشا نے غصے سے جھٹک دیا تھا۔۔۔۔!! اور اسے صاف صاف الفاظوں میں بتایا کہ وہ اس سے شادی نہیں کرے گی چاہے وہ مر ہی کیوں نا جائے !! اس کی بات کو سنتا ہوا زریر عباس مسکرایا جیسے اس پر کوئی بھی اثر ہی نا ہوا ہو!!

” ٹھیک ہے !! ایز یو وش !! تمھیں موت مبارک ہو “

وہ مسکرا کر کہتا ہوا کمرے سے باہر نکلتا ہوا کمرے کا دروازا بند کر گیا تھا۔۔۔۔!! جبکہ انوشا حیرانگی سے اس کی پشت کو دیکھتی رہی،،،، کس قدر سنگ دل تھا وہ شخص !!

رات کا سایہ صبح کے سویرے میں ڈھل گیا تھا۔۔۔۔ آج رات کو ربعیہ اور رہان کا نکاح تھا۔۔۔۔۔ صبح تقریباً سات بجے ازا کی آنکھ کھلی۔۔۔۔!! تو اس نے کمرے میں کایان کو نا پایا۔۔۔۔

ازا کو بہت عجیب سا لگا اتنے دنوں میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ ازا کے اٹھنے سے پہلے کایان کمرے سے چلا جائے۔۔۔۔ ازا کو کل سے ہی جب سے وہ دونوں واپس آئے تھے !! اور جب سے کایان شنائل سے ملا تھا اس کا رویہ کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔

کایان کے چہرے پر وہ رونق نہیں تھی جو اس کے چہرے ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔۔۔۔!! کل سے وہ بہت گھم سم سا تھا۔۔۔۔ ازا انھی سوچوں میں ڈوبی ہوئی فریش ہو کر نکلی تو اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال ربعیہ کا آیا کیونکہ وہی اسے اس کے سوالات کے جواب دے سکتی تھی۔۔۔۔ اس لیے وہ اپنے کمرے سے نکلتی ہوئی ربعیہ کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔!!

” کیا میں اندر آ جاؤں ؟؟ “

ربعیہ کے کمرے کے دروازے پر پہنچتے ہوئے ازا نے ربعیہ سے کمرے میں داخل ہونے کی اجازت چاہی۔۔۔۔۔

” ارے آئے نا بھابھی اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے ؟ “

اسے دیکھ کر ربعیہ نے مسکرا کر اسے اندر آنے کا کہا تو ازا نیم مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔

” ربعیہ مجھے آپ سے ایک سوال پوچھنا ہے ؟ “

ازا نے اس کے سامنے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے سوال کرنے کا کہا۔۔۔ تو ربعیہ سر ہاں میں ہلا گئی اور اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟

” ربعیہ!! کایان اور شنائل کا کیا رشتہ ہے ؟؟ “

ازا نے بڑا جھجکتے ہوئے اس سے یہ سوال کیا جس پر ربعیہ کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔۔۔۔۔!! اسے اس سوال کا جواب تو معلوم تھا لیکن کیا اسے یہ ازا کو بتا دینا چاہئیے تھا ؟

” بھابھی “

ربعیہ کے چہرے کا رنگ اتر چکا تھا۔۔۔۔ جسے دیکھ کر ازا کو یہ لگا کہ کہیں وہ اس سے کوئی بہانہ نا بنا دے۔۔۔۔!! جب ہی اس کی بات کاٹتے ہوئے ازا خود بولی۔۔۔۔

” پلیز ربعیہ مجھے سب سچ سچ بتائیے گا۔۔۔۔ “

ازا نے اس کے اترتے ہوئے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تو ربعیہ خاموش ہوئی۔۔۔۔!!!

” بھابھی جس طرح میں نے اس دن بھائی سے کچھ نہیں چھپایا تھا اسی طرح میں آپ سے بھی کوئی بات نہیں چھپاؤں گی۔۔۔۔”

کچھ لمحات کی خاموشی کے بعد ربعیہ نے کہا تو ازا کے ماتھے پر بل رونما ہوئے اسے تجسس ہوا کہ ایسی کیا بات ہے ؟ اس کے بعد ربعیہ نے ایک ایک کر کے اسے ساری باتیں بتائی کہ کیسے شنائل نے کایان کے ساتھ اپنا رشتہ توڑا اور پھر اس کی باتوں کا ان کے دادا جان ہر کیا اثر پڑا سب کچھ۔۔۔۔!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *