Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 23)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 23)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
” کیوں آئے ہو تم واپس میری اجازت کے بغیر تم یہاں پر قدم رکھنے سے بھی قاصر ہو سمجھے ارحم ملک۔۔۔”
اگلے سب نے ناشتہ کر لیا تھا اور معمول کے مطابق تمام لوگ اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے تھے۔۔۔۔ شہزاد ملک نے ارحم ملک کو اپنے پاس اپنے کمرے میں بلایا تھا اور وہی پر شہناز بیگم بھی موجود تھی۔۔۔!!! وہ جب کمرے میں آ گیا تو شہزاد ملک نے بڑی ہی سنجیدگی سے اسے بتایا کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر حویلی میں قدم بھی نہیں رکھ سکتا ہے۔۔۔۔
” ایسا کچھ بھی نہیں ہے بابا جان !!! اس حویلی میں میرا بھی پورا حصہ ہے۔۔۔۔ اور میں جب چاہے اس حویلی میں آ جا سکتا ہوں۔۔۔ اور اب تو آپ نے اس کی شادی اپنے لاڈلے بیٹے سے کرا دی نا تو اب کیا مسئلہ ہے ؟؟ “
اس نے برا رویہ تو اختیار نہیں کیا تھا مگر اس کے الفاظ ہی اس کے برے رویے کی نشاندہی کر رہے تھے۔۔۔۔ اس نے یہ لحاظ تک نہیں کیا تھا کہ وہ اپنے باپ سے بات کر رہا ہے۔۔۔
” کیوں ایسا نہیں ہے ؟؟ تم نے جو حرکت کی ہے مجھے نہیں لگتا ہے کہ تم اس حویلی میں رہنے کے قابل ہو !!! “
اس کی باتیں سن کر شہزاد ملک کی آنکھوں میں غصہ اترا تھا۔۔۔۔ ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری” پہلے غلطی بھی اسی کی تھی اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہی وہ حویلی سے نکالا گیا تھا۔۔۔۔ اور اب وہ کیسے دھڑلے سے انھیں باتیں بھی سنا رہا تھا۔۔۔ شہناز بیگم کو بھی اس کا یہ رویہ کچھ عجیب سا لگا تھا۔۔۔۔
” بابا میں تو یہیں رہو گا اور میں بھی دیکھتا ہوں کہ مجھے یہاں رہنے سے کون روکتا ہے ؟؟ اور جب اب ربعیہ کی شادی کروا ہی چکے ہیں آپ تو مجھے نہیں لگتا ہے کہ آپ کو میرے یہاں سے رہنے سے کوئی بھی مسئلہ ہو “
اس نے ایک مرتبہ پھر سے اپنی تیز زبان سے الفاظ نکالے اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔ شہزاد ملک سختی سے مٹھیاں بھینج گئے تھے۔۔۔۔!!!
” اس لیے کہتی ہو تم ؟؟ کہ اس پر اتنا غصہ نا کیا کرے بچہ ہے بچہ ہے !! اب بچہ نہیں رہا ہے یہ بڑا ہو چکا ہے اور اتنی ہی زبان بھی بڑی کو چکی ہے ہمارے لاڈلے کی۔۔۔۔ لیکن میں کیا کہہ رہا ہوں ؟ اس کو بگاڑنے میں سب سے بڑا قصور بھی تو ہمارا ہی ہے نا !!! “
انھیں اپنی غلطی کا شدت سے انتظار ہوا تھا۔۔۔۔!!! انھیں ارحم سے امید نہیں تھی کہ وہ ان سے بھی بد تمیزی کا رویہ اختیار کر جائے گا۔۔۔۔ پر یہ سب کچھ تو ان کے اپنے ہی بے جا لاڈ پیار کی وجہ سے تھا۔۔۔۔ اس مرتبہ شہناز بیگم بھی خاموش رہ گئی تھی کیا کہتی وہ ؟؟ وہ جانتی تھی کہ قصور ان کے اپنے بیٹے کا ہے۔۔۔۔!!!!
” انوشا یہ آپ کے لیے “
آج انوشا کا کمپنی میں دوسرا دن تھا۔۔۔۔۔!!! لیکن آج اور کل والی انوشا میں بہت زیادہ فرق تھا کیونکہ آج اس نے وہ کپڑے پہنے تھے جو اس کے لیے زریر لے کر آیا تھا۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اس سے ڈرتی تھی۔۔۔۔!!! لیکن آج اس کا اپنا دل چاہ رہا تھا کہ وہ یہ کپڑے پہنے۔۔” تو اسی وجہ سے آج اس نے پاکستانی کلچرز کے مطابق اپنی ڈریسنگ کی تھی۔۔۔۔!! یقیناً یہ اس کے دل میں پیدا ہونے والی زریر کے لیے محبت ہی تھی جو اسے زریر کی بات ماننے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔۔۔!! جب وہ آفس میں پہنچی تو اسی وقت اس کے سامنے واسط آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ اور اس کی طرف ایک گفٹ باکس بڑھایا !!
” یہ کیا ہے واسط ؟؟ “
انوشا نے حیرانگی سے اس باکس کی طرف دیکھا جو واسط نے اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔!!!! اور اس کا نام پکارتے ہوئے اس سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے ؟
” آپ آفس میں نیو آئی ہیں تو میں نے سوچا کہ آپ کے لیے کوئی گفٹ کے لیں،،، مجھے آپ کی چوائس کا تو علم نہیں لیکن مجھے جو اچھا لگا میں نے لے لیا امید ہے کہ آپ کو بھی پسند آئے گا “
واسط نے مسکرا کر اسے بتایا کہ چونکہ وہ آفس میں نئی آئی ہے تو اسی لیے اس کے ویلکم کے لیے اس نے یہ گفٹ اس کے لیے لیا تھا۔۔۔۔ جس پر انوشا نے مسکراتے ہوئے اس کا تحفہ قبول کر لیا تھا جبکہ یہ انوشا کا یہ عمل زریر کی نگاہوں میں غصہ بھر گیا تھا۔۔۔۔”
ولیمے کا فنکشن اچھے سے گزر گیا تھا۔۔۔۔۔!!! اب دن اپنے معمول پر واپس آ چکے تھے۔۔۔۔! سب مہمان اپنے گھر کو جا چکے تھے۔۔۔۔ اسما بھی کافی حد تک ایڈجسٹ ہو چکی تھی گھل مل سی گئی تھی وہ ان کے ساتھ۔۔۔۔۔!!
ولیمے کی تھکن ہونے کے بعد وہ دونوں بھرپور نیند پوری کرنے کے بعد اسما اور حماد نیچے آئے تو ناشتے کی میز پر ناشتہ کے چکا تھا اور حماد کی والدہ ان کا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔”
” ارے آگئے تم دونوں !!! ماشاءاللہ کتنے پیارے لگ رہے ہو ساتھ میں۔۔۔۔۔”
حماد کی والدہ نے مسکرا کر ان دونوں کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ جو ان کی طرف ہی بڑھ رہے تھے۔۔۔۔!!! پہلے تو انھوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔۔۔۔” اور پھر ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے ماشاءاللہ کہا۔۔۔۔!!!!!!! ان کی بات سن کر اسما کے چہرے پر مسکراہٹ رونما ہوئی۔۔۔۔!! پھر وہ تینوں ناشتے کی میز پر بیٹھ کر بسم اللہ پڑھ کر ناشتہ کرنے لگے۔۔۔۔
” اچھا حماد بیٹا تم لوگ ہنی مون پر کب جا رہے ہو ؟؟ “
حماد کی والدہ نے ناشتہ کے کچھ نوالے لیتے ہوئے مسکرا کر اس کی طرف کرتے ہوئے سوال کیا تھا۔۔۔۔ ان کی بات سنتے ہی اسما کا کھانا اس کے حلق میں ہی اٹک گیا تھا۔۔۔۔”
” امی!!! میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ اسما کے پیپرز ہیں “
اس نے اپنی والدہ کی طرف حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔۔!!! اسے خود سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ ان کی بات کا کیا جواب دیتا ؟؟ تو اس نے اسما کی پڑھائی کے متعلق بتایا جس کا ذکر وہ ان سے پہلے بھی کر چکا تھا۔۔۔ جس پر اسما نے بھی مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور سر اثبات میں ہلایا۔۔۔
” اوو ہاں مجھے یاد آیا۔۔۔۔ تم نے مجھے بتایا تھا کہ اسما شادی کے بعد پڑھائی کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔۔۔۔ اسما بیٹا اچھے سے پڑھائی کرنا اور اگر یہ میرا بیٹا تمھیں کبھی بھی تنگ کرے تو نا تو تم نے مجھے بتانا ہے پھر ہم ماں بیٹی اس کے کان مل کر کھینچے گے “
انھوں نے پر جوش لہجے میں اسما کو پڑھائی کی تلقین کی تھی اسما کو بالکل بھی امید نہیں تھی کہ وہ اس کی پڑھائی کے حق میں ہونگی۔۔۔۔” لیکن ان کی باتیں سن کر اسما کھلکھلا کر مسکرائی تھی،،، جبکہ حماد نے حیرانگی سے ماں کی طرف دیکھا۔۔۔۔
” امی یہ کیا بات ہوئی بہو کے آتے ہی آپ نے پارٹی چینج کر لی!! یہ بالکل بھی اچھا نہیں کیا۔۔۔۔”
اس نے منھ پھلائے ہوئے خفگی سے ماں کو شکوہ کن نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا تو اس کی والدہ اور اسما دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ چھا گئی تھی۔۔۔۔”
” کیا اچھا نہیں کیا ؟؟ میں تو ہمیشہ اپنی بیٹی کا ساتھ دوں گی “
اس کی والدہ نے مسکرا کے اسما کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو مسکراہٹ سجائے بیٹھی تھی۔۔۔۔
” اور بیٹا؟ “
حماد نے ماں سے سوال کیا۔۔۔۔
” بیٹا کان کھینچنے کے لیے ہے”
انھوں نے مسکرا کر کہا۔۔۔ جس پر اسما سمیت وہ بھی مسکرایا تھا۔۔۔
” ویسے میں تم دونوں کو ایک بات بتاؤ میں بڑی خوائش ہے کہ میرے پوتا پوتی ہوں۔۔۔!!! “
حماد کی والدہ کی بات سنتے ہی اسما کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا،،،، جبکہ حماد کے چہرے کے رنگ بھی اڑ گئے تھے۔۔۔۔ وہ اپنی ماں کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔۔ جبکہ اسما نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔۔ اسے سمجھ ہی نہیں آئی تھی کہ وہ ان سے کیا کہے؟ جبکہ حماد کی والدہ اسے اس کی شرماہٹ سمجھتی ہوئی مسکرا کر ناشتہ میں مصروف ہو گئی۔۔۔۔۔ ناشتے کے بعد حماد آفس چلا گیا اور اسما یونیورسٹی چلی گئی تھی،،
انوشا آج آفس میں دوسرا خوشگوار دن گزار کر گھر لوٹ رہی تھی۔۔۔۔!!!! اس نے اپنا بیگ اور واسط کا دیا ہوا وہ گفٹ کا ڈبہ آتے ہی بیڈ پر رکھا۔۔۔۔!!! آج کا دن کافی تھکا دینے والا تھا وہ اب آرام کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔!!!
فریش ہونے کے لیے وہ واش روم چلی گئی تھی۔۔۔۔۔!!! کچھ دیر بعد جب وہ شاور لے کر کپڑے تبدیل کر کے واپس کمرے میں آئی تو سامنے ہی زریر کھڑا تھا۔۔۔۔
” تم “
ایک حیران کن آواز زریر کے کانوں میں پڑی تھی۔۔۔۔”
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟ “
پہلے انوشا نے اسے پکار کر اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر آگے بڑھتے ہوئے اس کے سامنے جا کر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!!! اور اس کے دوبدو آتے ہوئے انوشا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے سوال کیا کہ وہ اس کے کمرے میں کیا کر رہا ہے ؟
” یہ گفٹ کس نے دیا ہے ؟؟؟؟ “
زریر کی آنکھوں میں خون اترا تھا۔۔۔۔!!! اس سے یہ بالکل بھی برداشت نہیں ہوا تھا کہ انوشا کسی اور شخص کا گفٹ قبول کرے۔۔۔ اس نے بڑی ہی مشکل سے اپنے غصے پر قابو پاتے اس نے وہ گفٹ باکس ہاتھ میں دبوچتے ہوئے اس سے سوال کیا جبکہ وہ جانتا تھا کہ انوشا کو یہ گفٹ واسط نے ہی دیا ہے۔۔۔۔”
” واسط نے “
انوشا نے ہاتھ باندھتے ہوئے اس کی نگاہوں میں نگاہیں ڈالتے ہوئے بغیر کسی بھی خوف کے اسے جواب دیا۔۔۔۔!!!!
جس پر وہ طنزیہ مسکرایا۔۔۔۔!!! اور اپنی جیب سے ایک لیٹر نکالتے ہوئے اس نے گفٹ کو ایک طرف سے جلا دیا تھا۔۔۔۔ یہ عمل اس نے اتنا تیزی سے کیا تھا کہ انوشا سمجھ ہی نہیں پائی تھی کہ وہ کر کیا رہا ہے ؟؟ جبکہ اس نے گفٹ باکس جلاتے ہوئے اسے زمین پر پھینک دیا تھا۔۔۔۔!! انوشا کی آنکھوں میں خوف طاری ہوا تھا!!
” آج پہلی اور آخری مرتبہ میں تمھیں بتا رہا ہوں کہ کسی بھی غیر مرد سے کام کے سوا تم بات نہیں کرو گی،،،، اور تمھیں تحفہ دینے کا حق صرف اور صرف میرے پاس ہے اور کسی کے پاس نہیں۔۔۔ انڈر سٹینڈ”
اس نے انوشا کے کندھے پر موجود دوپٹے کو سیٹ کرتے ہوئے کہا۔۔۔!! یا ایک طریقے سے اسے وارن کیا۔۔۔۔ اور جلتے ہوئے تحفے کے ڈبے کو وہی چھوڑتا ہوا کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔۔!!! انوشا نے حیرانگی سے اس سر پھرے شخص کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔!! جس کا رویہ پل بہ پل بدلتا تھا۔۔۔۔”
” ازا آپ ادھر ہیں !! اور میں آپ کو پوری حویلی میں ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔۔”
ازا جو کچن میں کسی کام کے عوض آئی تھی۔۔۔۔۔ پیچھے سے کایان کی آواز سن کر اس کی طرف مڑی تو وہ پیچھے ہی کھڑا اس سے شکوہ کر رہا تھا کہ وہ اسے حویلی کی ہر جگہ تلاش کر رہا تھا اور وہ یہاں ہر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔!!!
” جی کایان کیا ہوا ؟؟ کیا کوئی کام تھا اسے ؟ “
ازا نے اس کی طرف مڑ کر اسے دیکھا اور پھر سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا کہ کیا اسے کوئی کام تھا اس سے ؟
” نہیں مجھے کچھ دکھانا تھا آپ کو !! “
کایان نے اس کی بات سنی اور پھر اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اسے بتایا کہ اسے کوئی نہیں ہے بلکہ وہ اسے کچھ دکھانا چاہتا ہے۔۔۔
” کیا ؟؟؟ “
ازا نے سوال کیا تھا۔۔۔
” ارے چلیں تو سہی “
کایان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگا تھا۔۔۔۔کمرے تک پہنچنے کے دوران ازا نے اس سے کئی مرتبہ پوچھا کہ وہ اسے کیا دکھانا چاہتا ہے ؟؟
کمرے کے دروازے پر پہنچتے ہوئے کایان نے کمرے کا دروازا کھولا اور اسے کا ہاتھ تھامے ہوئے وہ اندر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ کمرے میں جب وہ داخل ہوئے تو کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔۔۔۔
” لائٹ آف ہی رہنے دیں “
ازا نے لائٹ آن کرنے کے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا ہی کہ کایان نے اسے لائٹ آن کرنے سے منع کر دیا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر وہ حیران ہوتی ہوئی دو قدم چل کر آگے بڑھی تو سامنے ہی ایک خوبصورت منظر تھا۔۔۔۔ جسے دیکھ وہ مسکرا گئی۔۔۔۔
کمرے کے ایک حصے ٹیبل اور دو کرسیاں لگا کر خوبصورت ڈیکوریشن کے ساتھ ٹیبل کے درمیان کنڈیل نائٹ ڈنر کے لیے کینڈلز رکھی گئی تھی۔۔۔۔!!!
جن کی روشنی اس اندھیرے کو ختم کر رہی تھی۔۔۔۔” ان کینڈلز کے گرد کچھ لزیز کھانا بھی رکھا گیا تھا۔۔۔۔!! جن کی خوشبو پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
” تو کیسا لگا آپ کو یہ سب ؟؟؟ “
کایان نے اس کی مسکراہٹ کو پہنچانا تھا۔۔۔۔ جسے دیکھ وہ خود بھی مسکرایا۔۔۔۔ رفتہ رفتہ وہ اس کے سحر میں گرفتار ہوتا جا رہا تھا۔۔۔!!! اس نے مسکراتے ہوئے ہی اس سے سوال کیا۔۔۔۔
” یہ سب میرے لیے ہے ؟ “
ازا نے حیرانگی سے اس کی طرف نظر دوڑائی تھی اور پھر اس سے سوال کیا تھا کہ کیا یہ سب کچھ کایان نے اس کے لیے کیا ہے ؟؟ جس طرح وہ رفتہ رفتہ اس کے سحر میں گرفتار ہو رہا تھا اسی طرح وہ بھی اس کے سحر میں گرفتار ہو رہی تھی۔۔۔
” Of course it’s for you “
کایان کی بات سنتے ہی ازا کے چہرے پر جو مسکراہٹ تھی وہ مزید گہری ہو گئی تھی۔۔۔۔!!! اسے یہ سب کچھ ایک خواب جیسا لگ رہا تھا لیکن اس کا دل یہی کہہ رہا تھا کہ اگر یہ خواب بھی ہے تو یہ لمحہ یہی رک جائے۔۔
” چلیں بیٹھے نا “
کایان نے اسے سامنے پڑی ہوئی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کا کہا تو وہ سر اثبات میں ہلاتی ہوئی کرسی کی طرف بڑھ گئیں تھی۔۔۔۔!! جبکہ وہ بھی اس کی طرف بڑھتا ہوا اس کے بیٹھنے کے لیے کرسی پیچھے کرنے لگا۔۔۔۔۔ ازا مسکرائی اور اس کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔!!! اور وہ اس کے سامنے والی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
” کھانا شروع کریں “
کایان نے کھانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ تو ازا نے مسکراتے ہوئے کھانے کا ایک چمچ لیا۔۔۔۔!!
” کیسا بنا ہے ؟؟ “
اس نے سوال کیا۔۔۔۔
” بہت مزے کا ہے !! کیا آپ نے بنایا ہے ؟؟ “
ازا نے پہلے تو اس کے سوال کا جواب دیا اور پھر اس سے خود سوال کیا کہ کیا یہ کھانا اس نے بنایا ہے۔۔۔۔؟؟ جس پر کایان نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
” نہیں !!! ابھی تو میں نے خود نہیں بنایا ہے بٹ آئی پرومس کہ جب مجھے کھانا بنانا آ جائے تو پھر میں آپ کو کھانا ضرور بنا کر کھلاؤ گا “
کایان نے مسکرا کر اسے اس نے کھانا نہیں بنایا لیکن ساتھ میں ہی اس نے ازا سے وعدہ بھی کیا تھا کہ جب وہ کھانا بنانا سیکھ جائے گا تو اسے ضرور بنا کر کھلائے گا۔۔۔!! جس پر ازا نے سر ہاں میں ہلایا اور مسکرائی۔۔۔۔!!
” جو بھی ہے،،، بٹ تھینک یو سو مچ اس خوبصورت ڈنر کے لیے!!! “
ازا نے مسکراتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔
” مجھے یہ والا تھینک یو نہیں چاہئیے !!! “
کایان نے سوچ میں پڑھتے ہوئے کہا تو ازا کے ماتھے پر بل رونما ہوئے تھے۔۔۔۔!!! اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ کہنا کیا چاہتا ہے ؟؟
” جی کیا مطلب ؟؟ “
ازا کے سوال پوچھنے کے اگلے ہی لمحے کایان نے اس کا ہاتھ تھامنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد آہستگی سے ازا نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا تھا۔۔۔۔
کایان اپنی کرسی سے اٹھا اور ازا بھی اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔۔۔ کایان نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ سے ہی اسے اپنے طرف کھینچا اور ازا ایک دم اس کے سینے سے جا لگی تھی۔۔۔۔!!! ازا کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔۔۔۔”
ازا نے پیچھے ہونا چاہا مگر کایان نے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا اور اس کے ماتھے سے اپنے لب لگا گیا۔۔۔۔ ازا کے جسم میں جو بھی ہل چل تھی اس کا یہ عمل سب ختم کروا گیا تھا۔۔۔۔!!!
” یہ ہے آپ کا تھینک یو !!!! “
اس کے ماتھے پر اپنے لبوں کا لمس چھوڑتے ہوئے پیچھے ہو کر اس نے مسکرا کر کہا تو ازا نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔۔!!! اس کے چہرے کی رنگت سرخ پڑ گئی تھی۔۔۔۔!! جس پر کایان کے لبوں پر نیم مسکراہٹ تھی۔۔۔ اس نے آہستگی سے ازا کو اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا۔۔۔ جبکہ ازا کے لبوں پر بھی نیم مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔ شائید اسے کایان کا یہ عمل بہت اچھا لگا تھا!!!!
