Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer E Mohabat (Episode - 35)

Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt

 صبح ناشتے کے وقت انوشا ہلکے ہلکے قدم لیے ہوئے ناشتے کی میز کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔!! وہاں پر دادا جان بھی موجود تھے۔۔۔۔ لیکن وہ ان سے ڈر رہی تھی کہ نا جانے اب وہ کیا کرے گے ؟ کیا کہیں گے اس سے ؟ کہیں وہ اس سے ناراض نا ہو!!!

یہ سب خیالات اس کے ذہن میں کھلبلی اور چہرے پر گھبراہٹ کے تاثرات کو بڑھائے جا رہے تھے۔۔۔۔!!

وہ ناشتے کی میز سے کچھ قدم فاصلے پر کھڑی دادا جان کے ساتھ بیٹھے ہوئے زریر کو دیکھ رہی تھی سکون سے تو اس طرح بیٹھا ہوا تھا جیسے کچھ بھی ہوا ہے نا ہو!! انوشا نے اسے گھور کر دیکھا!

” آؤ انوشا بیٹا !!! “

انوشا جو زریر کو گھورنے میں مصروف تھی ایک دم سے دادا جان کی آواز سنتی ہوئی ان کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!! وہی لب و لہجہ تھا اس کے دادا جان کا۔۔۔ کوئی سختی!! کوئی سرد مہری نہیں تھی ان کے لہجے میں۔۔۔

جبکہ اس کے یوں ڈر جانے پر زریر نے اپنی ہنسی دبائی۔۔۔۔ انوشا نے ایک مرتبہ پھر سے اسے گھوری سے نوازا !!!

” ج۔۔ی د۔ادا جان “

اس کے الفاظ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے تھے!!! وہ ہلکے ہلکے قدم لیے میز کی طرف بڑھی اور اپنی مقرہ نشست پر بیٹھ گئی۔۔۔۔!!! اس نے اپنی پلیٹ میں ایک سینڈوچ رکھا لیکن کافی دیر تک اسے گھورتی رہی۔۔۔!!!!

” مجھے تم دونوں سے کچھ بات کرنی ہے “

ان کی بات سنتے ہوئے انوشا کا دل ایک مرتبہ پھر سے زور سے دھڑکا اسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ ان سے کیا کہیں گے ؟

جبکہ زریر نے پر سکون ، لا پرواہ انداز میں دیکھا۔۔۔۔

” اب تم دونوں کا نکاح ہو چکا ہے ہم کچھ بھی کر نہیں سکتے ہیں۔۔۔۔!!! یہ تم دونوں کا فیصلہ تھا۔۔۔

تم دونوں نے مل کر یہ فیصلہ لیا تھا۔۔۔ تم دونوں نے کچھ سوچا ہی ہو گا۔۔۔

میں بھی یہی چاہتا تھا کہ تم دونوں شادی کر لو میری آخری خواہش کی طرح تھا یہ۔۔۔ پر اب جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔۔۔

اب تم دونوں میاں بیوی ہو۔۔۔!!! اور میرے لیے یہی خوشی کی بات ہے کہ تم دونوں ایک ساتھ ہو۔۔۔۔!!! ایک دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتے ہو۔۔۔

مجھے نا اس رشتے سے پہلے کبھی بھی اعتراض تھا اور نا ہی کبھی بھی بعد میں اعتراض ہو گا۔

اب میں تم دونوں کی شادی جلد ازا جلد کرنا چاہتا ہوں۔۔۔!!! میری دعا کے کہ تم دونوں ہمیشہ خوش رہو!!! “

دادا جان نے پر سکون، اطمینان بھرے لہجے میں ایک ایک لفظ ادا کرتے ہوئے انھیں سمجھایا تھا کہ اب وہ نکاح کر چکے ہیں میاں، بیوی ہیں وہ دونوں!!!

اور انھیں اس رشتے سے نا ہی پہلے کبھی بھی مجھے کوئی مسئلہ ہوا تھا اور نا ہی کبھی بھی آگے جا کر انھیں اس رشتے سے اعتراض ہو گا !!!!

آخر میں انھوں نے ان دونوں کو دعا دی تھی!!!! اور انھوں نے کہا تھا کہ اب وہ جلد ازا جلد ان کی شادی کرنا چاہتے ہیں!!

” ایک مہینے کے بعد ہم تاریخ رکھتے ہیں شادی کی!!!! “

دادا جان کے کہے ہوئے الفاظ انوشا نو حیرانگی میں مبتلا کر گئے تھے۔۔۔۔!!!!

انوشا نے زریر کی طرف دیکھا جو مسکرا رہا تھا!! یقیناً یہ پٹی دادا جان کو اس نے ہی پڑھائی تھی۔۔۔۔ انوشا کی آنکھوں میں اس کے لیے غصہ اترا۔۔۔!!

” ایک مہینہ ؟ “

انوشا نے سوالیہ لہجے میں کہا!!

” ہاں بیٹا!! جب شادی کرنی ہے تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ہو جائے۔۔۔!! اب کیا پتہ کہ آج میں ہوں، کل ہوں گا یا نہیں ؟ اسی وجہ سے میں یہی چاہتا ہوں کہ جلد از جلد میں تم دونوں کی شادی کر دو !!! “

اپنے دادا جان کی آواز سنتے ہوئے ان دونوں کا دل اداس ہو گیا۔۔۔۔

” دادا جان!! پلیز ایسی باتیں مت کیا کریں آپ کو پتہ ہے مجھے بہت زیادہ برا لگتا ہے! “

انوشا نے اداسی سے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرا گئے !!!!

” اچھا ٹھیک ہے پر تم بتاؤ کہ تم اس شادی کے لیے تیار ہو ؟ “

اس کے دادا جان نے مسکرا کر اس سے سوال کیا تو وہ نیم مسکراہٹ لیے ہوئے زریر کی طرف دیکھنے لگی جو تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے ہوئے اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا !!!

انوشا اس کی طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی اور سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔!! جسے دیکھ وہ دونوں مسکرا گئے تھے!!

” تو پھر ٹھیک ہے اگلے مہینے کی کوئی مناسب سی تاریخ دیکھ کر میں تم دونوں کی شادی کر دو گا۔۔۔۔!!! “

دادا جان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تو وہ دونوں بھی مسکرا گئے!!! وہ سب خوش تھے!!! جس طرح آتش اور فاریہ خوش تھے!!!!

” نہیں ایک نہیں !! دو مہینے کے بعد!! “

انوشا نے کہا تو زریر نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔۔۔!! کہ اب اسے کیا ہوا جو یوں دو مہینے کے بعد وہ شادی کا کہہ رہی تھی!!

” دادا جان !! میں چاہتی ہوں کہ لندن سے میرے کچھ فرنڈز بھی آ جائیں اور ویسے بھی شادی کونسا روز روز ہوتی ہے!!! “

انوشا کی چھوٹی سی فرمائش پر وہ مسکرا گئے تھے!!!

” ٹھیک ہے!!! “

وہ فوراً اس کی بات مان گئے تھے!!! جس پر انوشا مسکرائی جبکہ زریر اسے گھور کر رہ گیا تھا !!! اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ کیا کہے اسے ؟

اس نے غصے سے انوشا کی طرف دیکھا تھا جو شیطانی مسکراہٹ سجائے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی جیسے اس نے کوئی جنگ جیتی ہو اس سے!!!

ولیمے کا فنکشن اچھے طریقے سے گزر گیا تھا۔۔۔۔!!! اس نے بعد آتش اور فاریہ کی زندگی کے حسین ترین دن شروع ہو چکے تھے!!!

وہ دونوں ہنی مون پر امریکہ کے مشہور و معروف اور خوبصورت شہر نیو یارک آئے تھے!! یہاں پر ان کا اسٹے ( stay ) ڈیڑھ ہفتے کے لیے تھا!!!!!!

یہ زندگی بہت خوبصورت ہوتی ہے یہ فاریہ نے سنا تو تھا لیکن آتش کے ساتھ زندگی سے سب سے قیمتی، حسین لمحات گزارنے کے بعد وہ خود بھی جان گئی تھی کہ زندگی بہت زیادہ حسین ہوتی ہے!!

وہ دونوں اس وقت نیو یارک کی ایک خوبصورت اونچائی سے بھرپور منزل کی چھت پر کھڑے موسم کے مزے لینے میں مصروف تھے۔۔۔

نیو یارک کے سرد موسم کی چلنی والی تیز ٹھنڈی ہوائیں ان کے چہروں کو معطل کر رہی تھی۔۔۔۔ وہاں کھلنے والے خوبصورت پھولوں کی مہک ان کو مہکانے میں مصروف تھی!!!

وہاں چلنے والی تیز ٹھنڈی ہواؤں سے فاریہ کو ٹھنڈ محسوس ہونے لگی تھی۔۔۔۔!!! آتش نے جب محسوس کیا کہ اسے ٹھنڈ لگ رہی ہے تو اس نے اپنے کندھوں پر موجود جیکٹ کا اتارتے ہوئے اس کے کندھوں پر رکھ دیا جس پر فاریہ کے چہروں پر مسکراہٹ چھا گئی تھی!!!

” ٹھنڈ لگ رہی ہے ؟؟ “

آتش نے اس کے سامنے آتے ہوئے مسکرا کر اس سے پوچھا جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گئی تھی!!!

” میرے سینے سے لگ جائیں!! میرے سینے کی گرمی!! آپ کے جسم کی ٹھنڈ کو ہوا کر دے گی!!! “

اس کے بے باک الفاظ سنتی ہوئی وہ شرمسار ہوتی سرخ چہرے کے ساتھ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔!!

” نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔”

فاریہ نے اس کی جیکٹ کو اپنے چاروں طرف اوڑھتے ہوئے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرایا!!!

” شرما کیوں رہی ہیں ؟ میں کونسا غیر ہوں آپ کے لیے ؟ “

آتش مسکراتے ہوئے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا ہوا اسے اپنے قریب کرتے ہوئے بولا تو فاریہ نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔۔!!!

” تھوڑی سی شرم کر لیں !!! “

اگرچہ فاریہ کو اس کے قریب آنے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔۔۔ لیکن اس وقت وہ جس جگہ پر تھے وہ ایک ببلک پلیس تھی!!! چاہے وہاں پر ابھی صرف وہی تھے!!

لیکن پھر بھی فاریہ کی نگاہوں میں شرم تاری ہو رہی تھی!!!

” ارے فاریہ جی دیکھیں!! جس نے کی شرم اس نے پھوٹے کرم!!! “

اس کی بات بات سنتا ہوا وہ پر سکون سی مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے اسے بتانے لگا کہ جس نے شرم کی اس کے کرم پھوٹے گے۔۔۔!!

اس سے پہلے کہ فاریہ اسے کچھ بھی کہتی وہ ایک گہری نظر اپنے اطراف میں گھماتا ہوا جہاں پر کوئی بھی نہیں تھا، پر سکون، لاپرواہ، سے انداز میں وہ اس کے لبوں پر جھکا۔۔۔

اس کی یہ بے باکی دیکھ فاریہ کا دل زور سے دھڑکا تھا!! اس کا چہرہ ایک دم سے سرخ پڑ گیا۔۔۔۔ اس شخص کی بے باکیاں دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی!!! لیکن آج اس نے فاریہ کے لیے حد کر دی تھی۔۔۔

فاریہ اچانک سے پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔۔!!! اس نے سرخ چہرے پر ہلکے سے جھلکتے ہوئے غصے کے ساتھ آتش کو دیکھا جس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔۔۔۔!!

” بہت بے شرم ہیں آپ!! “

فاریہ نے اسی چہرے کی سرخی سمیت نیم غصے سے بھرپور لہجے میں کہا تو وہ مسکرا گیا!!!

” فاریہ جی!! اسے بے شرمی نہیں رومینس کہتے ہیں !!! “

وہ اسی لاپرواہی والے انداز میں کہتا ہوا فاریہ کا پارا ہائی ہو گیا۔۔۔۔!!!

” کچھ نہیں ہو سکتا آپ کا !!! “

فاریہ نے غصے سے کہا۔۔۔

” بالکل بھی نہیں۔۔۔ بھئی دیکھیں میں رومینٹیک سا بندہ ہو !!! جیسا ہوں اب آپ کا ہوں۔۔۔۔!!! آپ کو میرے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہو گا۔۔۔۔!! کیونکہ میں تو بالکل بھی نہیں بدلنے والا “

اس نے ڈھٹائی سے بھرپور لہجے میں کہا تو فاریہ نے سر نفی میں ہلایا اور منھ پھلائے ہوئے وہاں سے نیچے کی طرف بڑھی۔۔۔!! وہ جان بوجھ کر اسے تنگ کرتا تھا،،، منھ پھلائے وہ مزید خوبصورت لگتی تھی!!!

” ارے فاریہ جی!! بات تو سنیں !!! “

آتش اسے جاتا دیکھ سر نفی میں ہلاتا ہوا کھلکھلا کر مسکرایا اور کہتے ہوئے اس کے پیچھے گیا تھا جو نیچے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔۔۔!!! موسم کی خوبصورتی مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔۔!! تیز ٹھنڈی ہوائیں مزید چلنے لگی تھی۔۔۔!!! یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے بارش کے امکانات ہیں!

______( دو مہینے بعد )______

دو مہینے کا وقت کیسے گزر گیا تھا!!! ازا کو پتہ ہی نہیں چلا تھا۔۔۔۔ دو مہینے اسے اپنے ماں باپ کو کھوئے ہوئے ہو گئے تھے!!! لیکن آج بھی وہ ہر رات انھیں یاد کر کے روتی تھی!!!

اس دن ماں باپ کو دفنانے کے بعد اسے تو جیسے چپ ہی لگ گئی تھی۔۔۔۔!!! وہ بہت خاموش رہنے لگی تھی۔۔۔۔ اگر بولتی تو بہت کم!!!

کایان تو اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھنے تک کو ترس گیا تھا۔۔۔۔۔ ان دو مہینوں میں صرف دو سے تیں مرتبہ مسکرائی تھی۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں باپ کا دکھ بہت بڑا دکھ ہوتا ہے۔۔۔۔

اس کے بعد اس کا بھائی وقاص چوہدری بھی اپنے ماں باپ کے ق*تل کے ٹھیک ایک مہینے کے بعد یہ ملک چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔ اسے ازا اکیلی تو ہوئی تھی لیکن پھر بھی کایان ہمیشہ اس کے ساتھ تھا۔۔۔!! اس نے اسے کبھی بھی اکیلا نہیں پڑنے دیا تھا۔۔۔۔

ارحم جس نے عباس چوہدری اور ان کی بیوی نرمین چوہدری کو بے رحمی سے ق*تل کر دیا تھا۔۔۔۔!! اسے اس کے کیے کی سزا بھی اللہ تعالیٰ نے دے دی تھی!!!

عدالت نے اسے ” دو مرتبہ عمر قید” کی سزا سنائی تھی!!! پہلے تو شہناز بیگم کا دل بہت دکھا تھا لیکن پھر جب انھوں نے اس کے گناہوں کا سوچا تو انھیں اس کے لیے یہ سزا بھی بہت چھوٹی سی لگی تھی!!!

اس میں بھی کوئی شک نہیں تھا کہ یہ ان کے اپنے ہی بے جا لاڈ پیار کی وجہ سے تھا۔۔۔۔ ان کے ہی اس بے جا لاڈ پیار، اس کی غلطیوں کو معاف کرنا، اس کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے نے اسے ایسا بنا دیا تھا!! ان سب کی وجہ سے وہ آج صلاحوں کے پیچھے تھا!!!

شہناز بیگم میں اتنی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ ازا سے نظریں بھی ملا سکیں وہ بہت شرمندہ تھی اس سے!!! ارحم کی حرکت نے حویلی والوں کو ازا کے سامنے شرمندہ کر دیا تھا!

” ازا !! مجھے بات کرنی ہے آپ سے “

کایان آفس سے واپس آیا تو ازا کو شائید کمرے کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے پایا!! کایان نے سنجیدگی سے کہا تو وہ بھی چہرے پر ہمیشہ کی طرح سنجیدگی جمائے ہوئے اس کی طرف بڑھی !!!

” ازا کب تک ایسا چلے گا ؟؟ کب تک آپ یوں ہی سنجیدہ رہے گی ؟ بتائیں مجھے ؟ اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتی آپ کی یہ سنجیدگی،،،، میں آپ کی مسکراہٹ دیکھنے کے لیے ترس گیا ہوں!!!

میں جانتا ہوں کہ جو دکھ، آپ کو دو مہینے پہلے ملا تھا وہ بہت بڑا تھا!!! دس دفعہ ایک ہی محبوب سے دھوکا کھانے سے اتنا دکھ نہیں ہوتا ہے جتنا کہ ایک مرتبہ ماں باپ کو کھونے سے ہوتا ہے!!!

پر کب تک ازا ؟ مجھ سے اب یہ برداشت نہیں ہوتا۔۔۔۔!! وہ ازا کہاں گئیں جو ہر وقت ہنستی تھیں، مسکراتی تھیں، باتیں کرتی تھی، آپ وہ ازا نہیں ہیں، وہ ازا کہیں کھو سی گئی ہے “

وہ کافی دنوں سے اس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن آج اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ پرانی ازا کو واپس چاہتا تھا!! اس ازا کو جو ہر وقت ہنستی تھی!! مسکراتی تھی!! ہر وقت اس سے باتیں کرتی تھی!!!

” کایان!! اس وقت اس ازا کے ماں باپ زندہ تھے!!! “

اس نے کایان کے سامنے بیٹھے ہوئے سنجیدگی سے کہا !!! تو کایان نے پریشانی سے اسے دیکھا!!! اور اسے گلے سے لگایا۔۔۔۔ اسے دلاسا دیا۔۔۔۔!!! جبکہ ازا کی آنکھوں میں آنسو پیدا ہوئے!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *