Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt NovelR50484 Aseer E Mohabat (Episode - 27)
Rate this Novel
Aseer E Mohabat (Episode - 27)
Aseer E Mohabat By Abdul Ahad Butt
ملک حویلی میں خوشی کا سماع چھایا ہوا تھا۔۔۔۔!!! سب کے ٹوٹے ہوئے رشتے جڑ رہے تھے۔۔۔۔!!! ہر رشتے کی الجھنوں کی ڈور سلجھ رہی تھی۔۔۔!!!
سب حویلی والے ایک جگہ براجمان ہو کر ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔۔!!! ساتھ ہی ساتھ سب لوگ حیران بھی تھے،،، ازا کے ساتھ شہناز بیگم کے اچھے رویے کا دیکھ کر،
” کیا بات ہے ؟؟ آج تو بڑا ہی پیار آ رہا ہے ازا پر “
نا صرف شہزاد ملک نے بلکہ وہاں بیٹھے ہر شخص نے اس بات کو محسوس کیا تھا آج شہناز بیگم کا رویہ کچھ زیادہ ہی اچھا تھا۔۔۔۔!!! اور یہ کل رات ہونے والے واقع کی وجہ سے تھا جسے صرف وہاں بیٹھے ہوئے چار لوگ ( شہناز بیگم، صائمہ، کایان، ازا ) ہی جانتے تھے۔۔۔۔ان کے سوا نا کوئی یہ بات جانتا تھا اور نا ہی ان چاروں میں سے کسی نے بھی اس بات کا ذکر کسی دوسرے سے نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔
” پیار کی بات نہیں ہے۔۔۔۔!! ازا حویلی کی بہو ہے “
شہناز بیگم نے شہزاد ملک کی بات سنی تو وہ مسکرائی اور پھر فاریہ کو دیکھ کر انھیں بتایا یہاں پر پیار کی بات نہیں ہے،،، ازا حویلی کی بہو ہے اور یہ سب اس کا حق ہے۔۔۔۔
جسے سنتے ہی شہزاد ملک نے گھور کر انھیں دیکھا کہ کل تک تو وہ ازا کو بالکل بھی پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔۔۔ آج اچانک سے وہ ازا کو اتنا پسند کیسے کرنے لگی ؟ یہ تو ایک راز تھا جو صرف وہی چاروں جانتے تھے۔۔۔۔۔!!
شہناز بیگم کی بات سن کر ازا،کایان، ربعیہ،رہان، اور صائمہ کے چہروں پر مسکراہٹ چھا گئی تھی جبکہ وہاں بیٹھا ہوا ارحم کچھ سمجھ نہیں پایا آج بھی وہ اپنے بھائی کے قتل کو نہیں بھولا تھا۔۔۔!! اس نے غصے سے اس سارے منظر کو دیکھا۔۔۔!!
” ویسے رہان!! تمھاری اور ازا کی شادی کو تقریباً دو ہفتے گزر گیا ہے۔۔۔۔!! تم دونوں نے کہیں گھومنے پھرنے کا کوئی پلین نہیں بنایا۔۔۔۔؟ “
کچھ دیر کے لیے وہاں ہر خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔۔۔ شہناز بیگم نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے رہان کو اپنی طرف متوجہ کروا کر اس سے پوچھا کہ کیا اس نے ربعیہ کے ساتھ گھومنے پھرنے کا کوئی بھی پلین بنایا ؟
ان کی بات سنتے ہی ربعیہ کے حلق میں جیسے اس کا نوالہ پھنس گیا،،،، رہان نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے سر نفی میں ہلا دیا،،،، ارحم کو یہ سن کر ایک مرتبہ پھر سے اپنی ماں پر غصہ آیا تھا۔۔۔۔ آج اس کی ماں وہ باتیں کر رہی تھی جو اسے بالکل بھی پسند نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔!!
” تو بیٹا بناؤ نا بوڑھے ہو کر جاؤ گے ؟؟ اور کایان تمھاری اور ازا کی شادی جو بھی تو اتنا عرصہ ہو گیا ہے!!! تم چاروں جاؤ کچھ دن گھوم پھر کر آؤ،،، کچھ دن زندگی کے مزے لو !! “
شہناز بیگم نے رہان کا جواب دیکھ کر طنزیہ طور پر اس سے کہا کہ وہ اب نہیں تو کب بنائے گا بیوی کے ساتھ گھومنے کا ارادہ بوڑھا ہو کر ؟ اس ساتھ ہی شہناز بیگم نے کایان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا گیا۔۔۔
” جی ضرور “
وہ تو جیسے پہلے سے ہی یہی بات سننے کا منتظر تھا اس کا جواب سنتے ہی ازا نے گھورتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔۔ جبکہ شہناز بیگم مسکرا گئی تھی۔۔۔۔
” تو ٹھیک ہے تم چاروں کچھ دنوں کے لیے گھومنے پھرنے کے لیے جاؤ !! “
شہناز بیگم نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
” پر آفس !! “
رہان نے کچھ کہنا چاہا تھا۔۔۔
” آفس جو چھوڑو!!! تم ابھی کچھ دن اپنی میرج لائف کو دو!! آفس کے کام تو ہوتے رہیں گے ؟ “
اب کی مرتبہ شہناز بیگم کی جگہ شہزاد ملک نے رہان کو سمجھایا کہ وہ ابھی اپنی بیوی کو ٹائم دے، آفس کے کام تو پوری زندگی چلتے ہی رہیں گے۔۔۔۔” جس پر وہ سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔
جبکہ یہ سب دیکھ کر ارحم نے غصے کی انتہا نہیں رہی تھی،،،، لیکن وہ کیسے نکالتا اپنا غصہ سارے حق کھو چکا تھا وہ!! وہ مٹھیاں بھینجتا ہوا وہاں سے اٹھتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ باقی سب ناشتے میں مصروف ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
کایان نے ازا کے ایک بہت بڑا سرپرائز سوچ کر رکھا تھا اور اگر آج شہناز بیگم یہ بات نا کرتی تو وہ خود اسے کہیں کے کر چلا جاتا !!!
شام کے تقریباً چھ بج رہے تھے۔۔۔۔۔!!! انوشا کچھ دیر پہلے ہی آفس سے تھکی ہوئی واپس آئی تھی۔۔۔۔ اور ابھی ہی وہ واش روم سے فریش ہو کر نکلی تھی۔۔۔۔ آج کا دن تھکا دینے والا تھا،،،
وہ ابھی بیڈ پر جا کر بیٹھی تھی ہی کہ اسی وقت اسے کھڑکی میں کوئی شخص کھڑا دیکھائی دیا۔۔۔۔ وہ یک دم ڈرتی ہوئی کھڑی ہوئی جبکہ وہ شخص کھڑکی کے ذریعے کمرے میں داخل ہو گیا تھا۔۔۔۔ انوشا کی اس پر نظر پڑی تو وہ کوئی اور نہیں زریر تھا انوشا نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔۔
” تم یہاں ؟ کہاں سے کیسے ؟ “
انوشا کو کچھ سمجھ نہیں آیا تھا کہ زریر اس کے کمرے میں کیسے آیا کیونکہ اگر وہ دروازے کے ذریعے بھی وہاں پر آیا ہوتا تو انوشا کو ضرور پتہ چلتا !! لیکن شائید وہ گھر کی بیک سائیڈ سے اس کی بالکونی پر چڑھ کر آیا تھا،،،،
” جہاں سے میں پہلے بھی آتا جاتا ہوں “
اس نے انوشا کے چہرے پر پھیلی ہوئی سنجیدگی کو خوب پہنچانا تھا۔۔۔۔!! اور اس کے پوچھے ہوئے سوال کا مطلب سمجھتے ہوئے اس نے انوشا کے سوالات کا جواب دیا”
” تو تم پہلے بھی میرے کمرے میں آ چکے ہو ؟؟ “
اس کی بات سن کر انوشا کو حیرانگی ہوئی کہ کیا وہ اس کے کمرے میں پہلے بھی اس کی غیر موجودگی میں آچکا تھا ؟
” جی بیگم !!! پر فلحال میں یہاں پر ان سب باتوں کے لیے نہیں آیا ہوں۔۔۔۔!! میں صرف تمھیں یہ بتانے آیا ہوں کہ تم رات ٹھیک آٹھ بجے تیار رہنا ہم دونوں نے کہیں جانا ہے!!! “
زریر نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا کہ وہ یہ باتیں کرنے کے لیے اس کے پاس نہیں آیا ہے!! بلکہ وہ اسے لے کر کہیں جانا چاہتا ہے جس پر انوشا نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا!!
” کہاں ؟؟ “
اس نے منع نہیں کیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں جائے گی!! جیسا کہ وہ پہلے کئی بار اس کی ہر بات کو انکار کر چکی ہے،،، بلکہ اس نے سوال کیا تھا کہ وہ اسے لے کر کہاں جانا چاہتا ہے ؟ اسے تجسس تھا۔۔۔
” جب ہم جائیں گے تو تمھیں خود ہی پتہ چل جائے گا۔۔۔۔!!! ابھی فلحال تم تیار ہو اور یاد رہے کہ ٹھیک آٹھ ریڈی رہنا “
وہ اسے نیم مسکراہٹ چہرے پر لیے ہوئے کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔۔!!! جبکہ اس مرتبہ انوشا نے اسے ایک دفع بھی انکار نہیں کیا تھا۔۔۔۔!! بلکہ وہ اس کی بات سنتے ہوئے مسکرائی اور اپنا سر ہاں میں ہلا گئی تھی۔۔۔
یقیناً یہ کچھ اور نہیں تھا بلکہ انوشا کے دل میں اس کے لیے جنم لیتی ہوئی محبت تھی۔۔۔۔!!! جو صرف زریر کے لیے تھی۔۔۔۔!!! وہ کپڑے لیتے ہوئے تیار ہونے کے لیے چلی گئی تھی۔۔۔۔!!!
” تھینک یو “
اسما اور حماد کی کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی۔۔۔۔ جبکہ اسما کی دوستی حماد سے زیادہ اس کی والدہ سے تھی۔۔۔۔ اسما نے اتنا وقت حماد نے ساتھ نہیں گزارا تھا جتنا کہ اس نے حماد کی والدہ کے ساتھ گزارا تھا۔۔۔!!
حماد کی والدہ بہت ہی زیادہ خوش تھی کہ انھیں اسما جیسی سے اللہ تعالیٰ نے نوازہ تھا۔۔۔۔!! حماد اپنی ماں کو دیکھ کر ہی بہت زیادہ خوش تھا۔۔۔۔ وہ کمرے میں ہی سوتا تھا اور ابھی رات کے گیارہ بج رہے تھے وہ کمرے میں آیا تو صوفے پر بیٹھ گیا جبکہ اسما بیڈ پر بیٹھی ہوئی اپنی کوئی اسائمنٹ بنانے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔
جب ہی حماد نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
” کس لیے ؟؟ “
اسما نے سوال کیا۔۔۔
” میری امی کا اتنا خیال رکھنے کے لیے۔۔۔۔ آپ کی وجہ سے وہ بہت خوش رہنے لگی ہیں اب اس کے لیے “
اس کے سوال کو سن کر حماد نے اسے بتایا کہ اس نے اسما کا شکریہ ادا اس کی والدہ کا دھیان رکھنے کے لیے کیا۔۔۔ جس پر وہ مسکرائی،،
” اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے !! یہ میرا فرض ہے۔۔۔۔ اور ویسے بھی آنٹی ہے ہی اتنی سویٹ۔۔۔۔۔! ان کے ساتھ وقت کیسے گزرتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا !!! “
اسما نے مسکرا کر اسے بتایا کہ اس کی والدہ بہت سویٹ ہیں۔۔۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ان کے ساتھ اس کا وقت کیسے گزر جاتا ہے !!!! جسے سن وہ مسکرایا اور کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔۔۔!!!!
” یو نو واٹ !!! مجھے بھوک لگ رہی ہے “
اسما نے کچھ دیر بعد معصومیت سے کہا۔۔۔
” اس وقت !!! “
حماد کو اس کی بات سن کر بہت ہی زیادہ حیرانگی ہوئی تھی کہ اسے اس وقت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔۔!!!
” ہاں اور مجھے دہی بھلے کھانے ہیں۔۔۔۔”
اس کی پہلی بات سن کر وہ حیران اب مزید حیران ہوا کہ اس ٹائم دہی بھلے ؟
” لیکن اس وقت کہاں سے آئے گے دہی بھلے ؟ “
حماد نے سوال کیا تھا۔۔۔۔!!!
” آپ لا دیں!! “
اسما نے معصومیت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
” میں لا کر نہیں دو گا!! پڑ منگوا کر ضرور دے سکتا ہوں “
جب اس نے پہلی بات کہی تھی تو اسما کا چہرہ اتر گیا۔۔۔۔!! لیکن پھر اس کی اگلی بات کو سن کر وہ مسکرا اٹھی جبکہ وہ اس کی مسکراہٹ دیکھتے سر نفی میں ہلا گیا۔۔۔۔۔!! اس نے دہی بھلوں کا آرڈر دیا جبکہ اسما اپنی اسائمنٹ بنانے میں مصروف ہو گئی تھی۔۔۔۔”
” کدھر جا رہے ہو ؟؟ “
رہان ابھی آفس سے واپس آیا تھا ویسے وہ پہلے بھی ایک مرتبہ حویلی چکر لگا کر گیا تھا جب وہ ربعیہ کو یونیورسٹی سے لے کر آیا تھا۔۔۔۔۔!!! وہ سیڑھیاں چڑھتا اوپر کی طرف ہی بڑھ رہا تھا کہ اس کے سامنے ارحم آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ اور اس سے سوال کیا کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟؟
” کمرے میں “
اس کی طرف رہان نے بہت ہی زیادہ بیزارگی سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔ وہ اب تک اس کی حرکت کو بھولا نہیں تھا اور اب تو ربعیہ اس کی بیوی تھی وہ کسی صورت اسے معاف نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔!! اس نے بوریت سے چور لہجے میں کہا۔۔۔۔” اور اوپر کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔
” اتنی بھی کیا جلدی ہے ؟؟ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے !! “
اس نے رہان کو روکتے ہوئے کہا شائید وہ نہیں چاہتا تھا کہ رہان ربعیہ کے پاس جائے !!!
” لیکن فلحال مجھے آپ سے کوئی بھی بات نہیں کرنی ہے۔۔۔۔ میں بہت تھکا ہوں اور مجھے آرام کرنا ہے ہم بعد میں بات کر لیں گے “
رہان نے اسے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ اس سے ابھی بات نہیں کرے گا وہ کافی تھکا ہوا ہے اور وہ اس وقت آرام کرنا چاہتا ہے ارحم جو بھی بات کرنی ہے وہ بعد میں کرے گے!!!
” ارے میں تمھارا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔۔۔۔۔!!! تم مجھے بتاؤ کہ کیا تم یہ شادی کر کے خوش ہو ؟؟؟ “
اس نے رہان کو روکتے ہوئے اس سے بتایا تھا کہ اس نے جو بھی بات کرنی ہے۔۔۔۔!! اس میں اس کا زیادہ وقت نہیں لگے گا۔۔۔۔
ارحم نے اس سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ربعیہ کے ساتھ شادی کر کے خوش ہے ؟؟ حقیقت میں تو وہ ان کے آپسی تعلقات کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔۔۔۔
” اگر نہیں بھی خوش تو تم مجھے بتا سکتے ہو۔۔۔۔!! ویسے بھی میں تمھارا بڑا بھائی ہوں”
ارحم نے بڑے بھائی ہونے کا ریفرنس استعمال کرتے ہوئے اس سے پوچھنا چاہا جس پر رہان ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
” میں خوش نہیں ہوں۔۔۔۔۔!!! بلکہ بہت زیادہ خوش ہوں “
ایک لمحے کے لیے تو ارحم کو لگا تھا کہ جیسے اس کا تیر نشانے پر لگ گیا ہے اور وہ بہت خوش بھی ہوا اس کے لیے اپنی چہرے پر آنے والی مسکراہٹ کو سنھبال پانا بہت مشکل ہو رہا تھا!!!
لیکن پھر رہان کی کہی ہوئی اگلی بات سن کر ہی اس کی وہ مسکراہٹ اترے ہوئے چہرے میں بدل گئی تھی۔۔۔۔ رہان طنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔۔۔”
” ربعیہ ایک بہت اچھی لڑکی ہے!!! بہت پیار کرنے والی لڑکی ہے۔۔۔۔ اس جیسی لڑکی ہر کسی کے قسمت میں نہیں لکھا ہوتا۔۔۔۔ وہ نصیب والوں کو ہی ملتی ہیں۔۔۔۔۔
مجھے امید تھی کہ ربعیہ کے میری زندگی میں آنے سے میری زندگی خوشحال ہو جائے گی لیکن مجھے یہ امید نہیں تھی کہ اس قدر خوشیاں بکھر جائے گی،،،،
ایٹ لیسٹ وہ کسی گھٹیا شخص کو ڈیزرو نہیں کرتی۔۔۔۔!! خیر میں چلتا ہوں وہ کیا ہے نا کہ ربعیہ میرا انتظار کر رہی ہوں گی۔۔۔ پیکنگ بھی تو کرنی ہے “
وہ اپنے لفظوں کے حملے سے ارحم ملک کو جلا کر راکھ کر گیا تھا۔۔۔۔!!! اس نے دھکے چھپے لفظوں میں اس کی بے عزتی بھی کر دی تھی۔۔۔۔ آخر میں بھی وہ اسے جلاتا ہوا اوپر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ جبکہ ربعیہ جو اوپر ہی کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
ارحم نے غصے پر قابو پانے کے لیے اپنی مٹھیاں بھینج لی تھی۔۔۔۔
” اسلام علیکم!!! میں نے آپ کو جگہ کا ادریس اور وقت سینڈ کر دیا ہے۔۔۔۔!!! کل شام ٹھیک چھ بجے میں ازا کو لے کر وہاں پہنچ جاؤ گا۔۔۔۔!! آپ بھی آ جائیے گا خدا خافظ “
کایان نے کسی کو ایک مختصر سی فون کال کی تھی اور انھیں بتایا تھا کہ جو جگہ اس نے انھیں سینڈ کی ہے اس جگہ وہ کل شام چھ بجے ازا کو لے کر پہنچ جائے تو وہ بھی آجائیں۔۔۔۔ دوسری طرف سے مثبت جواب ملنے پر اس نے فون بند کردیا۔۔۔۔ آخر کون تھا وہ جس سے کایان ازا کو ملوانا چاہتا تھا ؟؟
