Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 61 (Last Episode)
۔۔۔۔۔
آخری قسط

باب55
علیزہ بی بی آپ ہاسپیٹل چلی جاہیں وہ گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے ابھی نیچے اتر ہی رہی تھی جب مرید بابا نے اسے کہا ۔
ہاسپیٹل کس لئے ؟اس نے حیرانی سے اسے دیکھا ۔
عباس صاحب کا فون آیا تھا انہوں نے کہا ہے ،مرید باب نے بتایا ۔
عباس کا لیکن کیوں؟ اسے اس بار تشویش ہوئی .
بس آپ وہاں چلی جاہیں انہوں نے کہا ہے۔
نانو اور ممی کہاں ہیں؟ علیزہ پریشان ہو گئی
وہ لوگ شاپنگ کے لیے گئی ہیں ،۔ عباس صاحب بھی ان کا پوچھ رہے تھے پھر انہوں نے کہا کہ انہیں بھی پیغام دی دیں اور آپ کو بھی ۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ اپنا موبائل آن کریں اور ان سے رابطہ کریں ۔مرید بابا نے کہا ،
کون سا ہاسپیٹل؟ علیزہ نے گاڑی میں دوبارہ بیٹھتے ہوئے کہا ۔
سروسز ہاسپیٹل مرید بابا نے بتایا۔
آپ نے ان سے پوچھا سب کچھ ٹھیک ہے نا ؟ جی میں نے پوچھا تھا انہوں نے بتایا ایکسیڈینٹ ہوا ہے ۔
ایکسیڈینٹ کس کا ؟
عمر صاحب کا مرید بابا نے بتایا
اس کے دل کی ایک دھڑکن مس ہوئی۔
عمر کا وہ ٹھیک تو ہے ،؟
آپ ان سے بات کر لیں انہوں نے جلدی فون بند کر دیا تھا ۔
مرید بابا نے کہا ۔
علیزہ نے ڈرائیونگ سیٹ پے بیٹھتے ہوئے بیگ سے موبائل نکالا اور اسے آن کرتے ہوئے عباس کے موبائل پر کال کی ۔
کاہن مصروف تھی پریشانی کے عالم میں اس نے اپنی گاڑی باہر نکال لی ۔
راستے میں اس نے ایک بار پھر عباس کو کال ملائی کال اب بھی مصروف تھی ،دوسری بار کال کے بعد موبائل رکھ رہی تھی کہ دوسری طرف سے کال آنے لگی اب کی بار عباس کی کال آرہی تھی۔
ہیلو عباس بھائی عمر کو کیا ہوا ہے کال ریسیو کرتے ہی علیزہ نے پریشانی سے پوچھا دوسری طرف چند لمحے کی خاموشی چھا گئی ۔
پھر عباس نے کہا ۔تم کہاں ہو ؟ میں سروسز ہاسپیٹل آرہی ہوں بس راستے میں ہوں ،،….. عمر کو کیا ہوا ہے ؟
کچھ نہیں بس چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہوا ہے ۔اب ٹھیک ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے تم آرام سے ڈرائیور کرو ۔اپنی گاڑی میں آ رہی ہو ?
ہاں۔۔
اور گرینی کہاں ہیں؟
وہ میرے ساتھ نہیں ہیں شاپنگ کے لیے ممی کے ساتھ گئی ہیں ۔
ٹھیک ہے تم آ جاؤ وہ اب اسے اس گیٹ کا بتا رہے تھے جہاں سے اسے آنا تھا،.
میں سیکیورٹی والوں کو تمہارا نمبر دے دیتا ہوں وہ تمہیں روکیں گے نہیں
عباس نے کہہ کر فون رکھ دیا اس نے بے اختیار سکون کا سانس لیا۔
اس کا مطلب ہے کہ عمر ٹھیک ہے۔
لیکن پھر اس نے سوچا پتا نہیں اسے کتنی چوٹیں آئیں ہوں گی ۔
اور میں نے یہ بھی تو نہیں پوچھا کہ وہ زخمی کیسے ہوا ہے اسے خیال آیا۔عباس کو دوبارہ فون کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ سروسز کے باہر پہنچ چکی تھی۔
اور وہاں ہاسپیٹل کی چار دیواری میں جگہ جگہ پولیس کی گاڑیاں اور اہل کار تھے۔
اسے یہ چیز غیر معمولی نہیں لگی تھی ۔کسی حادثے میں پولیس کے اعلی افسر کے زخمی ہونے پر وہاں پولیس کا ہونا ضروری تھا اور پھر وہ جانتی تھی وہاں سیکیورٹی کی ضرورت تھی۔
وہ متعلقہ گیٹ سے اندر چلی گئی وہاں پولینڈ کی تعداد باہر سے بھی زیادہ تھی۔وہ گاڑی پارک کرنے لگی جب اس کے موبایل پر کال آنے لگی ،.
گاڑی سے باہر نکلتے وقت اس نے کال ریسیو کی ۔
وہاں دوسری طرف صالحہ تھی
گیٹ سی اندر آتے ہوئے اس کی نظر سائرن بجاتی پولیس کی گاڑیوں اور ایمبولینس پر پڑی جو اسی گیٹ سے ہاسپیٹل کے اندر داخل ہو رہی تھیں ۔
ہیلو علیزہ دوسری طرف سے صالحہ کی آواز آئی ،؟
ہیلو۔۔۔
گاڑی لاک کرتی وقت اس کی نظر ایمبولینس پر ہی تھی جو اس کے پاس آ کر رکی تھی۔
اس کے اردگرد پولیس کے اہلکاروں کا ہجوم تھا وہ اندازہ کر سکتی تھی کہ اس کے اندر عمر ہو گا وہ مظطرب سی ہو گئی۔
دوسری طرف صالحہ کی آواز سنائی دی آئ ایم سوری،…
سوری کس لئے ؟
وہ صالحہ کی بات پر کچھ حیران ہوئی تھی ۔اس کی نظر اب بھی ایمبولینس کے پچھلے کھلے دروازے پر تھی جو اب پورا کھل چکا تھا ۔
عمر جہانگیر کی ڈیتھ کے لئے دوسری طرف سے صالحہ کی آواز سنائی دی۔
موبائل اس کی ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گیا ۔
اس کی نظر ایمبولینس سی نکلتے سٹیچر پر تھی جس میں سفید چادر پے لپٹی ڈیتھ باڈی تھی جس پر جگہ جگہ خون نظر آرہا تھا۔
فوٹوگرافر کے فلیش ….
سٹیچر کے ساتھ چلتا عباس…
اس کے باقی کزنز….
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا ۔۔دوسرا ۔۔تیسرا۔۔۔اور پھر اس نے خود کو بھاگتے پایا ۔۔
وہ ہجوم کو کاٹتے ہوئے آگے آہی ایک پولیس والے نے اسے روکنا چاہا اسنے اسے دھکا دیا اس کے ایک کزن نے اسے آسے آتے دیکھا اور پھر کسی نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔
وہ بھاگتی ہوئی سٹیچر کے قریب آئی ۔عباس نے اسے آتے دیکھا تو سٹیچر سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا اور اس کے نزدیک تیزی سے آیا اس کے گرد اپنے بازو پھیلاتے ہوئے اسے ایک طرف کیا سٹیچر کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔
وہ اس کے اتنے نزدیک سے گزرا کے وہ اسے ہاتھ بڑھا کے چھو سکتی تھی سفید چادر پر جس جگہ سب سے زیادہ خون تھا وہ اس کا سر اور چہرہ ہی ہو سکتا تھا ۔
لیکن وہ ہاتھ بھی نا بڑھا پائی ۔
وہ یقین ہی نہیں کر سکتی تھی کہ اس سٹیچر پر اس سفید چادر پر خون میں لپٹا وجود عمر کا ہے
عمر جہانگیر کا۔۔۔۔۔
اس کی نظروں تو آپریشن تھیٹرز تک جاتے سٹیچر کا تعاقب کیا پھر اس نے گردن موڑ کر پہلی بار عباس کو دیکھا ۔
عمر ۔۔اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تھی مگر آواز نہیں نکلی پس ہونٹوں نے زرا سی جمبش کی تھی۔
عباس نے شکست خور سر ہلایا ۔وہ بے یقینی سے اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھنے لگی ۔
ایک فوٹوگرافر نے دونوں کی تصویر بنائی فلیش کی چمک ہوتے ہوئے اس نے عباس کو غضب ناک ہوتے دیکھا ۔
اس باسٹرڈ سے کیمرہ کے کر دھکے دے کر یہاں سے نکالو وہ اب کسی سے کہہ رہا تھا ۔
علیزہ نے چند پولیس اہلکاروں کو اس فوٹوگرافر کی طرف بڑھتے دیکھا ۔
عباس کو غلط فہمی ہوئی ہو گی یہ عمر نہیں ہو گا کوئی اور ہو گا ۔
ماوف ذہن کے ساتھ اس نے آپریشن تھیٹر کے بند دروازے کی طرف دیکھا ۔اس نے عباس کے کندھے کو اپنے بازو سے ہٹانے کی کوشش کی ۔وہ عمر کو اس کے موبائل پر رنگ کرنا چاہتی تھی۔
اسے یاد آیا اس کے پاس نا اس کا بیگ تھا نا فون گاڑی کی چابی تک نہ تھی۔
علیزہ اس کمرے میں چلی جاؤ ،،تانیہ وہاں ہے میں کچھ دیر میں آتا ہوں ۔
عباس اسے ایک طرف لے جانے کی کوشش کرنے لگا ۔
مجھے موبائل دیں ؟ مجھے بات کرنی ہے ،
وہ اب کسی دوسرے کے ریڈار میں تھی ۔
ان کا ایک اور کزن خضر علی اب وہاں تھا ۔اور اب عباس کچھ کہہ رہا تھا ۔
علیزہ کے لیے ان کی باتیں سمجھنا مشکل ہو رہا تھا۔
ان کے ساتھ چلتے ہوئے اب علیزہ ایک کمریے میں داخل ہو رہی تھی ۔وہاں ثانیہ تھی اور اس کے فیملی کی چند اور عورتیں تھی ۔
پلیز مجھے فون دیں اس نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا ۔کس کو کال کرنی ہے ؟عباس نے پوچھا ۔
عمر کو۔۔۔۔
عباس نے ثانیہ کو اشارہ کیا take care of her اسے سنبھالو ۔
ثانیہ نے اسے بازو سے پکڑ کر ایک طرف لے جانے کے کوشش کی ۔
علیزہ نے درشتنی سے اپنا ہاتھ چھڑایا ۔
میں آپ سے فون مانگ رہی ہوں اور آپ مجھے اپنا موبائل نہیں دے رہے ۔اب کی با ر علیزہ نے بلند آواز سے کہا ۔عباس نے ایک نظر باہر کھڑے ہجوم پر ڈالی ۔
خضر تم چلو میں آتا ہوں اور پھر آہستگی سے دروازے کو بند کیا ۔
مجھے فون دیں میں اسے فون کرنا چاہتی ہوں ۔علیزہ ایک بار پھر سے غرائی۔
جسے تم فون کرنا چاہتی ہو وہ اب نہیں ہے علیزہ پلیز تم ۔۔
علیزہ نے اس کی بات کاٹی ۔
میری بات کروا دیں ان سے پلیز آپ لوگوں کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اسے کچھ نہیں ہوا ۔عمر کو کچھ نہیں ہو سکتا ۔
اب کی بار اس کی آواز میں بے چارگی تھی ۔
اس کے گرد اتنی سیکیورٹی ہوتی ہے اسے کیسے کچھ ہو سکتا ہے عمر کو کچھ نہیں ہو سکتا آ پ لوگوں کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔
عباس بھائی وہ بے ربط جملے بول رہی تھی ۔
کیا کہہ رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی کیا کہنا چاہتی تھی وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی ۔
عباس کے چہرے کی تھکن اور شکستی اس کے خوف میں اضافی کر رہی تھی مگر خوف؟
کیا خوف تھا اسے ؟ بے یقینی؟ کیسی بے یقینی؟
عباس نے اس بار کچھ نہیں کہا وہ ایک ٹیبل کی طرف بڑھ گیا ۔اب کی بار علیزہ کی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی ۔
اس کے ہاتھ میں سیلڈ پیکٹ تھا جسے وہ اب کھول رہا تھا اور اس میں موجود چیزیں آہستگی سے ٹیبل پر رکھ رہا تھا ۔
وہ عما کا موبائل ،گلاسز،سگریٹ کیس ،لائٹر ،گھڑی ،والٹ اور چند دوسری چیزیں تھیں ۔
وہ کچھ چیزوں کو پہچانتی تھی کچھ کو نہیں ۔۔۔
کچھ بھی کہے سنے بغیر وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے میز کے پاس آ کر کھڑی ہوئی ۔
میز پر پڑی کچھ چیزیں خون آلود تھیں ،وہ انہیں پکڑنے کی ہمت نہ کر سکی بس اپنے ہاتھ میز پر رکھے یک ٹک انہیں دیکھنے لگی۔
وہ سب چیزیں کبھی اس شخص کی زندگی کا ایک حصہ تھیں ۔جسے وہ اپنے وجود کا ایک حصہ سمجھتی تھی ۔
ان سب چیزوں پر اس شخص کے ہاتھوں کا لمس تھا جسے کبھی اس نے سب سے زیادہ چاہا تھا ۔
عمر جہانگیر اب ختم ہو چکا تھا ۔سامنے پڑا موبائل اب کبھی عمر کے ساتھ اس کا رابطہ نہیں کروا سکتا تھا ۔
اس نے وہیں بیٹھ کر ٹیبل پر اپنا سر ٹکا لیا ور مٹھیاں بھینچ کر روتی گئی ۔
میں نے کبھی اس سے یہ نہیں کہا تھا وہ اس طرح چلا جائے ۔وہ بے اختیار روتی چلی گئی ۔بچوں کی طرح جنونی انداز میں ۔
اس لمحے اس پر پہلی بار انکشاف ہوا تھا کہ اسے عمر سے کبھی نفرت نہیں ہوئی تھی ۔اسے اس سے نفرت ہو ہی نہیں سکتی تھی۔صرف ایک دھوکہ اور فریب تھا جو وہ اپنے آپ کو دے رئی تھی صرف اس خواہش اور امید پر کے شاہد کبھی اسے عمر سے نفرت ہو جائے ۔۔
کبھی ۔۔کبھی۔۔کبھی ۔۔۔شاید کبھی
……………………………………
تم کرسٹی کے مرنے پر اتنا روئی ہو تو میرے مرنے پر کتنا روں گی؟عمر نے بڑی سنجیدگی سے اس سے پوچھا ۔
آ پ کس طرح کی باتیں کر رہے ہیں اس نے برا مان کر کہا ۔
پوچھ رہا ہوں اپنی معلومات کے لیے عمر مسکرایا۔۔
علیزہ کرسٹی کے مرنے پر چار دن سے وقفے وقفے سے رو رہی تھی اور وہ دو فون پر کرسٹی کی وفات کا سن کر تعزیت کے لیے اسلام آباد سے آ یا تھا۔۔
وہ اس قدر رنجیدہ اور وقفے وقفے سے رو رئی تھی کہ عمر جو صرف ایک دن کے لیے آ یا تھا اس کی حالت دیکھ کر چار دن یہاں رکا ۔۔
چوتھے دن جب وہ ڈرائیور کے ساتھ ائیرپورٹ پر اسے چھوڑنے کا رہی تھی تو اس نے اس سے پوچھا تھا۔۔
اس طرح کی باتیں نہ کریں علیزہ کو ایک بار پھر کرسٹی یاد آ ئی۔مجھے پتا ہے آ پ کو کچھ نہیں ہو سکتا۔۔
کیوں ؟ عمر حیران ہو کر اسے دیکھے گیا۔۔
بس مجھے پتا ہے۔۔۔ اور پھر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔
تم میرے لیے رونا نہیں چاہتی ہو اس لیے ایسے کہہ رہی ہو ۔علیزہ کی اآنکھوں میں ایک بار پھر آ نسوں آنے لگے ۔۔
اوکے ۔۔اوکے سوری ۔۔۔
مگر کرسٹی بہت لکی ہے جس کے لئے تم اتنا روئی ۔وہ سوری کرتے کرتے بھی باز نہیں آیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثانیہ نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی عباس اب ہونٹ بھینچے ان سب چیزوں کو دوبارہ پیکٹ میں ڈالنے لگا ۔۔۔
جسٹ ریلیکس علیزہ رونے سے وہ واپس تو نہیں آ جائے گا نا ۔ثانیہ نے اس کے کندھے کو دباتے ہوئے کہا ۔۔
میرے رونے سے تو آ جاتا تھا ۔۔۔
مجھے اس کے پاس جانا ہے میں اس کے پاس رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔
اس کا پوسٹ مارٹم ہو رہا ہے علیزہ میں کچھ دیر تک تمہیں اس کے پاس لے جاؤ گا عباس نے اس کے کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا ۔۔۔
وہ بے بسی سے روتی گئی بہت سالوں بعد وہ ایسے سب کے سامنے رو رہی تھی ۔۔۔
آ نسوں کو روکنے کی ارادی اور غیر ارادی کوشش کئے بغیر ۔۔۔
تم کبھی میچور نہیں ہو سکتی علیزہ تم کبھی میچور نہیں ہو سکتی اس حالت میں بیٹھے ہوئے اسے پہلی بار عمر کی ہر بات کا یقین آ رہا تھا۔۔
وہ ٹھیک کہتا تھا وہ جزباتی تھی اور امیچور تھی ۔۔۔وہ عمر کے کسی حصے میں ان دونوں خامیوں سے نجات نہیں پا سکتی تھی ۔۔صرف عمر تھا جو اسے جانتا تھا اور اچھے سے جانتا تھا ۔۔۔
عباس اب کمرے سے باہر جا رہا تھا ۔عباس کے یونیفارم نے ایک بار پھر اسے عمر کی یاد دلا دی تھی ۔۔
کیا کچھ نہ تھا جو اسے اس کی یاد نہ دلاتا ۔۔۔وہ گھٹنوں میں سر دے کر روتی گئی ۔۔۔۔۔۔
تو یہ ہوتی ہے زندگی
اور یہ محبت
ایک وقت میں ایک ہی چیز ختم ہوتی ہے، دونوں نہیں اور اس وقت اس کے دل میں عمر کے لیے کوئی شکایت، کوئی گلہ، کوئی شکوہ نہیں تھا اور اب زندگی میں کبھی ہو بھی نہیں سکتا تھا۔
”فائرنگ کی تھی کسی نے۔ گاڑی میں اس کا ایک گارڈ اور ڈرائیور بھی مارا گیا۔ عباس کو اس ایکسیڈنٹ کی دس منٹ بعد ہی اطلاع مل گئی تھی۔ وہ بہت اپ سیٹ تھا۔ یہاں سے خود ہیلی کاپٹر میں گیا تھا اس کی باڈی لانے کے لیے، میں کوشش کرتی رہی کہ تم لوگوں کو کسی طرح ٹریس آؤٹ کر لوں مگر نہیں کر سکی۔ خود عبا س نے بھی بہت کوشش کی۔”
تانیہ دھیمی آواز میں ساتھ والی کرسی پر بیٹھی کہہ رہی تھی۔ علیزہ کے لیے یہ سب اطلاعات بے معنی تھیں۔
”وہ چند دنوں میں امریکہ جانے والا تھا ایکس پاکستان لیو پر اور یہ سب کچھ ہو گیا۔” علیزہ نے یکدم سر اٹھا کر دھندلائی ہوئی آنکھوں سے اس کو دیکھا۔
”تمہیں لگتا ہے، میں چلا جاؤں گا تو تمہارے اور جنید کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو میں واقعی دوبارہ کبھی تم دونوں کے درمیان نہیں آؤں گا۔ میں جنید سے دوبارہ کبھی نہیں ملوں گا۔”
”تم کچھ پوچھنا چاہتی ہو؟” تانیہ نے اسے مخاطب کیا، علیزہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔ اس کے گلے میں آنسوؤں کا پھندا سا لگ گیا تھا۔
”تم ہارڈ کور کریمنل ہو۔ بس فرق یہ ہے کہ تم نے یونیفارم پہنا ہوا ہے جس دن یہ یونیفارم اتر جائے گا ، اس دن تم بھی اسی طرح مارے جاؤ گے جس طرح تم دوسرے لوگوں کو مارتے ہو۔”
علیزہ نے شکست خوردگی کے عالم میں سر جھکا لیا۔
اس نے زندگی میں خود کو اس سے زیادہ شکستہ اور قابل رحم کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
”وہ کتنی تکلیف سے گزرا ہو گا۔ کتنا درد برداشت کرنا پڑا ہوگا اسے۔” وہ ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
”کون کہتا ہے کہ کسی شخص سے ایک بار محبت ہونے کے بعد اس سے نفرت ہو سکتی ہے۔ جو کہتا ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا ہے۔
cycle of replacement میں صرف محبت کی replacement نہیں ہوتی۔ خود کو فریب دینے کے باوجود ہم جانتے ہیں کہ ہمارے وجود میں خون کی گردش کی طرح بسنے والا نام کس کا ہوتا ہے۔ ہم کبھی بھی اسے اپنے وجود سے نکال کر باہر نہیں پھینک سکتے۔ تہ در تہہ اس کے اوپر دوسری محبتوں کا ڈھیر لگائے جاتے ہیں، کہتے جاتے ہیں۔ اب ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ اب ہم اس سے محبت کرتے ہیں لیکن جو زیادہ دور ہوتا جاتا ہے وہ زیادہ قریب آتا جاتا ہے اور وہ ہمارے دل اور دماغ کے اس حصے میں جا پہنچتا ہے کہ کبھی اس کو وہاں سے نکالنا پڑے تو پھر اس کے بعد ہم نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔
وہ اس کی محبت میں اٹھارہ سال کی عمر میں گرفتار ہوئی تھی۔ وہ واحد شخص تھا جس سے وہ ہر بات کر لیتی تھی، بہت ساری وہ باتیں بھی جو وہ کبھی شہلا اور نانو سے بھی نہیں کر سکتی تھی۔
وہ واحد شخص تھا جو اس کے نخرے برداشت کرتا تھا۔ ناز اٹھاتا تھا۔ اس نے عمر جہانگیر کے علاوہ کسی سے اتنی ضد نہیں کی تھی۔ کسی کو اتنا تنگ نہیں کیا تھا۔ اس نے عمر جہانگیر کے علاوہ کسی کو برا بھلا بھی نہیں کہا تھا۔ کسی سے بدتمیزی بھی نہیں کی تھی۔ کسی پر چیخی چلائی بھی نہیں تھی۔
وہ واحد شخص تھا جو اس کی ہر غلطی اپنے کندھوں پر لینے کے لیے تیار رہتا تھا۔ جو اسے محفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا اور وہ یہ سب کچھ جانتی تھی۔
اور اب جب وہ اپنی زندگی کا سفر ختم کرکے دنیا سے جا چکا تھا تو وہ اندھوں کی طرح ہاتھ پھیلائے کھڑی رہ گئی تھی۔ کوئی دوسرا شخص اس کے لیے عمر جہانگیر نہیں بن سکتا تھا۔
دونوں ہاتھ سر پر رکھے وہ بچوں کی طرح رو رہی تھی، بالکل اسی طرح جس طرح وہ اٹھارہ سال کی عمر میں ایک بار عمر کے سامنے پارک میں روئی تھی اور پھر اس کے بعد اس کے سامنے کئی بار روئی تھی۔ کیا کچھ تھا جو آج اسے یاد نہیں آ رہا تھا۔ اسے پہلی بار لگ رہا تھا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ۔ سب کچھ…کہیں بھی، کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا۔
کیا تھا اگر وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا۔ پھر بھی اس کا ہونا ہی کتنا کافی تھا اس کے لیے۔
کچھ فاصلے پر موجود ایک کمرے میں عمر جہانگیر کے جسم کو کاٹنے والے سارے نشتر اسے اپنے وجود پر چلتے محسوس ہو رہے تھے۔ وہ اسے اپنی زندگی میں بہت سی تکلیف دہ چیزوں سے بچایا کرتا تھا اور وہاں بیٹھے علیزہ سکندر کی خواہش اتنی تھی وہ اس سب کے بدلے عمر جہانگیر کو صرف ایک چیز سے بچا لے…موت سے…
٭٭٭
رپورٹرز نے صوبائی وزیر کو گھیرا ہوا تھا۔ جو کچھ دیر پہلے ہاسپٹل پہنچے تھے۔
”آپ کا کیا خیال ہے سر! اس قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟’ ‘ ایک رپورٹر نے ان سے سوال کیا۔
”دیکھیں، اس بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ پولیس نے انوسٹی گیشن کا آغاز کر دیا ہے امید ہے جلد ہی اس افسوس ناک حادثے کے مجرموں کو پکڑ لیا جائے گا۔” انہوں نے اپنے پاس کھڑے آئی جی پنجاب کو دیکھتے ہوئے کہا جو مودبانہ انداز میں سر ہلانے لگے۔
”کیا پولیس کو اس معاملے میں کوئی لیڈ ملی ہے؟” ایک اور سوال ہوا۔
”اس بارے میں آئی جی صاحب آپ کو زیادہ اچھی طرح بتا سکتے ہیں مگر میں نہیں سمجھتا کہ وہ ابھی فوری طور پر آپ کو کوئی بریکنگ نیوز دے سکتے ہیں۔ پھر بھی بہتر ہے یہ سوال آپ ان ہی سے کریں۔” انہوں نے آئی جی صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”عمر جہانگیر ہمارے ایک بہت قابل آفیسر تھے۔” آئی جی نے اشارہ پاتے ہی اپنے بیان کا آغاز کیا۔
”ان کے ساتھ ہونے والا حادثہ دراصل ہمارے پورے ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے۔ جیسا کہ آپ کو منسٹر صاحب نے بتایا۔ پولیس نے اپنی انوسٹی گیشن کا آغاز کر دیا ہے۔ ہم حالات کا جائزہ لینے اور شواہد کی مدد سے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر مجرموں کو پکڑنے کی کوشش کریں گے اور ہمیں پوری امید ہے کہ ہم اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جائیں گے۔”
ایک رپورٹر نے آئی جی کی بات کو کاٹا ”سر یہ جو آپ اڑتالیس گھنٹے کی بات کررہے ہیں۔ آج تک کون سی پولیس اڑتالیس گھنٹوں میں مجرم پکڑنے میں کامیاب ہوئی ہے؟” آئی جی کے ماتھے کے بل کچھ گہرے ہوگئے۔
”اگر پولیس اڑتالیس گھنٹوں میں مجرم پکڑنے میں کامیاب ہوتی تو آج ہم اور آپ یہاں کھڑے ہو کر یہ گفتگو نہ کررہے ہوتے۔ پچھلے ایک سال میں جب سے آپ آئی جی پنجاب بنے ہیں۔ سات مختلف رینکس کے آفیسر کو مارا گیا ہے اور پولیس اس سلسلے کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔”
اس بار آئی جی نے قدرے ترشی سے اس غیرملکی براڈ کاسٹنگ کے ادارے سے وابستہ تیز طرار قسم کے پاکستانی صحافی کی بات کو کاٹ دیا۔
”پولیس نے ایک کے علاوہ تمام واقعات میں ملوث مجرموں کو پکڑ لیا ہے۔”
”اگر آپ واقعی مجرموں کو گرفتار کر چکے ہوتے تو آج آپ کا ایک اور آفیسر اس طرح مارا جاتا۔” اس رپورٹر نے بھی اتنی ہی تندی و تیزی سے کہا۔
صوبائی وزیر نے بروقت مداخلت کی۔ ”دیکھیں، یہ کچھ زیادہ ہی سخت قسم کا تبصرہ ہے جو آپ کررہے ہیں۔ آئی جی صاحب نے جب سے اپنی tenure شروع کی ہے، پنجاب میں لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال بہت بہتر ہو گئی ہے۔”
”سر! آپ نہیں سمجھتے کہ اتنے سینئر آفیسر کے قتل کے موقع پر لاء اینڈ آرڈر کی بہتر صورت حال کی تعریف کچھ مذاق لگتا ہے؟” صوبائی وزیر چند لمحے کچھ نہیں بول سکے۔
”وہ…دیکھیں…وہ…اگر…آپ پورے ملک میں دیکھیں…تو…میں اس کے لحاظ سے صورت حال میں بہتری کی بات کر رہا ہوں۔” صوبائی وزیر بے اختیار بوکھلائے۔
”باقی تینوں صوبوں میں کبھی بھی اس طرح دھڑا دھڑ آفیسرز قتل نہیں ہوئے۔ خاص طور پر ایک سال میں۔ آخر پنجاب میں ہی ایسا کیوں ہور ہا ہے۔”
صوبائی وزیر کے ساتھ ساتھ آئی جی پنجاب کا دل چاہا کہ وہ اس رپورٹر کی بتیسی کے ساتھ ساتھ اس کی زبان نکال کر بھی اس کے ہاتھ میں رکھ دیں مگر ہارورڈ سے پڑھا ہوا وہ صحافی ایک وفاقی وزیر کا بیٹا تھا۔ وہ اس کی بکواس اور سوال سننے پر مجبور تھے۔
”آپ پنجاب کی آبادی بھی تو دیکھیں۔” وزیر کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
”آبادی سے آفیسرز کے قتل کا کیا تعلق ہے؟”
”میں لاء اینڈآرڈر کی صورت حال کے حوالے سے آبادی کا ذکر کر رہا ہوں۔” وزیر صاحب نے قدرے تحمل مزاجی کا ثبوت دیا۔ ”باقی صوبوں میں کم آبادی کی وجہ سے اتنے مسائل کا سامنا پولیس کو نہیں کرنا پڑتا جتنا پنجاب میں کرنا پڑتا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم حالات کو اور بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔”
”آپ کا ایک ایس پی جو کسی شہر میں بادشاہ کے برابر ہوتا ہے وہ دن دیہاڑے اپنے گارڈ اور ڈرائیور کے ساتھ شہر کے بیچ میں قتل ہو جائے تو عام لوگ اپنی حفاظت کے لیے کس کی طرف دیکھیں۔” اس رپورٹر نے چیونگم چباتے ہوئے کہا۔
”پولیس اگر اپنے ایک آفیسر کو نہیں بچا سکتی تو وہ ایک عام آدمی کو کتنی سکیورٹی دے سکتی ہے۔”
”دیکھیں، جس شہر میں وہ تعینات تھے ، وہ پنجاب کے حساس علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے اور عمر جہانگیر کے بارے میں محکمے کو کچھ ایسی خبریں ملی تھیں کہ ان کی جان کو خطرہ تھا۔ انہیں دھمکی آمیز فون کالز بھی کی جاتی رہی تھیں۔ پھر ہم اس پورے معاملے میں دہشت گردی کے عنصر کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔ بہت سارے فیکٹرز ہیں جو ایسے حادثات کا سبب بن جاتے ہیں مگر ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ ایسے حادثات دوبارہ نہ ہوں۔ تھوڑی دیر میں پولیس آفیسرز کی ایک ہائی لیول کی میٹنگ ہو رہی ہے۔ کل وزیر داخلہ آرہے ہیں، وہ بھی ایک میٹنگ کررہے ہیں۔ ” اس بار آئی جی نے منسٹر سے اجازت لیتے ہوئے کہا اور رپورٹرز نے مزید کوئی سوال نہیں کیا تو آئی جی کی جان میں جان آئی۔
”سر! آپ نے دہشت گردی کا ذکر کیا ہے۔ کیا آپ کا اشارہ مذہبی دہشت گردی کی طرف ہے لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال کو خراب کرنے کے لیے یہ کسی غیرملکی ایجنسی کا کام ہے؟” ایک دوسرے رپورٹر نے نکتہ اٹھایا۔
”میں نے آپ کو بتایا نا…اس مرحلے پر ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ، جیسے ہی ہم اس معاملے میں کچھ پروگریس کرتے ہیں پریس کانفرنس کے ذریعے آپ لوگوں کو پولیس کی تمام کارروائی کے بارے میں آگاہ کر دیں گے۔” آئی جی نے کہا۔
”عمر جہانگیر کافی متنازعہ شخصیت تھے ۔ پچھلے کچھ سالوں میں کئی حوالوں سے وہ اخبارات میں آتے رہے۔ کہیں یہ کسی ذاتی دشمنی کا نتیجہ تو نہیں ہے؟” ایک دوسرے رپورٹر نے کہا۔
”ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔” آئی جی نے اس بار اکتائے ہوئے لہجے میں کہا۔
”سر! کیا اس قتل سے آئندہ آنے والی پولیس ریفارمز پر کچھ اثر پڑے گا؟” اس بار ایک دوسرے رپورٹر نے پوچھا۔
”کیسا اثر؟”
”کیا آپ کو نہیں لگتا کہ پولیس کے اختیارات میں کمی اور رول میں تبدیلی کرکے آپ پولیس آفیسر کو مزید vulnerable بنا دیں گے۔”
”اس کے برعکس میں سمجھتا ہوں کہ اس نئے سسٹم سے پولیس اور عوام کے درمیان ایک بہتر ورکنگ ریلیشن شپ پیدا ہوگا اور اس طرح کے حادثات کا سدباب بھی ہو سکے گا۔ ”لاء اینڈ آرڈر” کی صورت حال بھی اور بہتر ہو گی۔” صوبائی وزیر نے اپنے پسندیدہ جملے کی ایک بار پھر گردان کی۔
”یعنی ایس پی جب ڈی پی او اور ڈی سی جب ڈی سی او کہلانے لگیں گے تو پھر وہ اس طرح کھلے عام سڑکوں پر نہیں مارے جائیں گے۔”
”شیراز صاحب! آج آپ کو ہوا کیا ہے۔ کس طرح کے سوال کررہے ہیں آپ بار بار؟” بالآخر صوبائی وزیر چڑ کر بول ہی اٹھے۔
”شیراز صاحب نے سول سروس کے ایگزام میں دوسری پوزیشن لی ہے اور چند ہفتوں میں اکیڈمی جوائن کررہے ہیں۔” ایک دوسرے رپورٹر نے لقمہ دیا۔
”پھر تو میں امید کرتا ہوں کہ آپ پولیس سروس میں ہی آئیں گے تاکہ وہ بہتری جو ہم نہیں لا سکے آپ لائیں اور ہم بھی آپ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔” اس بار آئی جی نے اپنے چہرے پر ایک زبردستی کی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔
”ویسے بھی پولیس کے محکمے کو ضرورت ہے آپ جیسے آفیسرز کی۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔۔۔” صوبائی وزیر نے آئی جی کے جواب میں کچھ اضافہ کیا اور اگلے کسی سوال سے پہلے اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا۔
”میں الو کا پٹھا ہوں۔ میں جاؤں گا پولیس سروس میں۔” شیراز صدیقی بڑبڑایا۔
٭٭٭
ہر چیز بہت تیز رفتاری سے ہوئی، دوسرے دن شام کے قریب عمر جہانگیر کی تدفین کر دی گئی۔ جہانگیر معاذ دوپہر کے قریب پاکستان پہنچ گئے تھے۔ زرا مسعود پاکستان نہیں آ سکیں۔ وہ ایک آپریشن کے لیے ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھیں اور ان کے شوہر نے بیماری اور آپریشن کے مدنظر انہیں اطلاع دینے سے معذرت کر لی تھی۔
معاذ حیدر جیسے خاندان کے لیے عمر جہانگیر کا قتل ایک بہت بڑا صدمہ تھا، یہ تصور کرنا بھی ان کے لیے مشکل تھا کہ ان کے اپنے خاندان کے کسی فرد کو بھی اس طرح دن دیہاڑے قتل کیا جا سکتا ہے۔
عمر کے قاتلوں کے بارے میں فوری طور پر کچھ پتا نہیں چلا۔ وہ کون تھے؟ انہوں نے عمر کو کیوں قتل کیا؟ اور ایسے بہت سے سوالات کا کوئی جواب کہیں نہیں تھا۔ شاید آنے والا وقت بھی ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتا تھا۔
معاذ حیدر کا پورا خاندان اگلے کئی دن تک ان کے گھر پر جمع ہوتا رہا۔ موضوع گفتگو ہر ایک کے لیے عمر ہی رہا۔ علیزہ ان سب کو عمر کے بارے میں باتیں کرتے سنتی رہی۔
وہ ڈسکس کرتے تھے، کس طرح انہوں نے عمر کو بہت سی چیزوں کے بارے میں سمجھانے اور آگاہ کرنے کی کوشش کی تھی، کس طرح عمران تما م باتوں کو اگنور کرتا رہا، کس طرح اس کی لاپروائی اسے مختلف مواقع پر نقصان پہنچاتی رہی۔
اور ہر بحث کا نتیجہ ایک ہی نکلا کہ عمر کے ساتھ ہونے والے اس حادثے میں عمر کی اپنی غلطیاں بھی معاون تھیں۔ اسے بے ضرر بن کر سسٹم کا حصہ بننا نہیں آیا تھا، وہ ایک پاپولر آفیسر بھی نہیں تھا۔
علیزہ جانتی تھی، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جسے عمر سے ہمدردی نہیں تھی، جو عمر کے ساتھ ہونے والے واقعے پر رنجیدہ نہیں تھا مگر اس سب کے باوجودوہ facts اور figures (حقائق) کی بات کرتے تھے کیونکہ وہ سب پریکٹیکل لوگ تھے، حقیقت پسند جو کسی بھی چیز کو رشتوں اور جذباتی تعلق کے حوالے سے نہیں لے سکتے تھے۔
وہ سب عمر کواتنے بے تاثر اور غیر جذباتی انداز میں ڈسکس کر سکتے تھے مگر علیزہ نہیں کر سکتی تھی۔ وہ جانتی تھی، وہ کوئی ایماندار آفیسر نہیں تھا۔ وہ بہت سے غلط کاموں میں ملوث رہا تھا، بہت سے لوگوں کو اس نے بہت تکلیف بھی دی تھی اور بہت سے لوگوں کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث بھی بنا رہا تھا۔ کوئی بھی اس کی موت کو ”جوبو یا وہ کاٹا” قرار دے سکتا تھا۔ کوئی بھی یہ کہہ سکتا تھا کہ عمر جہانگیر اسی سلوک کا مستحق تھا مگر وہ ایسا نہیں کہہ سکتی تھی۔
اس کی زندگی میں وہ اس پر بے تحاشا تنقید کرنے لگی تھی۔ اسے عمر جہانگیر کے کاموں پر اعتراض ہونے لگا تھا مگر اس کی موت کے بعد اسے یہ احساس ہوا کہ وہ اچھا آدمی نہیں تھا۔ اچھا آفیسر بھی نہیں تھا، دوسروں کے لیے مگر اس کے لیے وہ ہمیشہ اچھا ہی رہا تھا اور وہ عمر جہانگیر کو دوسروں کی عینک سے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ وہ دوسروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی بنیاد پر اس سے نفرت نہیں کر سکتی تھی۔ یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ اس کے ساتھ جو ہوا ٹھیک ہوا۔
عمر کی موت کے ایک ہفتے کے بعد اس نے اخبار سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اب اس سسٹم کے بارے میں کبھی کچھ نہیں لکھ سکے گی۔ وہ کس منہ سے ان تمام چیزوں کے لیے دوسروں پر تنقید کر سکتی تھی جن کے لیے اس نے عمر جہانگیر کو معاف کر دیا تھا جن کے لیے وہ عمر جہانگیر کو بخشنے پر تیار تھی۔ اپنی فیملی کے اس فرد کو جس کے ساتھ اس کا جذباتی تعلق تھا۔
اسے نہیں پتا تھا کہ جہانگیر معاذ عمر کی موت سے کس حد تک متاثر ہوئے تھے، اس کے خاندان کے دوسرے مردوں کی طرح وہ بھی اپنے احساسات چھپانے اور چہرہ بے تاثر رکھنے میں ماہر تھے، یہ وہ خصوصیت تھی جو معاذ حیدر جیسے بڑے خاندانوں کے لوگوں کے ساتھ ساری عمر چلتی تھی۔
علیزہ نے نمرہ کی موت پر جہانگیر معاذ کو پریشان دیکھا تھا مگر عمر کی موت پر وہ بے حد خاموش تھے، ان کے اور عمر کے درمیان کبھی بھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے۔ وہ جانتی تھی، پچھلے چند سالوں سے ان دونوں کے درمیان بول چال تک بند تھی مگر خود وہ بھی پچھلے ڈیڑھ سال سے عمر کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی تھی۔ اس کے باوجود اس کی موت نے اسے بری طرح توڑ پھوڑ دیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ جہانگیر معاذ کے اندر کتنی توڑ پھوڑ ہوئی ہے۔ آخر وہ ان کا بڑا بیٹا تھا۔
عمر کے حادثے کی وجہ سے اس کی شادی پس منظر میں چلی گئی تھی ۔ ثمینہ نے پاکستان میں اپنا قیام بڑھا دیا تھا مگر انہوں نے جنید کی فیملی سے یا جنید کی فیملی نے ان سے اس معاملے میں فی الحال کوئی بات نہیں کی تھی۔
عمر کے دسویں کے بعد آہستہ آہستہ سب نے واپس جانا شروع کر دیا۔ ہر ایک اپنی اپنی زندگی کی طرف دوبارہ لوٹ رہا تھا۔ جہانگیر معاذ بھی بارھویں دن اپنی فیملی کے ساتھ واپس امریکہ چلے گئے تھے۔
”آپ چائے پئیں گے؟” علیزہ نے جنید سے پوچھا۔ ان دونوں کے درمیان تقریباً دو ہفتے کے بعد ملاقات ہو رہی تھی۔ وہ ہاسپٹل سے گھر تک، ہر جگہ موجود رہا تھا اور دسویں تک ہر روز اپنے گھر والوں کے ساتھ ان کے گھر آتا رہا تھا مگر اس کے اور علیزہ کے درمیان براہ راست کوئی بات نہیں ہوئی۔ حادثے کے بعد آج پہلی بار وہ علیزہ سے مل رہا تھا اور اس کی فیملی اس کے ساتھ نہیں تھی، وہ جس وقت آیا تھا، اس وقت تانیہ واپس گھر جا رہی تھی اور علیزہ اس کے ساتھ پورچ میں کھڑی تھی، جب گیٹ سے جنید کی گاڑی اندر داخل ہوئی تھی۔ اس نے گاڑی تانیہ کی گاڑی کے پاس لا کر کھڑی کر دی۔ کچھ دیر اس کے اور تانیہ کے درمیان رسمی بات چیت ہوئی پھر تانیہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی۔
”آیئے اندر آ جائیں۔” یہ پہلا جملہ تھا جو بہت دنوں کے بعد ان دونوں کے درمیان بولا گیا تھا۔
”نہیں، باہر لان میں بیٹھتے ہیں۔” جنید نے کہا اور وہ خاموشی سے لان کی طرف بڑھ گئی۔
اور اب وہ پچھلے دس منٹ سے لان کی کرسیوں پر چپ چاپ بیٹھے تھے، علیزہ نے اس گہری خاموشی کو توڑنے کے لیے اس سے پوچھا۔
”آپ چائے پئیں گے؟”
”نہیں، میں یہاں آنے سے پہلے چائے پی کر آیا ہوں۔” جنید نے جواباً کہا اور پھر کچھ توقف کے بعد پوچھا۔ ”جوڈتھ نے فون کیا تھا تمہیں؟”
”جوڈتھ نے…؟نہیں…نانو سے اس کی دوبار بات ہوئی ہے۔” علیزہ نے بتایا۔
”وہ تم سے بات کرنا چاہتی تھی۔”
”ہاں، نانو نے مجھے بتایا مگر یہ ایک اتفاق ہی ہے کہ اس سے دونوں بار میری بات نہیں ہو سکی۔”
”وہ ہفتے کی رات کو پاکستان آرہی ہے۔” جنید نے بتایا۔ علیزہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی، وہ کہہ رہا تھا۔
”وہ یہاں ٹھہرنا چاہتی ہے۔” وہ جانتی تھی جنید کا اشارہ کس طرف ہے۔
”میں نے اسے اپنے گھر رہنے کے لیے کہا ہے مگر اس کی خواہش ہے یہاں ٹھہرنے کی۔”
”آپ ان سے یہاں آنے کے لیے کہہ دیں، مجھے اور نانو کو انہیں ریسیو کرکے خوشی ہو گی۔” اس نے مدھم آواز میں کہا۔ وہ جانتی تھی جوڈتھ پاکستان کیوں آ رہی تھی۔
”انہوں نے آپ کو فلائٹ کی ٹائمنگز کے بارے میں بتایا ہے؟”
”اسے ایئر پورٹ سے میں ریسیو کر لوں گا۔” جنید نے کہا علیزہ خاموش رہی۔
”وہ یہاں ہماری شادی تک رُکے گی۔” علیزہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا، وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔ ایک عجیب سی خاموشی ان دونوں کے درمیان در آئی تھی۔
”چند دنوں تک امی اور بابا تم لوگوں سے اس سلسلے میں بات کرنے آئیں گے۔” اس نے آہستہ سے کہا۔
”انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اس سلسلے میں تم سے بات کروں تاکہ تم نانو کو اور اپنی ممی کو بتا سکو۔” علیزہ نے اس کے چہرے سے نظر ہٹا لی۔
”میں چاہتا ہوں، شادی سادگی سے ہو۔ میں زیادہ دھوم دھڑکا نہیں چاہتا۔” وہ دھیمی آواز میں بول رہا تھا۔
اس نے جس دن جنید کو اپنے اور عمر کے بارے میں بتایا تھا، اس سے اگلے دن عمر کے ساتھ وہ حادثہ پیش آگیا تھا۔ اس نے جنید سے کہا تھا کہ وہ اسے یہ سب کچھ اس لیے بتا رہی ہے کہ تاکہ حقائق سے آگاہ ہو کر وہ آسانی سے یہ فیصلہ کر سکے کہ اسے ابھی بھی علیزہ سے شادی کرنی ہے یا نہیں۔
پچھلے پندرہ دنوں میں جنید سے اس کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ وہ جنید کی کیفیات اور تاثرات کے بارے میں نہیں جانتی تھی مگر وہ یہ ضرور جانتی تھی کہ جنید کے سامنے ایک بار پھر عمر کے لیے اس کے جذبات اور احساسات عیاں ہو گئے تھے۔
اس نے بڑے وثوق سے عمر کے قتل سے ایک دن پہلے ہوٹل میں بیٹھ کر جنید سے کہا تھا کہ وہ عمر سے محبت کرتی تھی مگر اب نہیں کرتی۔ اس کے اور عمر کے درمیان اب سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ وہ اب عمر کی اصلیت جان چکی ہے اور اس کی اصلیت جان لینے کے بعد وہ عمر جیسے دھوکہ باز اور خود غرض انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
وہ جانتی تھی، پچھلے پندرہ دن میں عمر کی موت پر اس کے ردعمل نے جنید پر یہ حقیقت آ شکار کر دی ہو گی کہ وہ اب بھی عمر سے محبت کرتی ہے۔ وہ اتنا بے وقوف نہیں تھا کہ یہ اندازہ نہ کر پاتا ۔ وہ اپنے چہرے کو کبھی بے تاثر رکھنے میں کامیاب نہیں ہو پائی تھی۔ خوشی اور غم ہر تاثر اس کے چہرے سے جھلکتا تھا اور زندگی میں پہلی بار اسے اپنے چہرے کی اس خوبی پر کوئی شرمندگی نہیں ہوئی، کوئی غصہ نہیں آیا تھا۔
اس نے ان پندرہ دنوں میں ہر بار جنید کا سامنا ہونے پر کبھی یہ ظاہر ہونے کی کوشش نہیں کی تھی کہ وہ عمر کی موت سے متاثر نہیں ہوئی کیونکہ وہ اس کے ساتھ اپنا جذباتی تعلق ختم کر چکی تھی۔ وہ اپنی زندگی اور ذات کے گرد چڑھائے گئے ان خولوں سے تنگ آ گئی تھی جنہیں سنبھالتے سنبھالتے وہ پچھلے کئی سالوں سے ہلکان تھی اور شاید وہ لاشعوری طور پر جنید کے سامنے یہ اعتراف بھی کر لینا چاہتی تھی کہ وہ کبھی عمر سے نفرت نہیں کر سکتی۔ اس کی موت اس کی تمام ناراضیوں اور غصے کو ختم کر گئی تھی۔
اور ان پندرہ دنوں کے بعد واحد چیز جس کا وہ سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں تھی اور جس کی وہ توقع نہیں کر رہی تھی، وہ جنید کی طرف سے شادی کے بارے میں دوبارہ بات تھی۔ وہ اس وقت شادی کے بارے میں بالواسطہ طریقے سے بات کرتے ہوئے یقیناً یہ جتا رہا تھا کہ وہ سب کچھ جاننے کے باوجود اس رشتہ کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔
”کیوں؟” وہ اس وقت اس ایک سوال کے علاوہ اور کچھ پوچھنا نہیں چاہتی تھی۔
”سب کچھ جاننے کے بعد بھی آپ کیوں اس رشتہ کو قائم رکھنا چاہتے ہیں؟” اس نے جنید کے خاموش ہو جانے کے بعد سوال کیا۔ وہ اس کے عقب میں ایستادہ درختوں پر بیٹھے پرندوں پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔علیزہ کو لگا جیسے اس نے اس کی بات نہیں سنی ہو، اس نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا۔ اس بار جنید نے درختوں سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا۔
”پتا نہیں۔” اس نے ایک گہرا سانس لیا۔
”شاید اس لیے کہ میں تمہارے ساتھ بہت زیادہ انوالو ہو چکا ہوں یا پھر شاید اس لیے کہ میں عمر کی فیملی سے اپنا تعلق ختم نہیں کرنا چاہتا۔ بہت کچھ تو پہلے ہی ختم ہو چکا ہے، جو باقی رہ سکتا ہے۔ میں اسے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔” وہ بڑے ہموار لہجے میں کہہ رہا تھا۔
”یا پھر شاید اس لیے کہ یہ عمر کی خواہش تھی؟” اس نے جنید کے چہرے پر نظریں جما کر کہا۔ جنید نے اس کی بات کی تردید کی نہ اعتراف۔ وہ ایک بار پھر ان درختوں پر بیٹھے پرندوں کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔
”میں نے پہلی بار عمر سے تمہارا ذکر تب سنا جب وہ سول سروس کا امتحان دینے آیا تھا۔ وہ کچھ دنوں کے لیے ہمارے گھر ٹھہرا تھا۔” علیزہ نے جنید کو جیسے بڑبڑاتے دیکھا۔ وہ ابھی بھی ان ہی پرندوں کو دیکھ رہا تھا۔
علیزہ کو یاد تھا، وہ اس کی ناراضی کی وجہ سے گھر چھوڑ کر کسی دوست کے ہاں شفٹ ہو گیا تھا مگر وہ اس دوست کے بارے میں نہیں جانتی تھی۔
”پھر کچھ دنوں بعد اس نے کہا کہ وہ واپس گرینی کے پاس جا رہا ہے، میں ناراض ہو گیا۔ تب اس نے مجھ سے معذرت کی اور مجھے تمہارے بارے میں بتایا کہ کس طرح تم اس کے وہاں آ جانے پر خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہو اور پھر تم لوگوں کے درمیان دوستی ہو گئی تھی۔ میں نے عمر کی ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ میں سمجھتا تھا۔ وہ اس لیے زیادہ ہمدردی محسوس کر رہا ہے کیونکہ وہ خود بھی ایک بروکن فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔” علیزہ اسے دیکھتی رہی۔
”پھر اس کی باتوں میں اکثر تمہارا ذکر ہونے لگا۔ میں نے تب بھی غور نہیں کیا۔ تمہاری اور اس کی عمر میں بہت فرق تھا۔ تم ایک ٹین ایجر تھیں جبکہ عمر بہت میچور تھا۔ میرا خیال تھا وہ تمہارے ساتھ ایک ہی گھر میں رہ رہا ہے اور پھر تم سے ہمدردی بھی کرتا ہے، اس لیے غیر محسوس طور پر تم اس کے قریب آنے لگی ہو۔ میں نے تب بھی یہ اندازہ لگانے کی کوشش نہیں کی کہ تمہارے لیے اس کے دل میں کس طرح فیلنگز ڈویلپ ہو رہی ہیں۔” جنید نے اب علیزہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”میں تب بھی یہی سمجھتا رہا کہ اس کی سب سے زیادہ دوستی جوڈی کے ساتھ ہی ہے اور اگر کبھی اس نے شادی کی تو وہ اس سے ہی کرے گا۔ وہ دونوں ہم عمر تھے اور بہت لمبے عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔ ان دونوں کی بہت اچھی انڈر سٹینڈنگ بھی تھی۔ میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ یہی سمجھتا۔”
”آپ نے ٹھیک سمجھا۔” علیزہ نے دھیمی آواز میں پہلی بار اس کی گفتگو میں مداخلت کی۔ ”وہ جوڈتھ سے ہی محبت کرتا تھا۔ وہ اسی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔”
”میں سمجھتا تھا۔” جنید نے اس کی بات سن کر بھی اپنی بات جاری رکھی۔ ”میں عمر کے بہت قریب ہوں، اس کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں، اسے بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ ایسا نہیں تھا۔” جنید عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
”یہ صرف میری خوش فہمی تھی، میں یا اس کا کوئی بھی دوست اس کے اندر تک نہیں جھانک سکا۔ اس نے ہمیں اس کا موقع ہی نہیں دیا۔ ہم اسے صرف اتنا ہی جان سکے، جتنا وہ چاہتا تھا۔” وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ علیزہ کو اس بارے میں کوئی شبہ نہیں تھا۔
”بعد میں اس نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے شادی کر لوں۔ وہ تب فارن سروس میں اپنی پہلی پوسٹنگ پر جا رہا تھا اور میں لندن میں آرکیٹیکچر کی مزید تعلیم کے لیے۔ تم اس وقت گریجویشن کر رہی تھیں۔” علیزہ کو یاد آیا کہ یہ وہ وقت تھا جب اسے مکمل طور پر یہ یقین ہو چکا تھا کہ صرف وہی نہیں، عمر بھی اس سے محبت کرتا ہے۔ جب وہ یہ سمجھنے لگی تھی کہ بہت جلدی وہ اسے پرپوز کر دے گا اور وہ اس وقت کیا سوچ رہا تھا۔” جنید کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی امڈنے لگی۔
”میرا اس وقت شادی کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور عمر کو بھی اس بارے میں کوئی جلدی نہیں تھی ”تم اپنی تعلیم ختم کرو، پاکستان آؤ، پھر تم سے اس بارے میں مزید بات کروں گا لیکن یہ بات طے ہے کہ تمہاری شادی علیزہ کے ساتھ ہی ہو گی۔” وہ مجھ سے کہتا تھا۔
”اگر وہ مجھے اچھی لگی تو، اس کے ساتھ میری انڈر سٹینڈنگ ہو سکی تو۔” میں ہر بار اس سے کہتا اور وہ مجھے یقین دلاتا۔
”علیزہ اور تمہیں اچھی نہ لگے۔ gem of a person ، جنید gem of a person جب بیس، تیس سال تم اس کے ساتھ گزار لو گے تو پھر تم میرے احسان مند ہو گے کہ میں نے دنیا کی سب سے بہترین لڑکی کے ساتھ تمہاری شادی کروا دی۔” مجھے آہستہ آہستہ یہ محسوس ہونے لگا کہ میں عمر کو انکار نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی بات منوا لیا کرتا تھا۔ کچھ سالوں کے بعد جب گھر میں میری شادی کا ذکر ہونے لگا تو عمر نے مجھے تم سے ملوایا مگر یہ کہہ کر میں تم کو عمر سے اپنی دوستی کے بارے میں نہ بتاؤں۔ مجھے تب بھی کوئی تجسس نہیں ہوا۔ اگر اس پورے دورانیے میں مجھے ایک بار بھی یہ خیال آ جاتا کہ وہ خود تم میں انٹرسٹڈ ہے تو میں…میں کسی قیمت پر بھی تم سے شادی کرنے کا نہ سوچتا، یا تم مجھے بتا دیتیں، تو تب بھی میں اس سارے معاملے کے بارے میں عمر سے بات کرتا۔
تمہارا انکشاف میرے لیے میری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا اور اس شاک سے باہر آنے میں مجھے کئی سال لگیں گے۔”

”عمر مجھ میں کبھی بھی انٹرسٹڈ نہیں تھا، میں نے آپ کو بتایا تھا، وہ سب میری خوش فہمی تھی۔” علیزہ نے جیسے خود کلامی کی۔
”جو بھی تھا۔ مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ یہ سب کچھ بہت تکلیف دہ تھا۔” جنید خاموش ہو گیا۔ علیزہ نے اس کی آنکھوں میں پانی تیرتے ہوئے دیکھا۔
”مجھے ابھی بھی یہ یقین نہیں آتا کہ وہ…وہ زندہ نہیں ہے۔ زندگی میں پہلی بار دو ہفتے گزر گئے ہیں اور میں اس سے رابطہ نہیں کر سکا، مل نہیں سکا، نہ اس نے مجھ سے رابطہ کیا، ورنہ ہم لوگ کسی نہ کسی طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ چاہے ملک میں ہوتے یا بیرون ملک۔” وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”میں نے عمر سے بڑھ کر genuine (کھرا) آدمی زندگی میں نہیں دیکھا۔ ہم دونوں کے درمیان بہت سے اختلافات ہوتے تھے۔ وہ بہت تسلط پسند تھا۔ میں ایسا نہیں تھا مگر اس کے باوجود ہمارے درمیان تمام اختلافات ختم کرنے میں پہل وہی کیا کرتا تھا۔ ”چھوڑو، کوئی اور بات کرتے ہیں۔” وہ خود جھگڑا شروع کرتا پھر یکدم موضوع بدل دیتا اور میں واقعی موضوع بدل دیتا۔ مجھے اب بھی یہ ہی لگ رہا ہے کہ اس نے ایسا ہی کیا ہے۔
اس کی موت سے کچھ دیر پہلے اس سے میری بات ہوئی تھی۔ میں تمہارے سلسلے میں اس سے تفصیلی بات کرنا چاہتا تھا۔” وہ دم سادھے جنید کو دیکھتی رہی۔
”وہ شاید جان گیا تھا کہ میں تمہارے سلسلے میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھے رات کو فون کرے گا اور وہ رات اب کبھی نہیں آئے گی۔ وہ ہمیشہ یہی کیا کرتا تھا، جو بات نہیں بتانا چاہتا تھا وہ نہیں بتاتا تھا۔ ” جنید کے لہجے میں شکست خورد گی تھی۔
”میں اب کسی معاملے کی تحقیق نہیں کرنا چاہتا۔ میں بس اس ایک رشتے کو قائم رکھنا چاہتا ہوں جو اس کی خواہش تھی مگر میں صرف اس کی خواہش کے احترام میں ایسا نہیں کر رہا ہوں، میں یہ اپنے لیے کر رہا ہوں، اپنی فیملی کے لیے کر رہا ہوں، تمہارے لیے کر رہا ہوں، تمہاری فیملی کے لیے کر رہا ہوں، کسی پچھتاوے کے بغیر، کسی بوجھ کے بغیر میں چاہتا ہوں ہم تمام پرانی باتوں کو بھلا دیں، زخموں کو کریدنے کی کوشش نہ کریں۔
زندگی کو آج سے شروع کریں، کچھ وقت لگے گا مگر پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس نے چند دن پہلے لاہور میں مجھ سے کہا تھا کہ میں تمہارا بہت خیال رکھوں اور ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے عمر کی بات نہ مانی ہو۔ میں کسی طرح سے بھی تمہیں چھوڑ نہیں سکتا۔”
علیزہ نے اسے اس جملے کے بعد کرسی سے اٹھتے اور لان سے نکلتے دیکھا۔ وہ اپنی آنکھوں کو مسلنے لگی۔
وہ اور جنید ایک ہی شخص کی محبت میں گرفتار تھے، صرف نوعیت مختلف تھی، تعلق کی گہرائی میں کوئی فرق نہیں تھا۔
لان میں چھائے سکوت کو پرندوں کی چہچہاہٹ توڑ رہی تھی۔ بہت دور، جنید گاڑی کو ریورس کرتے ہوئے ڈرائیو وے سے نکال رہا تھا۔ اس نے ایک سال کے دوران پہلی بار جنید کی باتوں میں بے ربطی محسوس کی تھی۔ وہ بہت ہمواری اور روانی سے بات کیا کرتا تھا۔ آج پہلی بار اس کی گفتگو میں دونوں چیزیں مفقود تھیں۔ وہ خود اس سے کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں تھی۔ آخر جنید ابراہیم سے کیا بات کی جا سکتی تھی،تعزیت کی جاتی، افسوس کیا جاتا، کون کس سے کرتا۔ عمر کی موت نے دونوں کو ایک ہی طرح متاثر کیا تھا۔
عمر بالکل غلط کہتا تھا کہ اس کی موت سے کسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس کی موت نے بہت سی زندگیوں کو وقتی طور پر ابنارمل کر دیا تھا، ان میں سے ایک زندگی اس کی تھی، دوسری جنید کی اور تیسری…؟ درد کی ایک لہر اس کے اندر سے گزری۔
”تیسری جوڈتھ کی۔” اس نے سوچا۔
٭٭٭

پورچ میں جلنے والی لائٹ کی روشنی میں اس نے جوڈتھ کو جنید کی گاڑی سے اترتے دیکھا۔ وہ ٹی شرٹ اور ٹراوزرز میں ملبوس تھی۔ نانو اس سے آگے تھیں اور اب جوڈتھ سے مل رہی تھیں۔ جنید ملازم کی مدد سے گاڑی سے اس کا سامان اتروا رہا تھا۔ علیزہ ، نانو سے چند قدم پیچھے کھڑی اسے دیکھتی رہی۔
زندگی میں پہلی بار جوڈتھ کو دیکھ کر اسے کوئی غصہ، کوئی حسد محسوس نہیں ہوا۔ جوڈتھ، نانو سے ملنے کے بعد اس کی طرف بڑھ رہی تھی پھر وہ اس کے مقابل آکر کھڑی ہو گئی۔ علیزہ نے ایک قدم آگے بڑھایا اور جوڈتھ کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے گال کو نرمی سے چوم لیا۔ جوڈتھ نے جواباً اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ دونوں کے درمیان کسی لفظ کا تبادلہ نہیں ہوا تھا۔ جوڈتھ کے انداز میں بہت گرم جوشی تھی، والہانہ پن تھا، بے اختیاری تھی اور کیا تھا۔ وہ جان نہیں سکی مگر جب وہ اس سے الگ ہوئی تو اس نے جوڈتھ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ