Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 51
Rate this Novel
Episode 51
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 51
۔۔۔۔۔
اگلے روز وہ بڑے ہشاش بشاش موڈ میں ناشتے کی میز پر آئی، نانو کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے وہ ناشتہ کر رہی تھی جب اس نے اخبار بھی دیکھنا شروع کر دیا۔ ایک صفحے پر نظر دوڑاتے ہی وہ یکدم ٹھٹھک گئی۔ صالحہ پرویز کا ایک اور آرٹیکل اس کے سامنے تھا۔ موضوع اس بار بھی عمر جہانگیر ہی تھا مگر ڈسکس کی جانے والی چیز چند ہفتے پہلے ہونے والا ایک پولیس مقابلہ تھا جس میں ایک بدنام زمانہ اشتہاری مجرم کو مارا گیا تھا۔
صالحہ نے اپنے آرٹیکل میں ثبوت کے ساتھ ثابت کیا تھا کہ وہ پولیس مقابلہ جعلی تھا۔ وہ مجرم دس دن پولیس کی حراست میں رہا تھا اور پولیس نے تشدد کے ذریعے اس سے خاصی لمبی چوڑی معلومات بھی حاصل کی تھیں جن کی مدد سے انہوں نے چند اور ملزمان کو بھی اسی طرح پکڑا تھا اس کے آرٹیکل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی چند تنظیموں کے عہدے داران کی طرف سے عمر جہانگیر کے اقدامات کی مذمت اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ ”مجرم بھی بنیادی انسانی حقوق رکھتے ہیں” کے عنوان سے لکھا گیا آرٹیکل بہت موثر انداز میں لکھا گیا تھا۔
علیزہ نے اخبار رکھ دیا۔ اس کی بھوک یکدم غائب ہو گئی۔ صالحہ نے اس بار اس سے ذکر نہیں کیا تھا کہ وہ عمر جہانگیر پر ایک اور آرٹیکل لکھ رہی ہے یا وہ آرٹیکل آج ہی چھپنے والا تھا۔ علیزہ کے لیے وہ آرٹیکل یقیناً ایک شاکنگ سرپرائز کے طور پر آیا تھا۔
”تم نے ناشتہ کیوں چھوڑ دیا؟” نانو نے اسے کھڑے ہوتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
”بس مجھے اتنی ہی بھوک تھی۔” اس نے بے دلی سے کہا۔
”کم از کم چائے تو پی لو۔” نانو نے ایک بار پھر اصرار کیا۔
”دل نہیں چاہ رہا۔” وہ اپنا بیگ اٹھا کر لاؤنج سے نکل آئی۔
آفس میں داخل ہوتے ہی صالحہ سے اس کا سامنا ہو گیا۔ وہ بھی اسی وقت آفس آرہی تھی، علیزہ نے اس سے آرٹیکل کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ وہ جانتی تھی، صالحہ خود ہی اسے آرٹیکل کے بارے میں بتا دے گی اور ایسا ہی ہوا، وہ علیزہ کے ساتھ ہی اس کے آفس میں آگئی اور اندر آتے ہی اس نے کہا۔
”تم نے میرا آج کا آرٹیکل پڑھا؟”
”ہاں صبح ناشتہ کرتے ہوئے میں نے دیکھا تھا۔۔۔” علیزہ نے سرسری سے انداز میں کہا۔
”کیسا لگا تمہیں؟”
”اچھا تھا…اس کے بارے میں بھی تمہیں معلومات زین العابدین نے ہی فراہم کی ہیں؟”
”تو اور کون مجھے یہ ساری معلومات دے سکتا ہے۔ کسی دوسرے بندے کے پاس معلومات کا یہ ڈھیر ہو سکتا ہے؟” صالحہ نے تحسین آمیز انداز میں کہا۔ اس سے پہلے کہ علیزہ اسے کوئی جواب دیتی۔ فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس نے ریسیور اٹھا لیا۔
”مس صالحہ پرویز آپ کے کمرے میں ہیں؟” آپریٹر پوچھ رہا تھا۔
”ہاں۔۔۔” علیزہ نے صالحہ پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
”ان کی کال ہے۔”
”یہیں ڈائریکٹ کر دو…وہ میرے کمرے میں ہی بات کر لیں گی۔ فون کس کا ہے؟” اس نے آپریٹر کو ہدایت دیتے ہوئے سرسری سے انداز میں پوچھا۔
”عمر جہانگیر صاحب کا۔۔۔” آپریٹر نے اس کا عہدہ بتایا۔
”وہ کس سے بات کرنا چاہتے ہیں؟” علیزہ نے کچھ دم بخود ہو کر آپریٹر سے پوچھا۔
”مس صالحہ پرویز سے۔۔۔”
علیزہ نے مزید کچھ کہے بغیر ریسیور صالحہ کی طرف بڑھا دیا۔
”کس کا فون ہے؟” صالحہ نے قدرے لاپروائی سے اس سے ریسیور لیا۔
”عمر جہانگیر کا۔”
صالحہ چونک گئی۔ ”عمر جہانگیر کا…؟ مجھ سے بات کرنا چاہتا ہے وہ؟”
علیزہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
صالحہ نے ریسیور پکڑ کر فون کا اسپیکر آن کیا اور ریسیور کو دوبارہ کریڈل پر رکھ دیا۔ اس کے ساتھ ہونے والی گفتگو اب دونوں سن سکتی تھیں۔
کچھ دیر بعد وہ لائن پر تھا، عمر جہانگیر نے کسی تمہید یا ادب آداب کو بلائے طاق رکھتے ہوئے اس سے کہا۔
”میں کون بات کر رہا ہوں۔ یہ تو آپریٹر نے آپ کو بتا ہی دیا ہو گا، فون میں نے آپ کو اس لیے کیا ہے تاکہ یہ جان سکوں کہ جو بکواس آپ شائع کر رہی ہیں، وہ کس لیے کر رہی ہیں؟” اس کا لہجہ سرد اور کرخت تھا۔
”آپ کس بکواس کی بات کررہے ہیں۔ میں تو روز بہت سی بکواس لکھتی اور شائع کراتی ہوں۔” صالحہ نے لاپروا انداز میں کہا۔
”میں اس Gutter Stuffکی بات کر رہا ہوں جو آپ میرے بارے میں لکھ رہی ہیں۔” اس نے پہلے سے زیادہ تندوتیز آواز میں صالحہ سے کہا۔
”مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ آپ سچ کو gutter stuffقرار دے رہے ہیں۔ ” صالحہ نے کہا۔
”آپ اپنے سچ کو اپنے پاس رکھیں اور دوسروں کے بارے میں زبان کھولنے یا قلم اٹھانے سے پہلے دس بار سوچ لیں۔”
”میں جرنلسٹ ہوں، میرا کام ہی سچ لکھنا ہے، اب اگر سچ لکھنے سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو میں کیا کر سکتی ہوں۔”
”آپ جیسے تھرڈ کلاس یلو جرنلزم کرنے والے جرنلسٹ اور ان کے سچ کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور آپ کے ڈھونگوں اور فریبوں سے بھی واقف ہوں۔ کم از کم میرے سامنے یہ پارسائی اور سچائی کا چولہ پہننے کی ضرورت نہیں ہے؟”
صالحہ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
”آپ کو اگر میرے کسی آرٹیکل پر اعتراض ہے تو مجھے اس کی پروا نہیں ہے۔ میں وہی لکھوں گی جو میں چاہوں گی۔” اس بار صالحہ نے بھی تندوتیز لہجے میں کہا۔
”میں آپ کو اور آپ کے اخبار کو کورٹ میں لے کر جاؤں گا۔”
”کورٹ کھلے ہیں، جب آپ کا دل چاہے لے جائیں، کیا یہی اطلاع دینے کے لیے آپ نے مجھے فون کیا ہے؟”
صالحہ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
”نہیں، میں نے آپ کو یہ اطلاع دینے کے لئے فون نہیں کیا۔ ایسے کاموں کے لئے اطلاع کی ضرورت نہیں ہوتی۔” وہ اسی طرح کرخت لہجے میں بولتا گیا۔
”میں فون کر کے صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آپ حماقت کی کون سی سیڑھی پر تشریف فرما ہیں۔ اور یہ بھی چاہتا تھا کہ آپ اپنے قابل احترام انفارمر کو یہ اطلاع دے دیں کہ ایسی حرکتوں سے وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔”
”کس کی بات کر رہے ہیں آپ؟”
”زین العابدین کی بات کر رہا ہوں …وہی آپ کا ذریعہ معلومات بنا ہوا ہے نا؟” علیزہ کو صالحہ کے چہرے پر بے تحاشا حیرت نظر آئی۔
”زین العابدین نے مجھے کوئی معلومات نہیں پہنچائیں۔”
”یہ بات آپ کورٹ میں کھڑے ہو کر بتائیے گا …وہاں ضرورت پڑے گی آپ کے اس بیان حلفی کی۔” وہ ترش لہجے میں کہہ رہا تھا۔
”میں آپ کی ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہونے والی۔” صالحہ نے قدرے اکھڑ لہجے میں کہا۔
”دھمکیاں کون دے رہا ہے آپ کو …اتنا وقت کس کے پاس ہے میڈم …میں آپ کو اپنے لیگل رائٹس کے بارے میں بتا رہا ہوں۔” اس نے دوسری طرف سے طنزیہ انداز میں کہا۔
”اور آپ کو کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت ہی کیا ہے …آپ اپنے ڈیسک پر بیٹھ کر Gossip mongering (الزام تراشی) کریں اور اگلے دن اخبار میں چھپوا دیں …اللہ اللہ خیر صلا …کسی کی جان جائے یا عزت آپ کو اس سے کیا۔”
”میں کوئی Gossip mongering نہیں کرتی۔ جو بات اپنے آرٹیکلز میں کہتی ہوں۔ اس کا ثبوت ہوتا ہے میرے پاس …کریڈبیلیٹی رکھتی ہوں …خواب میں آنے والی چیزوں کو نہیں لکھ دیتی …آپ کو مزید ثبوت چاہئیں تو آپ یہاں اخبار کے دفتر تشریف لائیں …یا پھر کورٹ میں تو آپ جا ہی رہے ہیں …کورٹ میں پیش کر دوں گی سارے ثبوت۔”
عمر دوسری طرف اس کی بات پر مزید مشتعل ہوا تھا۔
”تم اور تم جیسے جرنلٹس اور ان کی کریڈیبلیٹی …تم لوگ ہیڈ لائن مافیا ہوتے ہو …ساری زندگی تم لوگ ایک چھوٹی سی خبر کو مرچ مسالہ لگانے میں گزار دیتے ہو …شاید ہر رات تم لوگ یہی خواب دیکھتے ہوئے سوتے ہو کہ اگلے دن تمہاری دی ہوئی کوئی خبر یا آرٹیکل ملک میں طوفان اٹھا دے گا۔ راتوں رات شہرت مل جانے کی خواہش میں تم لوگ جھوٹ کے پلندے اکھٹے کرتے رہتے ہو …اور پھر انہیں ٹھوس ثبوت کا ٹیگ پہنا دیتے ہو۔”
صالحہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”اور تم لوگ کیا کرتے ہو …لوگوں کو گھروں سے اٹھا اٹھا کر جعلی پولیس مقابلوں میں مارتے ہو …رشوت کا پیسہ اکٹھا کرتے ہو، اس پر عیش کرتے ہو۔”
دوسری طرف سے عمر کے ہنسنے کی آواز آئی۔ ”عیش …؟ کون سا عیش …آپ جیسے لوگوں سے گالیاں کھانا عیش ہے۔”
”میں آپ سے ۔۔۔”
دوسری طرف سے عمر نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”میرے بارے میں اب اخبار میں کچھ اور شائع نہیں ہونا چاہئے …ورنہ آپ کو اور آپ کے اخبار کو اس کی خاصی بڑی قیمت چکانا پڑے گی۔”
اس سے پہلے کہ صالحہ کچھ کہتی دوسری طرف سے لائن منقطع کر دی گئی۔ صالحہ نے برہمی سے میز پر ہاتھ مارا۔
”تم اس شخص کا انداز دیکھو …کون کہے گا کہ یہ سول سرونٹ ہے …اور یہ لوگ نکلتے ہیں عوام کو نظم و ضبط سکھانے …مائی فٹ۔” اس نے غصے کے عالم میں میز پر ایک بار پھر ہاتھ مارا۔ ”اب تم دیکھنا میں اس کے ساتھ کرتی کیا ہوں …اس کی ساری گفتگو کو اخبار میں شائع نہ کیا تو پھر کہنا بلکہ اس کال کی ایک ریکارڈنگ ہوم آفس کو بھی بھجواؤں گی …عمر جہانگیر اپنے آپ کو آخر سمجھتا کیا ہے۔”
علیزہ چپ چاپ صالحہ کو مشتعل ہوتے دیکھتی رہی۔
”اس کا فائدہ کیا ہو گا؟” علیزہ نے کچھ دیر صالحہ کو جھجک کر چپ ہوتے ہوئے دیکھ کر کہا۔
”کس کا فائدہ کیا ہو گا؟” صالحہ نے یک دم رک کر اس سے پوچھا۔
”عمر اور اپنی گفتگو کو اخبار میں شائع کرنے کا؟”
”میں عمر جہانگیر کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں اس سے خوف زدہ نہیں ہوئی۔” علیزہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
”یہ جان کر عمر جہانگیر کی صحت پر کیا فرق پڑے گا کہ تم اس سے خوف زدہ نہیں ہوئیں۔”
”اگلی بار وہ مجھے فون کرنے کی جرأت تو نہیں کرے گا۔”
”تمہارا خیال ہے یہ گفتگو شائع ہونے سے وہ ڈر جائے گا؟” علیزہ نے مذاق اڑانے والے انداز میں کہا۔
”ڈر جائے گا؟ وہ ڈر گیا ہے۔ ورنہ مجھے فون کبھی نہ کرتا۔” صالحہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ”اور وہ بھی یہاں آفس میں۔”
علیزہ نے ایک گہرا سانس لے کر اسے دیکھا، اس کا دل چاہا وہ صالحہ سے کہے کہ عمر جہانگیر ایسی چھوٹی موٹی باتوں پر خوف زدہ ہونے والا شخص نہیں ہے۔ اس کی پشت پر موجود لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ وہ ایسے چھوٹے موٹے اسکینڈلز پر پریشان ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ایسے اسکینڈلز اس کے کیرئیر پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔
”صالحہ! تم آخر عمر جہانگیر کے بارے میں بار بار آرٹیکلز کیوں لکھ رہی ہو؟” علیزہ نے کچھ دیر بعد کہا صالحہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
”یہ تم مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ میں اس کے بارے میں کیوں لکھ رہی ہوں۔” صالحہ کو جیسے اس کی بات پر یقین نہیں آیا۔ ”کیا تم نہیں جانتیں کہ میں اس کے بارے میں کیوں لکھ رہی ہوں؟” علیزہ اس کی بات کے جواب میں کچھ دیر کچھ نہیں بول سکی۔
”میں چاہتی ہوں، عمر جہانگیر کو اس کے کرتوتوں کی سزا ملے۔” وہ اسی طرح بغیر لحاظ کئے بول رہی تھی۔ ”میں چاہتی ہوں …اس کی فیملی رسوا ہو ۔۔۔” وہ بغیر رکے بولتی جا رہی تھی۔ ”میں چاہتی ہوں لوگوں کو ان کے اصلی چہروں کی شناخت ہو سکے۔” صالحہ کے لہجے میں نفرت جھلک رہی تھی۔ علیزہ پلکیں جھپکائے بغیر اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
”ایک بات پوچھوں تم سے؟” کچھ دیر کے بعد اس نے بڑے پر سکون انداز میں صالحہ سے کہا۔
”اگر عمر جہانگیر نے تمہارے انکل کے بیٹے کو نہ مارا ہوتا تو کیا پھر بھی تم اس کے خلاف اسی طرح لکھتیں؟”
صالحہ بے حس و حرکت ہو گئی، علیزہ اس کے چہرے پر نظریں جمائے جواب کی منتظر رہی۔
”تم کیا کہنا چاہ رہی ہو؟” چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہا۔
”میں یہ پوچھ رہی ہوں کہ اگر عمر جہانگیر سے تمہاری ذاتی پر خاش نہ ہوتی تو کیا تم پھر بھی اس کے بارے میں اسی طرح آرٹیکلز پر آرٹیکلز لکھتیں؟” علیزہ کا لہجہ اب بھی بہت پر سکون تھا۔
”مجھے تمہارے سوال پر حیرت ہو رہی ہے علیزہ ! کیا تم یہ سمجھ رہی ہو کہ میں صرف ذاتی دشمنی کی وجہ سے عمر جہانگیر کے خلاف لکھ رہی ہوں؟” صالحہ کے چہرے پر اب ناراضی جھلک رہی تھی۔
”کیا ایسا نہیں ہے؟” علیزہ نے کچھ بے نیازی برتتے ہوئے کہا۔
”نہیں …ایسا نہیں ہے۔” صالحہ نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”حیرت ہے۔” علیزہ نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔ ”میرا خیال تھا کہ تم صرف ذاتی چپقلش کی وجہ سے اس کے خلاف لکھ رہی ہو؟”
”یہ خیال کیوں آیا تمہیں؟”
”تم نے خود مجھے اپنے انکل، ان کے بیٹے اور دوستوں کا واقعہ سنایا تھا۔ اب وہ قصہ سننے کے بعد میں اور کس نتیجے پر پہنچ سکتی تھی۔”
”میں نے تمہیں وہ واقعہ اس لئے نہیں سنایا تھا کہ تم یہ سمجھ لو کہ میں صرف اپنی دشمنی کی خاطر اس شخص کو بد نام کر رہی ہوں۔ اس کے خلاف جو کچھ بھی میں لکھ رہی ہوں وہ ۔۔۔” علیزہ نے صالحہ کی بات کاٹ دی۔
”ہاں میں جانتی ہوں کہ اس کے بارے میں تم جو کچھ بھی لکھ رہی ہو، وہ سب سچ ہے۔ سو فی صد نہ سہی۔ نوے فی صد سہی۔ تم اس کے خلاف سچ ہی شائع کرا رہی ہو۔ مگر کیوں، ایسے سچ تو ہر بیورو کریٹ کے ساتھ منسلک ہیں،پھر عمر جہانگیر ہی کیوں؟ تم کسی اور کے بارے میں بھی تو لکھو۔”
”میں نے رضی محمود کا ذکر بھی کیا ہے اپنے پہلے آرٹیکل میں، کیا تم اسے بھول گئی؟” صالحہ نے اسے یاد دلایا۔
”’صرف ایک آرٹیکل میں، باقیوں میں کیوں نہیں …کیا رضی نے اور کوئی غلط کام نہیں کیا؟” وہ سنجیدگی سے بولتی گئی۔
”تم اس کی حمایت کیوں کر رہی ہو؟”
”حمایت نہیں کر رہی ہوں، میں بھی تمہاری طرح سچ ہی بول رہی ہوں۔ وہی جو محسوس کر رہی ہوں۔”
”اگر بات بیورو کریٹس اور بیورو کریسی کی ہی کرنی ہے تو پھر سب کی کرنی چاہیے۔ ہر برائی کو سامنے لانا چاہیے۔ ہر برے شخص پر تنقید کرنی چاہئے۔” وہ پر سکون لہجے میں نہ چاہتے ہوئے بھی عمر جہانگیر کی وکالت کر رہی تھی۔
”مجھے تمہاری نیت پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ تم یقیناً بیورو کریسی کی برائیوں کے خلاف ہی لکھنا چاہ رہی ہو گی۔ اس کرپٹ سسٹم اور اسے چلانے والوں کو ہی بے نقاب کرنا چاہتی ہو گی۔ تو پھر باقیوں کے بارے میں بھی لکھو۔” علیزہ نے اپنے سامنے پڑا ہوا اخبار اس کی طرف میز پر کھسکا دیا۔
”یہ خبر پڑھو …ایک غریب پھل فروش کو چند پولیس والوں نے پکوڑنے تلنے والے کی کڑھائی میں پھینک کر جلا دیا۔ پھل فروش نے ہاسپٹل میں اپنے نزعی بیان میں بتایا ہے کہ پولیس والے اس سے پھل لینے کے بعد قیمت دئیے بغیر جا رہے تھے جب اس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے اسے پیٹنا شروع کر دیا اور پاس موجود تیل سے بھری کڑھائی میں دھکیل دیا۔” وہ بغیر رکے کہہ رہی تھی۔ ”کل اس پھل فروش کی موت ہو گئی اور پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ وہ پھل فروش ہیروئن کا کاروبار کرتا تھا اور اس دن وہ تفتیش کے لئے اس کے پاس گئے اور انہوں نے اس کی تلاشی لینے پر اس کے پاس سے بڑی مقدار میں ہیروئن اور چرس بر آمد کر لی۔ پھل فروش نے گرفتاری اور اس الزام سے بچنے کے لئے خود کشی کی کوشش کی اور کڑاہی میں گر گیا۔ پولیس نے اس کے خلاف منشیات فروشی اور خود کشی کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ کوئی عقل کا اندھا بھی اس خبر اور واقعے میں موجود جھوٹ اور سچ کو جانچ سکتا ہے۔ کیا اس پھل فروش کے قتل کے الزام میں پورے اسٹیشن کے عملے پر مقدمہ نہیں چلنا چاہئے۔
ایس پی، ڈی ایس پی، اور ایس ایچ او کے خلاف نہیں لکھا جانا چاہئے۔ جو سب آنکھیں بند کئے سو رہے ہیں۔ اس بارے میں بھی لکھو، اس ایس پی اور ایس ایچ او کے بارے میں بھی صالحہ پرویز کو آرٹیکلز لکھنے چائیں، تا کہ اس شخص کے لواحقین کو بھی ویسا ہی انصاف مل سکے جیسا انصاف تم اپنے انکل کے بیٹے کے لئے چاہتی ہو۔ مگر ۔۔۔” علیزہ ایک لمحہ کے لئے رکی۔
”مگر اس پھل فروش کی کسی بھتیجی کا نام صالحہ پرویز تو نہیں ہو گا جو اس کے بارے میں آرٹیکلز لکھے یا انصاف مانگنے کی جرات کرے۔ تیسری دنیا کے تیسرے درجے کا شہری۔”
”علیزہ! تم کیا کہنا چاہ رہی ہو؟” صالحہ کا لہجہ اس بار بدلا ہوا تھا۔
”میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں صالحہ کہ تم اور میں قلم کی جس حرمت کی بات کرتے ہیں، وہ صرف اب ایک کتابی بات ہے۔ ہم سچ لکھتے ہیں جب اس میں ہمارا اپنا مفاد وابستہ ہو۔ ہم جھوٹ کو بے نقاب تب کرتے ہیں جب ہمیں اس سے کچھ فائدہ ہونے کی توقع ہو۔”
”تم غلط کہہ رہی ہو علیزہ۔”
”نہیں، میں غلط نہیں کہہ رہی ہوں، ہم لوگ دوسروں میں جس پروفیشنلزم کے نہ ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں۔ وہ ہم میں بھی نہیں ہے۔” علیزہ اسی طرح ٹھنڈے لہجے میں کہتی جا رہی تھی۔ ”کتنے جرنلٹس واقعی پروفیشنل ہیں۔ تم انہیں انگلیوں کی پوروں پر گن سکتی ہو، اور کم از کم میں تمہیں پروفیشنل جرنلٹس میں نہیں گردان سکتی۔ چاہے تم اس بات کو کتنا ہی برا کیوں نہ سمجھو۔” علیزہ نے صاف گوئی سے کہا، صالحہ کچھ نہیں بول سکی۔
”ہم سب ایک Rotten system (متعفن نظام) کی پیداوار ہیں اور اسی میں رہ رہے ہیں۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنا گریبان اور دامن دیکھنا بہت ضروری ہے۔ اپنے کپڑوں پر دھبے لے کر دوسروں کے داغ دکھانا حماقت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور تم یہی کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔” علیزہ خاموش ہو گئی۔
”میں پروفیشنل نہیں ہوں۔ تم پروفیشنل ہو؟” علیزہ نے سر اٹھا کر صالحہ کو دیکھا، وہ بڑی عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔ ”بقول تمہارے میں عمر جہانگیر سے ذاتی پر خاش رکھتی ہوں اس لئے اس کے خلاف لکھ رہی ہوں اور تمہارے نزدیک یہ پروفیشنلزم نہیں ہے۔” صالحہ نے استہزائیہ انداز میں کہا۔
”تو کیا یہ پروفیشنلزم ہے کہ تم عمر جہانگیر کو بچانے کی صرف اس لئے کوشش کر رہی ہو کیونکہ اس سے تمہاری رشتہ داری ہے۔” صالحہ نے بڑے چبھتے ہوئے انداز میں جیسے انکشاف کیا۔ علیزہ چونکے بغیر مسکرائی۔
”مجھے حیرت نہیں ہوئی کہ تم میرے اور عمر جہانگیر کے رشتے کے بارے میں جانتی ہو، ہاں میں اب تک حیران تھی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ تم اس رشتے کے بارے میں نہ جانتی ہو جب کہ تمہارا انفارمر زین العابدین ہے اور وہ لوگوں کے خاندانوں کو کھنگال ڈالنے کا ماہر ہے۔” علیزہ جیسے محظوظ ہو رہی تھی۔
”ہاں، تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ یہ بھی پروفیشنلزم نہیں ہے اور میں نے اپنے آپ کو پروفیشنل گردانا بھی نہیں ۔ مگر تمہارا یہ الزام بالکل غلط ہے کہ میں عمر جہانگیر کو بچانے کی کوشش کر رہی ہوں، میں ایسی کوئی کوشش نہیں کر رہی۔” اس کی آواز اب بھی اسی طرح پر سکون تھی۔ ”میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ اس کے ساتھ دوسروں کو بھی کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جائے۔ صرف ایک عمر جہانگیر کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صرف اس کے خلاف ہی یہ Defamation campaign (ہتک آمیز مہم) کیوں چلائی جا رہی ہے۔ گڑے مردے ہی اکھاڑنے ہیں تو سب کے اکھاڑے جائیں اور پھر اس وقت تم مجھے ان لوگوں کی فہرست میں شامل نہیں پاؤ گی جو کسی کو بچانے کے لئے بولیں یا لکھیں گے۔”
”تم چاہتی ہو کسی کو سزا نہیں ملی تو تمہارے کزن کو بھی نہ ملے۔” صالحہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ”مگر میں کہتی ہوں کہ کہیں نہ کہیں سے تو ابتدا ہونی چاہیے۔ عمر جہانگیر سے ہی سہی، اس کو سزا ملے تو شاید کسی دوسرے کو عبرت ہو۔” صالحہ نے سرد مہری سے کہا۔
”ان ساری پریکٹسز کا آغاز عمر نے نہیں کیا تھا۔ ان کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے یہ سب شروع کیا۔” وہ نہ چاہتے ہوئے بھی خود کو عمر کا دفاع کرنے پر مجبور پا رہی تھی۔
”تم صرف یہ چاہتی ہو کہ عمر کو کچھ نہ ہوتا کہ تمہاری فیملی کے بارے میں کچھ بھی اخباروں میں نہ آئے۔”
صالحہ نے عجیب سے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔
”نہیں، میں چاہتی ہوں سب کی فیملیز کے بارے میں لکھا جائے۔ سچ مچ …سب کچھ …میری تمہاری، سب کی فیملیز کے بارے میں۔ کیونکہ میں اپنی فیملی کے بارے میں رشک یا فخر جیسے کسی جذبے میں مبتلا نہیں ہوں۔” علیزہ نے اس کے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ صالحہ اس کی بات پر مشتعل ہو گئی۔
”میری فیملی نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ جس کے بارے میں اخباروں میں کچھ شائع ہو۔”
”کتنی عجیب بات ہے جب کہ تمہاری فیملی کے بھی بہت سے لوگ بیورو کریسی میں اور جوڈیشری میں ہیں۔ کیا یہ معجزہ نہیں ہے کہ وہ بالکل پاک باز ہیں۔ کوئی بری بات انہیں چھو کر نہیں گزری۔ کوئی کرپشن کوئی اسکینڈل ان کے دامن پر کہیں کسی قسم کا کوئی دھبہ نہیں ہے۔ کیا کوئی اس بات پر یقین کرے گا صالحہ؟” علیزہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”میری طرح آخر تم بھی یہ تسلیم کیوں نہیں کر لیتیں کہ تمہاری فیملی کے افراد سے بھی بہت سی غلطیاں ہوتی رہی ہوں گی بلکہ اب بھی ہو رہی ہوں گی۔”
”میں ایسی کوئی بات تسلیم نہیں کر سکتی۔ اگر تمہاری فیملی کے بارے میں الزامات سامنے آ گئے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم سب کی فیملیز کو ہی اسی فہرست میں لا کھڑا کرو۔ کم از کم میں اپنی فیملی کو اس فہرست میں شامل نہیں کر سکتی جہاں تمہاری فیملی کا نام درج ہے۔” صالحہ نے کندھے اچکاتے ہوئے سرد مہری سے کہا۔
”تم مجھ پر متعصب ہونے کے الزامات لگا لو …یا پھر مجھے اَن پروفیشنل ہونے کے طعنے دے لو …مگر اس سے حقیقت نہیں بدلے گی۔ میں عمر جہانگیر کے بارے میں جو کچھ لکھ رہی ہوں، وہ سچ ہے اور یہ ضروری ہے کہ اسے اس کے کئے کی سزا دی جائے۔” صالحہ نے اسی رفتار سے بولتے ہوئے کہا ”اب تم اسے ہمدردی کا نام دو یا رشتہ داری کا، بہر حال میں چاہتی ہوں کہ میرے کزن کے ساتھ ہونے والی بے انصافی کا ازالہ کیا جائے گا۔”
”تو پھر یہ قلم سے ہونے والا کوئی جہاد تو نہیں ہے جس کے بارے میں تم اور میں بلند بانگ دعوے کرتے پھرتے ہیں۔ یہ صرف اپنے اپنے مفاد کی جنگ ہے۔ کیوں میں غلط کہہ رہی ہوں۔” علیزہ اب بھی اسی طرح پر سکون تھی۔
”اپنے لئے انصاف طلب کرنا مفاد پرستی کیسے ہو گیا؟” صالحہ نے اس کی بات پر چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔
”صرف اپنے لئے انصاف طلب کرنا مفاد پرستی ہی ہے، اسے کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔”
”ٹھیک ہے پھر تم اسے مفاد پرستی کا نام دے لو۔ ہاں، میں چاہتی ہوں کہ عمر جہانگیر کو سزا ملے کیونکہ اس کو سزا ملنی چاہئے اور اگر میری اس خواہش کی وجہ اپنی فیملی کے ساتھ اس کی طرف سے کی جانے والی کوئی زیادتی ہے تو بھی میں حق پر ہوں۔” صالحہ نے دو ٹوک انداز میں کہا ”میں انسان ہوں، فرشتہ نہیں ہوں۔”
”اور اگر یہی بات عمر جہانگیر کہے یا پھر رضی محمود تو …؟” صالحہ چند لمحوں تک کچھ نہیں کہہ سکی۔
”اگر وہ بھی یہی کہیں کہ انہوں نے بھی اسی خود غرضی کا مظاہرہ کیا تھا ۔جس خود غرضی کا مظاہرہ ہم سب اپنی اپنی استطاعت میں کرتے رہے ہیں تو…؟”
”تم ایک غلط۔۔۔” علیزہ نے اس کی ناراضی سے کہی جانے والی بات کو کاٹ دیا۔
”نہیں صالحہ… تم میری بات سنو…میں عمر جہانگیر کو بچانا نہیں چاہتی ہوں مگر اس کے باوجود میں جانتی ہوں اسے کچھ بھی نہیں ہوگا مگر میں پروفیشنل اخلاقیات کی بات کر رہی ہوں جو ہمیں سکھائی جاتی ہیں۔ جرنلزم ایسا جرنلزم جو ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو۔ ہر ذاتی پسند یا ناپسند سے ماورا ہو۔”
علیزہ مایوسی کے عالم میں کہہ رہی تھی۔ ”ہم بیورو کریسی کو پروفیشنلزم سکھانے کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم ان پر تنقید کرتے ہیں۔ رائی کا پہاڑ بناتے ہیں یا یہ کہہ لو کہ چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا دیتے ہیں اور خود ہم کیا ہیں۔ ہم بھی اخلاقیات کے ہر معیار سے اسی طرح گرے ہوئے ہیں جس طرح وہ لوگ۔۔۔” وہ بول رہی تھی۔
”ہم پسند یا ناپسند کی بنیاد پر لوگوں کی عزتیں اچھالتے ہیں۔”
”علیزہ تم۔۔۔” صالحہ نے ناراضی کے عالم میں کچھ کہنے کی کوشش کی۔ علیزہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
”میں صرف تمہاری بات نہیں کر رہی ہوں۔ میں ایک عام سی بات کر رہی ہوں۔ تم یہ سب کچھ کرنے والی واحد نہیں ہو۔ ہم تعلقات کی بنیاد پر خبریں شائع کر دیتے ہیں۔ ہم روپیہ اور پرمٹ لے کر لوگوں کی تعریفیں شائع کر دیتے ہیں۔ ہمیں خریدنا کیا مشکل کام ہے۔” وہ افسردگی سے مسکرائی۔
”میں سوچتی تھی کہ شاید یہ ایک پروفیشن ایسا ہے جہاں ایمانداری سے سب کچھ ہوتا ہے مگر اب میں جانتی ہوں کہ یہاں بھی ایمانداری کا تناسب اتنا ہی ہے جتنا سوسائٹی کے کسی دوسرے حصے میں۔۔۔” اس نے سر جھٹکا ”ہم اپنے آرٹیکلر اور ایڈیٹوریلز میں لوگوں کو اخلاقیات سکھاتے پھرتے ہیں۔ انہیں تہذیب، شائستگی جیسی باتوں پر لیکچر دیتے ہیں۔ بہتان اور الزام تراشی پر ملامت کرتے ہیں۔ گرتی ہوئی اخلاقی اقدار کا رونا روتے ہیں اور پھر ہم ایکٹرز سے لے کر سیاست دانوں اور اب عام آدمیوں کی بھی عزتیں اچھالتے پھرتے ہیں اور پھر ہم اسے نام دیتے ہیں انفارمیشن کا اور دعویٰ کرتے ہیں کہ عوام کو سب پتا ہونا چاہیے ۔ ہم ہر خبر کو مرچ مسالہ لگا کر اخبار کی سرکولیشن بڑھانے کے لیے فرنٹ پیج پر لگا دیتے ہیں۔ فلاں نے فلاں کے ساتھ گھر سے بھاگ کر کورٹ میں شادی کر لی۔ فرنٹ پیج نیوز اگلا پورا ہفتہ ہم اسے ہی کور کرتے رہتے ہیں۔ کسی جگہ سات آدمی قتل ہو گئے ہم ساتوں کی کٹی ہوئی گردنیں فرنٹ پیج پر شائع کر دیں گے، ہم نے آج تک معاشرے میں کون سا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ہم جن ایکٹرسز کے لباس اور کردار پر تبصرے اور تنقید کرتے ہیں ان ہی ہیروئنوں کی ان ہی ملبوسات میں تصویریں شائع کرتے ہیں اور ہم دوسروں میں قول و فعل کا تضاد ڈھونڈتے ہیں۔” وہ ہنسی۔
”ہم جن سیاستدانوں پر کیچڑ اچھالتے پھرتے ہیں انہیں کی حمایت ، ان ہی کی تعریفیں شائع کر تے ہیں۔ فخر سے لکھتے ہیں کہ فلاں نے ہمیں چائے پر بلایا، فلاں ساتھ دورے پر لے گیا۔ فلاں نے اپنے بیٹے کی شادی پر بلایا۔ ہم ان کے ساتھ تصویریں بھی کھنچواتے ہیں اور پھر ان تصویروں کو فریم کروا کر اپنی دیواروں پر بھی لٹکاتے ہیں۔” وہ ایک لمحہ کے لیے رکی ۔ ”ہم بیورو کریسی پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ ان کے ہر کام پر اعتراض کرتے ہیں اور اپنے تمام غلط کاموں کے لیے ان کے پاس بھی جاتے ہیں۔ اگر عمر جہانگیر نے تمہارے کزن کے ساتھ یہ سب کچھ نہ کیا ہوتا تو کیا تمہیں کبھی یاد آتا کہ وہ کس شہر میں کیا کارنامے کر رہا ہے، کبھی نہیں ہمارے لیے پریشانی کھڑی ہو تو ہمیں ان پر اعتراض ہوتا ہے۔ ہمارے سارے کام کسی رکاوٹ کے بغیر ہو جائیں تو ہم ان کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ ہم ریاست کا چوتھا ستون۔۔۔”
وہ ایک بار پھر ہنسی…اس بار صالحہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات اب پہلے سے زیادہ بگڑے ہوئے تھے۔
”تمہاری اس ساری گفتگو کے باوجود میں عمر جہانگیر کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کو اخبار میں شائع کروں گی۔” اس نے علیزہ کو دوٹوک انداز میں بتایا۔
”ضرور کرو… میں تمہیں نہیں روکوں گی۔” علیزہ نے مسکراتے ہوئے کہا، چند لمحے تک صالحہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی پھر کمرے سے باہر نکل گئی۔
علیزہ کے چہرے پر پہلی بار پریشانی کے آثار نظر آئے۔
٭٭٭
اگلے دن صبح ناشتہ کرتے ہوئے اس نے کچھ بے دلی سے اخبار کھولا۔ اسے توقع تھی کہ اخبار میں صالحہ اور عمر کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیلات ہوں گی۔ عمر کے لیے ایک اور نئی مصیبت، وہ جانتی تھی عمر اس گفتگو کی تردید نہیں کر سکے گا، کیونکہ صالحہ کے پاس آفس کے ایکسچینج میں موجود آپریٹر کی ریکارڈ شدہ گفتگو ہو گی اور اس بات کا اندازہ عمر کو بھی ہونا چاہیے تھا، اسے ویسے بھی عمر کی حماقت پر حیرت ہو رہی تھی کہ اس نے اس طرح فون کرکے صالحہ کو دھمکانے کی کوشش کی۔ وہ جس قدر محتاط فطرت رکھتا تھا اس سے اس قسم کی غلطی کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی مگر وہ غلطی کر چکا تھا اور علیزہ جانتی تھی یہ غلطی عمر کو خاصی مہنگی پڑے گی۔ خاص طور پر اس صورت میں اگر صالحہ نے پریس کانفرنس میں وہ گفتگو صحافیوں کو سنانے کا فیصلہ کر لیا تو۔
مگر اخبار دیکھ کر اسے حیرت ہوئی تھی۔ صالحہ کی کوئی تحریر اس میں شامل نہیں تھی نہ صرف یہ کہ اس کی تحریر نہیں تھی بلکہ اخبار میں کہیں بھی صالحہ اور عمر کے درمیان ہونے والی گفتگو کے حوالے سے کوئی نیوز آئٹم بھی نہیں تھا۔
علیزہ نے اخبار کی ایک ایک خبر دیکھ لی…مگر وہاں عمر کے حوالے سے کچھ بھی موجود نہیں تھا کچھ دیر بے یقینی سے وہ اخبار کو دیکھتی رہی پھر اس نے اسے رکھ دیا۔ اب اسے آفس جانے کی بے چینی تھی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ صالحہ نے عمر کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کو شائع کیوں نہیں کی۔ کیا اس پر علیزہ کی باتوں کا اثر ہو گیا تھا یا پھر…یا پھر کوئی اور وجہ تھی۔
اس دن آفس جا کر اسے پتا چلا کہ صالحہ آفس نہیں آئی۔
”صالحہ آفس کیوں نہیں آئی؟” علیزہ نے اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک سب ایڈیٹر سے پوچھا۔
”وہ چند دن کی چھٹی پر چلی گئی ہے۔” نغمانہ نے اسے بتایا۔
علیزہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔” چند دن کی چھٹی پر…؟” کل تک تو اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اب اچانک اسے چھٹی کی کیا ضرورت آن پڑی؟”
”یہ تو مجھے نہیں پتا ، مجھے تو خود آج صبح ہی پتا چلا ہے کہ وہ چھٹی پر چلی گئی ہے۔ وہ بھی تب جب مجھے اس کا کام سونپا گیا ہے۔” نغمانہ نے لاپروائی سے کہا۔ ”تم فون کرکے پوچھ لو اس سے کہ اچانک اسے چھٹی کی کیا ضرورت آن پڑی۔”
علیزہ کو ہچکچاہٹ ہوئی اگر اس کے اور صالحہ کے درمیان کل والی گفتگو نہ ہوئی ہوتی تو وہ یقیناً اسے کال کرنے میں تامل نہ کرتی مگر اب اس کے لیے صالحہ کو فون کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
”تم کیا سوچنے لگیں؟” نغمانہ نے اسے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر پوچھا۔
”نہیں کچھ نہیں…بس ایسے ہی۔” علیزہ نے کہا کچھ دیر بعد ایک خیال آنے پر اس نے نغمانہ سے پوچھا۔
”کیا صالحہ نے کوئی آرٹیکل لکھا ہے۔ کوئی نیا آرٹیکل؟” نغمانہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
”تم کب کی بات کر رہی ہو؟”
”کل کی…یا آج۔۔۔”
”نہیں، اس نے کوئی نیا آرٹیکل نہیں دیا۔ ہو سکتا ہے گھر سے کچھ بھجوا دے یا پھر چھٹیوں کے بعد کچھ لکھ لائے مگر فی الحال اس کا کوئی آرٹیکل میرے پاس نہیں ہے۔”
”اچھا۔۔۔”علیزہ کچھ اور الجھی۔
”کیا اس نے تم سے کسی آرٹیکل کی بات کی تھی؟” نغمانہ نے اچانک اس سے پوچھا۔
”نہیں ایسے کسی خاص آرٹیکل کی بات تو نہیں کی۔ میں ویسے ہی پوچھ رہی تھی کہ شاید چھٹی پر جاتے ہوئے وہ کوئی نئی چیز دے کر گئی ہو۔”
کچھ دیر نغمانہ کے پاس رہنے کے بعد وہ واپس اپنے کیبن میں آگئی۔ اپنے کیبن میں آنے کے بعد اس نے فون اٹھا کر آفس کے آپریٹر سے بات کی۔ ”ذکا…صالحہ نے کل آپ سے کسی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ لی ہے؟” اسے لگا دوسری طرف ذکا جواب دیتے ہوئے کچھ تامل کر رہا ہے۔
”آپ کس کی گفتگو کی بات کر رہی ہیں؟” کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ذکا نے اس سے پوچھا۔
”کل میرے آفس میں آپ نے صالحہ کی عمر جہانگیر کے ساتھ بات کروائی تھی۔ میں اس کی ریکارڈنگ کی بات کر رہی ہوں۔” علیزہ نے اسے یاد دلایا۔
”نہیں، وہ میں نے صالحہ کو نہیں دی… آپ جانتی ہیں، چیف ایڈیٹر کو بتائے بغیر اور ان سے اجازت لیے بغیر ایسی کوئی ریکارڈنگ کسی کو نہیں دی جاتی۔” کل صالحہ نے مجھ سے وہ ریکارڈنگ مانگی تھی مگر جب میں نے تیمور صاحب سے بات کی تو انہوں نے وہ ریکارڈنگ دینے سے منع کر دیا۔” ذکا نے چیف ایڈیٹر کا نام لیتے ہوئے کہا۔ علیزہ کچھ پرسکون ہو گئی۔
”تو وہ ریکارڈنگ آپ کے پاس ہے؟” اس نے ذکا سے پوچھا۔
”نہیں۔ وہ میرے پاس بھی نہیں ہے۔”
”آپ کے پاس نہیں ہے تو پھر کس کے پاس ہے؟” علیزہ نے حیرانی سے پوچھا۔
”وہ تیمور صاحب نے اپنے پاس منگوا لی تھی۔ شاید سننے کے لیے؟” ذکا نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
”پھر بعد میں انہوں نے مجھے بلا کر کہا کہ میں اس کو ضائع کر دوں۔”
”آپ نے ضائع کر دی؟”
”جی۔۔۔”
”اچھا ٹھیک ہے۔ میں بس یہی جاننا چاہتی تھی۔” اس نے ریسیور رکھ دیا اور کچھ دیر پر سوچ انداز میں فون کو دیکھتی رہی۔
یکدم تیمور صاحب کے دل میں عمر جہانگیر کے لیے اس قدر ہمدردی کہاں سے اُمڈ پڑی تھی کہ انہوں نے اس ٹیپ کو ضائع کر دیا جس میں موجود مواد کے شائع ہونے سے عمر کی پوزیشن اور خراب ہوتی وہ الجھ رہی تھی۔
”جب کہ ابھی چند دن سے تو وہ صالحہ کو اس کے آرٹیکلز پر داد دے رہے تھے اور پھر زین العابدین ، کیا اس نے صالحہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا یا صالحہ نے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا؟” وہ اس معمے کو حل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔
اب کم از کم اسے صالحہ پرویز کے چھٹی پر جانے کی وجہ سمجھ میں آگئی تھی۔ وہ یقیناً احتجاجاً چھٹی پر گئی تھی جب اسے تیمور صاحب سے اس گفتگو کو شائع کرنے کی اجازت نہیں ملی ہو گی تو…اس نے یقیناً یہی بہتر سمجھا ہو گا کہ وہ اپنی ناراضی کا اظہار کرے مگر کیا عمر نے چیف ایڈیٹر سے بھی بات کی تھی؟ اس کے ذہن میں اچانک ایک خیال آیا۔
”یقیناً کی ہو گی ورنہ انہوں نے صالحہ کو وہ گفتگو شائع کرنے سے منع کرنے اور اس ٹیپ کو ضائع کرنے کا فیصلہ کیوں کیا اور اب وہ کل کیا کریں گے ۔ کیا اخبار میں معذرت شائع کریں گے۔ صالحہ پرویز کی طرف سے اور اخبار کی طرف سے یا پھر۔۔۔”
وہ اب عمر کی حکمت عملی کے بارے میں اندازے لگانے کی کوشش میں مصروف تھی۔
اگلے دن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا جیسا وہ توقع کر رہی تھی۔ اس کے اخبار میں عمر کے بارے میں اس دن بھی کوئی چیز نہیں تھی۔ ہر طرف یکدم ایک خاموشی چھا گئی تھی۔ آفس میں بھی کچھ نئی خبریں تھیں جن کو ڈسکس کیا جا رہا تھا اور علیزہ کے تجسس میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ یہ تجسس ہی تھا جو اسے زہرہ جبار کے پاس لے گیا تھا وہ ان کے انڈر کام کرتی تھی۔
”میں آپ سے پرسوں کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں۔” اس نے کچھ رسمی سی باتوں کے بعد ان سے اپنے مطلوبہ موضوع پر گفتگو شروع کر دی۔۔
”پرسوں کے بارے میں؟”
”ہاں صالحہ کے حوالے سے۔” علیزہ نے کہا۔
”پرسوں صالحہ سے میری بات ہو رہی تھی۔ وہ ایک اور آرٹیکل لکھنا چاہ رہی تھی عمر جہانگیر کے بارے میں” اس نے بات شروع کی۔ ”دراصل اس دن عمر جہانگیر نے فون کیا تھا یہاں صالحہ کو…میرے آفس میں ہی بات ہوئی تھی دونوں کی بلکہ کچھ جھگڑا بھی ہوا تھا اور فون پر بات ختم کرنے کے بعد صالحہ نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ عمر کے بارے میں ایک اور آرٹیکل لکھے گی بلکہ اس کی تمام گفتگو شائع کر دے گی مگر پھر وہ چھٹی پر چلی گئی اور میرا کوشش کے باوجود اس سے رابطہ نہیں ہو سکا۔” علیزہ نے جھوٹ بولا۔
”پھر کل مجھے پتا چلا کہ تیمور صاحب نے صالحہ کو وہ آرٹیکل لکھنے سے منع کر دیا ہے اور وہ گفتگو کی ریکارڈنگ بھی ضائع کروا دی۔” اس نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
”ہاں…اوپر سے کچھ پریشر تھا۔” زہرہ جبار نے اس کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”کیسا پریشر…؟” علیزہ نے پوچھا۔
”تمہیں پتا ہونا چاہیے علیزہ کیسا پریشر ہو سکتا ہے۔ تم آخر اس خاندان کی ایک فرد ہو۔” وہ عجیب سے انداز میں مسکرا کر بولیں۔
علیزہ چند لمحے کچھ نہیں بول سکی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ وہ بھی یہ بات جانتی ہو گی۔ ”یقیناً صالحہ نے یہ بات۔۔۔” اس کی سوچ کا تسلسل ٹوٹ گیا۔
”میں تو صالحہ سے یہ جان کر حیران رہ گئی کہ تم عمر جہانگیر کی کزن ہو، میرے تو وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا، اور مجھے حیرت اس بات پر بھی تھی کہ تم اور صالحہ اتنی اچھی فرینڈز ہو اور صالحہ پھر بھی تمہاری فیملی کے بارے میں لکھ رہی ہے اور تم نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔” زہرہ جبار اب کہہ رہی تھیں۔
”یہ تو مجھے صالحہ نے بتایا کہ وہ خود بھی چند دن پہلے تک یہ بات نہیں جانتی تھی۔ تم نے اس سے بھی کبھی اس بات کا ذکر ہی نہیں کیا۔”
”یہ ضروری تو نہیں تھا کہ میں ایسا کرتی۔”
”ہاں ٹھیک ہے ضروری تو نہیں تھا مگر پھر بھی…چلو کوئی بات نہیں، اب تو ویسے بھی سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔” زہرہ جبار نے اس کی بات کے جواب میں قدرے لاپروائی سے کہا۔
”میں یہی جاننا چاہ رہی ہوں کہ سب کچھ کیسے ختم ہو گیا ہے۔ کل تک تو۔۔۔” زہرہ جبار نے اس کی بات کاٹ دی۔
”یہ تو میں نہیں جانتی۔ تیمور صاحب نے اتنی تفصیل نہیں بتائی مگر پرسوں کافی کالز آئی تھیں ان کے پاس، کافی اوپر سے اور وہ قدرے پریشان تھے۔ پھر انہوں نے صالحہ کو بلوا کر اس سے بات کی۔”
”مگر وہ کیوں پریشان تھے۔ خود گورنمنٹ نے بھی تو انکوائری کا اعلان کیا تھا۔ عمر کے خلاف۔”
”ہاں گورنمنٹ نے اعلان کیا تھا مگر اعلان کرنے میں اور انکوائری کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ صالحہ تو پرسوں بہت غصہ میں تھی۔ غصہ میں ہی چھٹی لے کر گئی ہے۔” انہوں نے اسے ایک اور اطلاع دی۔ ”تمہارے اور صالحہ کے درمیان تو آپس میں کوئی بات نہیں ہوئی؟”
”کیسی بات؟”
”کوئی جھگڑا…؟”
”نہیں، مجھ سے اس کا کوئی جھگڑا کیوں ہوگا۔ ہم ابھی بھی دوست ہیں۔” اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔
”مجھے صرف تجسس ہو رہا تھا۔ اس لیے میں نے یہ سب کچھ آپ سے پوچھا۔” علیزہ نے وضاحت کی۔ ”مگر مجھے حیرانی ہو رہی ہے۔”
”کس بات پر؟”
”تیمور صاحب اتنی آسانی سے تو پریشرائز نہیں ہوتے ، بلکہ ہمارے اخبار کی کریڈ یبیلٹی اسی بات پر بیس کرتی ہے کہ ہم ہر قسم کے پریشر کو فیس کرنا جانتے ہیں اور کبھی بھی پریشر کے آگے سرنڈر نہیں کرتے پھر اب اتنے چھوٹے سے ایشو پر۔۔۔”زہرہ جبار نے کندھے اچکائے۔
”ہاں مجھے بھی حیرت ہے مگر…ظاہر ہے…پیچھے کوئی نہ کوئی بات تو ہو گی۔ کوئی ایسی بات ہو گی کہ تیمور صاحب نے اس سارے معاملے کو ختم کرنا بہتر سمجھا۔۔۔”
”اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ زین العابدین بھی اسی اسائنمنٹ پر کام کر رہا ہے۔ تیمور صاحب اسے کیسے روکیں گے؟ وہ تو کمپرومائز نہیں کرتا۔”
”تم سے کس نے کہا کہ زین العابدین اس اسائنمنٹ پر کام کر رہا ہے؟” زہرہ جبار نے کچھ چونک کر کہا۔
”صالحہ سے پتا چلا ہے مجھے۔” علیزہ نے صالحہ کا حوالہ دیا۔
”میرے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے اور زین العابدین۔۔۔” زہرہ جبار کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔ ”وہ کبھی بھی پہلے سے اپنی اسائنمنٹس کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا، پھر صالحہ…جو بھی ہو، یہ زین العابدین اور تیمور صاحب کا مسئلہ ہے۔ وہ خود ہی اسے ورک آؤٹ کر لیں گے۔” انہوں نے سر جھٹکتے ہوئے کہا علیزہ وہاں سے باہر آگئی۔
٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
۔
