Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 8
Rate this Novel
Episode 8
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 8
۔۔۔۔۔
باب 10
…….
ائیر پورٹ پر ڈرائیور اس کے نام کا کارڈ لئے موجود تھا۔ وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑی۔ ائیر پورٹ سے گھر تک کا راستہ بھی خاموشی سے طے ہوا۔ ڈرائیور گاڑی ڈرائیو کرتا رہاتھا اور وہ سڑک پر نظر آنے والی ٹریفک دیکھتی رہی تھی۔ جوں جوں گھر قریب آ تا جا رہا تھا اس کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہوتی جا رہی تھی۔ وہ مسلسل اپنے باپ کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
”وہ یقیناً مجھے دیکھ کر حیران ہوں گے ، کیونکہ اب میں بہت بڑی ہو گئی ہوں۔ ہو سکتا ہے اب میرا قد بھی ان کے برابر آگیا ہو۔”
اس نے مسکراتے ہوئے سوچاتھا۔
”پاپا یقیناً مجھے بہت مس کر رہے ہوں گے۔ اسی لئے تو انہوں نے مجھے یہاں آتے ہی بلا لیاہے۔”
اسے کچھ فخر کا احساس ہوا تھا۔
گاڑی اب اس کے ددھیالی گھر پہنچ گئی تھی۔ ڈرائیور کے ہارن بجانے پر گیٹ کھل رہا تھا۔
سامنے پورچ خالی نظر آرہا تھا۔
”ابھی ہارن سننے پر پاپا باہر آ جائیں گے۔”
اس نے کچھ مسرور ہوکرسوچا۔
گاڑی اب پورچ میں پہنچ گئی تھی۔
وہ دروازہ کھول کر نیچے اتر آئی۔ پورچ ابھی بھی خالی تھا۔ ڈرائیور اب ڈکی سے اس کا سامان نکال رہا تھا۔ وہ ابھی بھی اندر سے پاپا یا کسی اور کی آمد کی منتظر تھی۔ ڈرائیور نے ڈکی سے سامان نکالنے کے بعد اسے کہا۔
”علیزہ بی بی ! اندر آ جائیں۔”
یہ کہتے ہوئے وہ پیچھے دیکھے بغیر آگے بڑھ گیا۔ اسے یک دم مایوسی ہوئی تھی۔
”پاپا یقیناً لاؤنج میں ہوں گے اور میرے اندر آنے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔”
اس نے فوراً خود کو تسلی دی تھی ۔ ڈرائیور کے پیچھے وہ بھی اندر داخل ہو گئی تھی۔ لاؤنج خالی تھا، وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ ڈرائیور نے ایک کونے میں اس کا بیگ رکھ دیاتھا۔
”آپ بیٹھ جائیں، میں اندر بتا دیتا ہوں۔” ڈرائیور اس سے کہتا ہوا اندر چلا گیا تھا۔
علیزہ کو وہ خود سے زیادہ اس گھر کا ایک فرد لگا تھا۔ کسی مہمان کی طرح وہ ایک صوفہ پر بیٹھ گئی تھی۔ اس کی مایوسی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔ گھر میں اتنی خاموشی تھی جیسے وہاں ملازموں کے علاوہ کوئی تھا ہی نہیں۔ اس گھر میں ہمیشہ اتنی ہی خاموشی رہتی تھی۔ بچپن سے لے کر اب تک وہ جتنی بار وہاں آئی تھی، ہمیشہ اسی خاموشی نے اس کا استقبال کیا تھا ہاں پہلے فرق یہ تھا کہ پاپا اسے دروازے پر ملا کرتے تھے اور اس خاموشی کو وہ بعد میں محسوس کیا کرتی تھی۔ آج خاموشی کو اس نے پہلے محسوس کیا تھا اور پاپا سے وہ ابھی نہیں ملی تھی۔
پچھلی بار جب وہ یہاں آئی تو دادا کے علاوہ چچی اور ان کے دو بچوں سے بھی اس کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس گھر کے مکینوں کی تعداد بس اتنی ہی تھی۔
”اب پاپا اور ان کی فیملی۔”
اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیاتھا۔ کمرے میں ڈرائیور کے ساتھ ایک عورت داخل ہوئی۔ علیزہ نے اسے پہچان لیا تھا۔ وہ خانساماں کی بیوی تھی۔ پچھلے کئی سال سے وہ دونوں وہیں کام کر رہے تھے۔ اس عورت نے آتے ہی بڑی گرم جوشی اور انکسار سے علیزہ سے ہاتھ ملایا۔ ا س کا حال احوال پوچھا تھا۔
”سب لوگ تو ابھی سو رہے ہیں، آدھے گھنٹے تک اٹھ ہی جائیں گے۔ صاحب نے آپ کے آنے کے بارے میں ہمیں رات کو بتا دیا تھا، اور کہا تھا کہ جب آپ آئیں تو میں آپ کو کمرے میں پہنچا دوں اور آرام کرنے کے لئے کہوں!”
زرینہ نے اسے آگاہ کیا تھا ۔ علیزہ کو ایک اور جھٹکا لگا۔
”پاپا سو رہے ہیں ؟”
اسے یقین نہیں آیا تھا۔
”ہاں ! یہاں سب لوگ دیر سے ہی اٹھتے ہیں ، لیکن آدھے گھنٹے تک اٹھ ہی جائیں گے۔ آپ میرے ساتھ آئیں میں آپ کو آپکا کمرہ دکھا دیتی ہوں۔ آپ چاہیں تو کچھ دیر آرام کر لیں۔”
زرینہ نے اس کا بیگ اٹھا تے ہوئے کہاتھا۔ اب وہ اس کے آگے چل رہی تھی، اور علیزہ کا سارا جوش وخروش سرد ہو چکا تھا۔ وہ خاموشی سے زرینہ کے پیچھے چلتی گئی تھی۔ زرینہ نے ایک کمرے کا دروازہ اس کے لئے کھول دیا تھا۔ وہ کمرے تک علیزہ کی رہنمائی نہ بھی کرتی تب بھی علیزہ کو وہ کمرہ اچھی طرح یاد تھا۔ ہمیشہ یہاں آنے پر وہ اسی کمرے میں ٹھہرا کرتی تھی۔ کمرے کی کلر اسکیم اور پردوں اور کارپٹ کا رنگ بدلا جا چکا تھا۔ مگر سیٹنگ وہی تھی۔ زرینہ نے کمرے کے ایک کونے میں اس کا بیگ رکھ دیا تھا۔ علیزہ خاموشی سے بیڈ پر جا کر بیٹھی گئی تھی۔
”آپ کے لئے چائے لاؤں؟”
ملازمہ نے اس سے پوچھاتھا۔
”نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں۔”
کچھ بجھے ہوئے دل کے ساتھ اس نے زرینہ سے کہا تھا۔
وہ سر ہلاتی ہوئی اس کمرے سے نکل گئی۔ وہ چپ چاپ بیڈ پر سیدھی لیٹ گئی۔ اس نے یاد کرنے کی کوشش کی تھی کہ لاہور میں اس وقت نانو کیا کر رہی ہوں گی۔ وہ یقیناً دوپہر کا کھانا تیار کروارہی ہوں گی، اسے خیال آیا تھا اور شاید مجھے بھی یاد کر رہی ہوں گی۔ اس نے خود کو خوش کرنے کی کوشش کی تھی۔
بیڈ پر سیدھی لیٹی وہ بہت دیر تک چھت کو بے مقصد دیکھتی رہی پھر اس نے آنکھیں بند کر لی تھیں جب وہ غنودگی کے عالم میں تھی تو اس نے دروازہ پر دستک سنی تھی۔ بے اختیار اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ دستک ایک بار پھر ہوئی، اور وہ اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
”یس کم ان!” اپنے ذہن پر چھائی ہوئی غنودگی کو اس نے جھٹک کر دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ دروازہ کھول کر خانساماں کی بیوی اندر آئی تھی۔
”علیزہ بی بی ! سکندر صاحب اٹھ گئے ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں۔”
اس نے اندر آتے ہی اطلاع دی۔ علیزہ بے اختیار اپنے بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ پہلے کی مایوسی ایک دم غائب ہو گئی تھی۔
”پاپا کہاں ہیں ؟”اس نے زرینہ سے پوچھاتھا۔
”وہ لنچ کرنے کے لئے ڈائننگ روم میں گئے ہیں۔”
زرینہ نے اسے بتایاتھا۔
وہ اس کے ساتھ چلتی ہوئی کمرے سے باہر آگئی تھی۔
”ڈرائنگ روم میں وہ صرف اکیلے ہی ہیں ؟”
اس نے کوریڈور میں آکر زرینہ سے پوچھاتھا۔
”نہیں، سب لوگ وہیں ہیں، بڑے صاحب، شمامہ بی بی اور طلحہ۔”
اس نے علیزہ کے دادا، چچی اور ان کے بیٹے کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
”انکل منان کہاں ہیں؟”
اس نے اپنے چچا کے بارے میں پوچھاتھا۔
”چھوٹے صاحب تو فیکٹری گئے ہوئے ہیں اور تانیہ بی بی ابھی سکول سے ہی نہیں آئیں۔”
زرینہ نے گھر کے باقی دو افراد کے بارے میں بھی اسے اطلاع دے دی، اور وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی رہی۔
جب وہ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تو سب لوگ گفتگو میں مصروف تھے۔ سکندر اسے دیکھ کر اپنی کرسی سے اٹھ کر اس کی طرف آئے اوراسے خود سے لپٹا لیاتھا۔
”میں تو تمہیں پہچان ہی نہیں سکا علیزہ! تم تو اتنی بڑی ہو گئی ہو؟”
انہوں نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا علیزہ کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
”اب تو تم میرے جتنی ہو گئی ہو!”
انہوں نے اسے بہلاتے ہوئے کہاتھا۔
”کیسی ہو تم؟”
”میں ٹھیک ہوں پاپا !آپ کیسے ہیں؟”
اس نے جواباً پوچھا تھا۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں ، اور تمہیں سفر میں کوئی پرابلم تو نہیں ہوا؟”
انہوں نے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے پوچھا۔
”نہیں!”
اس نے مختصراً جواب دیاتھا۔
”اپنے دادابو اور آنٹی سے ملی ہو؟”
اسے ساتھ لئے ہوئے ڈائننگ ٹیبل کی طرف جاتے ہوئے انہوں نے پوچھاتھا۔
”نہیں جب میں آئی تو سب لوگ سو رہے تھے!”
اپنی آنٹی کو دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے کہاتھا، اور دادا ابو نے حسب عادت اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہو ئے اس کا حال احوال دریافت کیا۔ آنٹی نے اپنی کرسی سے کھڑے ہو کر اسے گلے لگا یا تھا۔
”تمہارے پاپا ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں کہ تم تو واقعی بہت بڑی ہو گئی ہو۔”
انہوں نے اس کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
آنٹی میں چار سال بعد یہاں آئی ہوں۔ چار سال میں مجھے کچھ نہ کچھ تو بڑا ہونا ہی تھا۔”
اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے، بارہ سالہ طلحہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔ اس کی چچی جواباً صرف ہلکے سے مسکرا دیں تھیں۔ سکندر اب اپنی کرسی پربیٹھ چکے تھے۔
”یہاں میرے پاس آ جاؤ علیزہ!”
انہوں نے اپنے بائیں طرف والی کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ وہ خاموشی سے ان کی طرف آئی تھی۔ سکندر اب دوبارہ اپنے باپ سے باتوں میں مصروف ہوچکے تھے۔ وہ ان کاچہرہ دیکھنے لگی، ان کے چہرے پر چند جھریوں کا اضافہ ہو چکا تھا۔ وہ پچھلی بار کی نسبت زیادہ فریش اور سمارٹ نظر آرہے تھے۔ اسے وہاں ان کے پاس بیٹھ کر عجیب قسم کے تحفظ کا احساس ہونے لگا۔
”علیزہ !کھانا شروع کرو بھئی، تم کس چیز کا انتظار کرو بھئی، تم کس چیز کا انتظار کر رہی ہو؟”
اس کی چچی نے اسے مخاطب کرتے ہوتے کہا تھا۔
اس نے خاموشی سے پلیٹ اپنے آگے سرکا لی اور اس میں چاول ڈالنے لگی۔ سکندر ابھی بھی اپنے والد سے باتوں میں مصروف تھے۔ چچی اور طلحہ خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے، اور وہ جو کل سے یہ سوچ رہی تھی کہ یہاں آتے ہی سب اسے خاص اہمیت دیں گے۔ کیونکہ وہ چار سال کے بعد وہاں آئی تھی۔ بے حد دل گرفتہ تھی۔ یہاں کسی کو اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑاتھا۔
”حتیٰ کہ میرے پاپا کو بھی نہیں ،جو کل یہ کہہ رہے تھے کہ وہ مجھے بہت مس کر رہے ہیں۔”
اس نے بے دلی سے چاول کھاتے ہوئے سوچا۔ چچی نے کھانے کے دوران دو چار بار ڈشز اس کی طرف بڑھائی تھیں، مگر جب اس نے کھانے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تو ان کا جوش و خروش بھی ٹھنڈا پڑگیا۔
اس نے اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی کہ نانو کے ساتھ کھانا کھانے اور پاپا کے ساتھ کھانے میں کیا فرق ہے؟ اسے احساس ہو ا تھا دونوں جگہ اس کے لئے کوئی خاص تبدیلی نہیں تھی۔
کھانے کے دوران اس کے دادا ابو نے دو ، تین بار اسے مخاطب کیا تھا۔ اور پھر کھانے سے فارغ ہو کر وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔ آنٹی شمامہ بھی طلحہ کے ساتھ ڈائننگ روم میں سے نکل گئی تھی۔ تب اس کے پاپا نے اس سے دوبارہ گفتگو کا سلسلہ شروع کیاتھا۔
”اسٹڈیز کیسی جارہی ہیں تمہاری؟”
انہوں نے سویٹ ڈش نکالتے ہوئے پوچھاتھا۔
”بہت اچھی !”
وہ باپ کے مخاطب کرنے پر ایک بار پھر خوش ہو گئی تھی۔
”کونسی کلاس میں ہو؟”
اسے ان کے سوال پر یک دم دھچکا لگاتھا۔ اس کا خیا ل تھا انہیں یہ یاد ہو گا ہر بار فون پر وہ انہیں اپنی کلاس کے بارے میں ضرور بتایا کرتی تھی۔
”اے۔ لیولز میں”
مدھم آواز میں اس نے کہا تھا ۔
”آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟”
”آگے کے بارے میں ابھی سوچانہیں ، آپ بتائیں پاپا! مجھے آگے کیا کرنا چاہئے؟”
اس نے بڑے اشتیاق سے سکندر سے پوچھاتھا۔
”جو تم کرنا چاہتی ہو وہ کرو۔”
انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے کہاتھا۔
”مگر میں وہ کرنا چاہتی ہوں جو آپ چاہتے ہیں!”
”بھئی، میں کیا بتا سکتا ہوں کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے یہ تو تمہیں خو د طے کرنا ہے یا پھر تمہاری ممی اور نانو طے کریں گی۔”
سکندر نے کندھے اچکاتے ہوئے کہاتھا۔
”نو پاپا ! ان سے نہیں آپ سے گائیڈینس لینا چاہتی ہوں، یقین کریں میں وہی کروں گی جو آپ مشورہ دیں گے۔”
اس نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے جیسے انہیں یقین دلانے کی کوشش کی تھی۔
اس کے پاپا نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔
”جو میں کہوں گا۔ چلو ٹھیک ہے اس پر بعد میں بات کریں گے۔”
انہوں نے بات کا موضوع بدل دیا تھا۔
”تمہارے نانا نانی کیسے ہیں؟”
”بالکل ٹھیک ہیں!”
”تمہارا خیال رکھتے ہیں ؟”
انہوں نے جیسے کچھ جانچنے کے لئے غور سے اس کی طرف دیکھتے ہو ئے پوچھا تھا۔
”بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں ، اور نانو تو ایک منٹ بھی میرے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ نانا بھی بہت کیئرنگ ہیں۔ ابھی بھی یہاں آنے پر وہ دونوں بہت اداس ہو رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ وہ مجھے بہت مس کریں گے۔ اصل میں ان دونوں کو میری بہت عادت ہو گئی ہے۔ میں نہیں ہوتی تو وہ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نانو تو آنے ہی نہیں دے رہی تھیں کہ میں ابھی چند ہفتہ پہلے ہی آسٹریلیا سے آئی ہوں، اور اب پھر جارہی ہوں۔ مگر میں ضد کر کے آئی ہوں، وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں، پھر بھی پاپا میرا وہاں دل نہیں لگتا۔” ا س نے جھوٹ کا ایک انبار جمع کرتے ہوئے کہاتھا۔ سکندر اس کی باتوں سے جیسے مطمئن ہو گئے تھے ،ایک بار پھر وہ سویٹ ڈش کی طرف متوجہ ہو گئے۔
”کیوں ! دل کیوں نہیں لگتا؟”
انہوں نے پوچھاتھا۔
”میں آپ کو بہت مس کرتی ہوں۔”
وہ کہنا چاہتی تھی کہ وہ ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، مگر وہ کچھ جھجک کر بات بدل گئی تھی۔
”تمہیں ان کی محبت کی قدر کرنی چاہئے۔آخر وہ تمہاری اتنی پرواہ کرتے ہیں ، تمہیں کوشش کرنی چاہئے کہ تمہارا دل بھی وہاں لگا رہے!”
انہوں نے جو کہا تھا۔ وہ ان سے نہیں سننا چاہتی تھی۔ کچھ مایوس ہو کر اس نے باپ کی طرف دیکھاتھا۔
”میں کوشش کرتی ہوں۔”
کچھ بے دلی سے اس نے کہاتھا۔
”تمہاری آنٹی اپنے میکے گئی ہوئی ہیں ، شام کو آ جائیں گی تو تم مل لینا ان سے۔”
انہوں نے اسے بتایا تھا۔ علیزہ نے غور سے باپ کا چہرہ دیکھا وہ بہت مطمئن نظر آ رہے تھے۔
”وہ آپ کے ساتھ آئی ہوئی ہیں۔”
”ہاں ! وہ میرے ساتھ آئی ہوئی ہیں۔”
وہ کچھ چپ سی ہو گئی۔ اس کے باپ نے اس کی خاموشی کو بغور نوٹ کر لیاتھا۔
”تمہارے لئے کچھ چیزیں لے کر آیا ہوں، کچھ چیزیں تمہاری آنٹی نے بھی پسند کی ہیں۔ شام کو جب وہ آئیں گی تو خود ہی تمہیں دیں گی۔”
انہوں نے اسے اطلاع دی تھی۔
”مجھے ایک ضروری کام سے باہر جانا ہے ۔ تم آرام کرو یا پھر اپنی آنٹی وغیرہ سے باتیں کرو، شام کو تم سے دوبارہ ملاقات ہو گی۔”
انہوں نے سویٹ ڈش ختم کرنے کے بعد ٹیبل سے کھڑے ہو تے ہوئے کہاتھا۔ وہ بھی خاموشی سے ان کے ساتھ ہی کھڑی ہو ئی۔
”کیا میں اس طرح ان کے ساتھ ایک ہفتہ گزاروں گی۔”
اپنے کمرے میں جانے کے بعد اس نے کچھ دل گرفتگی سے سوچاتھا۔
”پاپا کو پتہ ہو نا چاہئے تھا کہ میں چار سال کے بعد ان سے مل رہی ہوں کیا ان کے پاس میرے لئے تھوڑا سا وقت بھی نہیں ہے؟”
وہ ایک بار پھر بیڈ پر لیٹ گئی۔
٭٭٭
وہ تین سال کی تھی، جب اس کے والدین کے درمیان طلاق ہو گئی تھی۔ طلاق کی وجوہات پر دونوں میں سے کسی نے بھی روشنی ڈالنا پسند نہیں کیا تھا اس لئے وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے والدین کے درمیان کون سے اختلافات تھے۔ ان دونوں سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت وہ کبھی نہیں کر سکی مگر نانو سے اس نے چند ایک بار یہ سوال پوچھا تھا اور ملنے والا جواب اس کی تسلی نہیں کر سکا تھا۔ وہ ہمیشہ یہی کہہ دیتی تھیں کہ ان دونوں کے درمیان انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہوئی۔
طلاق کے بعد علیزہ اپنی ماں کی کسٹڈی میں رہی تھی۔ سکندر نے اس سلسلے میں پورا تعاون کیا تھا۔ طلاق کے ایک سال کے اندر علیزہ کی ممی کی دوسری شادی ہو گئی تھی اور تب یہ طے پایا تھا کہ علیزہ اپنے نانی، نانا کے پاس رہے گی۔
سکندر نے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ وہ خود بھی دوسری شادی کرنا چاہ رہے تھے، اور علیزہ کی ذمہ داری اٹھانے سے کچھ گریزاں تھے، ان کے اپنے گھر میں ایسا کوئی نہیں تھا جو علیزہ کو پال سکتا اور وہ اسے اتنی چھوٹی عمر میں اپنے ساتھ مسقط بھی نہیں لے جا سکتے تھے اور نہ ہی وہ لے جانا چاہتے تھے کیونکہ یہ ایک بہت بڑی ذ مہ داری تھی۔ اس لئے انہوں نے علیزہ کو مستقل طور پراس کے ننھیال کے حوالے کر دیا تھا، ہر ماہ وہ اس کے اخراجات کے لئے ایک اچھی خاصی رقم اس کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروا دیتے تھے اور ان کی یہ روٹین اب تک جاری تھی۔
طلاق کے دو سال بعد انہوں نے اپنی پسند کی دوسری شادی کر لی تھی ا ور وہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ مسقط لے گئے تھے۔ علیزہ سے چند ماہ کے وقفے سے وہ فون پر باتیں کیا کرتے تھے اور پاکستان آنے پر چند دن کے لئے اس کو اپنے پاس بلوا لیا کرتے تھے۔ ان کے خیال میں ان کی ذمہ داری یہیں پر پوری ہو جاتی تھی۔
علیزہ کی ممی اپنے شوہر کے ساتھ آسٹریلیا میں مقیم تھیں اور علیزہ کے ساتھ ان کا سلوک بھی سکندر سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔ وہ چھٹیوں میں علیزہ کو اپنے پاس آسٹریلیا بلوا لیا کرتی تھیں۔ چھٹیاں گزارنے کے بعد علیزہ واپس پاکستان آجایا کرتی تھی۔ پچھلے کئی سالوں سے گرمیوں کی چھٹیوں میں اس کا یہی معمول تھا۔
اس کی ممی اور پاپا بہت پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ شاید ان میں سے کسی کو بھی اپنی سابقہ زندگی کا خیال بھی نہیں آتا تھا۔ وہ ہر بار ان سے ملنے کے بعد سوچا کرتی تھی کہ اس کے بغیر بھی وہ دونوں بہت خوش تھے شاید ان دونوں کو کبھی اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی ہو گی اور وہ صرف فرض نبھانے کے لئے اسے اپنے پاس بلاتے ہوں گے۔ ماں باپ سے ملنے کے لئے وہ جتنی بے تاب رہی تھی۔ ان سے ملنے کے بعد اس کی بے چینی اور مایوسی بھی اتنی بے چین ہو جاتی تھی۔
٭٭٭
وہ جس وقت دوبارہ بیدار ہوئی تھی اس وقت شام ہو رہی تھی۔ اپنا بیگ کھول کر اس نے کپڑے نکالے تھے اور نہانے کے لئے وہ باتھ روم میں چلی گئی تھی۔
آدھ گھنٹہ کے بعد وہ تیار ہو کر لاؤنج میں آئی تھی، وہاں کوئی نہیں تھا۔ کچھ سوچ کر وہ باہر لان میں نکل آئی تو آنٹی شمامہ اپنے دونوں بچوں کے ساتھ موجود تھیں۔ طلحہ سائیکل چلا رہا تھا اور تانیہ آنٹی کے ساتھ بیٹھی ہو ئی تھی۔
وہ آج یہاں آنے کے بعد ابھی تانیہ سے نہیں ملی تھی۔ پچھلی بار چار سال پہلے وہ یہاں آئی تھی تو تانیہ صرف چار سال کی تھی۔ وہ چلتی ہوئی ان کے پاس آگئی۔ آنٹی شمامہ نے تانیہ سے اس کا تعارف کروایاتھا۔ علیزہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تھا اور تانیہ نے کچھ شرماتے ہوئے ہاتھ ملا لیا۔ وہ کرسی کھینچ کر ان کے پاس ہی بیٹھ گئی تھی۔ کچھ دیر تک تینوں خاموش رہے تھے پھر علیزہ نے پوچھا
”انکل منان ابھی واپس نہیں آئے؟”
”نہیں، وہ تو نو بجے کے قریب آتے ہیں۔”
ایک با رپھر خاموشی چھا گئی اور علیزہ کی طرح شاید آنٹی شمامہ بھی اسی الجھن میں گرفتار تھیں کہ اس سے کیا بات کی جائے۔ ایک بار پھر علیزہ نے ہی پہل کی تھی۔
”پاپا کب تک آئیں گے؟”
”وہ تمہاری آنٹی کو لینے گئے ہیں اور میرا خیال ہے ۔کچھ دیر تک آ جائیں گے۔”
آنٹی نے اسے بتایا۔
”دادا ابو کہاں گئے ہیں؟”
”پاپا گالف کھیلنے گئے ہوئے ہیں وہ بھی آنے والے ہی ہوں گے !”
علیزہ ایک بار پھر اگلے سوال کی تلاش میں سرگرداں تھی مگر اس بار آنٹی شمامہ نے اس کی یہ مشکل حل کر دی تھی۔
”کراچی کیسا لگا؟”
فوری طور پر اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ صبح ائیر پورٹ سے گھر تک دیکھے جانے والے کراچی کے بارے میں وہ کیا تبصرہ کر سکتی تھی ۔
”اچھا ہے !”
اس نے مختصر جواب دیاتھا۔
”ملنے آ جایا کرو کبھی کبھی ، تم صرف تب ہی آتی ہو جب تمہارے پاپا آتے ہیں۔”
انہوں نے شکوہ کیا تھا یا دعوت دی تھی۔ اسے اندازہ نہیں ہو سکا تھا۔ اسے اندازہ لگانے میں کبھی بھی مہارت نہیں رہی تھی۔ وہ ان سے یہ نہیں کہہ سکی کہ اسے صرف پاپا کے آنے پر ہی بلایا جاتا ہے۔ وہ خاموش رہی۔
”اپنی ممی سے ملتی رہتی ہو؟”
انہوں نے اچانک پوچھا تھا۔
علیزہ نے انہیں دیکھا وہ بہت متجسس نظر آ رہی تھیں۔
”ہاں ! ممی کے پاس تو جاتی رہتی ہوں ، ہر سال چھٹیاں وہیں ان کے پاس گزارتی ہوں۔ وہ چاہتی ہیں کہ میں ان کے پاس وہیں رہوں لیکن یہ مجھے بہت مشکل لگتا ہے۔ یہاں نانا اور نانو ہیں میرے بغیر وہ بالکل اکیلے ہو جاتے ہیں۔ ان کے بغیر میر اکہیں اور دل نہیں لگتا۔ اس لئے میں ہر بار ممی کو ناراض کر کے واپس آجاتی ہوں۔”
اس نے ایک بار پھر جھوٹ کا جال بننا شروع کر دیا۔ آنٹی شمامہ نے بھی جواباً کچھ نہیں کہا تھا۔
”کتنے دن کے لئے آئی ہو؟”
کچھ دیر بعد انہوں نے اچانک پوچھا تھا۔
“یہ تو پاپا پر ڈیپینڈ کرتا ہے، وہ چاہ رہے ہیں کہ جب تک یہاں ہیں میں ان کے پاس رہوں۔”
اس نے جال کو ایک اور گرہ لگائی تھی۔
”یعنی دو ہفتوں کے لئے۔”
شمامہ آنٹی نے کہاتھا۔
علیزہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
”کیا پاپا اس بار صرف دو ہفتوں کے لئے آ ئے ہیں؟”
”نہیں سکندر بھائی کو تو پاکستان آئے یہ چوتھا مہینہ ہے، اب تو دو ہفتہ بعد وہ واپس جانے والے ہیں۔”
آنٹی شمامہ نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پر سکون انداز میں کہاتھا۔ گرہ ایک دم سے جیسے کھل گئی تھی اور علیزہ کو بری طرح سے جھٹکا لگاتھا۔
”چار ماہ سے پاپا یہاں ہیں ، یعنی میرے آسٹریلیا جانے سے بھی بہت پہلے پاپا پاکستان آئے تھے اور تب فون پر بات کرنے کے باوجود انہوں نے مجھے بتایا نہیں۔ انہیں میرا خیال اس وقت آیا جب وہ واپس جارہے ہیں۔”
وہ کچھ نہیں بول سکی۔
”کیا پاپا کو بالکل ہی میری ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔”
اس نے سوچا۔
”مگر کل انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ بھی مجھے مس کرتے ہیں تو کیا وہ جھوٹ بول رہے تھے؟”
وہ الجھ گئی تھی۔
”میں پاپا کی اکلوتی بیٹی ہوں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پاپا مجھے مس نہ کرتے ہوں ، ہو سکتا ہے وہ واقعی مصروف ہوں۔”
اس نے ایک بار پھر خود کو بہلانے کی کوشش کی۔ آنٹی شمامہ اس سے کچھ کہہ رہی تھیں وہ چونک کر ان کی طرف متوجہ ہو گئی۔
”سکندر بھائی اگلے سال پاکستان شفٹ ہو رہے ہیں۔”
اس کے لئے یہ خبر بھی حیران کن تھی۔
”پاپا نے مجھے نہیں بتایا۔”
اس نے سوچا تھا۔
”اگلے سال؟”
اس نے آنٹی شمامہ سے پوچھا تھا۔
”ہاں اگلے سال تک ان کا گھر مکمل ہو جائے گا۔”
آج شاید اس کے لئے حیرانیوں کا دن تھا۔
”پاپا گھر بنوا رہے ہیں؟”
”ہاں گھر تو انہوں نے پچھلے سال بنوانا شروع کر دیا تھا، اب تو کافی حد تک مکمل بھی ہو گیا ہے۔ اگلے سال تک فرنشنگ بھی ہو جائے گی اور وہ پاکستان شفٹ ہو جائیں گے۔”
وہ گم صم سی آنٹی شمامہ کی بات سنتی رہی سکندر نے اس سے اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔
”ہو سکتا ہے کہ ان کے ذہن سے نکل گیا ہو اور ابھی ان سے میری تفصیلی بات بھی کہاں ہوئی ہے۔ شاید وہ مجھے بتائیں۔”ہمیشہ کی طرح اس نے خود کوغلط فہمیوں میں مبتلا کرناشروع کر دیاتھا۔
”مگر پچھلے سال سے اب تک پاپا سے بات ہوئی ہے انہوں نے ایک بار بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا نہ ہی اس بات کا کہ وہ پاکستان شفٹ ہونا چاہ رہے ہیں۔”
وہ چاہنے کے باوجود مطمئن نہیں ہو سکی تھی۔
گیٹ پر ہارن کی آواز سنائی دی تھی ”لگتا ہے ، تمہارے پاپا آگئے ہیں۔”
شمامہ آنٹی نے گیٹ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا، وہ بھی گیٹ کی جانب متوجہ ہو گئی جہاں کھلے گیٹ سے ایک گاڑی اندر داخل ہو رہی تھی۔ گاڑی پورچ میں جا کر رکی تھی۔ پھر اس نے گاڑی میں سے اپنے پاپا اور ان کی بیوی کو اترتے دیکھا تھا۔ پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر اس کے چھوٹے دونوں بھائی گاڑی سے اتر رہے تھے۔
پاپا نے اپنی بیوی سے کوئی بات کی تھی اور وہ لان کی طرف متوجہ ہو گئی تھیں پھر علیزہ نے پاپا کے ساتھ انہیں اپنی جانب آتے دیکھا۔ ان کے قریب آنے پر علیزہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہو ئی تھی۔
پچھلی کئی بار کی طرح اس بار بھی انہوں نے اسے گلے لگا کر اس کا گال چوما تھا اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی علیزہ کو ان کے انداز میں گرم جوشی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ سب بالکل فارمل تھا۔
”حسن ۔ احسن ! ادھر آؤ بھئی۔ علیزہ سے آکر ملو۔”
اس کی دوسری ممی اب اپنے بیٹوں کو آواز دے کر بلا رہی تھیں۔ وہ دونوں قریب آگئے تھے اور ان کے پیچھے موجود وجود نے علیزہ کو حیران کر دیا تھا۔ حسن اور احسن نے پاس آکر علیزہ سے ہاتھ ملائے تھے مگر اس کی نظریں اسی وجود پر مرکوز رہی تھیں۔ اس نے پاپا کو اس ننھی سی ساڑھے تین سالہ بچی کو اٹھاتے اور پھر اس کا گال چومتے دیکھا تھا۔
”علیزہ! یہ مریم ہے تمہاری چھوٹی بہن اور مریم! یہ تمہاری آپی ہیں۔”
پاپا نے اس سے کہا تھا۔ وہ دم سادھے مریم کے بجائے پاپا کا چہرہ دیکھتی رہی۔ ساری خالی جگہیں اس کے وجود کے بغیر ہی پر کر لی گئی تھیں۔
”شاید اسی لئے پاپا نے مجھے مس نہیں کیا کیونکہ اب صرف میں ہی نہیں ان کی ایک اور بیٹی بھی ہے جو ہر وقت ان کے پاس ان کے سامنے رہتی ہے اور جسے وہ گود میں بھی اٹھاتے ہیں اور اس کا چہرہ بھی چومتے ہیں۔”
وہ کوشش کے باوجود چہرے پر کوئی مسکراہٹ نہیں لا سکی صرف خاموشی سے پاپا اور مریم کو دیکھتی رہی جو ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش نظر آرہے تھے۔
”میرا خیال ہے۔ اب اندر چلنا چاہئے، یہاں تو بہت اندھیرا ہو گیا ہے۔” پاپا نے اچانک کہا تھا۔
‘ہاں ٹھیک ہے اندر چلتے ہیں۔” شمامہ آنٹی نے اٹھتے ہوئے کہا تھا۔
وہ خاموشی سے ان سب کی پیروی کرنے لگی تھی۔
”پاپا کو اب کبھی میری ضرورت پڑے گی نہ ہی میں یاد آؤں گی کیونکہ اب ان کی فیملی مکمل ہو گئی ہے۔ میرے لئے اب ان کے پاس بھی کوئی جگہ نہیں ہے اور اہمیت تو شاید مریم کی آمد کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی۔ وہ ایک مکمل فیملی ہے علیزہ کے بغیر بھی۔”
اس نے اپنے آگے چلتے ہوئے پاپا، اپنی دوسری ممی، حسن، احسن اور مریم کو دیکھتے ہوئے سوچا تھا۔
”میں تو ان کے لئے ایک ایکسٹرا چیز ہوں اور پاپا نے مجھے مریم کے بارے میں بتانا ضروری نہیں سمجھا سب لوگوں نے خود ہی مجھے اپنی زندگی سے خارج کر دیا ہے۔ ممی نے، پاپا نے اور شاید… شاید نانا اور نانو نے بھی۔” اس کی افسردگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔
”میرے یہاں آنے سے کسی کو فرق نہیں پڑا۔ سب اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں ۔پھر…پھر پاپا کو مجھے یہاں بلانے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا یہ کافی نہیں تھا کہ وہ فون پر ہی مجھے جانے سے پہلے خدا حافظ کہہ دیتے۔” وہ اب رنجیدہ ہو رہی تھی۔
اس رات وہ بہت دیر تک جاگتی رہی تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ اگلے دن وہ بہت دیر سے اٹھی تھی، لیکن اس کے باوجود جب وہ اپنے کمرے سے باہر آئی تھی تو ابھی تک کوئی بھی بیدار نہیں ہوا تھا۔ وہ لاؤنج میں ٹی وی آن کرکے بیٹھ گئی تھی۔
دوپہر کو لنچ کرتے ہوئے پاپا نے اس سے کہا تھا۔
”علیزہ! آج ہم شام کو تمہیں سیر کروانے کے لئے لے جائیں گے۔ تم کل سے گھر پر ہی ہو۔ آج تمہیں ایک دو جگہوں پر لے کر جائیں گے۔ تم کہاں جانا چاہتی ہو؟”
انہوں نے بات کرتے کرتے اچانک اس سے پوچھا تھا۔
”کہیں بھی۔” اس نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
”ٹھیک ہے پھر تم شام کو تیار رہنا۔ ہم سب باہر چلیں گے۔”
انہوں نے کہا۔
اس کا دل چاہا کہ وہ ان سے کہے کہ وہ سب کے ساتھ نہیں صرف اکیلے ان کے ساتھ باہر جانا چاہتی ہے۔ ان کے ساتھ باتیں کرنا چاہتی ہے اور ان سے بہت سے سوال پوچھنا چاہتی ہے۔ مگر اس نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔
شام کو پاپا، غزالہ آنٹی، حسن ، احسن اور مریم کے ساتھ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی وہ بے حد ناخوش تھی۔
”ایسا کرتے ہیں کہ پہلے کلفٹن چلتے ہیں۔ پھر کسی ریسٹورنٹ میں ڈنر کریں گے اس کے بعد جہاں علیزہ چاہے گی وہاں جائیں گے۔”
پاپا نے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے پروگرام طے کیا تھا۔
”پاپا ! آپ جہاں مرضی لے جائیں۔”
اس نے پھر بات ان کی ہی مرضی پر چھوڑ دی۔
”پاپا ! ایسا کرتے ہیں کہ ڈنر کے بعد آپی کو اپنا گھر دکھانے چلیں گے۔ آپی ! آپ ہمارا گھر دیکھ کر حیران ہو جائیں گی۔”
احسن نے دوسرا جملہ اس سے کہا تھا۔ گاڑی میں یک دم خاموشی چھا گئی تھی۔ شاید پاپا احسن سے اس تجویز کی امید نہیں کر رہے تھے۔
”ٹھیک ہے نا پاپا ! آپی کو گھر دکھانے چلیں گے۔”
احسن نے پاپا کی خاموشی کو رضامندی سمجھتے ہوئے کہا تھا، علیزہ منتظر تھی کہ پاپا احسن کی بات کے جواب میں کچھ نہ کچھ کہیں گے مگر انہوں نے کچھ نہیں کہا تھا۔ وہ خاموش رہے تھے۔
نوبجے ایک ریسٹورنٹ میں انہوں نے ڈنر کیا اور اس کے بعد جب وہ گاڑی میں بیٹھے تو احسن نے ایک بار پھر شور مچا دیا۔
”پاپا ! اب ہم اپنے گھر جائیں گے۔ آپی کو گھر دکھانا ہے نا۔”
”ہاں ! ٹھیک ہے وہیں جا رہے ہیں ، مجھے یاد ہے۔”
اس نے پاپا کی مدھم سی آواز سنی تھی۔
انہوں نے گاڑی کا رخ موڑتے ہوئے بیک ویو مرر سے علیزہ کو دیکھا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ سکندر اس کے چہرے سے کوئی بھی اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔
آدھ گھنٹہ گاڑی ڈرائیو کے بعد علیزہ نے ایک چھوٹے سے بنگلے کے سامنے گاڑی رکتے دیکھی تھی۔ دروازے پر ایک چوکیدار موجود تھا جس نے دروازہ کھول دیاتھا۔ سکندر گاڑی کو اندر پورچ میں لے گئے ، بنگلے کی بیرونی لائٹس آن تھیں، اور ان لائٹس کی روشنی میں پورچ اور لان میں پڑا ہوا تعمیراتی سامان نظر آرہا تھا۔ سکندر نے چوکیدار کو اندرونی دروازہ کھولنے کے لئے کہاتھا۔
علیزہ، حسن اور احسن کے ساتھ گاڑی سے نکل آئی تھی۔ چند لمحوں کے لئے پاپا سے اس کی خفگی ختم ہو گئی تھی گھر کو دیکھتے ہوئے اسے ایک خوشگوار احساس نے گھیر لیا تھا۔ اس کے باپ کا پاکستان میں ہونے کا یہ مطلب تھا کہ وہ ان کے پاس مستقل طور پر رہ سکتی تھی۔ احسن اسے بڑے پر جوش انداز میں کمرے دکھا رہا تھا اور سکندر اور غزالہ لاؤنج میں چوکیدار کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئے تھے۔ وہ شاید اسے کچھ ہدایات دے رہے تھے۔
”یہ پاپا اور ممی کا کمرہ ہے!”
اس نے ایک کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے علیزہ سے کہا تھا۔
اس نے کچھ دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے خالی کمرے میں جھانکاتھا۔ احسن نے آگے بڑھ کر لائٹ آن کر دی تھی۔ چند لمحوں تک اس کمرے میں رہنے کے بعد وہ ان کے ساتھ باہر نکل آئی تھی۔
”یہ ساتھ والا کمرہ مریم کا ہے۔” احسن نے ایک اور کمرے کا دروازہ کھول کر لائٹ آن کی تھی۔ اس بار علیزہ نے اندر جانے کی بجائے باہر سے ہی جھانکنے پر اکتفا کیا تھا۔
”اور یہ سامنے والا کمرہ گیسٹ روم ہے!”
وہ اب اسے ایک اور کمرہ دکھا رہا تھا۔
”اب آئیں ،اوپر چلتے ہیں اور آپ کو اپنا بیڈ روم دکھاتا ہوں۔” وہ یک دم پر جوش نظر آنے لگا تھا۔
”اور میرا بیڈ روم نہیں دکھاؤ گے؟” حسن منمنایا تھا۔
”ہاں! تمہارا بھی دکھاؤں گا۔”
اس نے علیزہ کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے حسن کو چمکارا تھا۔
اوپر آنے کے بعد احسن نے ایک کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا تھا۔ ”اور یہ اس گھر کا سب سے خوبصورت بیڈ روم ہے، میرا بیڈ روم۔”
علیزہ سرسری طور سے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے صرف بے دلی سے مسکرائی تھی۔
”اور یہ میرا بیڈ روم ہے۔”
حسن اتنی دیر میں ایک اور کمرے کا دروازہ کھول چکا تھا، اور اس کے پیچھے علیزہ بھی اس کے کمرے میں داخل ہو گئی تھی۔
”بس اب نیچے چلتے ہیں۔”
احسن نے اس کے پیچھے آکرکہا تھا۔
اسے ایک جھٹکا لگاتھا۔
”احسن! میر ابیڈ روم کہاں ہے؟”
اس نے احسن کے کمرے سے نکلتے ہوئے کچھ اشتیاق سے احسن سے پوچھا تھا۔
”آپ کا بیڈ روم؟”
وہ اس کی بات پر حیران ہو ا تھا۔
”مگر آپ تو ہمارے ساتھ نہیں رہتیں!”
اس نے علیزہ سے کہا تھا۔
”اس گھر میں تو بس اتنے ہی بیڈ رومز ہیں۔”
علیزہ کے چہرے کا رنگ زرد ہو گیاتھا۔
”بس اتنے ہی بیڈ رومز ہیں؟”
اس نے کچھ بے یقینی سے کہا تھا۔
”ہاں ! بس اتنے ہی بیڈ رومز ہیں ، آپ کو ہمارا گھر اچھا لگا؟”
اس نے بات کرتے کرتے علیزہ سے پوچھا۔
”ہاں!”
اس نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہاتھا۔
وہ ان دونوں کے ساتھ ایک بار پھر نیچے لاؤنج میں آگئی۔
”پاپا ! آپی پوچھ رہی تھیں۔ میرا بیڈ روم کہاں ہے؟”
حسن نے نیچے آتے ہی پاپا کواطلاع دی تھی۔ علیزہ کی نظریں سکندر سے ملی تھیں۔ وہ بڑی مہارت سے نظریں چرا گئے۔
”گیسٹ روم ہے نا ، تم جب بھی آیا کرو گی وہاں رہ سکتی ہو؟”
سکندر نے کمال فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے کہا۔
”میرا خیال ہے کہ اب چلنا چاہئے ۔”
وہ کہہ کر غزالہ کے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گئے تھے ۔ وہ بھی حسن اور احسن کے ساتھ دروازے کی طرف جانے لگی تھی۔
”تمہارا کالج کب کھلے گا؟”
سڑک پر گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے سکندر نے اس سے پوچھا تھا۔
”اس سیٹرڈے کو!”
اس نے باہر سڑک گھورتے ہوئے کہا تھا..
”ہوں ! تو اس کا مطلب ہے کہ جمعرات کو تمہاری سیٹ بک کروا دینی چاہئے ۔کیونکہ جمعہ کو تم ریسٹ کر سکو گی۔ واپس جاکر اور پھر ہفتہ سے تم کو کالج جوائن کرنا ہو گا۔”
وہ چپ چاپ ان کی سیٹ کی پشت کو دیکھتی رہی تھی۔
”تو پاپا !ہم مری کب جائیں گے، آپ نے تو کہا تھا کہ ہم بدھ کو اسلام آباد چلے جائیں گے۔”
احسن نے سکندر کو یاد دہانی کروائی تھی۔
”ہاں ! بیٹا وہ پروگرام پہلے تھا اب تمہاری آپی آئی ہوئی ہیں، تو ظاہر ہے انہیں اکیلے چھوڑ کر تو نہیں جا سکتے نا۔”سکندر نے احسن سے کہا تھا۔
”تو ہم علیزہ آپی کو بھی اپنے ساتھ مری لے جاتے ہیں پھر تو کوئی بھی پرابلم نہیں ہو گا ۔”
احسن نے ایک ہی سیکنڈ میں حل پیش کر دیا تھا۔
”نہیں تمہاری آپی کی چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں، انہیں کالج جانا ہے اور ہمیں تو مری میں کچھ دن لگ جائیں گے۔” غزالہ نے فوراً اپنے بیٹے کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا تھا۔
”ایسا کرتے ہیں کہ سکندر آپ ہم لوگوں کو اسلام آباد بھجوادیں پھر آپ بعد میں آجائیں ۔”
”ہاں ! یہ ہو سکتا ہے۔ تو پھر ٹھیک ہے میں تم لوگوں کی سیٹیں بھی بک کروا دیتا ہوں۔”
سکندر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا۔
”پاپا آپ جمعرات کی بجائے میری کل ہی سیٹ بک کروا دیں۔”
اس نے مدھم سی آواز میں سکندر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔
”کیوں کل کی سیٹ کیوں؟”
سکندر نے جواباً اس سے پوچھا۔
”پاپا میں واپس جاکر تھوڑا پڑھنا چاہتی ہوں ، پوری چھٹیاں میں کچھ بھی نہیں پڑھ سکی، اور اب دو تین دن میں کتابوں کو پڑھنے کی کوشش کروں گی۔”
“نہیں علیزہ ! ابھی تم کل ہی تو آئی ہو، اور اتنی جلدی چلی جاؤ گی؟”
غزالہ نے بہت پیار بھرے انداز میں اس سے کہا تھا۔
”نانو اور نانا بھی مجھے بہت مس کر رہے ہوں گے۔ اس بار میں چھٹیوں میں ان کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار سکی۔” اس نے ایک اور وجہ دی تھی۔
”ٹھیک ہے اگر تم ایسا ہی مناسب سمجھتی ہو تو ایسا ہی کر لیتے ہیں۔”
اس نے پاپا کو کہتے ہوئے سنا تھا ، انہوں نے اسے روکنے کی کوشش بالکل نہیں کی تھی۔ اس نے آنکھوں میں اترنے والی نمی کو ہونٹ بھینچ کر ضبط کیا۔
”پھر کل شام کی سیٹ بک کروا دیتا ہوں۔”
اگلی شام ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہوتے ہوئے اس کے پاپا نے ایک بیگ اسے تھما دیا تھا۔ ”اس میں تمہارے لئے کچھ چیزیں ہیں۔ میں نے اور تمہاری آنٹی نے خریدی تھیں۔”
اس نے بجھے دل سے بیگ تھام لیا تھا۔ اس کا دل چاہا تھا، وہ ان سے کہے۔” مجھے صرف چیزوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”
”لاہور پہنچتے ہی مجھے فون کر دینا۔”
اس نے پاپا کو کہتے ہوئے سنا تھا۔ غزالہ نے آگے بڑھ کر ہمیشہ کی طرح اسے گلے سے لگا کر چوما تھا۔
”ٹیک کئیر!”
انہوں نے اس سے علیحدہ ہوتے ہوئے کہاتھا۔ وہ خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔
ائیر پورٹ پر پہنچ کر اس نے نانو کو فون کیا تھا، اور اپنے آنے کی اطلاع دیتے ہوئے ڈرائیور کو بھیجنے کو کہا تھا، نانو کے کسی سوال سے بچنے کے لئے اس نے جلدی سے فون بند کر دیا۔
٭٭٭
”تمہیں تو ابھی بہت دن وہاں رہنا تھا اور اب دو ہی دن میں واپس آگئیں؟”
نانو نے اس کا استقبال کرتے ہی پہلا سوال کیا تھا۔ وہ کچھ حیران ہوئی تھی۔ نانو نے ہمیشہ کی طرح آتے ہی اسے گلے نہیں لگایا تھا۔
”ہاں ! بس میرا دل ہی نہیں لگا وہاں۔ پاپا تو بہت اصرار کر رہے تھے۔ کہ میں ابھی واپس نہ جاؤں ، وہ تو مجھے کچھ دن کے لئے مری لے جانا چاہ رہے تھے مگر میں وہاں بور ہوتی۔”
””ٹھیک ہے سو جاؤ۔” نانو یک دم اٹھ کر چلی گئی تھیں۔ وہ کچھ اور الجھ گئی تھی۔ نانو نے اس سے کھانے کا پوچھا تھا۔ نہ ہی نانا سے ملنے کے لئے کہا تھا بلکہ صرف ایک جملہ کہہ کر اٹھ گئی تھیں۔
وہ الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ اپنے بیڈ روم میں آگئی تھی۔ کپڑے بدلنے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹ گئی تھی۔ اس وقت وہ واقعی سونا چاہتی تھی۔
٭٭٭
اگلے دن صبح جب وہ کچن میں آئی تھی، تو اس وقت دس بج رہے تھے۔ نانو اس وقت خانساماں کو کچھ ہدایات دے رہی تھی۔
”السلام علیکم! نانو !”
اس نے کچن میں داخل ہوتے ہوئے نانو کو مخاطب کیاتھا۔
”وعلیکم السلام !”
انہوں نے اسے دیکھے بغیر ہی اس کے سلام کا جواب دیا تھا۔
”نانا کہاں ہیں نانو! رات تو میں ان سے مل ہی نہیں سکی۔”
اس نے سے پوچھا۔
”کسی کام سے باہر گئے ہوئے ہیں؟”
”پتا نہیں !”
اسے ان کی آواز ایک بار پھر بہت ترش محسوس ہوئی تھی۔
”نانو مجھے بریک فاسٹ کرنا ہے۔” اس نے کہا تھا۔
”میں مرید سے کہہ دیتی ہوں وہ تیار کردیتا ہے!”
انہوں نے خانساماں کا نام لیتے ہوئے کہاتھا۔ وہ کچن میں پڑی ہوئی ڈائننگ ٹیبل کی کرسی کھینچ کر بیٹھ ہی گئی۔
”تم جا کر ڈائننگ روم میں بیٹھو۔”
نانو نے اچانک تیز آواز میں اسے جھڑکتے ہوئے کہا تھا، اور اس کے لئے ان کا یہ رد عمل غیر متوقع تھا۔ چند لمحوں تک وہ نہ سمجھنے کی حالت میں ان کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔
” تم نے سنا نہیں کہ میں نے کیا کہا ہے؟”
اس بار ان کی آواز پہلے سے زیادہ کرخت تھی۔ علیزہ کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا اور وہ چپ چاپ کچن سے نکل کر ڈائننگ روم میں آگئی تھی۔ نانو کی ڈانٹ اس کے لئے کوئی نئی چیز نہیں تھی مگر آج اسے یہ ڈانٹ بلا جواز لگی تھی۔
خانساماں نے ڈائننگ ٹیبل پر اس کے لئے ناشتہ لگانا شروع کر دیا۔ اس کی بھوک اڑ چکی تھی ، وہ چند منٹ تک بے مقصد خانساماں کو ہی ناشتا لگاتے دیکھتی رہی پھر کھڑی ہو گئی۔
”مرید بابا مجھے ناشتہ نہیں کرنا۔”
”کیوں علیزہ بی بی ! کیا ہوا؟”
خانساماں نے کچھ حیران ہوکر پوچھاتھا۔
”بس مجھے بھوک نہیں ہے۔”
”بی بی آپ ناشتہ کر لیں۔ آجکل بڑی بیگم صاحبہ بہت غصہ میں ہیں۔ آپ اس طرح اٹھ کر چلی جائیں گی تو وہ آپ سے بھی بہت ناراض ہو ں گی۔”
خانساماں نے دبی آواز میں اس سے کہا تھا۔
”نانو کو ہوا کیا ہے؟”
اس نے خانساماں سے پوچھا۔
”یہ توپتا نہیں لیکن جب سے عمر صاحب……!”
اس کی بات ادھوری ہی رہ گئی ، نانو اس وقت ڈائننگ روم میں داخل ہوئی تھیں، خانساماں جلدی سے ڈائننگ سے نکل گیا تھا۔
”عمر نے ضرور میرے بارے میں کوئی نہ کوئی بات کی ہوگی۔”
اسے یک دم طیش آیا تھا۔
”وہ نانا اور نانو کو بھی مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے، اور……اورمجھ سے دوستی کے دعوے کرتا ہے۔”
”ناشتہ کیوں نہیں کر رہیں؟”
نانو نے اندر داخل ہوتے ہی اسے کھڑے دیکھ کر کہا تھا۔ ایک بار پھر ان کا لہجہ بہت کھردرا تھا۔
”نانو آپ مجھ سے ناراض ہیں؟”
اس نے بالآخر ان سے بات کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا۔
”میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں ہے کہ میں ہر ایک سے ناراض ہوتی پھروں۔ تم بیٹھ کر ناشتہ کر لو۔”
ان کے جملہ نے اسے اور ہرٹ کیا تھا۔
”مجھے کچھ نہیں کھانا۔”
”ٹھیک ہے نہیں کھانا تو مت کھاؤ! اب میں تمہاری منتیں تو نہیں کر سکتی۔ مرید……مرید ! ڈائننگ ٹیبل پر سے چیزیں اٹھا دو۔”
انہوں نے خانساماں کو بلند آواز میں بلایا تھا۔ علیزہ دم بخود سی انہیں دیکھتی رہی تھی۔
”نانو نے میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں کیا ، تو پھر آج کیا بات ہو گئی۔ میری تین دن کی غیر حاضری میں ایسی کیا بات ہو گئی کہ میرے ساتھ اس طرح پیش آنے لگ گئی ہیں۔”
وہ ساکت کھڑی سوچتی ہی رہ گئی۔
” تم سے مجھے کچھ باتیں کرنی ہیں ، میرے بیڈروم میں آجاؤ۔”
نانو نے مرید کو بلانے کے بعد ایک بار پھر اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔
وہ کسی معمول کی طرح ان کے پیچھے ہی ڈائننگ روم سے نکل گئی تھی۔ ان کے پیچھے ان کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے اس کا ذہن مسلسل یہ اندازہ لگانے کی کوشش میں مصروف تھا کہ ان کی ناراضگی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے اور کیا اب اپنے بیڈ روم میں وہ اسی بارے میں باتیں کریں گی؟
۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
