Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 38
Rate this Novel
Episode 38
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 38
۔۔۔۔۔
باب 40
علیزہ کا پاؤں بے اختیار بریک پر پڑا اور گاڑی رک گئی۔ علیزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ان میں سے ایک لڑکا گاڑی کا ٹائر بدل رہا تھا اور شاید وہ اسی وجہ سے وہاں رکے تھے۔ ورنہ اس طرح وہاں نہ رکتے۔ علیزہ نے ان لوگوں کے چہرے پر یک دم حیرت دیکھی اور پھر انہوں نے اسے اور اس کی گاڑی کو پہچان لیا۔ جب تک وہ گاڑی کو ریورس کرنے کی کوشش کرتی۔ وہ تینوں بھاگتے ہوئے اس کی گاڑی کے پاس آگئے۔
علیزہ نے تیزی سے دروازے کو لاک کیا۔ کھڑکی کا شیشہ پہلے ہی اوپر تھا۔ وہ تینوں اسی کے دروازے کی طرف آئے تھے۔ سڑک اتنی چوڑی نہیں تھی کہ وہ اس پر گاڑی کو موڑ لیتی۔ اسے گاڑی کو مسلسل ریورس کرنا تھا۔ جب تک کہ وہ اس پچھلی سڑک تک نہ پہنچ جاتی جہاں سے اس نے ٹرن لیا تھا۔
وہ لڑکے اب اس کی گاڑی کے دائیں طرف والے دونوں دروازوں کے ہینڈلز پر ہاتھ رکھے انہیں کھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس میں ناکامی پر انہوں نے کھڑکی کے شیشوں پر ہاتھ مارنے کی شروع کر دیئے۔
علیزہ بے حد خوفزدہ تھی، اسے لگ رہا تھا جیسے کھڑکی کا شیشہ ابھی ٹوٹ جائے گا۔ اس کا ہاتھ بری طرح کانپ رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس نے زندگی میں کبھی گاڑی نہیں چلائی۔ وہ بالکل بھول چکی تھی کہ اس کا کون سا پیر کہاں ہونا چاہئے۔ وہ خوف کے عالم میں اپنی کھڑکی کے شیشے پر ان کے ہاتھ دیکھنے لگی_
تب ہی ان میں سے ایک لڑکے کی نظر اس کی برابر والی سیٹ کے دروازے پر پڑی۔ علیزہ نے اسے کچھ کہتے ہوئے ادھر اشارا کرتے دیکھا اور پھر ان تینوں کو اچانک گاڑی کی دوسری طرف لپکتے دیکھا علیزہ نے بے اختیار دوسری طرف دیکھا اور اس کے منہ سے چیخ نکلی۔ دوسری کھڑکی کا شیشہ کھلا ہوا تھا۔ وہ بجلی کی طرح دوسری سیٹ پر آتے ہوئے تیزی سے شیشہ چڑھانے لگی۔ مگر وہ لوگ وہاں پہنچ چکے تھے۔ علیزہ نے ایک ہاتھ لاک پر رکھ دیا۔ ان میں سے ایک لڑکا کھڑکی کے اندر ہاتھ ڈال کر لاک سے اس کا ہاتھ ہٹانے لگا۔ آدھا شیشہ اوپر جا چکا تھا۔ علیزہ نے لاک سے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ وہ پوری قوت سے شیشہ اوپر کرتی رہی۔ اس لڑکے نے اپنے ہاتھوں کے ناخنوں سے اس کے ہاتھ کو بری طرح زخمی کیا۔ علیزہ نے اپنا ہاتھ پھر بھی نہیں ہٹایا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اس کا ہاتھ ہر قیمت پر وہاں سے ہٹا دینا چاہتا تھا۔
گاڑی کا شیشہ اتنا اوپر جا چکا تھا کہ وہ بازو کے علاوہ خود اندر نہیں آسکتا تھا۔ مگر اب علیزہ کھڑکی کا شیشہ پوری طرح بند نہیں کر سکتی تھی۔ اس لڑکے نے یک دم لاک پر رکھے ہوئے اس کے ہاتھ کو چھوڑ دیا اور اس ہاتھ سے اس کے چہرے پر مکا مارا۔ وہ ایک چیخ کے ساتھ پلٹ کر دوسری سیٹ پر گری۔ مگر ایک بار پھر اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس لاک پر رکھ دیئے۔ سر نیچے جھکا کر اس نے اس کے مزید کسی حملے سے بچنے کی کوشش کی۔ اس کے چہرے میں شدید تکلیف ہو رہی تھی اور وہ اب روتے ہوئے خوف سے چیخ رہی تھی۔
وہ ان کی آوازیں سن رہی تھی۔ وہ لڑکا اب دوسرے سے کہہ رہا تھا۔
”میں اس کے بال کھینچتے ہوئے اسے لاک سے پیچھے کرتا ہوں۔ تم اپنا ہاتھ اندر ڈال کر لاک کھول دینا۔”
علیزہ نے سر اٹھا کر اس لڑکے کو دیکھا۔ وہ گردن موڑے تیز آواز میں اپنے پیچھے کھڑے دوسرے لڑکے سے مخاطب تھا۔ اس کا بازو کھڑکی کے اندر تھا اور اس وقت وہ بالکل ساکت تھا۔ علیزہ نے بجلی کی تیزی کے ساتھ اس کے بازو پر اپنے دانت جما دیئے۔ وہ جتنے زور سے اسے کاٹ سکتی تھی، اس نے کاٹا تھا۔ اس لڑکے نے ایک چیخ ماری اور تیزی سے اپنا بازو گاڑی سے نکال لیا۔
اس سے پیشتر کہ دوسرا لڑکا آگے بڑھتا۔ علیزہ نے شیشہ بند کر دیا۔ اس نے ان لڑکوں کو گالیاں دیتے سنا ۔ وہ روتے ہوئے اپنی سیٹ پر واپس آئی اور اس نے گاڑی اسٹارٹ کرکے اسے ریورس کرنا شروع کر دیا۔
وہ لڑکے اب اس کی گاڑی کے ساتھ بھاگ رہے تھے۔ علیزہ نے یک دم انہیں رکتے دیکھا۔ وہ گاڑی ریورس کرتی رہی اور پھر اچانک اس نے ایک لڑکے کو جھک کر زمین سے کچھ اٹھاتے دیکھا۔ جب وہ سیدھا ہوا تو علیزہ نے بے اختیار چیخ ماری۔ اس لڑکے کے ہاتھ میں ایک بڑا سا پتھر تھا ا ور وہ جان چکی تھی کہ وہ کیا کرنا چاہتے تھے۔
وہ لڑکا ایک بار پھر دوڑتا ہوا گاڑی کی طرف آیا اور علیزہ نے اسے ونڈ اسکرین پر وہ پتھر اچھالتے دیکھا۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں اسے ایک دھماکے کی آواز سنائی دی اور اپنے چہرے اور لباس پر شیشے کی کرچیاں لگتی محسوس ہوئیں۔ ونڈ اسکرین ٹوٹ چکی تھی مگر خوش قسمتی سے وہ پتھر اسے نہیں لگا تھا۔ وہ گاڑی ریورس کرتی رہی۔ بایاں بازو اٹھا کر اس نے اپنے سامنے کی ٹوٹی ہوئی اسکرین کو آنکھیں کھولے بغیر محسوس کیا۔ اسے خوف تھا کہ آنکھیں کھولنے پر ہوا سے اڑ کر کوئی کرچی اس کی آنکھوں میں جا سکتی ہے مگر اسکرین مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھی۔
جس وقت اس نے آنکھیں کھولیں۔ اس وقت وہ لڑکے خاصی دور سڑک پر تھے خوش قسمتی سے گاڑی سڑک پر ہی رہی تھی، اور پیچھے کسی چیز سے نہیں ٹکرائی۔ مگر وہ سڑک گزر چکی تھی جس پر وہ مڑنا چاہتی تھی وہ گاڑی ریورس کرتی رہی۔ آگے کی طرف جانا بے کار تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح بھی ان لڑکوں کے قریب جائے۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ اسی طرح گاڑی ریورس کرتی جائے گی اور آگے آنے والی سڑک پر مڑ جائے گی۔
اس کا خوف اب قدرے کم ہو گیا۔ وہ لڑکے اب بہت دور رہ گئے تھے۔ مگر وہ اب بھی انہیں سڑک پر دیکھ سکتی تھی، اور تب ہی اچانک اس نے کھڑے ان لڑکوں کو پیچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے دیکھا۔ علیزہ کا سانس رکنے لگا۔ ان لڑکوں کی گاڑی اب اس کی طرف آرہی تھی۔ یقیناً اس لڑکے نے ٹائر تبدیل کر لیا تھا اور اب وہ گاڑی کو ان لڑکوں کی طرف لارہا تھا اور اس کے بعد…
وہ جانتی تھی، وہ اس کے بعد کیا کرتے۔ وہ ایک بار پھر اس کے پیچھے آتے اور اس بار وہ ان سے کسی طرح جان نہیں چھڑا سکتی تھی۔
وہ اب گاڑی پر سوار ہو رہے تھے اور علیزہ جانتی تھی کہ چند لمحوں کے بعد وہ اس کے سر پر ہوں گے۔ اس نے دعائیں پڑھتے ہوئے گاڑی کی اسپیڈ کچھ اور بڑ ھا دی۔
اور پھر اچانک اسے سڑک نظر آگئی۔ گیئر بدلتے ہوئے اس نے گاڑی کو اس سڑک پر ڈال دیا۔ وہ بھی ایک ذیلی سڑک تھی۔ مگر اب علیزہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کون سی سڑک ہے ۔ اسے واحد تسلی یہ تھی کہ گاڑی اب ریورس گئیر میں نہیں تھی اور وہ تیز رفتاری سے اسے چلا سکتی تھی مگر سامنے سے آتی ہوئی ہوا اسے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔
تب ہی اس نے سائڈ مرر سے ان لڑکوں کو اس روڈ پر ٹرن لیتے دیکھا۔ اس نے ہونٹ بھنچ لیے۔ وہ گاڑی بہت تیز رفتاری سے اس کے قریب آتی جا رہی تھی۔ علیزہ نے بہت تیزی سے ایک اور ٹرن لیا۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا۔ اس کے اعصاب جواب دیتے جا رہے تھے۔ اسے اندازہ ہونے لگا کہ وہ بہت تیز رفتاری سے کار نہیں چلا سکتی کیونکہ ٹوٹی ہوئی ونڈ اسکرین سے آنے والی ہوا کے تھپیڑے اسے سڑک پر کچھ بھی دیکھنے نہیں دے رہے تھے۔ وہ سڑکیں ویران تھیں۔ سامنے سے کوئی ٹریفک نہیں آرہی تھی۔اس لئے وہ کسی نہ کسی طرح ان پر گاڑی چلا رہی تھی۔ مگر وہ جب بھی مین روڈ پر پہنچتی وہ کسی نہ کسی حادثے کا شکار ضرور ہو جاتی۔ وہاں وہ اس طرح آنکھویں کھولتے بند کرتے گاڑی نہیں چلا سکتی تھی۔
وہ پھر بھی مین روڈ پر جانا چاہتی تھی، اس کا خیال تھا وہاں جا کر وہ گاڑی روک کر سڑک پر اتر جائے گی اور مدد لے لے گی۔ وہ جانتی تھی کہ اتنی ٹریفک اور لوگوں کے درمیان وہ لڑکے اس تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔
اسے اب اپنی اور شہلا کی حماقت کا احساس ہو رہا تھا۔ انہیں ان لڑکوں سے جان چھڑانے کے لئے کسی بھی چوک میں تعینات ٹریفک کانسٹیبل کے پاس گاڑی روک دینی چاہئے تھی۔ وہاں ٹریفک کانسٹیبل اور لوگ کسی نہ کسی طرح ان کی مدد کر سکتے تھے۔ اس کی دوسری حماقت یہ تھی کہ ایک بار شہلا کے گھر پہنچنے کے بعد اس نے دوبارہ اکیلے نکلنے کی غلطی کی۔
”میں اس کے ڈرائیور کے ساتھ کیوں نہیں آئی یا اپنی گاڑی وہاں چھوڑ کر میں اس کی گاڑی لے آتی۔ کم از کم یہ لوگ گاڑی کو اتنی جلدی نہ پہچان لیتے۔ ” وہ خود کو کوس رہی تھی۔
ایک ذیلی سڑک سے دوسری ذیلی سڑک پر مڑتے ہوئے اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ بری طرح اس علاقے میں پھنس چکی ہے۔ وہ یہ تک نہیں پہچان پا رہی تھی کہ وہ کس سڑک پر ہے۔ اسے یہ بھی خوف تھا کہ گاڑی کی ٹنکی میں زیادہ پیٹرول نہیں تھا اور گاڑی کبھی بھی بند ہو سکتی تھی یا اس طرح چکر لگاتے لگاتے اس کا ٹائر فلیٹ ہو جاتا تو…
”مجھے کسی گھر کے اندر داخل ہوجانا چاہئے… کسی بھی گھر کے اندر… اور پھر ان سے مدد لینی چاہئے۔” اس نے یک دم فیصلہ کر لیا۔ علیزہ نے کارچلاتے ہوئے اب گھرو ں کے گیٹ دیکھنے شروع کر دیئے اور پھر ایک موڑ ہوئے وہ گاڑی ایک گھر کے کھلے گیٹ کے اندر لے گئی۔
وہ گاڑی روکے بغیر سیدھا پورچ میں لے گئی اور وہاں کھڑی گاڑی کے پیچھے اسے روک دیا۔ اس نے اپنے پیچھے گیٹ کی طرف سے آتے ہوئے چوکیدار کو چلاتے سنا۔
علیزہ نے برق رفتاری سے کار کا دروازہ کھولا اور نیچے اتر آئی۔ ” گیٹ بند کر دو۔” اس نے چلا کر چوکیدار سے کہا۔ مگر وہ اس کی طرف آتا رہا۔ اسے اچانک خوف محسوس ہونے لگا کہ لڑکوں کی گاڑی بھی اسی طرح کھلے گیٹ سے اندر آسکتی ہے۔ اگر انہیں یہ شک ہو گیا کہ یہ اس کا اپنا گھر نہیں ہے تو…
”گیٹ بند کردو… کچھ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں۔” وہ بلند آواز میں چلائی اور تب ہی اسے اندازہ ہوا کہ چوکیدار اس کی بات سن نہیں پا رہا۔ وہ خاصا دور تھا اور مسلسل اس کی طرف آرہا تھا۔
”مجھے خود بھاگ کر گیٹ بند کر دینا چاہئے۔” اس نے سوچا اور ایک قدم بڑھایا اور عین اس وقت اس نے کھلے گیٹ کے سامنے سڑک پر ایک گاڑی کو آہستہ آہستہ رکتے ہوئے دیکھا۔ وہ چاروں گاڑی میں بیٹھے ہوئے گردنیں موڑے اندر کا جائزہ لے رہے تھے اور علیزہ ان کے بالکل سامنے تھی۔ اس نے پلک جھپکتے میں ان کو گاڑی روکتے اور پھر تھوڑا سا پیچھے ہوتے دیکھا اور وہ جان چکی تھی کہ وہ لوگ گاڑی اندر لانے والے ہیں۔
وہ سر پٹ گھر کے اندرونی دروازے کی طرف بھاگی اور اسے کھول کر اندر داخل ہو گئی۔
وہ اس گھر کا لاؤنج تھا۔ علیزہ نے ایک عورت کو چیختے سنا۔ اس نے اس عورت پر توجہ دیئے بغیر پلٹ کر اس دروازے کو بند کیا اور اسے لاک کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے ایک پل میں اندازہ ہو گیا کہ وہ دروازہ لاک نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کی چابی لاک ہول میں نہیں تھی۔ دروازے پر کوئی چٹخنی بھی نہیں تھی۔
علیزہ نے مڑ کر لاؤنج میں دیکھا۔ وہاں ایک عورت اور مرد حواس باختہ اسے دیکھ رہے تھے۔
”کون ہو تم، اندر کیوں آئی ہو؟” مرد چلایا۔
”پلیز مجھے چھپا لیں۔ میرے پیچھے کچھ لڑکے ہیں، وہ اندر آرہے ہیں۔” وہ ان سیڑھیوں کی طرف بھاگتی ہوئی بولی۔ جو اس نے لاؤنج میں دیکھی تھیں۔ پلک جھپکتے میں وہ سیڑھیوں پر تھی۔
”نہیں، تم ہمارے گھر سے چلی جاؤ۔ نکلو یہاں سے۔” وہ مرد کہہ رہا تھا۔ مگر علیزہ رکی نہیں۔
اس نے باہر کچھ بھاگتے قدموں کی آوازیں سن لی تھیں اور وہ جانتی تھی کہ لاؤنج کا دروازہ کسی بھی وقت کھل سکتا ہے۔
برق رفتاری سے سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے وہ اوپر کی منزل پر آگئی اور ایک کوریڈور میں داخل ہوئی ۔ وہاں کچھ کمروں کے دروازے نظر آرہے تھے۔ اس نے پہلا دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ وہ نہیں کھلا، وہ لاکڈ تھا۔
تب ہی اس نے لاؤنج میں شور سنا۔ وہاں بہت سے لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ مرد اب بلند آواز میں چلا رہا تھا۔ علیزہ بھاگتی ہوئی اگلے دروازے پرپہنچی اور ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر دروازہ کھول دیا۔ دوسرے ہی لمحے وہ کمرے کے اندر تھی۔ اس نے پلٹ کر دروازہ بند کر دیا۔ کی ہول میں لگی ہوئی چابی اس نے گھما کر دروازے کو لاک کر دیا اور اس کے بعد اوپر لگا ہوا بولٹ چڑھا دیا۔
وہ ایک بہت بڑا کمرہ تھا اور اس کی لائٹ آن تھی۔ بستر کی سلوٹوں سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہاں چند لمحے پہلے کوئی سویا یا لیٹا ہوا تھا مگر اب وہاں کوئی بھی نہیں تھا اور تب ہی اس کی نظر بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے فون پر پڑی۔ اکھڑے ہوئے سانس اور پسینے سے بھیگے ہوئے وجود کے ساتھ وہ چیل کی طرح فون پر جھپٹی ، اس نے برق رفتاری سے ریسیور اٹھا کر شہلا کا نمبر ملانا شروع کر دیا۔ اسے سیڑھیوں پر کسی کے بھاگتے قدموں کی آواز سنائی دی۔ وہ لوگ یقیناً اب اوپر آرہے تھے۔ اس کا سانس رکنے لگا۔ وہ کسی بھی لمحے اس تک پہنچنے والے تھے بیل ہو رہی تھی مگر کوئی بھی ریسیور نہیں اٹھا رہا تھا۔
”یا اللہ… یااللہ… اللہ کے واسطے فون اٹھاؤ۔” وہ التجائیہ انداز میں بڑبڑانے لگی اور تب ہی دوسری طرف سے ریسیور اٹھا لیا گیا۔
”ہیلو۔” اس نے شہلا کی آواز سنی مگر اس سے پیشتر کہ وہ کچھ بولتی ، اس نے ساتھ والے دروازے پر کسی کو ٹھوکر مارتے سنا اور پھر کوئی بلند آواز میں گالیاں دیتے ہوئے اسے دروازہ کھولنے کے لئے کہنے لگا۔
”شہلا! میں علیزہ ہوں۔” اس نے اکھڑے ہوئے سانس کے ساتھ سرگوشی میں کہا۔ وہ ابھی اس کا دروازہ نہیں بجا رہے تھے اور وہ چاہتی تھی کہ انہیں یہ شک نہ ہو کہ وہ اس کمرے کے بجائے ساتھ والے کمرے میں ہے۔
”علیزہ تم… تم گھر پہنچ گئی ہو؟” شہلا نے دوسری طرف سے اس سے پوچھا۔
”میں گھر نہیں پہنچی ہوں۔”
”کیوں اور تم اتنا آہستہ کیوں بول رہی ہو؟” شہلا کی آواز میں حیرت تھی۔
”شہلا پلیز ! اس وقت کوئی سوال مت کرو صرف میری بات سنو۔ میں مصیبت میں ہوں، وہ لوگ میرے پیچھے آئے تھے۔ میں ایک گھر میں گھس گئی ہوں اور ایک کمرے سے تمہیں فون کر رہی ہوں۔ وہ لوگ بھی اندر آچکے ہیں۔ اور اب ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔” اسے دوسری طرف سے شہلا کی چیخ سنائی دی۔
”پلیز! پلیز میری مدد کرو… وہ مجھ تک پہنچ جائیں گے۔” علیزہ کی ہمت جواب دے گئی وہ رونے لگی۔
”تم کہاں ہو…؟ کس گھر میں ہو؟”
”مجھے کچھ پتا نہیں… مجھے کچھ بھی پتا نہیں… مگر میں تمہارے ہی علاقے میں ہوں۔ ”
”گھر کا ایڈریس بتا سکتی ہو؟”
”نہیں۔”
”گھر کی کوئی نشانی؟ ”
”نہیں… نہیں۔” وہ گڑگڑائی اور تب ہی اس نے اپنے کمرے کے دروازے کے باہر ایک آواز سنی۔
”مجھے لگتا ہے ، وہ یہاں ہے۔ اس کمرے کی لائٹ آن ہے۔ نیچے جا کر چابیاں لاؤ۔”
”شہلا… شہلا! وہ میرے کمرے تک پہنچ گئے ہیں۔” اس نے روتے ہوئے اسے بتایا۔
”ممی…!ممی…! موبائل سے پولیس کا نمبر ملائیں… ممی! موبائل سے پولیس کا نمبر ملائیں۔” اس نے شہلا کو چلا کر اپنی ممی کو ہدایت دیتے سنا۔
اب دروازے پر ٹھوکریں ماری جار ہی تھیں۔ وہ گالیوں کی آوازیں سن رہی تھی۔ علیزہ گھٹی ہوئی آواز میں رو رہی تھی۔
”علیزہ… ! علیزہ…! فون بند مت کرنا۔ ہم کال ٹریس کرواتے ہیں۔ دیکھو گھبرانا مت۔” وہ شہلا کی آواز سن رہی تھی۔ وہ بھی اب رو رہی تھی۔
”علیزہ…! علیزہ…! ” اس نے ریسیور پر اب شہلا کے بھائی فاروق کی آواز سنی۔
”فاروق…! دروازہ ٹوٹنے والا ہے۔ وہ اندر آجائیں گے، وہ ابھی اندر آجائیں گے۔ ” وہ یک دم بلند آواز میں چلا اٹھی۔ دروازہ اب واقعی اتنی بری طرح دھڑدھڑایا جا رہا تھا کہ یوں لگتا تھا وہ کسی بھی لمحے ٹوٹ کر نیچے گر پڑے گا۔
”علیزہ کمرے میں باتھ روم دیکھو… وہاں اگر باتھ روم ہے تو اس کے اندر جا کر دروازہ بند کر لو اور کمرے کی لائٹ آف کر دینا۔ فون اگر باتھ روم کے اندر لے جا سکتی ہو تو لے جاؤ اگر تار لمبی نہیں ہے تو پھرفون اٹھا کر بیڈ کے پیچھے چھپا دو مگر فون بند مت کرنا۔” فاروق بلند آواز میں اسے ہدایات دینے لگا۔
”ہم کال ٹریس کر لیتے ہیں۔ ہم ابھی تم تک پہنچ جائیں گے۔ گھبرانا مت… رو ؤ مت۔”
”مجھے ایک دروازہ نظر آرہا ہے۔ وہ باتھ روم کا ہی ہو گا۔”
”تم وہاں چلی جاؤ… اور اندر جا کر دیکھو، وہاں کوئی ایسی چیز ہے جسے تم اپنے دفاع کے لئے استعمال کر سکتی ہو اور مجھے یہ بتاؤ تم جس گھر کے اندر گئی ہو کیا گاڑی لے کر گئی ہو۔”
”ہاں۔” دروازے پر کوئی چیز ماری گئی تھی۔ علیزہ کے ہاتھ سے ریسیور گر پڑا۔ دروازہ بری طرح ہلا تھا۔ وہ بھاگتے ہوئے باتھ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور بولٹ چڑھا لیا۔
باتھ روم میں ایک نظر دوڑاتے ہی اسے اپنے بالکل سامنے ایک اور دروازہ نظر آیا۔ وہ باتھ روم یقیناً دو کمروں کے درمیان تھا اور وہ کمرہ وہی تھا جسے اس نے سب سے پہلے کھولنے کی کوشش کی تھی مگر وہ بند تھا۔ اس نے برق رفتاری سے وہ دروازہ کھولا اور اس کے حلق سے چیخ نکلی۔
کمرے میں سولہ سترہ سالہ ایک لڑکا نائٹ ڈریس میں اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔ وہ بھی اسے دیکھ کر بے حد خوفزدہ ہو گیا۔ کمرے میں نائٹ بلب جلا ہوا تھا اور باتھ روم کے کھلے دروازے کی روشنی نے صرف اتنی جگہ کو روشن کیا تھا جہاں وہ کھڑا تھا۔
”آپ کون ہیں اور یہاں کیوں آئی ہیں؟” علیزہ کو فوراً اندازہ ہو گیا کہ وہ اس گھر کا ایک فرد ہے اور یقیناً وہ کچھ دیر پہلے ہی اپنے دروازے پر پڑنے والی ٹھوکروں سے خوفزدہ ہو کر اٹھا ہو گا مگر اس نے دروازہ کھولنے کی ہمت نہیں کی اور پھر شاید باتھ روم میں ہونے والا شور سن کر وہ ادھر آیا ہو گا مگر اسی لمحے علیزہ اس باتھ روم سے باہر نکل آئی۔
علیزہ نے مڑ کر باتھ روم کے اس درواز ے کو بھی بند کر دیا۔ ”پلیز میری مدد کرو… یہ لوگ مجھے پکڑنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کمرے کا دروازہ توڑ رہے ہیں اور اس کے بعد وہ اس باتھ روم کے دروازے کو توڑ کر یہاں آجائیں گے۔” وہ اندھیرے میں اس لڑکے کے سامنے روتے ہوئے گڑگڑائی۔
”میرے پاپا اور ممی ٹھیک ہیں…؟” اس لڑکے نے اس سے پوچھا۔
”ہاں وہ ٹھیک ہوں گے، ان لڑکوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ انہوں نے انہیں نقصان نہیں پہنچایا ہو گا۔ یہ صرف مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔” وہ اب بری طرح رو رہی تھی۔
”میرے پاس موبائل ہے میں نے پولیس کو فون کیا ہے۔۔۔” وہ لڑکا بات کرتے کرتے رک گیا۔ ایک دھماکے کی آواز آئی تھی۔ برابر والے کمرے کا دروازہ یقیناً ٹوٹ گیا تھا۔ وہ دونوں خوفزدہ ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ باتھ روم کا دروازہ اب دھڑدھڑایا جانے لگا تھا۔
”پلیز مجھے کہیں چھپا دو…وہ لوگ یہ دروازہ بھی توڑ دیں گے۔” وہ پوری طرح وحشت زدہ ہو چکی تھی۔
”میرے کمرے کی کھڑکیاں پورچ کی چھت پر کھلتی ہیں، آپ وہاں اتر جائیں اور لیٹ جائیں۔ اندھیرے میں آپ نظر نہیں آئیں گی یا آپ وہاں سے نیچے لان میں اتر سکیں تو… مگر پتا نہیں یہ کتنے لوگ ہیں اگر نیچے کوئی ہوا۔ نہیں آپ بس پورچ کی چھت پر اتر کر وہاں چھپ جائیں۔ اگر یہ لوگ میرا دروازہ دھڑدھڑانا بند نہ کر دیتے تو میں بھی وہیں چھپتا۔ یہ لوگ ابھی دروازہ توڑنے میں بہت وقت لیں گے۔ ہو سکتا ہے تب تک پولیس آجائے۔ اگر پولیس نہیں بھی آئی تب بھی میں ان لوگوں سے یہی کہوں گا کہ آپ میرے کمرے میں آئی تھیں اور پھر میرے کمرے کا دروازہ کھول کر چلی گئیں۔” اس لڑکے نے تیزی سے کھڑکیاں کھولتے ہوئے کہا۔
”اس نمبر پر رنگ کرکے اپنے گھر کا ایڈریس بتاؤ۔” علیزہ نے کھڑکی پر چڑھتے ہوئے اسے شہلا اور نانو کے نمبر بتائے اور لڑکے نے سر ہلا دیا۔
وہ بڑی احتیاط اور خاموشی سے پورچ کی چھت پر اتر گئی۔ اس نے اپنے پیچھے کھڑکیوں کو دوبارہ بند ہوتے دیکھا۔ گھر کا گیٹ اب بند تھا۔ علیزہ کا دل بیٹھنے لگا، باہر چوکیدار نظر نہیں آرہا تھا۔ بالکل خاموشی تھی۔ وہ پورچ کی چھت سے نیچے اترنا چاہتی تھی مگر ہمت نہیں کر سکی۔لان کی تمام لائٹس آن تھیں اور پورچ بھی روشن تھا۔ کوئی بھی اسے نیچے اترتے دیکھ لیتا تو… وہ نہیں جانتی تھی وہ چاروں اندر تھے یا پھر ان میں سے کوئی باہر بھی تھا۔وہ پورچ کی چھت کے سب سے تاریک کونے میں جا کر بیٹھ گئی اور تب ہی اس نے کمرے کو روشن ہوتے دیکھا جس کی کھڑکیوں سے وہ اتری تھی، یقیناً وہ لوگ اب وہاں تھے اور اگر ان میں سے کسی نے کھڑکیوں کے پردے ہٹا دیئے تو… وہ فوراً جان جاتے کہ کھڑکیوں میں کوئی گرل نہیں تھی اور اس کے ذریعے نیچے اترا جا سکتا تھا۔ اس کا پورا جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔ وہ دم سادھے وہیں بیٹھی رہی۔
اور پھر اچانک اس نے دور کہیں پولیس سائرن کی آواز سنی۔ اس کا ر کا ہوا سانس یک دم بحال ہونے لگا۔ اسے اندازہ تھا کہ سائرن کی آواز گھر کے اندر بھی جا رہی ہوں گی، اور وہ چاروں لڑکے اب وہاں نہیں ٹھہریں گے۔ پھر اچانک اسے احساس ہوا کہ سائرن کی صرف ایک آواز نہیں ہے۔ ایک سے زیادہ پولیس کی گاڑیاں سائرن بجا رہی تھیں۔ اس نے یک دم نیچے پورچ میں دروازہ کھلنے اور کچھ بھاری قدموں کی آواز یں سنیں۔ پھر اس نے ایک لڑکے کو بھاگ کر گیٹ کی جانب جاتے ہوئے دیکھا۔ وہ پورچ کی چھت پر سر نیچے کر کے لیٹ گئی_
نیچے پورچ میں کوئی گاڑی اسٹارٹ ہو رہی تھی۔ پھر اس نے ایک گاڑی کے دروازے کی آواز سنی۔ اس نے پھر بھی گردن نہیں اٹھائی۔ وہ وہیں گہرے سانس لیتے ہوئے لیٹی رہی۔
پورچ میں اب یک دم کچھ اور آوازیں آنے لگی تھیں۔ اس نے ایک عورت کی آواز سنی۔ علیزہ جان گئی کہ گھر کے افراد باہر نکل آئے تھے۔ وہ چاروں لڑکے یقیناً وہاں سے جا چکے تھے۔ علیزہ اب بھی اٹھنے کی ہمت نہیں کر پائی۔ اسے اپنا وجود بے جان لگ رہا تھا۔ اسے کچھ دیر پہلے کے واقعات پر یقین نہیں آرہا تھا۔ پہلی بار اسے اپنے جبڑے اور ہاتھ میں تکلیف کا احساس ہونے لگا۔
علیزہ نے آہستہ آہستہ اٹھنے کی کوشش کی۔ اٹھ کر بیٹھنے کے بعد اس نے اپنے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر منہ چھپا لیا۔ سائرن کی آوازیں اب بہت قریب آتی جا رہی تھیں۔ وہ شاک کے عالم میں چہرہ گھٹنوں میں چھپائے ہوئے بیٹھی رہی۔
اگلے دس منٹوں میں اس نے اس گھر کے بالکل سامنے پولیس کی ایک موبائل رکتے ہوئے دیکھی۔ سائرن کی آواز کانوں کو پھاڑ رہی تھی۔ علیزہ نے ایک نظر اس گاڑی پرڈالی اور پھر گردن دوبارہ اپنے گھٹنوں میں پھنسالی۔
سائرن کی آواز اب بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ بہت ساری گاڑیوں کے ٹائروں کی آوازیں سن سکتی تھی۔ مگر وہ گردن نہیں اٹھا پا رہی تھی۔
”آپ ٹھیک ہیں؟” اس نے اچانک اپنے قریب ایک آواز سنی۔ علیزہ نے سر اٹھایا۔ اس کے سامنے پورچ کی چھت پر وہی سولہ سترہ سالہ لڑکا کھڑا تھا۔ مگر اب اس کے ساتھ تیرہ چودہ سالہ ایک اور لڑکا بھی تھا۔ وہ یقیناً ان ہی دو کھلی کھڑکیوں سے کود کر آئے تھے۔
”وہ لوگ چلے گئے ہیں… پولیس آگئی ہے۔ خطرے والی کوئی بات نہیں۔ میرے ممی ، پاپا اور بہن بھائی بالکل ٹھیک ہیں۔ ” وہ بڑی خوشی کے ساتھ اسے بتا رہا تھا۔
وہ مسکرانا چاہتی تھی مگر اسے احساس ہوا کہ وہ مسکرا نہیں سکتی۔ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی۔ وہ صرف اس کا چہرہ دیکھتی رہی اور پھر اس نے گردن موڑ کر باہر سڑک دیکھی۔ گیٹ ایک بار پھر کھلا ہوا تھا اورسڑک پولیس کی گاڑیوں سے بھری ہوئی تھی۔ سائرن اب آہستہ آہستہ بند ہو رہے تھے۔ وہ گیٹ کے اندر اور باہر پولیس کی یونیفارم میں ملبوس بہت سے لوگوں کو دیکھ سکتی تھی۔
”آئیں۔ واپس کمرے میں چلتے ہیں۔” اس لڑکے نے علیزہ سے کہا۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اس کے پیروں میں جوتا ہے نہ گلے میں دوپٹہ…
وہ لڑکے اب اس کے آگے چل رہے تھے۔ کھڑکی کے پاس پہنچ کر وہ بڑی پھرتی سے کھڑکی پر چڑھ گئے۔ مگر علیزہ کو اندازہ ہو گیا کہ وہ کھڑکی پر نہیں چڑھ سکتی۔ وہ لڑکا اب نیچے ہاتھ لٹکائے ہوئے اس کی مدد کرنا چاہ رہا تھا۔
”نہیں۔ میں نہیں چڑھ سکتی۔” وہ سر ہلاتے ہوئے ایک بار پھر پورچ کی چھت پر بیٹھ گئی۔اس نے ان لڑکوں کو کھڑکی سے غائب ہوتے دیکھا۔ چند منٹوں بعد پورچ کی چھت سے ایک سیڑھی لگائی گئی۔ علیزہ کو ایک بار پھر اسی لڑکے کا سر نظر آیا۔
”آپ یہاں سے آجائیں۔” وہ لڑکا کہتے ہوئے نیچے اتر گیا۔ علیزہ نے سیڑھی پکڑ کر نیچے جھانکا اور وہ نیچے اترنے کی ہمت نہیں کر سکی۔
نیچے بہت سے لوگ کھڑے تھے۔ وہ یک دم پیچھے ہٹ گئی۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ سیڑھی پر پہلا قدم رکھتے ہی نیچے گر جائے گی۔ اس کے پیروں میں اتنی لرزش تھی۔
پھر اس نے نیچے سے کسی کو اپنا نام پکارتے سنا، ایک لمحہ میں وہ آواز پہچان گئی۔ وہ عباس حیدر تھا۔ انکل ایاز حیدر کاتیسرا بیٹا… وہ بھی پولیس میں تھا اور لاہور میں ہی پوسٹڈ تھا۔
”علیزہ … میں عباس ہوں۔ نیچے آجاؤ، گھبرانے کی ضرورت نہیں، سب کچھ ٹھیک ہے۔” وہ بلند آواز میں اس کا نام پکارتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر اسے بے تحاشا رونا آرہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ عباس کی شکل دیکھتے ہی وہ خود پرقابو نہیں رکھ پائے گی بلکہ اس وقت اپنی فیملی کے کسی بھی شخص کو دیکھ کر وہ رونے کے علاوہ کچھ نہ کرتی۔ اس نے اپنے کپکپاتے ہونٹوں کو بھینچ لیا اور سیڑھی کی طرف بڑھ گئی۔
”نہیں۔ اتنے لوگوں کے سامنے مجھے رونا نہیں ہے اور پھر میں بالکل ٹھیک ہوں۔ کچھ بھی تو نہیں ہوا۔” اس نے دل ہی دل میں کہا اور نیچے جھانکا۔ عباس اب سیڑھی پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ شاید وہ چڑھنے کا سوچ رہا تھا مگر علیزہ کو نمودار ہوتے دیکھ کر وہ چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔
”ویری گڈ علیزہ… آجاؤ نیچے۔” اس نے اسے پچکارتے ہوئے کہا۔ وہ ہونٹ بھنچتے کانپتے ہوئے قدموں کے ساتھ سیڑھی اترنے لگی۔
آخری سیڑھی پرآتے ہی عباس نے اسے آگے بڑھ کر تھام لیا۔
”تم ٹھیک ہو؟” وہ نرم لہجے میں اس سے پوچھنے لگا۔
علیزہ نے اس کے چہرے کی طرف دیکھے بغیر سر ہلایا۔ وہ خود پر قابو رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ اب پولیس والوں کو ہدایت دے رہا تھا۔
وہ اس کے ساتھ چلتی ہوئی پورچ میں آگئی اور تب ہی اس نے ایک شخص کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا اور اس کا سارا حوصلہ جواب دے گیا۔ وہ عمر تھا۔ عباس کے برعکس وہ یونیفارم میں نہیں تھا۔ اسے ننگے پاؤں دوپٹے کے بغیر اس حالت میں اس کے سامنے آکر بے تحاشا بے عزتی کا احساس ہوا۔ مگر وہ جب اس کے قریب آیا تو وہ ننھے بچوں کی طرح اس سے لپٹ کر بلند آواز میں رونے لگی۔
”اسے گاڑی میں لے جاؤ۔” اس نے عباس کو کہتے سنا۔ عمر بہت نرمی کے ساتھ اسے اپنے ساتھ لپٹائے اس کا سر تھپک رہا تھا۔
”پانی لے کر آؤ” وہ اب کسی سے کہہ رہا تھا۔ اس نے علیزہ کو چپ کروانے کی کوشش نہیں کی۔
”گاڑی میں دیکھو، ان کا دوپٹہ اور جوتا ہے۔ اگر نہیں تو گھر کے اندر دیکھو… یا ان سے مانگ لینا۔” وہ مسلسل کسی کو ہدایت دے رہا تھا۔
”کافی ہے علیزہ…!” نرمی سے کہتے ہوئے اس نے علیزہ کو خود سے الگ کر دیا۔
”سر! یہ ان کا جوتا، دوپٹہ اور بیگ۔۔۔” ایک کانسٹیبل گاڑی کے اندر سے اس کی چیزیں لے کر پاس آگیا۔
عمر نے دوپٹہ اور بیگ پکڑ لیا۔ وہ جوتا پہننے لگی۔ عمر نے دوپٹا اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ علیزہ نے دوپٹہ ٹھیک سے پھیلاتے ہوئے اس کے ایک کونے سے اپنا چہرہ صاف کیا اور بیگ کے لئے ہاتھ پھیلایا۔
”یہ میں پکڑ لیتا ہوں۔ تم پانی پی لو۔” اس نے اب گھر کے اندر سے منگوایا جانے والا پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔ علیزہ نے ایک ہی سانس میں پورا گلاس خالی کردیا۔
”اور چاہئے۔” اس نے پوچھا، اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
عمر نے اس کے ہاتھ سے گلاس لیتے ہوئے اس شخص کی طرف بڑھایا۔جو پانی لے کر آیا تھا۔ گلاس دینے کے بعد اس نے بہت نرمی سے علیزہ کی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر چہرہ اوپر کرتے ہوئے اس کے چہرے کا جائزہ لیا۔
”یہاں کیا ہوا ہے؟” علیزہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر نمی آنے لگی۔
”ان میں سے کسی نے مارا ہے؟” اس نے سر ہلا دیا۔ عمر نے اس کے چہرے سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔
”آؤ چلیں۔ ” وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر آگیا۔ پولیس کی کسی گاڑی کی طرف لے جانے کے بجائے وہ اسے اپنی گاڑی کی طرف لے آیا۔ پچھلا دروازہ کھول کر اس نے اس کا بیگ اندر رکھا اور پھر اسے بیٹھنے کے لئے کہا۔
”میں ابھی آتا ہوں۔” وہ دروازہ بند کرکے چلا گیا۔ سڑک پر موجود پولیس کی گاڑیاں اب وہاں سے روانہ ہو رہی تھیں۔
علیزہ نے دور ایک گاڑی کے پاس عباس اور عمر کو چند دوسرے پولیس والوں کے ساتھ باتیں کرتے دیکھا۔ وہ دس پندرہ منٹ تک وہیں باتیں کرتے رہے۔ پھر اس نے عباس کو اس گھر کے اندر جاتے دیکھا جہاں عمر اس کی طرف آیا۔
گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ ”اب مجھے تفصیل سے بتاؤ۔ کیا ہوا تھا… شہلا سے میں بات کر چکا ہوں۔ یہ جانتا ہوں وہ چار لڑکے تھے۔ گاڑی کا نمبر بھی اس گھر کے چوکیدار نے بتا دیا ہے۔ میں شہلا کے گھر سے یہاں تک کی ساری تفصیل جاننا چاہتا ہوں۔” وہ بڑے نرم انداز میں کہہ رہا تھا۔
”اور علیزہ ! کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں سب کچھ جاننا چاہتا ہوں۔” علیزہ نے سیٹ کی پشت پر اپنا سر رکھ دیا۔ اسے وہ سب یاد کرتے ہوئے خوف آنے لگا تھا۔
”میں بہت تھک گئی ہوں۔ اس وقت مجھے گھر لے جائیں۔ میں صبح بتا دوں گی۔”
”میں تمہیں گھر لے جاؤں گا مگر یہ سب جاننا ضروری ہے۔ ہم انہیں ابھی پکڑنا چاہتے ہیں۔”
وہ چپ چاپ ونڈ اسکرین سے باہر دیکھتی رہی۔ عمر چند لمحے منتظر نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر کار کے کھلے دروازے سے نیچے اتر گیا۔
دس منٹ بعد وہ دوبارہ نمودار ہوا۔ علیزہ نے دور سے اس کے پیچھے چلتے ہوئے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک ٹرے دیکھی۔ کار کے پاس آنے پر عمر نے دروازہ کھول دیا۔ اس شخص نے وہ ٹرے کار کی پچھلی سیٹ پر رکھ دی اور دروازہ کھلا چھوڑ کر چلا گیا۔
عمر اب پسنجر سیٹ پر بیٹھا ہوا گلو کمپارٹمنٹ سے کچھ نکال رہا تھا۔ چند لمحوں بعد وہ بسکٹ کا ایک پیکٹ لے کر پچھلی سیٹ پر آگیا۔ علیزہ اس وقت تک ٹرے میں رکھے ہوئے چائے کے دو کپس میں سے ایک اٹھا چکی تھی۔ عمر نے بسکٹ کا پیکٹ کھول کر ٹرے میں رکھ دیا اور دوسرا کپ اٹھا لیا۔
علیزہ کو اس وقت بے تحاشا بھوک لگ رہی تھی۔ یکے بعد دیگرے اس نے تقریباً سارے بسکٹ کھا لئے۔ عمر خاموشی سے اسے دیکھتے ہوئے چائے پیتا رہا۔ جب اس نے چائے کا کپ ٹرے میں رکھ دیا تو عمر نے اس سے کہا۔
”اب بات شروع کرتے ہیں۔” علیزہ نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔ وہ ٹرانس میں آئے ہوئے کسی شخص کی طرح اسے اٹک اٹک کر ساری تفصیلات بتاتی رہی۔ عمر اس سے چھوٹے چھوٹے سوال پوچھتا رہا۔ گفتگو کے دوران اس نے علیزہ کے ہاتھ پر لگی ہوئی وہ خراشیں بھی دیکھیں جن سے ابھی تک خون رس رہا تھا۔ علیزہ نے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اپنے بیگ سے ٹشو نکال کر ہاتھ کو صاف کرنے کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد وہ ٹشو اس پر لپیٹ دیا۔ اپنی بات کے اختتام پر اس نے عمر کو خاموشی سے گاڑی سے اترکر گھر کے اندر جاتے دیکھا۔
اس بار اس کی واپسی آدھ گھنٹہ کے بعد ہوئی۔ عباس بھی اس کے ساتھ تھا۔ مگر گاڑی کی طرف آنے کے بجائے وہ دونوں ایک بار پھر پولیس کی گاڑی کی طرف چلے گئے۔ دس منٹ تک وہاں کھڑے کچھ پولیس والوں سے باتیں کرتے رہے۔
پھر علیزہ نے ان دونوں کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ عباس پسنجر سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔ جبکہ عمر نے پچھلا دروازہ کھول کر پچھلی سیٹ پر رکھی ہوئی ٹرے نکالی اور اسی شخص کو تھما دی جو پہلے وہ ٹرے لایا تھا۔ پھر وہ خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ علیزہ نے اسی وقت اپنی گاڑی کو گیٹ کے اندر سے باہر آتے دیکھا۔ اسے کوئی پولیس والا ڈرائیو کر رہا تھا۔
عمر نے اب اپنی گاڑی اسٹارٹ کر لی۔ عباس کے پاس ایک وائرلیس سیٹ تھا جسے اس نے ہینڈ بریک کے پاس رکھ دیا۔
”پہلے تو ہاسپٹل چلتے ہیں، تھوڑی فرسٹ ایڈ تمہیں مل جائے۔ اس کے بعد پھر گھر چلیں گے۔ گرینی کو میں نے بتا دیا ہے تمہارے بارے میں…اور شہلا تم سے بات کرنا چاہتی ہے۔ تم اسے کال کر لو۔”عمر نے اپنا موبائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے تھکے تھکے انداز میں موبائل لے لیا۔
”تھینک گاڈ تم ٹھیک ہو… میری تو جان پر بنی ہوئی تھی۔ ” کال ملتے ہی شہلا نے اس سے کہا۔
”لو ممی سے بات کرو۔” علیزہ نے باری باری شہلا کی ممی، پاپا اور دونوں بہن بھائیوں سے بات کی۔ پھر اس نے فون بند کرکے عمر کی طرف بڑھا دیا۔
”علیزہ ! میں تو تمہاری بہادری پر حیران ہوں۔ تمہیں توپولیس میں ہونا چاہئے۔” عباس خاصی شگفتگی سے کہہ رہا تھا۔ علیزہ مسکرا نہیں سکی۔
”کیوں عمر…! ہم لوگ تو اسے خوامخواہ ڈرپوک سمجھتے تھے۔ مگر یہ تو خاصی جرأت مند خاتون ثابت ہوئی ہیں۔”
”نہیں۔ میں نے تو کبھی بھی علیزہ کو بزدل نہیں سمجھا۔ ” علیزہ اپنے بار ے میں کی جانے والی گفتگو کو کسی دلچسپی کے بغیر سنتی رہی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ نہ اس کی جرات سے متاثر ہوئے تھے اور نہ ہی اس نے ایسا کوئی کارنامہ کیا تھا۔ وہ صرف اسے چیئر اپ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ہاسپٹل میں فرسٹ ایڈ کے بعد اسے کوئی انجکشن لگا دیا گیا۔ وہ واپس گاڑی میں آکر بیٹھی تو عمر نے اس سے کھانے کا پوچھا۔
”نہیں، مجھے بھوک نہیں ہے۔” علیزہ نے انکار کر دیا۔ ”میں صرف گھر جانا چاہتی ہوں۔” اس نے کہا۔
گاڑی چلنے کے کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا کہ وہ لوگ اسے گھر نہیں لے جا رہے ہیں۔ عمر خلاف عادت گاڑی بہت آہستہ چلا رہا تھا اور بار بار ذیلی سڑکوں پر گاڑی موڑ رہا تھا۔ وہ دونوں آپس میں کوئی گفتگو نہیں کر رہے تھے۔ علیزہ کو اپنے اعصاب پر عجیب سا نشہ طاری ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اسے کوئی سکون آور انجکشن دیا گیا ہے۔
اس سے پہلے کہ وہ عمر سے گھر نہ لے جانے کے بارے میں پوچھتی اس نے وائرلیس پر کوئی پیغام آتے سنا۔ عباس نے پیغام سننا شروع کر دیا۔
”پکڑ لیا۔۔۔” علیزہ یک دم چونک گئی۔ ”مگر دو لڑکے ہیں چار نہیں۔ گاڑی کی نمبر پلیٹ وہی ہے… تو ٹھیک ہے یہ وہی ہوں گے۔ تم لوگوں نے ان سے باقی دو کا پوچھا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ دو ہی تھے۔ ان دونوں نے باقی دو کو ڈراپ کر دیا ہو گا۔ وہ مان نہیں رہے ہیں، تو منواؤ، پوچھو ان سے ، کدھر چھوڑ کر آئے ہیں باقی دونوں کو۔ نہیں پولیس اسٹیشن نہیں لے کر جانا۔ ہم لوگ وہیں آتے ہیں۔ ” عباس نے وائرلیس بند کرتے ہوئے عمر سے کہا۔
”گاڑی پکڑلی ہے مگر اس میں دو لڑکے ہیں اور وہ یہ مان ہی نہیں رہے کہ انہوں نے کسی کا تعاقب کیا ہے نہ ہی یہ مان رہے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی اور بھی تھا۔ میرا خیال ہے ان لوگوں نے اس چیز کو پہلے ہی ورک آؤٹ کر لیا ہے اور ان دونوں کو ان کے گھر ڈراپ کر دیا ہے۔” عباس نے ابھی بات ختم کی ہی تھی کہ وائرلیس پر دوبارہ پیغام آنے لگا۔
”کچھ پتا چلا… کیا کہہ رہے ہیں۔ اچھا… ہاں… جس نے اپنا تعارف کروایا ہے، سب سے پہلے اس کی ٹھکائی کرو اور بالکل بے فکر ہو کر کرو۔” عباس نے اوور کہتے ہوئے بات ختم کر دی۔
”حرام زادہ اپنے باپ کا تعارف کروا رہا تھا۔ چیمبر آف کامرس کا وائس پریذیڈنٹ ہے۔” علیزہ نے اس بار ان دونوں کی گفتگو میں مداخلت کی۔
”آپ مجھے گھر کیوں نہیں چھوڑ رہے؟”
”علیزہ! تمہیں ہم وہیں لے کر جارہے ہیں۔ ایک تو تم ان چاروں کو شناخت کرنا، دوسرا اس کے بارے میں بتانا جس نے تمہیں مارا تھا۔” عمر نے اس سے کہا۔
”یہ کام میں صبح کر لوں گی۔ صبح آپ مجھے پولیس اسٹیشن لے جائیں لیکن ابھی میں بہت تھک گئی ہوں۔ مجھے نیند آرہی ہے۔ میں ان لوگوں کا سامنا کرنا نہیں چاہتی۔” علیزہ نے بے بسی سے کہا۔
”اچھا ٹھیک ہے۔” عمر نے گاڑی کی اسپیڈ یک دم بڑھا دی۔
علیزہ کا خیال تھا کہ وہ اسے نانو کے پاس لے کر جا رہا ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ دس منٹ بعد انہوں نے ایک بہت پوش علاقے کی ایک ویران سڑک پر ایک پولیس موبائل کے پاس گاڑی روک دی۔ علیزہ کا خون خشک ہونے لگا۔ اس نے موبائل سے کچھ فاصلے پر کھڑی گاڑی پہچان لی تھی۔ وہ ان ہی لڑکوں کی گاڑی تھی مگر اس وقت وہ خالی تھی۔
عباس اور عمر گاڑی سے اتر گئے۔ وہ موبائل کے پچھلے حصے کی طرف چلے گئے۔ کچھ دیر بعد علیزہ نے عباس کو ایک لڑکے کو کالر سے گھسیٹتے ہوئے اپنی طرف لاتے دیکھا۔ وہ ایک پل میں اسے پہچان گئی۔ وہ ان ہی لڑکوں میں سے ایک تھا۔ علیزہ کی کھڑکی کے پاس آکر عباس نے اس لڑکے کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔
”اندر دیکھو۔” اس لڑکے نے اندر دیکھا۔ علیزہ سے اس کی آنکھیں ملیں اور اس نے آنکھیں چرالیں۔
”میں نہیں پہچانتا۔” اس نے عباس سے کہا۔ عباس نے علیزہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”تم پہچانتی ہو اسے؟”
”ہاں… یہ ان میں سے ایک ہے۔” عباس نے ایک اور تھپڑ اس لڑکے کے منہ پر مارا۔
”اب حرام زادے یا تو تم ان دونوں کے بارے میں بتاؤ گے یا پھر میں تمہاری قبر اسی وقت یہاں بنوا دوں گا۔”
”میں بتا دیتا ہوں… وہ … ان دونوں کو گھر چھوڑ آئے ہیں ان کے… سر ! غلطی ہو گئی ہم سے… پلیز معاف کر دیں۔” وہ یک دم عباس کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگا۔
عباس نے پولیس کے ایک سپاہی کو اسے موبائل میں بٹھانے کے لئے کہا۔ عباس وہیں کھڑا رہا۔ علیزہ نے عمر کو گاڑی کی طرف آتے دیکھا۔ عباس گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔
”عمر! تم ان لوگوں کی گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔ ان دونوں میں سے ایک لڑکے کو بھی اسی گاڑی میں بٹھا دیتا ہوں۔ ان دونوں لڑکوں کے گھروں پر جا کر اسی لڑکے کو گیٹ پر بھجوانا۔ یہ انہیں باری باری باہر بلوائے گا اور پھر ہم انہیں پکڑ لیں گے۔ یہ نہ ہو کہ انہیں کوئی شک ہو جائے اور وہ باہر ہی نہ آئیں۔ جج کے گھر پر تو ویسے بھی گارڈ لگی ہو گی اور میں نہیں چاہتا۔ وہ کسی یونیفارم والے کو دیکھے۔ مجھے تو ویسے ہی پہچان جائیں گے۔ اس لئے میں گاڑی پیچھے رکھوں گا۔”
ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہی عباس نے عمر سے کہا۔
عمر دوبارہ گاڑی سے نکل گیا۔ عباس پسنجر سیٹ سے ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔
”پلیز مجھے تو گھر چھوڑ دیں، مجھے نیند آرہی ہے۔” علیزہ نے ایک بار پھر عباس سے کہا۔
”ڈونٹ وری… چھوڑ دیتے ہیں۔ چھوڑ دیتے ہیں۔” اس نے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ علیزہ نے پولیس کی موبائل اور ان لڑکوں کی گاڑی کو سڑک پر حرکت میں آتے دیکھا۔
عباس کی گاڑی ان دونوں گاڑیوں سے پیچھے تھی۔ دس منٹ کے بعد علیزہ نے موبائل کی رفتار آہستہ ہوتے دیکھی۔ عباس نے اسے اوورٹیک کر لیا۔ اب اس کے آگے ان لڑکوں کی گاڑی تھی۔ علیزہ نے اچانک اس گاڑی کی ایک کھڑکی سے عمر کا بازو باہر نکلتے دیکھا۔ وہ کوئی اشارہ کر رہا تھا۔
عباس نے گاڑی کی رفتار کو آہستہ کرتے ہوئے گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی کر دی۔ ان لڑکوں کی گاڑی مسلسل چلتی رہی اور پھر ان کی گاڑی سے خاصا آگے جا کر وہ گاڑی رک گئی۔ علیزہ نے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سے ایک لڑکے کو اتر کر دائیں طرف کے ایک گیٹ پر جاتے دیکھا۔ وہ لڑکا اب گیٹ پر بیل بجا کر چوکیدار سے بات کر رہا تھا۔
پانچ منٹ کے بعد علیزہ نے گھر کے اندر سے ایک اور لڑکے کو باہر آتے دیکھا۔ وہ اس لڑکے کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ علیزہ نے ان دونوں کو گاڑی میں بیٹھتے اور گاڑی کو تیزرفتاری کے ساتھ آگے بڑھتے دیکھا۔ اس گاڑی کے آگے بڑھتے ہی عباس نے اس گاڑی کے پیچھے جانے کی بجائے وہیں سڑک پر گاڑی موڑلی اور بہت تیزرفتاری سے گاڑی ڈرائیو کرنا شروع کر دی۔ علیزہ نے کچھ فاصلے پر ایک بار بھر موبائل کو اپنے پیچھے آتے دیکھا۔ کچھ دیر بعد اس موبائل وین نے ان لوگوں کی کار کو اوورٹیک کیا اور آگے نکل گئی۔ عباس اب اس کے پیچھے جا رہا تھا۔
ایک سڑک پر ٹرن لیتے ہی علیزہ نے ان لڑکوں کی گاڑی کو وہاں کھڑے دیکھا۔ پولیس کی گاڑی بھی اس کے پاس جا کر رکی اور علیزہ نے کار سے ایک اور لڑکے کو پولیس کی گاڑی میں منتقل ہوتے دیکھا۔
ایک بار پھر وہ تینوں گاڑیاں آگے پیچھے دوڑنے لگیں۔ ایک سڑک پر مڑنے کے بعد عباس نے گاڑی روک لی۔ پولیس کی موبائل بھی وہیں رک گئی جبکہ عمر والی گاڑی آفیسر ز کالونی میں داخل ہو گئی۔ اب وہ گاڑی ان کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ علیزہ کی بے چینی اور اضطراب میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔
”عباس بھائی! پلیز مجھے تو گھر چھوڑ دیں میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔” علیزہ نے ایک بار پھر عباس سے کہا۔
”علیزہ بس دس منٹ اور… اس کے بعد میں تمہیں گھر چھوڑ دوں گا۔ تم آرام سے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر سو جاؤ۔” عباس نے اس سے کہا۔
دس منٹ بعد اچانک عباس کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔
”ہیلو۔” عباس فون پر بات کرنے لگا۔
”کچھ پرابلم ہو گیا ہے۔” علیزہ نے دوسری طرف سے عمر کی آواز سنی۔گاڑی میں اتنی خاموشی تھی کہ وہ دوسری طرف سے آنے والی آواز بھی سن رہی تھی۔
”وہ لڑکا باہر نہیں آرہا۔ اس کے باپ نے کہا ہے کہ وہ سو گیا ہے۔”
”تم اس لڑکے سے کہو کہ اس لڑکے سے موبائل پر کانٹیکٹ کرے اگر ا س لڑکے کے پاس موبائل ہے تو وہ اس پر اس سے کانٹیکٹ کرے ورنہ پھرگھر کے نمبر پر۔” عباس نے موبائل بند کر دیا۔ پانچ منٹ اور اسی طرح گزر گئے۔
پھر موبائل پر ایک بار کال آنے لگی۔ ” نہیں وہ لڑکا باہر نہیں آیا۔ اس نے اپنا موبائل آف کر دیا ہے۔جبکہ گھرکا فون اس کے باپ نے اٹھایا ہے اور وہ یہی کہہ رہا ہے کہ وہ سو گیا ہے۔” علیزہ نے ایک بار پھر عمر کی آواز سنی۔ عباس نے اس کی بات کے جواب میں کچھ گالیاں دیں اور پھر کہا۔
”اس نے اپنے باپ کو اپنے کرتوت کے بارے میں بتا دیا ہو گا اور مجھے لگتا ہے انہیں کوئی شک ہو گیا ہے۔ میں سول کپڑوں میں کچھ لوگوں کو بلواتا ہوں۔ اٹھا لائیں گے وہ اسے اندر سے گارڈ کا پتا کرتا ہوں کہ وہاں کس کی ڈیوٹی ہے کچھ دیر کے لئے اسے وہاں سے ہٹا دیتا ہوں۔ جب اس لڑکے کو اندر سے لے آئیں گے تو پھر گارڈ کو واپس بھجوا دیں گے۔ ” عباس نے ایک بار پھر موبائل بند کر دیا اور وائرلیس سیٹ پر کسی سے بات کرنے لگا۔
”مجھے سول کپڑوں میں آٹھ بندے چاہیں اور گاڑیاں بھی پرائیویٹ ہونی چاہئیں’ نمبر پلیٹ بدلوا دینا۔” علیزہ کی غنودگی یک دم ختم ہو گئی۔ وہ اس کی بات غور سے سننے لگی۔ وہ اب ایک جج کا نام لیتے ہوئے دوسری طرف ہدایات دے رہا تھا۔
”پتا کراؤ کہ اس کے گھر میں کون تعینات ہے۔ پتا کروانے کے بعد ان لوگوں کو کہنا کہ کچھ دیر کے لئے اسے وہاں سے ہٹا دیں۔ جج اور اس کی فیملی کو کچھ نہیں کہنا’ انہیں کسی کمرے میں بند کر دینا۔ اس کے بس ایک بیٹے کو وہاں سے لے کر آنا ہے۔ اس کا حلیہ تمہیں اس کے گھر کے باہر کھڑی گاڑی سے بتا دیا جائے گا۔ آپریشن بہت اچھے طریقے سے ہونا چاہئے۔ کوئی گڑ بڑ نہیں ہونی چاہئے اور ہاں انہیں کہنا ‘ واپس آنے سے پہلے گارڈ کو باندھ دیں اوور۔” عباس نے وائرلیس پر پیغام ختم کیا تو علیزہ نے اس سے پریشانی کے عالم میں پوچھا۔
”عباس بھائی! آپ کیا کرنے والے ہیں۔” وہ گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا۔
”پولیس ریڈ۔۔۔”
”مگر اس طرح ۔۔۔”
”ہاں بھئی، اس طرح بھی ہوتا ہے۔”
”آپ ان کے گھر جا کر خود سب کچھ بتا دیں اور اسے پکڑ لیں مگر اس طرح ۔۔۔” وہ سمجھ نہیں پائی کہ اس سے کیا کہے۔ ”آپ زبردستی گھر میں گھسیں گے؟”
”نہیں۔ پریشان مت ہو… وہ اندر جا کر بتا دیں گے… اندر تو جانا ہے کسی طرح۔” عباس کے لہجے میں حد درجہ اطمینان تھا۔
”مگر آپ تو کہہ رہے تھے۔ کہ وہ ۔۔۔” عباس نے اس کی بات کاٹ دی۔
”اس بات کو چھوڑو کہ میں کیا کہہ رہا تھا… مجھے یہ بتاؤ کہ چہرے پر زیادہ درد تو نہیں ہو رہا۔” علیزہ نے بے اختیار اپنا گال چھوا۔ وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ اس کا گال سوج چکا تھا اور یقیناً اس پر نیل بھی ہو گا۔
”نہیں۔ ٹھیک ہے۔” اس نے کہا۔
”اگلی بار جب بھی تم گھر سے نکلو تو اپنا موبائل ضرورساتھ رکھو۔ موبائل ہے نا تمہارے پاس؟ ”
”نہیں۔ مجھے اس کی کبھی ضرورت نہیں پڑی۔”
”میں صبح تمہیں ایک بھجوا دوں گا۔”
”نہیں’ میں خرید لوں گی۔”
”میں نے کہانا بھجوا دوں گا۔ رزلٹ کب تک آرہا ہے… یا آچکا ہے؟”
”ابھی نہیں آیا’ چند ہفتوں تک آجائے گا۔”
”پتا چلا تھا مجھے کوئی میگزین جوائن کیا ہوا ہے تم نے؟”
”ہاں… تھوڑا عرصہ ہوا ہے۔”
”کیسا کام جا رہا ہے؟” وہ اسے اپنے کام کی تفصیل بتانے لگی۔ وہ بڑی دلچسپی سے سن رہا تھا۔ علیزہ کو اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کتنی مہارت سے بات کاموضوع بدل چکا ہے۔ وقتاً فوقتاً وہ گاڑی سے باہر نظریں دوڑاتا رہا۔
وہ اس کے ایک اور سوال کا جواب دے رہی تھی جب اس نے سنسان سڑک پر اچانک آگے پیچھے تیز رفتاری کے ساتھ دو گاڑیاں اس کالونی کے اندر جاتے دیکھیں۔ عباس بھی ان ہی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔ جب گاڑیاں اندر مڑ گئیں تو اس نے علیزہ سے کہا۔
”تم خاموش کیوں ہو گئیں؟ تمہیں چاہئے تم کوئی اس سے اچھا میگزین جوائن کرو۔” علیزہ نے کچھ الجھ کر اسے دیکھا اور پھر اس کے چہرے پر سنجیدگی پائی تو ایک بار پھر اس کے سوالوں کا جواب دینے لگی۔
پندرہ منٹ بعد اس نے اچانک عمر والی گاڑی کو اس کالونی سے نکلتے دیکھا۔ عباس نے بڑی پھرتی سے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ عمر کی گاڑی ان کے بالکل پاس آکر رکی اور عمر نیچے آیا۔ڈرائیون?
