Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 9
Rate this Novel
Episode 9
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 9
۔۔۔۔۔
باب 11
وہ کچن سے واپس لاؤنج میں آگئی تھی اور وہاں آکر اس نے شہلا کو اس کے موبائل پر کال کیا تھا۔
”ہیلو شہلا ! میں علیزہ ہوں۔” اس نے رابطہ قائم ہوتے ہی کہا تھا۔
”ہاں علیزہ! تم آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئیں؟”
”نہیں، آج میں یونیورسٹی نہیں آؤں گی۔”
”کیوں بھئی کیا ہو ا؟ طبیعت تو ٹھیک ہے ؟”
شہلا کی آواز میں تشویش تھی۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں ، بس دیر سے جاگی ہوں۔ یونیورسٹی کا ٹائم نکل گیا۔”
”رات کو پڑھتی رہی ہو؟”
”نہیں یار! پڑھتی کہاں رہی ہوں ، تمہیں بتایا تو تھا کہ عمر آرہا ہے اور ساری رات میں اور نانواسی کا انتظار کرتی رہیں۔”
”اچھا تو کیا وہ آگیا ہے؟”
”ہاں بہت لیٹ آیا تھا۔”
”کیا حال ہے اس کا؟”
”ابھی تو میری اس سے ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ میں تو انتظار کرتے ہوئے سو گئی تھی۔ وہ میرے سونے کے بعد ہی آیا اور ابھی میں جاگی ہوں تو وہ سو رہا ہے۔ لنچ سے کچھ دیر پہلے اٹھے گا تو بات ہو گی۔ میں نے تمہیں اس لئے فون کیا تھا تا کہ تمہیں انفارم کر دوں۔ ورنہ تم خوامخواہ پریشان ہوتی رہتیں۔”علیزہ نے وضاحت کی تھی۔
”کل تو یونیورسٹی آؤ گی نا؟”
”ہاں ! کل تو ضرور آؤں گی، خدا حافظ!”
”خدا حافظ۔” شہلا نے دوسری طرف سے موبائل آف کر دیا تھا۔ شہلا کو فون کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی اور اس نے دو دن پہلے ملنے والی ایک اسائمنٹ پر کام کرنا شروع کر دیا تھا مگر بار بار اس کا ذہن عمر کی جانب ہی جا رہا تھا۔ کسی نہ کسی طرح بارہ بجے تک وہ اس اسائنمنٹ کو لکھتی رہی تھی اور پھر اٹھ کر ایک بار پھر کچن میں آگئی۔
نانو شامی کبابوں کے لئے بنایاجانے والا مصالحہ چیک کر رہی تھیں۔ علیزہ نے بہت عرصہ کے بعد انہیں اس جوش و خروش کے ساتھ کچن میں کام کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ مسکراتی ہوئی باہر لان میں آگئی کچھ پھو ل اور شاخیں کاٹنے کے بعد وہ ایک بار پھر ڈائننگ روم میں آگئی تھی اور وہاں اس نے انہیں ڈائننگ ٹیبل پر پڑے ہوئے گل دان میں ارینج کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ ترتیب مکمل کر چکی تھی اور ٹیبل سے فالتو پھول اور شاخیں اکٹھی کر رہی تھی جب اس نے ڈائننگ روم میں وہی مخصوص مردانہ آواز سنی۔
”ہیلوعلیزہ ! ” وہ کچھ گڑ بڑا گئی تھی۔
ڈائننگ ٹیبل کی دوسری طرف ایک کرسی کی پشت پر وہ اپنا کوٹ لٹکا رہا تھا۔ وہ دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ اب ٹیبل پر اپنا موبائل اور سن گلاسز رکھ رہا تھا۔ گزرے ہوئے چند سالوں نے اس میں کچھ تبدیلیاں کر دی تھیں۔ اس کا ہیئرسٹا ئل بدل گیا تھا۔ سول سرونٹس کے ہیئرکٹ میں وہ بہت سوبر لگ رہاتھا۔ وائٹ شرٹ کے ساتھ نیلی ٹائی لگائے وہ بہت فارمل گیٹ اپ میں تھا۔ علیزہ نے ڈائننگ روم میں پھیلی ہوئی کلون کی مہک کو محسوس کرنے کی کوشش کی تھی۔وہ اپنا کلون تبدیل کر چکا تھا۔_
”کیسی ہو تم؟”
وہ ایک بار پھر اس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ علیزہ نے اس کے چہرے پر بہت مدھم سی مسکراہٹ دیکھی تھی۔
”میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟”
علیزہ نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے اس سے پوچھاتھا۔
اور وہ ایک بار پھر جواباً مسکرا یاتھا۔
”Perfectly Alright.، (بالکل ٹھیک)گرینی کہاں ہیں؟”
اس نے اس کے سوال کا جواب دیتے ہی پوچھاتھا۔
”وہ کچن میں ہیں!”
اور وہ کچھ کہے بغیر کچن کی طرف چلا گیا۔
”کیا اسے مجھ سے صرف اتنی ہی بات کرنی تھی۔”
علیزہ نے ٹیبل پرسے شاخیں اٹھاتے ہوئے سوچاتھا۔ کچن میں سے اس کی آواز آ رہی تھی۔ وہ شاخیں اور پھول لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
جب وہ واپس ڈائننگ میں آئی تو وہ ٹیبل پربیٹھا نیوز پیپر دیکھ رہا تھا۔ اس کے وہاں آنے پر بھی وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا تھا۔ علیزہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کرے وہاں رکے یا پھر کچن میں چلی جائے۔ چند سیکنڈز وہ اسی شش و پنج میں رہی تھی پھر کچن کی طرف بڑھ گئی تھی۔ نانو کچن سے باہر نکل رہی تھیں۔
”میں نے مرید سے کہہ دیا ہے وہ کھانا لگا دے گا۔ تم آجاؤ!”
انہوں نے اسے دیکھتے ہی کہاتھا۔ وہ ایک بار پھر ان کے ساتھ واپس ڈائننگ میں آ گئی تھی۔ اس بار عمر جہانگیر ان کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ اس نے نیوز پیپر کو بند کر کے ایک طرف ٹیبل پر رکھ دیاتھا اور وہ نانو کے ساتھ ٹیبل پر آکر بیٹھ گئی۔
”علیزہ مجھ سے صبح پوچھ رہی تھی کہ تم کیسے لگ رہے تھے، بدل تونہیں گئے ۔ میں نے اس سے کہا کہ تم خود ہی دیکھ لینا۔ اب بتاؤ علیزہ ! پہلے سے بدل گیا ہے یا ویسا ہی ہے؟”
نانو نے عمر سے بات کرتے کرتے اسے مخاطب کیاتھا۔ وہ ان کے اس سوال پر کچھ شرمندہ ہو گئی تھی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ نانو عمر کے سامنے ہی یہ بات کہہ دیں گی۔ عمر اب اس کی طرف متوجہ تھا۔
”کیوں علیزہ !کیا میں کچھ بدلا ہوں ؟” اب وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔
”پتہ نہیں ،میں اندازہ نہیں کر سکتی۔” اس نے کچھ شرمندہ ہوتے ہوئے کہا تھا۔
”تمہارا ماسٹرز کیسا جارہا ہے ؟
اس بار اس نے ایک اور سوال کیاتھا۔
”ٹھیک جا رہا ہے!”
”کون سا سبجیکٹ ہے تمہارے پاس؟”
”سوشیالوجی!”
”مگر پہلے تو تم اکنامکس میں انٹرسٹڈ تھیں، یہ ایک دم سوشیالوجی کیسے؟”
وہ بہت سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔
”میں ایک این جی او کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں اور سوشیالوجی پڑھنے سے مجھے بہت سی بنیادی باتوں کا پتہ چل جائے گا اور مجھے اپنے کام میں زیادہ پرابلمز نہیں ہوں گے۔”
اس نے دھیمی آواز میں وضاحت کی۔
ڈائننگ ٹیبل پر اب کھانا لگایا جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”اوہ…! یعنی مس علیزہ سکندر سوشل ورک میں انٹرسٹڈ ہیں۔ این جی او کے ساتھ کام کر نا چاہتی ہیں۔ بیگمات والے کام ، نیوز پیپر میں تصویریں لگوانے کے لئے، سوشل ورک، مختلف مقاصد کے لئے ٹکٹ خریدے بغیر ہی Charity Walks میں شرکت، غریب لڑکیوں کے جہیز کے لئے ہزاروں روپیہ روز خرچ کرنے والوں سے دس دس روپیہ کے ٹکٹ کے ذریعہ فنڈ اکٹھا کرنا لیکن مختلف ڈونر ایجنسیز سے ملنے والے فنڈز سے پلاٹس خرید لینا۔ مختلف مقاصد کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے علی حیدر اور حدیقہ کیانی کے ساتھ کنسرٹس ارینج کرنا اور وہاں اپنی پوری فیملی کے ساتھ ٹکٹ کے بغیر موجود ہونا۔ تو آپ بھی کچھ اس قسم کے سوشل ورک میں انوالو ہونا چاہ رہی ہیں؟”
وہ اب ایک گلاس میں پانی ڈال رہا تھا۔ علیزہ کچھ بول نہیں سکی۔ اسے عمر جہانگیر سے ایسے تبصرے کی توقع نہیں تھی۔
”عمر ایسی باتیں تو نہیں کرتا تھا اور مجھ سے ……مجھ سے تو کبھی بھی نہیں۔”
وہ ایک شاک کے عالم میں سوچ رہی تھی۔ وہ اب پانی پی رہا تھا۔
نانو شاید علیزہ کے تاثرات سے بہت کچھ سمجھ گئی تھیں اس لئے انہوں نے بات کا موضوع بدل دیاتھا۔
”علیزہ تو اس قسم کے کام نہیں کر سکتی تم بتاؤ تمہیں فارن سروس چھوڑنے کی کیا سوجھی ہے؟”
عمر نے پانی پی کر گلاس ٹیبل پر رکھ دیا تھا ایک بار پھر وہ علیزہ کی طرف متوجہ تھا۔
”ڈونر ایجنسیز اور این جی اوز کے بارے میں بہت سی رپورٹس میری نظروں سے گزرتی ہیں۔ یہ سب بیورو کریٹس اور سیاست دانوں کی بیگمات کے ایڈونچر اور وقت گزاری ہوتی ہے۔ علیزہ ! تم تو کسی بیورو کریٹ یا سیاست دان کی بیوی بننے نہیں جارہی۔ پھر تم ایسی ایکٹیویٹیز میں کیوں انٹرسٹڈ ہورہی ہو؟”
اس بار اس کالہجہ نرم مگر الفاظ ویسے ہی تیکھے تھے۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر اس کا چہرہ دیکھتی رہی تھی۔ عمر اب نانو کے ساتھ بات کر رہا تھا۔
”میں اسلام آباد جارہا ہوں۔ وہاں سے شاید کل واپسی ہو!”
نانو قدرے حیران ہوئی تھیں۔ ”کیوں اب اسلام آباد جانے کا ارادہ کیسے بن گیا ہے۔ ابھی تو صبح تم آئے ہو، آتے ہی اسلام آباد میں کون سی مصروفیت یاد آگئی ہے؟”
”اسلام آباد تو ابھی کافی چکر لگانے پڑیں گے۔ فارن آفس میں کچھ کام نپٹانے ہیں پھر انٹریر منسٹری کا بھی ایک چکر لگانا ہے۔”
اس نے پلیٹ اپنے آگے کرتے ہوئے کہاتھا۔
”میں نے تم سے پوچھا تھا کہ فارن سروس کیوں چھوڑ دی تم نے؟”
نانو کو اچانک یاد آگیا۔
”بس میرا دل نہیں لگا اس میں!”
اس نے سلاد پلیٹ میں ڈالتے ہوئے کہاتھا۔
‘تین چار سال بعد تمہیں پتا چلا کہ تمہارا دل اس میں نہیں لگ رہا ۔ اگر دل نہیں لگ رہا تھا تو تمہیں پہلے ہی فارن سروس میں نہیں جانا چاہئے تھا۔” نانو نے اس سے کہا تھا۔
”فارن سروس کو فارن آفس میں کتی سروس کہتے ہیں۔”
علیزہ اس کے جملے پر ہکا بکا رہ گئی تھی۔ اس نے عمر کے منہ سے پہلی بار اس طرح کا کوئی لفظ سنا تھا۔
”یہ وہ سروس ہے کہ جس میں کام نہ کرکے گالیاں پڑتی ہیں اور کام کرکے زیادہ گالیاں۔”
”بکواس مت کرو تمہارا باپ بھی تو اسی سروس میں ہے۔ اس نے تو کبھی اس طرح کی بات بھی نہیں کی ۔”
نانونے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
”پاپا کی کیا بات ہے وہ جاب تھوڑا ہی کرتے ہیں۔ وہ تو عیش کرتے ہیں۔ میں تو جاب کرنے والوں کی بات کر رہا ہوں۔”
اس کے لہجہ میں طنز تھا۔
نانو نے اسے غور سے دیکھا تھا۔ وہ کھانا کھانے میں مصروف تھا۔
تمہارے اور جہانگیر کے درمیان اب کس بات پر جھگڑا ہوا ہے؟”
انہوں نے قدرے ہلکی آواز میں پوچھاتھا۔
عمر کھانا کھانے میں مشغول رہاتھا۔
”میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے عمر؟”
نانو نے اسے ایک بار پھر مخاطب کیاتھا۔
گرینی یہ بریانی کس نے بنائی ہے؟”
”کیوں اچھی نہیں ہے کیا؟”
”اچھی ہے اسی لئے تو پوچھ رہا ہوں!”
”میں نے بنا ئی ہے۔”
”پچھلے تین سالوں میں، میں نے ایسی بریانی نہیں کھائی۔”
اس نے مسکراتے ہوئے تعریف کی۔
”آج میں نے تمہاری ہر فیورٹ ڈش خود بنائی ہے۔”
نانو نے فخریہ انداز میں کہا۔
”اور جب تم تک تم یہاں رہو گے، میں تمہارے لئے کھانا خود ہی بناتی رہوں گی۔”
”اس کا مطلب ہے کہ مجھے اپنے ایکسر سائز آورز بڑھا دینے چاہئیں۔ ورنہ یہاں سے جاتے ہوئے میں کسی بھی سائز میں نہیں ہوں گا۔”
اس نے خوشگوار لہجہ میں کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”تم نے مجھے بتایا نہیں، تمہارے اور جہانگیر کے درمیان اب کس بات پر جھگڑا ہوا ہے؟”
نانو اپنا سوال نہیں بھولی تھیں۔
علیزہ نے اس کے چہرے پر ایک بار پھر تناؤ دیکھا تھا۔
”کوئی جھگڑا نہیں ہے گرینی!”
اس نے انہیں بہلانے کی کوشش کی تھی۔
”تم نے خود فون پر کہا تھا کہ تمہارا جہانگیر کے ساتھ جھگڑا ہوگیا ہے! اور اب تم کہہ رہے ہو کہ کوئی جھگڑا ہی نہیں ہوا ہے۔”
میرے اور پاپا کے درمیان جھگڑے کوئی نئی بات نہیں ہیں گرینی، جو چیز ہمیشہ سے ہوتی چلی آ رہی ہو اس کے بارے میں کیا بتاؤں۔”
وہ بہت سیریس نظر آرہا تھا۔
”میں جانتی ہوں کہ تم دونوں کے درمیان جھگڑے کوئی نئی بات نہیں ہیں مگر پھر بھی میں جاننا چاہتی ہوں کہ اس بار کیا ہواہے؟”
” یہی تو میں بھی پوچھ رہا ہوں کہ آپ جان کر کیا کریں گی؟”
”ظاہر ہے تم دونوں کے درمیان پیچ اپ کروانے کی کوشش کروں گی۔”
”کم آن گرینی ! آپ کیا پیچ اپ کروانے کی کوشش کریں گی اور اب آپ کو اس معاملے میں انوالو ہونے کی ضرورت ہی کیا ہے؟”
اس نے ایک ہلکا سا قہقہہ لگایا تھا۔
”کیوں انوالو ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، آخر تم دونوں کے ساتھ پرابلم کیاہے؟”
”ہم دونوں کے ساتھ پرابلم یہ ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ غلط رشتے میں باند ھ دیا گیا ہے۔ مجھے ان کا بیٹا ہونے کی بجائے باپ ہونا چاہئے تھا اور انہیں میرا بیٹا ہونا چاہئے تھا، پھر ہرپرابلم بڑی Amicably(دوستانہ انداز سے) حل کر لی جاتی، بلکہ میرا خیال ہے کہ پھر پرابلم پیدا ہی نہیں ہوتی۔ کیونکہ میں اتنا ڈومی نیٹنگ اور کمانڈنگ قسم کا باپ بننے کی کبھی کوشش نہیں کرتا، جتنا پاپا کرتے ہیں۔”
”باپ سے بار بار جھگڑا کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔”
”بیٹے سے بار بار جھگڑا کرنا کیا بہت اچھی بات ہے؟”
”میں اسی لئے تو تم سے پوچھ رہی ہوں کہ مجھے جھگڑے کی وجہ بتاؤ تاکہ میں جان سکوں غلطی کس کی ہے۔”
”گرینی! اب اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں نے اسی لئے فارن سروس چھوڑ دی ہے کہ ان سے کبھی میرا آمنا سامنا نہ ہو۔”
”تم نے فارن سروس جہانگیر کی وجہ سے چھوڑی ہے!”
”ہاں!”
باپ سے جھگڑ کر تم فارن سروس چھوڑ کر آ گئے ، عجیب بے وقوف آدمی ہو تم۔”
نانو بہت حیران نظر آئی تھیں۔
”گرینی ! پلیز ! اس وقت مجھے کھانا کھا لینے دیں۔ اس وقت میں اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا۔ میں بعد میں واپس آکر آپ کو سب کچھ بتا دوں گا۔”
علیزہ نے عمر کو بڑے خشک لہجہ میں کہتے سناتھا۔ نانو اس کی بات پر بالکل خاموش ہو گئی تھیں۔ وہ اپنی پلیٹ صاف کرنے کے بعد اب سویٹ ڈش اٹھا رہا تھا۔
”اتنی جلدی سویٹ ڈش۔ تم نے تو بریانی اور کبابوں کے علاوہ اور کسی چیز کو چکھا ہی نہیں۔”
”بس گرینی ! باقی چیزوں کو واپس آکر چکھ لوں گا، فی الحال تو میں اتنا ہی کھا سکتاتھا۔”
وہ اب سویٹ ڈش نکال رہا تھا۔نانو کے اصرار کے باوجود بھی اس نے کوئی دوسری چیز نہیں لی تھی۔
”ڈرائیور کو کہہ دیں کہ مجھے ائیر پورٹ چھوڑ آئے اور گرینی!آپ نے کیا انیکسی صاف کروا دی ہے؟ میرا سامان کل پرسوں تک آجائے گا۔”
اس نے نیپکن سے منہ پونچھتے ہوئے کہا تھا۔
”ہاں انیکسی بالکل صاف ہے۔ تم اس کی فکر مت کرو۔ کل کس وقت آ ؤ گے۔”
”رات تک آؤں گا ،آٹھ نو بجے!”
وہ ٹیبل سے کھڑا ہو گیا تھا۔
نانو نے ملازم کو آواز دے کر گاڑی نکلوانے کے لئے کہا تھا۔ ملازم نے چند لمحوں میں آکر گاڑی تیار ہونے کی اطلاع دی تھی۔ عمر نے اپنا کوٹ پہن لیا تھا اور فرش پر پڑا ہوا بریف کیس ملازم کو تھما دیا تھا۔
”اچھا گرینی! خدا حافظ”
وہ علیزہ کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے باہر نکل گیا تھا۔ نانو بھی اس کے پیچھے ہی پورچ چلی گئی تھیں۔
وہ بجھے ہوئے دل کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ گئی تھی۔ عمر کا رویہ اس کے لئے شاکنگ تھا۔ اس نے کبھی بھی اسے اس طرح نظر انداز نہیں کیا تھا جس طرح آج کیا تھا۔ اس کے پہلے والے قہقہے اور مسکراہٹیں تقریباً ختم ہو چکی تھیں۔ اب وہ صرف رسماً اور ضرورتاً مسکراتا رہا تھا۔ نانو اب واپس اندر آچکی تھیں۔ علیزہ خانساماں کو جس وقت چائے کا کہہ کر واپس آئی تو وہ لاؤنج میں فون پر کسی سے باتیں کر رہی تھیں۔
”وہ تو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گیا ہے۔”
وہ فون پر کہہ رہی تھیں۔ وہ جان گئی کہ موضوع گفتگو عمر ہے۔
”اسلام آباد گیا ہے۔…… کل رات کو ہو گی……ہاں، میرا تو خیال ہے …… یہ کنفرمڈ ہی ہے!………اچھا تم آرہے ہو؟…… کل…کل کس وقت؟……ٹھیک ہے۔ اکیلے آؤ گے؟…… اچھا۔ میں اسے نہیں بتاؤں گی ،لیکن میرا خیال ہے وہ مجھے فون نہیں کرے گا……ٹھیک ہے۔”
نانو نے فون بند کر دیا تھا۔ علیزہ نے ان کے چہرے پر تشویش دیکھی تھی۔
”کیا بات ہے نانو ! کس کا فون تھا؟” علیزہ نے پوچھاتھا۔
”جہانگیر کا فون تھا۔ وہ کل آ رہا ہے!” انہوں نے متفکر انداز میں کہا تھا۔
”انکل جہانگیر ؟” علیزہ بھی حیران ہو گئی۔
”پتہ نہیں کہ ان کے درمیان کیا جھگڑ ا ہوا ہے۔ وہ بھی بہت ٹینس لگ رہا تھا۔ عمر کے بارے میں بہت غصہ سے بات کر رہا تھا ۔” نانو بے حد فکر مند نظر آرہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔
“
