Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 48
۔۔۔۔۔
باب 47

”علیزہ ! جنید کا فون ہے، وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے۔” وہ ناشتہ کرنے کے لیے لاؤنج میں داخل ہو رہی تھی جب نانو نے اس کو مخاطب کیا۔ وہ فون کا ریسیور ہاتھ میں تھامے ہوئے تھیں۔
علیزہ ایک لحظہ کے لیے ٹھٹھکی اور پھر ان کی طرف بڑھ آئی۔ صوفہ پر بیٹھ کر اس نے نانو کے ہاتھ سے ریسیور لے لیا۔ وہ حیران تھی، جنید عام طور پر اس وقت فون نہیں کیا کرتا تھا۔
”ہیلو!” اس نے ریسیور تھامتے ہوئے ماؤتھ پیس میں کہا۔
”کیسی ہو علیزہ؟” دوسری طرح سے وہی نرم پچکارتی ہوئی آواز سنائی دی جس کی اب وہ کچھ عادی ہو گئی تھی۔
”میں ٹھیک ہوں۔ آپ نے اس وقت فون کیسے کیا؟”
”تمہیں حیرانی ہو رہی ہے۔” جنید نے خوشگوار لہجے میں کہا۔
”کسی حد تک۔”
”تمہیں لنچ پر لے جانا چاہ رہا تھا۔” اس نے کسی تمہید کے بغیر کہا۔
”آپ رات کو مجھے بتا دیتے جب آپ نے مجھے کال کی تھی۔”
”اس وقت مجھے یاد نہیں رہا فون بند کر دیا، تب یاد آیا پھر میں نے سوچا کہ دوبارہ کال کرنا ٹھیک نہیں۔ میں صبح کر لوں گا اسی لیے تمہیں اب کال کر رہا ہوں۔” جنید نے بتایا۔
وہ کچھ سوچ میں پڑ گئی۔ ”تمہارا لنچ آور کب شروع ہو رہا ہے؟” اسے خاموش پا کر جنید نے پوچھا۔
”ایک بجے۔” علیزہ نے کہا۔
”ٹھیک ہے پھر میں آفس سے ساڑھے بارہ بجے نکلتا ہوں۔ آدھے گھنٹہ میں تمہارے آفس پہنچ جاؤں گا۔” جنید نے پرگرام طے کرتے ہوئے کہا۔ ”تم لنچ آور شروع ہوتے ہی باہر آ جانا۔ ہم کسی قریبی ریسٹورنٹ میں لنچ کر لیں گے پھر میں تمہیں واپس ڈراپ کر دوں گا۔”
”مگر آج تو میں لنچ کرنا ہی نہیں چاہ رہی تھی۔” علیزہ نے کہا۔
”کیوں ؟”
”آج خاصا مصروف دن گزرے گا آفس میں…شاید ایک دو فنکشنز کور کرنے کے لیے بھی جانا پڑے تو لنچ آور تو نکل ہی جائے گا۔” اس نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی پھر جنید نے کہا۔
”تمہیں یقین ہے کہ تم کسی طرح بھی کچھ وقت نہیں نکال سکتیں؟”
”اگر مجھے یقین نہیں ہوتا تو میں آپ سے کبھی نہیں کہتی۔” علیزہ نے کہا ”ہم کسی اور دن لنچ کر لیتے ہیں۔” اس نے فوری طور پر ایک متبادل حل پیش کیا۔
”ٹھیک ہے۔ کسی اور دن لنچ کر لیتے ہیں۔ آپ بتا دیجئے کہ آپ کس دن دستیاب ہوں گی۔”
علیزہ اس کی بات پر مسکرائی۔ وہ اسے آپ اسی وقت کہتا تھا جب وہ خاصے خوشگوار موڈ میں ہوتا تھا۔
”کل چلتے ہیں۔” علیزہ نے اپنی گھڑی پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
”کل…؟ ایک منٹ میں ذرا اپنا شیڈول دیکھ لوں…مجھے لگتا ہے کل، میں آفس سے نکل نہیں سکوں گا۔”
علیزہ نے اسے بڑبڑاتے سنا پھر کچھ دیر خاموشی رہی…چند منٹوں کے بعد جنید کی آواز دوبارہ آئی۔
”کل ممکن نہیں ہوگا علیزہ…! پرسوں چلتے ہیں…پرسوں میرے پاس خاصا وقت ہوگا۔”
”ٹھیک ہے پھر پرسوں ہی چلتے ہیں…آپ سے میں نے ایک کام کہا تھا۔ آپ کو یاد ہے۔” علیزہ کو بات کرتے کرتے اچانک یاد آیا۔
”نہ صرف یاد ہے بلکہ میں پہلے ہی آپ کا کام کر چکا ہوں…دو دن میں، میں نے وہ نقشہ مکمل کر لیا تھا۔ اب میں نے اپنے ایک اسسٹنٹ کو اسے دیا ہے تاکہ ایک دفعہ دوبارہ وہ اسے دیکھ لے۔ مجھے امید ہے، آج یا کل تک وہ یہ کام کر دے گا۔ پھر میں تمہیں سارے پیپرز بھجوا دوں گا۔”
”مجھے شکریہ ادا کرنا چاہیے؟” علیزہ نے خوشگوار انداز میں کہا۔
”یقیناً…اس میں تو پوچھنے والی کوئی بات ہی نہیں ہے۔” دوسری طرف سے جنید نے بڑی سنجیدگی سے کہا ”بلکہ بہتر ہے تم مجھے شکریہ کا ایک کارڈ بھجوا دو۔ فارمیلٹی اچھی ہوتی ہے۔ اس سے میرے جیسے بندے کو اپنی اوقات کا پتا چلتا رہتا ہے۔” وہ اسی سنجیدگی سے کہتا گیا۔
علیزہ بے اختیار ہنسی ”ایک کارڈ ٹھیک رہے گا؟” اس نے بظاہر سنجیدگی کے ساتھ جنید سے پوچھا۔
”ہاں ٹھیک رہے گا…گزارہ ہو جائے گا۔” جنید کی سنجیدگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔
”اچھا میں بھجوا دوں گی…اور بہت زیادہ شکریہ۔”
”کیا مجھے My pleasureکہنا چاہیے؟” وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا۔
”ویل… کہنے میں کوئی حرج نہیں۔” اس نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے اسی سنجیدگی کے ساتھ کہا۔
”My pleasure”…جنید نے اس کی بات سننے کے بعد بڑی سنجیدگی سے کہا۔ وہ بے اختیار مسکرائی۔
”آپ آج بہت اچھے موڈ میں ہیں۔”
”میں ہمیشہ اچھے موڈ میں ہوتا ہوں۔” جنید نے برجستگی سے کہا۔
”لیکن آج کچھ غیر معمولی طور پر اچھے موڈ میں ہیں۔”
”اس کی واحد وجہ صبح صبح آپ سے گفتگو بھی تو ہو سکتی ہے۔”
فوری طور پر علیزہ کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا جواب دے۔ وہ مسکراتے ہوئے خاموش رہی۔
”بہر حال اتنا وقت دینے کے لیے شکریہ۔ میں کارڈ کا انتظار کروں گا۔” جنید نے خدا حافظ کہتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے فون رکھ دیا۔
”نانو پلیز، ناشتہ جلدی لگوا دیں۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔”
علیزہ نے ریسیور رکھتے ہی بلند آواز میں نانو سے کہا جو اس وقت کچن میں جا چکی تھیں۔
وہ علیزہ کی آواز سن کر کچن سے باہر نکل آئیں۔
”مرید ناشتہ تیار کر چکا ہے، بس چند منٹوں میں ٹیبل پر لگا دے گا۔ ”تم آج واپس کب آؤ گی؟”
”آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟” علیزہ کو حیرت ہوئی ، وہ عام طور پر یہ سوال نہیں کرتی تھیں۔
”مسز رحمانی نے آج ڈنر دیا ہے۔ پچھلی دفعہ میں تمہاری وجہ سے نہیں جا سکی اور وہ بہت ناراض ہوئیں اور اس بار تو انہوں نے خاص طور پر تاکید کی ہے۔” نانو نے اپنی کلب کی ایک ساتھی کا نام لیتے ہوئے کہا۔
”نانو! میں تو آج بھی خاصی دیر سے ہی آؤں گی۔ مجھے آج ایک دو فنکشنز کی کوریج کے لیے جانا ہے۔ آپ پلیز اکیلی چلی جائیں۔” علیزہ نے فوراً معذرت کرتے ہوئے کہا۔
”مسز رحمانی نے صرف مجھے انوائیٹ نہیں کیا، تمہیں بھی کیا ہے۔” نانو نے اسے جتایا۔
”میں جانتی ہوں لیکن میں کیا کر سکتی ہوں۔ آپ کو پتا ہے میں آج کل بہت مصروف ہوں۔” علیزہ نے وضاحت کی۔
”یہ ساری مصروفیت تم نے خود پالی ہیں۔ کس نے کہا تھا دوبارہ اخبار جوائن کرنے کو…بہتر نہیں تھا گھر میں رہتیں۔ کلب میں آتیں جاتیں۔” نانو نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
علیزہ خانساماں کو ٹیبل پر ناشتہ لگاتے دیکھ چکی تھی۔ وہ صوفہ سے اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی۔
٭٭٭
آفس ہمیشہ کی طرح تھا۔ وہ اپنے کیبن کی طرف بڑھ گئی۔ اس کی میز پر چھوٹے موٹے بہت سے نوٹس رکھے ہوئے تھے۔ اپنا بیگ ایک طرف رکھ کر وہ برق رفتاری سے ان نوٹس کو دیکھنے لگی۔ چند سرکلرز تھے سٹاف کے لیے…کچھ آج کے دن کے حوالے سے ہدایت اور چند دوسرے نیوز پیپرز آرٹیکلز کی کٹنگ جو اس کو بھیجے گئے تھے۔
”تم نے بہت دیر کر دی۔ میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔” صالحہ اس کے کیبن میں داخل ہوئی۔
”تین دفعہ آئی ہوں تمہاری تلاش میں۔” صالحہ نے کہا۔
”ہاں۔ آج مجھے کچھ ضرورت سے زیادہ دیر ہو گئی۔” علیزہ نے معذرت خواہانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ”کتنے بجے نکلنا ہے یہاں سے؟”
وہ صالحہ کے ساتھ ہی ان سوشل ایکٹیوٹیز کی کوریج کے لیے نکلا کرتی تھی۔
”وہ تو بارہ بجے ہی نکلیں گے…میں تمہیں یہ آرٹیکل دکھانا چاہ رہی تھی۔” صالحہ نے چند پیپرز اس کی ٹیبل پر رکھ دیئے۔
”اس وقت ضروری ہے؟ میں دراصل یہ سارے پیپرز دیکھنا چاہ رہی ہوں…کیا یہ کل کے نیوز پیپر کے لیے جا رہا ہے؟” علیزہ نے اس کے آرٹیکل پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
”نہیں۔ کل کے نیوز پیپر کے لیے تو نہیں جا رہا مگر شاید پرسوں چلا جائے۔ میں چاہتی تھی تم اس کو دیکھ لو۔ سائرہ نے تو اس کو کچھ مختصر کرنے کے لیے کہا ہے۔ میں نے کوشش کی ہے مگر زیادہ ایڈیٹنگ کرنے سے اس کا اوور آل تاثر خراب ہو جائے گا۔” اس نے ایڈیٹر کا نام لیتے ہوئے کہا۔
”پھر تو میں اسے گھر بھی لے جا سکتی ہوں، کل تمہیں دے دوں گی۔ آج مجھے ذرا یہ کام نپٹانے دو۔” علیزہ نے کہا۔
”ٹھیک ہے۔ کل دے دینا…مگر رات کو رنگ کرکے مجھے بتا ضرور دینا کہ تم نے اسے پڑھ لیا ہے۔” صالحہ نے اس کے کیبن سے نکلتے ہوئے کہا۔
علیزہ نے اس کے آرٹیکل کو اپنے فولڈر میں رکھ لیا اور دوبارہ اپنی میز پر پڑے ہوئے کاغذات دیکھنے لگی۔
گیارہ بجے تک وہ اسی طرح کام کرتی رہی۔ چند بار وہ آفس کے دوسرے حصوں اور ایڈیٹر کے پاس بھی گئی۔ بارہ بجے وہ اور صالحہ آفس سے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے جب اس کے موبائل پر میسج آنے لگا۔
”Still Waiting for the Card” (کارڈ کے لیے انتظار کر رہا ہوں)
وہ میسج پڑھ کر بے اختیار مسکرائی، اس کے ذہن سے جنید کے ساتھ صبح ہونے والی گفتگو اور کارڈ غائب ہو چکا تھا۔
”جنید کا میسج ہے؟” صالحہ نے اسے موبائل کا پیغام پڑھ کر مسکراتے دیکھ کر پوچھا۔
”ہاں!” علیزہ نے سر ہلایا۔ صالحہ نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے گردن آگے بڑھا کر اس کے موبائل پر نظر ڈالی۔
”یہ کون سے کارڈ کا انتظار ہو رہا ہے؟” صالحہ نے مسکراتے ہوئے کچھ تجسس آمیز انداز میں کہا۔ ” اس کی برتھ ڈے ہے؟”
”نہیں۔ برتھ ڈے نہیں ہے۔” علیزہ نے موبائل بیگ میں رکھتے ہوئے کہا۔ ”وہ شمع نے جو ویلفیئر ہوم شروع کیا ہے اس کا نقشہ میں نے جنید سے بنوایا تھا، اس نے کچھ چارج کیے بغیر ہی کام کر دیا جبکہ شمع صرف یہ چاہتی تھی کہ وہ نسبتاً کم چارج کرے۔”
علیزہ نے اپنی ایک کولیگ کا نام لیتے ہوئے کہا۔
”صبح اس سے اسی کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔ میں نے شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا۔ بہتر ہے میں کارڈ بھیج دوں…میں نے کہا ٹھیک ہے بھجوا دوں گی۔ اب یہاں آکر میں اتنی مصروف ہو گئی کہ مجھے یاد نہیں رہا اور وہ شاید ابھی کارڈ چاہ رہا ہے۔”
”تو ہم باہر تو جا ہی رہے ہیں۔ تم رستے سے کارڈ لو اور کورئیر سروس کے ذریعے بھجوا دو۔” آفس کے بیرونی دروازے سے نکلتے ہوئے صالحہ نے کہا۔
”ہاں۔ میں بھی یہی سوچ رہی ہوں کہ راستے سے کارڈ لے کر پوسٹ کر دوں۔” علیزہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
ایک کارڈ سنٹر سے کارڈ لے کر اس نے کورئیر سروس کے ذریعے جنید کے آفس بھجوا دیا اور خود وہ صالحہ کے ساتھ اس فنکشن میں چلی گئی جو انہیں کور کرنا تھا۔
فنکشنز اور ایک نمائش کو کور کرنے کے بعد وہ صالحہ کو اس کے گھر ڈراپ کرکے جس وقت گھر آئی اس وقت آٹھ بج رہے تھے۔ نانو گھر میں موجود نہیں تھیں۔ علیزہ انہیں گھر پر نہ پا کر مطمئن ہو گئی۔ ان کی عدم موجودگی کا مطلب یہی تھا کہ وہ اس کا انتظار کیے بغیر مسز رحمانی کے ڈنر میں چلی گئی تھیں۔
”میں کھانا لگا دوں؟” مرید بابا نے اسے اپنے بیڈ روم کی طرف جاتے دیکھ کر کہا۔
”نہیں۔ میں کھانا باہر سے کھا کر آئی ہوں۔” علیزہ نے انکار کر دیا۔
”بیگم صاحبہ تاکید کر کے گئی ہیں کہ آپ کھانا ضرور کھائیں۔” خانساماں نے کہا۔
”میں جانتی ہوں مرید بابا! لیکن میں کھانا کھا کر آئی ہوں، اب دوبارہ تو نہیں کھا سکتی… آپ نانو کو کہہ دیجئے گا کہ میں نے کھا لیا۔” اس نے خوشگوار انداز میں کہا ۔
”جنید صاحب نے پھول بھجوائے تھے آپ کے لیے۔ میں نے آپ کے کمرے میں رکھ دیئے ہیں۔” وہ مرید بابا کی اطلاع پر خوشگوار حیرت کا شکار ہوئی۔
”میں دیکھ لیتی ہوں۔” وہ خانساماں سے کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
بیڈ روم کی لائٹ آن کرتے ہی ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے ہوئے سرخ گلابوں کے ایک بوکے نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔ وہ بیگ اور فولڈر بیڈ پر اچھالتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف چلی آئی۔
ڈریسنگ ٹیبل کے اسٹول پر بیٹھتے ہوئے اس نے پھولوں کو اٹھا لیا۔ اس کی طرف سے بھیجا جانے والا یہ پہلا بوکے نہیں تھا۔ وہ اکثر اسے اسی طرح حیران کیا کرتا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے بوکے پر لگا ہوا چھوٹا سا کارڈ کھول لیا۔
”Always at your disposal!” (ہمیشہ آپ کے لیے حاضر)
”Junaid Ibrahim”
ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر نمودار ہوئی۔ ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے پھول بوکے سے نکال کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے ہوئے کرسٹل کے گلدان میں لگا دیئے۔ ایک لمبی ٹہنی والے گلاب کو چھوڑ کر اس نے سارے گلاب گلدان میں سجا دیئے۔
پھر اس واحد گلاب کو لے کر اپنے بیڈ پر آگئی اور اسے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے گلاس میں رکھ دیا۔ جگ سے کچھ پانی اس نے اس گلاس میں ڈالا اور پھر اسے دیکھنے لگی۔
اس نے ایک بار پھر ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس چھوٹے سے کارڈ کو کھول کر دیکھا، جسے اس نے پھولوں سے الگ کر لیا تھا۔
٭٭٭
عمر کے ساتھ اس رات ہونے والی تند و تیز گفتگو کے بعد اگلے کئی دن وہ بری طرح ذہنی انتشار کا شکار رہی تھی۔ اس رات سونے کے لیے نیند کی گولیاں لینے کے بعد وہ اگلا سارا دن سوتی رہی تھی اور سہ پہر کے قریب جس وقت وہ بیدار ہوئی۔ اس وقت گھر میں شہلا، اس کی ممی اور نانو کے علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا۔
”حد کر دی علیزہ تم تو، سارے گدھے گھوڑے بیچ کر سو گئیں۔ ” اس کے بیدار ہوتے ہی شہلا نے کہا۔ وہ اسی وقت کمرے میں داخل ہوئی تھی اور اس نے علیزہ کو بیڈ پر آنکھیں کھولے دیکھ لیا تھا۔
علیزہ اس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
”تمہیں اندازہ ہے کیا وقت ہو رہا ہے؟” شہلا نے اس کو خاموش دیکھ کر، اس کی توجہ کلاک کی طرف مبذول کرواتے ہوئے کہا۔
علیزہ نے بے تاثر چہرے کے ساتھ دیوار پر لگی ہوئی گھڑی پر نظر دوڑائی۔ وہاں پانچ بج رہے تھے، اسے حیرت نہیں ہوئی۔ وہ پہلے ہی اندازہ کر چکی تھی کہ وہ بہت دیر سے سو رہی تھی۔
”تم مجھے اٹھا دیتیں۔” اس نے اپنے کھلے ہوئے بالوں میں کلپ لگاتے ہوئے کہا۔
”میں نے ایک بار کوشش کی تھی مگر تم اتنی گہری نیند میں تھیں کہ میں نے تمہیں جگانا مناسب نہیں سمجھا۔” شہلا نے کھڑکی کے پردے کھینچتے ہوئے کہا۔ ” سب لوگ تم سے ملے بغیر ہی چلے گئے۔ میں خود بھی صرف اس لیے رکی ہوئی ہوں کہ تم اٹھ جاؤ پھر جاؤں…اور تم ذرا اپنی شکل دیکھو۔ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے…آنکھیں دیکھو، کتنی بری طرح سوجی ہوئی ہیں اور سرخ بھی ہیں…تم روتی رہی ہو؟” شہلا کو بات کرتے کرتے اچانک خیال آیا۔
”میں کس لیے روؤں گی؟” وہ بیڈ سے اٹھتے ہوئے سرد آواز میں بولی۔
”تو پھر تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ہے…شاید زیادہ دیر تک سونے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے،” شہلا نے کہتے کہتے اچانک بات بدل دی۔
”جنید نے دوبار رنگ کیا ہے۔” وہ ڈریسنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے رک گئی۔
”کیوں؟”
”کیوں…کیا مطلب…ظاہر ہے تم سے بات کرنے کے لیے فون کیا تھا۔ ” شہلا نے کہا۔ ”میں نے اسے بتا دیا کہ تم ابھی سو رہی ہو، وہ بعد میں فون کر لے۔”
”میں بعد میں بھی اس سے بات نہیں کروں گی۔” شہلا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ اس کے لہجے میں کوئی غیر معمولی چیز تھی۔
”کیا مطلب ؟”
علیزہ اس کے سوال کاجواب دیئے بغیر ڈریسنگ روم میں داخل ہو گئی۔ شہلا اس کے پیچھے آئی۔ وہ وارڈ روب کھولے اپنے کپڑے نکال رہی تھی۔
”مجھے لگتا ہے۔ تم ابھی بھی نیند میں ہو۔” شہلا نے کہا۔
”تمہیں ٹھیک لگتا ہے، میں واقعی نیند میں ہوں…شاید کوما میں۔” وہ کپڑے نکالتے ہوئے بڑبڑائی۔
”تم جنید سے بات کرنا نہیں چاہتیں؟” شہلا نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا۔
”نہیں۔” کسی تو قف کے بغیر جواب آیا۔
”کیوں؟”
” فی الحال تو میں اس کیوں کا جواب نہیں جانتی، جب جان جاؤں گی تو تمہیں بتا دوں گی۔” علیزہ نے وارڈ روب بند کرتے ہوئے کہا۔
”جنید کا اب فون آئے تو کیا کہوں؟”
”وہی جو میں نے کہا ہے…بتا دینا کہ میں اس سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ وہ مجھے فون نہ کرے۔” وہ اب اپنے کپڑے ہینگر سے نکال رہی تھی۔
”اس کی امی نے بھی فون کیا تھا۔ وہ بھی تم سے بات کرنا چاہتی تھیں۔” شہلا نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد کہا۔
”میں اس کی امی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی تم انہیں بھی بتا دو۔” اس کے لہجے میں ابھی بھی وہی پہلے والی سرد مہری تھی۔
”تم ٹھیک تو ہو؟”
”بالکل ٹھیک ہوں۔”
”رات کو توتم نے جنید سے بات کی تھی۔ اس وقت تم نے اعتراض نہیں کیا۔”
”غلطی کی تھی اب نہیں کروں گی۔”
”تم جا کر نہاؤ پھر تم سے بات کروں گی اس وقت تم عقل سے پیدل ہو۔” شہلا نے ڈریسنگ روم سے نکلتے ہوئے کہا۔
وہ آدھ گھنٹہ کے بعد بیڈ روم میں آئی تھی۔
”تمہارا موڈ خراب کیوں ہے؟” وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کر بالوں کو برش کرنے لگی تو شہلا نے اس سے کہا۔
”تمہیں غلط فہمی ہو رہی ہے۔ میرا موڈ خراب نہیں ہے۔” علیزہ نے بالوں میں برش کرتے ہوئے پرسکون انداز میں کہا۔
”مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی میں بے وقوف نہیں ہوں۔” شہلا نے قدرے خفگی سے کہا۔
”میرے علاوہ اور کوئی بے وقوف ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ ” علیزہ اس کی بات کے جواب میں بڑبڑائی۔
”جنید اتنا اچھا بندہ ہے۔ میں اس سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔” شہلا نے اس کی بات پر کوئی ردعمل ظاہر کیے بغیر کہا۔ ” سب کو ہی بہت اچھا لگا ہے سب تعریف کر رہے تھے۔”
”مجھے اس کی خوبیوں اور اچھائیوں میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ یقیناً اتنا ہی اچھا ہے وہ جتنا تم کہہ رہی ہو۔” علیزہ نے آئینے میں دیکھتے ہوئے اس سے کہا ۔
”تو پھر اس سے خفگی کی وجہ کیا ہے؟”
”میں اس سے ناراض نہیں ہوں۔”
”پھر تم اس سے بات کرنے سے انکار کیوں کر رہی ہو؟”
”یہ میں نہیں جانتی۔”
”یہ کیا بات ہوئی؟” شہلا نے کچھ برا مانتے ہوئے کہا۔
”بس میں اس سے بات کرنا نہیں چاہتی۔”
”یہی تو پوچھ رہی ہوں …کیوں؟”
”یہ ضروری نہیں ہے ہر شخص کے پاس ہر سوال کا جواب ہو۔”
”یہ اتنا مشکل سوال نہیں ہے جس کے جواب میں تمہیں دقت پیش آئے۔” شہلا بحث کرنے کے موڈ میں تھی۔
”میں اس سے کیا بات کروں؟” علیزہ نے اچانک ہیئر برش ڈریسنگ ٹیبل پر پٹختے ہوئے شہلا کی طرف مڑ کر کہا۔
”کیا ڈسکس کروں اس سے؟”
شہلا حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ ”اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اس سے بات کروں یا پھر اظہار محبت کرنے کے لیے کہ مجھے منگنی ہوتے ہی آپ سے محبت ہو گئی ہے اور آپ جیسا آدمی میں نے پہلے زندگی میں نہیں دیکھا نہ ہی آپ سے پہلے میں نے کسی سے۔” وہ بات کرتے کرتے اچانک رک گئی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔
شہلا نے اسے مڑ کر ایک بار پھر ہیئر برش اٹھاتے ہوئے دیکھا۔
”تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا، اس میں جنید کسی طور پر بھی قصوروار نہیں ہے۔”
علیزہ نے اس کی بات کاٹ دی۔” میں نے اسے قصوروار نہیں ٹھہرایا۔”
”تمہارے رویے سے تو یہ بات ثابت نہیں ہوتی۔”
”شہلا! میں جنید کو کوئی سزا دے رہی ہوں نہ ہی میں اسے قصوروار سمجھ رہی ہوں۔ میں بس اس سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ کچھ عرصہ کے لیے ، تب تک جب تک میں ذہنی طور پر اس کے اور اپنے تعلق کو تسلیم نہیں کر لیتی۔ مجھے کچھ وقت چاہیے، کسی کی یادوں سے نکلنے کے لیے نہیں۔ صرف اس پچھتاوے سے نکلنے کے لیے جس کا میں شکار ہوں۔”
وہ بات کرتے کرتے تھکے ہوئے انداز میں ڈریسنگ ٹیبل کے اسٹول پر بیٹھ گئی۔
”کوئی شخص پچھتاوے اور احساس جرم کی اس اذیت کا اندازہ نہیں کر سکتا جس کا میں شکار ہوں۔ اس سے بات کرنے کے لیے جس اخلاقی جرأت کی ضرورت ہے، وہ میرے پاس نہیں ہے۔ کس منہ سے میں فون پر اس سے بات کروں۔ مجھے کتنی شرمندگی ہے یہ میں نہیں بتا سکتی اور تمہارا اصرار ہے میں اس سے بات کروں۔ میں کچھ عرصہ اس سے کیا کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی۔ نانو کا اصرار تھا منگنی کر لوں۔ وہ میں نے کروا لی۔ اب مجھے آزاد چھوڑ دیا جانا چاہیے۔”
شہلا کچھ کہنے کے بجائے صرف اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
٭٭٭
جنید سے بات نہ کرنے یا اسے نظر انداز کرنے کا فیصلہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہا۔
منگنی کے تیسرے دن اسے کوئٹہ جانا تھا اور وہ وہاں جانے سے پہلے اپنے گھر والوں کے ساتھ ان کے ہاں آیا۔ اس کے رویہ سے کسی طرح بھی اس بات کا اظہار نہیں ہوا کہ وہ علیزہ کے اس کا فون ریسیو نہ کرنے پر ناراض ہے۔ اس نے اس سلسلے میں سرے سے علیزہ سے کوئی بات ہی نہیں کی۔
معمول کے خوشگوار انداز میں وہ اس کے ساتھ گفتگو کرتا رہا۔ صرف واپس جانے سے پہلے اس نے لاؤنج سے باہر نکلتے ہوئے علیزہ سے کہا۔
”میرے پیرنٹس خاصے لمبے عرصے سے میری شادی کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ خاص طور پر میری بڑی بہن کی شادی کے بعد۔ میری فیملی روایتی قسم کی فیملی ہے جس طرح بڑے بیٹے سے بہت ساری توقعات لگائی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس کی بیوی سے بھی خاصی توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں۔ شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر۔”
وہ چند لمحوں کے لیے رکا، باقی لوگ لاؤنج سے نکل چکے تھے صرف وہی دونوں ابھی اندر تھے، علیزہ دم سادھے اس کی بات سنتی رہی۔
”میری خواہش ہے کہ آپ ان توقعات پر پورا اتریں کیونکہ توقع اس سے وابستہ کی جاتی ہے جس سے محبت ہوتی ہے یا جسے ہم اپنے بہت قریب پاتے ہیں اور آپ ہماری فیملی کا ایک حصہ بن چکی ہیں۔” وہ سنجیدگی سے کہتا گیا۔
”مجھ سے بات کرنا نہ کرنا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے لیکن میں یہ چاہوں گا کہ آپ میری فیملی کے ساتھ رابطے میں رہیں۔ کوئی برائی نہیں ہے اگر آپ ان کے فون ریسیو کر لیں یا ان سے تھوڑی بہت گپ شپ کر لیں یا ان کی دعوت پر ہمارے گھر آ جائیں۔ اس سے خوشی کے علاوہ اور کچھ نہیں ملے گا۔ آپ کو مجبور نہیں کر رہا لیکن آپ میری درخواست مان لیں گی تو مجھے اچھا لگے گا۔”
وہ اپنی بات کے اختتام پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ باہر نکل گیا۔ علیزہ قدم نہیں ہلا سکی۔
٭٭٭
بہت غیر محسوس انداز میں اس نے جنید کے گھر آنا جانا شروع کر دیا اور اس میل جول نے آہستہ آہستہ اس کے اس ڈپریشن اور احساس جرم کو کم کرنا شروع کر دیا جس کا شکار وہ منگنی کی رات عمر سے ہونے والی گفتگو کے بعد ہوئی تھی۔ اس کا احساس زیاں مکمل طور پر غائب نہیں ہوا تھا مگر اس کی شدت میں کمی آنا شروع ہو گئی تھی اور اس میں بڑا ہاتھ اس اہمیت کا تھا جو اسے جنید کے گھر میں ملتی تھی۔
جنید کی امی تقریباً روز ہی اس سے فون پر بات کیا کرتی تھیں اور جس دن ان سے گفتگو نہ ہوتی اس دن جنید کی چھوٹی بہن سے گفتگو ہوتی۔ فری کے ساتھ اس کی خاصی دوستی ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ جنید کی فری کے ساتھ خاصی بے تکلفی تھی، وہ جنید سے دو سال چھوٹی تھی اور ایک سال پہلے اس کا نکاح ہوا تھا۔
شروع میں جنید کے گھر جا کر وہ بالکل خاموش بیٹھی رہا کرتی تھی اس کی سمجھ میں ہی نہیں آتا تھا کہ وہ وہاں کس کے ساتھ کیا گفتگو کرے وہ ہر بات کا بہت مختصر جواب دیتی اور زیادہ تر یہی کوشش کرتی رہتی کہ کسی لمبی چوڑی گفتگو میں حصہ لینے سے گریز کرے۔ وہ کسی بات پر بھی اپنی رائے نہیں دیا کرتی تھی اور اگر کبھی اسے مجبور بھی کیا جاتا تو وہ اسے ہاں اور نہیں تک ہی محدود رکھتی تھی۔
آہستہ آہستہ اسے اندازہ ہونے لگا کہ اس کی یہ کم گوئی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ لاشعوری طور پر، وہ جنید کے گھر اور وہاں کے افراد میں بہت زیادہ انوالو ہونے لگی تھی۔ لاشعوری طور پر وہ اس گھر میں جا کر خود کو بہت پرسکون اور خوش پانے لگی تھی۔
لاشعوری طور پر اسے جنید اور اس کے گھر والوں کی طرف سے کی جانے والی کالز کا انتظار رہنے لگا تھا۔
لاشعوری طور پر وہ اپنے گھر میں بھی جنید اور اس کے گھر والوں کے بارے میں سوچنے لگی تھی نہ صرف یہ بلکہ نانو، شہلا اور دوسرے لوگوں کے ساتھ گفتگو میں اکثر جنید اور اس کے گھر والوں کے حوالے بھی آنے لگے تھے اور لاشعوری طور پر عمر اس کے ذہن سے غائب ہونا شروع ہو گیا تھا۔
منگنی کی رات ہونے والی ملاقات کے بعد اگلے کئی ماہ تک عمر کے ساتھ اس کی کوئی ملاقات یا گفتگو نہیں ہوئی۔ وہ لاہور نہیں آیا۔ اگر آیا بھی تو اس نے نانو سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ علیزہ کو فون کرنا پہلے ہی بند کر چکا تھا اور نانو کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے بھی اس نے کبھی علیزہ کے ساتھ بات کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کیا اور اگر وہ کرتا بھی تو علیزہ اس سے بات نہ کرتی۔ اس کے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اب دوبارہ اس سے گفتگو کر سکے۔
کئی ماہ تک وہ اس بات کے لیے خود کو ملامت کرتی رہی تھی۔ آخر کیوں اس نے عمر کے سامنے اس طرح گڑگڑا کر بھیک مانگی تھی۔ کیوں اس کے سامنے اس طرح زاروقطار روئی تھی۔ اپنی عزت نفس کو کوڑے کے ڈبہ میں کیوں پھینک دیا تھا۔ عمر کے سامنے اپنی رہی سہی عزت کیوں خاک میں ملا دی تھی۔ آخر کیوں وہ خود پر قابو رکھنے میں ناکام رہی تھی۔ وہ سوچتی اور اس کی ندامت اور احساس جرم بڑھتا جاتا۔ اس کی خواہش ہوتی کہ وہ کسی طرح اس رات کو کاٹ کر اپنی زندگی سے الگ کر دے اور یہ اس کا احساس ندامت ہی تھا کہ وہ عمر کا سامنا کرنے یا اس سے بات کرنے کی ہمت خود میں نہیں پاتی تھی۔ عمر اس کی زندگی کی سب سے تکلیف دہ یاد بن چکا تھا۔ اس نے عمر سے نفرت نہیں کی تھی مگر اس نے عمر کی وجہ سے اپنے آپ سے بہت زیادہ نفرت کی تھی۔
منگنی کے بعد کئی ماہ اس نے عمر کا ذکر نہیں سنا تھا حتیٰ کہ نانو بھی اس کے بارے میں بالکل خاموش تھیں۔ پہلے کی طرح اس کا فون آنے پر وہ علیزہ کو اس سے ہونے والی گفتگو سے مطلع نہیں کرتی تھیں اور علیزہ جانتی تھی وہ ایسا جان بوجھ کر کرتی تھیں۔ وہ شعوری طور پر کوشش کر رہی تھیں کہ علیزہ عمر کو مکمل طور پر اپنے ذہن سے نکال دے مگر انہیں یہ پتا نہیں تھا کہ یہ کام عمر پہلے ہی کر چکا ہے۔ اب اگر وہ علیزہ کو اس کے فون کے بارے میں بتا بھی دیتیں تو وہ اس کے لیے کسی پریشانی کا باعث نہیں بن سکتا تھا۔ کم از کم علیزہ کا یہی خیال تھا۔
عمر جہانگیر اس کی زندگی سے ہوا کے کسی جھونکے کی طرح پلک جھپکتے میں نہیں نکلا تھا۔ وہ اس کی زندگی سے ایک تندوتیز طوفان کی طرح گزر کر گیا تھا۔ ہر چیز کو اڑاتے اور گراتے ہوئے، ہر چیز کو ملیامیٹ کرتے ہوئے اس طوفان کے گزر جانے کے بعد ملبے کے علاوہ پیچھے کچھ بھی نہیں بچا تھا اور علیزہ کو اس ملبے پر دوبارہ ایک عمارت کھڑی کرنے کے لیے کتنی محنت کرنی پڑی تھی۔ اس کا اندازہ صرف وہ ہی کر سکتی تھی اور جو چیز اتنی تباہی اور بربادی کرکے گزری ہو اسے فراموش کر دینا مشکل نہیں ناممکن ہوتا ہے۔ وہ غیر محسوس طور پر انسان کے لاشعور کا حصہ بن جاتی ہے اور لاشعور سے شعور تک آنے میں اسے صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں اور علیزہ کو خوف تھا کہ اس طوفان کے چھوڑے ہوئے نقوش دوبارہ نہ ابھرنے لگیں۔
جنید سے منگنی کے ایک ہفتہ کے بعد اس نے ایک انگلش اخبار جوائن کر لیا تھا جو ملک کے چند بڑے اخبارات میں سے ایک تھا۔ یہاں کام کرنا اس کے لیے ایک منفرد تجربہ تھا۔ اخبار کو جوائن کرنا ڈپریشن سے فرار کی ایک کوشش تھی جسے اس نے اضافی مصروفیت میں ڈھونڈنا چاہا تھا مگر اخبار جوائن کرنے کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ وہاں اس کے کرنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ بہت سی ایسی چیزیں اور ایسے تجربات جن کا موقع اسے پہلے نہیں ملا تھا جب وہ ایک نسبتاً غیر معروف میگزین کے ساتھ منسلک تھی۔
یہاں اسے پروفیشنل جرنلسٹس کے ساتھ کام کرنے کا موقع مل رہا تھا۔ ان لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا اور ان لوگوں سے سیکھنے کا جن کے آرٹیکلز واقعی پڑھے جاتے تھے اور پھر ان پر بڑی تعداد میں تبصرے بھی کیے جاتے تھے۔
وہ لوگ جنہیں اندر کی خبر ہوتی تھی اور حکومت کی ہر پالیسی کی تفصیلات ان کی انگلیوں پر ہوتی تھیں۔
انہیں ہر آنے اور جانے والے کی خبر ہوتی تھی جو گڑے مردے اکھاڑنے میں ماہر سمجھے جاتے تھے اور جن سے ہر حکومت خوفزدہ رہتی تھی۔ جن کی تنقید اور بیان کردہ حقائق پر حکومتی اور انتظامی عہدے داران کو وضاحتی نوٹ جاری کرنے پڑتے تھے۔
وہ اخبار کے دفتر میں اپنے کو لیگز کے درمیان ہونے والے بحث مباحثہ سنتی اور وہ ان کی معلومات اور طرز استدلال پر رشک کرتی۔
جمہوریت کا چوتھا ستون بھی اتنا ہی طاقتور تھا جتنے باقی تین ستون۔ اتنے طاقتور کہ بعض دفعہ وہ باقی تینوں ستونوں کو ہلا دیتا تھا۔
علیزہ اخبار کے پولیٹیکل پیجز سے وابستہ نہیں تھی۔ وہ سوشل ایشوز پر آرٹیکلز لکھتی تھی اور مختلف تقریبات کی کوریج بھی کرتی اور ان تقریبات کو کور کرنے کے دوران اسے جرنلسٹس کے ساتھ لوگوں کے غیر معمولی رویے پر حیرت ہوتی۔
اخبار میں لگنے والی ایک سرخی لوگوں کے لیے کتنی اہمیت رکھتی تھی۔ فرنٹ پیج نیوز آئٹم بننے کے لیے لوگ کیسی کیسی حرکات اور کیسے کیسے بیانات دینے پر اتر آتے تھے ۔ اخبار میں آنے والا نام ایک عام اور غیر معروف آدمی کو معروف کر دیتا تھا، مسلسل خبریں چھپتے رہنے سے کسی شخص کو جہاں لوگوں کی یادداشت سے اوجھل نہ ہونے کی سہولت رہتی تھی، وہیں انگلش اخبار میں چھپنے والی خبر اس کلاس تک رسائی کا ذریعہ بن جاتی تھی جسے رولنگ یا ایلیٹ کلاس کہا جاتا ہے۔
میڈیا کی صحیح طاقت کا اندازہ اسے اس بڑے اخبار سے منسلک ہونے کے بعد ہی ہوا تھا، جہاں اخبار کو اشاعت اور سرکولیشن کے لیے مختلف لوگوں کے اشتہارات پر انحصار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ نتیجہ کے طور پر اخبار کسی کے ہاتھ کا کھلونا بن سکتا تھا نہ ہی کسی کی انگلیوں پر نچائی جانے والی کٹھ پتلی، کم از کم علیزہ کا یہی خیال تھا۔
فیئر اور Factual جرنلزم کا بانی ہونے کا دعویٰ کرنے والا اخبار حکومتی پالیسیوں پر اپنے بے لاگ اور کڑے تبصروں اور جائزوں کی وجہ سے ان چند اخبارات میں شامل تھا جن کی وجہ سے حکومت ہمیشہ مشکل میں رہتی تھی اور جس میں شائع ہونے والی خبر یا بات کے مستند نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
ڈپریشن اور اپنے Sense of Loss (احساس زیاں) سے نجات کی کوشش کے لیے جوائن کیا جانے والا اخبار اس کے لیے ایک ایسا ذریعہ بن گیا تھا جس سے وہ دوسروں کے ڈپریشن اور Sense of Loss کو کم کرنے کے لیے کچھ کر سکتی تھی۔
چھ سات ماہ کے دوران اس نے اخبار کے سوشل ایشوز کے ایڈیشن میں اپنے آرٹیکلز سے اپنا اعتبار اسٹیبلش کر لیا تھا اور اپنے نام سے ملنے والی یہ شناخت اس کے لیے Source of Strength ثابت ہو رہی تھی۔ وہ سوشیالوجی میں پڑھے جانے والے فلسفے اور تھیوریز کو موجودہ دور کے حالات و واقعات پر لاگو کرکے نتائج اخذ کرنے اور تبصرے کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ اخبار کے ذریعے ملنے والے Exposure سے اسے یہ اندازہ تو ہو گیا تھا کہ پاکستان کے سوشل سیکٹر کی حالت اس سے کہیں زیادہ خراب ہے جتنی وہ کبھی سوشیالوجی کی مختلف کتابوں میں کیے جانے والے اعداد و شمار سے جان سکی تھی۔
بعض حالات اور جگہوں میں تو سماجی عدم مساوات اور محرومیوں کی کہانی خوفناک حد تک تکلیف دہ ہے۔ Haves اور Have-nots کے درمیان حائل خلیج جتنی وسعت اب اختیار کر گئی تھی، اتنی پہلے کبھی نہیں بڑھی تھی۔
ہر آرٹیکل اور رپورٹ اتنے Sordid facts سامنے لے کر آتے تھے کہ بعض دفعہ اسے اس بے خبری پر حیرت ہوتی جس کا شکار ایلیٹ کلاس تھی یا پھر شایدپاکستان کا ہر وہ شہری جو جائز ناجائز ذرائع سے اپنے آپ کو Establish کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
تیسری دنیا اور اس سے منسلک ساری ٹرمز پہلے اس نے کتابوں سے پڑھی تھیں یا پروفیسرز سے سنی تھیں۔ اب وہ انہیں پریکٹیکل لائف میں اپنے سامنے دیکھ رہی تھی۔ ”ترقی پذیر” ہونے کا صحیح مطلب اسے اب سمجھ میں آتا تھا۔ جب وہ اکنامکس سروے کے سوشل سیکٹر میں حکومت کے دیئے جانے والے ”سرکاری” اعدادوشمار کا موازنہ ”غیر سرکاری” تنظیموں کے اکٹھے کیے جانے والے اعدادوشمار کے ساتھ کرتی ۔ پینے کے صاف پانی تک رسائی اب بھی چالیس فیصد لوگوں کی ہی تھی۔ کئی ہزار دیہات اب بھی بجلی اور گیس کے بغیر ہی تھے۔ لٹریسی ریٹ کا گراف اب بھی کوئی واضح تبدیلی نہیں دکھا رہا تھا۔
Human developmentکے قلعے اب بھی صرف ہوا میں ہی تعمیر کیے جا رہے تھے۔ لوگوں کے سماجی رویے بھی بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے اور ایسی صورت حال میں ایک آرٹیکل لکھنا کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتا تھا مگر کم از کم یہ اسے اپنا نقطہ نظر لوگوں تک پہنچانے میں مدد ضرور دے رہا تھااسے یہ سوچ کر حیرت ہوتی کہ بعض دفعہ صرف دوسروں تک اپنی بات پہنچا دینا کتنا دل ہلکا کر دیتا ہے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی۔
جنید کی امی بھی کسی نہ کسی حد تک سوشل ورک میں انوالو رہی تھیں اور علیزہ کی ان سے اس بات پر گفتگو ہوتی رہتی۔ اس کے چند کولیگ چند این جی اوز کے ساتھ منسلک تھے اور ایک ویلفیئر ہوم کی تعمیر کے لیے سرگرداں تھے اور علیزہ نے ان کے کام میں آسانی پیدا کرنے کے لیے جنید کے ذریعے اس عمارت کا نقشہ بنوا دیا تھا۔
جنید صرف اسی کام میں اس کا مددگار نہیں رہا تھا، پچھلے چھ آٹھ ماہ میں وہ اور بھی بہت سے مواقع پر اس کی مدد کرتا رہا تھا۔ چاہے یہ رپورٹس اور آرٹیکلز کے لیے ریفرنسز کا معاملہ ہو یا پھر کوئی دوسری مدد۔ اس کا سوشل سرکل خاصا وسیع تھا اور اس سوشل سرکل میں ہر فیلڈ کے لوگ شامل تھے۔ وہ اس کا کام خاصا آسان کر دیا کرتا تھا مگر بڑے غیر محسوس طریقے سے اور اس تعاون نے بڑے عجیب سے انداز میں دونوں کے درمیان موجود رشتے کو مضبوط کیا تھا۔ علیزہ کو کبھی اندازہ تک نہیں تھا کہ وہ عمر کے علاوہ کسی اور شخص پر اس طرح اعتماد کرے گی مگر جنید نے بڑی عمدگی کے ساتھ عمر کی جگہ لے لی تھی۔
”زندگی میں ہر چیز ہر شخص، ہر فیلنگ کا Replacement (متبادل) موجود ہوتا ہے اور جو لوگ کہتے ہیں ایسا نہیں ہوتا وہ بکواس کرتے ہیں۔”
کئی بار اسے عمر کی کہی ہوئی بات یاد آتی اور چند لمحوں کے لیے خود کو جیسے کسی کٹہرے میں پاتی تب اس نے عمر کی بات سے اختلاف کیا تھا۔ بہت ناراض ہو کر
”آپ غلط کہتے ہیں۔ ان تینوں میں سے کسی کا بھی متبادل نہیں ہو سکتا۔ آپ جسے متبادل کہتے ہیں وہ دراصل کمپرومائز ہوتا ہے ورنہ ایک چیز ایک شخص یا ایک جذبے کے ختم ہو جانے کے بعد کوئی دوسرا اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ایک ہاتھ کٹ جائے تو کیا اس کی جگہ دوسرا ہاتھ اگ سکتا ہے؟” اس نے اپنی جانب سے بڑی مضبوط دلیل دینے کی کوشش کی تھی۔
”بازار سے مل جاتا ہے نقلی ہاتھ۔” عمر متاثر ہوئے بغیر بولا۔
”میں اصلی ہاتھ کی بات کر رہی ہوں۔ کیا نقلی ہاتھ اس طرح کام کر سکتا ہے جس طرح اصلی ہاتھ۔”
”مگر کام تو کرتا ہے۔ اگر انسان کا دل خراب ہو جائے تو کسی دوسرے کا دل ٹرانسپلانٹ کر دیتے ہیں۔ کیا یہ Replacement نہیں ہے۔ دل سے زیادہ اہم تو جسم کا کوئی دوسرا حصہ نہیں ہے اگر اس کی Replacement ہو سکتی ہے تو پھر باقی کیا رہ جاتا ہے۔”
”بات اہمیت کی نہیں ہے۔ آپ کا پوائنٹ تھا کہ ”ہر چیز” میں آپ کو بتا رہی ہوں کہ ہر چیز نہیں۔”
”سائنس ہاتھ کو Cultureکرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ جس دن یہ کوشش کامیاب ہو گئی اس دن جسم کے دوسرے بہت سے حصوں کی طرح ہاتھ بھی اگا لیے جائیں گے۔ Replacement سائیکل پوری پوری ہو جائے گی۔” اس کے لہجے میں ہنوز اطمینان تھا۔
چیزوں کی بات چھوڑیں۔ انسانوں کی بات کریں اگر کسی عورت کا شوہر مر جائے تو کیا اس کی کمی پوری ہو سکتی ہے۔ اس کی Replacementمتبادل ہو سکتا ہے؟”
”بالکل ہو سکتا ہے۔”
”کیسے…؟”
”دوسرے شوہر سے۔”
”اور اگر پہلے شوہر سے اسے محبت ہو تو؟”
”دوسرے سے بھی ہو جائے گی۔”
”ایسا نہیں ہوتا۔”
”کم از کم جس دنیا میں میں رہتا ہوں، وہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ فرض کرو، دوسرا شوہر ساری دنیا کی آسائش لا کر اس کے سامنے رکھے تو کیا پھر بھی اسے اس سے محبت نہیں ہو گی۔”
”میں آپ کو اپنی بات کبھی نہیں سمجھا سکتی۔ آپ ہر بات کو اور طرح سے لیتے ہیں۔” علیزہ نے کچھ بے بس ہوتے ہوئے کہا تھا۔
”آپ کا پوائنٹ منطقی ہے ہی نہیں علیزہ بی بی یہ خواتین کی سائیکی کا حصہ ہوتا ہے۔ Replacement پرابلم Graveyard is full of indispensable peopleایسے لوگ جن کے بارے میں ہمیں خوش فہمی رہتی ہے کہ ان کا کوئی Replacement نہیں ہے تو کیا دنیا ان کے بغیر بھی اسی طرح نہیں چل رہی۔ چل رہی ہے کیونکہ نیچرل سائیکل کے تحت ان کے متبادل آ گئے کچھ اور لوگ ان کی جگہ آگئے۔ اسی کام کو کرنے کے لیے اسی رول کو سرانجام دینے کے لیے۔”
اس نے بڑی بے نیازی سے کندھے جھٹکتے ہوئے بات ختم کی تھی۔ علیزہ اس سے متفق نہیں تھی مگر وہ خاموش ہو گئی تھی۔
اور اب جنید کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے عمر کی وہی Replacement theory (نظریہ متبادل) یاد آئی ۔ کیا واقعی ہر چیز کی Replacement ہو جاتی ہے۔ ہر فیلنگ کی، ہر شخص کی؟ وہ کئی بار خود سے پوچھتی اور پھر ذہن میں گونجنے والے جواب اور آوازیں اسے پریشان کرنے لگتیں۔
کمرے کے دروازے پر یکدم دستک کی آواز سنائی دی۔ علیزہ چونک گئی۔ اس کی سوچوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا تھا سائیڈ ٹیبل پر گلاس میں پڑے ہوئے گلاب پر ایک نظر ڈالتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ دستک کی آواز دوبارہ سنائی دی تھی۔
”جنید صاحب کا فون ہے۔” دروازہ کھولنے پر ملازم نے اسے اطلاع دی۔
”تم چلو، میں آتی ہوں۔” اس نے اپنی آنکھوں کو مسلتے ہوئے کہا۔
چند منٹوں کے بعد وہ لاؤنج میں فون پر جنید سے بات کر رہی تھی۔ دس پندرہ منٹ اس سے باتیں کرتے رہنے کے بعد وہ واپس اپنے بیڈ روم میں آگئی اور تب ہی اسے اس آرٹیکل کا خیال آیا جو صالحہ نے اسے دیا تھا۔ اس نے آرٹیکل کو نکال لیا۔
اپنے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے اس نے آرٹیکل کو پڑھنا شروع کیا۔ اس کے چہرے پر شکنیں ابھرنے لگی تھیں۔ الجھن اور اضطراب…
چند منٹوں بعد وہ اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس کا چہرہ یکدم بہت زرد نظر آنے لگا تھا۔
ہاتھ میں پکڑا ہوا آرٹیکل اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور اپنی پیشانی کو مسلنے لگی۔ کچھ دیر اسی طرح بیٹھے رہنے کے بعد اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا موبائل اٹھا لیا اور صالحہ کا نمبر ڈائل کیا۔
”ہیلو! صالحہ میں علیزہ بول رہی ہوں۔ ” علیزہ نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
”ہاں علیزہ ! وہ آرٹیکل پڑھ لیا؟” صالحہ کو اس کی آواز سنتے ہی یاد آیا۔
”ہاں، ابھی کچھ دیر پہلے ہی پڑھا ہے اور میں اس کے بارے میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں۔” علیزہ نے کچھ بے چینی سے کہا۔
”ہاں بولو، کیا کہنا چاہتی ہو، کیا تمہیں آرٹیکل پسند نہیں آیا؟” صالحہ نے پوچھا۔
”صالحہ! تم نے یہ آرٹیکل کیوں لکھا ہے؟” علیزہ نے اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
”کیا مطلب کیوں لکھا ہے، کیا مجھے نہیں لکھنا چاہیے تھا۔” وہ اس کے سوال پر حیران ہوئی علیزہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے کہا۔
”میں نے یہ نہیں کہا کہ تمہیں نہیں لکھنا چاہیے تھا، میں صرف یہ پوچھ رہی ہوں کہ تم نے کیوں لکھا ہے؟”
”بھئی! کیوں لکھتے ہیں ایسے آرٹیکلز…عوام تک حقائق لانے کے لیے، انہیں تصویر کا اصلی رخ دکھانے کے لیے، ان لوگوں کی اصلیت سے آگاہ کرنے کے لیے جو ان ہی کے ٹیکسوں سے ان کے حکمران بنے بیٹھے ہیں۔” صالحہ نے ہمیشہ کی طرح اپنی تقریر کا آغاز کر دیا۔
”مگر یہ سب کچھ سامنے لانے کے لیے الزام تراشی ضروری ہے؟” علیزہ نے اس کی بات کو بے صبری سے کاٹتے ہوئے کہا۔
”الزام تراشی کیا مطلب؟ کون سی الزام تراشی؟” صالحہ اس کے سوال پر کچھ چونکی۔
”میں تمہارے آرٹیکل کی بات کر رہی ہوں۔” علیزہ نے کہا۔
”میرا آرٹیکل ! فار گاڈسیک علیزہ! میرے آرٹیکل میں کون سی الزام تراشی تمہیں نظر آگئی ہے۔” صالحہ نے بے اختیار اس کی بات پر ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
”جو کچھ تمہارے آرٹیکل میں ہے، مجھے وہ سچ نہیں لگتا۔” علیزہ نے کہا۔
”جو کچھ میرے آرٹیکل میں ہے، وہ حقائق کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ تمہیں وہ سب جھوٹ لگا ہے اور شاید پہلی بار ہوا ہے۔” صالحہ نے کہا۔
”تم نے اپنے آرٹیکل میں صرف الزامات لگائے ہیں، کوئی ثبوت نہیں دیا۔ اتنا غیر محتاط ہو کر کچھ بھی لکھنے کی کیا ضرورت ہے کہ اگلے دن یا تو اخبار کو معذرت کرنی پڑے یا پھر کورٹ میں کیس چلایا جائے۔” علیزہ نے کہا۔
”میرے آرٹیکل میں کوئی ایک بھی ایسی چیز نہیں ہے جو جھوٹ ہو یا جس کا میرے پاس ثبوت نہ ہو مگر ہر ثبوت آرٹیکل میں نہیں دیا جا سکتا اور جہاں تک معذرت یا کسی کا تعلق ہے تو اس شخص میں اتنی ہمت کبھی ہو ہی نہیں سکتی کہ وہ یہ دونوں کام کرے کیونکہ میرے تمام الزامات درست ہیں اور وہ انہیں کسی طور پر بھی غلط ثابت نہیں کر سکتا۔” صالحہ نے بڑے پراعتماد انداز میں کہا۔
”تمہیں یہ ساری معلومات کہاں سے ملی ہیں؟” علیزہ نے اس کی بات پر کچھ تذبذب کا شکار ہوتے ہوئے کہا۔
”کم آن علیزہ! کم از کم تم تو ایسی بچوں جیسی باتیں نہ کرو، ہم دونوں جرنلسٹ ہیں اور تم جانتی ہو کہ جرنلسٹس کے اپنےsource of information (معلومات کے ذرائع) ہوتے ہیں۔
”اور یہ کبھی کبھار غلط معلومات اور خبریں بھی دے دیتے ہیں۔” علیزہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”ہاں بالکل دے دیتے ہیں مگر کم از کم اس شخص کے بارے میں میرے پاس جتنی بھی معلومات ہیں وہ بڑے باوثوق ذرائع سے آئی ہیں اور وہ غلط نہیں ہیں۔ غلط ہو ہی نہیں سکتیں۔” صالحہ نے اسی کے انداز میں اپنی بات پر زور دیا۔
”پھر بھی صالحہ! تمہیں ایک بار پھر ان تمام الزامات کی صداقت کو پرکھ لینا چاہیے۔” علیزہ نے اس بار قدرے کمزور آواز میں کہا۔
”اس کی ضرورت ہی نہیں ہے، جب میں کہہ رہی ہوں کہ یہ باوثوق ذرائع سے آئی ہیں تو تم مان لو کہ یہ واقعی باوثوق ذرائع سے آئی ہیں اور غلط نہیں ہو سکتیں۔” صالحہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا۔
”مگر مجھے حیرت ہے کہ آخر تم اس آرٹیکل میں موجود الزامات پر اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہو۔ اس سے پہلے تو کبھی تم نے اس طرح کی کسی آرٹیکل پر کبھی اعتراض کیا نہ ہی مجھے خبردار کرنے کی کوشش کی ہے پھر اس بار کیا خاص بات ہے۔”
صالحہ کچھ متجسس انداز میں کہا اور پھر بات کرتے کرتے چونک سی گئی۔ ”کیا تم اس شخص کو ذاتی طور پر جانتی ہو؟”
علیزہ اس اچانک پوچھے گئے سوال پر گڑبڑا گئی۔
”نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے میں اسے ذاتی طور پر کیسے جان سکتی ہوں، میں تو صرف اس لیے تمہیں خبردار کر رہی ہوں کہ تمہارے لگائے گئے الزامات بہت سنگین ہیں اور اخبار میں یہ آرٹیکل شائع ہو جانے کے بعد تمہیں کسی پریشانی کا سامنا بھی کرناپڑ سکتا ہے۔” علیزہ نے کہا۔
”یہ زین العابدین کی دی گئی معلومات پر مشتمل آرٹیکل ہے اور زین العابدین کتنا پروفیشنل ہے اور اس کی دی گئی انفارمیشن کس قدر authentic(معتبر) ہو سکتی ہے تم خود اندازہ لگا سکتی ہو۔”
صالحہ نے اپنے اخبار کے سب سے اچھے انوسٹی گیٹو جرنلسٹ کا نام لیتے ہوئے کہا۔
علیزہ کا دل بے اختیار ڈوبا۔ ”زین العابدین…؟ کیا وہ اس پر کام کر رہا ہے؟”
”فی الحال نہیں، مگر یہ اس کی اگلی اسائنمنٹ ہے۔” صالحہ نے علیزہ کو آگاہ کیا۔
”مگر زین العابدین اس معاملے میں کیوں دلچسپی لے رہا ہے، ایسے چھوٹے چھوٹے معاملات پر کام کرنا تو کبھی اس کا خاصا نہیں رہا۔” علیزہ نے خشک ہوتے ہوئے حلق کے ساتھ کہا۔
”یہ تو زین العابدین ہی بتا سکتا ہے۔ مجھے تو بس سنڈے ایڈیشن کے لیے ایک آرٹیکل لکھنا تھا اور اس کے لیے مجھے انفارمیشن کی ضرورت پڑی تو کسی نے مجھے ٹپ دی کہ زین العابدین کی اگلی اسائنمنٹ یہی ہو گی اور وہ یقیناً اس بارے
میں میری مدد کر سکتا ہے۔” صالحہ نے بڑی لاپروائی سے کہا۔ ”جب میں نے زین العابدین سے بات کی تو اس نے مجھے خاصی معلومات فراہم کیں۔” صالحہ خاموش ہو گئی۔
علیزہ موبائل کان سے لگائے گم صم بیٹھی رہی۔
”ہیلو علیزہ۔” صالحہ نے اسے خاموش پا کر مخاطب کیا۔
”ہاں میں سن رہی ہوں۔” وہ غائب دماغی کے عالم میں بولی۔
”کیا سن رہی ہو؟ میں تو اپنی بات ختم بھی کر چکی ہوں۔” صالحہ نے جتایا۔ ”تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟” اسے اچانک تشویش ہوئی۔
”ہاں…نہیں، سر میں کچھ درد محسوس ہو رہا تھا۔” علیزہ کو اچانک اپنی گفتگو کی بے ربطگی چھپانے کا بہانہ مل گیا۔
”اچھا تو تم سو جاتیں۔” صالحہ نے کہا۔
”ہاں ، مگر مجھے تمہارا آرٹیکل یاد آگیا۔ تم نے کہا تھا کہ میں آج ہی اسے پڑھ کر تمہیں اس کے بارے میں رائے دوں۔” علیزہ نے کہا۔
”اتنی ایمرجنسی بھی نہیں تھی، تمہاری طبیعت اگر ٹھیک نہیں تھی تو تم اسے نہ پڑھتیں کل پڑھا جا سکتا تھا۔ بہرحال اب تم نے پڑھ لیا ہے تو تم مجھے بتاؤ کیا اس میں کچھ مزید ایڈیٹنگ کی ضرورت ہے۔” صالحہ نے کہا۔
”اپنی رائے تو میں نے تمہیں دے دی ہے۔ مجھے الزامات کچھ زیادہ سنگین لگے لیکن اگر تمہیں یقین ہے کہ وہ ٹھیک ہیں اور بعد میں ان کی وجہ سے تمہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا تو ٹھیک ہے تم اسے بھجوا دو۔” علیزہ نے کہا۔
”میں نے تمہیں بتایا ہے۔ اس اسائنمنٹ پر زین العابدین کام کرنے والا ہے اور اس کے سامنے تو میرا آرٹیکل اور اس میں شامل الزامات کچھ بھی نہیں ہیں، وہ تو جس طرح گڑے مردے اکھاڑتا ہے، تم اچھی طرح جانتی ہو۔” علیزہ کو دوسری طرف سے صالحہ کی ہنسی کی آواز سنائی دی۔
”ٹھیک ہے ، پھر تم اسے بھجوا دو۔” علیزہ نے اپنے لہجے کے اضطراب کو چھپاتے ہوئے کہا۔
”تم صبح آرہی ہو؟” صالحہ نے اس سے پوچھا۔
”کہاں؟” علیزہ نے ایک بار پھر غائب دماغی سے کہا۔
”بھئی آفس اور کہاں۔”
”ہاں، آفس تو یقیناً آؤں گی تم کیوں پوچھ رہی ہو؟” علیزہ نے کہا۔
”نہیں، م?