Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 54

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 54
۔۔۔۔۔

”ہاں میں بھول گیا تھا۔ یہاں تو میں سگریٹ پینے نہیں…گالیاں کھانے آیا ہوں۔” وہ مسکرایا۔
”تم…تم کسی سے گالیاں کھا سکتے ہو۔ اپنی مظلومیت کا ڈرامہ کیوں کر رہے ہوں؟” علیزہ کو اس کے جملے پر اور غصہ آیا۔
”میں مظلومیت کا کوئی ڈرامہ نہیں کر رہا ہوں۔” عمر کے لہجے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔” مجھے کسی ڈرامے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔”
”ہاں یہی تو میں تمہیں کہہ رہی ہوں کہ خود کو اتنا مظلوم اور بے بس ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔”
وہ غرائی، عمر سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
”جھوٹ…جھوٹ…جھوٹ…فریب، دھوکا عمر جہانگیر تم اس کے سوا اور کیا ہو؟” اس کا سکون اس وقت علیزہ کے لیے جلتی پر تیل کا کام کر رہا تھا۔
”میرے دل میں تمہارے لیے ذرہ برابر بھی عزت موجود نہیں ہے…ذرہ برابر بھی…شرم آتی ہے مجھے۔ جب لوگوں کو یہ پتا چلتا ہے کہ تم میرے کزن ہو۔ تمہارے حوالے سے تعارف پر تکلیف ہوتی ہے مجھے۔ اسی طرح کی تکلیف جتنی دس سال پہلے تمہیں اپنے باپ کے تعارف پر ہوتی تھی۔”
عمر کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔
”یاد ہے نا کیا کہا کرتے تھے تم؟” وہ غرائی۔
”یاد ہے۔” عمر نے سرد آواز میں کہا۔
”ہاں یاد کیوں نہیں ہوگا تمہیں…وہی سب کچھ سامنے رکھ کر تو سٹینڈرڈ اور پیرامیٹرز سیٹ کیے ہوں گے تم نے اپنے لیے۔” وہ تلخی سے بولی۔ ”مجھے جھوٹ کا یہ معیار حاصل کرنا ہے۔ انسانیت کے اس نچلے درجے تک گرنا ہے۔ سفاکی کی اس سیڑھی پر کھڑا ہونا ہے۔ لوگوں کی زندگی کی تباہی کی یہ سٹیج حاصل کرنی ہے۔ خود غرضی اور بے ضمیری کی اس اونچی منزل پر جا کھڑا ہونا ہے۔”
اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا، عمر ہونٹ بھینچے اسے خاموشی سے دیکھتا جا رہا تھا۔
”سارے سٹینڈرڈ تو تم نے وہیں سے سیٹ کیے ہیں۔ اپنے باپ کی ریپوٹیشن کو روتے تھے تم ، اپنی ریپوٹیشن کے بارے میں جا کر پوچھو کسی سے۔ لوگ تمہارے بارے میں کیا کہتے ہیں۔”
عمر نے پلکیں تک نہیں جھپکائیں۔ وہ بالکل ساکت تھا۔ علیزہ کو اس پر ترس نہیں آیا۔ اس نے زندگی میں یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ کبھی عمر جہانگیر سے اس طرح بات کرے گی۔ کبھی عمر جہانگیر سے اس طرح بات کر سکتی ہے۔
کمرے کے وسط میں کھڑے اب وہ سرخ چہرے کے ساتھ خاموشی سے اسے گھور رہی تھی۔
”کوئی جواب ہے تمہارے پاس میری باتوں کا یا نہیں…؟” وہ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بلند آواز میں چلائی۔
”اس سے پہلے کہ عمر کچھ کہتا کمرے کا دروازہ کھول کر نانو اندر آگئیں۔
”کیا ہو رہا ہے یہاں علیزہ…! تم دونوں آپس میں جھگڑ رہے ہو۔ باہر تک آواز آرہی ہے تمہاری۔”
انہوں نے ان دونوں کو ایک نظر دیکھنے کے بعد کہا۔ اس سے پہلے کہ علیزہ کوئی جواب دیتی عمر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور نانو کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے نرمی سے انہیں باہر کی جانب دھکیلا۔
”نہیں ہم میں کوئی جھگڑا نہیں ہو رہا، ہم کچھ باتیں ڈسکس کر رہے ہیں ۔ گرینی پلیز! آپ باہر چلی جائیں، ہم ابھی بات ختم کرکے باہر آ جائیں گے۔”
نانو نے کچھ کہنے کی کوشش کی ”مگر عمر۔۔۔”
”پلیز گرینی! میں ریکویسٹ کرتا ہوں۔”
عمر نے انہیں اپنی بات مکمل نہیں کرنے دی، وہ بالآخر ہتھیار ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں۔
عمر ایک بار پھر صوفہ پر جا کر بیٹھ گیا۔
”میرے پاس ہر بات کا جواب ہے مگر بہتر ہے کہ پہلے تم جو کچھ کہنا چاہتی ہو کہہ لو…میں بعد میں بات کروں گا۔”
”مجھے اور کچھ نہیں کہنا، میں کہہ چکی ہوں سب کچھ۔” وہ غرائی۔ وہ صوفہ پر کچھ آگے کو جھک گیا۔
”ٹھیک ہے۔ سب سے پہلے، جھوٹ کی بات کر لیتے ہیں۔ میں نے تم سے کیا جھوٹ بولا ہے۔”
”میں تمہارے کون کون سے اور کتنے جھوٹ گنواؤں۔”
”جتنے یاد ہیں اتنے گنوا دو۔”
”اس گھر پر جسٹس نیاز نے حملہ کروایا تھا؟ مجھ پر اور نانو پر…مجھے وہ لوگ اغوا کرنا چاہتے تھے ہے نا…یہ سب تو سچ ہی ہوگا۔ اب بولو…اب کیوں نہیں بولتے، جسٹس نیاز نے حملہ کروایا تھا نا اس گھر پر؟”
”نہیں۔۔۔” عمر کے چہرے پر اب بھی سکون تھا، علیزہ کو اس کے جواب نے مزید مشتعل کیا۔
”جسٹس نیاز نے نہیں کروایا، بڑی حیرت کی بات ہے۔ تم نے تو مجھ سے یہی کہا تھا کہ جسٹس نیاز نے حملہ کروایا ہے کہا تھانا؟”
”ہاں کہا تھا۔”
”اور یہ جھوٹ نہیں ہے۔ کسی بھی طرح اسے جھوٹ نہیں کہا جا سکتا ۔”
”یہ جھوٹ تھا مگر مجھے اس جھوٹ پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔”
”تمہیں شرمندگی ہو بھی نہیں سکتی۔ شرمندہ ہونے کے لیے باضمیر ہونا ضروری ہے اور یہ چیز تو تمہارے پاس کبھی تھی ہی نہیں۔” عمر نے اس کے طنزیہ جملے کو نظر انداز کر دیا۔
”جسٹس نیاز والے معاملے میں تم سے جھوٹ بولا گیا ، مگر میں اکیلا نہیں تھا اس جھوٹ میں ہر ایک نے تم سے جھوٹ بولا کیونکہ تم کسی کی بات ماننے پر تیار ہی نہیں تھیں۔”

”ہر ایک سے تمہاری مراد عباس اور تم ہو؟”
”گرینی بھی۔” علیزہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
”اس حملے کے بارے میں وہ پہلے سے جانتی تھیں؟” اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
”ہاں۔۔۔”
”چوکیدار کا زخمی ہونا بھی ایک ڈرامہ ہوگا۔ وہ بھی کہیں چھٹیاں گزار کر آگیا ہوگا۔”
عمر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ”میرے rape کا جھوٹ کس نے گھڑا، یقیناً تم نے۔”
”نہیں یہ میں نے نہیں کہا ۔ مجھے اس کے بارے میں بعد میں عباس سے پتا چلا تھا اور میں نے اس پر عباس۔۔۔” علیزہ نے ہاتھ اٹھا کر بات کاٹ دی۔
”تم…کو بعد میں پتا چلا…تم کو…یہ بھی ایک اور جھوٹ ہوگا۔ ہر معاملے میں تم لوگ اکٹھے ہوتے ہو۔ ہر بات کی خبر رکھتے ہو اور تمہیں اس کے بارے میں بعد میں پتا چلا میں یقین نہیں کر سکتی۔”
”مت کرو…مگر یہ سچ ہے کہ مجھے اس بات کے بارے میں بعد میں پتا چلا۔ اگر پہلے پتا چلتا تو میں کبھی بھی انہیں ایسی بات کہنے نہ دیتا۔ میں اتنا گرا ہوا نہیں ہوں۔” عمر اب صوفہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔
”میری جگہ اگر تمہاری اپنی بہن ہوتی…یا…یا جو ڈتھ ہوتی تو اس کے بارے میں ایسی بات برداشت کر سکتے تھے تم…مجھ سے تو خیر تمہارا رشتہ ہی کوئی نہیں ہے۔”
”تم میرے لیے کسی بھی شخص اور کسی بھی رشتہ سے زیادہ اہم ہو۔”
”نہیں ، میں نہیں ہوں…ایسی باتوں سے اب بے وقوف نہیں بن سکتی عمر جہانگیر۔ اب میچور ہو گئی ہوں میں” اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔
”جہاں تک صالحہ کا تعلق ہے تو میں نے صالحہ پر کوئی حملہ نہیں کروایا۔ ایسا کام کوئی بے وقوف ہی کر سکتا ہے اور میں کم از کم بے وقوف تو نہیں ہوں۔” اس نے قدرے جتانے والے انداز میں کہا۔
”میں اس وقت آفس میں تھی جب تم نے اسے فون کیا تھا۔” علیزہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ”اور میں نے خود فون پر سنا تھا…تم اسے دھمکا رہے تھے۔”
”دن میں، میں اگر دس لوگوں کو دھمکاؤں گا تو کیا دس لوگوں پر حملہ کرواؤں گا۔” عمر نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا۔
”میں دوسرے لوگوں کے بارے میں نہیں جانتی مگر صالحہ کا تمہارے علاوہ اور کوئی دشمن نہیں ہے۔” علیزہ نے دو بدو کہا۔
”صالحہ خود اپنی سب سے بڑی دشمن ہے۔”
”کیوں وہ تمہارے بارے میں سچ لکھتی ہے اس لیے۔”
”سچ…کیا سچ؟” وہ تلخی سے ہنسا۔
”مجرموں کے بھی انسانی حقوق ہوتے ہیں۔” اس نے صالحہ پرویز کے آرٹیکل کا عنوان کچھ تنفر سے پڑھا۔
”ہاں مجرموں کے بھی کچھ انسانی حقوق ہوتے ہیں، وہ کتے بلیاں نہیں ہوتے کہ کہیں بھی کیسے بھی پکڑ کر انہیں مار دو۔ اگر تم لوگوں نے یہی سب کچھ کرنا ہے تو عدالتیں بند کر دو۔ لوگوں کو پکڑو کھڑے کھڑے شوٹ کرو اور بس… یہ دیکھو بھی مت کہ کس نے کیا کیا ہے؟”
”جن مجرموں کو پکڑ کر ہم پولیس مقابلوں میں مارتے ہیں ان کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہوتے کیونکہ وہ انسان نہیں ہوتے۔” عمر نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔
”اس طرح کے مجرم جن چاروں کو۔۔۔” عمر نے اس کی بات کاٹ دی۔
”ان چاروں کو چھوڑ دو۔ وہ ایک علیحدہ کیس تھا۔ باقیوں کی بات کرو، ہر بار بے گناہوں کو نہیں مارا جاتا۔ چودہ چودہ قتل کیے ہوتے ہیں ان لوگوں نے جنہیں پولیس مقابلوں میں مارا جاتا ہے۔” وہ اب تیز آواز میں کہہ رہا تھا”اور تم لوگ ان کے حقوق کی بات کرتے ہو۔”
”پولیس کا کام مجرموں کو پکڑنا ہوتا ہے، انہیں سزائیں دینا نہیں۔ کورٹس ہیں اس کام کے لیے۔” وہ اس کے لہجے سے متاثر ہوئے بغیر بولی۔

”کورٹس…کون سے کورٹس۔۔۔” وہ تنفر سے ہنسا ”کورٹس کہتے ہیں ثبوت لائیں، گواہ پیش کریں، چودہ افراد کو قتل کر دینے والے شخص کے خلاف کون گواہی دینے کے لیے کھڑا ہوگا جس ملک میں ریوالور کی گولی بلیک میں سات روپے کی اور ایک لائف سیونگ ٹیبلٹ سو روپے میں ملتی ہو، وہاں کون اٹھ کر یہ کہے گا کہ ہاں یہ وہ آدمی ہے جس کو میں نے سڑک پر چار لوگوں کو قتل کرتے دیکھا۔”
وہ تنفر سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔
”جہاں لوگ بدلہ لینے کے لیے انتظار کرتے ہیں کہ کوئی اپنی پیشی بھگتانے کورٹ میں آئے تو اسے وہاں مارا جائے، کیونکہ کورٹ میں مارنا سب سے زیادہ محفوظ ہے۔ وہاں تم Rule of law اور کورٹس کی Supremacy (برتری ) کی بات کرتی ہو۔” وہ مسلسل بول رہا تھا۔
”جہاں Lowercourts کے سینکڑوں ججز میں سے نہ بکنے والے ججز کو آدمی انگلی پر گن سکتا ہو اور جہاں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا جج بننے کے لیے قابلیت کے بجائے سیاسی بیک گراؤنڈ اور اپروچ معیار ہو۔ جہاں ایک وزیراعظم یہ کہے کہ اس کی خواہش تھی کہ اس کی پارٹی کے ایک وفادار جیالے کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا جائے اور دوسرے وزیراعظم کی پارٹی کے لوگ سپریم کورٹ پر حملہ کر دیں اور سپریم کورٹ توہین عدالت کا فیصلہ کرنے میں تین سال لگا دے وہاں کورٹس مجرموں کو سزا دلائیں گے۔”
وہ ایک بار پھر ہنسا۔
”جن لوگوں کو پکڑنے میں پولیس کے کئی کئی سال لگ جاتے ہیں اور لاکھوں روپیہ خرچ ہو جاتا ہے…انہیں پکڑنے کے بعد ان کے خلاف ایک گواہ نہیں ملتا۔” اس نے سرخ چہرے کے ساتھ ہاتھ کے اشارے سے کہا۔
”لوگ اتنے خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے قریبی عزیزوں کے قتل پر گواہ نہیں بنتے۔ جج پوچھتا ہے کوئی گواہ ہے۔ وکیل استغاثہ کہتا ہے نہیں۔ وکیل صفائی کہتا ہے ضمانت پر رہا کر دیں جناب! میرے موکل کو پولیس نے جان بوجھ کر گرفتار کیا ہے۔ جج پانچ ہزار کے ضمانت کے مچلکے پر اسے رہا کر دیتا ہے۔ ہمارا پورا ڈیپارٹمنٹ منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ یہ ہے اس ملک کا نظام عدل۔”
وہ پلکیں جھپکائے بغیر ناگواری سے اسے دیکھ رہی تھی۔
”اور عدالت کو چھوڑو ان سے پہلے ہی بڑے بڑے سیاست دانوں کی سفارش آنا شروع ہو جاتی ہیں، ان کے لیے کیونکہ یہ لوگ ان کے پالے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک قتل یہ اپنے لیے کرتے ہیں تو دس ان کے لیے۔ وزیراعلیٰ یا گورنر فون کرکے کہے کہ فلاں آدمی جو آپ نے پکڑا ہے اسے چھوڑ دیں تو ہم اسے اس کے بارے میں مقدمات کی تفصیل کیسے بتا سکتے ہیں۔ تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ایسے آدمیوں کو پکڑنے کے بعد مار دیا جائے، اس سے پہلے کہ ان کے لیے کوئی سفارش آئے یا عدالت انہیں رہا کرے اور وہ دوبارہ پولیس کا ناک میں دم کریں اور عمر جہانگیر ایسا کرنے والا واحد آدمی نہیں ہے کسی ایک ایسے ایس پی کا نام بتا دو جس کے ضلع میں ایسے جھوٹے پولیس مقابلے نہیں ہوتے۔ ہم مجبور ہیں یہ سب کرنے کے لیے۔ ایک پولیس مقابلے کے بعد لاء اینڈ آرڈر بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے۔ کم از کم کچھ عرصے کے لیے۔ کبھی آج تک کسی ایک ایس پی کو سزا ملی ہے اس کے ضلعوں میں ہونے والے کسی ایک بھی پولیس مقابلے کے لیے۔” اس نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا۔
”نہیں…اور نہ ہی آئندہ کبھی ملے گی کیونکہ وہ جو اوپر بیٹھے ہوتے ہیں نا…آئی جی…اور چیف سیکرٹری انہیں بھی سب پتا ہوتا ہے کہ یہ پولیس مقابلے کیوں ہوتے ہیں اور ہم یہ کرنے پر کیوں مجبور ہیں پھر صرف عمر جہانگیر کو اس طرح تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ صرف مجھ پر الزامات کیوں لگائے جا رہے ہیں۔”
اس کی آواز میں اب غصہ تھا۔
”کرپشن…؟ کون کرپشن نہیں کرتا، ہاں میں نے اور رضی محمود نے وہ زمین بیچ دی تھی تو پھر کیا ہوا…یہاں سب ایسا ہی کرتے ہیں۔ جرنلسٹس کو موقع ملے تو وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ کیا وہ لفافے نہیں لیتے سیاست دانوں سے ، کسی جرنلسٹ کا نام بتاؤ میں تمہیں اس کا کچا چٹھا بتا دیتا ہوں۔
کس کا کتنا ریٹ ہے۔ کون کس وزیر کے ساتھ دورے پر جانے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیل رہا ہے۔ کون کس سے پلاٹ الاٹ کروا رہا ہے اور میں نہ بھی کہوں تم جرنلسٹس کے کالم پڑھ لو…تمہیں پتا چل جائے گا کس کے منہ میں کس کی زبان ہے اور کس کی قیمت کتنی ہے۔ پھر اگر ان جیسے لوگ ہمیں گریبان سے پکڑنے کی کوشش کریں تو۔۔۔”
وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر ہنسا۔
”پھر بھی میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ میں نے صالحہ پر فائرنگ نہیں کروائی۔ وہ میرے لیے اتنا خطرہ نہیں تھی۔ تمہاری دوست ہوتی یا نہ ہوتی مجھے اس پر فائرنگ کروانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ میں ایسا کام کیوں کرواؤں گا کہ سیدھا شک مجھ پر جائے۔” اس بار اس کی آواز نرم تھی۔
”پھر تمہارے علاوہ اور کون کر سکتا ہے یہ سب کچھ؟”
”وہ خود کروا سکتی ہے۔ یہ سب کچھ پری پلانڈ ہو سکتا ہے۔ میرا کوئی دشمن کروا سکتا ہے۔” عمر نے لاپرواہی سے کہا۔
”وہ خود اپنے آپ پر فائرنگ کروائے گی؟” علیزہ نے بے یقینی سے کہا۔
ہاں کیوں نہیں اس میں کون سے پہاڑ سر کرنے پڑتے ہیں۔ کرائے کا کوئی آدمی چاہیے ہدایات کے ساتھ…اور بس…اور وہ تو ہے بھی جسٹس نیاز کے خاندان سے۔”
علیزہ نے اسے غور سے دیکھا۔
”اور جہاں تک خود کو بچانے کے لیے بھکاریوں کی طرح ہر ایک کے آگے پیچھے پھرنے کا تعلق ہے تو میں ایسا کچھ بھی نہیں کر رہا۔” وہ ہنسا ”یہ معطلی میرے لیے بہت اچھی ثابت ہوئی ہے…کیسے ، یہ تمہیں اگلے چند ہفتوں میں پتا چل جائے گا۔ جہاں تک انکوائری کا تعلق ہے انکوائری کمیٹی میں تین لوگ ہیں۔” وہ اب جیسے خود اپنی گفتگو سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ ایک پاپا کے بیچ میٹ ہیں انکل اسحاق دوسرے اے ایچ قریشی ہیں۔ ان کا بیٹا شیراز میرا بیچ میٹ ہے۔ تیسرے فاروق ذوالفقار ہیں۔ ان کے ساتھ کل لاہور جم خانہ میں ٹینس کی پریکٹس کی تھی میں نے۔ میرے بیک ہینڈ سے وہ بہت متاثر ہوئے اور ان کے فور ہینڈ سے میں۔” اس نے ٹینس کے دو شاٹس کا نام لیتے ہوئے کہا۔

”سروس دونوں کی اچھی نہیں تھی۔ کل دو گھنٹے کے لیے مزید کھیلیں گے شاید بہتر ہو جائے۔” وہ مذاق اڑانے والے انداز میں مسکرایا۔
”اور تم سمجھ رہی ہو کہ میں لوگوں کے پیچھے پھر رہا ہوں کہ مجھے بچا لیں…میں یہاں بس چند ہفتے کی چھٹیاں گزارنے آیا ہوں۔” وہ ایک بار پھر سنجیدہ ہو گیا۔
”جنید…یا…تم…یا صالحہ مجھے کیا فائدہ پہنچا سکتے ہو۔” اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ”اور تمہیں جنید کے ذریعے میں کیوں پریشرائز کراؤں گا۔”
علیزہ کو یکدم تھکن محسوس ہونے لگی۔ واپس پلٹ کر وہ اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ وہ ہمیشہ کی طرح ہر حل، ہر جواب اپنی مٹھی میں لیے پھر رہا تھا، وہ باتوں میں دلیلوں میں اس سے کبھی نہیں جیتی تھی۔ وہ آج بھی اس سے نہیں جیت سکی تھی۔
”بس ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ میں تمہاری زندگی کیسے برباد کر رہا ہوں؟” اس نے اس بار کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا۔
”اور تمہارا یہی جملہ مجھے وہاں سے یہاں لایا ہے۔ کسی اور شخص کے کسی جملے سے مجھے اتنی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جتنی تمہاری اس بات سے ہوئی ہے۔ میں تمہیں خوش نہیں دیکھ سکتا…میں…؟ علیزہ! میں تمہیں خوش دیکھنا نہیں چاہوں گا…؟ میں چاہوں گا کہ تمہاری زندگی برباد ہو…تمہیں پتا ہے، تم نے مجھ سے کیا کہا ہے؟”
علیزہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
”تمہاری وجہ سے جنید میرے ساتھ جھگڑا کر رہا ہے۔ تمہارے لیے وہ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے۔ جب تک تم سے اس کا میل جول نہیں تھا ہم لوگوں میں کوئی تلخی نہیں تھی مگر اب جب تم اس سے ملنے لگے ہو…تو…تمہارے کہنے پر وہ۔۔۔”
عمر نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”میرے کہنے پر وہ کچھ نہیں کر رہا۔ وہ میرے کہنے پر کچھ کر بھی نہیں سکتا۔” عمر نے سختی سے کہا ۔ ”وہ کوئی ننھا بچہ نہیں ہے اور پھر میں تم لوگوں کے تعلقات کیوں خراب کروانا چاہوں گا۔” مجھے اس سے کیا فائدہ ہوگا؟”
”Why don’t you just get of our life” (تم ہماری زندگی سے نکل کیوں نہیں جاتے) وہ یکدم چلائی۔
عمر بات کرتے کرتے رک گیا۔ ”میں تمہاری زندگی سے پہلے ہی نکل چکا ہوں۔”
”نہیں تم نہیں نکلے ہو، اگر نکل گئے ہو تو پھر جنید کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔”
”اگر جنید سے ملنا چھوڑ دوں تو کیا مجھ سے تمہاری ناراضی ختم ہو جائے گی؟” عمر نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس سے پوچھا۔
”میری ناراضی کی پروا مت کرو عمر! جو کچھ تم میرے ساتھ کر چکے ہو، اس کے بعد کیا تمہیں یہ سوال زیب دیتا ہے؟”
”ہم دونوں بہت اچھے دوست رہ سکتے ہیں علیزہ…! ہم کبھی بہت اچھے دوست تھے۔۔۔” اس نے اس بار قدرے مدھم آواز میں کہا۔
”نہیں ہم دونوں کبھی بھی دوست نہیں تھے۔ ہم دونوں آئندہ بھی کبھی دوست نہیں رہ سکتے۔” علیزہ نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
”تم مجھے اپنے اور جنید کے درمیان کبھی نہیں پاؤ گی۔ میں اس سے دوبارہ نہیں ملوں گا۔ کیا اس کے بعد تم میرے لیے اپنا دل صاف کر سکتی ہو؟”
”نہیں۔۔۔”
عمر کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا، وہ کچھ دیر کچھ بھی کہے بغیر اسے دیکھتا رہا پھر مسکرا دیا۔
”میرے لیے تم ایک بہت خاص دوست ہو۔ تم مجھے کیا سمجھتی ہو کیا نہیں، میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا مگر کم از کم میرے لیے تم ہمیشہ ہی خاص رہو گی اور اگر کبھی پوری دنیا بھی تمہارے خلاف ہو جائے تو تم یہ یاد رکھنا، عمر جہانگیر ہمیشہ تمہاری طرف کھڑا رہے گا۔ چاہے تم غلط ہو یا صحیح ہو، میں ہمیشہ تمہیں سپورٹ کروں گا علیزہ! میں وہ آخری شخص بھی نہیں ہوں گا جو کبھی تمہیں تباہ کرنا چاہے گا۔ تم زندگی تباہ کرنے کی بات کرتی ہو، میں تو تم پر ایک خراش برداشت نہیں کر سکتا۔” علیزہ اس کے علاوہ کمرے کی ہر چیز کو دیکھتی رہی۔
”میں تمہاری یہ پینٹنگ لے جاؤں۔” کچھ دیر بعد اس نے کہا۔ علیزہ نے بے اختیار اسے دیکھا۔ وہ اب دیوار پر لگی ہوئی ایک پینٹنگ کو دیکھ رہا تھا، علیزہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر کچھ کہے بغیر دیوار کی طرف گئی اور اس پینٹنگ کو اتار دیا۔ عمر سے نظریں ملائے بغیر اس نے وہ پینٹنگ اس کی طرف بڑھا دی۔
”میں تمہارا شکریہ ادا نہیں کروں گا۔” اس نے عمر کو کہتے سنا۔
”مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔” اس کی بات کے جواب میں وہ اس کی بیڈ سائیڈ ٹیبل کی طرف گیا۔ علیزہ نے اسے اپنی جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک کیس برآمد کرتے اور اسے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے دیکھا۔
”یہ تمہارے لیے ہے، میں تمہاری برتھ ڈے پر دینا چاہتا تھا مگر نہیں دے سکا۔”
وہ اب دونوں ہاتھوں میں اس پینٹنگ کو پکڑ کر دیکھ رہا تھا۔
”او کے میں چلتا ہوں، اب۔۔۔”
وہ یکدم واپس مڑ گیا۔ علیزہ نے اسے کمرے سے باہر جاتے دیکھا کچھ دیر تک وہ خالی الذہنی کے عالم میں بیٹھی رہی پھر وہ اٹھ کر بیڈ سائیڈ ٹیبل کی طرف آگئی۔ کیس آہستگی سے اٹھا کر اس نے اسے کھول دیا۔ اندر سونے اور ہیروں سے مرصع ایک خوبصورت بریسلیٹ تھا۔ وہ ہونٹ بھینچے اس تحفے کو دیکھتی رہی۔ اس سے پہلے عمر نے کبھی بھی اسے سونے کی کوئی چیز نہیں دی تھی۔ پھر اب…جب…اس نے بہت آہستگی سے ایک بار اس بریسلیٹ کو چھوا اور کیس کو بند کر دیا۔ باہر عمر کی گاڑی کے سٹارٹ ہونے کی آواز آرہی تھی، وہ کھڑکی کی طرف بڑھ آئی۔ بند کھڑکیوں سے اس نے عمر کی گاڑی کو گیٹ سے باہر نکلتے دیکھا۔
وہ اس شخص کو کبھی بھی نہیں سمجھ سکتی تھی۔ وہ اس شخص کو کبھی سمجھنا چاہتی بھی نہیں تھی۔
٭٭٭
جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔