Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 58

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 58
۔۔۔۔۔
باب 52

اخبار دیکھتے ہوئے عمر کے ماتھے پر بل پڑ گئے، اخبار کے صفحے پر نظریں جمائے ہوئے اس نے انٹر کام کا ریسیور اٹھایا۔
”لاہور اس نمبر پر کال ملاؤ۔”
اس نے اپنے آپریٹر کو نانو کا نمبر دیتے ہوئے کہا۔ ریسیور وہیں رکھتے ہوئے اس کے چہرے پر الجھن تھی۔
”آخر گرینی نے اس شادی کو ملتوی کیوں کیا ہے؟ کیا پرابلم ہے۔” وہ ایک بار پھر اخبار دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی آفس پہنچا تھا اور اخبارات پر سر سری سی نظر ڈالتے ہوئے اس نوٹس پر اس کی نظر پڑ گئی۔ یکے بعد دیگرے اس نے چاروں اخبارات کو دیکھ لیا۔ چاروں میں ہی وہ نوٹس موجود تھا۔ اس کا پچھلے کئی دنوں سے نانو کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ خود جنید کے ساتھ بھی اس کا رابطہ ہوئے کچھ دن گزر گئے تھے۔
فون کی بیل بجی، عمر نے فون اٹھا لیا۔
”سر ! بات کریں” آپریٹر نے کال ملاتے ہوئے کہا۔
چند لمحوں کے بعد دوسری طرف سے نانو کی آواز سنائی دی تھی۔ ”ہیلو ۔۔۔”
”ہیلو گرینی …میں عمر بول رہا ہوں۔” عمر نے کہا۔
”ہاں عمر …کیسے ہو تم؟” نانو کی آواز میں کچھ حیرت تھی۔
”میں بھی ٹھیک ہوں …تم لاہور میں ہو؟”
”نہیں لاہور میں نہیں ہوں۔”
”تو پھر اتنی صبح صبح کیسے کال کر لیا؟” نانو نے بالآخر اپنی حیرت کا اظہار کر ہی دیا۔
”میں ابھی ابھی آفس آیا تھا اور اخبار دیکھ رہا تھا۔ اخبار میں آپ کا نوٹس دیکھ کر آپ کو فون کیا ہے۔”
”اخبار میں آپ کا نوٹس پڑھا ہے۔”
”میرا نوٹس ۔۔۔” وہ ششدر رہ گئیں۔ “کیسا نوٹس؟”
”آپ نے اخبار میں کوئی نوٹس نہیں دیا؟” اب حیران ہونے کی باری عمر کی تھی۔
”نہیں میں نے تو کوئی نوٹس نہیں دیا۔ تم کس نوٹس کی بات کر رہے ہو؟”
عمر ان کے جواب پر الجھ گیا۔ گرینی سارے بڑے نیوز پیپرز میں آپ کے نام سے ایک نوٹس ہے۔ علیزہ کی شادی کے التوا کے بارے میں ۔۔۔”
”تم کیسی فضول باتیں کر رہے ہو۔”
”گرینی ! میں کوئی فضول بات نہیں کر رہا۔ نوٹس دیکھ کر آپ سے بات کر رہا ہوں۔ اس میں لکھا ہوا ہے کہ علیزہ کی 25 مارچ کو ہونے والی شادی آپ نے کچھ نا گزیر وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دی ہے ۔۔۔” عمر نے نوٹس پر ایک نظر ڈال کر اخبار ٹیبل پر پھینک دیا۔
”میرے خدا …تم کیا کہہ رہے ہو …میں کیوں اس کی شادی کینسل کروں گی۔” نانو کی آواز سے ان کی پریشانی کا اندازہ ہو رہا تھا۔ ”کون سے اخبار میں ہے یہ نوٹس؟”
”چاروں بڑے نیوز پیپرز میں …میں نے چاروں نیوز پیپرز منگوا کر دیکھے ہیں۔ آپ نے اب تک اخبار نہیں دیکھا؟”
”نہیں میں نے اخبار نہیں دیکھا …میں تو ابھی تمہارے فون پر ہی اٹھی ہوں۔” نانو نے کہا۔
”ثمینہ امریکہ سے آئی تھی رات کو …ہم لوگ دیر سے سوئے۔ اسی لئے صبح جلدی نہیں اٹھی۔”
”پھر آپ اخبار منگوائیں۔” عمر نے انہیں ہدایت کی۔
”تم ہولڈ کرو ذرا ۔۔۔” انہوں نے کہتے ہوئے فون رکھ دیا۔ اپنے کمرے سے نکل کر وہ باہر لاؤنج میں گئیں۔ ملازم صفائی کرنے میں مصروف تھا نانو نے متلاشی نظروں سے لاؤنج میں ادھر ادھر دیکھا اور پھر سینٹر ٹیبل پر پڑے ہوئے اخبار کو اٹھا لیا۔ اضطراب کے عالم میں پہلا صفحہ پلٹتے ہی وہ نوٹس ان کی نظروں کے سامنے آ گیا تھا۔ وہ جیسے دھک سے رہ گئی تھیں۔ تیز قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی وہ واپس اپنے کمرے میں آئیں اور انہوں نے ریسیور اٹھا لیا۔
”ہاں عمر میں نے وہ نوٹس دیکھ لیا ہے مگر میں نے وہ نوٹس نہیں دیا۔” انہوں نے پریشانی کے عالم میں کہا۔
”تو پھر کس نے دیا ہے؟”

”میں کیا کہہ سکتی ہوں۔ علیزہ کی شادی کے لئے تو ثمینہ بھی کل پاکستان آ گئی ہے تو کیا اب ہم اس طرح کے نوٹس دیں گے۔” انہوں نے تیزی سے کہا۔ ”کسی نے ہمارے ساتھ شرارت کی ہے۔” انہوں نے ایک نظر اس نوٹس پر ڈالتے ہوئے غصے اور پریشانی سے کہا۔
عمر سنجیدگی سے ان کی بات سنتا رہا۔ ”نہیں گرینی ! یہ شرارت نہیں ہو سکتی …کوئی اخبار بھی اتنا غیر ذمہ دار نہیں ہو سکتا کہ کسی تصدیق کے بغیر نوٹس شائع کر دے۔ کہیں یہ نوٹس علیزہ نے تو شائع نہیں کروایا۔” اسے اچانک خیال آیا۔
”علیزہ نے …؟ نہیں، علیزہ کیوں کروائے گی۔” نانو نے کہا۔
”وہ اس وقت کہاں ہے؟” عمر نے پوچھا۔ ”وہ سو رہی ہے۔ میں نے تمہیں بتایا تھا نا کہ رات کو ہم سب لوگ دیر سے سوئے ہیں میں اسے جگا کر اس نوٹس کے بارے میں پوچھتی ہوں۔” انہوں نے کہا۔
”نہیں آپ فی الحال اسے مت جگائیں۔ میں چند منٹوں میں آپ کو دوبارہ فون کر کے بتاتا ہوں کہ یہ نوٹس کس نے شائع کروایا ہے۔”
عمر نے ان سے کہا اور پھر فون بند کر دیا۔ فون بند کرتے ہی اس نے اپنے پی اے کو اندر بلایا۔
”خالد ! یہ ایک نوٹس شائع ہوا ہے ان تینوں چاروں اخباروں میں …تم ان میں سے کسی اخبار کے آفس میں فون کر کے پتا کرو کہ یہ نوٹس کس نے شائع کرنے کے لئے دیا تھا۔ ان لوگوں نے یقیناً اس کے شناختی کارڈ کا نمبر یا اس کی فوٹو کاپی بھی لی ہو گی۔ تم ذرا مجھے یہ پتا کروا دو …اور دس منٹ کے اندر اندر۔” اس نے اپنے پی اے کو یہ ہدایات دیں، وہ اخبار لے کر باہر نکل گیا۔
عمر کچھ الجھن کے عالم میں اپنی کرسی کو گھماتا رہا۔ ٹھیک دس منٹ کے بعد پی اے دوبارہ اندر داخل ہوا۔
”سر ! یہ ایک خاتون نے دیا تھا۔ ان کا نام علیزہ سکندر ہے۔”
عمر نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”بس ٹھیک ہے اب تم جاؤ۔” وہ اب دوبارہ فون اٹھا رہا تھا اور اس بار اس کے چہرے پر پہلے سے زیادہ تشویش تھی، آپریٹر نے چند منٹوں میں ایک بار پھر کال ملا دی۔ نانو اس کی کال کی منتظر تھیں۔
”ہاں عمر !” انہوں نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
”کچھ پتا چلا؟”
”گرینی ! یہ علیزہ سکندر کی طرف سے دیا گیا ہے۔”
نانو کچھ نہیں بول سکیں۔ ”علیزہ کی طرف سے؟” چند لمحوں کے بعد انہوں نے بے یقینی سے کہا۔
”اس نے آپ سے ایسی کوئی بات کی تھی؟”
”نہیں …اس نے مجھ سے ایسا کچھ بھی نہیں کہا۔ وہ تو شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔”
”جنید کے ساتھ اس کا کوئی جھگڑا تو نہیں ہوا؟”
”ہاں …دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا تو ہوا ہے۔”
وہ چونک گیا۔ ”کب؟”
”پرسوں۔”
”پرسوں …وہ اس کے ساتھ شاپنگ کے لئے گئی ہوئی تھی۔ پھر رات کو واپس آئی تو بہت چپ چپ تھی۔ جنید سے مجھے پتا چلا کہ وہ اس سے ناراض تھی۔” نانو نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
”مگر کل تو وہ جھگڑا ختم ہو گیا تھا۔ اس نے جنید کو فون کیا تھا۔ دونوں کے درمیان بات ہوئی تھی،” نانو اب الجھ رہی تھیں۔
”آپ نے جنید سے یا علیزہ سے جھگڑے کی وجہ پوچھی؟”
”میں نے جنید سے تو نہیں پوچھی مگر علیزہ سے پوچھی تھی لیکن اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔” نانو نے کہا۔
”میں اسے جگا کر پوچھتی ہوں کہ یہ کیا حرکت ہے آخر اس نے یہ کیوں طے کر لیا ہے کہ اس نے ہمیشہ مجھے پریشان ہی کرتے رہنا ہے۔” نانو کو اب اس پر غصہ آنے لگا تھا۔
”گرینی ! آپ اسے اٹھائیں ضرور مگر جھڑکنے کے بجائے اسے سمجھانے کی کوشش کریں، بلکہ پھوپھو سے کہیں کہ وہ اسے سمجھائیں …زیادہ برا بھلا مت کہیں۔” عمر نے ان سے کہا۔
”جتنا مجھے اس لڑکی نے پریشان کیا ہے، کسی نے نہیں کیا۔ اسے اندازہ ہی نہیں کہ اس کی اس بچگانہ حرکت کے کتنے برے نتائج نکل سکتے ہیں۔ جنید کی فیملی کیا سوچے گی ہمارے بارے میں …اور خود علیزہ کے بارے میں۔” نانو کو تشویش ہو رہی تھی۔
”اب تک یقیناً وہ بھی اس نوٹس کو دیکھ چکے ہوں گے۔ تم خود سوچو کہ میں ان کا سامنا کیسے کروں گی۔”
”آپ جنید کی فیملی کے بارے میں پریشان نہ ہوں …میں انہیں ابھی فون کرتا ہوں،میں انہیں سمجھا لوں گا۔ ان کی طرف سے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ وہ بہت اچھے لوگ ہیں۔” عمر نے نانو کی پریشانی کم کرنے کی کوشش کی۔
”لیکن ابھی جو کالوں کا تانتا بندھ جائے گا پورے خاندان کی طرف سے تو اس کا میں کیا کروں گی؟”
”آپ صرف یہ کہہ دیں کہ شادی ایک ماہ آگے کر دی گئی ہے۔ اگلی ڈیٹ کے بارے میں انہیں بعد میں بتا دیا جائے گا۔” عمر نے انہیں مشورہ دیتے ہوئے کہا۔
”اور وہ وجہ پوچھیں گے تو؟”
”گرینی ! کوئی بھی وجہ بتا دیں۔ لوگوں کے پاس اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ تصدیق کرتے پھریں۔” عمر نے قدرے جھنجھلا کر کہا۔
”اور جو ایاز اور میرے دوسرے بیٹے فون کر کے پوچھیں گے ان سے میں کیا کہوں …ان سے تو میں جھوٹ نہیں بول سکتی۔”
”پہلے آپ علیزہ کو جگا کر اس سے بات کریں۔ پھر یہ سوچیں کہ آپ کو کس سے کیا کہنا ہے؟” عمر نے کہا۔
”میں اب جنید کو فون کر رہا ہوں …تا کہ اسے بھی کچھ تسلی دے سکوں اگر اس نے یا اس کے گھر والوں نے یہ خبر پڑھ لی ہے تو وہ بھی بہت پریشان ہوں گے اس وقت۔”
عمر نے بات ختم کرتے ہوئے خدا حافظ کہا اور پھر فون رکھ دیا۔


جنید گیراج سے گاڑی نکالنے کے بعد اندر آیا تھا، جب اس نے اپنے موبائل کی بیپ سنی۔ دوسری طرف عمر تھا جنید کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ بھی نوٹس پڑھ چکا ہو گا۔ رسمی علیک سلیک کے بعد جنید نے چھوٹتے ہی اس سے پوچھا۔ ”نانو نے شادی کو ملتوی کیوں کیا ہے؟” وہ عمر اور علیزہ کی طرح انہیں نانو ہی کہتا تھا۔
”گرینی نے ایسا نہیں کیا۔”
”تو پھر کس نے کیا ہے؟” جنید نے حیران ہو کر پوچھا۔
”علیزہ نے۔”
جنید کچھ بول نہیں سکا عمر کو اس پر یکدم اس طرح چھا جانے والی خاموشی کچھ عجیب لگی۔
”اس نے ایسا کیوں کیا ہے؟” جنید نے کچھ دیر بعد مدھم آواز میں کہا۔
”یہی تو میں تم سے جاننا چاہتا ہوں۔”
”میں تمہیں کیا بتا سکتا ہوں، تم اس سے پوچھو۔”
”میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں…تم دونوں کا کوئی جھگڑا ہوا تھا؟” عمر نے براہ راست موضوع پر آتے ہوئے کہا۔
”عمر ! میرا اس سے کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔ صرف پرسوں میں نے اسے یہ بات بتا دی تھی کہ تم میرے بہت پرانے دوست ہو۔”

”کیا؟” عمر بے اختیار چلایا۔
”ہاں میں نے اسے یہ بات بتا دی۔”
”اور کیا بتایا ہے تم نے اسے؟”
”میں نے اس کے دل سے تمہارے خلاف غلط فہمیاں نکالنے کی کوشش کی، وہ تمہیں اپنا دشمن سمجھ رہی تھی۔ میں نے اس سے یہ کہا کہ میری اور اس کی شادی طے کروانے میں بھی تمہارا ہاتھ ہے اور اگر تم اس کے دشمن ہوتے تو تم ایسا کیوں کرتے۔”
”تم دنیا کے سب سے احمق انسان ہو۔” عمر نے غصے کے عالم میں اس کی بات کاٹی۔
”تمہیں اس طرح کی فضول باتیں کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”
”فضول باتیں؟ یہ کوئی فضول بات تو نہیں ہے۔ میں نے اسے تھوڑے سے حقائق بتانے کی کوشش کی تھی۔” جنید نے کہنا چاہا۔
”تم اپنے حقائق اپنے پاس رکھا کرو…جب تم سے میں نے کہا تھا کہ تم اس سے میرے بارے میں کبھی کوئی بات مت کرنا تو پھر تمہارا دماغ کیوں خراب ہو گیا تھا۔”
”عمر! ساری عمر یہ جھوٹ نہیں چل سکتا تھا، اسے شادی کے بعد بھی تو پتا چلنا ہی تھا۔”
”بعد کی بات اور تھی…اور ضروری نہیں ہے کہ بعد میں بھی اسے بتایا جاتا اور ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد اس کی ناراضی ختم ہو جاتی۔” عمر نے ناراضی کے عالم میں اس سے کہا۔
”مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس قدر ناراض ہو سکتی ہے۔” جنید نے شکست خوردہ انداز میں کہا۔
” مجھے تھا اسی لیے میں نے تمہیں منع کیا تھا مگر تمہیں تو کوئی پروا نہیں ہوتی کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔”
”بہرحال اب تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔ جو کچھ ہو چکا ہے، وہ ہو چکا ہے۔” جنید نے کہا۔
”تمہارے گھر میں پتا چل گیا ہے اس نوٹس کے بارے میں؟”
”ظاہر ہے…امی نے صبح اخبار میں پڑھا تھا۔”
”کیاری ایکشن ہے ان کا؟”
”بہت پریشان ہیں۔ انہوں نے بابا کو بھی بتا دیا ہے، ہم لوگ ابھی نانو کی طرف ہی جا رہے ہیں۔” جنید نے اس سے کہا ”اور میں نے انہیں ابھی تک اس نوٹس کی وجہ نہیں بتائی۔ وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ مجھے اس نوٹس کی وجہ کا کچھ پتا نہیں اور نہ ہی میرا اور علیزہ کا کوئی اختلاف ہوا ہے۔”
”جنید! تم ان سے کہو کہ ابھی وہ گرینی کی طرف نہ جائیں۔” عمر نے کہا۔ ”میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے گرینی سے بات کی ہے۔ علیزہ اس وقت سو رہی تھی۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ پہلے علیزہ کی امی سے بات کریں اور پھر علیزہ سے بات کریں اگر ابھی تم لوگ وہاں چلے گئے تو معاملہ زیادہ بگڑے گا۔ تم ان سے کہو، وہ ابھی وہاں نہ جائیں۔”
”لیکن میں انہیں کیا کہہ کر روکوں۔ تمہارا ریفرنس دے کر روکوں؟”
”ہاں تم کہہ دینا کہ تمہاری مجھ سے بات ہوئی ہے۔ میں گرینی سے کہتا ہوں کہ وہ خود آنٹی کو فون کریں لیکن ابھی کچھ دیر کے بعد…فوری طور پر نہیں۔” عمر نے اسے ہدایت دی۔
”ٹھیک ہے میں امی سے بات کرتا ہوں۔” جنید نے اسے کہا۔ پہلے کی نسبت وہ اب کچھ مطمئن نظر آ رہا تھا۔
”بس میں پھر ابھی کچھ دیر بعد تمہیں رنگ کروں گا۔ اگر اس نوٹس کی وجہ سے کوئی کالز تمہارے گھر آئیں تو تم آنٹی سے کہو کہ وہ یہی کہیں کہ شادی اگلے مہینے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ کوئی بھی وجوہات ہو سکتی ہیں۔” اس نے فون بند کرتے کرتے کہا۔
”اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے…سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اس نے غصے میں آکر یہ قدم اٹھا لیا ہے۔ تھوڑا سمجھائیں گے تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا۔” وہ اب علیزہ کا دفاع کر رہا تھا۔
”اور پھر اس میں زیادہ قصور خود تمہارا ہے جب تمہیں ایک بار میں نے منع کیا تھا تو پھر تمہیں اس طرح کی بات کرنی ہی نہیں چاہیے تھی۔ نہ تم ایسی بات کرتے نہ وہ غصے میں آکر اس طرح کی حرکت کرتی۔ بہرحال میں تم سے کانٹیکٹ میں ہوں۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔”
اس نے خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا۔ جنید کو تسلی دینے کے باوجود خود وہ زیادہ مطمئن نہیں تھا۔ یہ ایسی صورت حال تھی جس کا اس نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ اسے سب سے زیادہ شرمندگی جنید اور اس کی فیملی سے محسوس ہو رہی تھی۔ کم ازکم ان کا ایسا کوئی قصور نہیں تھا کہ وہ اس طرح کی پریشانی کا سامنا کرتے۔ جنید کی فیملی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ جنید عمر کے کہنے پر علیزہ سے شادی کر رہا تھا۔ ان کا یہی خیال تھا کہ جنید کو وہ پسند آگئی تھی اس لیے وہ اس سے شادی کرنا چاہ رہا تھا۔ ورنہ شاید اس وقت عمر کی پوزیشن زیادہ خراب ہوتی مگر وہ جنید کے سامنے خفت محسوس کر رہا تھا۔
کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے ہونٹ بھینچے وہ بہت دیر تک اس ساری صورتحال کے بارے میں سوچتا رہا، آخر وہ جنید کو کس طرح اس پریشانی سے نکال سکتا تھا۔ جس کا شکار وہ درحقیقت عمر کی وجہ سے ہوا تھا۔
٭٭٭
”آپ کو بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں۔” دستک کی آواز پر علیزہ نے دروازہ کھولا۔ ملازم کھڑا تھا۔
”تم جاؤ میں آرہی ہوں۔” اس نے مڑ کر وال کلاک پر ایک نظر ڈالی، آج اسے اٹھنے میں واقعی دیر ہو گئی تھی۔
پندرہ منٹ بعد جب وہ لاؤنج میں آئی تو اس نے نانو اور ممی کو وہاں بیٹھے دیکھا، وہ بے حد متفکر نظر آرہی تھیں۔ ایک لمحہ کے لیے علیزہ کی ان سے نظریں ملیں پھر وہ ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی جہاں ناشتہ لگا ہوا تھا۔ ممی اخبار اٹھا کر اس کی طرف آگئیں۔
”یہ کیا حرکت ہے علیزہ؟”
”کون سی حرکت؟” اس نے ڈبل روٹی پر جیم لگاتے ہوئے کہا۔ وہ اس وقت تک ان دونوں کی وہاں موجودگی اور ان کے چہروں پر نظر آنے والی تشویش کی وجہ جان چکی تھی۔
”یہ نوٹس…جو تم نے شائع کروایا ہے۔” ثمینہ اخبار اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے خود بھی ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئیں۔ علیزہ نے نوٹس پڑھنے کے بجائے اخبار کو ہاتھ سے ایک طرف کر دیا اور سلائس پر جیم لگانا جاری رکھا۔
”اپنی شادی کینسل کر دی ہے تم نے؟” ثمینہ نے اس بار قدرے تیز آواز میں کہا۔
”اور تمہاری اتنی جرأت کیسے ہوئی کہ تم میرا نام استعمال کرکے اس طرح کے نوٹس دو۔ اپنے نام سے دیتیں یہ نوٹس۔۔۔” اس بار نانو بھی غصے کے عالم میں اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل کے پاس آگئیں۔
علیزہ پر ان کے غصے کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ”میں اپنے نام سے یہ نوٹس دے سکتی تھی مگر اس پر آپ کو یہ اعتراض ہوتا کہ میں اتنی دیدہ دلیر ہو گئی ہوں کہ اپنے نام سے ایسے نوٹس دیتی پھر رہی ہوں۔” اس نے اطمینان سے سلائس کھاتے ہوئے کہا۔
”آخر تم نے اس طرح کی حرکت کیوں کی ہے؟” ثمینہ نے اس بار کچھ بے چارگی سے کہا۔
”صرف اس لیے کیونکہ میں اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔”
”یہ سب تمہیں اب یاد آیا ہے جب شادی میں دو ہفتے رہ گئے ہیں۔ پہلے بتانا چاہیے تھا تمہیں کہ تم اس شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتیں۔” نانو نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ ”اور یہ شادی تم سے پوچھ کر طے کی گئی تھی…تمہارے سر پر تھوپا تو نہیں گیا تھا جنید کو…رشتہ طے ہونے سے پہلے ملتی رہی ہو تم…جب مطمئن ہو گئیں تب یہ رشتہ طے کیا گیا بلکہ میں نے تم سے اس وقت بھی یہ کہا تھا کہ اگر تمہیں کوئی اور پسند ہے تو مجھے بتا دو۔ ہم تمہاری شادی وہاں طے کر دیں گے۔ اس وقت تمہیں جنید پر کوئی اعتراض نہیں تھا اور اب تم کہہ رہی ہو کہ تم اس سے شادی نہیں کرنا چاہتیں؟” نانو رکے بغیر بولتی رہیں۔
”آخر تم نے یہ کیوں طے کر لیا ہے کہ تم ہمیشہ مجھے اور دوسروں کو پریشان کرتی رہو گی؟”
”میں کسی کو پریشان نہیں کر رہی۔ شادی میرا ذاتی معاملہ ہے، اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کا مکمل حق ہے۔” اس بار علیزہ نے ہلکی سی ترشی کے ساتھ کہا۔
”اس حق کو اس طرح استعمال کرنا تھا تمہیں۔”
”ممی مجھے بات کرنے دیں اس سے۔” اس بار ثمینہ نے نانو کو روکا۔ ”تمہیں اندازہ ہے کہ تمہاری اس حرکت سے ہمارے اور جنید کے گھر والوں پر کس طرح کا اثر ہوگا۔” ثمینہ نے تلخی سے کہا۔
”لوگ کس طرح کی باتیں کریں گے۔۔۔” علیزہ نے ہاتھ اٹھا کر انہیں بات کرنے سے روکا۔ ”اوہ کم آن ممی…ہم کسی مڈل کلاس فیملی سے تعلق نہیں رکھتے کہ میری اس حرکت سے ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔” اس نے ناگواری سے کہا۔
”ہماری فیملی میں اتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو کوئی مائنڈ نہیں کرتا۔ کیا نہیں ہو جاتا ہمارے طبقے میں اور آپ ایک معمولی بات پر اس طرح مجھے ملامت کرنے بیٹھ گئی ہیں۔” اس نے اب اپنا سلائس پلیٹ میں رکھ دیا۔
”ویسے بھی تو اتنی طلاقیں ہوتی رہتی ہیں اگر میں نے صرف منگنی توڑ دی ہے تو اس میں کون سی بڑی بات ہو گئی ۔ ”علیزہ! منگنی توڑنے کا بھی ایک وقت، ایک طریقہ ہوتا ہے…جس طرح تم۔۔۔”
علیزہ نے ایک بار پھر ثمینہ کی بات کاٹ دی ”میں آپ سے کہتی کہ میری منگنی توڑ دیں تو آپ توڑ دیتے؟ بالکل نہیں آپ اس وقت بھی یہی سب کچھ کہہ رہے ہوتے۔”
”آخر تمہیں ایک دم کس چیز نے مجبور کیا ہے کہ تم اتنا بڑا قدم اٹھا رہی ہو۔۔۔” اس بار نانو نے کہا۔
”کوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی۔ میں احمق تو ہوں نہیں کہ صرف ایڈونچر کے لیے ایسی حرکت کروں۔”
”وہی وجہ پوچھ رہی ہوں۔”
”نانو! آپ وجہ ہیں۔” نانو اس کی بات پر ہکا بکا ہو گئیں۔
”میں وجہ ہوں؟” انہوں نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔

”ہاں آپ وجہ ہیں…جنہوں نے ہمیشہ مجھے پانچ سال کی بچی کے علاوہ اور کچھ سمجھا ہی نہیں” علیزہ نے تلخی سے کہا۔
”تم۔۔۔” علیزہ نے ان کی بات کاٹ دی۔
”آپ نے عادت بنا لی ہے کہ مجھ سے ہر بات میں جھوٹ بولیں گی۔ ہر معاملے میں مجھے اندھیرے میں رکھیں گی…شاید آپ کا خیال ہے کہ میں اس قابل ہی نہیں ہوں کہ حقیقت سے مجھے آگاہ کر دیا جائے۔”
”تم کس قسم کی باتیں کر رہی ہو؟” نانو نے اس بار گڑبڑاتے ہوئے کہا۔
”میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ اگر صبر کا کوئی پیمانہ ہے تو میرا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ کم از کم اب آپ لوگ مجھے اپنے طریقے سے زندگی گزارنے دیں۔ اپنی انگلیوں پرکٹھ پتلی کی طرح باندھ کر مجھے نچانے کی کوشش مت کریں۔”
”علیزہ! تم آخر کہنا کیا چاہتی ہو؟”
”میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ نے مجھ سے یہ بات کیوں چھپائی کہ جنید عمر کا دوست ہے؟” نانو دم بخودرہ گئیں۔
”اور عمر نے آپ سے میری اور اس کی شادی کروانے کے لیے کہا ہے۔ جب آپ جانتی تھیں کہ میں عمر کو کس حد تک ناپسند کرتی ہوں تو پھر آپ نے مجھے جنید کے معاملے میں دھوکے میں کیوں رکھا۔”
اس کی ناراضی میں اب اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
”میں اس آدمی کی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتی اور آپ مجھے اس کے بیسٹ فرینڈ کے پلے باندھ رہی ہیں…اور وہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر۔” وہ رکے بغیر کہتی گئی۔ ”آپ ہمیشہ یہ ظاہر کرتی رہیں کہ جنید اور اس کی فیملی کو آپ پہلے کبھی جانتی ہی نہیں تھیں جبکہ آپ ان سے اچھی طرح واقف تھیں۔ میں سوچتی تھی کہ جنید کتنی جلدی آپ سے اتنا بے تکلف ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ بے تکلفی تو کئی سالوں کی تھی۔”
”علیزہ ! تمہیں یہ سب کچھ کس نے بتایا ہے؟ یقیناً کسی نے تمہیں گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔” نانو نے کچھ دیر بعد اس شاک سے سنبھلتے ہوئے کہنے کی کوشش کی۔
”مجھے یہ سب کچھ خود جنید نے بتایا ہے…اس نے مجھے گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب بھی اس کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں تو کہہ دیں۔ ہو سکتا ہے مجھے ہی ہمیشہ کی طرح کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔”
”عمر نے مجھے جنید سے تمہاری شادی کے لیے مجبور نہیں کیا تھا۔” نانو نے مدافعانہ انداز میں کہنا شروع کیا انہیں اندازہ تھا کہ علیزہ اب ان کی ہر بات کو شبہ کی نظر سے دیکھے گی۔ ”اس نے صرف مجھ سے یہ کہا تھا کہ میں تمہیں جنید سے ملواؤں…اگر تم لوگوں کے درمیان کچھ انڈر سٹینڈنگ ہوئی تو پھر اس رشتہ کو طے کیا جا سکے مگر مجبور نہیں کیا۔” نانو بولتی رہیں۔ ”جنید ہر لحاظ سے ایک اچھا لڑکا تھا۔ نہ صرف وہ خود بلکہ اس کی فیملی بھی…میں واقعی اسے بہت سالوں سے جانتی تھی اس لیے میں عمر کو انکار نہیں کر سکی…تم پر یہ بات ظاہر نہیں کی گئی تھی مگر شادی کے سلسلہ میں تم پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ تم سے یہ نہیں کہا گیا کہ تم صرف جنید سے ہی شادی کرو…اور کسی کے ساتھ نہیں کر سکتیں۔ میں نے انتخاب کا حق تمہیں دیا تھا اور تم نے خود جنید کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔”
”مگر میں یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ عمر کا انتخاب ہے۔” علیزہ نے کہا۔
”اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔”
”فرق پڑتا ہے…آپ کو نہیں پڑتا…مگر مجھے فرق پڑتا ہے اور آپ نے اس ایک سال کے عرصے میں ایک بار بھی مجھے یہ بتانے کی کوشش نہیں کی کہ۔۔۔”
نانو نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”تمہیں بتانے سے کیا ہوتا۔ تم اس وقت بھی یہی کرتیں جو تم اب کر رہی ہو۔”
”ہاں میں اس وقت بھی یہی کرتی جو میں اب کر رہی ہوں۔” علیزہ نے غصے سے کہا۔ ”آخر میں ایک ایسے آدمی سے شادی کیوں کروں جو مجھ سے کسی دوسرے کے کہنے پر شادی کر رہا ہے…آپ کو یہ پتا ہے کہ وہ مجھ سے صرف عمر کے کہنے پر شادی کر رہا ہے۔”
”علیزہ! ایسی بات نہیں ہے…کوئی کسی کے کہنے پر کسی سے شادی نہیں کرتا۔” اس بار ثمینہ نے ایک لمبی خاموشی کے بعد مداخلت کی۔
”اس نے مجھے خود یہ بتایا ہے کہ وہ مجھ سے عمر کے کہنے پر شادی کر رہا ہے اور عمر کے کہنے پر وہ مجھ سے ہی نہیں کسی سے بھی شادی کر سکتا تھا۔”
”اس نے ویسے ہی کہہ دیا ہوگا…جنید جیسا لڑکا اس طرح کسی کے کہنے پر کہیں بھی شادی کرنے والوں میں سے نہیں…تمہیں تو اب تک اس کی نیچر کا پتا چل جانا چاہیے۔”
”مجھے ہر چیز کا پتا چل چکا ہے…میں نے اسی لیے یہ فیصلہ کیا ہے…مجھے عمر کے کسی دوست سے شادی نہیں کرنی۔”
”مگر اس میں عمر کا قصور ہے۔ جنید کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔”
”کیوں قصور نہیں ہے…وہ بھی برابر کا قصوروار ہے، اس نے بھی مجھ سے جھوٹ بولا تھا۔”
”اور اس کے گھر والے…انہوں نے کیا کیا ہے؟”
”مجھے اس کے گھر والوں کی پرواہ نہیں ہے۔” علیزہ نے دھڑلے سے کہا۔
”شرم آنی چاہیے تمہیں۔ تم اس کے گھر اتنا آتی جاتی رہی ہو اور اب تم کہہ رہی ہو کہ تمہیں ان کی پروا نہیں ہے۔” نانو نے اسے جھڑکا۔
”تم اور کسی کا نہیں تو میرا ہی احساس کر لو…میں اپنے شوہر کو کیا منہ دکھاؤں گی…وہ ایک ہفتے تک یہاں آرہے ہیں…اور تم۔۔۔”
علیزہ نے ثمینہ کی بات کاٹ دی۔ ”ممی! آپ کے شوہر آپ کا مسئلہ ہیں…مجھے پروا نہیں ہے کہ وہ آپ کے یا میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ جہاں تک ان کے پاکستان آنے کا تعلق ہے۔ آپ انہیں فون پر آنے سے منع کر دیں۔ انہیں بتا دیں کہ شادی کینسل ہو گئی ہے۔” علیزہ نے دوٹوک انداز میں کہا۔
”اور وجہ…وجہ کیا بتاؤں میں انہیں؟” ثمینہ نے سلگتے ہوئے کہا۔

”جو مرضی بتا دیں۔”
”علیزہ…علیزہ…! آخر کیا ہو گیا ہے تمہیں…تم اتنی ضدی تو کبھی بھی نہیں تھیں۔” اس بار نانو نے بے چارگی سے کہا۔
”ہاں میں نہیں تھی…مگر اب ہو گئی ہوں۔” اس نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔
”ابھی تمہارے انکلز کے فون آنے لگیں گے ۔ میں کس کس کو کیا کہوں گی…ایاز کا تمہیں پتا ہے وہ۔۔۔” نانو نے کچھ کہنے کی کوشش کی۔
”مجھے ایاز انکل یا کسی بھی دوسرے انکل کی کوئی پروا نہیں ہے۔ یہ میری زندگی ہے، جو چاہوں اس کے ساتھ کروں۔” وہ ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
ثمینہ نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ ”تم ایک بار اپنے فیصلے پر پھر سوچو…تم بہت بڑی غلطی کر رہی ہو۔”
”مجھے پتا ہے…مگر میں پھر بھی یہ غلطی کرنا چاہتی ہوں۔” وہ دوٹوک انداز میں کہتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل چھوڑ کر چلی گئی۔
”ممی! آپ نے اس کی کیسی تربیت کی ہے؟” ثمینہ نے اس کے اٹھتے ہی اپنی ماں سے کہا۔
”تم میری پریشانی میں اپنے الزامات سے اضافہ مت کرو۔ اس کی تربیت صرف میرا فرض نہیں تھا۔ اتنے سالوں میں تمہیں بھی کبھی اس کی تھوڑی بہت خبر لے لینی چاہیے تھی۔ اس کے باپ کی طرح تم بھی ہر ذمہ داری مجھ پر چھوڑ کر بیٹھ گئیں۔” نانو نے تلخی سے کہا۔
”ممی ! آپ کا خیال ہے کہ میں نے اس کا خیال نہیں رکھا۔ اتنی باقاعدگی سے میں فون پر اس سے رابطے میں رہی…کئی بار میں نے چھٹیوں میں اسے اپنے پاس رکھا۔ ہر ماہ میں باقاعدگی سے اس کے لیے پیسے بھجواتی رہی اور آپ کہہ رہی ہیں کہ میں نے ہر ذمہ داری آپ پر چھوڑ دی۔”
”یہ سارے کام تو سکندر بھی کرتا رہا۔ پھر تو وہ بھی اتنا ہی اچھا باپ ہوا جتنی اچھی تم ماں ہو۔”
”ممی پلیز! مجھ پر طنز مت کریں۔” ثمینہ نے سکندر کے نام پر انہیں ٹوکا۔
”تو پھر تم مجھے کیوں مورد الزام ٹھہرا رہی ہو؟”
”میں کسی کو الزام نہیں دے رہی۔ میں صرف اس کا رویہ دیکھ کر پریشان ہو گئی ہوں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس طرح ضدی ہو گئی ہے…پہلے تو۔۔۔”
”مجھے خود بھی نہیں پتا کہ وہ پچھلے پانچ چھ سالوں میں کیوں اس طرح کی ہو گئی ہے…یہ ضد اس میں پہلے نہیں تھی…نہ ہی اتنی خود سر تھی یہ مگر بس…جب سے معاذ کا انتقال ہوا یہ تو بالکل بدل گئی۔ معاذ تھے تو پھر بھی اور بات تھی…انہیں اس کو ہینڈ ل کرنا آتا تھا…ان کے بعد تو مجھے بہت دقت ہونے لگی…یہ اپنے خاندان پر اس قدر تنقید کرتی ہے۔ شاید یہ اخبار میں کام کرنے کی وجہ سے بھی ہوا ہے۔ پتا نہیں کون کون سی بکواس ہے جو اس تک پہنچتی رہتی ہے۔” نانو نے سر پکڑتے ہوئے کہا۔
”اور اب جو یہ نیا شوشہ چھوڑا ہے۔”
”ممی مجھے یہ بتائیں کہ یہ بات نہیں مانے گی تو کیا ہوگا…کتنی بدنامی ہو گی ساری فیملی میں میری۔۔۔” ثمینہ اب روہانسی ہونے لگیں۔
”میں عمر سے بات کرتی ہوں…وہ یہاں آئے۔” نانو اپنی کرسی سے اٹھنے لگیں۔
”وہ کس لیے آئے؟” ثمینہ حیران ہوئی۔
”وہ آکر اس سے بات کرے۔ سمجھائے اسے۔”
”عمر کی بات سنے گی یہ؟” ثمینہ نے بے یقینی سے کہا۔ ”عمر کی وجہ سے ہی تو اس نے یہ سب کیا ہے…آپ کے سامنے کہا ہے اس نے کہ وہ عمر کی شکل تک دیکھنے پر تیار نہیں ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ عمر کو بلائیں گی وہ بات کرے گا اس سے۔”
”بس وہی بات کر سکتا ہے…وہی سمجھا سکتا ہے اسے۔۔۔” نانو نے فون کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
”ممی! عمر کو اتنا ناپسند کیوں کرتی ہے یہ…کئی سال پہلے تو اس کی زبان پر عمر کے علاوہ اور کسی کا نام ہی نہیں ہوتا تھا…آپ خود کہتی تھیں کہ عمر سے اس کی بڑی دوستی تھی…پھر آخر ہوا کیا؟”
نانو نے مڑ کر ثمینہ کو دیکھا۔ ”علیزہ عمر سے شادی کرنا چاہتی تھی۔”
”کیا؟” ثمینہ ہکا بکا رہ گئیں۔ ”آپ تو ابھی کہہ رہی تھیں کہ اسے کوئی پسند نہیں تھا۔”
”عمر کے علاوہ اور کوئی پسند نہیں تھا۔” نانو نے فون کا ریسیو اٹھائے ہوئے ثمینہ کے جملے کی تصحیح کی۔ ثمینہ بے تابی سے اٹھ کر ان کے پاس آ گئیں۔
” تو ممی! پھر آپ نے عمر سے اس کی شادی کیوں کروانے کی کوشش نہیں کی؟”
”میں نے بہت کوشش کی تھی…میں نے عمر سے بات کی تھی…اس نے انکار کر دیا۔”
”کیوں؟” ثمینہ بے اختیار چلائیں۔

”وہ اپنے بہترین دوست سے اس کی شادی کروا سکتا ہے۔ خود کیوں نہیں کر سکتا…آپ ہی تو کہتی رہیں۔ وہ علیزہ کا بہت خیال رکھتا ہے۔”
نانو کی آنکھوں میں نمی جھلکنے لگی۔ ”صرف خیال نہیں رکھتا…وہ اس سے محبت کرتا ہے۔” انہوں نے مدھم آواز میں کہا۔
”پھر…ممی پھر انکار کیوں کیا اس نے ؟”
”اس نے کہا کہ میں فیملی مین نہیں ہوں۔ میں اچھا دوست بن سکتا ہوں، مگر اچھا شوہر یا اچھا باپ مجھے بننا نہیں آتا…میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے اس کی زندگی خراب ہو۔ میرے جیسے ٹمپرامنٹ کے آدمی کے ساتھ وہ نہیں رہ سکے گی۔ دو نامکمل انسان مل کر ایک مکمل زندگی نہیں گزار سکتے نہ کوئی پرفیکٹ فیملی بنا سکتے ہیں اور میں علیزہ یا عمر جیسے کوئی اور بچے نہیں چاہتا۔ وہ زندگی میں بہت کچھ deserve کرتی ہے…اچھا شوہر، محبت کرنے والا خاندان، بچے، سکون…بہت کچھ…اور یہ سب کچھ جنید اس کو دے سکتا ہے میں نہیں…کیونکہ میری طرح جنید کی شخصیتParadoxes کے بلاکس سے مل کر نہیں بنی…میں نے اس سے کہا تھا وہ تم سے محبت کرتی ہے۔ اس نے کہا آج کرتی ہے کل نہیں کرے گی، میرے ساتھ کچھ سال گزارنے کے بعد وہ اسی تنہائی کا شکار ہو جائے گی جس تنہائی کا شکار وہ آپ کے گھر میں ہے۔ میں جس فیلڈ میں ہوں اس میں تو میں اسے وقت تک نہیں دے سکوں گا…اور پھر میری جاب میں مجھے بہت سے ایسے کام کرنے ہوتے ہیں جو اسے ناپسند ہیں…میں نہیں چاہتا وقت گزرنے کے ساتھ وہ اور میں اپنے اس رشتے یا تعلق پر پچھتائیں…میں نے اسے بہت سمجھایا تھا میں نے اس سے کہا تھا جہاں محبت ہو وہاں کمپرومائز ہو جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ میں صرف محبت چاہتا ہوں کمپرومائز نہیں۔ میں نے ہر رشتے میں کمپرومائز دیکھا ہے مگر میں اپنے اور علیزہ کے رشتے میں کمپرومائز نہیں دیکھ سکوں گا…اور میں جانتا ہوں میں اس سے شادی کروں گا تو یہی سب کچھ ہوگا۔
میں کسی دوسری عورت کے ساتھ اگر کمپرومائز کی زندگی بھی گزاروں گا تو مجھے وہ تکلیف نہیں ہوگی، جو مجھے علیزہ کے ساتھ ایسی زندگی گزار کر ہو گی…کسی دوسری عورت کی تکلیف دیکھ کر مجھے کوئی احساس جرم نہیں ہو گا…مگر علیزہ میری وجہ سے اگر اسے کوئی تکلیف پہنچے گی تو میں خود کو معاف نہیں کر سکوں گا…پچھتاوے کے ساتھ جینا مجھ جیسے آدمی کے لیے بہت مشکل ہے گرینی۔۔۔” اس نے مجھ سے کہا تھا۔” میں اسے اور کیا سمجھاتی کیا کہتی…پھر میں نے علیزہ سے وہی کہا جو وہ کہلوانا چاہتا تھا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کہ عمر اس سے محبت نہیں کرتا اس کے نزدیک وہ صرف ایک دوست ایک کزن ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔”
نانو افسردگی کے عالم میں کہہ رہی تھیں۔
”علیزہ کو اس کی باتوں سے شاک لگا تھا۔ شاید اسے لاشعوری طور پر یہ یقین تھا کہ عمر بھی اس سے محبت کرتا تھا مگر…بس پھر ان دونوں کے درمیان پہلے جیسی کوئی بات نہیں رہی…کچھ واقعات بھی ایسے ہی ہوئے کہ عمر سے اس کی ناراضی بڑھتی گئی۔”
”پھر آپ کو کبھی بھی جنید کے ساتھ اس کی شادی کی کوشش نہیں کرنی چاہیے تھی۔ کبھی بھی نہیں۔ علیزہ کو جب بھی یہ پتا چلتا کہ جنید عمر کا دوست ہے وہ تو اسی طرح مشتعل ہوتی…ممی! آخر آپ نے اس کی فیلنگز کو سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔” ثمینہ نے احتجاجی انداز میں کہا۔
”مجھے اس کے لیے جنید سے موزوں کوئی اور لگا ہی نہیں…خود علیزہ کو بھی وہ بہت اچھا لگا تھا اور پچھلے ایک سال میں ان دونوں کے درمیان چند ایک اختلافات کے باوجود بہت زیادہ انڈر سٹینڈنگ ڈویلپ ہو گئی تھی…علیزہ اس کے گھر آتی جاتی رہی ہے وہ ان لوگوں کے ساتھ ذہنی طور پر ایڈجسٹ ہو چکی تھی نہ صرف یہ بلکہ میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ بہت خوش رہتی ہے…میں نے اس کی خوشی اور سکون کے لیے ہی سب کچھ کیا ہے…وہ لوگ ہم سے بہت اچھے اور بہتر ہیں…ان کا ماحول بہت اچھا ہے۔ علیزہ کو ضرورت تھی ایسے لوگوں کی…کہیں اور شادی کرنے کی کوشش کرتی تو میرے پاس کیا آپشن ہوتے…ہر لڑکا جنید جیسی نیچر اور عادتوں کا مالک نہیں ہوتا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ جتنا کیئرنگ ہے، علیزہ اس کے ساتھ بہت خوش رہے گی…صرف اس لیے میں نے جنید کو دوسرے لوگوں پر ترجیح دی۔”
ثمینہ نے اس بار کچھ نہیں کہا، وہ الجھی ہوئی صوفہ کی طرف بڑھ گئیں۔ نانو عمر کو کال کرنے لگیں۔
”ممی !” ثمینہ نے یکدم انہیں مخاطب کیا۔ نانو نے گردن موڑ کر انہیں دیکھا۔
”کیا آپ ایک بار پھر عمر سے بات نہیں کر سکتیں؟” ثمینہ نے کچھ عجیب سے لہجے میں ان سے کہا۔
”میں اسی سے بات کرنے کے لیے اسے فون کر رہی ہوں۔” نانو نے کہا۔ وہ ایک بار پھر نمبر ڈائل کرنے لگیں۔
”ممی میں اس معاملے کی بات نہیں کر رہی۔”
”تو پھر؟” نانو ایک بار پھر فون کرتے کرتے رک گئیں۔
”کیا آپ عمر سے ایک بار پھر علیزہ کی شادی کی بات نہیں کر سکتیں؟”
”تم کیا کہہ رہی ہو ثمینہ؟”
”ممی ! آپ ایک بار پھر عمر سے بات کریں…اسے یہاں بلائیں۔ اس بار میں بھی اس سے بات کروں گی، ہو سکتا ہے مان جائے۔ اگر علیزہ اس سے محبت کرتی تھی…اب نہیں کرتی…اب وہ جنید سے محبت کرتی ہے۔”
”نہیں وہ جنید سے محبت نہیں کرتی۔ اگر اسے جنید سے محبت ہوتی تو وہ کبھی بھی اس طرح شادی نہ کرنے کا فیصلہ نہ کرتی…وہ یہ فیصلہ کر ہی نہ سکتی…اسے اب بھی عمر سے محبت ہے اور یہ بات آپ اور عمر بھی اچھی طرح جانتے ہیں، پھر کیوں اس کی زندگی کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔” ثمینہ نے کہا۔
”اور جنید…اس کا کیا ہوگا…اگر ایسا ممکن ہو بھی جائے تو اس کا کیا ہو گا تم اس کی تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہو؟”
”ممی! مجھے اس کی تکلیف کی کوئی پروا اور کوئی دلچسپی نہیں ہے مجھے صرف اپنی بیٹی کی پروا ہے…مجھے جنید سے ہمدردی ہے مگر…اگر علیزہ اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی تو بہتر ہے وہ اس کے ساتھ نہ رہے۔” ثمینہ نے قدرے خود غرضی اور شاید صاف گوئی سے کہا۔

”وہ دونوں ایک ساتھ بہت خوش رہیں گے ثمینہ۔”
”نہیں وہ دونوں ایک ساتھ خوش نہیں رہیں گے اگر آپ عمر سے بات نہیں کریں گی تو میں خود عمر سے بات کروں گی…اور اگر عمر میری بات پر رضا مند نہیں ہوا تو پھر میں جہانگیر سے بات کروں گی یا پھر میں ایاز بھائی سے بات کروں گی۔” ثمینہ نے دوٹوک انداز میں کہا۔
علیزہ جس وقت اپنے کمرے میں واپس آئی اس نے موبائل کو بجتے سنا۔ بیڈ کے پاس آکر اس نے موبائل کو اٹھا کر اس پر آنے والا نمبر دیکھا۔ وہ عمر جہانگیر کا نمبر تھا۔ اس نے بے اختیار اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔ کچھ دیر تک وہ ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھتی رہی پھر اس نے اسے آن کر دیا۔
”ہیلو علیزہ…کیسی ہو تم؟” دوسری طرف عمر کی آواز سنائی دی تھی۔
”بہت اچھی ہوں۔۔۔” علیزہ نے بڑی لاپروائی سے کہا۔ اسے خلاف معمول عمر کی آواز سن کر غصہ نہیں آیا تھا بلکہ یہ سوچ کر ایک عجیب سا اطمینان محسوس ہوا تھا کہ اب وہ پریشان ہوگا۔
”تم نے ایسا کیوں کیا ہے؟” وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولا۔
”بس ایسے ہی…دل چاہ رہا تھا کسی ایڈونچر کے لیے…تمہیں تو اچھی طرح پتا ہے کہ میں کتنی میچور ہوں۔”
”علیزہ ! میں مذاق نہیں کر رہا ہوں۔”
”مگر میں تو کر رہی ہوں۔”
”تمہیں اپنے اس فیصلے کی سنگینی کا احساس ہے؟” عمر نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
”بہت اچھی طرح۔” اس کے لہجے کا اطمینان عمر کو ڈسٹرب کر رہا تھا۔
”عمر جہانگیر ! میں تمہارے کسی ”Pet” (پالتو) کے ساتھ شادی کبھی نہیں کروں گی۔”
عمر کچھ بول نہیں سکا۔
”تمہیں مجھ پر اتنے احسان کرنے کا شوق کیوں ہے؟”
”علیزہ! میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا۔”
”تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارا بیسٹ فرینڈ مجھ سے شادی نہیں کرے گا تو دنیا میں کوئی بھی نہیں کرے گا؟”
”وہ صرف میرا بیسٹ فرینڈ نہیں ہے، وہ ایک بہترین انسان بھی ہے۔” عمر نے سنجیدگی سے کہا۔
”بہترین انسان؟ یا دھوکے باز انسان…؟ تمہارا ہر دوست تمہاری ہی طرح جھوٹا اور فراڈ ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے ۔” علیزہ نے اس بار قدرے تلخی سے کہا۔
”تم مجھے یہ بتا سکتی ہو کہ تمہارا غصہ کب ختم ہوگا تاکہ میں تم سے اس وقت بات کر سکوں۔” عمر نے اس کی بات کے جواب میں بڑے تحمل سے کہا۔
”مجھے اب کوئی غصہ نہیں ہے۔ میرا غصہ ختم ہو چکا ہے۔ میں اس وقت بہت پرسکون ہوں۔ تمہیں اندازہ نہیں ہو رہا؟”
”جنید کے ساتھ اس طرح کرکے تمہیں بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے؟”
”تمہارے دوست کے ساتھ ایسا کرکے مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔”
”علیزہ! وہ اب صرف میرا دوست نہیں ہے۔ تمہارا بھی کچھ تعلق ہے اس سے۔”
”تعلق تھا…اب نہیں ہے۔” اس نے قطعیت سے کہا۔
”اور یہ چیز میں نے تم سے سیکھی ہے۔ چٹکی بجاتے ہوئے ہر رشتے، ہر تعلق کو ختم کر دینا۔” وہ فون بند کر چکی تھی۔


”امی! ابھی آپ لوگ علیزہ کے گھر نہ جائیں۔”
عمر سے فون پر بات کرنے کے بعد جنید نے اندر آکر اپنی امی سے کہا۔
”کیوں؟” انہوں نے چونک کر پوچھا۔
”عمر نے ابھی مجھے فون کیا ہے۔”
”پھر؟”
”وہ چاہتا ہے کہ آپ لوگ ابھی وہاں نہ جائیں اس نے گرینی سے بات کی ہے۔ وہ ابھی کچھ دیر تک آپ کو کال کریں گی۔”
”مگر انہوں نے اس طرح اچانک شادی ملتوی کیوں کی ہے؟” عمر کے بابا نے پوچھا۔
”یہ تو میں نہیں جانتا۔”
”تم نے عمر سے نہیں پوچھا کہ شادی کیوں ملتوی کی گئی ہے؟”
”عمر کو پتا نہیں ہے۔”
”کیوں…؟” تم کہہ رہے ہو اس نے مسز معاذ سے ابھی کچھ دیر پہلے بات کی ہے۔” جنید چند لمحوں کے لیے کچھ نہیں بول سکا۔ پھر اس نے کچھ ہکلاتے ہوئے کہا۔
”ہاں…میں…اس نے پوچھا تو ہوگا مگر شاید گرینی نے اسے نہیں بتایا۔”
ابراہیم صاحب کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتے رہے۔ ”کب فون کریں گی مسز معاذ؟”
”وہ کہہ رہا تھا…کچھ دیر بعد۔” جنید نے موضوع بدلے جانے پر خدا کا شکر ادا کیا۔
”عمر یہاں لاہور میں ہے؟”
”نہیں بابا! وہ یہاں نہیں ہے۔”
”تو پھر صرف فون پر وہ مسز معاذ سے کیا بات کر سکتا ہے۔ یہ بہتر ہوتا کہ اگر ہم خود وہاں جا کر ان سے بات کر لیتے۔”
”بابا! عمر نے منع کیا ہے تو ضرور کوئی بات ہو گی۔ بہتر ہے ہم ابھی نہ جائیں…ہو سکتا ہے انہیں واقعی کوئی پرابلم پیش آگئی ہو۔”
”ہم لوگ اس پرابلم کے بارے میں ہی تو جاننا چاہتے ہیں…ہو سکتا ہے ہم اس سلسلے میں ان کی مدد کر سکیں۔”
”پھر بھی بابا! گرینی ابھی کچھ دیر میں فون تو کریں گی ہی…آپ ان سے فون پر بات کر سکتے ہیں…وہاں جانا اتنا ضروری تو نہیں ہے۔۔۔” جنید نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔
”اگر وہ کال کرنے والی ہیں تو بہتر ہے کہ ہم گھر پر ہی رہ کر ان کی کال کا انتظار کریں۔” اس بار امی نے مداخلت کی۔”اگر بات یہاں ہو جاتی ہے تو زیادہ بہتر ہے۔”
انہوں نے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے جنید کی طرف دیکھا۔ ”میں حیران ہوں جنید کہ اس طرح اچانک انہوں نے نوٹس کیوں شائع کروایا ہے…اگر واقعی کوئی سیریس مسئلہ نہیں ہے تو کم از کم مجھے ان کی یہ حرکت اچھی نہیں لگی۔ ہم سے پوچھے بغیر یا ہمیں بتائے بغیر انہیں اس طرح کا کوئی نوٹس نہیں دینا چاہیے تھا۔ معاذ حیدر جیسے خاندان سے میں اس طرح کی چیزوں کی توقع نہیں رکھتا تھا…مجھے بہت مایوسی ہوئی ہے۔”
جنید نے ان کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔ وہ اندازہ کر سکتا تھا کہ اس نوٹس سے انہیں کس طرح کی پریشانی ہو گی۔
”وہ لوگ اتنے غیر ذمہ دار نہیں ہیں…یقیناً کوئی ایسا مسئلہ ہوگا جس کے بارے میں وہ ہمیں نہیں بتا سکے ورنہ وہ اس طرح کبھی نہ کرتے…ہم تو پھر لڑکے والے ہیں…وہ تو لڑکی والے ہیں، انہیں یقیناً ہم سے زیادہ ان باتوں کا خیال ہوگا۔” جنید کی امی نے ابراہیم صاحب کی بات کے جواب میں کہا۔
”یہ تو ابھی تھوڑی دیر میں پتا چل جائے گا۔” وہ کہتے ہوئے جنید کی طرف متوجہ ہوئے۔
”تم چاہو تو آفس چلے جاؤ۔”
”نہیں ۔ آفس جا کر کیا کرے گا، وہاں بھی پریشان رہے گا…مسز معاذ کا فون آتا ہے اور سارا معاملہ سلجھ جائے تو پھر چلا جائے گا۔” جنید کی امی نے مداخلت کی۔
”میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں اگر ان کا فون آئے تو آپ مجھے بتا دیجئے گا۔” جنید نے واپس مڑتے ہوئے کہا۔
”جنید!” وہ دروازہ کھول رہا تھا جب ابراہیم نے اسے پکارا۔
وہ واپس مڑا ”جی بابا؟”
”کیا واقعی تم نہیں جانتے کہ یہ نوٹس ان لوگوں نے کیوں چھپوایا؟” ابراہیم بہت زیادہ سنجیدہ نظر آرہے تھے۔
”بابا! میں واقعی نہیں جانتا کہ یہ نوٹس انہوں نے کیوں چھپوایا ہے…ورنہ میں آپ سے کیوں چھپاتا۔” جنید کو اس طرح روانی سے جھوٹ بولنے پر بے تحاشا شرمندگی ہو رہی تھی مگر اس وقت اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
”ٹھیک ہے جاؤ۔” ابراہیم صاحب نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
جنید نے کمرے سے باہر نکل کر سکون کا سانس لیا۔ اب وہ دعا کر رہا تھا کہ اس کا جھوٹ افشا نہ ہو۔
٭٭٭
”ممی! اگر آپ مجھے سمجھانے آئی ہیں تو پلیز یہ کوشش نہ کریں۔” علیزہ نے ثمینہ کو اپنے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر کہا۔ ”میں پہلے ہی آپ کی خاصی نصیحتیں سن چکی ہوں۔”
اس کا اشارہ کچھ دیر پہلے لاؤنج میں ہونے والی گفتگو کی طرف تھا۔ وہ اس وقت اپنے بیڈ کی پشت کے ساتھ ٹیک لگائے ایک میگزین کھولے بیٹھی تھی۔
ثمینہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئیں ”نہیں۔ میں تمہیں سمجھانے نہیں آئی۔ تم جنید سے شادی نہیں کرنا چاہتیں تو نہ کرو۔”
علیزہ نے کچھ حیرانی سے ان کے چہرے کو دیکھا۔
”اگر تم اسے پسند نہیں کرتیں تو اس سے تمہاری شادی نہیں ہونی چاہیے۔” انہوں نے سکون سے کہا علیزہ خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔
”میں تمہاری ماں ہوں علیزہ ! مجھ سے زیادہ کسی کو تم سے محبت نہیں ہو سکتی۔” علیزہ اب بھی خاموش رہی۔
”لگتا ہے تمہیں میری بات کا یقین نہیں آیا؟” انہوں نے اس کا چہرہ دیکھا۔
”میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔” علیزہ نے ایک گہری سانس لی۔
”میں نے ابھی ممی سے بات کی تو مجھے پتا چلا۔”
”کس بارے میں؟”
”انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ تم عمر سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر عمر اس شادی پر رضامند نہیں ہوا۔ ” علیزہ سن ہو گئی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ نانو اس طرح اس بات کے بارے میں ثمینہ کو آگاہ کر دیں گی۔
”وہ میری زندگی کی سب سے بڑی حماقت تھی۔” وہ خود کلامی کے انداز میں بولی۔
”کیوں؟”
”اگر مجھے انسانوں کی ذرا بھی پرکھ ہوتی تو میں کم از کم عمر جیسے انسان کے ساتھ شادی کی کبھی خواہش نہ کرتی۔”
”میں ایسا نہیں سمجھتی علیزہ…میں جانتی ہوں۔ تم عمر سے محبت کرتی ہو۔” ثمینہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا ”ایسی دلچسپیاں اور پسندیدگیاں کبھی نہیں بدلتیں۔”
”میں اس سے محبت کرتی تھی۔” اس نے ”تھی” پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ”وہ شخص اس قابل ہی نہیں ہے کہ اس سے محبت کی جائے…وہ دنیا کے بدترین لوگوں میں سے ایک ہے۔”
ثمینہ نے خاموش ہو کر اسے غور سے دیکھا۔
”مگر میں یہ چاہتی ہوں کہ عمر سے تمہاری شادی کے بارے میں بات کروں۔” ثمینہ نے مستحکم انداز میں کہا۔ علیزہ کو ان کی بات پر کرنٹ لگا۔ اس کے ہاتھ سے میگزین چھوٹ گیا۔
”آپ مجھے دوبارہ بے عزت کرنا چاہتی ہیں۔ میرے لیے ایک دفعہ اس تذلیل اور تکلیف سے گزرنا کافی ہے…بار بار نہیں۔”
”علیزہ تم۔۔۔” ثمینہ نے کچھ کہنے کی کوشش کی علیزہ نے ان کی بات کاٹ دی۔
”ممی ! میں اس شخص سے اتنی نفرت کرتی ہوں کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں…میں نے صرف اس کی وجہ سے جنید کو چھوڑ دیا ہے…اور آپ چاہتی ہیں کہ میں خود اس سے شادی کر لوں…کبھی نہیں۔”
”کیوں …؟ تم اسے اتنا ناپسند کیوں کرتی ہو…اگر وہ پہلے تمہارے لیے اچھا تھا تو اب برا کیسے ہو گیا…اگر پہلے تم ممی کو اس سے اپنے پرپوزل کے لیے بات کرنے پر مجبور کر سکتی تھیں تو اب کیا ہو گیا ہے کہ میں اس سے اس معاملے پر دوبارہ بات نہیں کر سکتی۔” ثمینہ نے اس بار کچھ بلند آواز میں کہا۔
”میں آپ کو بتا چکی ہوں…اب سب کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔ میں قطعاً کسی صورت عمر سے شادی کرنا نہیں چاہتی…مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔”
”تمہیں عمر کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں جنید کی ضرورت نہیں ہے…تو پھر تمہیں آخر ضرورت کس کی ہے؟” اس بار ثمینہ نے کچھ غصے سے کہا۔
”مجھے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے…میں ہر چیز کے بغیر ہی بہت خوش ہوں۔”
ثمینہ اس کی بات پر ٹھٹھک گئیں۔ ”تمہارا اشارہ میری طرف ہے؟”
”میرا اشارہ ہر ایک کی ط?