Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 6
Rate this Novel
Episode 6
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 6
۔۔۔۔۔
باب 6
۔۔۔۔۔۔۔
“These are simply fantastic!”
اس دن وہ لاؤنج میں بیٹھی اپنی اسکیچ بک میں کرسٹی کا سکیچ بنا رہی تھی۔ بہت دیر تک اس کام میں مصروف رہنے کے بعد وہ اکتا گئی تھی۔ اسکیچ بک کو صوفہ پر رکھنے کے بعد وہ کچھ دیر تک کرسٹی کو سہلاتی رہی پھر اسے ہاتھ میں لے کر کھانے کی کوئی چیز لینے کچن میں چلی گئی۔ وہاں اسے دس پندرہ منٹ لگ گئے جب وہ دوبارہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو نہ صرف عمر وہاں موجود تھا بلکہ وہ صوفہ پر دراز ٹیبل پر اپنی ٹانگیں رکھے، ایک ہاتھ میں چائے کا مگ لئے دوسرے ہاتھ سے اس کی سکیچ بک دیکھنے میں مصروف تھا۔ قدموں کی آہٹ پر اس نے سر اٹھایا تھا علیزہ کو دیکھ کر مسکرایا تھا اور اس کے اسکیچز پر تبصرہ کیا تھا۔علیزہ کو اس کا اس طرح بغیر اجازت اپنی سکیچ بک دیکھنا اچھا نہ لگا تھا، مگر وہ خاموش رہی تھی۔
پلانٹس والے واقعہ کے بعد وہ آج پہلی بار اس سے بات کر رہا تھا۔ وہ چپ چاپ دوسرے صوفہ پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگی تھی۔
”علیزہ پینٹنگز میں دلچسپی ہے؟”
۔۔۔۔۔۔۔
اس نے گفتگو کا سلسلہ شروع کیاتھا۔ علیزہ نے ایک نظر اس کے چہرے پر دوڑائی۔
”اگر اسکیچز بنا لیتی ہو تو ظاہر ہے کہ پینٹنگ سے بھی دلچسپی ہو گی۔”
وہ دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گئی ،اور وہ غور سے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگا۔
”کون سی کلا س میں پڑھتی ہو؟”
”اے۔ لیولز”
جواب انتہائی مختصر تھا۔
”کہاں تک پڑھنے کا ارادہ ہے؟”
”پتہ نہیں!”
”کیوں؟”
وہ جواب میں کچھ نہیں بولی تھی۔
”تم فائن آرٹس میں کچھ کرنا۔”
”کیا؟”
”کچھ بھی مگر آرٹ سے متعلق ہو۔”
”کیوں؟”
”کیونکہ تم بہت اچھی آرٹسٹ بن سکتی ہو!”
”آپ مجھے مشورہ دے رہے ہیں۔ خود آرٹسٹ کیوں نہیں بنے؟”
ٹکڑا توڑ جواب آیاتھا۔ عمر جہانگیر بے اختیار مسکرایا۔ علیزہ کا چہرہ سپاٹ تھا۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
”آرٹسٹ بنتے نہیں ہیں، بنے بنائے ہوتے ہیں۔ آپ ڈاکٹر بن سکتے ہیں انجینئربن سکتے ہیں ، مگر آرٹسٹ بننا بہت مشکل ہوتا ہے۔ تم سے اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ تم میں ٹیلنٹ ہے۔ تم کچھ کر سکتی ہو اس فیلڈ میں۔”
اس سے بات کرتے ہوئے عمر نے اسکیچ بک بند کر کے علیزہ کی طرف بڑھا دی۔
”مجھے آرٹ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، چاہے وہ کیسا بھی آرٹ کیوں نہ ہو، نہ ہی میں آرٹ میں کچھ کر نا چاہتی ہوں۔ مجھے میتھس میں دلچسپی ہے، اور میں وہی پڑھوں گی۔”
اس نے اسکیچ بک پکڑتے ہوئے دو ٹوک انداز میں عمر سے کہا تھا۔
”ٹھیک ہے تم میتھس ہی پڑھ لینا، لیکن میرا ایک اسکیچ تو بنا سکتی ہو، کیوں علیزہ! میرا سکیچ بناؤ گی !”
”میں صرف ان ہی لوگوں کے اسکیچ بناتی ہوں جن کے چہرے مجھے اچھے لگتے ہیں۔”
۔۔۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گئی تھی ۔
”اس کا مطلب ہے۔ میرا چہرہ تمہیں اچھا نہیں لگا؟”
عمر نے اس سے پوچھا لیکن وہ خاموشی سے ٹی وی دیکھتی رہی۔
”میرا خیال تھاکہ میرا چہرہ اچھا خاصا ہے ویسے علیزہ میرے چہرے میں کیا defect ہے ، تم یہ بتا دو۔”
عمر جیسے اس کے ساتھ گفتگو کو انجوائے کر رہا تھا۔
”مجھے کیا پتہ ، بس مجھے آپ کا چہرہ اسکیچنگ کے لئے پسند نہیں ہے ۔”
”اور کرسٹی کا چہرہ پسند ہے؟”
علیزہ نے کچھ ناراضگی سے اس کی طرف دیکھا تھا۔ وہ چائے کا مگ ٹیبل پر رکھ کر اٹھ رہا تھا۔
”مجھے کوئی بھی چہرہ کرسٹی سے زیادہ اچھا نہیں لگتا، آپ اس طرح کرسٹی کی بات مت کریں۔۔۔”
اس نے کچھ بگڑ کر اس سے کہا تھا۔ ”سوری!”
علیزہ نے اس کی معذرت پر کوئی دھیان دیئے بغیر دوبارہ اپنی توجہ ٹی وی کی طرف مبذول کرلی تھی۔ وہ کچھ دیر وہا ں لاؤنج میں کھڑا رہا، اور پھروہاں سے باہر نکل گیا۔
باب 7
علیزہ نے اسکیچ مکمل کر لیا تھا۔ عمر جہانگیر کے اسکیچ کو اسکیچ بک سے نکالنے کے بعد وہ ایک بار پھر اٹھ کر اس کے کمرے میں آگئی تھی۔ لائٹ آن کرنے کے بعد وہ سٹڈی ٹیبل کی طرف گئی اور وہاں اسکیچ رکھنے کے بعد اس نے پیپر ویٹ اس کے اوپر رکھ دیا۔ وہ جانتی تھی عمر جہانگیر کے لئے یہ ایک خوشگوار سرپرائز ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔
یہ پہلا اسکیچ نہیں تھا جو اس نے عمر جہانگیر کے لئے تیار کیا تھا۔ پچھلے کئی سالوں میں ایسے کئی اسکیچز اس نے تیار کئے تھے۔ اس کا چہرہ ان چند چہروں میں سے تھا جو کسی بھی لمحہ ان کے ذہن سے غائب نہیں ہوتے تھے۔ بعض دفعہ جب وہ عمر کا کوئی بہت اچھا اسکیچ بنا لیتی تو اسے پوسٹ کر دیتی۔ جواب میں بعض دفعہ وہ شکریے کے طور پر کارڈ بھیج دیتا یا پھر فون کر لیتا۔ علیزہ کے لئے اتنا ہی کافی ہوتا تھا۔ اگر وہ یہ دونوں کام نہ بھی کرتا تو بھی شاید اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔وہ کچھ دیر وہیں کھڑی اسکیچ کو دیکھتی رہی پھر اس نے جھک کر اسکیچ کے نیچے ایک کونے میں کچھ لکھ دیا تھا۔ سیدھی ہو کر وہ مسکرائی تھی اور اس نے پین کو دوبارہ ہولڈر میں رکھ دیا تھا۔
باب 8
عمر اچانک بہت ریزرو ہو گیا تھا۔ باقی سب کی طرح یہ تبدیلی علیزہ نے بھی نوٹ کی تھی۔ وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں ہی رہتا اور جب کھانے کے لئے باہر آتا بھی تو خاموش ہی رہتا۔ نانو اور نانا کے ساتھ پہلے کی طرح ہنسی مذاق نہیں کرتا تھا۔
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو پہلے کی طرح ہی ہوں۔ بس ذرا پیپرز کی وجہ سے زیادہ مصروف ہو گیا ہوں۔”
اس دن رات کے کھانے پر نانو نے اس سے کہہ ہی دیا، اور جواب میں اس نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ وضاحت کر دی۔
”خاموشی تم پر سوٹ نہیں کرتی عمر !”
نانانے سویٹ ڈش لیتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیاتھا۔
”اچھا تو پھر کیا سوٹ کر تا ہے؟”
عمر نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا تھا۔
”تم ویسے ہی اچھے لگتے ہو ، جیسے پہلے تھے، ہنگامہ کرتے ہوئے ، قہقہے لگا تے ہوئے، شور مچاتے ہوئے۔”
نانو نے کہا تھا۔
”رہنے دیں گرینی! میں اب چوبیس سال کا ہوں ، آپ میری جو باتیں بیان کر رہی ہیں اس سے تو میں چھ سال کابچہ لگتا ہوں۔”
عمر نے ایک شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا، وہ اب سلاد کھا رہا تھا۔
”ہم لوگو ں کے لئے تم کبھی بھی چوبیس سال کے نہیں ہو گے، ہمیشہ چھ سال کے ہی رہو گے، اور ہم لوگ چاہیں گے کہ تم بھی خود کو چھ سال کا ہی سمجھو۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔
علیزہ نے بڑی سنجیدگی سے نظریں اٹھا کر نانو کو دیکھا ، وہ اپنے ساتھ کرسی پر بیٹھے ہوئے عمر کا گال چومتے ہوئے اس سے کہہ رہی تھیں۔ عمر نے نانو کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہاتھا، صرف خاموشی سے سلاد کھا رہا تھا۔
“نانو اور نانا کے بھی ڈبل اسٹینڈرڈز ہیں ، مجھے وہ کسی اور طرح سے ٹریٹ کرتے ہیں۔ عمر کو کسی اور طرح سے ۔ مجھے وہ کچھ اور طرح کا دیکھنا چاہتے ہیں اور عمر کو کسی اور طرح کا، اور پھر بھی نانو کہتی ہیں کہ ان کے لئے سب ایک جیسے ہیں۔ وہ سب سے ایک جتنا پیار کرتی ہیں۔ حالانکہ ایسا تو نہیں ہے۔ اب کیا عمر سے وہ میرے جتنا ہی پیار کرتی ہیں……بالکل بھی نہیں……میں ان کے پاس اتنے سالوں سے رہ رہی ہوں اور عمر……عمر کو آئے ہوئے تو چند ہفتے ہوئے ہیں اور …اور نانو نے کتنی آسانی سے اسے میری جگہ دے دی……حالانکہ عمرکو……عمر کو تو اس جگہ کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اسے نانا یا نانو کی محبت کی کیا پرواہ ہو سکتی ہے۔ اس کے پاس تو پہلے ہی سب کچھ ہے۔”
علیزہ کو نانو سے شکایت ہونے لگی تھی اور نانو سے بہت سی شکایتیں ہوتی رہتی تھیں، اور وہ کبھی بھی ان کا اظہار نہیں کرتی تھی۔ صرف اس کے دل میں ایک اور گرہ کا اضافہ ہو جاتا تھا۔
اس دن دوپہر سے کچھ پہلے وہ کرسٹی کو نہلا رہی تھی جب نانو نے ملازم کے ذریعے اسے لاؤنج میں بلوایا تھا۔
”علیزہ تمہارے پاپا کا فون ہے، وہ تم سے بات کرنا چاہ رہے ہیں۔”
اسے دیکھتے ہی نانو نے جو فون پر بات کر رہی تھیں ، ریسیور اس کی طرف بڑ ھادیا تھا۔
وہ بے اختیار خوش ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
”پاپا کا فو ن ہے؟”
اس نے کچھ بے یقینی سے کہا۔
عام طور پروہ دو یا تین ماہ بعد ایک بار اسے کال کرتے تھے،اور وہ بھی رات کے وقت، مگر اس بار ڈیڑھ ماہ کے بعد ہی دوسری کال کر لی تھی۔
”ہیلو ! علیزہ! کیسی ہو تم؟”
فون پر اس کی آواز سنتے ہی پاپا نے کہا تھا۔
” میں ٹھیک ہوں پاپا! آپ کیسے ہیں؟”
اس نے جواباً پوچھاتھا۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں، تم آسٹریلیا گئی ہوئی تھیں ؟”
انہوں نے پوچھاتھا۔
”ہاں پاپا! ایک ماہ رہ کر آئی ہوں ممی نے بلایا تھا۔”
اس نے کہاتھا۔
”سب لوگ ٹھیک ہیں وہاں؟”
”ہاں ! سب ٹھیک ہیں۔”
”انجوائے کیا وہاں؟”
”ہاں بس تھوڑا بہت۔”
”کتنی چھٹیاں رہ گئی ہیں باقی؟”
انہوں نے پوچھا۔
”بس ایک ہفتہ۔”
۔۔۔۔۔
”اچھا پھر ایسا کرو ایک ہفتہ کے لئے میرے پاس آ جاؤ۔”
”آپ کے پاس ، مسقط؟”
وہ حیران ہوئی تھی۔
”نہیں، مسقط نہیں، میں کراچی آیا ہوا ہوں۔”
”پاکستان آئے ہوئے ہیں ، کب آئے ہیں؟”
وہ بے اختیار خوش ہوئی تھی۔
”کافی دن ہو گئے ہیں ، میرا دل چاہ رہا ہے تمہیں دیکھنے کو۔”
”میرا دل بھی آپ کو دیکھنے کو چاہ رہا ہے۔”
” تو بس ٹھیک ہے۔ تم کل کرا چی آ جاؤ۔”
انہوں نے حتمی انداز میں کہاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”آپ نے نانو سے بات کر لی ؟”
اس نے حامی بھرنے سے پہلے ان سے پوچھا تھا۔
”ہاں ! میں نے انہیں بتا دیا ہے۔ ائیر پورٹ سے فون کر دینا۔ میں ڈرائیور بھیج دوں گا۔ گھر کا نمبر ہے نا پاس؟”
”یس پاپا۔”
”اور موبائل کا ؟”
”وہ بھی ہے!”
”بس ٹھیک ہے۔ اب تم سے کراچی میں ملاقا ت ہو گی خدا حافظ۔”
انہوں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا تھا۔
”پاپا!”
اس نے بڑی تیزی سے کہا تھا وہ فون بند کرتے کرتے رک گئے۔
”کیا بات ہے علیزہ!”
انہوں نے پوچھا تھا وہ چند لمحے خاموش رہی۔
”پاپا! میں آپ کو بہت مس کرتی ہوں۔”
اس نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہا تھا۔
”میں بھی تمہیں بہت مس کرتا ہوں علیزہ!”
دوسری طرف سے فون بند کر دیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔
” پھر تم جارہی ہو؟”
فون کا ریسیور کانوں سے ہٹاتے ہی نانو نے اس سے سوال کر دیا۔
”ہاں نانو!”
”میں تمہاری سیٹ بک کروا دیتی ہوں۔ کتنے دن رہو گی وہاں؟” نانو نے اس سے پوچھا تھا۔
”کم از کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ کا کوئی پتہ نہیں۔”
اس نے مسکراتے ہوئے کہاتھا۔
”لیکن ایک ہفتہ کے بعد تمہارا کالج بھی تو کھل رہا ہے!”
نانو نے جیسے اسے یاد دلایاتھا۔
”ہاں ! مجھے پتہ ہے لیکن نانو! کچھ نہیں ہوتا ، اگر میں کالج سے کچھ چھٹیاں بھی لے لوں۔ آپ کو تو پتہ ہے کہ میں کتنی دیر کے بعد پاپا سے مل رہی ہوں۔”
”لیکن تمہاری سٹڈیز کا حرج ہو گا۔”
”کچھ نہیں ہو گا نانو! میں واپس آنے کے بعد سب کچھ کور کر لوں گی۔ آپ جانتی ہیں مجھے یہ کرنے میں کوئی پرابلم نہیں ہو گا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اصرار کیاتھا۔
”ٹھیک ہے تم شہلا کو فون پر کالج میں Applicationدینے کے لئے کہہ دینا۔”
نانو اسے ہدایت دیتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
اس رات وہ بے تحاشا خوش تھی اور یہ خوشی کسی سے بھی چھپی نہیں رہ سکی تھی حتیٰ کہ عمر سے بھی۔ رات کے کھانے پر نانو نے نانا کو اس کے کراچی جانے کے بارے میں بتا دیا تھا۔ عمر نے اس وقت غور سے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ وہ آج پہلی بار کھانے کی ٹیبل پر مسکرا رہی تھی۔ نانا کچھ دیر اس سے اس کے پاپا کا حال احوال پوچھتے رہے۔ وہ بڑے جوش و خروش سے پروگرا م کے بارے میں بتاتی رہی۔رات کو وہ اپنا سامان پیک کر رہی تھی جب نانو اس کے کمرے میں آئی تھیں۔
”کل صبح نو بجے کی فلائٹ ہے، تم سات بجے تک تیا ر ہو جانا۔ میں نے عمر کو کہہ دیاہے وہ تمہیں ائیر پورٹ ڈراپ کر دے گا۔”
انہوں نے اسے اطلاع دیتے ہوئے کہاتھا۔
”عمر ڈراپ کرے گا، مگر عمر کیوں نانو؟ ڈرائیور کو کہیں نا!”
وہ کچھ سٹپٹائی تھی ۔
”ڈرائیور آج نہیں آیا ، مجھے نہیں پتہ کل بھی آتا ہے یا نہیں، ویسے بھی ڈرائیور ساڑھے آٹھ بجے آتا ہے اور تمہیں آٹھ بجے تک ائیر پورٹ پر پہنچ جانا چاہئے آج ڈرائیور آ جاتا تو میں اسے کل جلدی آنے کا کہہ دیتی۔”
”آپ نانا سے کہہ دیں نا مجھے ڈراپ کرنے کے لئے!”
اس نے پھر اصرار کیاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
”تمہارے نانا کو میں اتنی صبح کہاں اٹھاؤں ، تمہیں عمر کے ساتھ جانے میں کیا پرابلم ہے؟”
”نہیں، بس ویسے ہی!”
”کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بس وہی تمہیں صبح چھوڑنے جائے گا۔”
نانو نے حتمی طور پر کہاتھا۔
علیزہ نے ہونٹ بھینچ لئے تھے۔
” وہ تو صبح اٹھتے ہی نہیں ، تو پھر کل ۔۔۔۔۔”
نانو نے اس کی بات کاٹ دی تھی۔
”یہ تمہارا نہیں میرا پرابلم ہے، کل وہ اٹھ جائے گا اور نہیں بھی اٹھاتو میں اسے اٹھا دوں گی۔”
نانو کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئیں۔
اگلی صبح وہ بہت ایکسائٹیڈ تھی۔ اپنا بیگ لے کر جب وہ لاؤنج میں آئی تو وہاں عمر نہیں تھا۔
”تم بیٹھ کر ناشتہ کر لو۔”
نانو نے اسے دیکھتے ہی کہاتھا۔
”نہیں نانو ! مجھے کچھ بھی نہیں کھانا، بس آپ ملازم سے کہیں ، میرا بیگ گاڑی میں رکھ دے۔”
اس نے بیگ فرش پر رکھتے ہوئے کہاتھا۔
”کچھ کھائے پیئے بغیر گھر سے نکلنا ٹھیک نہیں ہے، ناشتہ کر لو۔”
”نانو ! مجھے بھوک نہیں ہے۔”
”بھوک ہے یا نہیں ، تمہیں کچھ نہ کچھ ضرور کھانا ہے۔”
”میں پلین میں کھا لوں گی۔”
”پلین میں پتہ نہیں کیا ملے اور کیا نہیں، بس تم یہیں کھاؤ۔”
نانو کی ضد برقرار تھی۔
”پلیز نانو ! میرا دل نہیں چاہ رہا بلیو می۔ میرا دل واقعی نہیں چاہ رہا۔ ”
وہ منمنائی تھی۔
”چلو یہ جوس ہی پی لو۔”
علیزہ نے کچھ سوچ کر جوس کا گلاس اٹھا لیاتھا۔
۔۔۔۔۔۔
نانو نے ملازم کو آواز دے کر بیگ گاڑی میں رکھنے کے لئے کہا تھا۔
”آپ دیکھ لیں کہ عمر ابھی تک نہیں آیا۔ میں نے آپ سے کہا تھا نا۔”
اس نے جوس کا گلاس خالی کرتے ہی کہا۔
”وہ ابھی تک سو رہا ہو گا۔ آپ نے خواہ مخواہ ہی اسے مجھے چھوڑنے کے لئے کہا۔”
علیزہ نے گھڑی دیکھی۔
”میں پتہ کرواتی ہوں ، سو بھی رہا ہو گا تو ملازم اٹھا دے گا۔ یہ کون سا اتنا بڑا پرابلم ہے۔”
نانو نے اطمینان سے کہاتھا۔ ملازم کو آواز دے کر انہوں نے اسے عمر کے کمرے میں بھیجاتھا۔ ملازم چند منٹوں میں ہی واپس آگیا تھا۔ عمر اس کے پیچھے تھا۔ اس کے حلیے سے لگ رہاتھا کہ وہ ابھی ابھی سو کر اٹھا ہے ، وہ نائٹ سوٹ اور سلیپرز میں ہی ملبوس تھا۔ نانو نے مسکراہٹ کے ساتھ اس کا استقبال کیاتھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
”تمہیں یاد نہیں رہا کہ تمہیں آج علیزہ کو ائیر پورٹ چھوڑنے جانا ہے؟”
نانو نے اس سے پوچھا۔
”مجھے جگانے کے لئے ، ملازم کو بھیجنا پڑا۔”
”نہیں ملازم کے جانے سے پہلے ہی اٹھا ہوا تھا۔ مجھے یاد تھا۔ میں الارم لگا کر سویا تھا۔”
”علیزہ نے سات بجے تیار ہو کر نیچے آنا تھا۔ میں نے سوچا ، پندرہ منٹ میں وہ بریک فاسٹ کرے گی۔ میں سات بج کر دس منٹ کا الارم لگا کر سویا اور پانچ منٹ میں یہاں ہوں۔”
اس نے انگلیوں سے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے بتایا۔ اس کی ہر چیز ہمیشہ کی طرح تھی۔ نانو اس کی بات کے اختتام پر کچھ فخریہ انداز میں علیزہ کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھیں۔ وہ کچھ کہے بغیر نظریں چرا گئی ۔
”چلیں علیزہ !”
عمر نے اس بار علیزہ سے پوچھا۔ وہ خاموشی سے کھڑی ہو گئی۔
”آؤ ،میں تمہیں باہر تک چھوڑ آتی ہوں۔”
نانو نے علیزہ کا ہاتھ پکڑ لیاتھا۔
عمر ان کے آگے چلتا ہوا باہر نکل آگیا۔ وہ گاڑی سٹارٹ کر رہا تھا جب نانو نے اسے گلے لگا کر خدا حافظ کہاتھا۔
”وہاں جاتے ہی مجھے رنگ کر لینا۔ مجھے تسلی ہو جائے گی۔”
انہوں نے علیزہ سے کہاتھا۔
”اور کوشش کرنا کہ جلدی آجاؤ۔”
علیزہ نے مسکرا کر سر ہلا دیاتھا۔
عمر نے فرنٹ ڈور کھول دیا تھا۔ علیزہ نے ایک بار پھر نانو کی طرف ہاتھ ہلایا ، اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ نانو وہیں پورچ میں کھڑی ہاتھ ہلاتی رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔
”بہت خوش ہو علیزہ !”
گاڑی سڑک پر لاتے ہی عمر نے اس سے پوچھاتھا۔
”ہاں!”
اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیاتھا۔
”تمہارے پاپا بھی بہت خوش ہوں گے؟”
”ظاہر ہے ، وہ تو مجھ سے بھی زیادہ خوش ہوں گے!”
اس نے فخریہ انداز میں کہاتھا۔
”وہاں ائیر پورٹ پر کون ریسیو کرے گا تمہیں؟”
عمر نے مرر ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا۔
”ظاہر ہے کہ ، پاپا ہی ریسیو کریں گے۔”
اس نے بے اختیار جھوٹ بولاتھا۔
”تمہارے پاپا کافی سال کے بعد آئے ہیں پاکستان؟”
اس نے پوچھا تھا۔
”ہاں! تین سال کے بعد۔”
”تم تین سال کے بعد مل رہی ہو؟”
”چار سال بعد!”
”ہر سال کیوں نہیں ملتیں؟”
”بس ویسے ہی، پاپا تو مجھے مسقط بلاتے رہتے ہیں مگر میرا دل نہیں چاہتا وہاں جانے کو۔ میں ممی کے پاس چلی جاتی ہوں، اس لئے کہ مسقط میں بہت گرمی ہوتی ہے۔ میں سوچتی ہوں شاید مجھے وہاں کا موسم سوٹ نہ کرے۔ مجھے اصل میں آسٹریلیا میں زیادہ مزہ آتا ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔
وہ یکے بعد دیگرے وضاحتیں کرتی جارہی تھی۔ عمر جہانگیر نے گردن موڑ کر چند لمحے اسے دیکھا تھا۔
”ہاں! واقعی آسٹریلیا میں رہنے میں زیادہ مزہ آتا ہے، میں بھی چند سال پہلے وہاں گیا تھا۔”
اس نے جیسے اس کے جھوٹ میں اس کی مدد کی۔
علیزہ نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا تھا، وہ ایک بار پھر ونڈ سکرین کی طرف متوجہ تھا۔ اس کا چہرہ بے تاثر اور پر سکون تھا۔ وہ کچھ مطمئن ہو گئی تھی۔
”ہاں ، آسٹریلیا میں زیادہ مزہ آتا ہے ، اس لئے میں وہیں جاتی ہوں۔”
اس نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی تھی۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھاگئی۔ رستے میں ایک فلاور شاپ پر اس نے گاڑی روک دی۔ کچھ کہے بغیر وہ گاڑی سے اتر گیاتھا۔ چند منٹ بعد جب اس کی واپسی ہوئی تو اس کے ہاتھ میں سفید للی Liliesکا بکے تھا۔ اس نے گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے علیزہ کی گود میں رکھ دیا۔ وہ حیران ہو گئی۔
”یہ تمہارے لئے ہے۔”
اس نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ کہاتھا۔
”مگر کس لئے؟”
”پھول دینے کے لئے کسی وجہ کی ضرورت تو نہیں ہوتی ہے۔ بغیر کسی وجہ کے بھی تو دئیے جا سکتے ہیں، اور میں تو ویسے بھی تمہیں بہت سے گفٹ دیتا رہتا ہوں۔ تم انہیں بھی گفٹ سمجھو۔”
اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا تھا، وہ کچھ دیر اس کا چہرہ ہی دیکھتی رہی۔
”تھینک یو!”
کچھ دیر کے بعد اس نے کہاتھا۔
”ویلکم!”
اس نے اسی پر سکون انداز میں کہا تھا۔
ائیر پورٹ پر گاڑی پارک کرنے کے بعد اس نے علیزہ کا بیگ اٹھا لیاتھا۔ علیزہ نے اس سے بیگ لینا چاہا۔
”اٹس آل رائٹ علیزہ ! میں تمہیں اندر چھوڑ آتا ہوں۔”
اس نے بیگ نہیں دیا تھا۔ علیزہ نے دوبارہ اصرار نہیں کیاتھا۔
”تم واپس کب آؤ گی؟”
اس کے ساتھ چلتے ہوئے اس نے پوچھا۔
”تقریباً ایک ہفتے کے بعد یا شاید کچھ دن زیادہ لگ جائیں۔”
اس نے اسے بتایاتھا۔
۔۔۔۔۔۔
”واپسی پر تمہیں ایک اور خوشخبری ملے گی۔”
اس نے سرسری سے انداز میں کہاتھا۔ علیزہ نے چونک کر اسے دیکھاتھا۔ وہ نارمل انداز میں مسکرایا تھا۔
”کیسی خوشخبری؟”
”یہ تو تمہیں واپسی پر ہی پتہ چلے گی!”
”پھر بھی آپ بتائیں تو سہی؟”
اس نے اصرار کیاتھا۔
”بس یہ تو تمہیں واپس آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔”
وہ ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔ علیزہ نے اس کی طرف دیکھ کر کندھے اچکا دئیے۔
بیگ اسے تھماتے ہوئے اس نے علیزہ کو خدا حافظ کہا تھا۔ وہ اندر جانے کے لئے مڑ گئی تھی۔
”علیزہ !”
اسے اپنے پیچھے اس کی آ واز سنائی دی تھی۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔
”I will miss you!”
اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اس نے انگلش میں کہا تھا۔ وہ کچھ حیرانی سے اسے دیکھتی ہوئی واپس مڑ گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔
