Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 2
Rate this Novel
Episode 2
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 2
۔۔۔۔۔
باب 2
وہ کار کا دروازہ کھول رہی تھی جب اس نے لاؤنج کا دروازہ کھول کر نانوکو باہر آتے دیکھا۔ شاید وہ کار کا ہارن سن کر باہر آئی تھیں۔ انہوں نے اسے دیکھ کر دور سے ہی بازو پھیلا دئیے۔ وہ مسکراتی ہوئی ان کے پاس جا کر لپٹ گئی۔
”اس بار میں نے تمہیں بہت مس کیا۔ ”
انہوں نے اس کے گال چومتے ہوئے کہاتھا۔
”میں نے بھی آپ لوگوں کو بہت مس کیانانو!”
ان کے ساتھ اندر لاؤنج کی طرف جاتے ہوئے اس نے کہاتھا۔
”میں جانتی ہوں۔ ”
انہوں نے بڑے پیار سے ساتھ چلتے ہوئے اسے اپنے کندھے سے لگا یا۔
”کیسا رہا تمہارا قیام ،انجوائے کیا؟”
”ہاں بہت انجوائے کیا۔ ”
”ثمینہ کیسی ہے ؟ پاکستان کب آ رہی ہے؟”
”ممی ٹھیک ہیں ابھی پاکستان آنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ شاید اگلے سال آئیں۔ ”
لاؤنج میں آکر اپنا بیگ صوفہ پر رکھتے ہوئے اس نے کہا۔
”چار سال ہو گئے ہیں اسے وہاں گئے ابھی بھی اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا آنے کو۔ ”
اس نے نانو کو بڑ بڑاتے ہوئے سنا تھا۔ وہ کچھ دیر ان کاچہرہ دیکھتی رہی۔
”وہ لوگ آسٹریلیا سے امریکہ شفٹ ہونے کا سوچ رہے ہیں۔ انکل کا کا نٹریکٹ ختم ہو رہا ہے اس سال۔ امریکہ کی کسی کمپنی کی آفر پر غور کر رہے ہیں۔ ممی کہہ رہی تھیں کہ اگلے سال اگر امریکہ سیٹل ہونے کا ارادہ کر لیا تو وہاں جانے سے پہلے پاکستان کا ایک چکر لگا کر جائیں گی۔ ”
اس نے جیسے نانو کو تسلی دینے کی کوشش کی تھی۔
”تمہارے باقی بہن بھائی کیسے ہیں ؟”
نانو نے جیسے اس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی۔
”بہت اچھے ہیں اب تو بہت بڑے ہو گئے ہیں۔ میں تصویریں لے کر آئی ہوں۔ آپ دیکھ لیجئے گا۔ ”
اس نے نظریں چراتے ہوئے جھک کر اپنے جاگرز کھولنے شروع کر دئیے تھے۔ نانو خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی تھیں۔
”تم پہلے سے کمزور ہو گئی ہو۔ ”
”ہاں شاید ، میں کچھ دن بیمار رہی تھی وہاں۔ پانی سوٹ نہیں کر رہا تھا۔ ”
ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے نانو کو بتایا تھا۔
”بیمار ہو گئی تھیں مگر تم نے مجھے تو نہیں بتایا۔ ثمینہ نے بھی فون پر ذکر نہیں کیا ۔ ”
نانو اٹھ کر تشویش بھرے انداز میں اس کے پاس آکر بیٹھ گئی تھیں۔
”میں نے منع کر دیا تھا۔ آپ خواہ مخواہ پریشان ہو جاتیں ،ویسے بھی زیادہ سیریس بات نہیں تھی۔ ”
اس نے لاپروائی سے کہا تھا۔
”پھر بھی تمہیں بتانا تو چاہیے تھا، اس طرح…؟”
”نانو ! پلیز میں ٹھیک ہوں۔ آپ خود دیکھ لیں کیا اب بیمارلگ رہی ہوں؟ ”
اس نے بات ٹالنے کی کوشش کر تے ہوئے کہا۔
”کرسٹی کہاں ہے۔ اسے یک دم جیسے یاد آ یاتھا۔
”سیڑھیوں کے نیچے سو رہی تھی۔ میں نے تم سے چائے کا بھی نہیں پوچھا ،میں ذرا تمہارے کھانے کے لئے کچھ کہہ کر آ تی ہوں..
نانو اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئیں۔ اس نے گہرا سانس لے کر صوفہ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ ایک ماہ بعد واپس آ کر اسے بہت سکون بہت طمانیت کا احساس ہو رہا تھا۔ یوں جیسے وہ گھر واپس آ گئی ہو۔ ہر چیز اسی طرح تھی۔ وہ اٹھ کر کھڑ کی کے پاس آئی۔مالی گھاس کاٹ رہا تھا۔ وہ کچھ دیر تک بے مقصد اسے دیکھتی رہی، پھر وہاں سے کوریڈور کی طرف آگئی تھی۔ کوریڈور کراس کرنے کے بعد اسے سیڑھیاں نظر آ ئیں۔ بے اختیار ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر نمودار ہو ئی گئی۔
”کرسٹی!”
اس نے بلند آواز میں پکارا۔
میاؤں کی آواز کے ساتھ ایک بلی سیڑھیوں کے نیچے نمودار ہوئی اور تیزی سے اس کی طرف لپکی۔ وہ گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھ گئی تھی۔ بلی سیدھی اس کے پاس آئی تھی اس نے اسے گود میں بٹھا لیا۔ چند منٹوں تک وہ اس کا سر اور جسم سہلاتی رہی پھر اس نے اسے ہاتھوں میں اٹھا کر اپنے چہرے کے پاس کیا تھا۔
”میں نے تمہیں بہت ،بہت ، بہت مس کیا۔ ”
اس نے اس سفید بلی سے یوں کہا تھا کہ جیسے وہ اس کی بات سمجھ رہی ہو۔
”تم نے مجھے یاد کیا ؟”
بلی نے میاؤں کی آواز کے ساتھ جیسے اس کی بات کا جواب دینے کی کوشش کی تھی۔
”ہاں میں جانتی ہوں تم نے بھی مجھے بہت مس کیا ہو گا۔ ”
وہ بلی کو اٹھا کر دوبارہ لاؤنج میں آ گئی۔ صوفہ پر بیٹھنے کے بعد اس نے بلی کو بھی اپنی گود میں بٹھا لیا اور بہت نرمی اور محبت سے اس کا جسم سہلانے لگی۔
”تو پہنچ گئی یہ تمہارے پاس۔ ”
نانو اس وقت کچن سے آئی تھیں وہ ان کی بات پر مسکرا ئی۔
”نہیں اس کو تو پتہ بھی نہیں چلا میں خود ہی لے کر آئی ہوں۔ نانا کہاں ہیں ،نانو!”
اسے بات کرتے کرتے اچانک یاد آ یا تھا۔
”وہ گھر پر ہی تھے ،تمہارا انتظار کر رہے تھے پھر اچانک جم خانہ سے فون آ گیا کوئی کام تھا وہاں۔ مجھ سے کہہ کر گئے تھے کہ تین، چار گھنٹوں تک آ جائیں گے۔ اب دیکھو کہ ان کے تین ، چار گھنٹے۔ تین ، چار ہی رہتے ہیں یا۔۔۔۔۔!”
نانو نے اس کے پاس صوفہ پر بیٹھتے ہوئے کہاتھا۔
”السلام علیکم !علیزہ بی بی ! کیسی ہیں آپ؟”
اسی وقت خانساماں چائے کی ٹرے لے کر آیا، اور اس نے آ تے ہی علیزہ کو مخاطب کیا تھا۔
”میں بالکل ٹھیک ہوں ،مرید بابا! آپ کیسے ہیں؟”
اس نے جواباً ان کا حا ل پوچھاتھا۔
”اللہ کا شکر ہے بی بی! اس بار تو آپ نے بہت دیر لگا دی واپس آتے آتے۔ ”
مرید بابا نے چائے کی ٹرے اس کے سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہاتھا۔
”ہاں کچھ زیادہ دن ہی لگ گئے مگر واپس تو آ گئی، مرید بابا!”
وہ ایک بار پھر مسکرائی تھی۔ خانساماں چائے رکھ کر واپس کچن کی طرف چلا گیا تھا۔ نانو نے اس کے لئے چائے بنانی شروع کی۔
”ارے ہاں میں نے تو تمہیں بتایا ہی نہیں عمر آیا ہوا ہے۔ ”
چائے کا کپ اسے تھماتے ہوئے نانو نے اچانک پر جوش آواز میں بتایا تھا۔
”عمر… ! وہ کب آیا؟ ”
وہ نانو کی بات پر حیران ہو گئی۔
”پچھلے ہفتے کا آیا ہوا ہے۔ ”
”اکیلا آیا ہے؟ ”
”ہاں اکیلا ہی آیا ہے۔ سی ایس ایس کے پیپرز دینے آیا ہے۔ ابھی یہیں رہے گا ایک دو ماہ۔ ”
”سی ایس ایس ؟ مگر وہ تو جاب کر رہا تھا ، لندن میں پھر یہ۔۔۔۔ ؟”
وہ الجھ کر رہ گئی تھی۔
”جاب چھوڑ دی ہے اس نے۔ کہہ رہا تھا وہ اپنے آپ کو سیٹ نہیں کرپا رہا تھا۔ وہاں بہت تکلیف دہ روٹین ہو گئی تھی۔ میرا خیال ہے جہانگیر نے اس طرف آنے پر مجبور کیا ہے۔ تمہیں پتہ ہے وہ شروع سے ہی دباؤ ڈال رہا ہے۔ پچھلی دفعہ وہ جب یہاں آیا تھا تو عمر کے بارے میں کافی فکر مند تھا۔ وہ کسی بھی کام میں مستقل مزاج نہیں ہے۔ ہر سال چھ ماہ بعد اس کی دلچسپیاں بدل جاتی ہیں اور ظاہر ہے آگے نکلنے کے لئے ٹک کر کام کر نا بہت ضروری ہے۔ تب بھی وہ عمر کو مجبور کر رہا تھا کہ وہ فارن سروس میں آ جائے۔ ابھی اچھی پوسٹ پر ہے جہانگیر وہ چاہتا ہے کہ بیٹا بھی فارن سروس میں آ جائے۔ تو اسے بھی اسٹیبلش کر دے گا۔”
نانو نے چائے پیتے ہوئے اسے تفصیل سے بتایا تھا۔
وہ چائے پیتے ہوئے ایک ہاتھ سے کرسٹی کے سرکو سہلاتے ہوئے ان کی بات سنتی رہی۔
”اس وقت کہاں ہے ؟”
ان کے بات ختم کرنے پر اس نے پوچھا تھا۔
”سو رہا ہے ابھی ، سونے کی روٹین تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انگلینڈ اور یہاں کے وقت میں بہت فرق ہے، اور اسے یہاں آ کر سونے کے اوقات میں کافی تبدیلی کرنی پڑ رہی ہے۔ اوپر سے آج کل گرمی بھی بہت ہے۔ کل باہر گیا تھا مارکیٹ کچھ چیزیں لانے کے لئے اور واپس آیا تو حالت خرا ب ہو رہی تھی۔ میں تو پہلے ڈر گئی کہ کہیں سن سٹروک ہی نہ ہو گیا ہو۔ مگر ڈاکٹر نے کہا کہ سب کچھ ٹھیک ہے بس ابھی ذرا باہر نکلنے میں احتیاط کرے۔ شام کو کہیں جا کر اسے کچھ ہوش آ یا، لیکن بہت زندہ دل ہے مجھ سے کہہ رہا تھا۔ میں پورا انگریز ہوتا تو یقیناً فوت ہو جاتا۔ تھوڑا بچ گیا ہوں تو یہاں کا ہونے کی وجہ سے، لگتا ہے گرمی نے پہچان لیا ہے مجھے، لگتا ہے کہ دوبارہ کوئی گڑ بڑ نہیں ہو گی۔ میں نے اس سے کہا کہ اتنا خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے بہتر ہے کہ وہ ڈاکٹر کے مشورہ کے مطابق ابھی باہر جانے سے پر ہیز ہی کرے۔ ضروری نہیں کہ اگر ایک بار سن سٹروک سے بچ گیا تو دوسری بار بھی بچ جائے گا۔
علیزہ قدرے عدم دلچسپی سے ان کی باتیں سنتی رہی۔ وہ مسلسل عمر کے بارے میں ہی بات کر رہی تھیں۔
”پتہ ہے تمہاری تصویریں دیکھ کر کیا کہہ رہا تھا۔ کہہ رہا تھا علیزہ پھوپھو کی کاربن کاپی ہے۔ میں نے کہا کہ تمہیں کیسے پتہ، تم کونسا ثمینہ کو اتنا دیکھتے رہے ہو یا علیزہ کو اچھی طرح دیکھ چکے ہو۔ اس کے لئے کسی کو ایک بار دیکھنا ہی کافی ہے۔ اصل میں دو سال پہلے وہ بھی آسٹریلیا گیا ہوا تھا،کچھ دوستوں کے ساتھ سیر وغیرہ کے لئے ، وہاں ثمینہ کے پاس بھی گیا تھا۔ بہت تعریف کر رہا تھا اس کی۔ مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا تم بھی اپنی ماں کی طرح باتونی ہو۔ میں نے کہا جب ملو گے تو خود ہی دیکھ لینا،کہ باتونی ہے یا نہیں۔ ابھی کچھ ہی دیر میں اٹھنے ہی والا ہو گا مل لینا اس سے۔ اسے بھی پتہ ہے کہ آج تم آ رہی ہو۔ ”
اسے ابھی بھی نانو کی باتوں میں کوئی دلچسپی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ کوئی بھی جواب دئیے بغیر وہ خاموشی سے چائے پیتی رہی۔
”ممی نے آپ کے لئے کچھ گفٹس بھجوائے ہیں ،ابھی نکال دوں یا پھر کل؟ ”
اس نے ان کی باتوں کے جواب میں کہا تھا۔
”ابھی سامان مت کھولو ،تم تھکی ہو ئی ہوگی ،آرام کرو۔ کل میں خود تمہارے ساتھ سامان کھلواؤں گی۔ پھر دیکھ لوں گی۔ ”
نانو نے اس سے کہا تھا۔ چائے پینے کے بعد نانو نے آرام کرنے کے لئے کہا تھا، اور وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی اور کپڑے تبدیل کئے بغیر ہی بستر پر لیٹ کر سو گئی۔
عمر جہانگیر اس کے لئے کوئی نیا نام نہیں تھا۔ وہ دو ، تین سال کے بعد اکثر چھٹیوں میں اپنے باپ اور فیملی کے ساتھ پاکستان آیا کرتا تھا، اور وہ وہیں ٹھہرا کرتا تھا اور ایسا پچھلے بہت سے سالوں سے ہو رہا تھا۔ مگر اس بار وہ تقریباً چھ سال کے بعد آ یا تھا، اور پہلی بار اس طرح اکیلا آیا تھا۔ علیزہ اور اس کے درمیان رسمی سی ہیلو ہائے تھی۔ اسے ہمیشہ ہی وہ بہت ریزرو لگا تھا۔ بچپن میں بھی وہ اس طرح کا بچہ نہیں تھا جو آ سانی سے دوسرے بچوں سے گھل مل جائے۔ خود علیزہ بھی اسی طرح تھی، اس لئے دونوں کے درمیان کبھی بے تکلفی نہیں ہوئی تھی۔ پھر کئی بار ایسا بھی ہو تا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ چھٹیاں گزارنے پاکستان آتا اور خود علیزہ اپنی ممی کے پاس آسٹریلیا چھٹیاں گزارنے چلی جاتی۔ اس لئے انہیں کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع نہ ملا تھا، اور اب بھی عمر جہانگیر کی آمد اس کے لئے کسی خاص خوشی کا باعث نہیں بنی تھی۔
اسے اندازہ نہیں ہوا،وہ کتنی دیر سوئی رہی تھی۔ جب دوبارہ بیدار ہوئی تو کمرے میں اندھیرا پھیلا ہو تھا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہو ئی رسٹ واچ ہاتھ میں لے کر ٹائم دیکھنے کی کوشش کی تھی،ریڈیم ڈائل سات بجا رہا تھا۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ آن کر دی۔ وارڈ روب سے کپڑے نکال کے وہ واش روم میں چلی گئی تھی۔ جب وہ لاؤنج میں آئی تو سوا سات ہو رہے تھے۔۔ جب وہ لاؤنج میں آئی تو سوا سات ہو رہے تھے۔
”So the lady is here!”(تو محترمہ یہاں ہیں)۔
نانا نے اسے دیکھتے ہی کہا تھا، وہ مسکراتے ہوئے جا کر ان سے لپٹ گئی۔
”میں نے دو ، تین بار تمہارے کمرے میں جانے کی کوشش کی لیکن تمہاری نانو نے منع کر دیا کہ تم ڈسٹرب ہو گی…
……
نانا نے اس سے کہا تھا وہ مسکراتے ہوئے ان کے پاس صوفہ پر بیٹھ گئی تھی، اور اسی وقت اس کی نظر دورکونے میں رکھے ہوئے صوفے پر بیٹھے شخص پر پڑی تھی۔ جو مسکراتے ہوئے بڑی دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے متوجہ ہونے پر اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی۔ ایک لمبے عرصے کے بعد دیکھنے کے باوجود علیزہ کو اسے پہچاننے میں دیر نہیں لگی تھی۔ پانچ سال پہلے اس نے جب عمر کو دیکھا تو وہ خاصا دبلا پتلا تھا۔ مگر اس وقت وہ ایک لمبے چوڑے وجیہہ سراپے کا مالک تھا۔ وہ اس سے آٹھ سال بڑ ا تھا۔ مگر اپنی قد و قامت کے لحاظ سے وہ اپنی عمر سے بڑا نظر آ رہا تھا۔ وہ بے اختیار کچھ جھجکی۔ اس کی سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ وہ اسے کیسے مخاطب کرے ، گلا صاف کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے کہا۔
)”Hello! How are you?” ہیلو! آپ کیسے ہیں؟)
عمر نے ہلکے سے سر کو نیچے کیا تھا۔
”Oh! I am fine.” (میں ٹھیک ہوں)۔
” It means you have recognized me.” ”Am I right Aleezah?”
اس نے اس طرح اس کی بات کا جواب دیا تھا جیسے وہ اس کا بہت گہرا دوست ہو۔
”Yes! Nano told me about you.” ”She was….!”
وہ عمر سے بات کر رہی تھی جب نانو نے اسے آ واز دی تھی۔
”علیزہ! شہلا کا فون ہے بات کر لو۔ ”
اس نے چونک کر نانو کو دیکھا تھا،ان کے ہاتھ میں کارڈ لیس تھا۔
”Excuse me!”
وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر نانو کے ہاتھ سے کارڈ لیس لے کر ڈائننگ کی طرف چلی گئی تھی۔ شہلا اس کی دوست تھی اور وہ جانتی تھی کہ اب، آدھ گھنٹے سے پہلے وہ فارغ نہیں ہوپائے گی۔ شہلا کو لمبی کالز کرنے کی عادت تھی اور آج تو ویسے بھی ایک ماہ کے بعد اس سے گفتگو ہو رہی تھی۔ وہ کافی دیر تک فون پر اس سے باتیں کرتی رہی ، اور جب فون بند کر کے واپس لاؤنج میں آئی تو عمر وہا ں نہیں تھا۔ وہ نانو اور نانا کے ساتھ باتیں کرتی رہی، اور ان ہی سے اسے پتہ چلا کہ وہ کسی دوست کے ساتھ باہر گیا ہوا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد وہ دیر تک نانا کے ساتھ بیٹھی رہی تھی۔ پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی عمر تب تک واپس نہیں آیا تھا۔
صبح وہ دیر سے اٹھی تھی جب وہ ناشتہ کے لئے آئی تو ساڑھے دس بج رہے تھے۔ خانساماں نے اسے بتایا تھا کہ نانو باہر گئی ہوئی ہیں۔ نانا تو پہلے ہی اس وقت کلب میں ہوتے تھے۔ وہ ناشتہ کر رہی تھی جب عمر بھی وہاں آگیا۔ ہیلو، ہائے کے بعد وہ بڑی بے تکلفی سے اس کے سامنے ہی چیئر کھینچ کر بیٹھ گیا تھا، اور خود بھی ناشتہ کرنے لگا۔ ساتھ ساتھ وہ اس سے باتیں کر رہا تھا ، اس کی مصروفیات کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ آسٹریلیا میں اس کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ علیزہ نے نوٹ کیا وہ پہلے کی نسبت بہت خوش مزاج ہو گیا تھا۔ پہلے کی طرح ریزرو سا نہیں تھا۔ کافی دیر تک انگلش میں دونوں میں گفتگو جاری رہی ، پھر خانساماں اس کے لئے جوس لے کر آگیا تھا۔ پہلی با ر عمر نے بڑی صاف اردو میں اس سے کہا تھا۔
”مجھے ایک پیالے میں دہی لا دیں مگر پہلے دیکھ لیں کہ کھٹا نہ ہو ، اور کل میرے لئے پورج بنائیں، انڈہ فرائی مت کریں ، ابال کر دے دیں۔ ”
اس نے خانساماں کو ہدایات دیں تھیں اور جوس پینے لگا تھا۔
وہ کچھ ہونق سی ہو کر اسے دیکھنے لگی۔ وہ اس کی حیرانی بھانپ گیا تھا۔ گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔
)”What happened?” کیا ہوا؟(
”آپ تو اردو بول سکتے ہیں!”
اس نے قدرے سٹپٹا کر کہا۔
”ہاں تو بول سکتا ہوں، اس میں حیرانی والی بات کیاہے؟”
اس نے پہلی بار اس کے جملے کا جواب اردو میں ہی دیا تھا۔
”میں سوچ رہی تھی کہ شاید آپ۔۔۔۔۔!
وہ کچھ کھسیانی ہو گئی تھی۔
”یہ کیوں سوچا تم نے، باہر رہنے کا مطلب یہ تو نہیں کہ بندے کو اپنی زبان بھی نہ آتی ہو گی۔ ”
”پہلے جب بھی آپ آیا کرتے تھے تو کبھی بھی اردو بولتے ہوئے نہیں دیکھا تھا آپ کو،اس لئے میں نے سوچا ۔۔۔۔”
اس نے وضاحت کرنے کی کوشش کی تھی عمر نے مسکراتے ہوئے اس کی بات کاٹ دی۔
”پہلے تم سے بھی اتنی لمبی چوڑی باتیں کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ویسے بھی چھوٹا تھا تب میں۔ ”
اس نے عمر کا چہرہ دیکھا تھا ،وہ خاصا محظوظ نظر آ رہا تھا۔
”پچھلی دفعہ جب میں نے تمہیں دیکھا تھا تو تم بہت چھوٹی تھیں۔ میرا خیال ہے گیارہ ، بارہ سال کی تھیں اور اب تو……!”
”But I must admit you are prettier now!” (پہلے سے بہت زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو)۔
علیزہ کے گال سرخ ہو گئے، اس نے سر جھکا لیا۔ عمر جہانگیر اسے بہت عجیب لگا تھا اسے یہ بے باکی کچھ زیادہ پسند نہیں آئی تھی۔
“میں دوبارہ کبھی اکیلے اس کے پاس نہیں بیٹھوں گی”، اس نے ٹوسٹ کھاتے ہوئے سوچاتھا۔ وہ ناشتہ ختم کرتے ہی اٹھ کر واپس اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔ وہ کرسٹی کو لے کر لاؤنج میں ہی بیٹھ گئی۔
……..
عمر ناشتہ دیر سے کیا کرتا تھا اور پھر لنچ نہیں کرتا تھا۔ شام کی چائے بھی وہ اپنے کمرے میں ہی پیتا تھا۔ البتہ رات کا کھانا سب کے ساتھ ہی کھاتا تھا۔ اس دن کے بعد وہ اس سے بہت پہلے ہی ناشتہ کر لیا کرتی تھی۔ اسے آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا تھا کہ عمر جہانگیر کے گھر میں آنے کے بعد بہت کچھ بدل چکا تھا۔ اس کے بہت کم گھر والوں کے پاس موجود رہنے کے باوجود گھر میں بہت کچھ اس کی مرضی اور پسند سے ہور رہا تھا۔ نانا اور نانو کی زیادہ تر گفتگو اسی کے بارے میں ہوتی۔ پہلے کی طرح وہ علیزہ کے بارے میں اتنی باتیں نہیں کرتے تھے۔ کھانے کی ٹیبل پر زیادہ تر ڈشز اس کی مرضی اور پسند کے مطابق بنتی تھیں۔ علیزہ سے کھانے کے بارے میں رائے لینا کم کر دیا گیا تھا۔ نانو ہر وقت اس کی صحت اور آرام کے بارے میں فکر مند رہا کرتی تھیں، اور وہ جیسے گھر میں ثانوی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ یہ سب کچھ اس کے لئے نیا نہیں تھا۔
ہر سال جب بھی اس کے ماموؤں اور خالاؤں میں سے کسی کی فیملی وہاں آتی تھی وہ اسی طرح پس پشت چلی جایا کرتی تھی۔ تب نانا اور نانو کی توجہ صرف آنے والے لوگوں پر ہی مرکوز رہتی تھی۔ مگر اسے یہ سب اتنا برا نہیں لگتا تھا، کیونکہ وہ لوگ صرف چند ہفتے ہی ٹھہرتے تھے۔ مگر عمر جہانگیر کو ابھی بہت عرصہ وہاں رہنا تھا، اور اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے بڑے آرام سے اس کی جگہ ہتھیا لی ہے۔
اس دن دوپہر کو سو کر اٹھنے کے بعد اس نے حسب معمول کرسٹی کو ڈھونڈنا شروع کیا تھا۔ وہ سیڑھیوں کے نیچے نہیں تھی۔ اس وقت وہ باہر لان میں بھی نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کی مخصوص جگہوں پر اسے پانے میں ناکام رہنے کے بعد اس نے اسے آ وازیں دینی شروع کر دی تھیں۔ مگر وہ نہیں آئی تھی۔
”نانو کرسٹی کہاں ہے؟”
وہ نانوکے کمرے میں چلی آئی تھی، وہ ابھی آرام کر رہی تھیں۔
”عمر کے کمرے میں دیکھو وہاں ہو گی۔ ”
انہوں نے اسے بتایا۔
”عمر کے کمرے میں……لیکن کرسٹی تو کبھی کسی کے پاس نہیں جاتی۔۔۔۔”
اسے ان کی بات پر جیسے صدمہ ہوا تھا۔
”ہاں! لیکن عمر کے ساتھ بہت اٹیچ ہو گئی ہے۔ تمہارے بعد سارا دن اس کے ساتھ ہوتی تھی۔ ابھی بھی وہیں ہوگی۔”
نانو نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا تھا۔
وہ چپ چاپ ان کے کمرے سے نکل آئی تھی۔ اسے ابھی بھی ان کی بات پہ یقین نہیں آرہا تھا کہ کرسٹی اس کے علاوہ کسی اور کے پاس جا سکتی ہے۔ عمر کے کمرے کے دروازے پر اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے دستک دی تھی۔
”یس! کم ان۔ ”
اندر سے فوراً ہی اس کی آواز ابھری تھی اور وہ دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔
”کرسٹی یہاں تو۔۔۔۔۔”
اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ سامنے ہی راکنگ چیئر پر جھول رہا تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں کتاب تھی اور دوسرا ہاتھ کرسٹی کو سہلا رہا تھا۔ وہ اس کی گود میں بیٹھی ہوئی تھی۔ علیزہ کو دیکھ کر بھی کرسٹی نے اپنی جگہ سے ہلنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ وہ بڑے اطمینان سے اپنی جگہ بیٹھی رہی تھی۔ علیزہ صدمے اور مایوسی سے اسے دیکھتی رہی۔
”ہاں ! کرسٹی میرے پاس ہے، جاؤ کرسٹی_،،
……….
اس نے کرسٹی کو گود سے اتار دیا، اور کرسٹی بھاگتے ہوئے اس کی طرف آنے لگی۔ علیزہ کو ان دونوں پر بے تحاشا غصہ آیا تھا۔
”Just go to hell.”(دفع ہو جاؤ(
اس نے بلند آواز میں کہا تھا اور زندگی میں پہلی دفعہ پوری قوت سے دروازہ بند کرتے ہوئے بھاگ آئی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اور شام تک کمرے سے باہر نہ نکلی تھی۔ شام تک اس کا غصہ تشویش میں بدل چکا تھا۔ وہ پریشان تھی کہ اگر عمر نے نانو کو اس کی اس حرکت کے بارے میں بتا دیا تو وہ کیا سو چیں گی۔ اسے اپنی اس حرکت پر افسوس ہو رہا تھا۔ اسے خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے کس بات پر غصہ آ یا تھا۔ کرسٹی کے کسی اور کے پاس چلے جانے پر یا عمر کے پاس جانے پر ،یا اس کو دیکھ کر بھی اس کے پاس نہ آنے پر ، یا پھر عمر کے کہنے پر اس کے پاس آ نے پر۔
جب وہ لاؤنج میں آئی تو کرسٹی وہیں بیٹھی ہوئی تھی۔ علیزہ کو دیکھتے ہی اس نے اس کے پاس آ نے کی کوشش کی تھی مگر علیزہ نے اسے درشتی سے اپنے سے دور ہٹا دیا تھا۔
عمر رات کے کھانے کے لئے معمول کے مطابق اپنے کمرے سے آیا تھا۔ وہ جس بات پر خوفزدہ ہوئی تھی ویسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ وہ اسے د یکھ کر ہمیشہ کی طر ح مسکرایا۔ پھر ویسے ہی کھانے کے دوران اسی طرح سب سے باتیں کرتا رہا تھا جیسے وہ ہمیشہ کیا کرتا تھا۔ وہ سر جھکائے خاموشی سے کھانا کھاتی رہی۔ کھانا کھانے کے بعد وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیاتھا۔ علیزہ نے سکون کا سانس لیا تھا۔
اگلے چند د ن بھی ا سی طرح گزر گئے۔ عمر نے اس واقعہ کے بارے میں نانا ، نانو یا اس سے کوئی بات نہیں کی تھی لیکن علیزہ نے نوٹ کیا تھا کہ اس نے دوبارہ کرسٹی کو بلانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ کرسٹی اس کے نظر آنے پر اگر اس کی طرف جانے کی کوشش کر تی بھی تو وہ اسے نظر انداز کر دیتا ۔ اس کا مطلب تھا وہ اس کے اس دن کے غصے کی وجہ جان گیا تھا۔
”مرید بابا! آج رات کے کھا نے پر میرے لئے تھوڑی سی سبزی بنا لیں۔ ”
اس دن کافی دنوں کے بعد علیزہ نے رات کے کھانے کے لئے کوئی فرمائش کی تھی۔ رات کو کھانے کی ٹیبل پر اس نے بڑی خوشی کے ساتھ ڈونگے کا ڈھکن اٹھایا تھاساتھ ہی اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
”نانو سبزی میں چکن کیوں ڈالا ہے،مرید بابا نے۔ انہیں پتہ ہے میں ہمیشہ چکن کے بغیر ہی سبزی کھاتی ہوں؟”
اس نے کچھ حیرانی کے عالم میں نانو سے کہا تھا۔
”میں نے کہا تھا چکن ڈالنے کے لئے۔ میں عمر کو رات کے کھانے کے بارے میں بتا رہی تھی۔ اس نے کہا کہ سبزی بن رہی ہے تو چکن والی بنا لیں میں بھی تھوڑی کھا لوں گا۔” علیزہ نے ڈونگے کا ڈھکن ہاتھ میں پکڑے پکڑے ٹیبل کی دوسری طرف عمر کو دیکھا۔ وہ اپنی پلیٹ میں چاول نکا ل رہا تھا۔ ٹیبل پر پڑی ہوئی ساری چیزیں یا تو عمر کی مرضی سے بنی تھیں یا پھر نانواور نانا کی ۔ اس نے آسٹریلیا سے و اپس آنے کے بعد پہلی فرمائش کی تھی، اور …یک دم ہی اس کی بھوک غائب ہو گئی تھی۔
کچھ افسردگی سے اس نے دوبارہ ڈونگے پر ڈھکن رکھ دیا، اور جب اس نے چمچ بھی رکھ دیا تو نانو اس کی طرف متوجہ ہو گئیں۔
”کیوں کیا ہوا ، سبزی نہیں لی؟”
وہ کرسی کھینچ کر کھڑی ہو گئی۔ عمر نے اسے پہلی بار چونک کر دیکھا۔
”مجھے بھوک نہیں ہے۔ ”
”یہ کیا حماقت ہے، ابھی تم کھانے کے لئے بیٹھی تھیں ابھی بھوک ہی ختم ہو گئی ہے۔ بیٹھ جاؤ۔ ”
نانا نے اسے کہا تھا۔
”میں دودھ پی لوں گی۔ ”
وہ چل پڑی تھی۔
”دودھ سے کیا ہو گا ، علیزہ! واپس آؤتھوڑا سا ہی سہی لیکن کھانا کھاؤ۔ ”
…..
نانو نے اسے واپس بلانے کی کوشش کی تھی۔ وہ پیچھے مڑے بغیر ہی وہاں سے چلی گئی۔ عمر حیرانی سے اسے جاتے دیکھتا رہاتھا۔
”اسے کیا ہوا؟ کیاناراض ہو کر گئی ہے؟”اس نے ڈائننگ سے نکلتے ہوئے اپنے پیچھے عمر کی آواز سنی تھی۔
”نہیں علیزہ کبھی ناراض نہیں ہوتی، اسے کبھی غصہ نہیں آتا۔ شاید ویسے ہی بھوک ہی نہیں تھی۔ میں ابھی پوچھوں گی جا کر ۔”
نانو نے نے اس کے جانے کے بعد عمر سے کہا تھا۔
وہ کچھ دیر سبزی کے ڈونگے کو دیکھتا رہا پھر کھانا کھانے لگا مگر اس کا ذہن الجھ چکا تھا۔
نانو کھانے سے فارغ ہو کر سیدھا اس کے کمرے میں آئی تھیں،اور اسے لمبا چوڑا لیکچر دیا۔
”مجھے حیرانی ہو رہی ہے علیزہ ! کہ تم نے میری بات بھی نہیں سنی اور اس طرح اٹھ کر باہر آ گئیں۔ کیا سوچ رہا ہو گا عمر کہ تم کتنی بد تمیز لڑ کی ہو۔ ”
وہ واقعی خفا تھیں۔
”I am sorry.” (مجھے افسوس ہے)
وہ ہلکے سے منمنائی۔
”اب اس کا کیا فائدہ ، بہرحال آئندہ خیال رکھنا کہ ایک بار ڈائننگ ٹیبل پر آ نے کے بعد اس طرح اٹھ کر نہیں آتے۔ وہ بھی اس وقت جب سب کھانا کھا رہے ہوں۔ تمہارا دل کھانے کو نہیں چاہ رہا تھا تم سلاد لے لیتیں یا سویٹ ڈش لے لیتیں، مگر تمہیں وہیں بیٹھنا چاہیے تھا۔ ”
نانو اسے مینرز کی وہی پٹی پڑھا رہی تھیں جوہمیشہ سے ہی پڑھاتی آ ئی تھیں۔ وہ خاموشی سے ان کی بات سنتی رہی، اس کی رنجیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
”ضرور عمر نے ان سے میرے بارے میں کچھ کہا ہو گا۔ ”
وہ ان کی باتوں پر اس سے اور بد گمان ہو تی جا رہی تھی۔
”میں نے مرید سے کہہ دیا ہے وہ ابھی تمہیں دودھ میں اوولٹین ملا کر دے جائے گا۔ اب مجھے کوئی اعتراض نہیں سننا ہے۔ ”
نانو نے اٹھتے ہوئے اسے اطلاع دی تھی اور ساتھ ہی اس کے متوقع رد عمل پر خبر دار کر دیاتھا۔ وہ کچھ کہتے کہتے چپ ہو گئی۔ نانو کمرے سے نکل گئی تھیں وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی۔ عمر جہانگیر آج اسے سب سے زیا دہ برا لگ تھا۔ جو واحد چھوٹی چھوٹی چیزیں اس کی مرضی سے ہوتی تھیں اب ان میں بھی اس کا عمل دخل ختم ہو گیا تھا۔ مرید بابا نے کچھ دیر بعد دودھ لا دیا تھا، اس نے خاموشی سے دودھ کا گلاس لے کر پی لیا۔ پھر وہ سونے کے لئے لیٹ گئی تھی، لیکن سونے کی کوشش میں اسے بہت دیر لگی تھی۔
……..
اگلے کچھ دن میں اس میں یہ تبدیلی آ گئی تھی کہ اس نے عمر سے بات کر نا بند کر دیا تھا۔ وہ اس کی بات کے جواب میں وہ پہلے والی ہوں ہاں بھی نہیں کرتی تھی جب تک وہ باقاعدہ اس کا نام لے کر بات نہ کرتا۔
اس دن وہ لاؤنج میں کارپٹ پر فلورکشن کے سہارے بیٹھی کوئی میگزین دیکھ رہی تھی۔ تب ہی اس کے ذہن میں ایک خیال آیا تھا اس نے احتیاط سے نانو کا موڈ دیکھنے کی کوشش کی تھی پھروہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی تھی۔
”نانو ایک بات پوچھوں؟ ”
اس نے ہو لے سے کہا تھا۔
”ہاں! پوچھو۔ ”
وہ اخبار میں غرق تھیں۔
”یہ عمر واپس کب جائے گا؟”
اس نے کافی احتیاط سے لفظوں کا انتخاب کرتے ہوئے کہا تھا۔
”بہت جلد، مائی ڈئیر کزن بہت جلد!”
سوال کا جواب کہیں اور سے ملا تھا۔ وہ اپنی جگہ پر بالکل ساکت بیٹھی اپنے سوال کا کوئی بہانہ سوچنے لگی۔
اب وہ اس کی پشت سے ہو کر اس کے بالکل سامنے آکر نانو کے ساتھ صوفہ پر بیٹھ گیا تھا۔
” بلکہ آپ جب چاہیں مجھے نکال دیں یہاں سے ۔ ”
اس نے علیزہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔
”فضول باتیں مت کرو، کوئی نہیں نکال رہا تمہیں یہاں سے۔ تمہاری وجہ سے تو رونق ہو گئی ہے گھر میں۔”
نانو نے اسے پیار سے جھڑکتے ہوئے اس کے گال چھوئے تھے۔ علیزہ نے کچھ کہنے کی بجا ئے میگزین اٹھایا اور وہاں سے واپس آ گئی تھی۔ کچھ شرمندگی کے عالم میں وہ لان میں آکر بیٹھ گئی تھی۔
چند منٹوں بعد اس نے قدموں کی چاپ سنی تھی، عمر اس کی طرف آ رہا تھا۔ وہ کچھ جھنجلا گئی، وہ قریب آکر ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا تھا۔
”میں بہت دنوں سے تم سے ایک بات کہنا چاہ رہا تھا بلکہ شاید بہت سی باتیں، مگر تم نظر انداز کر رہی تھی۔ ”
”مجھے یہ بتاؤ کہ تم مجھے ناپسند کیوں کرتی ہو؟”
وہ اس کے اتنے ڈائریکٹ سوال پر کچھ گڑ بڑا گئی تھی۔
”ایسی کوئی بات نہیں ہے؟”
وہ کھڑی ہو گئی تھی۔
”تم بیٹھ جاؤ ورنہ میں تمہیں پکڑ کے بٹھا دوں گا۔ ”
وہ پہلی بار بے حد سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ وہ خود بھی کھڑا ہو گیا تھا،وہ کچھ خفگی کے عالم میں سامنے بیٹھ گئی تھی۔
عمر نے درمیان میں پڑاہوا ٹیبل کھینچ کر ایک طرف کر دیا اور پھر اپنی کرسی کھینچ کر سیدھا اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ وہ اس کے اتنے قریب بیٹھا ہوا تھا کہ وہ نر وس ہو گئی۔
”ہاں ! اب بتاؤ۔ ”
”آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں آ پ کو ناپسند نہیں کرتی ہوں۔ ”
”ویری گڈ لیکن پھر تمہیں میرا یہاں رہنا اچھا کیوں نہیں لگ رہا؟”
”ایسا نہیں ہے۔ ”
”ایسا ہی ہے۔ اگر تم چاہو تو میں یہاں سے چلا جاتا ہوں۔ ”
”یہ میرا گھر نہیں ہے کہ میں یہاں سے کسی کو نکالوں۔ ”
وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی خفگی ظاہر کر بیٹھی۔
”دیکھو میں کچھ باتیں واضح کر دینا چاہتا ہوں ،میں نہیں چاہتاکہ میری وجہ سے اس گھر میں کوئی تناؤ آئے۔ یہ گھر تمہارا تھا، اور رہے گا۔ مجھے تو یہاں رہنا نہیں ہے۔ چند ماہ کے بعد میں یہاں سے واپس لندن چلا جاؤں گا۔ میرا یہاں قبضہ جمانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،پھر میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تم کس بات پہ اتنی ناراض ہو۔ شکایت کیا ہے تمہیں مجھ سے؟ میرا تو خیال تھا کہ میں خاصا بے ضرر آدمی ہوں۔ ”
”مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے ، لیکن آپ گھر میں ہر چیز کو dominate کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سارا کھانا آپ کی پسند کے مطابق بنتا ہے،ٹھیک ہے آپ مہمان ہیں لیکن جو چیز میں کرنا چاہتی ہوں اس میں تو کسی دوسرے کی مرضی__
………
عمر نے اس کی بات کاٹ کر دی۔
”تم اس دن ڈش والے واقعہ کی بات کر رہی ہو۔ ٹھیک ہے میں آئندہ ایسی کوئی مداخلت نہیں کروں گا، اور کوئی اعتراض؟ ”
”نہیں اور کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ”
وہ اب وا قعی شرمندہ ہو نے لگی تھی۔
”بس ٹھیک ہے، آئندہ تم اپنا موڈ میری وجہ سے خراب مت کرنا، اور اگر میری کوئی بات بری لگے تو بس مجھ سے آ کر کہہ دینا۔ ”
عمر نے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے جھینپتی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا تھا۔ عمر نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑ اتھا بلکہ خود بھی کھڑا ہو گیا تھا۔ دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے قدم بڑ ھائے تھے۔
”اب تمہاری ناراضگی دور ہو گئی ہے،اس لئے میں تمہیں کوئی اچھی سی چیز دوں گا۔ ”
وہ کسی ننھے بچے کی طرح اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے اندر لے گیا تھا۔ نانو ابھی بھی لاؤنج میں بیٹھی ہوئی تھیں۔
”گرینی! میں اور علیزہ بہت اچھے دوست بن گئے ہیں۔ میں علیزہ کے لئے کچھ لایا ہوں۔ ”
اس نے اندر آتے ہی اعلان کیا تھا،وہ اسے اسی طرح ہاتھ پکڑے اپنے کمرے میں لے گیا تھا۔
کمرے میں داخل ہونے کے بعد عمر نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
”گرینی نے بتایا تھا، تمہیں پرفیومز بہت اچھے لگتے ہیں۔ یہ تمہارے اور میرے درمیان پہلی کامن چیز ہے۔ مجھے بھی پرفیومز بہت پسند ہیں۔ ”
وہ اس کی طرف پشت کئے ،ڈریسنگ ٹیبل کی دراز کھول کر کچھ تلاش کرتے ہوئے بول رہا تھا۔ علیزہ کی نظریں ڈریسنگ ٹیبل پر مرکوز تھیں۔ جہاں پر پرفیومز کا ایک ڈھیر موجود تھا۔ وہ بے اختیار کچھ آگے بڑھ آئی تھی۔
”عام طور پر مرد کبھی عورتوں کے پرفیومز استعمال کرنا پسند نہیں کرتے،مگر میں ہر وہ پرفیوم خرید لیتا ہوں جو مجھے پسند ہو۔ چاہے وہ خواتین کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔ استعمال کروں یا نہ کروں لیکن پاس رکھنے میں کیا حرج ہے۔ ”
اس سے باتیں کرتے ہوئے اس کی تلاش ابھی بھی جاری تھی۔ پھر جیسے اسے وہ چیز مل گئی تھی۔ وہ سیدھاہونے کے بعد اس کی طرف مڑا علیزہ نے اس کے ہاتھ میں Chanel 5 کی ایک پیکڈ شیشی دیکھی تھی۔
مسکراتے ہوئے اس نے ہاتھ علیزہ کی طرف بڑھا دیاتھا۔
”یہ تمہارے لئے ہے۔ ”
علیزہ نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔
”میرے لئے ؟”
اس نے سوالیہ لہجہ میں پوچھا۔
”ہاں دوستی کرنے کے لئے اس سے اچھا گفٹ تو کوئی نہیں ہو سکتا، اور میں اپنے فرینڈزکو ہمیشہ پرفیومز ہی گفٹ کرتا ہوں۔ ”
وہ ہاتھ بڑھائے کہہ رہا تھا۔ علیزہ نے ایک بار پھر اس کے ہاتھ کو دیکھا ،وہ کچھ جھجک گئی تھی۔
”Just take it!”
عمر نے ایک بار پھر اس سے کہا تھا۔
”مگر میں۔۔۔۔”
اس نے کہنے کی کوشش کی تھی مگر عمر نے اس کی بات کاٹ دی تھی۔
”اگر مگر کرنے کی ضرورت نہیں بس یہ لے لو۔ ”
اس نے بڑے مستحکم لہجہ میں کہا تھا۔
کچھ جھجکتے ہوئے اس نے عمر کے ہاتھ سے پرفیوم پکڑلیا تھا۔
”مجھے یہ تو نہیں پتا کہ تمہارا فیورٹ پرفیوم کون سا ہے مگر مجھے بہت اچھا لگتا ہے، اگر کوئی لڑ کی یہ پرفیوم استعمال کرے۔ ویسے تمہیں کونسا پرفیوم پسند ہے۔ ”
اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔
”مجھے وہ سارے پرفیوم پسند ہیں جو لڑکوں کے لئے ہوتے ہیں۔ ”
اس کی اس بات پر عمر ایک دم کھلکھلا کر ہنس پڑا….
………
” گڈ تمہارے اور میرے درمیان یہ دوسری کامن چیز ہے۔ پھر توتمہیں شینل 5کے بجائے212 Men دینا چاہئے تھا۔ ”
اس نے ایک دوسرے پرفیوم کا نام لیتے ہوئے کہا تھا۔
”نہیں مجھے Eternityاور Joy زیادہ پسند ہیں۔ ”
علیزہ نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
”اور مجھے Baby Dollاور Ripple”
عمر نے اپنی پسند بتائی تھی ۔ علیزہ کو یک دم اس میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔
”عمر اتنا برا نہیں ہے جتنا میں سمجھ رہی تھی۔ وہ اچھا ہے۔ ”
اس نے فوراً نتیجہ اخذ کر لیا تھا۔
”کیا میں یہ پرفیوم دیکھ لوں ؟”
اس نے ہاتھ سے ڈریسنگ کی طرف اشارہ کیا تھا۔
”Sure why not?” (ہاں ، کیوں نہیں۔)
عمر نے دوستانہ انداز میں کہا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے ہٹ گیا تھا۔
وہ بڑے متجسس انداز میں ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی۔ پرفیومز کا انبار دیکھ کر اس کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کونسا پرفیوم پہلے اٹھا کر دیکھے۔ اس نے سب سے پہلے سب سے چھوٹی شیشی اٹھائی۔ وہ White Linen تھا۔ وہ باری باری ہر شیشی اٹھا کر دیکھتی رہی۔ کچھ پر فیومز بالکل استعمال نہیں کئے گئے تھے۔
”میں ہر ماہ کچھ اور خریدوں یا نہ خریدوں لیکن پرفیومز ضرورخریدتا ہوں۔ ان کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ ”
وہ پاس کھڑا بتا رہا تھا۔
”لیکن آپ پرفیومز زیادہ استعمال تو نہیں کرتے۔ ”
علیزہ نے ایک پرفیوم ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا تھا۔
”دن میں نہیں لگاتا، رات میں لگاتا ہوں۔ ”
علیزہ نے اس کے جواب پر کچھ حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔
”سونے سے پہلے۔ ”
وہ اس کی حیرانی کی وجہ جیسے جان گیا۔
”کیوں؟”
وہ کچھ اور ہی الجھی تھی۔
”دن کے وقت آپ اتنے بہت سے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں کہ پرفیوم انجوائے نہیں کر سکتے۔ ہمارا دھیان دوسری چیزوں کی طرف ہوتا ہے۔ ہاں رات کو آپ کسی بھی پرفیوم کی مہک کو بہت اچھی طرح انجوائے کر سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ کسی بھی مہک کو اچھی طرح محسوس کر سکتے ہیں۔اس وقت senses بہت شارپ ہوتی ہیں۔ ”
علیزہ نے بہت توجہ سے اس کی فلاسفی سنی اب وہ اسے خود کچھ پرفیوم دکھا رہا تھا۔ پھر اس نے ایک چھوٹی سی بوتل اٹھائی تھی۔ اس کی طرف وہ بوتل بڑھاتے ہوئے اس نے کہا تھا” یہ Enigmaہے۔ اس ٹیبل پر سب سے قیمتی چیز Extracted Essence ہے۔ یہ پاپا نے گفٹ کیا تھا، ورنہ میں اسے افورڈ نہیں کر سکتا۔ بہت احتیاط سے میں اسے استعمال کرتا ہوں تاکہ یہ جلدی ختم نہ ہو۔ ”
علیزہ کی توجہ اس شیشی پر مرکوز تھی۔ اسے ہاتھ میں لے کر اس نے خوشبو کو محسوس کرنے کی کوشش کی تھی۔ سانس اندر کھینچتے ہی اس نے اپنے اندر ایک عجیب سی تازگی محسوس کی۔
”Exotic” علیزہ نے بے اختیار کہا تھا۔
……….
اس کے ریمارکس پر عمر کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی۔ علیزہ نے ایک دو بار سونگھنے کے بعد اس چھوٹی سی شیشی بند کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ نہیں جانتی کیا ہوا تھا مگر شیشی ایک دم اس کے ہاتھوں سے نکل گئی تھی، اس کے ہاتھ میں صرف ڈھکن رہ گیا تھا۔ ایک ثانیے میں شیشی ڈریسنگ ٹیبل پہ گری اور پھر وہاں سے اچھل کر نیچے کارپٹ پرگری۔ علیزہ نے بے اختیار اسے پکرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اس کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ کمرہ یک دم تیز خوشبو سے بھر گیا۔ علیزہ نے مایوسی سے شیشی اٹھالی تھی ۔ اس میں اب صرف چند قطرے باقی تھے۔ اس نے شرمندگی سے عمر کو سر اٹھا کر دیکھا۔
”پتہ نہیں کیسے…۔” اس کی سمجھ میں نہیں آیا ، وہ بات کیسے مکمل کرے۔
وہ چند لمحے خاموشی سے اسے چہرہ دیکھتا رہا ، اور پھر اس نے سکون سے ہاتھ بڑھا کر اس سے شیشی اور ڈھکن لے لیا تھا۔
”it’s alright.”
” یہ قیمتی تھا مگر میرا فیورٹ نہیں۔ ”
علیزہ اس کی اس بات پر ایک دم اضطراب کا شکا ر ہو گئی تھی۔
”I am sorry، میری وجہ سے۔۔۔۔۔!”
اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی تھی مگر عمر کی حرکت نے اسے ہکا بکا کر دیا تھا۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل سے ایک اور پرفیوم اٹھایا اور دیوار پرکھینچ مارا۔ شیشی ٹوٹتے ہی کمرہ ایک بار پھر تیز خوشبو سے بھر گیاتھا۔
”چیزیں ٹوٹنے کے لئے ہی ہوتی ہیں ،اور بعض دفعہ تو چیزیں توڑنے میں مزہ آتا ہے۔ ہے نا علیزہ! آؤ ایک ایک پرفیوم اور توڑیں۔ ”
اس نے پرسکون انداز میں کہتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل سے دو پرفیوم اٹھا لئے اور ایک اس کی طرف بڑھا دیا۔ وہ جیسے کرنٹ کھاکر پیچھے ہٹی تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔
”آپ بہت عجیب ہیں۔ ”
اس نے کچھ بے چین ہو کر عمر سے کہا تھا۔
”اس کو میں کیا سمجھوں، complimentیا Comment (تعریف یا تبصرہ)
عمر کا اطمینان برقرار تھا۔ وہ یک دم بہت الجھ گئی تھی۔ عمر نے دونوں پرفیوم ایک بار پھر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دئیے، اور پھر ایک اور پرفیوم اٹھاکر اس کی طرف بڑھایا Ecstacy یہ میں تب لگاتا ہوں جب خود کو بہت اکیلا محسوس کرتا ہوں۔ ”
اس نے سلسلہ وہیں سے جوڑنے کی کوشش کی تھی ، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ علیزہ نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ وہ اب اس کمرے سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔ وہاں اس کی ساری دلچسپی یک دم ختم ہو گئی تھی۔
”یہ پرفیوم نہیں دیکھنا چاہتیں؟”
عمر نے بڑے دوستانہ انداز میں پوچھا۔ علیزہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔ عمر نے اس کی آنکھوں میں ابھرتی ہوئی نمی کو دیکھ لیا تھا، اور کمال مہارت سے نظر انداز بھی کر دیا تھا۔Chanel 5 کی بوتل اٹھا کر اس نے ڈھکن اتارا تھا اور پھر بڑے آرام سے علیزہ کے بالوں پر اس نے اسپرے کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ بے اختیار ایک قدم پیچھے ہٹی تھی۔ اسے اپنی گردن اوربالوں پر نمی محسوس ہوئی۔
”یہ پرفیوم دنیا کی سب سے اچھی اور precious (مکمل) لڑکیوں کے لئے ہو تا ہے، اور علیزہ میرا خیال ہے ،تم ان لڑکیوں میں شامل ہو۔”
اس نے سائفن کو پریس کرنا چھوڑ دیا۔ ڈھکن بند کرتے ہوئے اس نے ایک بار پھر پرفیوم ٹیبل پر رکھ دیا۔ علیزہ کی سمجھ میں ہی نہیں آیا وہ کس قسم کا رد عمل ظاہر کرے ، عمر بہت عجیب قسم کا تھا۔ اس نے chanel5اٹھا کر باہر نکلنا چاہا تھا۔
”اب تو تم ناراض نہیں ہو نا؟”
علیزہ نے اپنے پیچھے عمر کی آواز سنی تھی۔ اس نے مڑ کر عمر کودیکھا تھا۔ وہ وہیں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔
علیزہ نے کچھ کہنے کی بجائے صرف سر ہلا دیا۔ عمر کی مسکراہٹ کی دلکشی میں اضافہ ہو گیا تھا۔
“So Aleezah we are friends, and true friends are friends for ever.”
(تو علیزہ ہم دوست ہیں اور سچے دوست ہمیشہ دوست رہتے ہیں۔)
علیزہ نے اسے کہتے ہوئے سنا تھا۔ اس کے چہرے پر بھی ایک مسکراہٹ نمودار ہو گئی تھی۔
……………….
جاری ہے۔
