Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 16
۔۔۔۔۔
باب 17 اور 18

”موڈ ٹھیک ہوگیا تمہارے کزن کا؟” شہلا نے ساتھ چلتے چلتے اچانک علیزہ سے پوچھا۔
”ہاں۔” وہ ہلکے سے مسکرائی۔
”چلو شکر ہے کم از کم تمہارے چہرے پر بارہ بجے والی مستقل کیفیت سے تو چھٹکارا ملا۔” علیزہ اس کی بات پر کچھ جھینپ گئی۔
”کیا مطلب؟”
”کچھ نہیں یار! میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ اب پہلے کی طرح تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کو مل جایا کرے گی جو کئی دن سے غائب تھی۔”
”ایسی کوئی بات نہیں ہے۔”
”ایسی ہی بات ہے۔ عمر کا موڈ صحیح، تمہارا موڈ صحیح۔ عمر کا موڈ خراب تمہارا موڈ خراب۔”
”تم غلط کہہ رہی ہو شہلا۔” اس نے جیسے احتجاج کیا تھا۔
”کاش کہ یہ بات واقعی غلط ہوتی مگر ایسا نہیں ہے علیزہ سکندر! آپ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتیں۔” اس نے ہینڈ بیگ میں سے کینو نکال کر ساتھ چلتے ہوئے چھیلنا شروع کردیا۔
”میں اس کی وجہ سے پریشان تھی مگر۔۔۔”
شہلا نے اس کی بات کاٹ دی۔”تمہیں میرے سامنے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
I know you inside out”
اس نے قاش منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔ علیزہ کچھ دیر خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی رہی پھر اس نے کچھ مدھم آواز میں کہا۔

”میری اس کے ساتھ بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔”
”صرف انڈراسٹینڈنگ ہونے سے کوئی کسی کیلئے اس طرح پریشان نہیں ہوتا۔”
وہ صاف گوئی کا ہرا گلا پچھلا ریکارڈ توڑنے پر تلی ہوئی تھی۔
”وہ میرا دوست ہے۔”
”نہیں! معاملہ دوستی کی حدود سے کافی آگے بڑھ چکا ہے۔”
”شہلا! میں۔۔۔”
شہلا نے کچھ تنک کر اس کی بات کاٹ دی۔ ”تم ڈرتی کیوں ہو، یہ مان لینے سے کہ تم اس سے محبت کرتی ہو۔”
”ایسا نہیں ہے۔”
”ایسا ہی ہے بلکہ سو فیصد ایسا ہی ہے۔”
”اچھا ٹھیک ہے پھر اس سے کیا ہوتا ہے؟”
”بہت کچھ ہوتا ہے… علیزہ بی بی! آپ کا پرابلم یہ ہے کہ آپ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہ سمجھ لیتی ہیں کہ ساری دنیا اسی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ آپ کو اس سے محبت ہے تو آپ جاکر اس سے کہیں کہ آپ اس سے محبت فرما رہی ہیں۔ وہ بھی خاموش محبت۔”
”اس سے کیا ہوگا؟”
”اس سے یہ ہوگا کہ یا تو عمر صاحب بھی آپ سے اپنی محبت کا اقرار کرلیں گے یا پھر یہ ہوگا جس کا زیادہ امکان ہے کہ وہ آپ کا دماغ درست کردیں گے۔ کم از کم پھر آپ اس محبت کے چکر سے تو نکل آئیں گی۔”

علیزہ نے کچھ رنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ”مجھے اس سے کچھ بھی نہیں چاہیے۔”
”کیا مطلب! تم نہیں چاہتیں کہ وہ تم سے اپنی محبت کا اظہار کرے اور شادی کرے؟” شہلا نے کچھ حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا۔
”نہیں۔”
”تو پھر۔”
”میں بس یہ چاہتی ہوں کہ وہ ٹھیک رہے، پریشان نہ ہو، بس وہ خوش رہے۔”
”چاہے اس کی زندگی میں کوئی علیزہ سکندر نہ ہو۔”
”چاہے اس کی زندگی میں، میں نہ ہوں۔”
”میں تمہیں سمجھ نہیں پائی۔ تم آخر چاہتی کیا ہو۔ مجھے جو چیز اچھی لگے میں چاہتی ہوں وہ مجھے مل جائے۔ میرے Possession میں ہو اور تم… تم عمر سے محبت کرتی ہو تو اس کا اقرار نہیں کرتیں۔ اقرار کرتی ہو تو اسے حاصل کرنا نہیں چاہتیں اور میں سوچتی ہوں کہ اگر تم اس کو حاصل کرلو گی تو پھر تم اسے پاس رکھنا نہیں چاہو گی، ہے نا؟” شہلا کا لہجہ مذاق اڑانے والا تھا۔
……
”کسی چیز کو صرف میری محبت میرے پاس نہیں لاسکتی۔ میں اپنے پیرنٹس سے بھی بہت محبت کرتی ہوں۔ میری محبت انہیں اکٹھا نہیں رکھ سکی نہ انہیں میرے پاس رکھ سکی ہے۔ عمر سے محبت کروں گی تو کیا ہوگا۔ کیا وہ میرا ہوجائے گا؟”
”تو پھر یہ سب کیا ہے؟”
”کچھ بھی نہیں۔ بس میں اس کی پروا کرتی ہوں اور اسے پہنچنے والی ہر تکلیف مجھے زیادہ اذیت دیتی ہے۔ اس لیے میں چاہتی ہوں اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔”
”ہو سکتا ہے عمر… عمر بھی تم سے محبت کرتا ہو۔ وہ بھی تو تمہاری پروا کرتا ہے۔” شہلا نے بہت نرمی سے اس سے کہا۔
”ہر جذبہ محبت نہیں ہوتا۔”
”مگر بہت سے جذبے بالآخر محبت پر ہی ختم ہوتے ہیں۔”
”نہیں وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا۔ وہ مجھ سے ہمدردی کرتا ہے۔”
”کم آن علیزہ۔۔۔”
”ہاں میں ٹھیک کہہ رہی ہوں شہلا! وہ مجھ سے صرف ہمدردی کرتا ہے جس سے ہمدردی ہو اس سے محبت نہیں ہوتی۔”
شہلا اس کی بات پر کچھ بگڑ گئی۔”کیا مطلب ہے آپ کا علیزہ بی بی۔ وہ فائنل ایر کا عفان محمود جو ہر تیسرے دن دانت نکالتا ہوا آجاتا ہے۔ مس علیزہ! آپ کو کوئی نوٹس وغیرہ تو نہیں چاہئیں۔ یا پھر وہ فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کا قاسم مجید جو اپنا ہر اسکیچ پکڑے آپ کے پاس اصلاح کیلئے موجود ہوتا ہے یہ جاننے کے باوجود کہ آپ کا اس کے ڈیپارٹمنٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہیں میرا خیال ہے ہمدردی تم سے بلال وحید کرتا ہے جو ہر بار تمہیں دیکھتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ مس علیزہ! آپ بہت کمزور ہوگئی ہیں۔ کچھ کھایا پیا کریں بلکہ آئیں میں آپ کو چائے پلواتا ہوں۔ اتنے ہمدردی کرنے والے میرے پاس ہوتے نا تو میں اب تک کسی الیکشن میں حصہ لے چکی ہوتی۔”
وہ اب علیزہ کو ہنسانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر علیزہ کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ابھری۔
”ہر بات مذاق نہیں ہوتی، شہلا!”
”مگر کچھ باتیں مذاق ہوتی ہیں اور جس بات پر ہنسی آئے اس پر ہنس لینا چاہیے جیسے تمہارے اس فارمولے پر کہ عمر تم سے ہمدردی کرتا ہے۔”
”یہ فارمولا نہیں ہے حقیقت ہے۔”
”تم زندگی کو اور دوسرے لوگوں کو جس زاویے سے دیکھنے کی کوشش کرتی ہو وہ زاویہ اب بدل دو۔” شہلا یک دم سنجیدہ ہوگئی۔ ”تم میں اتنی خوبیاں ہیں علیزہ کہ ان پر کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر تم خود اپنی اہمیت کو ماننے پر تیار نہیں۔”
”شہلا! تم میری بات نہیں کر رہی تھیں۔ ہم کسی اور موضوع پر بات کر رہے تھے۔”
”اپنے بارے میں بات کرنے سے کیوں ڈرتی ہو؟”
”میں ڈرتی نہیں ہوں بس میں۔۔۔”
”علیزہ! تمہارے لیے جو چند چیزیں اہم ہیں ناں ان میں سے ایک عمر جہانگیر بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ تم لاکھ کہو کہ تم اسے پانا نہیں چاہتیں مگر تمہیں اس کی خواہش ہے۔”
”مجھے خواہش نہیں ہے۔”
”تو پھر ہر وقت عمر کی باتیں کیوں کرتی رہتی ہو۔ اس فائل کو کھولو اور دیکھو کہاں کہاں تم نے ایک ہی چہرہ اسکیچ کیا ہوا ہے۔ کتنی بار اس کا نام لکھا ہوا ہے اور تم کہتی ہو، تمہیں اس کی خواہش نہیں ہے۔ کس کو فریب دینا چاہتی ہوں، مجھے؟ اپنے آپ کو؟ یا ساری دنیا کو؟”

”میں کبھی اس سے یہ نہیں کہہ سکتی کہ مجھے اس سے۔۔۔” اس نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
”کہ تمہیں اس سے محبت ہے۔” شہلا نے اس کی بات مکمل کی۔ ”آخر کیوں؟”
”مجھے خوف آتا ہے۔”
”کس بات سے؟”
”اگر اس نے یہ کہہ دیا کہ اسے مجھ سے محبت نہیں ہے تو میں… میں کبھی دوبارہ اس کے سامنے نہیں جاسکوں گی۔” اس کے لہجے میں اتنی بے بسی تھی کہ شہلا کو اس پر ترس آگیا۔
”آؤ کلاس میں چلیں، پیریڈ شروع ہونے والا ہے۔”
بات کا موضوع یک دم بدلتے ہوئے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے چل پڑی۔ کچھ دیر اور وہاں کھڑی رہتی تو علیزہ کی آنکھوں میں امڈتی ہوئی نمی برسنا شروع ہوجاتی۔ وہ اسے بہت اچھی طرح جانتی تھی۔

باب18

”تم نے رزلٹ دیکھا ہے اپنا؟” عمر نے نانو کو بلند آواز میں کہتے سنا۔ ان کی آواز میں بے تحاشا غصہ تھا۔ وہ لاؤنج کے دروازے میں ہی رک گیا۔ اندر جانے سے پہلے اس نے صورتحال سمجھنے کی کوشش کی۔ اپنا بیگ اس نے اتار کر رکھ دیا۔
”اس طرح اے لیولز کس طرح کلیئر کرو گی، دو سبجیکٹس… میں فیل ہو چھٹیوں میں کیا کرتی رہی ہو تم؟”
نانو واقعی بہت غصے میں تھیں جبکہ علیزہ صوفے کے ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔
”میں آئندہ زیادہ محنت کروں گی۔”
”کون سی محنت! یہ والی محنت جو تم نے اس بار کی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پیپرز کرتے ہوئے تمہارا دھیان کہاں ہوتا ہے۔ تمہارے نانا یہ کارڈ دیکھیں گے تو جانتی ہو، کتنے ناراض ہوں گے۔”
‘نانو! میں نے بہت محنت کی تھی مگر پتا نہیں پھر بھی۔۔۔” اس نے کچھ دل برداشتہ ہو کر کہا۔
”مجھ سے جھوٹ بولنے کی کوشش مت کرو۔ تم نے محنت کی ہوتی تو اس کارڈ میں نظر آرہی ہوتی۔ مگر تمہیں اسٹڈیز میں دلچسپی ہی کہاں ہے۔ سارا دن تم کرسٹی کو اٹھائے پھرتی رہتی ہو۔ اس سے فارغ ہوتی ہو تو ڈرائنگ اور پینٹنگ میں وقت برباد کرنے لگتی ہو۔”
”نانو! میں نے ہمیشہ اچھے مارکس لیے ہیں، صرف اس بار۔۔۔” وہ اب روہانسی ہوگئی۔
”اس بار کیا ہوا ہے؟ کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ تمہارا کارڈ اس قابل ہے کہ کسی کو دکھایا جائے۔ جو بھی دیکھے گا کہے گا شاید میں تم پر توجہ نہیں دیتی ورنہ تم اس طرح کا رزلٹ تو کبھی نہ دکھاتیں۔” انہوں نے غصے میں ہاتھ میں پکڑا ہوا کارڈ علیزہ کی طرف اچھال دیا۔ کارڈ اس سے ٹکراتا ہوا قالین پر جاگرا۔
عمر نے اس سے زیادہ دیر وہاں کھڑا رہنا بے کار سمجھا تھا۔
”ہیلو گرینی!” وہ بڑے خوشگوار انداز میں کہتا ہوا لاؤنج میں داخل ہوا۔
”عمر! تم اتنا اچانک آگئے ہو؟” نانو نے کچھ حیران ہوتے ہوئے اس سے پوچھا۔
”بہت اچانک تو نہیں مگر بہرحال آگیا ہوں۔”
عمر نے جواب دیتے ہوئے علیزہ کو دیکھا جو آستین سے آنکھیں پونچھتے ہوئے کارڈ اٹھا رہی تھی۔
”مگر تمہیں تو ابھی کچھ دن اور رہنا تھا سوات میں؟” نانو اب بھی مطمئن نہیں تھیں۔
”ہاں رہنا تو تھا مگر بس اچانک ہی موڈ بدل گیا۔”
”آپ علیزہ کو کیوں ڈانٹ رہی تھیں؟” وہ اپنا سامان رکھ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔
”آنے سے پہلے اطلاع دے دیتے تو میں ڈرائیور کو ایئرپورٹ بھجوا دیتی۔” نانو نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے مزید شکوہ کیا تھا۔
”مگر میں تو بائی روڈ آیا ہوں کوسٹر پر۔”
”کیا! کوسٹر پر؟ خواہ مخواہ کی بے وقوفی۔۔۔” نانو بڑبڑائی تھیں۔
”گرینی اسے بے وقوفی نہیں ایڈونچر کہتے ہیں۔” اس کا اطمینان برقرار تھا۔
”یہاں تک صحیح سلامت پہنچ گئے ہونا اس لیے اسے ایڈونچر کہہ رہے ہو۔”
”گرینی! پلین کے ذریعے بھی صحیح سلامت پہنچنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ میں تو اسے بھی ایڈونچر ہی کہتا ہوں مگر آپ مجھے یہ بتائیں کہ علیزہ کو کیوں ڈانٹ رہی تھیں؟” اس نے کن اکھیوں سے سرجھکائے بیٹھی علیزہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
”فرسٹ ٹرم کا رزلٹ آگیا ہے اس کا اور بری طرح فیل ہے۔”
نانو کے چہرے پر ایک بار پھر خفگی جھلکنے لگی۔ عمر نے علیزہ کی گردن کو مزید جھکتے ہوئے دیکھا۔ پھر اسی اطمینان کے ساتھ وہ دوبارہ گرینی کی طرف متوجہ ہوگیا۔
”بس اتنی سی بات ہے۔ میں سمجھا پتا نہیں کیا قیامت آگئی ہے… ویسے گرینی! فیل تو بس فیل ہوتا ہے اگر وہ بری طرح سے فیل ہے تو کیا کوئی اچھی طرح سے فیل بھی ہوتا ہے؟”
”فضول باتیں مت کرو عمر! تمہیں پتا ہے یہ دو سبجیکٹس میں فیل ہے۔”
علیزہ کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔
Really? I don’t believe it. (سچ! مجھے یقین نہیں آتا) عمر نے حیرانی کی بھرپور ادا کاری کرتے ہوئے علیزہ کو دیکھا۔
”اس میں یقین نہ آنے والی کون سی بات ہے۔ کارڈ دیکھ لو اس کا۔”
نانو اس کی بات کو ٹھیک طرح نہیں سمجھ سکی تھیں مگر عمر کی اگلی حرکت نے انہیں چند سیکنڈ میں سب کچھ سمجھا دیا۔ عمر نے صوفے پر بیٹھے بیٹھے کچھ آگے کی طرف جھکتے ہوئے علیزہ کے دائیں ہاتھ کو تھاما اور اسی روانی کے ساتھ ساتھ ملانے کے بعد اس کی پشت تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ Congrats Cousin” (مبارک ہو کزن) تم نے تو حیران کردیا مجھے۔ وہ کام کیا ہے جو اس فیملی میں پہلے کوئی مرد بھی نہیں کرسکا۔ Keep it up ”
علیزہ نے کچھ بد حواس ہو کر اس کے چہرے کو دیکھا مگر وہاں پر سنجیدگی کے ساتھ خراج تحسین کے جذبات اور تاثرات نمایاں تھے۔ نانو یک دم مشتعل ہوگئیں۔
”کیا مطلب ہے تمہارا؟ مذاق اڑا رہے ہو تم میرا؟”
”بالکل بھی نہیں گرینی! میں تو صرف داد دے رہا ہوں۔”
”فیل ہونے والے کو داد دی جاتی ہے؟”
”نہیں خالی داد نہیں دی جاتی، حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔” اس نے بڑے اطمینان سے وضاحت کی۔
”فیل ہونے والے کو داد دیتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں؟” نانو کا پارہ ہائی ہوتا جارہا تھا۔
”داداور حوصلہ افزائی صرف ایسے کام پر دی جاتی ہے جو اس سے پہلے نہ کیا گیا ہو جیسے ہماری فیملی میں علیزہ والا کام پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا۔” اس کا اطمینان اب بھی برقرار تھا۔
”داداور حوصلہ افزائی ہر ”اچھے” کام پر دی جاتی ہے۔” نانو نے اس بار اپنی بات چبا چبا کر کہی۔
”آپ ثابت کریں گرینی! کہ فیل ہونا ایک برا کام ہے۔” وہ یک دم جیسے بحث کے موڈ میں آگیا۔
”تم فضول بکواس مت کرو عمر!”
”اس میں بکواس والی بات ہی نہیں ہے۔ آپ بتائیں آج تک کبھی کسی کو ایگزام میں فیل ہونے کی وجہ سے عمر قید یا پھانسی ہوئی یا دوزخ میں بھیجے جانے والوں میں کتنے لوگ صرف امتحان میں فیل ہونے کی وجہ سے وہاں جائیں گے۔ ایک بھی نہیں تو پھر یہ برا کام تو نہیں ہے۔”
”رات کو تمہارے دادا آئیں گے۔ علیزہ کا رزلٹ دیکھیں گے اس کے بعد تم اپنی یہ تقریر ان کے سامنے بھی کرنا پھر وہ تمہیں بتائیں گے کہ فیل ہونے سے کتنی نیکیاں ملتی ہیں۔” نانو کے اشتعال میں کچھ اور اضافہ ہوگیا۔
”کوئی بات نہیں گرینی! گرینڈ پا سے بھی بات ہو جائے گی۔ آپ مجھے یہ بتائیں، کچھ پانی وانی پلانے کا ارادہ ہے یا میں واپس سوات چلا جاؤ؟”
عمر نے ایک بار پھر مہارت سے بات کا موضوع بدلتے ہوئے کہا۔ نانو کچھ دیر کچھ کہے بغیر اسے گھورتی رہیں اس کے بعد انہوں نے خانساماں کو آواز دی۔
”نانو! میں جاؤں؟” عمر نے علیزہ کی منمناہٹ سنی جسے نانو نے پوری طرح نظر انداز کردیا۔
”نانو! میں جاؤں؟”
اس نے ایک بار پھر کہا۔ اس سے پہلے کہ نانو اس بار بھی پہلے کی طرح اس کے سوال کو نظر انداز کرتیں عمر نے مداخلت کی۔
”گرینی! علیزہ کچھ پوچھ رہی ہے آپ سے؟” اس نے کچھ جتانے والے انداز میں کہا۔
”میری طرف سے جہنم میں جائے۔” نانو نے خاصی رکھائی اور سرد مہری سے کہا۔ علیزہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور تقریباً بھاگتی ہوئی لاؤنج سے نکل گئی۔
”آپ بعض دفعہ بہت تلخ ہوجاتی ہیں گرینی! خاص طور پر علیزہ کے ساتھ۔” اس کے جاتے ہی عمر نے سنجیدگی سے گرینی سے کہا۔
”ہاں ہوجاتی ہوں… اس لیے کیونکہ وہ کبھی بھی میری توقعات پر پورا نہیں اترتی ہمیشہ مجھے لیٹ ڈاؤن کرتی ہے۔ ایک اسٹڈیز میں مجھے تھوڑا اطمینان تھا تو اس بار وہ ختم ہوگیا۔” نانو نے اسی سرد مہری کے ساتھ کہا۔
”وہ اسٹڈیز میں ویک ہے؟” عمر نے ان سے پوچھا۔
”نہیں۔ کبھی بھی نہیں۔ یہ پہلی بار ہوا ہے۔ اس لیے تو مجھے اتنا شاک لگا ہے۔”
”آپ نے اس سے پوچھنے کی کوشش کی کہ اتنی بری پرفارمنس کیوں تھی اس کی؟”
”اس کے پاس ہر سوال کا ایک ہی جواب ہوتا ہے، میں پریشان ہوگئی اس لیے۔ اب بندہ پوچھے کہ ایسی کون سی پریشانیاں لاحق ہوگئی ہیں اسے اس عمر میں کہ وہ ایگزام بھی اچھے مارکس سے پاس نہیں کرسکتی۔”
”گرینی! وہ ڈسٹرب تو تھی، یہ تو آپ جانتی ہیں شاید اسی وجہ سے۔۔۔” گرینی نے اس کی بات کاٹ دی۔
”کم از کم اسٹڈیز کے سلسلے میں، میں اس طرح کا کوئی ایکسکیوز سننا نہیں چاہتی۔ وہ ڈسٹرب ہو یا نہ ہو، ایگزام میں اسے اچھے گریڈ لینے ہوں گے۔”
”آپ کو اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔”
”میں اسے بہت اچھی طرح سمجھتی ہوں… مگر تم نہیں سمجھے… بچپن سے میرے پاس رہی ہے وہ۔ میری ذمہ داری سمجھتے ہیں سب اسے۔ کیا کہیں گے سب کہ میں اسے پڑھا نہیں سکی۔ پی ایچ ڈی تو نہیں کر رہی وہ۔ اے لیولز کر رہی ہے۔ کیا اے لیولز بھی نہیں کرسکتی؟میں کیا جواب دوں گی اس کے ماں باپ کو۔ تم جانتے نہیں ہو اپنی پھوپھو کو۔ ثمینہ تو میری جان کھا جائے گی۔ اس دن بڑی تقریریں کر رہے تھے تم کہ اس کی شادی ابھی نہ کروں اسے پڑھنے دوں۔ کیسے آگے پڑھ سکتی ہے وہ جب اس نے۔۔۔”
عمر نے سنجیدگی سے ان کی بات سنتے سنتے بات کاٹی۔
”اس بار اگر اس کی پرفارمنس خراب رہی ہے تو ضروری نہیں اگلی بار بھی ایسا ہی ہو۔ صرف ایک بار خراب رزلٹ پر اس طرح تو نہیں کرنا چاہیے۔”
”میں تو جس طرح ری ایکٹ کر رہی ہوں، کر رہی ہوں مگر تمہارے دادا کو پتا چلا تو وہ اس سے زیادہ بری طرح ری ایکٹ کریں گے۔”
”اس سے کیا ہوگا؟ اس طرح اس کے گریڈ بہتر ہوجائیں گے؟” نانو اس کے سوال پر خاموش رہی تھیں۔ ”کبھی آپ اس کی شادی کے پلان بنا رہی ہوتی ہیں کبھی اسٹڈیز میں لاپروائی برتنے پر اپنا بی پی ہائی کرلیتی ہیں۔ اس کو اس کی زندگی اپنی مرضی سے کیوں گزارنے نہیں دیتیں؟”
”کیا مطلب ہے تمہارا؟” نانو کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔
”میرا مطلب بالکل صاف ہے۔ اس پر اپنی مرضی مت ٹھونسیں، ہر بات میں مداخلت نہ کریں۔”
۔۔۔۔۔۔۔
”ہر بات میں مداخلت نہ کروں وہ جو کرنا چاہتی ہے اسے کرنے دوں۔ فیل ہوتی ہے فیل ہونے دوں۔ خود کو تباہ کرتی ہے تو خود کو تباہ کرنے دوں۔” نانو نے طنزیہ انداز میں کہا۔
”کوئی خود کو تباہ نہیں کرے گی وہ۔ اتنی بے وقوف نہیں ہے مگر اس کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے دیں۔ فیل ہوتی ہے۔ ہونے دیں۔ اس کا پرابلم ہے۔ اس کو اس کا حل نکالنے دیں۔ ٹھوکر کھاتی ہے، کھانے دیں۔ گرتی ہے، گرنے دیں مگر اس کو کسی سہارے کے بغیر کھڑا ہونا سیکھنے دیں۔ زمین پر پیر کیسے جماتے ہیں یہ اسے آنا چاہیے۔ اس کی انگلی چھوڑ دیں۔”
”وہ اتنی بڑی نہیں ہوئی۔”
تو ہونے دیں نا اس کو بڑا… آفٹر آل کتنی دیر آپ اس کو چھوٹا رکھیں گی، میری سمجھ میں نہیں آتا یہاں پاکستان میں یہ کیوں ہوتا ہے کیوں آپ کی جنریشن بچوں پر اتنی dominance (تسلط) رکھتی ہے۔” وہ کچھ الجھے ہوئے انداز میں بولا۔
”اسے تم dominance کہتے ہو مگر ہم اسے guidance (رہنمائی) کہتے ہیں۔” نانو اپنی بات پر قائم تھیں۔
”اور یہ guidance ہوتی ہے جو مشکل وقت میں فیصلے کرنے میں کبھی آپ کی مدد نہیں کرتی، کبھی آپ کے کام نہیں آتی۔ گرینی! ہر جنریشن کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ پانی کا گلاس پکڑ کر پینے کا مہذب طریقہ کیا ہے۔ کہاں ہلکی آواز میں بات کرنا ہے، کہاں اونچی میں۔ ڈائننگ ٹیبل پر پلیٹ کے رائٹ سائیڈ پر فورک ہونا چاہیے یا اسپون۔ گھر کے اندر آتے ہوئے ڈورمیٹ پر جو گرز کو کتنی بار گڑنا چاہیے۔ شرٹ کا سب سے اوپر والا بٹن بند رکھنا چاہیے یا کھلا۔
گرینی! یہ سب کچھ سیکھنا ہماری ضرورت نہیں ہے۔ اس جنریشن کے پرابلمز اور ہیں۔ آپ کے زمانے کی طرح ہمارا واحد پرابلم اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو زیادہ سے زیادہ کلچرڈ، لبرل اور ارسٹوکریٹ بنا کر پیش کرنا نہیں ہے۔ ہم کو مینرز نہ سکھائیں ہم کو بتائیں کہ ہم اتنی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں جو اپنا وجود کیسے قائم رکھیں اپنے لیے کون سی ویلیوز کا انتخاب کریں اور پھر ان ویلیوز کو intact کیسے رکھیں۔ relationships کیسے بنائیں اور انہیں برقرار کیسے رکھیں۔ اپنا mental equilibrium کیسے رکھیں جب اسٹریس ہو تو اس سے کیسے چھٹکارا پائیں، جب ڈپریشن ہو تو اس سے کس طرح نجات حاصل کریں۔ اپنی تنہائی کا علاج کس چیز سے کریں؟ ان سب چیزوں کے بارے میں بتائیں۔ ان کے بارے میں guidance دیں۔
آپ کی جنریشن نے زندگی کو اچھے مارکس اور اچھے مینرز کے درمیان اس طرح تقسیم کردیا ہے کہ ہم میں سے بہت سے تو ویسے ہی گم ہوجاتے ہیں جہاں تک علیزہ کا تعلق ہے تو اس کو تو آپ لوگوں نے crippled (معذور) کردیا ہے۔ میں جب سے یہاں آیا ہوں حیران ہو رہا ہوں آپ اس کو اچھا کہتے ہیں، وہ خود کو اچھا سمجھتی ہے۔ آپ اس کو برا کہتے ہیں، وہ خود کو برا سمجھتی ہے۔ اس کی اپنی کوئی سوچ ہے نہ نظر۔ وہ دنیا میں آپ کی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ آپ کے دماغ سے سوچتی ہے۔ آپ کے معیار کے مطابق فیصلہ کرتی ہے اور آپ کی پسند ناپسند کے مطابق برتتی ہے… مگر کتنی دیر تک… ایک اسٹیج ایسی آتی ہے جب سب کچھ Stagnant ہوجاتا ہے۔ پھر اپنے اردگرد کی دنیا کتنی بری لگتی ہے۔ آپ اس کا اندازہ ہی نہیں کرسکتیں۔ پھر نہ اپنی سمجھ آتی ہے نہ دوسروں کی۔ اس وقت دل چاہتا ہے ہر چیز چھوڑ دی جائے چاہے وہ خونی رشتے ہی کیوں نہ ہوں۔
ہماری فیملی میں پچھلے کئی سالوں سے یہی سب کچھ تو ہو رہا ہے۔ ہم سب لوگ ایک ایسی ریس میں دوڑ رہے ہیں جہاں کوئی فنشنگ لائن نہیں ہے۔ یہ ریس بس تب ختم ہوتی ہے جب آپ گر جاتے ہیں اور گرنے کے بعد دوبارہ اٹھا نہیں جاتا۔ کم از کم علیزہ کو تو اس ریس میں مت دوڑائیں۔ اس کو تو زندگی گزارنے دیں۔ انجوائے کرنے دیں اس کو۔ وہ خواب دیکھنے دیں جو وہ دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے وجود میں اس کی شخصیات میں خامیوں کی اتنی میخیں اتنی بے رحمی سے نہ ٹھونکیں کہ ساری عمر ان سے رسنے والا لہو اس کے وجود کو آلودہ رکھے اسے۔۔۔”
وہ بات کرتے کرتے یک دم تیزی سے اٹھ کر لاؤنج سے نکل گیا۔ نانو بالکل ساکت بیٹھی تھیں۔ ایسا کیا ہوا تھا کہ عمر کی آوازیوں بھرا جاتی۔ وہ اپنی آنکھوں میں نمودار ہونے والی نمی کو چھپانے کیلئے یوں بھاگ کھڑا ہوا۔ آخر وہ سوات سے اتنی جلدی واپس کیوں آگیا ہے؟ سوات میں عمر کے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے؟ وہ کچھ ماؤف ذہن کے ساتھ مسلسل سوچ رہی تھیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔