Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 15
۔۔۔۔۔
باب 16

نانو نے خفگی سے عمر کو دیکھا تھا۔ ”اس طرح چلانے کی کیا ضرورت ہے؟”
”گرینی ! بات ہی ایسی کی ہے آپ نے۔”
”کیوں ! ایسی کیا بات کی ہے میں نے؟ کیا لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہوتی؟”
”ہوتی ہیں گرینی ؟ مگر اس طرح اس عمر میں؟”
وہ اب بھی حیران تھا۔
”ہاں! اسی عمر میں، تم جانتے ہو ہماری فیملی میں لڑکیوں کی شادیاں بہت جلدی کر دی جاتی ہے۔”
”ہاں ! پہلی شادی اسی عمر میں کر دی جاتی ہے۔”
”کیا مطلب ہے تمہارا؟”
”میرا مطلب بہت صاف ہے گرینی اور آپ جانتی ہیں کہ میں کیا کہہ رہاہوں۔ آپ خود شاہد ہیں کہ ہماری فیملی میں لڑکیوں کی کم عمری میں کی جانے والی شادیوں میں سے گنتی کی شادیاں کامیاب رہتی ہیں۔”
”عمر تم۔۔۔”
عمر نے ان کی بات کاٹی تھی۔

”گرینی ! پلیز میری بات سنیں۔ آپ نے ثمینہ پھوپھو کی شادی بھی بہت کم عمری میں کر دی تھی۔ نتیجہ کیا نکلا، اور اگر آپ علیزہ کی شادی ابھی کر دیں گی تو اس پر بہت ظلم کریں گی۔”
نانو نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھاتھا۔
”تم ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے کہ مجھے ان باتوں کے بارے میں سمجھانے لگو۔”
”میں آپ کو سمجھا نہیں رہا ہوں میں تو آپ کو صرف بتا رہا ہوں، کہ آپ ٹھیک نہیں کر رہی ہیں شادی علیزہ کے پرابلمز کا حل نہیں ہے۔”
”عمر !تم ابھی چھوٹے ہو اور اتنے میچور بھی نہیں ہو کہ ان باتوں کو سمجھ سکو۔”
نانو نے بڑی متانت سے اس کو کہا تھا۔
”گرینی ! ان باتوں کو سمجھنے کے لئے میچورٹی کی ضرورت ہے اور نہ ہی عمر کی جس واحد چیز کی ضرورت ہے وہ کامن سینس ہے اور میرا خیال ہے۔ یہ چیز میرے پاس ہے۔”
نانو کچھ دیر تو اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں بول سکی تھیں۔ وہ صرف خاموشی سے دیکھتی رہیں۔
”علیزہ کے ساتھ یہ نہ کریں وہ بالکل بچی ہے۔”
عمر نے دھیمے لہجے میں نانو سے کہا تھا۔
وہ بچی نہیں ہے سترہ سال کی ہو چکی ہے۔”
نانونے مستحکم آواز میں کہاتھا۔

”سو واٹ گرینی سترہ سال پر آپ اس کی زندگی ختم کر رہے ہیں۔ میں اپنی فیملی کو سمجھ نہیں سکا بعض چیزوں میں اتنے براڈ مائنڈڈ بعض میں اتنے اڑیل، اتنے کنزرویٹو ، اتنے نیرومائنڈڈ اتنے Paradoxتو نہیں ہونے چاہئیں آپ کی زندگی میں۔” وہ جیسے پھٹ پڑا تھا۔
گرینی نے بڑے پرسکون انداز میں اس کی بات سنی۔
”عمر ! تم خواہ مخواہ جذباتی ہو رہے ہو۔ میں نے جس شخص کو اس کے لئے منتخب کیا ہے وہ اسے بہت خوش رکھے گا۔”
”کس شخص کا انتخاب کیا ہے آپ نے اس کے لئے؟”
اس نے کچھ متجسس ہو کر پوچھا تھا۔
”اسامہ کا، حسینہ نے دو سال پہلے مجھ سے علیزہ کے بارے میں کہا تھا ، ابھی دوبارہ پوچھا ہے اس نے۔” نانو نے بڑے اطمینان سے بتایا تھا۔ عمر طنزیہ انداز میں مسکرانے لگا تھا۔
”ساری دنیا میں آپ کو علیزہ کے لئے اسامہ ہی ملا ہے۔”
نانو نے اسے خفگی سے دیکھا مگر عمر نے اپنی بات جاری رکھی تھی۔
………
”اور آپ کو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ اسامہ علیزہ کو بہت خوش رکھے گا۔”
”کیوں اب کیا تکلیف ہو گئی ہے تمہیں؟”
نانو نے اس بار کچھ جل کر کہاتھا۔
”اسامہ علیزہ کو کیا کسی لڑکی کو خوش نہیں رکھ سکتا بیوی کے روپ میں۔ ہاں اگر بیوی کا رشتہ نہ ہو تو اسامہ علیزہ کو کیا ہر لڑکی کو خوش رکھ سکتا ہے۔”
”فضول بکواس مت کرو۔”
”یہ فضول بکواس نہیں ، یہ سچ ہے!”
”تمہاری تو اسامہ کے ساتھ بہت دوستی ہے۔”
”دوستی ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں اس کے بارے میں سچ نہ بولوں۔”
وہ تابڑ توڑ جواب دے رہا تھا۔
”اسامہ ایک گرومڈ ،نائس لڑکا ہے۔”
”گرومڈ ، نائس اور کلچرڈ ہونے کا مطلب نہیں ہے کہ وہ ایک اچھا شوہر بھی ثابت ہو۔”
”وہ ایک دو بار علیزہ سے ملا ہے۔ اسے وہ اچھی لگی ہے اور اس نے خود ہی ماں سے علیزہ کے لئے کہا ہے۔”
”گرینی ! اسے ہر لڑکی اچھی لگتی ہے۔”
”بکو مت!” نانو نے اسے جھڑکا تھا۔.
”اس میں بکنے والی کونسی بات ہے۔ میں آپ کو سچ بتا رہا ہوں آپ اس کو مجھ سے اچھی طرح تو نہیں جان سکتیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ وہ کیلی فورنیا یونیورسٹی میں میرے ساتھ پڑھتا رہا ہے۔ وہ مجھ سے سینئر تھا۔ مگر کلاسز کے علاوہ اس کا سارا وقت میرے ساتھ گزرتا تھا۔ اسامہ اور علیزہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اس شخص کا ٹمپرا منٹ اور ہی طرح کا ہے۔ آپ میری بات لکھ لیں کہ یہ دونوں چار دن بھی ساتھ نہیں رہ سکتے۔ وہ علیزہ جیسی لڑکی کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا۔ وہ تو ویسے بھی بہت بڑا فلرٹ ہے۔”
عمر نے سنجیدگی سے گرینی کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
”شادی سے پہلے لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں۔”
اور گرینی نے اس کی بات کے جواب میں کہاتھا۔
”یہ لڑکا شادی کے بعد بھی ایسے ہی رہے گا۔ آپ میری بات یاد رکھئے گا۔”
”تم جانتے ہو، وہ کتنی اچھی پوسٹ پر کام کر رہا ہے۔ اس میں کچھ نہ کچھ گٹس توہوں گے کہ۔۔۔”
عمر نے ایک بار پھر سنجیدگی سے نانو کی بات کاٹ دی تھی۔
”جانتا ہوں کہ اس نے سی ایس ایس میں ٹاپ کیا تھا۔ جانتا ہوں کہ اس نے فل برائٹ سکالرشپ لیا ہے۔ جانتا ہوں اس نے اپنے کامن میں بھی بڑی شیلڈز لی تھیں۔ یہ بھی پتا ہے کہ وہ اس وقت اپنے کامن میں سب سے اچھی پوسٹ پر ہے، اور آگے بھی وہ بہت ترقی کرے گا۔ مگر ان سب باتوں سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ایک اچھا شوہر بن سکتا ہے۔زیادہ سے زیادہ جو بات ثابت ہوئی ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک اچھا بیوروکریٹ ہے۔ مگر اچھا شوہر ثابت ہونے کے لئے اچھا انسان ہونا ضروری ہے اورمجھے بڑے افسوس سے آپ کو یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ اسامہ اچھا انسان تو ایک طرف اس میں انسانیت نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں ہے۔”
”عمر! تم خواہ مخواہ پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ گئے ہو، جو حرکتیں وہ کرتا رہا ہے ، وہ سارے لڑکے کرتے ہیں تم بھی تو کوئیsaint نہیں ہو۔”

”میں نے کب یہ دعویٰ کیا ہے کہ میں کوئی ولی ہوں، مگر آپ علیزہ کے ساتھ میری Match Making نہیں کروا رہی ہیں اس لئے مجھے تو آپ اس بحث سے ویسے ہی نکال دیں۔ بات اس وقت اسامہ کی ہو رہی ہے، لڑکے بے شک نوجوانی میں بہت سی حرکتیں کرتے ہیں، مگر حرکتوں میں بھی فرق ہوتا ہے اور لڑکوں میں بھی۔”
نانو پر اس کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ ”شادی کے بعد وہ ٹھیک ہو جائے گا۔”
”ٹھیک ہو گا مگر کتنے دن کے لئے، زیادہ سے زیادہ دو یا چار ہفتے کے لئے اس کے بعد آپ کیا کریں گی؟”
وہ اب بھی سنجیدہ تھا۔
”اسامہ کو اگر یہ پتا چل جائے کہ تم اس کے خلاف بول رہے ہو تو وہ تمہارے ہوش ٹھکانے لگا دے گا۔”
نانو نے اسے دھمکایا تھا ۔وہ بالکل بھی متاثر نہیں ہواتھا۔
”گرینی ! آپ گھر کے اندر رہنے والی عورت ہیں اس لئے آپ باہر کی دنیا کو نہیں جانتیں۔ باہر کی دنیا میں مرد جو کچھ کرتا ہے اس کا اثر گھر کے اندر کی زندگی پرہوتا ہے، اور علیزہ اور اسامہ کے ساتھ بھی یہی ہوگا۔ اسامہ کسی بھی رشتہ کو سنجیدگی سے نہیں لیتا اس کے لئے زندگی صرف ایک انجوائے منٹ ہے۔ علیزہ بہت حساس ہے وہ اس کے ساتھ نہیں چل سکتی، آپ جانتی ہیں، اسامہ علیزہ سے گیارہ سال بڑا ہے؟”
اس نے کچھ تیکھے انداز میں نانو سے پوچھا تھا۔
………..
”عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، بلکہ زیادہ عمر والا مرد اچھے طریقے سے بیوی کو رکھ سکتا ہے۔”
”اور وہ اس صورت میں ہوتا ہے اگر مرد کی عمر اٹھائیس کے بجائے اٹھاون سال ہو اور بیوی کی عمر سترہ کے بجائے ستائیس سال ہو اور شوہر اسامہ اور بیوی علیزہ نہ ہو۔”
”تمہارا خیال ہے،کہ میں سوچے سمجھے بغیر ہی علیزہ کی شادی کر نا چاہ رہی ہوں؟”
نانو نے خفگی سے اس سے پوچھا تھا۔
”گرینی ! اگر آپ واقعی سوچ سمجھ کر یہ سب کچھ کر رہی ہوتیں تو جو کچھ میں نے آپ کو بتایا ہے آپ نے اس پر غور ضرور کیا ہوتا۔ کیا آپ نے ثمینہ پھوپھو سے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ آپ علیزہ کی شادی کرنا چاہتی ہیں؟”
عمر نے نانو سے پوچھا تھا۔
”عمر ! مجھے علیزہ کی شادی کی جتنی جلدی ہے اس کے باپ کو اس سے بھی زیادہ جلدی ہے، اس لئے پہلے تو تم یہ بات ذہن میں رکھو کہ علیزہ کی شادی میں مجھ سے زیادہ اس کا باپ انٹرسٹڈ ہے۔ جہاں تک ثمینہ سے بات کرنے کا تعلق ہے تو ظاہر ہے میں نے اس سے بات کی ہے تب ہی یہ سب کچھ کہہ رہی ہوں وہ دونوں چاہتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو جلد از جلد پو را کر دیں۔”
”ذمہ داری پوری کرنا ایک بات ہوتی ہے اور ذمہ داری سے جان چھڑا نا دوسری بات۔جو کچھ ثمینہ پھوپھو اور ان کے سابقہ شوہر کرنا چاہتے ہیں وہ ذمہ داری سے جان چھڑانا کہلاتا ہے۔”
”عمر ! تم خوامخواہ دوسروں کے معاملے میں دخل اندازی کیوں کر رہے ہو؟”
”میں اس لئے دخل اندازی کر رہا ہوں کیونکہ مجھے علیزہ سے ہمدردی ہے۔ گرینی ! اس نے زندگی کو نہیں دیکھا ہے زندگی کے بارے میں سرے سے اس کا کوئی نظریہ ہی نہیں ہے۔ اس کا کینوس بہت ہی محدود ہے۔ اس کے لئے زندگی ایک ٹرائی اینگل ہے۔ ثمینہ پھوپھو، اس کے پاپا، اور یہ گھر …باہر کی دنیا کیا ہے یہ جاننے کا آپ نے اسے موقع ہی نہیں دیا اور نہ ہی آپ دینا چاہتے ہیں اپ اسے ایک پنجرے سے دوسرے پنجرے میں ٹرانسفر کر دینا چاہتے ہیں۔ میرا نہیں خیال ہے کہ اس نے اپنی زندگی کے حوالے سے کوئی بھی خواب دیکھے ہوں گے اس کے خوابوں میں بھی ثمینہ پھوپھو اس کے پاپا اور آپ لوگ ہی ہوں گے۔ اسامہ بہت چالاک ہے۔ وہ گزارہ نہیں کر سکتاعلیزہ کے ساتھ۔”
”اچھا ٹھیک ہے اسامہ مناسب نہیں ہے اس کے ساتھ تو ایک دو اور پرپوزل بھی ہیں اس کے لئے میں ان میں سے کسی کو دیکھ لوں گی۔”
”یعنی آپ کو شادی ضرور کرنی ہے اس کی؟”
وہ کچھ جھنجھلا یا تھا۔ ”شادی نہ کروں تو پھر کیا کروں۔”
نانو نے اس سے تیکھے انداز میں پوچھاتھا۔
”اے پڑھنے دیں۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے دیں بلکہ ہو سکے تو باہر بھیج دیں۔ دنیا کو دیکھنے دیں، لوگوں کو سمجھنے دیں ذہنی طور پرکچھ میچور ہونے دیں۔ پھر اس کی شادی کریں تاکہ جس کے ساتھ بھی اس کی شادی ہو وہ وہاں ایڈ جسٹ ہو سکے۔ اپنی اور دوسروں کی زندگی خراب نہ کرے۔”
”اور اس کے باپ سے کیا کہوں؟”
”سمجھائیں انہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انہیں آخر کیا تکلیف ہے ، علیزہ ان کے پاس نہیں رہتی۔ انہیں تو کچھ کرنا نہیں پڑتا تو پھر انہیں اس کی شادی میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟”
”وہ اس کا باپ ہے ، اور علیزہ اس کے ساتھ ہو یا نہ ہو بہرحال وہ اس کے بارے میں سوچتا ہو گا۔ جب تم باپ بنو گے اور بیٹی کے باپ تو پھر تمہیں ان چیزوں کا احساس ہو گا۔”
”اول تو میں شادی نہیں کروں گا اور اگر کی بھی تو کم از کم اس طرح کا باپ نہیں بنوں گا۔ میں اپنی بیٹی کو اتنی آزادی تو ضرور دوں گا کہ وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارے، اور کم از کم میں سترہ سال کی عمر میں اس کی شادی کرنے کے بارے میں نہیں سوچوں گا۔”
اس نے کچھ جتانے والے انداز میں گرینی سے کہاتھا۔
”آپ ثمینہ پھوپھو سے بات کریں، کہ ابھی علیزہ شادی کے قابل نہیں ہے۔ اسے اپنی زندگی کو سمجھنے کے لئے ابھی چند سال دیں۔”
”عمر ! تم سمجھتے …۔۔۔” عمر نے ان کی بات کاٹی دی تھی۔
”گرینی ! اس میں ہرج کیا ہے۔ اگر اب شادی کرنے کی بجائے چند سال بعد اس کی شادی کر دی جائے، کیاآپ نے علیزہ سے پوچھا ہے اس کی شادی کے بارے میں؟”
ایک خیال آنے پر اس نے گرینی سے پوچھا۔
”علیزہ سے بھی پوچھ لوں گی، جب شادی طے ہو جائے گی۔ تو اس سے بھی پوچھ لوں گی ابھی تو بات چیت چل رہی ہے۔” عمر نے حیرانی سے گرینی کو دیکھا ۔
”یعنی آپ علیزہ سے پوچھے بغیر اس کی شادی طے کر رہی ہیں۔ گرینی! آپ کو کیا ہوگیا ہے؟”
”کیوں کیا ہوگیا ہے مجھے؟”
”جس لڑکی کی آپ زندگی کا فیصلہ کر رہی ہیں۔ اس سے پوچھنے تک کی زحمت نہیں کی آپ نے اگر اسے اعتراض ہوا تو پھر آپ کیا کریں گی؟”
”علیزہ اعتراض نہیں کرے گی۔ میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں۔”
”پھر بھی گرینی! اس کا حق ہے کہ اس کی شادی کے بارے میں اس سے پوچھا جائے۔ ابھی آپ جلد از جلد اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہیں مگر ایک دو سال کے بعد وہ پھر ڈائی وورس لے کر آپ کے پاس موجود ہوگی شاید اپنی ہی جیسی کوئی اور بچی لے کر پھر آپ کیا کریں گی؟” عمر نے تلخی سے کہا تھا….
……..
”اتنی ہولناک تصویر پیش مت کرو میرے سامنے اسامہ آخری چوائس تو نہیں ہے اس کے بجائے کسی اور پر غور کیا جاسکتا ہے۔”
”چند سال بعد شادی نہیں کرسکتیں اس کی؟” عمر نے ایک گہری سانس لے کر کہا۔
”کر سکتی ہوں اگر۔۔۔” نانو کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔
”اگر؟” عمر نے چونک کر پوچھا تھا۔
”کیا تم شادی کرو گے اس سے؟” وہ ان کے اس سوال پر ساکت رہ گیا تھا۔
چند لمحے وہ کچھ کہے بغیر نانو کا چہرہ دیکھتا رہا جو بہت پرسکون اور سنجیدہ نظر آرہی تھیں۔ اس نے اندازہ لگانے کی کوشش کی کیا وہ مذاق تھا یا… مگر وہ کوئی اندازہ نہیں لگاپایا۔ پھر ایک گہری سانس لے کر اس نے ہلکی آواز میں نانو سے کہا۔
”مجھ میں اور اسامہ میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔”
”کیا مطلب؟”
”گرینی! میں نے آپ کو جو کچھ اسامہ کے بارے میں بتایا ہے وہی سب آپ میرے بارے میں بھی سچ مان لیں۔”
”عمر! میں تمہاری بات سمجھ نہیں رہی۔”
”میں بھی اسامہ سے بہتر نہیں ہوں جو برائیاں اس میں ہیں، وہی مجھ میں بھی ہیں۔ میں بھی علیزہ کو خوش نہیں رکھ سکتا۔” اس کی سنجیدگی میں کچھ اور اضافہ ہوگیا تھا۔
نہ تم علیزہ کو خوش رکھ سکتے ہو نہ اسامہ رکھ سکتا ہے۔ کسی تیسرے کا نام لوں گی تو تم اس میں بھی سو برائیاں گنوا دو گے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ علیزہ کی شادی سرے سے کی ہی نہ جائے۔” نانو کا لہجہ طنزیہ تھا۔
”گرینی میں۔۔۔” عمر نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن نانو نے کچھ تیز اور خشک لہجے میں اس کی بات کاٹ دی۔
”تم علیزہ کو خوش رکھ سکتے ہو لیکن تم اس سے شادی کرنا نہیں چاہتے۔”
”گرینی! میں سرے سے شادی کرنا ہی نہیں چاہتا۔”
”کیوں نہیں کرنا چاہتے؟”
” بس نہیں کرنا چاہتا۔”
”کوئی وجہ تو ہوگی نا؟” نانو اسے کرید رہی تھیں۔
”میں آزاد زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ کوئی ذمہ داری سر پر لینا نہیں چاہتا۔ ویسے بھی جب ہر چیز شادی کے بغیر مل رہی ہو تو خود کو خواہ مخواہ زنجیروں میں کیوں جکڑا جائے۔”
نانو اس کے جواب سے زیادہ اس کے اطمینان پر حیران ہوئی تھیں۔ ”تمہارا دماغ خراب ہے عمر؟”
”نہیں گرینی! میرا دماغ بالکل ٹھیک ہے۔ میری زندگی کے سارے راستے بالکل صاف اور واضح ہیں اور ان کے متعلق میرے دماغ میں کوئی ابہام (Ambiguity) نہیں ہے۔ میں نے اپنی ساری فیملی کی زندگی سے یہ سیکھا ہے کہ شادی نہیں کرنی چاہیے۔ زندگی گزارنے کیلئے شادی کوئی ضروری نہیں ہے۔ اس کے بغیر میں زیادہ اچھے طریقے سے رہ سکتا ہوں۔”
”جہانگیر کو پتا چلے نا تمہاری اس فلاسفی کا تو وہ تمہاری عقل ٹھکانے لگا دے۔”
”میں نے یہ فلاسفی ان ہی کی زندگی کا جائزہ لے کر بنائی ہے۔”
اس نے نانو کی بات پر خوفزدہ ہوئے بغیر کہا تھا۔ کچھ دیر نانو اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہہ سکیں۔ ”میں تم سے علیزہ کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔” کچھ دیر بعد انہوں نے پھر اس سے کہا۔
”علیزہ بہت کم عمر ہے۔ وہ ابھی تک خود کو سمجھ نہیں پائی تو مجھے کیسے سمجھ سکے گی اور شادی کوئی ایک دو دن کا ساتھ نہیں ہوتا۔ یہ ساری زندگی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھے بغیر زندگی کیسے گزاری جاسکتی ہے۔”
”چلو ٹھیک ہے۔ اب نہیں تو چار سال بعد تو وہ اس قابل ہوسکتی ہے کہ بقول تمہارے ایک اچھی بیوی کی تمام خصوصیات اپنے اندر پیدا کرلے۔ تب کرو گے تم اس سے شادی؟” نانو ابھی بھی اپنی بات پر مصر تھیں۔
عمر پر سوچ انداز میں ان کا چہرہ دیکھتا رہا پھر اس نے کہا۔ ”اگر آپ ابھی اس کی شادی ملتوی کردیتی ہیں تو میں وعدہ کرتا ہوں چار پانچ سال بعد ضرور اس سے شادی کے بارے میں سوچوں گا۔”
”صرف سوچو گے؟”
”گرینی! ہر چیز سوچنے سے ہی ہوتی ہے۔”
”مگر کوئی واضح یقین دہانی تو ہونی چاہیے۔”
”میں نے آپ سے کہا نا کہ میں سوچوں گا تو پھر آپ کو اعتبار ہونا چاہیے میری بات پر۔ ٹھیک ہے نا۔ اب آپ علیزہ کی شادی کے بارے میں کچھ مت کیجیے گا۔”
نانو کچھ دیر اسے دیکھتی رہیں اور پھر اچانک ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ لہرائی۔
”تم پسند کرتے ہو نا اسے؟”
وہ ان کی بات پر یک دم چونک گیا۔ ”گرینی! علیزہ کو کوئی بھی ناپسند نہیں کرسکتا۔”
”مگر تمہاری پسندیدگی کی نوعیت مختلف ہے۔” وہ اپنی بات پر مصر تھیں۔
”گرینی! میں۔۔۔” وہ اپنی بات مکمل نہیں کرسکا۔ علیزہ کرسٹی کو اٹھائے ہوئے ایک دم لاؤنج میں داخل ہوئی۔
اس کی آمد اتنی غیر متوقع اور اچانک تھی کہ نانو بھی کچھ گڑبڑا گئیں۔ عمر بات کرتے کرتے خاموش ہوگیا۔
علیزہ کرسٹی کے ساتھ صوفے پر بیٹھ کر خاموشی سے ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہوگئی۔ اس نے غور کرنے کی کوشش نہیں کہ عمر کون سی بات کہتے کہتے رک گیا تھا۔
عمر نے علیزہ کی آمدکو غنیمت جانا اور گرینی سے کسی کام کا بہانا کر کے اٹھ گیا۔ گرینی نے علیزہ کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی کیا اس نے ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی تھی۔ مگر علیزہ کا چہرہ بے تاثر تھا۔ وہ کوئی اندازہ نہیں لگا سکیں۔
٭٭٭
”پھر اب کیا طے کیا ہے تم نے؟” نانا اس دوپہر کو کھانے کی میز پر اس سے پوچھ رہے تھے۔
”نہیں گرینڈ پا! پہلے ہی مجھے یہاں بہت دیر ہوگئی ہے۔ اب مجھ کو واپس جانا ہے۔”
”مگر عمر! ابھی تم واپس جا کر کرو گے کیا! چار پانچ ماہ تک تمہارا رزلٹ آئے گا۔ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ تب تک یہیں رہو۔”
”رہنے میں کوئی ہرج نہیں ہے مگر پاپا کے ساتھ یہی طے ہوا تھا کہ پیپرز دینے کے بعد واپس آجاؤں گا اور انٹرویو کی تیاری وہیں کروں گا۔”
”مگر یہاں تم کو زیادہ آسانی ہوگی۔”
”آسانی کی تو خیر کوئی بات نہیں ہے، میرے لیے دونوں جگہ پر ایک ہی بات ہے مگر اب پاپا نے کہا تھا تو ظاہر ہے کہ میرے لیے ضروری ہے کہ واپس چلا جاؤں۔”
نانو نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔ ”جہانگیر سے میں خود بات کر لوں گی اس کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے، مگر تم فی الحال یہیں رہو۔”
نہیں گرینی! مجھے خود بھی وہاں کچھ کام نپٹانے ہیں اس لئے مجھ کو جانا ہو گا۔”
اس نے ایک بار پھر انکار کرتے ہوئے کہا۔
”بھئی، تمہیں اتنا پرابلم کس بات کا ہے؟”
”پرابلم کوئی نہیں ہے گرینی! بس میں اب کچھ اکتا گیا ہوں ایک ہی جگہ رہ کر… کچھ گھومنا پھرنا چاہتا ہوں۔”
”تو یہاں گھومو پھرو… تم نے پاکستان میں کچھ دیکھا ہی نہیں۔”
”یہاں گھومنے کیلئے کیا ہے گرینی؟”
”بہت کچھ ہے، ناردرن ایریاز کی طرف جاؤ گے تو حیران رہ جاؤ گے۔”
”کیوں وہاں ایسا کیا ہے؟”
”تم جاؤ گے تو پتا چلے گا نا کہ وہاں کیا ہے۔”
”گرینی! پہلے تو آپ نے لاہور کی تعریفوں کے انبار لگائے تھے… مگر لاہور میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اب ناردرن ایریاز کی تعریف کر رہی ہیں تو مجھے شک ہے کہ وہاں بھی کچھ نہیں ہوگا۔”
”تم مالم جبہ جاؤ گے تو تمہیں پتا چلے گا کہ میں سچ کہہ رہی تھی یا جھوٹ، اس کے علاوہ بھوربن دیکھنا، سوات اور گلگت چلے جاؤ، تم وہاں بہت انجوائے کرو گے۔” نانو نے پورا پلان سامنے رکھ دیا۔
”اچھا سوچوں گا۔” اس نے ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
”گرینی! اکیلا میں کیسے جاؤں۔ آپ کو پتہ ہے میں اکیلا کچھ بھی انجوائے نہیں کرسکتا۔”
”اکیلا جانے کی کیا ضرورت ہے۔ اپنے دوستوں اور کزنز کو ساتھ لے جاؤ۔” انہوں نے فوراً تجویز پیش کی۔
”دوست اور کزنز اتنے فارغ کہاں ہیں کہ میرے ساتھ چل سکیں۔”
”میں ولید کو فون کردوں گی۔ وہ تو فوراً چل پڑے گا تمہارے ساتھ۔” نانو نے اسے پوری طرح گھیر لیا۔
”اچھا میں پہلے پاپا سے بات کر لوں۔” اس نے ایک بار پھر جان چھڑانے کی کوشش کی۔

”میں نے کہا نا جہانگیر سے میں خود بات کر لوں گی۔”
”یعنی گرینی! آپ مجھ کو کسی طرح بھی یہاں سے نکلنے نہیں دیں گی۔” عمر نے کچھ بے چارگی سے کہا۔
” تمہیں چلے تو جانا ہی ہے پھر کیا ہے اگر کچھ عرصہ یہاں ہمارے ساتھ گزار لو۔”
”آپ ابھی تک تنگ نہیں آئیں مجھ سے؟”
”نہیں، تنگ کیوں آؤں گی۔” نانو نے کچھ خفگی سے کہا۔
”بہت خدمتیں کرنی پڑتی ہیں آپ کو میری اس لیے پوچھ رہا ہوں۔”
”نہیں! مجھے اچھا لگتا ہے۔ کم از کم کوئی مصروفیت تو ہے نا۔ گھر میں رونق ہے تمہاری وجہ سے۔”
نانو نے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔ عمر چند لمحے ان کے چہرے کو دیکھتا رہا پھر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے زیر لب کچھ کہا۔
٭٭٭
”ہیلو پاپا! میں عمر ہوں۔” کال ملنے پر اس نے کہا۔
”ہاں عمر! کیسے ہو؟”
”میں ٹھیک ہوں پاپا… وہ مجھے پوچھنا تھا کہ آپ نے ابھی تک میری سیٹ بک نہیں کروائی؟” اس نے پوچھا۔
”ہاں، وہ بس کچھ مصروفیت تھی۔” دوسری طرف جہانگیر معاذ نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
”تو پھر کب سیٹ بک کروا رہے ہیں؟”
”اتنی جلدی کیا ہے واپس آنے کی؟”
عمران کی بات پر حیران ہوا۔ ”پاپا آپ نے ہی کہا تھا کہ پیپرز کے فوراً بعد واپس آجاؤں۔”
”ہاں مگر… اب میں سوچ رہا ہوں کہ تم ابھی وہیں رہو۔”
”مگر کیوں پاپا!”
”وہاں رہ کر تم انٹرویو کی تیاری زیادہ بہتر طریقے سے کر سکو گے۔ تمہارے کزنز تمہیں اچھے طریقے سے گائیڈ کردیں گے۔”

”نہیں پاپا! میں آپ کے پاس آکر بھی بہت اچھی تیاری کر لوں گا۔ یہ کوئی اتنا مشکل نہیں ہے۔”
”نہیں نہیں۔ پھر بھی تمہیں وہیں رہ کر تیاری کرنی چاہیے۔” انہوں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
”پایا! کیا گرینی نے آپ سے کوئی بات کی ہے؟” اس نے کچھ بے چینی سے کہا۔
”کیسی بات؟”
”وہ مجھ سے کہہ رہی تھیں کہ میں ابھی واپس نہ جاؤں مگر میں نے ان سے کہا کہ مجھے فوری طور پر واپس جانا ہے۔ پھر وہ کہنے لگیں کہ میں خود آپ سے بات کرلوں گی۔”
”نہیں۔ انہوں نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی مگر ٹھیک ہے اگر وہ اصرار کر رہی ہیں تو پھر تم وہیں رہو۔”
”مگر پاپا! مجھے بہت سے کام ہیں امریکہ میں۔”
”کام بھی ہوجائیں گے۔ فی الحال تو میں یہ چاہتا ہوں کہ تم وہیں رہو۔”
”میں بور ہوگیا ہوں یہاں۔ امریکہ آؤں گا تو کچھ گھوم لوں گا۔ ریلیکس ہوجاؤں گا۔” اس نے اصرار کیا۔
”بور ہونے کی بات ہے تو میں تمہیں کسی دوسرے ملک کا ویزا لگوا دیتا ہوں تم کچھ دن وہاں سیر کرلو۔ اسپین چلے جاؤ یا پھر یونان۔یا جہاں بھی تم چاہو۔”
جہانگیر معاذ نے فوراً پیشکش کی۔ عمر الجھن کا شکار ہوگیا تھا۔ آخر وہ اسے امریکہ آنے سے کیوں روک رہے تھے۔
”پھر بھی پاپا۔۔۔”
”عمرضد مت کرو۔ جیسا میں کہہ رہا ہوں وہی کرو۔ میں خود بھی سوچ رہا ہوں کہ کچھ عرصے تک پاکستان کا ایک چکر لگا جاؤں۔” انہوں نے اسے مزید کچھ کہنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
‘پاپا! کچھ دن کیلئے ہی آنے دیں۔”

” جب میں پاکستان آؤں گا تو واپسی پر آجانا تم میرے ساتھ مگر ابھی نہیں۔ اب یہ بتاؤ کہ کہاں جانا چاہتے ہو تاکہ میں ویزا لگوا دوں؟”
انہوں نے ایک بار پھر بات کا موضوع بدل دیا۔
”کہیں بھی نہیں… پھر ٹھیک ہے’ میں یہیں ٹھیک ہوں۔ گرینی چاہ رہی تھیں کہ میں ناردرن ایریاز چلا جاؤں کچھ دنوں کیلئے تو پھر میں وہیں چلا جاتا ہوں۔”
اس نے خاصی بے دلی سے کہا۔
”ہاں یہ ٹھیک ہے تم نے پہلے یہ علاقے نہیں دیکھے۔ تم خاصا انجوائے کرو گے وہاں۔” انہوں نے فوراً اسے اجازت دے دی۔
”آپ کب تک پاکستان آرہے ہیں؟”
”ابھی کچھ فائنل نہیں ہے، کچھ دنوں بعد تمہیں دوبارہ فون کروں گا اور بتا دوں گا۔” انہوں نے اسے بتایا۔
”کچھ اور پوچھنا چاہتے ہو؟”
”نہیں۔”
”ٹھیک ہے پھر گڈ بائے۔” انہوں نے ساتھ ہی بات ختم کردی۔
”گڈ بائے۔” عمر خاصا بددل تھا اور بددلی کے ساتھ ساتھ وہ حیران تھا کہ پاپا اسے امریکہ کیوں آنے نہیں دینا چاہتے۔
٭٭٭
عمر نے دروازے پر دستک دی۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد قدموں کی چاپ ابھری اور دروازہ کھل گیا۔ علیزہ اسے دروازے پر دیکھ کر کچھ حیران ہوئی۔
”اندر آجائیں۔” وہ دروازے سے ہٹ گئی۔
”پیپرز کیسے ہوئے تمہارے؟” عمر نے اندر آتے ہی خاصی بے تکلفی سے پوچھا۔
”اچھے ہوگئے۔”
”گڈ!” وہ اب کمرے کا جائزہ لے رہا تھا۔
”کرسٹی کہاں ہے۔”
”وہ باہر ہے۔”
”آج کل کیا کر رہی ہو؟” وہ کمرے کے وسط میں کھڑا پوچھ رہا تھا۔
”کچھ بھی نہیں۔”
”میں بیٹھ جاؤں۔” اب اس نے کچھ جتانے والے انداز میں کہا۔
”ہاں بیٹھ جائیں۔”
”تھینک یو۔” وہ اطمینان سے ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
”میرے ساتھ سوات چلوگی؟”
”کیا؟” وہ اس غیرمتوقع سوال پرحیران رہ گئی۔
”ہاں بھئی! اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے۔ میں نے پوچھا ہے کہ میرے ساتھ سوات چلو گی؟” وہ اس کی حیرانی پر حیران ہوا۔
”آپ سوات جارہے ہیں؟”
”ہاں گرینی کی فرمائش بلکہ ضد پر… توپھر چلوگی؟”
”نہیں۔”
”کیوں؟”
”بس ایسے ہی۔”
”یہ بس ایسے ہی کیا ہوتا ہے۔ اگر نہیں جانا توکوئی وجہ بتاؤ۔”
”مجھے دلچسپی نہیں ہے۔”
”کم آن علیزہ! گھومنے پھرنے سے بھی دلچسپی نہیں ہے؟”
”نہیں۔”
”کیوں۔” ایک بار پھرپوچھا گیا، ایک بار پھر کہا گیا۔
”بس ایسے ہی۔”
”مگر میں تمہیں ساتھ لے کرجاؤں گا۔” اس نے اصرارکیا۔
”کیوں؟”
”کیونکہ تم آج کل فارغ ہو۔”
”نہیں۔ میں فارغ نہیں ہوں۔ مجھے بہت سے کام ہیں۔”
”کام ہوتے رہیں گے۔ تم چلنے کی تیاری کرو۔”
”نانو نہیں جانے دیں گی۔” اس بار اس نے نانو کا سہارا لیا۔
”کیوں؟”
”اکیلے کیسے آپ کے ساتھ جانے دیں؟”
وہ کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ ”میں اکیلا تو نہیں جارہا، ولید میرے ساتھ جارہا ہے۔ کچھ اور دوست بھی ہیں۔”
”پھر تونانو کبھی بھی جانے نہیں دیں گی۔”
”کیوں؟”
”یہ اچھی بات نہیں ہے، اس طرح آپ لوگوں کے ساتھ جانا۔”
”سو واٹ!” اس نے خاصی لاپروائی سے کہا۔ ”خیر ٹھیک ہے۔ تم نہیں جانا چاہتی تومیں مجبور نہیں کروں گا۔یہ بتاؤ تمہارے لیے وہاں سے کیا لاؤں؟”
وہ اب اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
علیزہ اس کی بات پر چونکی۔ ”میرے لیے؟”
‘ہاں بھئی تمہارے لیے… بتاؤ کیا لاؤں!”
”پتا نہیں۔”
”اب یہ بھی نہیں پتا۔” علیزہ اس باربھی خاموش رہی۔
”آپ نے تو شاید کچھ دن تک… میرا مطلب ہے، واپس چلے جانا تھا۔” علیزہ نے کچھ اٹکتے ہوئے اس سے پوچھا۔
وہ اس کی بات پر کچھ چونکا۔ ” اوہ! یہاں تو میرے جانے کا انتظار ہورہا ہے۔” عمر نے کچھ افسوس بھرے انداز میں کہا۔
علیزہ کچھ شرمندہ ہوگئی۔
”ہاں جانا تو تھا لیکن بس پاپا ابھی بلوانے پر تیار نہیں ہیں اور گرینی بھیجنے پر۔ اس لیے آپ کو کچھ اورعرصہ مجھے برداشت کرنا پڑے گا علیزہ!”
علیزہ کو کچھ مایوسی ہوئی۔ اب تو اس کے پیپرز بھی ہوچکے ہیں پھر اب یہ کیوں نہیں جارہا؟ اس نے کچھ بے دلی سے سوچا۔
عمر بڑے غور سے اس کے چہرے پر ابھرنے والے تاثرات کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر پھیلنے والی مایوسی اس کی تیز نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکی۔
”تم چاہتی ہو، میں چلا جاؤں؟” اس نے علیزہ سے پوچھا۔
”میں نے یہ کب کہا!”
”تم نے کہا نہیں لیکن۔۔۔”
”آپ نے خود ہی کہا تھا کہ آپ پیپرز کے بعد واپس چلے جائیں گے۔ اس لیے میں نے پوچھ لیا۔” اس نے عمر کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ وہ اس کی بات کے جواب میں کچھ دیر خاموش رہا۔
”اب یہاں سے جاتا کیوں نہیں؟” وہ اپنے کمرے میں اس کی مستقل موجودگی سے تنگ آگئی تھی۔
”کچھ دن دیر سے سہی مگر مجھے یہاں سے چلے جانا ہے میں یہاں ہمیشہ رہنے کیلئے نہیں آیا۔ مگر یہاں سے جانے کے بعد میں تمہیں مس کروں گا۔”
وہ یک دم سنجیدہ نظر آنے لگا۔ علیزہ نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔
”تم مس کرو گی مجھے؟” اس نے یک دم علیزہ سے پوچھا۔ وہ اس کے غیر متوقع سوال پر بس اسے صرف دیکھ کر رہ گئی۔
”میں شکر کروں گی کہ تم یہاں سے چلے گئے۔” اس نے دل میں سوچا اور جواب میں کہا۔ ”پتا نہیں۔”
”مگر مجھے پتا ہے۔ تم شکر کرو گی کہ میں یہاں سے چلا گیا۔” ایک لمحے کیلئے اس کا دل دھڑکنا بھول گیا۔
”کیا یہ شخص ٹیلی پیتھی جانتا ہے؟” اس نے فق چہرے کے ساتھ اسے دیکھا جواب مسکرا رہا تھا۔
”نہیں، مجھے ٹیلی پیتھی نہیں آتی۔ میں بس چہروں کو پڑھ لیتا ہوں۔”
وہ ایک بار پھر حیران ہوئی۔ عمر جیسے اس کی ہر سوچ سے آگاہ تھا۔
”ویسے علیزہ تمہیں کیا سب کزنز اتنے ہی برے لگتے ہیں؟”
”کیا مطلب؟” وہ اس کی بات پر الجھ گئی۔
”مطلب۔۔۔”وہ خود بھی اپنے سوال پر غور کرنے لگا۔
”مطلب یہ کہ کیا اسامہ بھی اتنا ہی برا لگتا ہے جتنا میں؟”
”مجھے آپ بھی برے نہیں لگتے۔”
”مگر اسامہ زیادہ اچھا لگتا ہوگا۔” وہ پتا نہیں کیا جاننا چاہتا تھا۔
”پتا نہیں، میں نے غور نہیں کیا۔ وہ بھی یہاں بہت کم آتے ہیں۔” اس نے کچھ سوچ کر کہا۔
”مگر آتا جاتا رہتا ہے؟”
”آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟” وہ پہلی بار چونکی..
”بس ویسے ہی گرینی بات کر رہی تھیں اس کے بارے میں اس لیے پوچھ رہا ہوں۔”
۔”
”جب یہاں اکیڈمی میں ٹریننگ حاصل کرتے تھے تو اکثر آیا کرتے تھے۔”
”تمہیں لگتا کیسا ہے وہ؟”
”ٹھیک ہیں۔”
”بس ٹھیک ہیں؟” وہ اب اسے کرید رہا تھا۔
”آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟” وہ اب اس کے سوالوں سے بے چین ہو رہی تھی۔
”میں… کچھ خاص نہیں… ایسے ہی پوچھ رہا تھا کہ وہ اتنا سمارٹ بندہ ہے۔ میری طرح تم اسے ناپسند نہیں کرتی ہوگی۔”
وہ یک دم بات کا موضوع بدل گیا۔ علیزہ اب اس کی گفتگو سے بری طرح بیزار ہوچکی تھی۔
”اسامہ بہت اچھا دوست ہے میرا۔” وہ اسی طرح کمرے کے وسط میں کھڑا بتا رہا تھا۔ وہ دلچسپی لیے بغیر اسے دیکھتی رہی۔
”ہم دونوں ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے رہے ہیں کیلی فورنیا یونیورسٹی میں۔ پھر اسکالر شپ پر آکسفورڈ چلا گیا۔”
اس کا دل چاہا وہ اس سے پوچھے کہ وہ اسے یہ سب کچھ کیوں بتا رہا ہے مگر وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
”گرینی کہہ رہی تھیں، تمہاری بڑی اچھی دوستی تھی اسامہ کے ساتھ؟” عمر نے دانستہ جھوٹ بولا۔
”کیا! میری دوستی؟” وہ حیران رہ گئی۔
”کیوں کیا تمہاری دوستی نہیں ہے؟”
”نہیں، وہ مجھ سے بہت بڑے ہیں۔ نانو کہتی تھیں میں انہیں بھائی کہا کروں۔ وہ بہت سنجیدہ رہتے تھے۔”
وہ نانو کے جھوٹ پر حیران ہو رہی تھی۔ عمر نے ایک گہرا سانس لیا۔
”اچھا! ہوسکتا ہے گرینی کو ہی غلط فہمی ہوگئی ہو۔” اس نے کہا۔
”ٹھیک ہے۔ میں اب چلتا ہوں۔” اس کے اگلے جملے پر علیزہ نے اللہ کا شکریہ ادا کیا۔
دروازہ کھولتے ہوئے اس نے ایک بار پلٹ کر علیزہ کو دیکھا۔ اسے یوں لگا جیسے وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا تھا مگر پھر وہ باہر نکل گیا۔
……..
جاری ہے۔