Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 4

۔۔۔۔۔۔۔
باب 4

وہ پرفیوم اپنے کمرے میں رکھ کر لاؤنج میں آگئی تھی۔ وہ پہلے ہی نانو کے پاس موجود تھا۔ نانو اسے دیکھ کر مسکرانے لگی تھیں۔
”عمر نے کون سا گفٹ دیا ہے تمہیں؟”
انہوں نے علیزہ کو دیکھتے ہی پوچھا تھا۔
وہ مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ ان کے پاس صوفہ پر بیٹھ گئی۔
”انہوں نے آپ کو بتایا نہیں؟”
اس نے عمر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا ، جو دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
”نہیں! وہ کہہ رہا تھا کہ یہ ایک سیکرٹ ہے ، مگر علیزہ آپ کو بتاسکتی ہے۔ ”
نانو نے بتایا تھا۔ علیزہ نے ایک بار پھر اسے دیکھا تھا۔
”پرفیوم دیا ہے۔ ”
اس نے آہستہ آواز میں بتایاتھا۔
”کونسا پرفیوم؟”
نانو کو تجسس ہوا۔
”Chanel 5”
”تمہارا فیورٹ پرفیوم۔ کیوں عمر ! تمہیں کیسے پتہ چلا ، کہ علیزہ کو پرفیوم سب سے زیادہ پسند ہے؟”
نانو نے عمر سے پوچھا۔
عمر نے اسے دیکھا تھا وہ نظریں چرا گئی تھی۔
”ہمیں ہر چیز کا پتہ ہو تاہے۔ ”
اس نے ایک جملے میں جواب دیاتھا۔
”اگلی بار میں علیزہ کو Joyدوں گا اور اس کے بعد ” Eternity ”
چند لمحوں کے بعد اس نے اپنا پروگرام بتایاتھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
علیزہ نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ نانو کو دیکھ رہا تھا، اس طرف متوجہ نہیں تھا۔ اس نے اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی۔
”کیا یہ……!”
اور وہ آگے نہیں سوچ سکی تھی۔
نانو نے اسے مخاطب کیا تھا۔
”دیکھ لو علیزہ عمر نے کتنی لمبی پلاننگ کر لی ہے۔ تمہیں بھی اسے کچھ دینا چاہئے۔ ”
وہ نانو کی طرف متوجہ ہو گئی تھی۔
”مجھے کیا دینا چاہئے ؟”
اس نے الجھے ہوئے انداز میں نانو سے پوچھاتھا۔
”بھئی یہ تو تمہیں سوچنا چاہئے۔”
انہوں نے اپنا دامن چھڑا لیاتھا۔
”گفٹ ہمیشہ بڑوں سے لیتے ہیں ، چھوٹوں سے نہیں اور علیزہ مجھ سے چھوٹی ہے۔ ”
عمر نے بڑی مہارت سے بات پلٹی تھی۔
”ہاں ! مجھے اگر کوئی گفٹ دینا ہی چاہئے تو گرینڈ پا!آپ ہی دے دیں۔ کیونکہ آپ مجھ سے بڑے ہیں۔”
”کیا گفٹ چاہئے ؟”
نانا کو بھی یک دم دلچسپی محسوس ہوئی تھی ۔
”کوئی بھی اچھی چیز،Armaniکا سوٹ، ڈینم کی جینز،کرسچن ڈی اور کی گھڑی، یا پھر Play Boy اور Lomaniکے پرفیومز۔ ”
اس نے ایک لمبی لسٹ گنوائی تھی۔
”اس سے بہتر نہیں کہ میں تمہیں چیک کاٹ کر دے دوں۔”
”ہاں یہ زیادہ بہتر آئیڈیا ہے۔ آپ بہت Innovative(جدت پسند) ہیں۔”
عمر نے شرارتی انداز میں کہا تھا علیزہ خاموشی سے ان کی نوک جھوک سنتی رہی تھی…..
………
نانو بہت سنجیدہ مزاج تھیں۔ وہ بہت زیادہ نہیں بولتی تھیں۔ مگر جب سے عمر آیا تھا سب کچھ بدل گیا تھا۔ وہ اب اکثر قہقہہ لگانے لگی تھیں عمر بہت باتونی تھا، اور اس کی حس مزاح بہت اچھی تھی۔ وہ ہر وقت کوئی نہ کوئی بات ضرور کر دیتا تھا جو ان کو قہقہہ لگا نے پر مجبور کر دیتی تھی۔ نانو عام دنوں میں صرف ضرورت کے وقت ہی بولتی تھیں، لیکن جن دنوں ان کے بچوں میں سے کوئی ان کے پاس رہنے آتا تو پھر ان دنوں وہ بہت خوش پھرا کرتی تھیں۔ مگر عمرکی آمد نے تو جیسے اس خوشی کو دوبالا کر دیا تھا۔ کسی اور کے آنے پر نانو اور نانا میں اتنی تبدیلیاں کبھی نہیں آئی تھیں ، جتنی عمر کے آ نے پر آ گئی تھیں۔
اس وقت بھی نانو کا موڈ ہی دیکھ رہی تھی۔ نانو اب عمر کی باتوں پر بے تحاشا ہنس رہی تھیں۔ وہ انہیں اپنے کسی دوست کا قصہ سنا رہا تھا۔ علیزہ کا دھیان کہیں اور ہی تھا۔
”کیا میری کسی بات پر نانو اس طرح سے ہنس سکتی ہیں؟”
اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی اور مایوسی سے غیر محسوس انداز میں سر کو جھٹک دیا تھا۔
”نہیں ،میری کسی بات پر تو یہ کبھی اس طرح نہیں ہنس سکتیں۔ بلکہ یہ تو مجھے بھی یہی کہتی ہیں کہ میں بھی بلند آواز میں نہ ہنسوں۔”
اس نے سوچا تھا۔
”کیا میں کبھی عمر کی طرح……!”
ایک بار پھر اس نے سوچنے کی کوشش کی تھی۔ ایک بار پھر اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیاتھا۔
”علیزہ ! تمہارے کتنے فرینڈز ہیں؟”
عمر نے اس سے پوچھا تھا۔
”کتنے؟”
وہ اس کے سوال پر کچھ حیران ہوئی تھی۔ چند لمحے تک اس نے کچھ جواب نہیں دیا۔
”جلدی گنتی کرو اور مجھے بتاؤ۔”
عمر نے اس کی خاموشی سے خود ہی نتیجہ اخذ کر لیاتھا۔
”کیا گنتی کروں؟”
وہ کچھ اور حیران ہوئی تھی ۔
”بھئی فرینڈز اور کیا۔”
عمر نے کہا تھا۔
”میری صرف ایک فرینڈ ہے۔”
”I can’t believe it! لڑکیوں کی کم از کم ایک دوست تو نہیں ہو سکتی۔”
عمر کو اس کی بات پر یقین نہیں آیا تھا، اور علیزہ اس کے چہرے کے تاثرات سے جھنجلا گئی تھی۔
”یار!لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ سوشل ہوتی ہیں، اور ظاہر ہے پھر فرینڈز تو بننا ہی ہوتے ہیں۔”
عمر کو فوراً ہی اس کی خفگی کا اندازہ ہو گیا۔ اس نے سنبھل کر ایک لاجک پیش کی۔
”میں بہت زیادہ سوشل نہیں ہوں۔”
اس نے جیسے جتایاتھا۔
۔۔۔۔۔۔
”But you should be.”، (لیکن تمہیں ہونا چاہئے)کیوں گرینی! میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔”
عمر نے بات کرتے کرتے دادو کی طرف دیکھا۔ وہ یکدم چپ سی ہو گئی تھیں۔
”نہیں عمر! لڑکیوں کے لئے زیادہ سوشل ہونا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ آج کل پتہ ہی نہیں ہو تا دوسرے لوگ کس طرح کے ہوں۔”
نانو نے کچھ محتاط ہو کر توجیہہ پیش کی۔
”What do you mean?”
وہ کچھ حیران ہو گیا تھا۔
”کچھ نہیں، بس ویسے ہی……اصل میں علیزہ کو زیادہ لوگوں میں مکس اپ ہونا اچھا نہیں لگتا۔”
نانونے بات کچھ بدلنے کی کوشش کی تھی ۔
”نہیں مگر ایک دوست تو بہت کم ہے۔”
وہ اب بھی حیران تھا،علیزہ کو اپنا آپ اس طرح سے زیر بحث لانا اچھا نہیں لگا تھا۔
”ہر ایک کی اپنی چوائس ہو تی ہے،مجھے اچھا لگتا ہے کہ میری بس ایک ہی فرینڈ ہو ،تو اس میں عجیب بات کون سی ہے؟”
اس بار علیزہ نے روکھے انداز میں عمر سے کہا تھا۔ وہ اس کی بات کے جواب میں کچھ کہتے کہتے رک گیا تھا۔ شاید وہ اس تاثرات سے اس کی اندرونی کیفیات سمجھ گیا تھا۔ علیزہ کو اچانک اپنے لہجے کے کھردرے پن کا احساس ہوا تھا اسے کچھ ندامت سی محسوس ہوئی۔
”ابھی ابھی اس نے مجھے اتنا قیمتی پرفیوم دیا ہے اور میں پھر بھی اس کے ساتھ اس طرح کر رہی ہوں۔”
اس نے جیسے اپنے آپ کو یاد دہانی کروانے کی کوشش کی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”میری فرینڈ بہت اچھی ہے۔ وہ اسکول سے میری فرینڈ ہے ،اس کے علاوہ اور کوئی مجھے اچھا نہیں لگا، بس اسی لئے یہی میری ایک ہی فرینڈ ہے۔”
اس نے جیسے عمر کی تشفی کرنے کی کوشش کی اس بار اس کا لہجہ کمزور تھا۔
”کیا آپ کے بہت سے فرینڈز ہیں؟”
اس نے صرف موضو ع بدلنے کے لئے پوچھا تھا۔
”ہاں! میرے بہت سے فرینڈز ہیں۔ مجھے فرینڈز بنانا بہت اچھا لگتا ہے۔ جیسے آج میں نے تم کو اپنی فرینڈ بنایا ہے۔”
عمر نے خوشگوار لہجہ میں اس سے باتیں کرتے ہوئے کہاتھا۔
”فرینڈز زیادہ ہوں تو زیادہ مزہ ہے۔”
”may be.”(ممکن ہے(
اس نے اختلاف کرنے کی بجائے مبہم انداز میں ہی جواب دے دیاتھا۔
وہ ایک بار پھر خاموش ہو گئی تھی۔ عمر نے اپنی گھڑی دیکھی اور پھر کھڑا ہو گیا تھا۔
”مجھے لائبریری جانا ہے، میں دو تین گھنٹوں تک واپس آ جاؤں گا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے نانو کو اطلاع دی تھی پھر وہ لاؤنج سے نکل گیاتھا۔ اس کے جانے کے کچھ دیر بعد وہ باہر لان میں نکل آئی تھی۔لان کے ایک کونے میں بیٹھ کر وہ کچھ دیر پہلے کے واقعات کے بارے میں سوچنے لگی۔ وہ عمر کے بارے میں کوئی حتمی اندازہ نہیں لگا پارہی تھی۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ عمر واقعی اتنا مخلص ہے جتنا وہ نظر آرہا ہے۔ یا پھر اس کے اندازے ٹھیک ہیں۔ وہ عمر کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اس کی شخصیت علیزہ کو بہت عجیب لگی تھی۔ اس کے موڈز گھڑی کی سوئیوں سے زیادہ تیز رفتاری سے بدلتے تھے۔ وہ جب بھی اپنے کمرے سے نکل کے لاؤنج میں آتا تو گھر میں جیسے زندگی کی ایک لہر دوڑ جاتی تھی،نانا، نانو سے لے کر ملازموں تک ہر کوئی اسے پسند کرتاتھا اور اس کی پسند ناپسند کا خیال رکھتا تھا۔
اس کے پاس یقیناً کوئی ایسی خوبی تھی جس سے وہ دوسروں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔ مگر علیزہ ابھی تک اس بارے میں بہت محتاط تھی۔ اسے آخر مجھے پرفیوم دینے کی کیا ضرورت تھی، وہ ابھی سوچ رہی تھی۔
”اس کا خیال ہو گا کہ میں گفٹ لے کر خوش ہو جاؤں گی، اور باقی لوگوں کی طرح وہ مجھ پر بھی قبضہ کر لے گا۔ مگر…!”
وہ اب الجھن میں گرفتار ہو گئی تھی کہ گفٹ کے بارے میں کیا سوچے۔
”کیا میں نے اس سے گفٹ لے کرٹھیک کیا یا پھر یہ میری غلطی تھی؟”
وہ ابھی تک سوچوں میں گم تھی۔ بہت دیر تک سوچوں میں گم رہنے کے بعد اس نے فیصلہ کیا تھا۔
”نہیں ! مجھے گفٹ واپس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ پھر نانو خفا ہو سکتی ہیں۔”
اسے خیال آیا تھا۔
”مگر میں اب دوبارہ اس سے کوئی گفٹ نہیں لوں گی کیونکہ مجھے اس سے دوستی نہیں کرنا ہے۔”
اس نے بالآخر طے کر لیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
چند دنوں بعد جب عمر نے اسے ایک اور پرفیوم دیا تو وہ انکار نہ کر سکی، اور پھر یہ ایک روٹین بن گئی تھی وہ جب بھی گھر سے باہر کسی کام کے لئے جاتا،اس کے لئے کچھ نہ کچھ لاتا رہتا۔ بعض دفعہ یہ بڑی معمولی چیزیں ہوتی تھیں۔ مثلاً آئس کریم کا ایک کپ، ایک بھٹہ، چیو نگم کا ایک پیکٹ، کبھی لیٹر پیڈ، کبھی ناول۔ وہ ہر بار یہ طے کرتی کہ اگلی بار اس سے کچھ نہیں لے گی، مگر اگلی بار خاموشی سے اس کا گفٹ لے لیتی۔ وہ اسے ہر چیز گفٹ کہہ کر ہی دیتا تھا۔
”علیزہ میں تمہارے لئے ایک گفٹ لایا ہوں۔ I swear ، (میں قسم کھا کر کہتا ہوں) ایسا گفٹ تمہیں پہلے کبھی کسی نے نہیں دیا ہو گا، بلکہ تمہیں کیا کسی نے بھی کسی کو نہیں دیا ہو گا۔”
وہ باہر سے آ نے پر کہتا اور وہ متجسس ہو جاتی۔
”اور یہ گفٹ ہے ایک عدد، بھٹہ۔”
اور وہ کاغذ میں لپٹا ہوا ایک عدد بھٹہ اس کی طرف بڑ ھا دیتا۔
”علیزہ! آج میں تمہارے لئے دنیا کی سب سے خاص چیز لے کر آیا ہوں، اور یہ چیز بہت ہی خاص لوگوں کو دی جاتی ہے۔”
اگلی بار اس کے الفا ظ کچھ اور ہوتے۔ علیزہ ایک بار پھر دلچسپی لینے پر مجبور ہو جاتی۔ وہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا اور Kit Kat کا ایک پیکٹ اسے تھما دیتا۔
”آج میں تمہیں دنیا کی سب سے خطرناک اور پر اثر چیز دوں گا۔”
علیزہ ایک بار پھر اندازے لگانے میں مصروف ہو جاتی وہ پچیس، تیس روپے کا ایک بال پوائنٹ اسے ایک مسکراہٹ کے سامنے پیش کر دیتا۔
”اس بار میں تمہیں ایک ایسا گفٹ دوں گا جو تمام عمر تمہارے ساتھ رہے گا، اور تم ساری عمر اس کو استعمال کرتی رہو گی۔”
علیزہ پھربوجھنے میں ناکام رہی، اور اسکے سامنے ایک کتاب پیش کر دی جاتی۔
اس بار میرا گفٹ سب سے unique(نادر)ہے۔ یہ تمہیں فٹ اورسمارٹ رکھے گا، اور تم کو کبھی، بھی ڈائٹنگ کرنا نہیں پڑے گی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
چیونگم کا ایک پیکٹ اس کے سامنے رکھ کر فرماتا۔
”بس تم ہر بار بھوک لگنے پر اسے منہ میں ڈال لینا۔”
وہ مزے سے کہہ کر چلا جاتا۔ بعض دفعہ اسے ہنسی آجاتی ، بعض دفعہ وہ الجھ جاتی۔ بعض دفعہ اسے غصہ آتا اور بعض دفعہ وہ عمر کے بارے میں سوچ میں پڑ جاتی۔
اس دن وہ مارکیٹ سے واپسی پر اپنے ساتھ کچھ پلانٹس لے کر آیا تھا۔
”دیکھو علیزہ! یہ پلانٹس کیسے ہیں ؟”
وہ ان پودوں کو علیزہ کو دکھا رہا تھا۔ آج کل وہ ہر بات میں علیزہ کی رائے لینا ضروری سمجھتا تھا۔
”میں قذافی سٹیڈیم کے پاس سے گزر رہا تھا وہیں سے انہیں لایا ہوں۔”
”اچھے ہیں!”
علیزہ نے ایک نظر ان پلانٹس کو دیکھا تھا اور پھر انہیں دیکھتے ہوئے ، بڑے عام سے انداز میں تبصرہ کیا تھا۔
وہ کچھ مایوس ہو گیا تھا۔
”صرف اچھے ہیں!”
علیزہ نے کچھ الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھاتھا۔
”تو پھر مجھے کیا کہنا چاہئے؟”
”اپنی رائے دو کہ اچھے ہیں تو کیوں اچھے ہیں، برے ہیں تو کیوں برے ہیں۔”
عمر نے اسے سمجھایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
”میں پلانٹس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی، اس لئے صحیح رائے دینا تو بہت مشکل ہے۔ آپ کو نانو سے پوچھنا چاہئے، آپ کو زیادہ بہتر طریقے سے بتا سکتی ہیں کہ یہ پلانٹس کیسے ہیں؟”
اس نے عمر سے کہا۔
”میں حیران ہوں کہ تمہیں گارڈننگ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہیں نیچر سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔”
”نہیں، ایسا نہیں ہے مجھے نیچر تو اٹریکٹ کرتی ہے گارڈننگ نہیں۔”
اس نے جیسے قطعی طور پر اسے بتایا تھا۔
”یہ پلانٹس کہاں سے لائے ہو؟”
نانو اسی وقت لاؤنج میں آئی تھیں۔
”قذافی سٹیڈیم سے۔ آپ بتائیں کیسے ہیں۔”
اس نے فوراً نانوسے رائے لینے کی کوشش کی تھی۔
”اچھے ہیں، بہت اچھے ہیں ، مگر قیمت کیا ہے ان کی؟”
نانو نے فوراً تعریف کی تھی مگر ساتھ ہی سوال بھی داغ دیا تھا۔
عمر نے انڈور پلانٹس کی قیمت بتائی تھی۔
”تمہیں زیادہ مہنگے دے دئیے ہیں ان لوگوں نے،ان کو پتہ چل گیا ہو گا کہ تم بہت دیر کے بعد یہاں آئے ہو ،اسی لئے انہوں نے تم سے دوگنی قیمت وصول کی ہے۔”
نانو نے قدرے افسوس سے کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”یہ کون سی نئی بات ہے گرینی!ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ یہ یہاں کا کلچر ہے۔ وہ کہتے ہیں “Make hay while the sun shines.”
اس نے بہت عجیب سے لہجہ میں کہا تھا۔ علیزہ نے کچھ چونک کر اسے دیکھا وہ اب بھی بول رہا تھا۔
”یہاں سب کچھ بہت خراب ہے، جو سو روپے کی کرپشن کر سکتا ہے وہ سو روپے کی کرپشن کرتا ہے، اور جو دو روپے کی کرپشن کر سکتا ہے وہ دو روپے کی کرپشن کرتا ہے، لیکن ان سب چیزوں سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ایک روپے کی چیز دس میں خرید کر کم از کم یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ دوسرا اپنے فائدہ کے لئے کسی حد تک جا سکتا ہے۔”
وہ پہلی بار اس طرح باتیں کر رہا تھا۔ ورنہ پہلے علیزہ نے ہمیشہ اسے صرف ٹوٹی سڑکوں اور ٹریفک جام کے بارے میں بولتے سنا تھا۔
”تم جوائن کرو گے نا سول سروس ، تو پھر تم چینج لانا، ان چیزوں میں جن پر تمہیں اعتراض ہے۔”
نانو نے اس سے کہا تھا۔
وہ یک دم کھلکھلا کر ہنسنے لگا۔
”آپ بھی بہت عجیب باتیں کرتی ہیں ، گرینی!
”آپ کا کیا خیال ہے کہ میں سول سروس یہ سب ٹھیک کرنے کے لئے جوائن کر رہا ہوں۔ مجھے سوشل ورک کا کوئی شوق نہیں ہے، اور ویسے بھی ایک آدمی کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا۔ میں بدلنا چاہوں بھی تو نہیں بدل سکتا۔ یہاں ہر چیز اتنی Rotten (خستہ) اور Rusted(پھپھوندی زدہ) ہے کہ جب تک اگر آپ ایک چیز ٹھیک کریں گے تو پہلے والی اس حالت میں آجاتی ہے۔ ویسے گرینی ! آپ نے کبھی اپنے بیٹوں کوکیوں نہیں کہا۔ آپ کے تو سارے بیٹے سول سروس میں ہیں۔ میری جنریشن کے لئے ریفارم کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ مگر مجھ سے پہلے کی جنریشن یہ کام آسانی سے کر سکتی تھی۔ تب لوگ اتنے بگڑے ہوئے نہیں تھے،انہیں کنٹرول کرنا بہت آسان تھا
۔۔۔۔۔۔
وہ اب سنجیدہ ہو گیا تھا۔
”جب تمہارے پاپا اور انکلز نے سول سروس جوائن کی تھی تو میں نے انہیں بھی بہت سی نصیحتیں کی تھیں۔ صرف میں نے ہی نہیں بلکہ تمہارے دادا نے بھی۔ میں آج تک حیران ہوں کہ وہ چاروں ، ان ساری نصیحتوں کو کیسے بھول گئے۔ مجھے نہیں پتہ ان چاروں کو زندگی میں کیا چاہئے تھا۔ میں نے اور معاذ نے انہیں دنیا کی ہر چیز دی تھی ہمارے پاس وہ سب کچھ تھا جو ایک خوشحال زندگی گزارنے کے لئے کافی تھا۔ میرا خیال تھا کہ ان چاروں کو ان چیزوں کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر میرا خیال غلط تھا۔ ان چاروں کو اپنی زندگی میں ہر چیز ایک کی تعداد میں نہیں بلکہ درجنوں کی تعداد میں چاہئے تھی۔ جب ذہن میں یہ سب کچھ ہو تو نصیحت الٹا اثر کرتی ہے۔ ان کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے ۔ میں نے جتنا انہیں سمجھانے کی کوشش کی ، وہ ……!”
عمر نے ان کی بات سنتے سنتے بات کاٹی۔
”اس سے ایک بات تو ثابت ہو جاتی ہے کہ گرینی! آپ کی باتوں میں اثر نہیں تھا یا پھر شاید آپ کے سمجھانے کا طریقہ غلط تھا۔ وجہ جو بھی ہو ، بہرحال اب تو سب کچھ جیسا ہو رہا ہے ہونے دیں۔ چیزوں کو اب بدلنا ناممکن ہے اور ناممکن کام کرنے کے لئے جن لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ویسے لوگ ہماری قوم میں نہیں ہیں۔ میں تو فارن سروس جوائن کرنے کے بعد ڈیڈی کی طرح عیش کرنا چاہتا ہوں، ویسی زندگی گزارنا چاہتا ہوں جیسی وہ گزار رہے ہیں۔ دیکھیں، بات کہاں سے کہاں چلی گئی،میں آپ سے پلانٹس کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔”
اس نے بات کا موضوع بدل دیا تھا۔ علیزہ بڑی بے زاری سے یہ ساری گفتگو سن رہی تھی۔
”میں ذرا ان پلانٹس کولگوا لوں۔ گرینی! آپ چلیں گی میرے ساتھ باہر لان میں؟”
۔
اس نے دادو کو انوائٹ کیاتھا۔
”نہیں بھئی مجھے باہر نہیں جانا۔ کچھ کام کرنے ہیں مجھے، تم خود ہی مالی کے ساتھ جا کر یہ پلانٹس لگوا لو۔”
نانو نے اس سے کہا۔
”میں اس لئے آپ کو ساتھ لے جانا چاہتا تھا تا کہ آپ لان میں جگہ سیلیکٹ کر لیں، ان پلانٹس کے لئے بعد میں آپ کو کوئی اعتراض نہ ہو کہ میں نے غلط جگہ پر پلانٹس کیوں لگوا دیئے ہیں۔
”نہیں ! مالی اچھا ہے ، وہ تمہیں بتا دے گا کہ یہ کہاں ٹھیک لگ رہے ہیں اور کہاں نہیں۔ تمہیں اس بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ ویسے بھی تم جہاں بھی پلانٹس لگواؤ گے مجھے برا نہیں لگے گا کیونکہ وہ تمہارے لگوائے ہوئے پلانٹس ہوں گے۔”
عمر نے نانو کی بات پر مسکرا کر انہیں دیکھاتھا۔ علیزہ نے نانو کی آنکھوں کی چمک کو کچھ اور گہرا ہوتے دیکھا اسے ان دونوں کی مسکراہٹیں بری لگی تھیں۔
”چلو علیزہ ! ہم دونوں پلانٹس لگواتے ہیں۔”
عمر نے کھڑے ہوتے ہوئے اسے آفر کی تھی۔
”میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا ہے،کہ مجھے گارڈننگ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ پھر آپ مجھے ساتھ لے جاکر کیا کریں گے۔”
علیزہ نے سنجیدگی سے اسے کہا تھا۔
”تم آؤ تو، دلچسپی بھی پیدا ہو ہی جائے گی۔ میں اسی لئے تو تمہیں ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔”
عمر نے بڑے ہشاش بشاش لہجہ میں اس سے کہا تھا۔
”نہیں میں نے آپ سے کہا ۔۔۔۔۔”
علیزہ نے ایک بار پھر کچھ کہنے کی کوشش کی تھی مگر نانو نے اس کی بات کاٹ دی تھی۔
”کم آن علیزہ ! جب وہ بار بار تم سے کہہ رہا ہے تو اتنا نخرہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ چلی جاؤ اس کے ساتھ۔”
علیزہ نے نانو کے چہرے کو دیکھا تھا،وہاں ناگواری کے تاثرات نمایاں تھے۔ وہ خاموشی سے کھڑی ہو گئی۔ عمر ملازم کو پودے اٹھانے کے لئے کہہ رہا تھا۔ وہ بجھے دل کے ساتھ باہر لان میں آ گئی تھی۔ کچھ دیر بعد عمر بھی لان میں نکل آیا تھا۔ وہ بے مقصد لان میں چکر لگانے لگی تھی۔
۔
عمر مالی کے ساتھ مل کر لان میں پودے لگوا رہا تھاگاہے بگاہے وہ علیزہ سے بھی رائے لے لیتا۔ وہ ہوں ہاں میں جواب دے کر اس کے پاس سے ہٹ جاتی۔ وہ مالی سے پودے لگواتے ہوئے خاصے غور سے اس کے چکروں کو دیکھتا اور کچھ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا۔
تقریباً ایک گھنٹے میں مالی نے سارے پودے لگا دئیے تھے۔ عمر نے واپس اندر جانے کی بجائے اپنے کمرے میں رکھے ہوئے ان ڈور پلانٹس بھی باہر ہی منگوالئے تھے۔ علیزہ نے بے زاری سے ملازم کو انڈور پلانٹس کوباہر لاتے دیکھا۔
”ان پلانٹس کی کٹنگ وغیرہ کر دیتے ہیں۔ پھر کل تک انہیں یہیں لان میں ہی رہنے دوں گا۔ تا کہ انہیں کچھ روشنی وغیرہ مل جائے۔ لو علیزہ ! تم بھی ان پلانٹس کو prune کرنا (تراشنا) شروع کر دو کام جلدی ختم ہو جائے گا۔”
اس نے علیزہ کو پاس بلا کر اسے ایک قینچی تھما دی تھی۔ وہ بے دلی سے پودوں کی کٹنگ کرنے لگی۔ عمر بڑی دلجمعی اور مہارت سے پودوں کی تراش خراش کر رہا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ ہر پودے کے باے میں بھی اسے کچھ نہ کچھ بتا رہا تھا۔ وہ گارڈینیا کی کٹنگ کر رہی تھی کہ اس نے عمر کو کہتے ہوئے سنا۔
”یہ میرا سب سے فیورٹ پلانٹ ہے۔”
وہ ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگی تھی۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ وہ اس پلانٹ کو دیکھ رہا تھا۔
”مجھے زندگی میں بہت زیادہ چیزوں میں دلچسپی نہیں ہے ، مگر جن چیزوں میں ہے ان سے بہت دلچسپی ہے۔ یہ سارے پلانٹس بھی ان ہی چیزوں میں شامل ہیں۔ پتہ ہے علیزہ! یہ پلانٹس بعض دفعہ مجھے اپنے فرینڈز کی طرح لگتے ہیں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے یہ میری آواز سنتے ہیں،شاید جواب بھی دیتے ہیں ، میں بہت چھوٹا تھا جب مجھے ان ڈور پلانٹس لگانے کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ شاید میں سات یا آٹھ سال کا تھا جب اپنے ہاتھوں سے ایک پلانٹ لگا یا تھا بعد میں تو جیسے عادت سی ہو گئی۔ یہ کمرے میں ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کمرے میں کوئی اور زندہ چیز موجود ہے، جو سانس بھی لیتی ہے ، اور شاید میرے وجود کو بھی محسوس کر لیتی ہے۔”
علیزہ کو اس وقت یوں لگا جیسے اس کا دماغ خراب ہے۔ اس نے کچھ دیر حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔
”تم سوچ رہی ہو گی میرا دماغ خراب ہو گیا ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر نے اس کا ذہن پڑھ لیا تھا۔
وہ گڑ بڑا گئی تھی ۔
”تم اگر ایسا سوچ رہی ہو تو غلط نہیں سوچ رہی۔ ہو سکتا ہے۔ میرا دماغ واقعی خراب ہو گیا ہو مگر میں جس کلچر جس سوسائٹی سے آیا ہوں، وہاں سب کے دماغ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ جب انسانوں سے آپ کی محبت ختم ہو جائے توپھر چیزوں سے محبت شروع ہو جاتی ہے۔ اس لئے باہر لوگوں کو ، جانوروں سے محبت ہوتی ہے ، پلانٹس سے محبت ہوتی ہے، پینٹنگز سے محبت ہوتی ہے۔ میوزیم ، آرٹ گیلریز اور تھیٹر سے محبت ہوتی ہے۔ میں بھی اسی ماحول میں پیدا ہوا ہوں وہیں بڑا ہوا ہوں مجھے بھی انسانوں کے بجائے چیزوں سے زیادہ محبت ہے۔ ٹھنڈے ملک میں رہتے رہتے بعض دفعہ مجھے لگتا ہے کہ میں بھی cold blooded ، جانور بن گیا ہوں۔”
وہ بات کرتے کرتے اچانک قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا تھا۔
”ہے نا مزے کی تھیوری؟ Cold blooded animal!”
اس نے علیزہ سے پوچھا تھا، مگر علیزہ کو یوں محسوس ہو ا کہ جیسے اسے اس کی رائے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وہ خود ہی اپنے جملے کو انجوائے کر رہا تھا۔ سنجیدہ گفتگو کرتے کرتے وہ اچانک مذاق کرنے لگا تھا۔ وہ کچھ دیر غور سے اسے دیکھتی رہی، جیسے اسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو ، اور عمر جہانگیر سے یہ بات چھپی نہیں رہ سکی تھی۔ وہ کچھ بولتے بولتے بات بدل گیاتھا، بڑی مہارت کے ساتھ اس نے سب کچھ کیمو فلاج کر لیا تھا، اور یہ کام کرنے میں کوئی اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
”وائٹ کلر مجھ پر بہت اچھا لگتا ہے ، ہے نا علیزہ ؟”
اس نے یک دم سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں آ نکھیں ڈال کی بڑی بے خوفی اور بے تکلفی سے پوچھاتھا۔
”اور خاص طور پر Versaceکی شرٹس۔”
علیزہ اس کے سوال سے زیادہ مسکراہٹ سے گڑ بڑائی تھی۔
”ایسے سوال کی کیا تک بنتی ہے؟”
اس نے عمر جہانگیر کے چہرے سے نظر ہٹاتے ہوئے کچھ جھینپ کر کہا تھا۔
”مجھے کیا پتہ کون سا کلر اچھا لگتا ہے؟”
وہ ہاتھ سے سامنے رکھے ہوئے پلانٹس کو سنوارنے لگی تھی۔
”اوہ……میں نے سوچا ، شاید یہ کلر بہت سوٹ کر رہا ہے۔ اس لئے تم اتنی دیر سے اور اتنے غور سے میرا چہرہ دیکھ رہی ہو۔”
۔
علیزہ نے عمر کے چہرے کو دیکھا تھا ، جس پر مایوسی چھا ئی ہو ئی تھی۔ اسے ان تاثرات کے اصلی یا نقلی ہونے کو شناخت کرنے میں دیر نہیں لگی تھی۔ وہ اب پھر اطمینان کے ساتھ پلانٹس کے ساتھ مصروف تھا۔
”مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں آپ کو ”غور” سے دیکھوں۔ میں آپ کو صرف ”دیکھ” رہی تھی۔”
اس نے سرخ ہوتے ہوئے چہرے کے ساتھ وضاحت کی تھی۔
”اور کافی دیر سے بھی تو دیکھ رہی تھیں۔” ”دیرسے اس لئے دیکھ رہی تھی کیونکہ آپ بات کر رہے تھے۔” اس نے جیسے احتجاجاً کہا تھا۔
”اچھا سوری مجھے ایسے ہی غلط فہمی ہو گئی۔ اصل میں لیو(اسد) ہوں نا اس لئے مجھے ایسی غلط فہمیاں اکثر ہوتی ہی رہتی ہیں۔”
اس نے بڑے دوستانہ انداز میں معذرت کرتے ہوئے ، وضاحت کی تھی۔ مگر اس بار علیزہ نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ وہ ناگواری سے اپنے سامنے پڑے ہوئے پلانٹس کو دیکھتی رہی تھی۔ وہ خاموش ہو گیاتھا۔ اس نے قینچی اٹھا کراسے کن اَکھیوں سے دیکھا ، وہ کدال کے ساتھ مٹی نرم کر رہا تھا۔
علیزہ نے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ اپنے سامنے پڑے ہوئے پودے کی ایک بڑی شاخ کاٹ دی تھی۔ سر اٹھا کر اس نے ایک بار پھر عمر کی طرف دیکھا تھا، اور دھک سے رہ گئی تھی۔ وہ اسی کی طرف متوجہ تھا۔ بہت غور سے اسے دیکھتے ہوئے اس کا اپنا چہرہ بالکل بے تاثر تھا۔ وہ اندازہ نہیں کر پائی۔ کہ وہ کس وقت اس کی طرف کب متوجہ ہوا تھا، اور کیا اس نے دیکھ لیا تھا کہ وہ۔۔۔۔”
”سوری……پتہ نہیں یہ کیسے کٹ گئی، میں تو بڑی احتیاط سے انہیں کاٹ رہی تھی۔”
۔
اس نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہاتھا۔ اپنی بات کے جواب میں اس نے عمر جہانگیر کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ ابھرتے دیکھی تھی۔
”کوئی بات نہیں، ایسا ہو جاتا ہے۔ تم دیکھنا ، اب یہ بہت تیزی سے بڑھے گا اورپہلے سے زیادہ خوبصورت ہو جائے گا۔ مجھ سے جب بھی کوئی پلانٹ اس طرح کٹتا ہے تو وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھا ہو جاتا ہے۔”
اس نے عجیب سی منطق پیش کی تھی۔ وہ اس کی اس حرکت سے بالکل متاثر نہیں ہوا تھا۔ وہ دم سادھے ، ہونٹ بھینچے چند لمحوں تک دیکھتی رہی ، وہ ایک بارپھر پلانٹس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا پھر ایک دم وہ اٹھ کر اند ربھاگتی چلی گئی تھی۔
عمر جہانگیر نے پر سکون انداز میں سر اٹھا کر اسے بھاگتے ہوئے اندر جاتے ہوئے دیکھا تھا، پھر اس نے اس پودے کی کٹی ہوئی شاخ کو اٹھا لیاتھا۔ لاؤنج میں داخل ہونے سے پہلے اس نے مڑ کر ایک بار پیچھے دیکھا تھا تو عمر پودے کی اس کٹی ہوئی شاخ کو اٹھا رہا تھا۔ وہ غیر ارادی طور سے دروازہ میں رک گئی۔ وہ کچھ دیر تک اس شاخ پر ہاتھ پھیرتا رہاتھا۔ وہ دور سے اس کے تاثرات نہیں دیکھ پائی تھی۔ مگر دلچسپی سے اسے دیکھتی رہی۔ چند لمحوں کے بعد اس نے اسے اس شاخ کو پودے کے پاٹ میں گاڑتے دیکھاتھا۔ وہ کچھ حیران ہوتی ہوئی اندر آ گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

۔۔