Amarbail By Umerah Ahmed Readelle50103 Episode 25
Rate this Novel
Episode 25
امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 25
۔۔۔۔۔
باب27
”یہ نہیں پتا میں کب واپس آؤں گا؟” وہ اگلے دن ناشتے کی میز پر بیٹھا نانو اور نانا کو بتا رہا تھا۔
”مگر لئیق کے پاس اتنی دیر رہنے کی کیا تک ہے… تم بس سا ئیکالوجسٹ سے ملو پھر واپس آجاؤ۔”
نانا نے عمر سے کہا، علیزہ نے انڈا چھیلتے ہوئے عمر کو دیکھا۔ وہ بہت الجھا ہوا نظر آرہا تھا۔
”میں کچھ نہیں کرسکتا، پاپا نے کہا ہے۔ مجھے وہیں رہنا پڑے گا۔” ناشتہ کرتے ہوئے اس نے کندھے اچکائے تھے۔
”لیکن پھر بھی ایک ماہ تو وہاں نہیں رہنا چاہیے… میں تو اداس ہوجاؤں گی۔” نانو نے عمر کے کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا۔ وہ مسکرانے لگا۔ ہاتھ بڑھا کر اس نے نانا کے پاس ٹیبل پر پڑے ہوئے نیوز پیپر کا شوبز والا صفحہ اٹھالیا۔
نانا پولیٹیکل اور ایڈیٹوریل صفحات دیکھ رہے تھے چائے کے کپ میں چمچ ہلاتے ہوئے اس نے صفحہ کھول لیا۔ علیزہ انڈہ چھیلنے کے بعد اپنی پلیٹ میں کانٹے کے ساتھ اس کے ٹکڑے کرنے میں مصروف ہوگئی۔ انڈے کے ٹکڑے کرنے کے بعد وہ نمک اورکالی مرچ shakers کی تلاش میں ٹیبل پر نظر دوڑانے لگی۔ وہ دونوں اسے عمر کے سامنے پڑے نظر آئے۔ وہ اس سے کافی فاصلے پر تھے۔ وہ ہاتھ بڑھا کر انہیں نہیں پکڑ سکتی تھی، وہ عمر سے انہیں پکڑانے کیلئے کہنا چاہتی تھی، مگر عمر کے چہرے پر نظر دوڑاتے وہ چونک گئی تھی۔ وہ شوبز کا صفحہ کھولے اس پر نظریں جمائے بالکل بے حس و حرکت تھا۔ ہونٹ بھینچے ہوئے اس کے چہرے کی رنگت سرخ ہو رہی تھی وہ حیران ہوئی وہ ایسی کون سی چیز پڑھ رہا تھا جس نے اسے یوں مشتعل کردیا تھا۔ وہ سب کچھ بھول کر اسے دیکھنے لگی۔
تب ہی نانو بھی اس کی طرف متوجہ ہوگئی تھیں۔
”عمر! کیا ہوا؟” انہوں نے یکدم تشویش بھری نظروں سے عمر کو دیکھا۔ نانا بھی اخبار سے نظریں ہٹا کراس کی طرف متوجہ ہوگئے۔
عمر نے نانو کی طرف دیکھا۔ علیزہ نے اس کی آنکھوں میں یک دم نمی امڈتے دیکھی پھر کچھ کہے بغیر وہ اخبار ٹیبل پر پٹخ کر ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ گیا۔
”عمر…! عمر…! کیا ہوا؟ مجھے بتاؤ تو۔”
نانو اسے آوازیں دیتی رہ گئی تھیں مگر وہ رکا نہیں۔ تیز قدموں کے ساتھ وہ ڈائننگ روم سے نکل گیا۔
نانا نے ہاتھ بڑھا کر شوبز کا وہ صفحہ اٹھالیا۔ ”آخر ایسی کیا چیزدیکھ لی ہے کہ اس طرح اٹھ کر چلا گیا۔” علیزہ نے نانا کو پریشانی کے عالم میں کہتے سنا۔ وہ اب اس صفحہ کا جائزہ لے رہے تھے۔ علیزہ اور نانو منتظر نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔ وہ کچھ دیر جائزہ لیتے رہے۔
”مجھے تو یہاں کچھ بھی ایسا نظر نہیں آیا جو اسے اس طرح مشتعل کردے۔” وہ بالآخر بڑبڑائے۔
”پلیزمعاذ! آپ دھیان سے دیکھیں۔ آخرکوئی تو چیز ہے نا جس نے اسے پریشان کیا ہے۔” نانو بہت پریشان تھیں۔
نانا ایک بار پھر اس صفحہ کا تفصیلی جائزہ لینے لگے تھے۔ علیزہ کی بھوک اڑگئی تھی۔
”آخر عمر اب کیوں پریشان ہوا ہے؟” وہ سوچ رہی تھی۔
”نانا پلیز مجھے دکھائیں، شاید مجھے پتا چل جائے۔” اس نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے اضطراب کے عالم میں اپنے نانا سے کہا مگر معاذ حیدر نے اخبار اس کی طرف نہیں بڑھایا۔ ان کے چہرے کا رنگ یک دم بدل گیا تھا۔ عمر کو کیا ہوا تھا وہ جان چکے تھے۔ کچھ کہے بغیر انہوں نے اخبار نانو کے سامنے رکھتے ہوئے ایک خبر کی طرف اشارہ کیا۔ علیزہ نے نانو کے چہرے کا رنگ بھی اسی طرح اڑتے دیکھا۔ پھر انہوں نے اپنے سر کو پکڑ لیا تھا۔
”جہانگیر… جہانگیر کو کیا ہوگیا ہے؟”
علیزہ گھبرا گئی ” کیا ہوا نانو؟ انکل جہانگیر کو کیا ہوا؟” نانو کوئی جواب دینے کے بجائے یک دم ٹیبل سے اٹھ گئیں۔ علیزہ نے نانا کو بھی ان کے پیچھے جاتے دیکھا۔ اس نے بے اختیار کھڑے ہو کر ٹیبل کے دوسرے سرے پر پڑا ہوا اخبار اٹھالیا۔ کچھ دیر تک وہ متلاشی نظروں سے اخبار کو دیکھتی رہی پھر اس کی نظریں ایک خبر پر جم گئیں۔ ایک مشہور اور کم عمر ماڈل کی ایک بہت ہی خوبصورت تصویر کے ساتھ ایک کیپشن لگا ہوا تھا۔
Sultry Rushna tied the knot
وہ تفصیل پڑھنے لگی تھی۔ خبر میں بیس سالہ رشنا کی عمر میں اپنے سے پینتیس سال بڑے واشنگٹن میں پوسٹڈ پاکستانی سفارت کار جہانگیر معاذ کے ساتھ شادی کو مرچ مسالہ لگا کر پیش کیا گیا تھا جہانگیر معاذ کی پہلی دونوں شادیوں کے ساتھ ساتھ ان کی رنگین مزاجی کا بھی ذکر کیا گیا تھا اور رپورٹر نے رشنا کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ خیال رکھے کہ جہانگیر چوتھی شادی نہ کرپائے کیونکہ عادتیں مشکل سے چھوٹتی ہیں۔ علیزہ نے اخبار بند کردیا۔
٭٭٭
وہ غصے میں بھرا ہوا اپنے کمرے میں گیا تھا۔ موبائل نکال کر اس نے جہانگیر کو کال کرنا شروع کردیا۔ کچھ دیر بعد جہانگیر لائن پر آگئے تھے۔
”اوہ عمر… تم نے کیسے فون کیا؟ کیا لئیق کے پاس پہنچ گئے ہو؟”
”نہیں، میں ان کے پاس نہیں گیا اور نہ ہی جاؤں گا۔”
”کیوں؟ کیا ہوا؟” جہانگیر جیسے کچھ محتاط ہوگئے۔
”میں امریکہ آنا چاہتا ہوں۔” اس نے اسی اکھڑ انداز میں کہا۔
”تم سے میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ میں نہیں چاہتا ابھی تم یہاں آؤ۔”
”کیوں نہیں چاہتے آپ؟”
”مجھے کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔” ان کا لہجہ یک دم خشک ہوگیا۔
”’ہاں، آپ کو کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے امریکہ آنے سے کیوں روک رہے ہیں۔” اس کے لہجے کی تلخی میں اضافہ ہوگیا تھا۔
”کیوں روک رہا ہوں؟”
”اپنی نئی بیوی کی وجہ سے۔”
دوسری طرف یک دم خاموشی چھاگئی تھی۔ عمر جہانگیر کے کسی جملے کا منتظر رہا مگر وہ خاموش ہی رہے تھے۔ ایک لمبے وقفے کے بعد انہوں نے بالآخر ایک گہرا سانس لے کر کہا۔
”تمہیں کس نے بتایا ہے؟”
”ساری دنیا میری طرح اندھی نہیں ہوتی۔”
”مجھ سے بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے، مجھے صرف یہ بتاؤ کہ تمہیں اس شادی کے بارے میں کس نے بتایا؟”
عمر کے ڈپریشن میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ جہانگیر شرمندہ لگ رہے تھے نہ انہوں نے اس شادی سے انکار کیا تھا۔
”نیوز پیپرز میں پڑھا ہے میں نے۔”
”کس نیوز پیپر میں؟”
”آپ نیوز پیپر کا نام جان کر کیا کریں گے؟ نیوز پیپر بند کروا دیں گے سچ چھاپنے کے جرم میں؟”
”تم مجھ سے کیا جاننا چاہتے ہو؟” اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے انہوں نے کہا تھا۔
”میں کیا جاننا چاہتا ہوں میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے یہ شادی کیوں کی ہے؟”
”تمہیں مجھ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت کیسے ہوئی؟”
وہ فون پر چلا اٹھے تھے۔ چند لمحوں کیلئے وہ چپ سا رہ گیا۔
”آپ کو پتا ہے، وہ لڑکی عمر میں آپ سے کتنی چھوٹی ہے۔ مجھ سے بھی چھ سال چھوٹی ہے وہ۔”
”تمہیں مشورہ دینے کو کس نے کہا ہے؟”
‘میں آپ کو کوئی مشورہ نہیں دے رہا ہوں، میں آپ کو صرف یہ بتا رہا ہوں کہ آپ۔۔۔”
جہانگیر نے اس کی بات کاٹ دی تھی۔ ”مجھے کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں، میں نے کیا کیا ہے اور کیوں کیا ہے؟”
”آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کی اس حرکت سے آپ کے بچوں پر کیا اثر ہوگا؟”
”تم صرف اپنی بات کر رہے ہو۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ناں؟”
”Am I right” انہوں نے بڑے جتانے والے انداز میں کہا۔
”میں صرف اپنی بات نہیں کر رہا ہوں میں آپ کے سب بچوں کی بات کر رہا ہوں۔”
”تمہیں دوسروں کی بات کرنے کا کوئی حق ہے نہ ضرورت تم صرف اپنی بات کرو۔”
”آپ نے کسی کے ساتھ بھی اچھا نہیں کیا۔”
”مجھ سے مزید بکواس کرنے کی ضرورت نہیں۔ میری شادی میرا پرسنل افیئر ہے۔ میں جب جس سے چاہوں شادی کرسکتا ہوں۔ میرے معاملات میں ٹانگ مت اڑاؤ۔ کیا اتنی بکواس کافی ہے یا کچھ اور بھی بکنا ہے تمہیں؟”
”آپ جانتے ہیں پریس آپ کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے۔ آپ کے بارے میں کیا کمنٹس دیئے جارہے ہیں۔” وہ بمشکل اپنی آواز پر قابو پارہا تھا۔
”مجھے پروا نہیں ہے” اس نے باپ کی سرد آواز سنی۔ اس کا خون کھول کر رہ گیا۔
”But I do care. میرے لیے لوگوں سے ملنا بہت مشکل کردیا ہے آپ نے ۔آپ کی اس تیسری اور اپنے سے آدھی عمر کی لڑکی سے شادی کی کیا لاجک پیش کروں میں لوگوں کے سامنے؟”
”تم اپنے کام سے کام رکھو اورمیرے معاملات کے بارے میں فکر مندی کے ڈرامے مت کرو، کل تک لئیق کے پاس چلے جاؤ۔ میں کل اس سے فون پر کانٹیکٹ کروں گا۔”
”میں ان کے پاس نہیں جا رہا ہوں۔”
”کیا مطلب؟”
”میں آج سیٹ بک کرواؤں گا اور اگلی فلائٹ سے امریکہ آرہا ہوں۔”
”بکواس مت کرو۔”
”میں بکواس نہیں کر رہا ہوں جو کرنے والا ہوں وہی بتا رہا ہوں۔”
”اور امریکہ آکر کیا کروگے تم؟”
”یہ وہاں آکر ہی دیکھوں گا۔” اس نے موبائل بند کردیا۔ چند لمحے بعد موبائل پر دوبارہ کال آنے لگی۔ وہ جانتا تھا، جہانگیر اسے کال کر رہے ہوں گے۔ اس نے موبائل آف کر کے رکھ دیا۔
٭٭٭
”مجھے ان سے بات نہیں کرناہے۔” جہانگیر نے اس کا موبائل آف ہونے کے بعد فون پر معاذ حیدر سے اس سے بات کروانے کیلئے کہا۔ معاذ حیدر نے جہانگیر سے ان کی اس شادی کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر انہوں نے انتہائی سختی کے ساتھ انہیں یہ کہہ کر خاموش کردیا تھا۔
”پاپا! آپ کا اس سے کوئی کنسرن نہیں ہونا چاہیے… یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے، میں چاہوں تو دس اور شادیاں کرلوں۔ آپ مجھے منع کیسے کرسکتے ہیں۔” جہانگیر کا لہجہ اتنا خشک اور اکھڑ تھا کہ معاذ اس سے کچھ نہیں کہہ سکے۔
آپ عمر سے میری بات کروادیں… میں اس کے موبائل پر بات کر رہا تھا، مگر اب اس کا موبائل آف ہے۔” انہوں نے معاذ حیدر سے کہا تھا۔
اور اب معاذ حیدر اس کو جہانگیر سے فون پر بات کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ وہ سامان پیک کرنے میں مصروف تھا۔
”مجھے ان سے بات نہیں کرنا ہے… یہ بتا دیں انہیں۔” وہ ان کی بات پر غرایا تھا۔
”مگر تم سامان کیوں پیک کر رہے ہو؟” نانو گھبرا رہی تھیں۔ وہ خاموشی سے اپنا کام کرتا رہا۔ نانا کچھ دیر اسے دیکھ کر باہر نکل گئے۔
”وہ بات نہیں کرنا چاہتا۔” انہوں نے جہانگیر کو فون پر بتایا تھا۔
”ٹھیک ہے نہ کرے… مگر اسے صاف صاف کہہ دیں کہ کل تک اسے لئیق کے گھر پر ہونا چاہیے۔” جہانگیر نے فون پٹخ دیا تھا۔
نانا واپس عمر کے کمرے میں آگئے۔ عمر اب موبائل پر اپنی سیٹ کی بکنگ کروا رہا تھا۔ معاذ حیدر اسے دیکھتے رہے جب اس نے موبائل بند کردیا تو انہوں نے کہا۔
”تم واپس امریکہ جارہے ہو؟”
”ہاں۔”
”مگر جہانگیر نے تمہیں اسلام آباد لئیق کے پاس جانے کیلئے کہا ہے۔”
”وہ بہت کچھ کہتے رہتے ہیں، مجھے ان کی پروا نہیں ہے۔” وہ اپنا دوسرا بیگ کھولنے لگا تھا۔
”مگر تم امریکہ جاکر کرو گے کیا؟” نانو اب اس سے پوچھ رہی تھیں۔ وہ ہونٹ بھینچے بیگ میں اپنے کپڑے ٹھونستا رہا۔
”تم لڑو گے جہانگیر سے جاکر؟” نانا نے اس سے پوچھا۔
”میں آپ کو اتنا احمق لگتا ہوں؟” وہ تنک کر بولا۔
”تو پھر کیوں جارہے ہو؟”
”بس ویسے ہی۔”
”عمر۔” نانو نے جیسے تنبیہی انداز میں کہا۔
”میں فیڈ اپ ہوچکا ہوں۔” اس نے پیر سے بیگ کو زوردار ٹھوکر ماری۔ بیگ ایک جھٹکے سے دور جاپڑا تھا۔
”واپس جا کر اپنا وقت ضائع کرو گے۔” نانو نے اس سے کہا تھا۔
”وقت… یہ وقت کیا ہوتا ہے… جب زندگی ضائع ہو رہی ہو تو وقت ضائع ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔” اس کا لہجہ ترش تھا۔
”پاپا سے کہیں، بس کریں یہ سب کچھ… اب یہ سب کچھ چھوڑ دیں… یا کم از کم ہر ایک کے ساتھ رشتے جوڑنے تو نہ بیٹھ جائیں… پاپا کو شرم نہیں آتی یہ سب کچھ کرتے ہوئے۔ مگر مجھے آتی ہے… میں اپنے فرینڈز اور کزنز کے سامنے کس طرح جاؤں گا۔”
”تمہیں اس بارے میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے… جہانگیر جو کچھ کررہا ہے، وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ تمہیں پروا نہیں کرنی چاہیے۔” نانو نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
”کہنا بہت آسان ہے گرینی… مگر میرے لیے یہ سب کچھ ممکن نہیں ہے۔”
”مگر امریکہ جا کر تم کیا کرلو گے پھر واپس آنا پڑے گا… چند ماہ بعد تمہیں انٹرویو کیلئے آنا ہے پھر وہاں جاکر وقت ضائع مت کرو۔” نانا نے اسے سمجھانے کی ایک اور کوشش کی۔
”نہیں، اب مجھے واپس نہیں آنا ہے۔ مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے انٹرویو میں۔ کون عزت کرے گا میرے جیسے بندے کی جو سول سروس میں ہوگا اور اس کے باپ کی شادیوں کی تفصیلات ہر دوسرے سال اخبار چھاپتے رہیں۔”
”لوگوں کی یادداشت اتنی اچھی نہیں ہوتی ہے، تم جہانگیر کی وجہ سے اپنا کیریئر تباہ مت کرو۔”
”لوگوں کی یادداشت اچھی ہو یا نہ ہو، مگر میری یادداشت اچھی ہے۔ مجھے کوئی کیریئر نہیں بنانا… پاپا سے کہیں، جائیداد میں سے میرا حصہ دے دیں۔”
”عمر! تم ابھی غصے میں ہو۔ اس حالت میں تم کچھ نہیں سوچ سکتے۔”
”نہیں گرینڈ پا! میں غصے میں نہیں ہوں۔ میں نے پاپا کے ساتھ کتنا مشکل وقت گزارا ہے۔ آپ تصور نہیں کرسکتے۔ وہ کتنے بڑے ہپوکریٹ ہیں آپ نہیں جانتے۔” وہ اپنے بیڈپر بیٹھ گیا تھا۔
”افیئرز چلاتے ہیں… چلاتے رہیں مگر شادی اور وہ بھی اس طرح لڑکیوں سےtoo disgusting۔” نانا اس کے پاس بیٹھ گئے۔
”تم جہانگیر کو نہیں بدل سکتے اس کے دل میں جو آتا ہے وہ وہی کرتا ہے مگر تم اپنے ہاتھ پاؤں کاٹنے کی کوشش مت کرو۔” وہ نانا کا چہرہ دیکھنے لگا۔
”ابھی تم جہانگیر پر ڈیپینڈنٹ ہو… اس کے ساتھ لڑنے کے حماقت مت کرو… جس شادی پر تمہیں اعتراض ہو رہا ہے… پتا نہیں وہ کتنا عرصہ چلتی ہے۔ جہانگیر کے بدلتے ہوئے موڈز کا تو تمہیں پتا ہی ہے… اور پھر یہ لڑکی بہت کم عمر ہے۔ چار دن جہانگیر کے پیسے پر عیش کرے گی پھر اسے چھوڑ جائے گی… یہ ماڈلز گھر نہیں بساتی ہیں۔”
معاذ حیدر کو روانی میں بات کرتے کرتے احساس ہوا تھا کہ انہوں نے عمر کے سامنے ایک غلط بات کہہ دی تھی۔ اس کے چہرے کا رنگ یک دم بدل گیا تھا۔ انہوں نے اس کی آنکھوں میں شکست خوردگی دیکھی تھی۔
اس کے پاس یکدم جیسے سارے لفظ ختم ہوگئے تھے۔ معاذ حیدر بات کہہ کر جیسے چور بن گئے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ اب اپنی بات کی تلافی کے لئے اسے کیا کہیں۔
وہ اب سرجھکائے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن سے باری باری باقی انگلیوں کے ناخن کھرچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ معاذ حیدر نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ نانو بھی ان کی بات پر اتنی ہی شرمندہ نظر آرہی تھیں جتنا وہ خود تھے۔
بالآخر انہوں نے ایک بار پھر کہنا شروع کیا۔
”ساری ماڈلز تو بری نہیں ہوتیں مگر جب عمروں میں اتنا فرق ہو تو پھر شادی کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر اگرجہانگیر جیسا آدمی ہو تو یہ کام اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔”
عمر نے ان کی بات پر سراٹھا کر غور سے انہیں دیکھا تھا۔ ”گرینڈ پا! دوبارہ کبھی یہ بات مت کہیے گا۔ میری ماں کو کبھی ماڈل بھی نہ سمجھئے گا۔ ماڈل عورت ہوتی ہے، گھر بسا سکتی ہے اگر دوسری طرف تھوڑی سی وفاداری ہو… پاپا میں وفاداری نہ کبھی تھی… نہ ہے… نہ ہوگی… جو عورت گیارہ سال کسی جہانگیر معاذ کے ساتھ گزار سکتی ہے وہ ساری عمر بھی گزار سکتی ہے، میری ماں نے یہ کوشش کی تھی۔”
وہ یک دم اس طرح زارا کی حمایت میں بولا تھا کہ معاذ حیدر اور ان کی بیوی دونوں حیران رہ گئے تھے، کہاں وہ زارا سے ملنے پر تیار نہیں تھا کہاں وہ اس کے حق میں دلیلیں دے رہا تھا۔
‘میں نے زارا کی بات نہیں کی تھی، میں جانتا ہوں، وہ اچھی عورت تھی۔ میں تو ویسے ہی بات کر رہا تھا۔” معاذ کچھ خجل ہوگئے۔
”نہیں! وہ اچھی عورت نہیں تھیں۔ اچھی عورت ہوتیں تو پاپا سے شادی کبھی نہ کرتیں۔” اگلے ہی جملے میں وہ ایک بار پھر اپنی ہی بات کی نفی کرنے لگا۔
معاذ حیدر نے جیسے کچھ بے بس ہوکر اسے دیکھا۔ ”جو بھی ہے، بہر حال تم جہانگیر کی وجہ سے اپنا کیریئر داؤ پر مت لگاؤ۔ تھوڑے سکون اور سمجھ داری سے کام لو۔ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ اس طرح بھاگم بھاگ امریکہ جاکر تمہیں کیا مل جائے گا۔ جہانگیر سے سامنا ہوگا، وہ اور مشتعل ہوگا۔ یہاں سے چلے جانے سے بھی تمہارا ہی نقصان ہوگا۔ اس لیے تم ٹھنڈے دماغ سے اس مسئلے پر غور کرو اور پھر کوئی فیصلہ کرو۔”
معاذ حیدر نے ایک بار پھر اسے سمجھانا شروع کردیا وہ پوری خاموشی کے ساتھ سرجھکائے ان کی بات سنتا رہا۔ پہلے کی نسبت وہ اب مضمحل لگ رہا تھا۔ معاذ حیدر کو اس کے تاثرات سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کشمکش کا شکار ہوچکا ہے۔
بہت دیر تک وہ دونوں اس کے پاس بیٹھے اسے سمجھاتے رہے۔ وہ اسی خاموشی کے ساتھ کچھ جواب دیئے بغیر ان کی باتیں سنتا رہا۔
جب وہ دونوں اس کے پاس سے اٹھ کر آئے تھے تب بھی وہ خاموش تھا۔ اب اس کا چہرہ بالکل بے تاثر تھا۔ وہ اندازہ نہیں کر پائے، اس نے کیا فیصلہ کیا تھا۔
ان دونوں کے جانے کے بعد عمر نے کمرہ لاک کر لیاتھا۔ بیڈ پر سیدھا لیٹا چھت کو گھورتے ہوئے وہ بہت دیر تک اپنا ذہن کسی بھی چیز پر مرکوز نہیں کرپارہا تھا۔
”گرینڈ پا ٹھیک کہتے ہیں۔ میں واقعی ایک ایسی کٹھ پتلی ہوں جس کی ڈوریاں پوری طرح سے آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ میں چاہوں بھی تو خود کو آپ سے نہیں چھڑا سکتا۔ آپ میرے لئے آکٹوپس سے بھی زیادہ خوفناک ثابت ہورہے ہیں۔ مگر پاپا! ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب میں خود کو آپ کے شکنجے سے چھڑا لوں گا۔ مجھے صرف یہ دیکھنا ہے کہ وہ وقت کتنی جلدی آتا ہے۔”
وہ لیٹے لیٹے بڑبڑایا۔ پھر اس نے آنکھیں بند کرلیں۔ چند منٹ وہ اس طرح پڑا رہا پھر یکدم جیسے ایک خیال آنے پر اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا ہوا اپنا والٹ ہاتھ بڑھا کر اٹھالیا۔ آہستگی سے والٹ کھول کر اس نے اس میں لگی ہوئی ایک تصویر کو دیکھنا شروع کردیا۔ پھر کھلے ہوئے والٹ کو اپنی آنکھوں پر الٹ کر اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔
٭٭٭
وہ صبح کی فلائٹ سے اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔ ایئرپورٹ پر اسے لئیق انکل کی بڑی بیٹی شانزہ نے ریسیو کیا۔ وہ شانزہ سے پہلے بھی دو تین بارمل چکا تھا اس لیے اسے کوئی اجنبیت نہیں ہوئی تھی، مگر جس موڈ میں وہ ان دنوں تھا بہت کوشش کے بعد بھی وہ اس طرح شانزہ سے بات نہیں کرسکا جیسے پہلے کرتا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ کھنچا کھنچا تھا اور شانزہ نے یہ بات فوراً محسوس کرلی تھی۔
ایئرپورٹ سے گھر جاتے ہوئے گاڑی میں اس نے عمر سے خاصی بے تکلفی سے کہا۔
”تم خاصے سیریس ہوگئے ہو عمر! چھ ماہ پہلے جب تم سے ملاقات ہوئی تھی تو تم خاصے جولی ہوا کرتے تھے۔ اب کیا ہوا ہے؟”
‘نہیں، میں ویسا ہی ہوں، کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ پتا نہیں تمہیں کیوں ایسا لگا ہے۔” عمر نے مسکرا کر کہا۔
”چلو ٹھیک ہے۔ ہوسکتا ہے ایسا ہی ہو۔”
”لئیق انکل تو اس وقت آفس میں ہوں گے؟” عمر نے بات شروع کرتے ہوئے کہا۔
”ہاں! پاپا تو آفس میں ہی ہیں۔ اسی لیے تو میں لینے آئی ہوں تمہیں۔ اگر تمہاری فلائٹ رات کو ہوتی تو وہ خود تمہیں لینے آتے۔ تم اب گھر جانے کے بعد انہیں رنگ کرلینا۔ انہوں نے خاص طور پر کہا ہے۔”
”میں سوچ رہا ہوں کہ انکل کے آفس ہی چلا جاتا ہوں۔ وہاں۔۔۔”
شانزہ نے عمر کی بات مکمل نہیں ہونے دی۔ ”وہاں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وہ آج تھوڑی دیر ہی وہاں رہیں گے… پھر انہیں دو تین جگہوں پر جانا ہے… آج کل آفس میں ان کا زیادہ وقت نہیں گزرتا بلکہ کچھ دوسری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔” شانزہ نے لاپروائی سے کہا۔
”اس کا مطلب ہے کہ آج کا دن تو ایسے ہی نکل جائے گا۔” عمر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”تمہیں جلدی کس بات کی ہے۔ آج کا دن گزر جائے گا تو پھر کیا ہے۔ تم آرام سے یہاں رہ کراپنا کام کرو۔ دن گننے کی کوشش نہ کرو، ویسے بھی پاپا بتا رہے تھے کہ انکل جہانگیر نے تمہیں ابھی اسلام آباد رہنے کیلئے ہی کہا ہے۔”
عمر نے اس بات پر ایک گہرا سانس لے کر کھڑکی سے باہر جھانکا۔
”ویسے عمر! انکل جہانگیر کا ٹیسٹ بہت اچھا ہے۔” عمر نے چونک کر شانزہ کی طرف دیکھا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ایک گہری مسکراہٹ تھی۔
”رشنا کسی کو گھاس تک نہیں ڈالتی تھی… شادی تو دور کی بات تھی مگر دیکھ لو۔۔۔”
عمر نے بے اختیار اپنا نچلا ہونٹ بھینچ لیا۔
”میں نے ایک دو شوز میں ماڈلنگ کی ہے اس کے ساتھ، وہ واقعی بہت اٹریکٹو اور گلیمرس ہے۔” شانزہ اب اس کی تعریف کر رہی تھی۔
”تم ماڈلنگ کرنے لگی ہو؟” عمر نے دانستہ طور پر بات کا موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
”پروفیشنلی تو نہیں بس ایڈونچر کے طور پر… ممی کی ایک فرینڈ کے کہنے پر لیڈیز کلب کے ایک فنکشن میں کی تھی… رسپانس بہت اچھا ملا اور وہیں ایک میگزین کی ایڈیٹر نے ایک فیشن شوٹ کے لئے کہا۔ بس پھر آہستہ آہستہ کچھ اور فیشن شوز بھی ملنے لگے۔ بلکہ اب تو ایک ٹی وی سیریل کا کانٹریکٹ بھی سائن کیا ہے۔ لیڈنگ رول نہیں ہے مگر اچھا رول ہے۔ مجھے تو بس یہ خوشی ہے کہ بہت اچھی کاسٹ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔”
شانزہ نے بہت جوش سے اپنے بارے میں تفصیل سے بتانا شروع کردیا تھا۔
”اچھی ایکٹیویٹی ہے۔” عمر نے سرسری سا تبصرہ کیا۔
”اس ویک اینڈ پر ایک فیشن شو میں حصہ لے رہی ہوں، تم چلنا ساتھ۔” شانزہ نے فوراً اسے آفر کی۔
”نہیں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے فیشن شوز میں۔” عمر نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا۔
”کیا؟ تمہیں کوئی انٹرسٹ ہی نہیں ہے حالانکہ تمہاری ممی خود اتنی مشہور ماڈل رہ چکی ہیں۔ پھر بھی تمہیں انٹرسٹ نہیں ہے۔”
عمر نے اس کی بات کا جواب ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے دیا۔ گاڑی میں کچھ دیر کیلئے خاموشی چھاگئی۔
”ویسے انکل جہانگیر نے تمہیں رشنا سے شادی کے بارے میں بتایا تھا۔ میرا مطلب ہے شادی سے پہلے؟”
ایک بار پھر شانزہ نے ہی خاموشی توڑی۔ گفتگو کا موضوع ایک بار پھر وہی ہوگیا تھا جس سے عمر بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
”ہاں۔” اس نے جھوٹ بولا۔
”اور تم نے کچھ کہا نہیں۔ کوئی اعتراض؟”
”میں اعتراض کیوں کرتا۔ یہ پاپا کی زندگی ہے، وہ جو چاہیں کریں۔” اس نے بڑی سرد مہری اور لاپروائی سے کہا۔
”ہاں! ویسے بھی انکل جہانگیر کی شادی سے تمہیں تو زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ تمہاری ممی سے تو پہلے ہی ان کی سیپریشن ہوچکی ہے۔ اعتراض تو ثمرین آنٹی نے کیا ہوگا۔ پاپا بتارہے تھے کہ انہوں نے سوسائٹیڈ کی کوشش کی تھی اس شادی سے کچھ دن پہلے۔۔۔”
عمر یک دم چونک گیا۔ شانزہ کے پاس وہ ساری معلومات تھیں جو اس کے پاس ہونی چاہیے تھیں۔ لئیق انکل سے اس کے پاپا کی بہت گہری دوستی تھی۔ صرف رشتہ داری نہیں تھی۔
”سوسائیڈ؟” اس نے کچھ حیران ہو کر کہا۔
”تمہیں نہیں پتا؟”
”نہیں۔”
”ثمرین آنٹی خوش قسمتی سے بچ گئیں اور انکل جہانگیر اتنے غصے میں آگئے کہ انہوں نے ثمرین آنٹی کو ڈائی وورس (طلاق) کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر پاپا اور دوسرے انکلز نے ثمرین آنٹی کی ریکویسٹ پر انہیں سمجھایا۔ انکل جہانگیر بڑی مشکل سے اس کام سے باز آئے۔ ڈائی وورس تو انہوں نے نہیں دی مگر ثمرین آنٹی کو یہاں اسلام آباد شفٹ کر رہے ہیں۔ اب وہ انہیں ساتھ رکھنے پر تیار نہیں ہیں۔ وہاں امریکہ میں بھی انہوں نے ثمرین آنٹی کو کسی اپارٹ منٹ میں شفٹ کردیا ہے۔ اپنے ساتھ انہوں نے رشنا کو رکھا ہوا ہے۔”
وہ خاموشی سے شانزہ کی گفتگو سن رہا تھا۔
”سوائے میرے اور گرینڈ پا اور گرینی کے خاندان میں سب کو پاپا کی اس متوقع شادی کے بارے میں بہت پہلے پتا چل چکا تھا مگر اس بارے میں انفارم نہیں کیا۔ ہر ایک نے یہ بات چھپائی۔” عمر کڑھتے ہوئے سوچ رہا تھا اور اسے اپنے کزنز پر بھی حیرت ہو رہی تھی جن سے اس کی اچھی خاصی دوستی تھی۔
”شاید یہ اچھا ہی ہوا ورنہ جوکچھ وقت میں نے لاہور میں سکون سے گزارا ہے، وہ بھی گزار نہ پاتا۔” وہ اب سوچ رہا تھا۔
٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
