Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 49
۔۔۔۔۔
نئی تعمیر شدہ منڈی شہر سے باہر اپنے مکینوں کا انتظار ہی کرتی رہی۔ پھر ہر بار نئی آنے والی انتظامیہ اور بلدیہ نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور ہر بار وہ دودھ کے جھاگ کی طرح بیٹھتے رہے۔ بلدیاتی انتخابات میں ہر بار شہریوں سے منڈی کی شہر سے باہر منتقلی کے وعدے پر ووٹ لیے جاتے اور الیکشن جیتنے کے بعد اس وعدے کو پس پشت ڈال دیا جاتا۔ پھر اس کام کا بیڑا رضی محمود اور عمر جہانگیر نے اٹھایا تھا۔ تمام سیاسی دباؤ کو پس پشت ڈالتے ہوئے سبزی منڈی میں کاروبار کرنے والے لوگوں کو ڈیڈ لائن دے دی تھی۔ دونوں پر پیچھے سے پڑنے والا دباؤ اس لیے کارگر ثابت نہیں ہو رہا تھا کیونکہ دونوں ہی بہت بااثر خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی ٹرانسفر کروانا آسان کام نہیں تھا۔
رضی محمود، عمر جہانگیر کے بیج میں سے تھا اور اس کی عمر کے ساتھ اچھی خاصی دوستی تھی۔ ایک ہی ضلع میں اتفاقاً ہونے والی تعیناتی کے دوران دونوں کے درمیان ہر معاملے میں اچھی خاصی کوآرڈی نیشن رہی اور سبزی منڈی کی تبدیلی کا کام اسی مطابقت کا ایک نتیجہ تھا۔
جب کسی قسم کا کوئی دباؤ کام میں نہیں آیا تو آڑھتیوں اور بیوپاریوں نے ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ رضی محمود اور عمر جہانگیر نے بڑے اطمینان سے اس ہڑتال کی دھمکی کو نظر انداز کر دیا۔
منڈی کے لوگوں کے احتجاج میں اور شدت آ گئی اور مقررہ تاریخ پر ان کی ہڑتال شروع ہو گئی۔
مقررہ تاریخ پر رضی محمود نے قریبی شہر کی سبزی منڈی میں وہاں کے بااثر لوگوں کے ذریعے پھل اور سبزیاں منگوائیں اور شہر میں کئی جگہوں پر انتظامیہ اور بلدیہ کی زیر نگرانی سستے داموں فراہم کرنا شروع کر دیا اور اس کے ساتھ ساتھ سارے شہر میں اعلان ہوتا رہا کہ اگلے دو ہفتوں میں انتظامیہ اور کن کن جگہوں پر ایسے بازاروں کا انعقاد کرے گی اور ان کے اوقات کیا ہوں گے۔
غیر محدود مدت کے لیے شروع ہونے والی ہڑتال اگلے دن ہی ختم ہو گئی، انہیں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایسے کسی اقدام کا اندازہ نہیں تھا۔
ہڑتال ختم ہونے کے باوجود سبزی منڈی میں کاروبار کرنے والوں کا احتجاج ختم نہیں ہوا بلکہ اس میں اور شدت آ گئی اور جب مقررہ ڈیڈ لائن پر پولیس منڈی کو خالی کروانے گئی تو آڑھتیوں کی انجمن کے صدر نے انہیں وہ اسٹے آرڈر دکھایا جو وہ کورٹ سے لے چکے تھے۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو تب تک سبزی منڈی کو خالی کروانے سے روک دیا تھا جب تک اس مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اور مقدمہ کرنے والوں کو یقین تھا کہ مقدمے کا فیصلہ ہونے میں اتنا وقت ضرور لگ جائے گا کہ عمر جہانگیر اور رضی محمود وہاں سے پوسٹ آؤٹ ہو جاتے اور ان کی جگہ پر آنے والے نئے افسر ضروری نہیں تھا کہ ان جیسے ہی ہوتے، سبزی منڈی کے لوگوں کو یقین تھا کہ ان کا مسئلہ حل ہو چکا تھا۔ اسٹے آرڈر دیکھنے کے بعد ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کی قیادت میں آنے والا پولیس کا دستہ بڑی خاموشی کے ساتھ سبزی منڈی کے لوگوں کے بلندوبانگ فاتحانہ نعروں کی گونج میں کسی قسم کے ردعمل کا اظہار کیے بغیر وہاں سے چلا گیا۔
سارا دن سبزی منڈی میں مٹھائیاں بٹتی رہیں، انتظامیہ کو ایک بار پھر شکست دے دی گئی تھی۔ انہیں شہر سے کوئی نہیں نکال سکتا تھا۔
اگلی رات دو بجے سبزی منڈی کی طرف دوسرے شہر سے آنے والا ٹرک پویس کے قائم کیے گئے اس ناکے پر کھڑا اوپر لدی ہوئی ایک ایک پیٹی اتروا کر پولیس کے ان چار لوگوں کو دکھا رہا تھا جو کرسیوں پر بڑے اطمینان سے بیٹھے تھے۔ اس سڑک پر وہ پہلا ناکہ تھا اور اس ناکہ کے بعد آدھ کلومیٹر کے فاصلے پر چھ اور ایسے ہی ناکے تھے۔ وہ ٹرک جو عام طور پر رات ڈھائی بجے کے قریب سبزی منڈی پہنچ جاتا تھا، وہ اس دن صبح دس بجے کے قریب سبزی منڈی پہنچا پولیس نے سبزی منڈی کی دونوں بیرونی سڑکوں کو بلاک کرکے اس پر جابجا ناکے لگا دیئے تھے اور وہ دونوں سڑکیں مکمل طور پر بلاک ہو گئی تھیں۔ پولیس والے ایک ایک پیٹی اترواتے پھر چڑھاتے اگلے ناکے پر پھر یہی عمل دہرایا جاتا، اس سے اگلے ناکے پر پھر…انتظامیہ نے شہر میں اعلان کر دیا تھا کہ امن و امان کی بگڑی ہوئی صورت حال کے پیش نظر شہر میں آنے والے تمام ٹرکوں کے سامان کی اچھی طرح چھان بین کی جائے گی اور شہر میں آنے والے زیادہ تر ٹرک سبزی منڈی ہی جاتے تھے۔ نتیجتاً اس سڑک پر ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور گرمی کے موسم میں بہت سے ٹرکوں میں لدا ہوا پھل اور سبزیاں خراب ہونے لگے۔ دوسرے شہروں سے بھیجے جانے والے پھلوں اور سبزیوں کے سودے ختم ہونے لگے۔
ٹرکوں پر لدے ہوئے پھلوں اور سبزیوں کے خراب ڈھیر کو خریدنے کے لیے سبزی منڈی میں کوئی تیار نہیں تھا اور دوسرے شہروں سے لوگ اپنی اجناس اس طرح ضائع کروانے کے لیے تیار نہیں تھے۔ پولیس اسٹے آرڈر کی پوری طرح پاس داری کر رہی تھی۔ سبزی منڈی میں کاروبار کرنے والے کسی شخص کو تنگ نہیں کیا گیا تھا البتہ امن و امان کی حالت کو ٹھیک رکھنا ایک ایسا فرض تھا جو پولیس کو ہر صورت پورا کرنا تھا اور یہ کام رضی محمود اور عمر جہانگیر اپنی نگرانی میں کروا رہے تھے۔
چھٹے دن پرانی سبزی منڈی کے لوگ خاموشی سے نئی سبزی منڈی منتقل ہونا شروع ہو گئے، ایک ہفتہ میں یہ منتقلی ختم ہو گئی، ایک ہفتہ کے بعد پولیس نے اس سڑک پر تمام ناکے یہ کہتے ہوئے ختم کر دیئے کہ امن و امان کی صورت حال میں بہت زیادہ بہتری آنے کی وجہ سے اب ان دو سڑکوں پر ناکوں کی ضرورت نہیں رہی۔ پرانی سبزی منڈی سے نئی سبزی منڈی میں منتقلی کا کام جس قدر سہولت سے ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں شہریوں کو جو سکون کا سانس نصیب ہوا تھا۔
اس نے رضی محمود اور عمر جہانگیر کے لیے بھی عام شہریوں کے اندر خاصے اچھے جذبات پیدا کیے تھے لوکل پریس میں شائع ہونے والی تعریفی خبریں ملکی پریس میں بھی آئیں اور پھر کچھ کالم نویسوں کے کالمز کی زینت بھی بنیں۔
بات شاید یہیں تک رہتی تو رضی محمود اور عمر جہانگیر کا ہیرو والا درجہ اسی طرح قائم رہتا اور دوسرے لوگوں کی طرح علیزہ بھی یہی سمجھتی رہتی کہ ان دونوں نے بڑے اچھے طریقے سے ایک مشکل صورت حال کو ہینڈ کیا تھا مگر صالحہ کے آرٹیکل نے اس تمام معاملے پر سے ایک نیا پردہ اٹھاتے ہوئے عمر اور رضی کی ہیرو والی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے انہیں ولن کی حیثیت دے دی تھی۔
سبزی منڈی کی نئی جگہ منتقلی کے بعد رضی محمود اور عمر جہانگیر نے شہر کے وسط میں موجود اس سبزی منڈی کی کروڑوں مالیت کی زمین کو بیچ کر رقم آپس میں تقسیم کر لی تھی اور صالحہ نے اس فراڈ کی تمام تفصیلات کو اپنے آرٹیکل میں شائع کیا تھا۔ اس نے نہ صرف زمین کے نئے مالکان کے ناموں کی تفصیل دی تھی بلکہ یہ بھی بتایا تھا کہ چند کالم نویسوں کو کس طرح روپیہ دے کر اخبارات میں رضی محمود اور عمر جہانگیر کے نام نہاد پروفیشنلزم کی تعریف کرتے ہوئے انہیں مثالی بیورو کریٹ قرار دیا گیا تھا۔ ایسے بیورو کریٹ جن پر اس ملک اور آنے والی نسلوں کو فخر ہوگا…دلچسپ بات یہ تھی کہ پرانی سبزی منڈی کا علاقہ اب شہر کے مصروف ترین کمرشل ایریاز میں شامل ہو گیا تھا اور اسی کمرشل ایریا میں اس شہر سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے کالم نویس کو بھی کچھ زمین عطا کی گئی تھی جو اپنے کالمز میں وقتاً فوقتاً اپنے آبائی شہر کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کی تعریفوں میں زمین اور آسمان کے قلابے ملاتا رہتا تھا۔ صالحہ نے زمین کے اس ٹکڑے کی مالیت کے حوالے سے بھی تحریری ثبوت فراہم کیے تھے۔
صالحہ کے آرٹیکل نے بہت سارے کچے چٹھے کھول کر رکھ دیئے تھے اور اس رات اس آرٹیکل کو پڑھتے ہی علیزہ کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ آرٹیکل عمر جہانگیر کے لئے خاصے مسائل کھڑے کر سکتا ہے اور ایسا ہی ہوا تھا اخبار کے دفتر میں اس آرٹیکل کے حوالے سے دھڑا دھڑ فون آ رہے تھے لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو زمین کی اس خرید و فروخت کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کرنا چاہتے تھے۔
شام کو وہ گھر آئی تو بہت زیادہ تھکی ہوئی تھی …اپنے اخبار میں شائع ہونے والا وہ آرٹیکل اسے اپنے کندھوں پر ایک بوجھ کی طرح لگ رہا تھا …وہ جانتی تھی وہ آرٹیکل عمر کو بھی خاصا پریشان کر رہا ہو گا اور عمر کی پریشانی کا تصور اس کے لئے بہت نا خوشگوار ثابت ہو رہا تھا۔
وہ ابھی اپنے کمرے میں آئی ہی تھی کہ اس کا موبائل بجنے لگا نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے کال ریسیو کی۔
”ہیلو! علیزہ کیسی ہو؟” دوسری طرف سے ہمیشہ کی طرح جنید نے کہا۔
”بالکل ٹھیک ہوں۔” علیزہ نے اپنے سر کا بوجھل پن جھٹکتے ہوئے کہا۔
”بالکل ٹھیک ہو تو یہ اچھی بات ہے۔ اس کا مطلب ہے میں اگلے پندرہ منٹ کے بعد تمہیں ڈنر کے لئے پک کر سکتا ہوں۔” جنید نے بڑے خوشگوار انداز میں کہا۔
وہ انکار کر دینا چاہتی تھی مگر اس نے ایسا نہیں کیا، وہ اپنے سر سے اس آرٹیکل کو جھٹک دینا چاہتی تھی اور اس وقت جنید کے ساتھ گزارا ہوا کچھ وقت یقیناً اسے یہ موقع فراہم کر دیا۔
”ٹھیک ہے، میں تیار ہو جاتی ہوں، آپ مجھے پک کر لیں۔” اس نے ہامی بھرتے ہوئے کہا۔
فون بند کر کے وہ اپنے کپڑے لے کر باتھ روم میں گھس گئی، اس کو اندازہ تھا۔ جنید واقعی پندرہ منٹ بعد یہاں ہو گا اور وہ اس کو انتظار نہیں کروانا چاہتی تھی۔
پندرہ منٹ بعد جب وہ لاؤنج میں آئی تو جنید واقعی وہاں موجود نانو سے گپ شپ کر رہا تھا۔ وہ دونوں باہر نکل آئے۔
گاڑی میں جنید اس کے ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو میں مصروف رہا …علیزہ کو ہمیشہ کی طرح اپنی ٹینشن ریلیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔
جنید کم گو مگر اچھی گفتگو کرنے والا آدمی تھا اور وہ جتنا اچھا سامع تھا۔ جب بولنے پر آتا تو اس سے بھی زیادہ اچھا گفتگو کرنے والا ثابت ہوتا۔ اسی خوبی کے باعث علیزہ نے جنید کو ذہنی طور پر جلد ہی قبول کر لیا تھا۔
”کہاں چلیں؟” اس نے بات کرتے کرتے اچانک علیزہ سے پوچھا۔
”کہیں بھی …میرے ذہن میں کوئی خاص جگہ نہیں ہے۔” علیزہ نے ڈنر کی جگہ کے انتخاب کو اس پر چھوڑتے ہوئے کہا۔
”فاسٹ فوڈ؟” جنید نے ایک بار پھر اس سے پوچھا۔
”یہ بھی آپ پر منحصر ہے …میں کسی خاص کھانے کا سوچ کر باہر نہیں نکلی۔” علیزہ نے ایک بار پھر پہلے کی طرح اس سے کہا۔
جنید اس کے جواب پر مسکرا کر خاموش ہو گیا۔ کچھ دیر تک وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا پھر اس نے علیزہ سے کہا۔
”میں آج تمہارا نیوز پیپر دیکھ رہا تھا۔”اس نے علیزہ کے اخبار کا نام لیتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے گردن موڑ کر دیکھا۔ اسے احساس ہوا کہ جنید خلاف معمول کچھ سنجیدہ نظر آ رہا تھا۔
”اس میں، میں نے وہ آرٹیکل پڑھا، تمہاری دوست صالحہ کا آرٹیکل۔”
علیزہ کو بے اختیار سبکی اور ہتک کا احساس ہوا۔ جنید کے منہ سے اس آرٹیکل کا تذکرہ سننا اس کے لئے سب سے زیادہ شرمندگی کا باعث تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ اس کے خاندان کے بارے میں کیا سوچ رہا ہو گا۔
”اس نے تمہارے کزن کے بارے میں لکھا ہے، عمر جہانگیر، تمہارا وہی کزن ہے نا جس سے میں ملا تھا اور یہ آرٹیکل اسی کے بارے میں ہے نا؟” جنید نے جیسے تصدیق چاہی۔
علیزہ نے کچھ خفت کے عالم میں سر ہلا دیا۔
”کافی فضول باتیں لکھی ہیں صالحہ نے۔” جنید نے اس کے سر ہلانے پر تبصرہ کیا۔ علیزہ خاموشی سے سامنے دیکھتی رہی۔
”اس قسم کے بے بنیاد الزامات لگانا جرنلسٹ کا کام نہیں ہوتا۔” جنید کہہ رہا تھا۔
”تمہیں اس آرٹیکل کے شائع ہونے سے پہلے صالحہ نے اس کے بارے میں بتایا ہو گا۔”اچانک اس نے پوچھا۔
”ہاں، اس نے مجھے بتایا تھا۔” علیزہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”تو پھر تمہیں اسے منع کرنا چاہیے تھا کہ وہ تمہاری فیملی کے بارے میں اس طرح کا آرٹیکل نہ لکھے۔” جنید نے سنجیدگی سے کہا۔
علیزہ نے حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا۔ ”میں کیسے منع کر سکتی تھی؟”
جنید نے اس کی بات پر گردن موڑ کر دیکھا۔ ” وہ تمہاری دوست ہے۔ تم چاہتیں تو اسے منع کر سکتی تھیں۔” اس نے اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”نہیں، میں اسے منع نہیں کر سکتی تھی۔ ” علیزہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”کیوں…تم ایسا کیوں نہیں کر سکتی تھی؟” جنید نے پوچھا۔
وہ کچھ دیر خاموشی سے اس کی چہرے کو دیکھتی رہی پھر گردن موڑ کر گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
”جرنلسٹس دوستوں کے کہنے پر اپنی کہانیاں نہیں بدلا کرتے۔” اس نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہا۔
جنید اس کی بات پر بے اختیار ہنسا۔ علیزہ ایک بار پھر اسے دیکھنے پر مجبور ہو گئی۔
”تم کیا بات کر رہی ہو علیزہ…!یہ پاکستان ہے۔ یہاں سب کچھ ہوتا ہے اور یہاں جرنلسٹ کس طرح کے ہوتے ہیں، وہ تم مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتی ہو کیونکہ آخر تم اس پروفیشن سے منسلک ہو۔”
وہ جنید کے منہ سے پہلی بار اس قسم کا بے لاگ تبصرہ سن رہی تھی اور شاید اس تبصرے نے اسے کچھ دیر کے لیے حیران بھی کر دیا تھا۔ اسی لیے وہ جنید کی بات کے جواب میں فوری طور پر کچھ کہنے کے بجائے خاموش ہو گئی۔
جنید کو یکدم احساس ہوا کہ علیزہ کو شاید اس کی بات بری لگی تھی۔
”میں نے ایک جنرل تبصرہ کیا ہے۔ میں کسی خاص شخص کے حوالے سے ایسا نہیں کہہ رہا۔” اس نے وضاحت کی۔
”میں صالحہ سے وہ آرٹیکل شائع نہ کرنے کے لیے کیوں کہتی؟” اس نے سنجیدگی سے جنید سے پوچھا۔
جنیدنے حیرت سے اس کا چہرہ دیکھا۔ ”کیونکہ وہ تمہاری فیملی کے ایک فرد کے بارے میں تھا۔”
”اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کس کے بارے میں تھا۔”جنید اس بار خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ وہ یک دم بہت سنجیدہ نظر آنے لگی تھی۔
”جرنلسٹس کو بے بنیاد الزامات لگانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔”
صالحہ کا کہنا ہے کہ وہ بے بنیاد الزامات نہیں ہیں۔
”ہر چیز اس وقت تک بے بنیاد ہوتی ہے جب تک اس کے بارے میں ثبوت نہ دیئے جائیں۔”
”صالحہ نے اپنے آرٹیکل میں اتنے ثبوت دئیے ہیں جتنے ضروری تھے۔”
”ایسے ثبوت کوئی بھی دے سکتا ہے۔ چار چھ لوگوں کے بیانات اور چند کاغذات کی نقول کوئی ایسا ثبوت نہیں ہو تا کہ اس کی بنیاد پر ایک اہم عہدے پر فائز شخص کے بارے میں اخبارات میں کوئی چیز شائع کر دی جائے۔”
وہ اس بار جنید کی بات پر خاموش رہی۔
”ایک ذمہ دار جرنلسٹ کی ذمہ داری صرف دوسروں پر کیچڑ اچھالنا ہی نہیں ہوتی۔ حقائق کو حقائق بنا کر پیش کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، مرچ مسالا لگا کر انہیں بریکنگ نیوز بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔” جنید بولتا رہا ”تم تو خود جرنلسٹ ہو، ان چیزوں کو مجھ سے زیادہ اچھی طرح جانتی ہو۔ تمہیں صالحہ سے اس کے بارے میں بات کرنی چاہیے تھی۔” جنید نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی۔
”میں اس سے یہ سب نہیں کہہ سکتی تھی۔”
”کیوں؟”
”کیونکہ میں نے صالحہ کو عمر جہانگیر سے اپنے کسی تعلق کے بارے میں نہیں بتایا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ میرا فیملی ممبر ہے۔” گاڑی میں کچھ دیر خاموش رہی۔
”تمہیں اسے بتا دینا چاہیے تھا۔” جنید نے کچھ دیر کے بعد کہا۔
”میں نے یہ ضروری نہیں سمجھا۔ یہ عمر جہانگیر اور صالحہ کا مسئلہ ہے، میں اس میں کیوں آؤں؟” اس نے بڑی سرد مہری سے کہا۔
”یہ صرف عمر جہانگیر اور صالحہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تمہاری فیملی کا بھی مسئلہ ہے۔ عمر تمہاری فیملی کا ایک حصہ ہے۔ فیملی کے ایک شخص کا نام خراب ہو تو پوری فیملی پر اثر پڑ جاتا ہے۔ تم اتنی میچور تو ہو کہ یہ بات سمجھ سکو۔” جنید تحمل بھرے انداز میں اسے سمجھاتا رہا۔
”یہ بات عمر کو سوچنی چاہیے۔ وہ اس طرح کی پریکٹسز میں انوالو کیوں ہوتا ہے کہ بعد میں پریس کے ہاتھوں سیکنڈ لائز ہو۔ اگر اس کو خود اپنی اور اپنی فیملی کی عزت یا ریپوٹیشن کی پروا نہیں ہے تو کوئی دوسرا کیوں کرے۔”
علیزہ نے ایک بار پھر سرد مہری سے جواب دیا۔ اسے جنید کے منہ سے عمر کے لیے نکلنے والے یہ حمایتی فقرے اچھے نہیں لگ رہے تھے۔
”مجھے اس آرٹیکل کی کسی بات پر یقین نہیں ہے۔ مجھے وہ صرف ایک defamation compaign کا حصہ لگے۔” جنید نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
علیزہ نے جنید کو غور سے دیکھا ”عمر میرا کزن ہے، میں عمر کو آپ سے زیادہ اچھی طرح جانتی ہوں۔ وہ کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔ اس کے بارے میں بھی میری رائے آپ سے زیادہ اہم ہے اور میں صالحہ کو بھی اچھی طرح جانتی ہوں وہ کسی Defamation Campaign کا حصہ نہیں ہو سکتی۔” اس نے مستحکم انداز میں کہا ”اور آخر وہ ایسی کسی کیمپین کا حصہ کیوں بنے گی۔ اس کی عمر جہانگیر سے کوئی مخالفت ہے نہ ہی اسے کسی سے کوئی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ عمر وہی کاٹ رہا ہے جو اس نے بویا ہے۔” اس نے کندھے اچکائے۔
”صالحہ کے پاس اس آرٹیکل کے لیے میٹریل کہاں سے آیا؟ وہ تو عام طور پر ایسے ایشوز پر نہیں لکھتی۔” جنید نے اچانک اس سے پوچھا۔
”یہ میں نہیں جانتی۔ صالحہ سے اس آرٹیکل کے بارے میں میری کوئی بہت تفصیلی گفتگو نہیں ہوئی۔” علیزہ نے کہا۔
”کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ صالحہ نے ایک دم اس قسم کا متنازعہ ایشو لے کر اس پر لکھا جب کہ اسے اس کا کوئی تجربہ ہے، نہ ہی اس حوالے سے اس کا کوئی بیگ گراؤنڈ ہے۔”
”یہ بات اتنی حیران کن نہیں ہے جتنی آپ کو لگ رہی ہے، وہ جرنلسٹ ہے۔ جب چاہے جس چیز کے بارے میں لکھ سکتی ہے۔ اہم بات تو صرف یہ ہے کہ جو چیز لکھی جائے وہ اچھی طرح لکھی جائے اور اس میں کوئی جھول نہ ہو اور میں سمجھتی ہوں اس کے اس آرٹیکل میں کوئی جھول نہیں ہے۔” علیزہ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
”لیکن صالحہ کے پاس ان تمام باتوں کے بارے میں اتنی معلومات اور ثبوت کہاں سے آئے ہیں۔ کیا وہ عمر کے شہر گئی تھی۔” جنید نے پوچھا۔
”نہیں، وہ وہاں نہیں گئی۔ اس نے یہ ساری انفارمیشن ایک دوسرے جرنلسٹ سے لی ہیں۔” علیزہ نے کہا۔ ” دوسرے جرنلسٹ سے؟” جنید کچھ حیران ہوا۔
”ہاں ایک دوسرے جرنلسٹ سے۔ وہ اس ایشو پر کام کر رہی تھی۔ انفارمیشن کی ضرورت پڑی تو اس نے اس سے مدد لی۔” علیزہ نے بتایا۔
”کس جرنلسٹ سے؟” جنید نے پوچھا۔
”آپ اس معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے، یہ عمر کا پرابلم ہے۔ ہم خواہ مخواہ اس کے بارے میں کیوں پریشان ہوں۔” علیزہ نے جنید کی بات کا جواب دینے کے بجائے کہا۔
”کیا تمہیں یہ حیرانی کی بات نہیں لگ رہی کہ صالحہ نے ایک دوسرے جرنلسٹ کی فراہم کردہ معلومات اپنے آرٹیکل میں شامل کیں۔ یہ پروفیشنلزم ہے۔ ان چیزوں کو شائع کرنا یہ کہہ کر یہ proofs authenticated(مستند ثبوت) ہیں جب کہ درحقیقت آپ خود بھی اس کی authenticity کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔” جنید نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔
”یہ کوئی بات نہیں ہے ہم لوگ اکثر آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔” علیزہ نے اس کے اعتراض کے جواب میں کہا۔
” اور اگر وہ انفارمیشن غلط ہو تو؟” جنید نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا۔
”ایسا نہیں ہوتا۔” علیزہ نے مدھم آواز میں کہا۔
”ہو بھی سکتا ہے آخر جرنلسٹس پر وحی تو نازل نہیں ہوتی۔”
”ہم صرف وہی انفارمیشن ایک دوسرے کو دیتے ہیں جن کے بارے میں ہمیں یہ یقین ہو کہ وہ غلط نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر غلط انفارمیشن دیں گے تو اپنا امیج بھی خراب کریں گے اور اخبار کا بھی۔” علیزہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
”صالحہ کو کس نے انفارمیشن دی تھی؟” جنید نے اس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائے اس سے پوچھا۔
”زین العابدین نے۔” علیزہ نے سنجیدگی سے کہا۔
”زین العابدین نے؟” وہ چونک سا گیا۔
”اور آپ جانتے ہیں زین العابدین غلط انفارمیشن فراہم نہیں کر سکتا۔ کم از کم اس معاملے میں اس کی کریڈیبلٹی پر شک نہیں کیا جا سکتا۔” علیزہ نے کہا۔
”مگر زین العابدین کے پاس عمر کے بارے میں اتنی معلومات کیسے آگئی ہیں۔ عمر اور اس کا تو دور دور تک بھی کوئی تعلق نہیں بنتا۔” جنید نے کہا۔
”زین العابدین! عمر کے بارے میں اگلے کچھ ہفتوں میں کسی اسائنمنٹ پر کام کرنے والا ہے اور وہ اسی سلسلے میں عمر کے بارے میں تمام معلومات اکٹھی کر رہا ہے۔” علیزہ نے لاپروائی سے کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا۔
”کس طرح کی اسائنمنٹ ، کیا تمہیں کچھ اندازہ ہے؟” جنید نے اس سے پوچھا۔
”نہیں، میں کچھ نہیں جانتی۔ ہو سکتا ہے اسی طرح کے چھوٹے موٹے معاملات ہوں۔” علیزہ نے اپنی رائے دی۔
”مگر زین العابدین چھوٹے موٹے معاملات پر تو کام نہیں کرتا۔” جنید بڑبڑایا
”ہو سکتا ہے، زین العابدین کے نزدیک یہ چھوٹا معاملہ نہ ہو۔ اس کے علاوہ بھی کوئی اور بات ہو جو اس کی دلچسپی کا باعث ہو۔” علیزہ نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
”ہاں۔ جانتا ہوں۔ اس کے نزدیک دلچسپی کی اور کیا وجہ ہو سکتی ہے۔” جنید بے اختیار بڑبڑایا اور علیزہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
”آپ زین العابدین کو ذاتی طور پر جانتے ہیں؟” اس نے جنید سے کہا۔
”کسی حد تک…تم صالحہ سے کہو کہ وہ ان معاملات سے دور رہے۔ یہ بہت خطرناک معاملات ہیں اور بہتر ہے وہ کسی دوسرے کے ہاتھ کا ہتھیار نہ بنے۔”
جنید نے اچانک گاڑی ایک ریسٹورنٹ کی پارکنگ میں داخل کرتے ہوئے کہا۔
”جنید! آپ چاہتے ہیں، میں صالحہ کو دھمکاؤں ؟” علیزہ کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔
”نہیں، میں چاہتا ہوں تم ایک اچھی دوست کی طرح اسے ایسے آرٹیکل تحریر اور شائع کرنے کی صورت میں پیش آنے والے اقدامات اور خطرات کے بارے میں آگاہ کرو۔” جنید نے گاڑی روکتے ہوئے کہا ”مجھے امید تو یہی ہے کہ وہ تمہاری نصیحت پر کان نہیں دھرے گی مگر پھر بھی تم اپنا فرض تو ادا کر دو۔”
”صالحہ کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟” وہ الجھے ہوئے تاثرات کے ساتھ جنید کو دیکھنے لگی۔
”یہ میں کیسے بتا سکتا ہوں۔ میں متعلقہ پارٹی نہیں ہوں یہ تو متعلقہ پارٹی ہی بتا سکتی ہے کہ وہ ایسی صورت حال میں کیا قدم اٹھاتی ہے۔ ”جنید نے لاپروائی سے اپنے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
”فرض کریں اگر یہ آرٹیکل آپ کے بارے میں ہوتا تو آپ کا ردعمل کیا ہوتا؟” علیزہ نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
”میرا ردعمل؟” جنید چند لمحے سوچتا رہا۔ ”میں مس صالحہ پرویز کو کورٹ میں لے جاتا، ہتک عزت کے دعویٰ میں” جنید نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا ”نہ صرف اسے بلکہ اس کے اخبار کو بھی۔”
”یہ آپ اس صورت میں کرتے اگر الزامات غلط ہوتے، فرض کریں اگر الزامات صحیح ہوتے تو پھر آپ کیا کرتے؟” جنید علیزہ کا چہرہ دیکھنے لگا۔
”تب تو آپ کبھی بھی اسے کورٹ میں لے جانے کا نہیں سوچ سکتے تھے تب آپ کیا کرتے؟”
”میں نے ایسے ہی کسی اقدام سے بچنے کے لیے تمہیں صالحہ کو محتاط کرنے کے لیے کہا ہے۔” جنید نے پرسکون انداز میں کہا۔
”یعنی آپ بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ الزامات غلط نہیں؟” جنید کچھ لمحوں کے لیے کچھ نہیں بول سکا۔ وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
”کیا آپ سے انکل ایاز یا عباس نے مجھ سے یہ سب کچھ کہنے کے لیے کہا ہے؟” علیزہ نے پرسکون آواز میں پوچھا۔
”نہیں۔۔۔” جنید نے گاڑی بند کر دی۔
”پھر آپ اس سارے معاملے میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں؟” اس کے لہجے میں سرد مہری تھی۔
”میں آج آپ کو یہ صاف صاف بتا دوں کہ میرا خاندان صرف میرا خاندان ہے۔ وہ آپ کا خاندان نہیں ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ آپ میرے خاندان کے بارے میں مجھے کوئی مشورہ دیں یا میرے خاندان کے کسی معاملے کو اتنی تفصیل سے زیر بحث لائیں۔”
جنید ہکا بکا اسے دیکھتا رہا۔
”انکل ایاز کے خاندان سے آپ کے تعلقات کتنے گہرے ہیں یا عباس بھائی سے آپ کی دوستی کی نوعیت کیا ہے، مجھے اس کی پروا نہیں، لیکن میں اپنی فیملی یا اپنے دوستوں کے لیے کسی قسم کے مشورے نہیں چاہتی…نہ آج، نہ آئندہ کبھی…اب آپ مجھے گھر واپس چھوڑ آئیں۔”
”علیزہ !” جنید نے جیسے بے یقینی کے عالم میں کہا۔
”مجھے گھر چھوڑ دیں۔” علیزہ نے جنید کے لہجے پر توجہ دیئے بغیر اسی طرح کہا۔
”اتنا غصہ کس بات پر آرہا ہے تمہیں؟” جنید اب بھی حیران نظر آرہا تھا۔
”مجھے گھر چھوڑ دیں۔” اس نے جنید کے سوال کا جواب دیئے بغیر کہا۔
”میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں۔” جنید نے اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔
”آپ یہ سوال مجھ سے پوچھنے کے بجائے اپنے آپ سے پوچھیں۔” علیزہ نے ناراضی سے کہا۔
”کیا تمہاری فیملی میری فیملی نہیں ہے؟” جنید نے اسے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”نہیں۔” علیزہ نے دوٹوک لہجے میں کہا ”میری فیملی صرف میری فیملی ہے…جیسے آپ کی فیملی صرف آپ کی فیملی ہے۔ کیا میں نے آپ کو کبھی آپ کی فیملی کے بارے میں کوئی مشورہ دینے کی کوشش کی ہے؟ میں نے کبھی کسی چیز کو آپ پر امپوز کرنے کی کوشش نہیں کی۔”
”میں نے بھی تم پر کوئی چیز امپوز کرنے کی کوشش نہیں کی۔” جنید نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”غلط بیانی مت کریں۔” علیزہ نے ترشی سے کہا۔
”کیا غلط بیانی کر رہا ہوں میں؟ کیا میں نے تم پر کوئی چیز امپوز کرنے کی کوشش کی ہے؟” وہ اب برہم نظر آرہا تھا۔
”پچھلے آدھ گھنٹے سے آپ اور کیا کر رہے ہیں؟” علیزہ نے اکھڑ انداز میں کہا۔ جنید دم بخود اسے دیکھتا رہا۔
”کیا امپوز کرنے کی کوشش کر رہا ہوں میں آپ پر…یہ وضاحت کرنا پسند فرمائیں گی؟” اس نے کہا۔
”میں آپ سے بحث کرنا نہیں چاہتی…آپ بس مجھے گھر چھوڑ آئیں۔” علیزہ نے اسی انداز میں کہا۔
”مگر میں تم سے بحث کرنا چاہتا ہوں…غلط بیانی کرتا ہوں…اپنی بات تم پر امپوز کرنے کی کوشش کر رہا ہوں…ایسے الزامات لگانے کے بعد تم صرف یہ کہہ کر تو یہاں سے نہیں جا سکتیں کہ تم مجھ سے بحث نہیں کرنا چاہتیں۔”
علیزہ نے پہلی بار اسے مشتعل دیکھا تھا۔ وہ بلند آواز میں بات نہیں کر رہا تھا مگر اس کے دھیمے لہجے کی ترشی اور تلخی کوئی بھی آسانی سے محسوس کر سکتا تھا۔
”رشتے خلوص مانگتے ہیں۔” وہ قدرے نرم ہو کر بولا۔
علیزہ نے برہم ہو کر اسے دیکھا۔ ” آپ اپنی اور میری بات کر رہے ہیں؟”
وہ جواب دینے کے بجائے ناراضی سے اسے دیکھتا رہا۔
”آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہوں۔” اس نے غم و غصہ کے عالم میں کہا۔
”اتنی جلدی نتیجے اخذ مت کیا کرو علیزہ …! میں اپنی اور تمہاری بات نہیں کر رہا ہوں۔” جنید نے برہمی سے اس کی بات کاٹی۔
”پھر آپ اور کس رشتے کی بات کررہے ہیں۔ جہاں میں مخلص نہیں ہوں۔”
”میں تمہاری اپنی فیملی کی بات کر رہا ہوں۔”
”آپ باہر بیٹھ کر اپنے خاندان کے ساتھ میری مخلصی کے بارے میں اندازے مت لگائیں۔” وہ ایک بار پھر مشتعل ہوئی۔ ”ان کے ساتھ میرے تعلق کو آپ سمجھ سکتے ہیں نہ آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔”
”کیوں ضرورت نہیں ہے مجھے؟”
”کیونکہ آپ میرے خاندان کا حصہ نہیں ہیں۔”
”ابھی نہیں ہوں…ہو جاؤں گا۔”
”نہیں۔ تب بھی نہیں ہوں گے۔ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکی ہوں۔ میری فیملی میری فیملی ہے۔ ان کا تعلق صرف مجھ سے ہے اور آپ کا تعلق بھی صرف مجھ سے ہے۔ آپ کا اور میری فیملی کا آپس میں کوئی تعلق نہیں نہ ہی آئندہ کبھی بن سکتا ہے۔”
جنید نے اس کی بات پر ایک گہرا سانس لیا۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ علیزہ اندازہ کر سکتی تھی کہ وہ اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔
”تمہاری فیملی کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔” اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد دوبارہ کہا۔
”تمہارے نزدیک نہیں ہے…دنیا کے نزدیک ہے۔ تمہارے کزن کے بارے میں اس طرح کی خبریں شائع ہونے سے صرف تمہاری فیملی کی ریپوٹیشن ہی خراب نہیں ہوگی۔ میری فیملی کی ریپوٹیشن بھی خراب ہو گی۔ ان سکینڈلز کا میں کیا جواب دوں گا۔”
علیزہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”آپ کوئی جواب مت دیں۔ آپ صرف یہ کہہ دیں کہ آپ اس خاندان کو نہیں جانتے نہ اس کے ساتھ آپ کا تعلق ہے۔”
سے لوگوں کے منہ بند ہو جائیں گے؟”
” ہو جانے چاہئیں۔”
” اور وہ یقین کر لیں گے کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہی سچ ہے۔”
”کر لینا چاہیے۔”
” اور اگر میری بات پر کسی کو یقین نہ آئے تو میں کیا کروں…اپنا مذاق بنواؤں یا پھر بات کرنے والے کو تمہارے پاس بھیجوں ؟”
وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔
”لوگ میرے جھوٹ پر یقین نہیں کریں گے۔”
”آپ اس بات کو جھوٹ نہ رہنے دیں۔”
”کیا مطلب؟”
”یہ رشتہ ختم کر دیں…جھوٹ سچ میں بدل جائے گا۔”
وہ دم بخود اسے دیکھتا رہا۔
”ایسا کیوں کروں میں؟” وہ کچھ دیر بعد جیسے بھڑک کر بولا۔
”آپ کو لوگوں کے سوالوں کا جواب نہیں دینا پڑے گا…ان سے جھوٹ نہیں بولنا پڑے گا۔” علیزہ نے سنجیدگی سے کہا۔
”تم یہ رشتہ ختم کرنے پر تیار ہو مگر تم یہ نہیں کر سکتیں کہ اپنی دوست کو ایسے سکینڈلز شائع کرنے سے روکو۔”
”نہیں۔ میں ایسا نہیں کر سکتی۔” اس نے دوٹوک انداز میں انکار کیا۔ ”جس نے جو غلط کام کیا ہے،
اسے اس کی سزا ملنی چاہیے۔”
”غلط کام کی جو تعریف تمہارے اور تمہاری دوست کے پاس ہے، اس پر صرف عمر پورا اترتا ہے۔” جنید نے مشتعل ہوتے ہوئے کہا۔ ”صالحہ کو کہو، وہ ہر روز ایک آرٹیکل لکھے…ہر روز ایک افسر کی عزت اچھالے جو کام عمر نے کیے ہیں وہ تو اور بھی بہت سے کر رہے ہیں۔ پھر عمر جہانگیر ہی کیوں؟ باقیوں کے بھی نام دے…اپنے خاندان کے لوگوں کے بھی نام دے۔”
”عمر سے اتنی ہمدردی کیوں ہے آپ کو؟ وہ میرا کزن ہے، مجھے اس کی پروا ہ نہیں ہے…مگر آپ۔۔۔”
جنید نے اس کی بات کاٹ دی۔ ” وہ تمہارا کزن ہے…میں تمہیں یہی یاد دلانے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔”
”یہ یاد دلانا آپ کا کام نہیں ہے۔ آپ کو عمر کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی چھوٹی موٹی باتوں سے وہ پریشان نہیں ہوتا۔ یہ کارنامے تو سرخاب کے پر ہیں جو ہر بیورو کریٹ اپنے سر پر سجانا فخر سمجھتا ہے۔ آپ خواہ مخواہ اپنا سر کھپا رہے ہیں۔” علیزہ نے سرد مہری سے کہا۔
”میں صالحہ سے خود بات کرنا چاہتا ہوں۔”
”آپ ایسا نہیں کریں گے۔”
”کیوں نہیں کروں گا۔ تمہیں اگر اپنی فیملی سے دلچسپی نہیں ہے تو مجھے ان کی پرواہ کرنے دو۔”
”میری فیملی کو آپ کی پرواہ اور دلچسپی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پہلا سکینڈل نہیں ہے جو وہ فیس کر رہے ہیں…ایسی چھوٹی موٹی باتوں پر پریشان نہیں ہوتے۔”
علیزہ نے اسی طرح سرد مہری سے کہا۔
”اور اگر ہوں تو وہ خود ہی ہر مسئلے کا حل نکال لیتے ہیں۔ کسی دوسرے کو زحمت نہیں دیتے…اور صالحہ جیسے جرنلسٹس کے آرٹیکلز ان کے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے… وہ جرنلسٹس کے ہاتھوں پریشان ہونے والوں میں سے نہیں ہیں…بہتر ہے، آپ اس سارے معاملے سے خود کو دور رکھیں۔” اس بار علیزہ نے قدرے نرمی سے کہا۔
”یہ آپ کا مسئلہ سرے سے ہے ہی نہیں…انکل ایاز اور عباس خود اس مسئلے کو ہینڈل کر سکتے ہیں…بلکہ عمر بھی…آپ صرف انکل ایاز اور عباس کو یہ بتا دیں کہ صالحہ نے میرے کہنے پر یہ آرٹیکل نہیں لکھا اور نہ ہی میں اس کے کسی آرٹیکل پر کوئی اعتراض کروں گی ۔ وہ میری دوست ضرور ہے مگر وہ جو چاہے لکھ سکتی ہے…اسے میرے مشوروں کی ضرورت نہیں ہے۔”
علیزہ کے لہجے کی سرد مہری اسی طرح برقرار تھی۔
جنید کچھ دیر ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا پھر اس نے کہا۔
”اور اگر میں تم سے ریکویسٹ کروں کہ تم میرے کہنے پر صالحہ سے بات کرو اور اس سے کہو کہ وہ۔۔۔”
علیزہ نے جنید کو بات مکمل نہیں کرنے دی۔ ”تو میں آپ سے معذرت کر لوں گی…میں یہ کام نہیں کروں گی…چاہے آپ کہیں، چاہے کوئی اور۔۔۔”
جنید کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر اس نے کچھ بھی کہے بغیر گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کر دی اور اسے پارکنگ سے باہر لے آیا۔
واپسی کا سارا سفر بڑی خاموشی سے طے ہوا تھا۔ گاڑی کی فضا میں کشیدگی محسوس کی جا سکتی تھی۔ علیزہ کے ڈپریشن میں اور اضافہ ہو چکا تھا۔ اب وہ پچھتا رہی تھی کہ اس نے جنید کے ساتھ آنے کا فیصلہ کیوں کیا تھا…وہ اس کے ساتھ نہ آتی تو ان کے درمیان یہ جھگڑا کبھی نہ ہوتا نہ ہی جنید کا موڈ اس طرح خراب ہوتا۔
جنید ہر بار اسے گھر کے اندر چھوڑنے جاتا تھا مگر اس دن اس نے گیٹ پر ہی گاڑی روک دی۔ علیزہ گاڑی کا دروازہ کھول کر خاموشی سے اتر گئی۔ اس کے اترتے ہی جنید نے کچھ بھی کہے بغیر گاڑی کو موڑ لیا۔
جتنی دیر میں چوکیدار نے گیٹ کھولا۔ وہ وہاں سے جا چکا تھا۔ وہ سر جھٹکتی ہوئی اندر چلی آئی۔
نانو لاؤنج میں ہی تھیں۔
”جنید اندر نہیں آیا؟” انہوں نے اسے دیکھتے ہی پوچھا۔
نہیں اسے کچھ کام تھا۔” علیزہ نے مسکرانے کی کوشش کی مگر اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس کا چہرہ اس کا ساتھ نہیں دے رہا ہوگا۔
”تمہیں کیا ہوا ہے؟” نانو نے اس کی کیفیت منٹوں میں بھانپ لی۔
”کچھ نہیں…بس میں تھک گئی ہوں۔ سونا چاہتی ہوں۔” وہ نانو سے نظریں چرا کر لاؤنج سے نکلنے لگی۔
”علیزہ !” نانو کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا۔
”جنید سے تمہارا کوئی جھگڑا ہوا ہے؟”
”نہیں۔” اسے توقع نہیں تھی۔ نانو اتنی جلدی بات کی تہہ تک پہنچ جائیں گی۔
”میں اسے فون کرتی ہوں۔” نانو فون کی طرف بڑھتے ہوئے بولیں، وہ بے اختیار جھنجھلاتے ہوئے لاؤنج سے باہر نکل گئی۔
٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے