Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 56

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 56
۔۔۔۔۔
باب 50

علیزہ جنید کے ساتھ اس وقت ہوٹل میں بیٹھی تھی، وہ دونوں وہاں کھانا کھانے کے لیے آئے تھے۔ جنید نے اسے کچھ شاپنگ بھی کروائی تھی شاپنگ سے واپسی پر وہ اس ہوٹل میں چلے آئے۔
”یہ شادی سے پہلے ہمارا آخری کھانا ہے۔” ویٹر کو آرڈر دینے کے بعد جنید نے علیزہ سے کہا۔
”اگلی بار تو ہم ایسی کسی جگہ پر شادی کے بعد ہی بیٹھے ہوں گے۔”
”کوئی آخری خواہش ہے تمہاری…کوئی ایسا کام جو تم آج کرنا چاہو۔۔۔” جنید نے گہرا سانس لیا۔
علیزہ کو اس کی سنجیدگی پر ہنسی آگئی۔ ”آپ کس طرح کی باتیں کر رہے ہیں جنید…آخری خواہش سے کیا مطلب ہے آپ کا؟”
”کوئی ایس چیز جو ہم یا تم آج کر سکتی ہو مگر تین ہفتے بعد نہ کر سکو، میرا مطلب ہے شادی کے بعد۔”
”میرے ذہن میں تو ایسی کوئی چیز نہیں آ رہی جو میں اب کر سکتی ہوں اور شادی کے بعد نہیں کر سکتی۔” علیزہ نے لاپروائی سے کہا۔
”یار سوچو…ذہن پر زور ڈالو۔ کچھ نہ کچھ تو ایسا ہوگا جو ہم آج کر سکتے ہیں مگر شادی کے بعد نہیں کر سکیں گے۔ اب تین ہفتے تک تو میں تم سے مل نہیں سکوں گا اس لیے اگر تمہاری کوئی خواہش ادھوری رہ گئی تو پھر مجھے مت کہنا۔”
”میں نے ذہن پر بہت زور دیا ہے مگر میری سمجھ میں نہیں آ رہا بس یہ ہے کہ شادی تک آپ سے دوبارہ ملاقات نہیں ہو گی اور تو کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو چھٹ جائے اور جہاں تک آپ سے ملاقات کی بات ہے تو شادی کے بعد آپ سے ملاقات تو روز ہی ہوتی رہے گی۔ پھر اور کیا ہے۔” علیزہ نے کہا
”ہاں واقعی اور ایسا ہے ہی کیا جو چھٹ جائے گا یعنی تمہاری کوئی ایسی خواہش نہیں ہے جو ادھوری رہ جائے گی؟”
”نہیں میری ایسی کوئی خواہش نہیں ہے جو ادھوری رہ جائے گی۔”
”پھر بھی یار! اگر کچھ منوانا ہو تو آج منوا لو، میں بہت اچھے موڈ میں ہوں، شاید بعد میں تمہاری فرمائش اس طرح نہ پوری کروں جس طرح اب کرنے پر تیار ہوں۔” جنید نے فراخ دلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
”میں نے آپ سے کبھی بھی کوئی فرمائش نہیں کی یہ آپ کو یاد رکھنا چاہیے۔” علیزہ نے اسے جتایا۔
”یعنی میں خود ہی تمہارا اتنا خیال رکھتا ہوں کہ تمہیں فرمائش کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ تم یہی کہنا چاہ رہی ہو نا؟” جنید نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
”نہیں میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ میں فرمائشوں پر کچھ زیادہ یقین نہیں رکھتی، خاصی قناعت پسندی ہے مجھ میں۔”
”اسی لیے تو تمہیں میں نے آفر کی ہے۔”
علیزہ نے اس کے مسکراتے چہرے کو غور سے دیکھا۔
”اگر آپ اتنا اصرار کر رہے ہیں کسی فرمائش کے لیے تو آپ میری ایک خواہش پوری کر دیں۔” اس نے چند لمحے کچھ سوچتے رہنے کے بعد یکدم سنجیدگی سے کہا۔
”بالکل ضرور کیوں نہیں۔” جنید نے کچھ دلچسپی کے ساتھ ٹیبل پر اپنی کہنیاں ٹکاتے ہوئے کہا۔
”عمر سے دوبارہ کبھی مت ملیں۔”
جنید کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ وہ ایک بار پھر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ ”یہ کیا بات ہوئی؟”
”آپ نے خود ہی کوئی فرمائش کرنے کے لیے کہا تھا۔” علیزہ نے اسے یاد دلایا۔
”مگر یہ تو خاصی نامناسب سی فرمائش ہے۔” جنید یکدم سنجیدہ ہو گیا۔
”نہیں کوئی اتنی نامناسب نہیں ہے۔” علیزہ نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ پہلے کی طرح اب بھی عمر سے کوئی رابطہ نہ رکھیں۔ اس سے ملنے سے احتراز کریں اس میں نامناسب بات کیا ہے؟”
”میں اس سے بہت زیادہ تو نہیں ملتا ہوں۔”
”میں چاہتی ہوں آپ اس سے نہ ملیں نہ کم نہ زیادہ۔ سرے سے ہی نہ ملیں۔”
”کیوں؟”
”کیونکہ میں اسے پسند نہیں کرتی۔” اس نے بڑی صاف گوئی سے کہا۔
”تم اسے پسند کیوں نہیں کرتیں؟”
”آپ جانتے ہیں۔”
جنید نے اس کی بات پر قدرے ناگواری سے سر جھٹکا ”صرف ایک واقعہ کی بنا پر کسی کے بارے میں اس طرح کی حتمی رائے بنا لینا اور کسی کو ناپسند کرنے لگنا کچھ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے…بہت illogical (غیر منطقی) اور Unreasonable (نامناسب) قسم کی بات ہے۔”
”ایک یا دو واقعات کی بات نہیں ہے۔ بہت ساری وجوہات ہیں اس کے لیے میری ناپسندیدگی کی۔” علیزہ نے سنجیدگی سے کہا۔
”تم ذرا روشنی ڈالنا پسند کرو گی، ان بہت ساری وجوہات میں سے چند ایک پر۔”
”اگر میں نے یہ کام شروع کیا تو ہم لوگ خاصا وقت ضائع کریں گے۔” علیزہ نے بات کو گول کرتے ہوئے کہا۔
”کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ تم عمر کو اس کے پروفیشن سے ہٹ کر صرف ایک فیملی ممبر کے طور پر دیکھو۔ اس کے پروفیشن کے حوالے سے اسے جج نہ کرو۔” جنید نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
”اس کے باوجود اس کے لیے میری ناپسندیدگی اسی طرح قائم رہے گی۔” علیزہ نے دوٹوک انداز میں کہا۔ ”اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ میں اسے اس کے پروفیشن کے حوالے سے جج کروں یا نہ کروں۔”
”مجھے حیرت ہوتی ہے اس نے ہمیشہ تمہاری تعریف کی ہے اور تم اس کے بارے میں اتنی نیگیٹو سوچ رکھتی ہو۔”
”وہ بھی مجھے ناپسند کرتا ہے۔” علیزہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”نہیں کم از کم میں تمہاری اس بات پر یقین نہیں کر سکتا۔” جنید نے قطعیت سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”اتنے سالوں میں میں نے ایک بار بھی عمر کے منہ سے تمہارے خلاف کبھی کچھ نہیں سنا۔ وہ ہمیشہ تمہارے بارے میں بہت فکر مند رہا ہے۔ اس نے ہمیشہ تمہاری تعریف کی ہے۔”
جنید روانی سے کہتا جا رہا تھا، علیزہ بے حس و حرکت پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھ رہی تھی۔
”ہو سکتا ہے تم دونوں کے درمیان کچھ غلط فہمی ہو جسے دور ہو جانا چاہیے اور مجھے غلط فہمی کے سوا یہ کچھ اور لگتا بھی نہیں، جب تم اپنے کسی اور کزن پر اس کے کیریئر یا پروفیشن کے حوالے سے تنقید نہیں کرتیں یا اسے ناپسند نہیں کرتیں تو پھر آخر عمر ہی کیوں، کیا یہ اس کے ساتھ زیادتی نہیں ہے۔”
جنید بات کرتے کرتے رک گیا۔ علیزہ کے چہرے کے تاثرات بہت عجیب تھے۔
”کیا ہوا؟ کیا میں نے کچھ غلط کہا؟” جنید نے اس سے پوچھا۔
”کتنے سالوں سے جانتے ہیں آپ عمر کو؟” اس نے سرد آواز میں جنید سے کہا وہ اسے دیکھنے لگا۔
”کتنے سالوں سے؟”
”ہاں کتنے سالوں سے؟ آپ نے کہا…آپ نے ”اتنے سالوں” سے کبھی عمر کے منہ سے میرے بارے میں کچھ برا نہیں سنا، تو آپ اور عمر ایک دوسرے کو کب سے جانتے ہیں؟”
جنید نے مسکرانے کی کوشش کی ”نہیں میں نے تو یہ نہیں کہا۔”
”آپ نے یہی کہا ہے۔” اس نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
اس سے پہلے کہ جنید کچھ کہتا ویٹر ٹیبل پر کھانا سرو کرنے لگا۔ علیزہ کی بھوک ختم ہو چکی تھی۔ کیا آج پھر کوئی اینٹی کلائمکس ہونے والا تھا، چند منٹ کے بعد ویٹر کھانا لگا کر چلا گیا۔
”چند دن پہلے بھی آپ نے فون پر مجھ سے یہی کہا تھا کہ سات آٹھ سال پہلے تو مجھے غصہ نہیں آتا تھا، میں نے سوچا کہ آپ نے بے دھیانی میں ایسا کہا ہے مگر ایسا تو نہیں ہے۔ آپ مجھے کب سے اور کتنا جانتے ہیں۔”
”علیزہ چھوڑو یار! ہم دونوں کیا فضول باتیں لے کر بیٹھے ہیں۔ کھانا کھاتے ہیں۔” جنید نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
”میں یہاں سے اٹھ کر چلی جاؤں گی، اگر آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔ عمر کو آپ کب سے جانتے ہیں؟” اس بار اس کی آواز میں واضح طور پر ناراضی تھی۔
جنید یکدم سنجیدہ ہو گیا، کچھ دیر وہ ایک دوسرے کے چہرے دیکھتے رہے پھر جنید نے ایک گہرا سانس لے کر جیسے ہتھیار ڈال دیئے۔
”پندرہ سال سے۔۔۔” وہ دم بخود رہ گئی۔
اس وسیع عریض ڈائننگ ہال میں اسے اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اپنے ہاتھ کی کپکپاہٹ کو چھپانے اور خود کو جیسے سہارا دینے کے لیے اس نے اپنے ہاتھوں کو ٹیبل پر رکھ دیا۔ وہ اس کے بالمقابل اپنی کرسی پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا، وہ آدمی جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ وہ عمر کے برعکس اس سے ہمیشہ مخلص رہا ہے وہ آدمی جس کے بارے میں اسے خوش فہمی تھی کہ وہ کبھی اسے کسی چیز کے بارے میں دھوکے میں نہیں رکھے گا۔
جنید اب بات کرتے کرتے کچھ دیر کے لیے رک گیا تھا، شاید وہ بات جاری رکھنے کے لیے کچھ مناسب لفظوں کی تلاش میں تھا۔
علیزہ فق رنگت کے ساتھ اس کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ دم بخود اور ساکت۔
”ہم لوگ فلیٹ میٹس تھے۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹس الگ تھے مگر ہم لوگوں کی دوستی پر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ یونیورسٹی کے بعد بھی کچھ عرصہ ہم اکٹھے ہی رہے پھر عمر لندن چلا گیا۔ میں واپس پاکستان آ گیا۔ میں نے اپنے بابا کی فرم کو جوائن کر لیا مگر ہم دونوں ہمیشہ رابطے میں تھے۔” جنید نے رک کر اپنے گلاس میں پانی ڈالا۔ وہ کہہ رہا تھا۔
”بہت گہری قسم کی دوستی ہے ہماری…عمر جب بھی پاکستان آتا تھا میرے یہاں بھی آتا تھا۔ بعد میں سول سروس میں آنے کے بعد یہ تعلق کچھ اور گہرا ہو گیا۔ جتنا عرصہ وہ پاکستان میں رہا بڑی باقاعدگی سے ہمارے یہاں آتا رہا۔ بعض دفعہ وہ ہمارے گھر ٹھہرتا بھی رہا ہے۔ پندرہ سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے، یہ کوئی پندرہ دن نہیں ہوتے کہ انسان ایک دوسرے کو جان نہ سکے۔ میں عمر کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں، بہت ہی اچھی طرح اسی لیے جب تم اس پر تنقید کرتی تھیں تو میں۔۔۔” جنید نے پانی کا گھونٹ بھرا۔

”میں کبھی یقین نہیں کر سکتا کہ عمر اس طرح کا ہے جس طرح کا تم اسے بتاتی ہو۔ اگر ساری دنیا بھی میرے سامنے جمع ہو کر ایک وقت میں وہی باتیں کہے جو تم کہتی ہو، تب بھی میں یقین نہیں کروں گا۔” اس کے لہجے اور انداز میں قطعیت تھی۔
”وہ میرا بہترین دوست ہے اور میں اسے کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں۔” وہ خالی خالی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھے گئی۔
جنید ابراہیم کا چہرہ، اپنے منگیتر کا چہرہ، عمر جہانگیر کے بہترین دوست کا چہرہ۔
جنید نے اپنی بات جاری رکھی۔ ”صرف میں ہی نہیں میرے گھر والوں کے لیے بھی وہ کوئی اجنبی شخص نہیں ہے۔ وہ ہماری فیملی کا ایک فرد ہے، یہ سمجھ لو کہ میری امی کا تیسرا بیٹا ہے وہ۔ اگر وہ آئے نہ تب بھی فون پر میرے گھر والوں سے اس کا رابطہ رہتا ہے۔ میرے پیرنٹس سے خاص طور پر میری چھوٹی بہن سے…فری سے۔۔۔”
”تو آپ عباس کے دوست نہیں ہیں؟” اس نے ایک لمبی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔
”نہیں۔۔۔” جنید نے نفی میں سر ہلایا۔ ”عمر کے توسط سے میں تمہیں اور تمہاری فیملی کے اور بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں اور ان میں عباس بھی شامل ہے مگر عبا س سے میری کوئی دوستی نہیں ہے۔ صرف جان پہچان ہے۔” جنید نے کہا۔
”اور مجھے…مجھے آپ کب سے جانتے ہیں؟” اس نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
جنید کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری۔” بہت سال ہو گئے ہیں۔ یہ کہنا بہتر ہے کہ بہت سالوں سے …پہلی بار میں تب تم سے ملا تھا جب عمر سول سروس کے امتحان کے لیے پاکستان میں تھا۔ عمر کے ساتھ میں تمہارے گھر آیا تھا۔ تم اس وقت کہیں جا رہی تھیں اور ہم لوگ لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر نے ہم دونوں کا تعارف کروایا تھا پھر دو تین بار میں نے فون کیا تھا عمر کے لیے اور تم نے فون ریسیو کیا تھا۔
علیزہ کو یاد آیا کہ جنید سے پہلی بار بھوربن میں ملاقات کے دوران اسے بار بار یوں لگتا تھا جیسے وہ اسے پہلے بھی کہیں دیکھ چکی ہے مگر کوشش کے باوجود وہ یہ یاد کرنے میں ناکام رہی تھی کہ اس نے اسے کہاں دیکھا تھا، بعد میں اس نے اپنے اس خیال کو جھٹک دیا تھا۔
”اس کا مطلب ہے نانو بھی آپ کو بہت عرصہ سے جانتی ہوں گی؟”
”ہاں تب ہی سے، جب میں عمر کے ساتھ دوچار بار ان کے ہاں آیا۔ بعد میں بھی ان سے بات وغیرہ تو ہوتی تھی مگر ملاقات کا سلسلہ قدرے محدود ہی رہا کیونکہ میں کچھ اور تعلیم کے لیے ایک بار پھر باہر چلا گیا تھا۔” جنید بڑے آرام سے بتاتا گیا۔
”عمر سے میں نے تمہارا بہت ذکر سنا تھا۔ تم ان چند لوگوں میں سے ہو…جن کا نام ہمیشہ اس کی زبان پر رہا ہے۔ تمہارے لیے کسی زمانے میں بہت پریشان بھی رہتا تھا اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم دونوں کی کسی زمانے میں آپس میں بہت اچھی دوستی تھی۔”
وہ گم صم اس کی باتیں سن رہی تھی۔
”پھر عمر کے کیریئر کی وجہ سے تمہارے اور اس کے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں اور تم اسے برا سمجھنے لگیں۔ مگر عمر کی رائے تمہارے بارے میں ہمیشہ اچھی رہی، میں نے اسے کبھی تمہارے بارے میں کچھ بھی برا کہتے ہوئے نہیں سنا۔ کبھی بھی نہیں…تمہاری ہمیشہ تعریف کرتا ہے وہ۔” جنید دھیمے لہجے میں کہتا جا رہا تھا۔
”مجھ سے شادی کرنے کے لیے کس نے کہا تھا آپ کو؟عمر نے؟”
اپنے ہونٹ بھنچتے ہوئے اس نے جنید کی بات کو ان سنی کرکے پوچھا۔ جنید اس کی بات کے جواب میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا وہ کچھ نہ کہتا، تب بھی وہ اس سوال کا جواب جان چکی تھی۔ شکست خوردہ انداز میں اس نے اپنے سامنے پڑا ہوا پانی کا گلاس اٹھا لیا۔
”کئی سال پہلے اس نے مجھ سے ایک بار ایسی بات کی تھی۔” جنید کا لہجہ اب پہلے سے بھی زیادہ دھیما تھا، شاید وہ علیزہ کے تاثرات سے اس کی دلی کیفیت جان رہا تھا۔
”اس وقت میں شادی کے بارے میں سیریس نہیں تھا بلکہ اس وقت میں نے اس بارے میں کچھ سوچا ہی نہیں تھا کیونکہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہ رہا تھا اور یہ بات میں نے اس کو بتا دی تھی مگر وہ بضد تھا کہ جب بھی شادی کروں اس کے خاندان میں کروں، تم سے کروں…وہ چاہتاتھا کہ میں اس کے خاندان کا ایک حصہ بن جاؤں، مجھے اس وقت اس کی بات پر ہنسی آتی تھی کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ جتنا تمہارا ذکر کرتا تھا شاید وہ خود تم میں انٹرسٹڈ تھا مگر بعد میں میرا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔”
ہاتھ میں پکڑے ہوئے گلاس پر علیزہ کی گرفت کچھ اور سخت ہو گئی۔
”میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوبارہ باہر چلا گیا مگر عمر بار بار مجھے یہ یاد دلاتا رہا کہ واپس آکر مجھے تم سے شادی کرنی ہے۔” جنید نے ایک بار پھر کہنا شروع کیا۔ ”واپس آ کر بھی وہ مجھ سے یہی کہتا رہا کہ میں اپنی شادی کے بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ وہ بہت عرصہ پہلے ہی یہ طے کر چکا ہے کہ مجھے کس کے ساتھ شادی کرنی ہے۔ پھر آخر کار جب کچھ سیٹ ہو جانے کے بعد میں نے شادی کا فیصلہ کیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے ایک بار مل لوں، اس نے یہ بھی کہا کہ میں یہ ظاہر نہ کروں کہ میں عمر کا دوست ہوں کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اس صورت میں تم کبھی مجھ سے شادی پر تیار نہیں ہوگی۔ اس لیے عباس کے گھر والوں کی مدد لینی پڑی۔” وہ ایک بار پھر بات کرتے کرتے رکا۔
”بھوربن میں عباس کی ممی تمہیں مجھ سے ملوانے کے لیے ہی لے کر آئی تھیں۔ وہ خود ذاتی طور پر مجھ سے صرف ایک بار ہی ملی تھیں اور میری فیملی کو بھی نہیں جانتی تھیں مگر عمر نے ان سے کہا کہ وہ تمہیں لے کر بھوربن جائیں اور مجھ سے ملوا دیں۔”
وہ خالی الذہنی کے عالم میں اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔

”میری اور عمر کی دوستی اس نوعیت کی ہے کہ میں اس کی بات نہیں ٹال سکتا۔ وہ تمہارے بجائے مجھے کسی اور لڑکی سے بھی شادی کا کہتا تو میں تب بھی تیار ہو جاتا۔ تمہاری تو خیر بات ہی دوسری تھی۔ تمہارے بارے میں تو وہ کئی سالوں سے میری برین واشنگ کرتا آرہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بھوربن میں تم سے اتنے سالوں بعد دوبارہ ملنے پر مجھے تمہارے لیے کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ مجھے یونہی لگا جیسے میں بہت سالوں سے تم سے ملتا رہا ہوں۔”
جنید رکا۔
”تم نے مجھے پہچانا نہیں، حالانکہ مجھے اس کا خدشہ تھا مگر عمر کو یقین تھا کہ تم مجھے نہیں پہچان سکو گی۔ تمہارے بارے میں اس کے اندازے ہمیشہ صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ میرے گھر والوں نے بھی میرے کہنے پر تم پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ عمر کو جانتے ہیں یا عمر ہمارے ہاں آتا جاتا ہے۔ میں نے تمہاری اور عمر کی آپس میں غلط فہمی کے بارے میں انہیں بھی بتا دیا ہے مگر یہ سب ہمیشہ ایسا نہیں رہ سکتا تھا۔ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی طرح تمہیں یہ بات ضرور پتا چل جاتی کہ میں اور عمر آپس میں دوست رہے تھے اور پھر تم۔۔۔” جنید بات کرتے کرتے رک گیا۔
”شناسائی، پسندیدگی، محبت…ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ میرے لیے عمر کا ایک اور احسان…بس اور کیا تھا جنید ابراہیم۔۔۔” علیزہ نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے سوچا ”اور میں پچھلے ایک سال سے اس گمان اور خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ یہ شخص مجھ کو دیکھ کر…مجھ سے مل کر میری محبت میں گرفتار ہو گیا ہے اور میں نے اپنے وجود کو خوش فہمیوں اور سرابوں کی کتنی لمبی زنجیر میں جکڑ لیا تھا۔ کیا دنیا میں واقعی محبت نام کی کوئی چیز ہوتی ہے اور یہ شخص عمر کا یار غار جنید ابراہیم …جو مجھے یہ بتا رہا ہے کہ یہ عمر کے کہنے پر کسی سے بھی شادی کر سکتا تھا۔ یہ میری محبت میں اپنے دل کے کہنے پر کہاں مبتلا ہو سکتا تھا۔” وہ ماؤف ذہن کے ساتھ اسے دیکھے جا رہی تھی ۔ تھکن کا ایک عجیب احساس اس کے اندر سرایت کرتا جا رہا تھا ، کچھ دیر پہلے کی خوشی اور طمانیت جیسے بھک سے اڑ گئی تھی۔ جنید اس سے پھر کچھ کہہ رہا تھا۔
”میں جانتا ہوں ، یہ سب کچھ سن کر تمہیں بہت غصہ آ رہا ہوگا۔ مگر۔۔۔” جنید کہہ رہا تھا۔
”غصہ…؟” علیزہ نے اپنی کیفیات کو جانچا نہیں اسے غصہ نہیں آرہا تھا۔ شاید آج پہلی بار اس طرح کے انکشافات سن کر اسے غصہ نہیں آیا تھا۔ نہ عمر جہانگیر پر، نہ جنید ابراہیم پر، نہ اپنے آپ پر اور وہ یہ بات جنید ابراہیم کو بتانا چاہ رہی تھی کہ اسے جنید پر غصہ نہیں آرہا تھا۔ مگر یکدم ہی اسے احساس ہو رہا تھا کہ لفظوں کو چننا اور جوڑ کر ادا کرنا اس کے لیے بہت مشکل ہو گیا تھا ۔ لفظ اپنی وقعت اور اپنی آواز بھی کھو گئے تھے۔
”میں تمہیں اس سب کے بارے میں کبھی بھی دھوکے میں نہ رکھتا، جلد یا بدیر میں تمہیں یہ سب کچھ بتا دیتا۔” وہ کہہ رہا تھا۔
”جلد یا بدیر؟” وہ پھر سوچنے لگی۔ ”کتنی جلدی اور کتنی دیر سے۔ اگر آج میں اصرار نہ کرتی تو کیا یہ مجھے سب کچھ بتا دیتا۔” اس نے جنید کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ ”اور اگر مجھے یہ سب کچھ شادی کے بعد پتا چلتا تو…تو میں کیا کر سکتی تھی؟”
”حالانکہ عمر یہ چاہتا تھا کہ تمہیں یہ سب کچھ کبھی نہ بتایا جائے لیکن میں یہ نہیں کر سکتا۔ تمہیں نہ بتانے کا مطلب ہے کہ عمر میرے گھر نہ آ سکے گا۔ نہ ہی میں اس سے اس طرح کھلے عام مل سکوں گا جس طرح اب ملتا ہوں اور میں اس سے اپنی دوستی کسی طرح ختم نہیں کر سکتا۔ کسی قیمت پر نہیں۔” وہ قطعیت سے کہہ رہا تھا۔ ”اسی لیے یہ چاہتا ہوں کہ تم اس کے بارے میں ہر غلط فہمی دور کر لو۔ عمر ایک بہت اچھا انسان ہے اور وہ ہمیشہ میرا بہترین دوست رہے گا۔ میں تمہارے کہنے پر یا کسی کے بھی کہنے پر اسے نہیں چھوڑوں گا۔”
علیزہ نے دوسری کرسی پر پڑا اپنا بیگ اٹھا لیا اور وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ جنید حیران رہ گیا۔ ”تم کہاں جا رہی ہو؟”
علیزہ نے جواب دینے کے بجائے قدم بڑھا دیئے۔
”علیزہ…علیزہ! جنید کچھ پریشان ہوتے ہوئے خود بھی اٹھ کھڑا ہوا مگر علیزہ نے مڑ کر اسے نہیں دیکھا۔ جنید نے اپنے والٹ میں سے کچھ نوٹ نکال کر میز پر رکھ دیئے اور خود بھی علیزہ کے پیچھے آ گیا۔ وہ اب دروازہ کھول کر سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
”علیزہ! علیزہ…!جنید ایک بار پھر سے آوازیں دینے لگا۔ اس نے مڑے بغیر سیڑھیاں اترنا جاری رکھا وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے سامنے آگیا۔
”کیا ہوا؟ تم اس طرح باہر کیوں نکل آئی ہو؟”
علیزہ رک گئی ۔ وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا، وہ آگے نہیں جا سکتی تھی۔
”کیا ہوا ہے تمہیں؟” اس نے پریشانی سے پوچھا۔

”اس طرح کھانا چھوڑ کر کیوں آگئی ہو؟”
”میں گھر جانا چاہتی ہوں…ابھی…اسی وقت۔۔۔” اس نے سُتے ہوئے لہجے میں کہا۔
”ہمیں گھر ہی جانا تھا مگر اس طرح کھانا چھوڑ کر۔۔۔”
”آپ کھانا کھائیں…آپ کیوں کھانا چھوڑ کر آگئے ہیں؟ میں چلی جاؤں گی۔” اس نے جنید کے دائیں طرف سے نکلنے کی کوشش کی۔
”میں خود یہاں کھانا کھانے نہیں آیا تھا علیزہ! تمہارے ساتھ کھانا کھانے آیا تھا۔”
جنید نے افسوس سے کہا۔ وہ اب اس کے ساتھ چل رہا تھا۔ علیزہ خاموشی سے چلتی رہی۔
”ٹھیک ہے میں تمہیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔” جنید نے بالآخر ہتھیار ڈال دیئے۔
علیزہ نے اپنے قدم روک دیئے۔ جنید اب پارکنگ کی طرف جا رہا تھا وہ وہیں کھڑی رہی۔ کچھ دیر کے بعد وہ گاڑی اس کے قریب لے آیا۔ اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول دیا، وہ خاموشی سے اندر بیٹھ گئی۔
”میں جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض ہو مگر میں نے ہر بات کی وضاحت کی ہے۔”
جنید یقیناً اب پریشان تھا اسی لیے اس نے گاڑی کو مین روڈ پر لاتے ہی ایک بار پھر اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ اس کی طرف دیکھے بغیر ونڈ سکرین سے باہر دیکھتی رہی۔
”علیزہ…! میری طرف سے کسی غلط فہمی کو دل میں جگہ مت دو۔”
علیزہ کی خاموشی جنید کی پریشانی میں اضافہ کر رہی تھی۔
”میں نے کچھ ہفتے پہلے بھی ایک دن تم سے یہ کہا تھا کہ میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ میں یہی بات ہیں بتانا چاہتا تھا۔” وہ کہہ رہا تھا ”بلکہ میں عمر سے اپنی دوستی کو سرے سے چھپانا چاہتا ہی نہیں تھا۔ یہ اس کا اصرار تھا جس پر مجھے ایسا کرنا پڑا مگر اس میں تمہیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچا نہ میری طرف سے نہ عمر کی طرف سے اور ہمیں ایسا کیوں کرنا پڑا…میں تمہیں بتا چکا ہوں۔”
جنید کا لہجہ قدرے بے ربط ہو رہا تھا۔ علیزہ اب بھی ونڈ سکرین سے باہر دیکھتی رہی۔
جنید قدرے بے چارگی کے عالم میں خاموش ہو گیا۔ ”میں پھر بھی ایکسکیوز کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے تمہیں یہ سب کچھ بہت برا لگا ہو یا اس سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو۔۔۔” وہ چپ ہو گیا۔ شاید اس کے پاس کرنے کے لیے کوئی اور بات باقی نہیں رہی تھی۔
علیزہ کے گھر کے گیٹ پر اس نے ہارن بجا کر چوکیدار کو متوجہ کیا مگر گاڑی گیٹ پر رکتے ہی علیزہ دروازہ کھولنے لگی۔
”علیزہ! میں گاڑی اندر لے کر جا رہا ہوں۔” جنید نے کہا۔
”نہیں آپ یہیں سے چلے جائیں، اندر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔” علیزہ نے سرد آواز میں اس سے کہا۔ جنید کا چہرہ خفت سے سرخ ہوا۔ چوکیدار اب گیٹ کھول رہا تھا۔
”تم اپنے شاپرز اٹھا لو۔”
جنید نے پچھلی سیٹ پر رکھے ہوئے شاپرز کی طرف اشارہ کیا مگر اس سے پہلے کہ وہ انہیں اٹھا کر اس کی طرف بڑھاتا، وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اتر گئی۔ جنید نے اسے آواز دی مگر اس نے پیچھے مڑے بغیر گیٹ عبور کر لیا۔
کچھ جھنجھلاتے ہوئے جنید گاڑی کو آہستہ آہستہ اندر لے آیا۔ علیزہ کا رویہ۔ اس کے لیے بہت ناقابل یقین تھا۔ اگر اس کے وہم و گمان میں بھی یہ ہوتا کہ وہ اس طرح کے ردعمل کا اظہار کر سکتی ہے تو وہ کبھی اس کے سامنے اس طرح کے انکشافات نہ کرتا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ تھوڑا بہت ناراض ہو گی مگر وہ اسے سمجھا بجھا کر اس کی یہ ناراضی دور کر لے گا۔ مگر اس سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ اس طرح بالکل چپ سادھ لے گی۔
علیزہ اپنے پیچھے اس کی گاڑی کے اندر آنے کی آواز سن رہی تھی مگر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ لاؤنج کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہو گئی۔ نانو لاؤنج میں ہی بیٹھی تھیں۔ انہوں نے علیزہ کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔
”تم بہت جلد آگئیں میں سوچ رہی تھی قدرے دیر سے آؤ گی۔”
انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے حیرت سے کہا۔ علیزہ نے ان کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ ایک نظر انہیں دیکھنے کے بعد وہ رکے بغیر لاؤنج سے گزر گئی۔ نانو نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔ وہ اس کے چہرے کے تاثرات سے کچھ بھی اندازہ نہیں کر سکی تھیں۔
علیزہ وہاں رکے بغیر سیدھا اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنے بیگ کو اپنے بستر پر اچھال دیا اور خود دیوار کے ساتھ پڑے صوفہ کی طرف بڑھ گئی۔ اپنے جوتے اتار کر دونوں پیر صوفہ کے اوپر رکھتے ہوئے کشن گود میں لے کر بیٹھ گئی۔ وہ اپنی کیفیات خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آج خلاف معمول اسے رونا نہیں آرہا تھا۔

”جنید ابراہیم۔۔۔” اس نے زیر لب اس کا نام دہرایا۔ اس نے کچھ دیر پہلے اس کے ہونٹوں سے نکلنے والے تمام جملوں کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ اس کا شاک ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ اندازہ نہیں کر پا رہی تھی کہ اسے غم زیادہ ہوا تھا یا پھر غصہ اور ان دونوں چیزوں کا تعلق کس سے تھا جنید سے…؟عمر سے…؟ نانو سے… یا پھر ان تینوں سے؟
دروازے پر دستک دے کر نانو اندر آ گئی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں شاپرز تھے یقیناً جنید وہ شاپرز انہیں دے گیا تھا۔
”تم یہ ساری چیزیں اس کی گاڑی میں کیوں چھوڑ آئیں؟” نانو نے تنبیہی انداز میں کہا۔
”اور موڈ کیوں خراب ہے تمہارا؟” انہوں نے شاپرز بیڈ پر رکھتے ہوئے کہا۔
”پھر کوئی جھگڑا ہو گیا ہے تم دونوں میں؟” وہ اب اس سے پوچھ رہی تھیں۔
ان کے لہجے میں تشویش کا عنصر نمایاں تھا۔ ”جنید بھی کچھ پریشان نظر آرہا تھا۔ میرے روکنے کے باوجود رکا نہیں۔ اوپر سے تمہارے منہ پر بھی بارہ بجے ہوئے ہیں، آخر ہوا کیا ہے؟”
علیزہ ان کو مکمل طور پر نظر انداز کیے اپنے دانتوں سے انگلیوں کے ناخن کترتی رہی۔
”تم کچھ بتاؤ گی یا اسی طرح بیٹھی رہو گی منہ بند کرکے؟” اس بار نانو نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے اس بار بھی ان کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ”شادی سے پہلے اس طرح جھگڑ رہے ہو تم دونوں تو بعد میں کیا ہوگا؟ میں اسی لیے لمبی کورٹ شپ کے حق میں نہیں تھی اور علیزہ ! کم از کم تم سے تو میں اس طرح کی حماقت کی توقع بھی نہیں کر سکتی تھی۔”
علیزہ نے اس بار بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اب بھی خاموشی سے پہلے کی طرح اپنے ناخنوں کوکترتی رہی۔
”کیا تم قسم کھا کر بیٹھی ہو کہ تم بالکل گونگی ہو جاؤ گی اور کچھ بولو گی ہی نہیں ۔ آخر کچھ کہو تو؟” نانو کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو نے لگا۔
”نانو ! آپ اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔ میں آپ سے صبح بات کروں گی۔” ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے نانو سے کہا۔
”مگر آخر تمہیں ہوا کیا ہے؟” نانو نے کچھ تشویش آمیز انداز میں کہا۔
”جو بھی ہوا ہے میں اس کے بارے میں صبح آپ سے بات کروں گی۔ اس وقت آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔”
علیزہ نے اسی انداز میں کہا۔ نانو کچھ دیر کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھتی رہیں پھر انہوں نے پوچھا۔ ”کھانا کھا لیا ہے تم نے؟”
”سب کچھ کھا چکی ہوں، آپ پریشان نہ ہوں۔” علیزہ نے اکھڑ لہجے میں کہا۔
نانو کچھ دیر اسی طرح کھڑی اسے دیکھتی رہیں پھر کچھ کہے بغیر اس کے کمرے سے باہر نکل گئیں۔ علیزہ اپنے بیڈ پر پڑے ہوئے ان شاپرز کو گھورنے لگی جن میں موجود چیزوں کو کچھ دیر پہلے اس نے بڑے شوق سے جنید کے ساتھ خریدا تھا۔ اس وقت اسے ان تمام چیزوں سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔
اسے سب کچھ ناقابل یقین لگ رہا تھا۔ ”آخر یہ کیسے ہوا کہ مجھے کبھی بھی جنید ابراہیم پر شبہ نہیں ہوا۔ کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا کہ عباس کے بجائے وہ خود بھی عمر کا دوست ہو سکتا تھا۔ تب بھی نہیں جب وہ اتنے زور و شور سے عمر کی حمایت کرنے میں مصروف تھا، مجھے سوچنا چاہیے تھا کہ یہ صرف معمولی سی شناسائی تو نہیں ہو سکتی جو جنید کو اس طرح مجھ سے ناراض کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ صرف عباس کے کہنے پر یا عباس کے لیے تو وہ عمر کے لیے اس طرح کی فیلنگز کا اظہار نہیں کر سکتا تھا۔
اور پھر اس دن وہاں کے ایف سی میں ان دونوں کو اکٹھے دیکھ کر بھی میں نے یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ یہ دوستی دیرینہ بھی ہو سکتی تھی۔ ان دونوں کے درمیان نظر آنے والی بے تکلفی کے باوجود میں نے یہی سوچا کہ یہ تعلقات ابھی حال ہی میں استوار ہوئے ہیں اور وہ بھی عمر کی کوشش سے…عمر کو جنید کے گھر دیکھ کر بھی مجھے اس پر کوئی شبہ نہیں ہوا۔ آخر کیوں؟ کیا واقعی میں اس حد تک بے وقوف ہوں کہ کوئی بھی جب دل چاہے مجھے بے وقوف بنا سکتا ہے اور وہ بھی اس حد تک…وہ غم و غصہ کے عالم میں سوچ رہی تھی اور…آخر عمر جہانگیر چاہتا کیا ہے، کیا کرنا چاہتا ہے؟ اپنے بہترین دوست کو میرے گلے میں کیوں باندھ رہا ہے اور وہ بھی اسے اس بات سے بے خبر رکھ کر کہ میں عمر جہانگیر سے محبت کرتی رہی ہوں اور اس سے شادی کی خواہش مند تھی اور مجھے اس بات سے بے خبر رکھ کر کہ جنید سے اس کے تعلقات اس نوعیت کے تھے۔ وہ آخر یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس سے شادی کر لوں۔ اس سے عمر جہانگیر کو کیا ملے گا اور باقی سب لوگ نانو، عباس، عباس کی ممی آخر ان سب نے میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیوں کیا۔ کیا انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ میں کبھی یہ سب جان جاؤں گی اور پھر… پھر میں ان کے بارے میں کیا سوچوں گی۔”
اسے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا ، اتنے بہترین طریقے سے اسے ٹریپ کیا گیا تھا کہ آج اگر جنید خود اسے سب کچھ نہ بتا دیتا تو اسے کبھی بھی ان سب پر شک نہ ہوتا ، نہ وہ اصلیت جان سکتی۔
علیزہ کو اب بھی یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے عمر کے ساتھ آج سے کئی سال پہلے جنید کو دیکھا تھا۔ ان دنوں سرسری طور پر اس نے کئی بار عمر کے بہت سے دوستوں کو دیکھا تھا اور ان میں سے جنید کو پہچاننا اور یاد رکھنا ناممکن کام تھا، جب تک کہ خاص طور پر وہ ان دونوں کو آپس میں متعارف نہ کرواتا اور ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہ اگر اس سے ملی بھی تھی تو سرسری انداز میں مگر جہاں تک جنید کے فون کالز ریسیو کرنے کا تعلق تھا اسے وہ یاد آگئی تھیں۔ عمر جنید کو جین کہا کرتا تھا اور کئی بار فون کرنے پر وہ عمر تک جین کے پیغام بھی پہنچایا کرتی تھی۔ عمر کے منہ سے اس نے بہت دفعہ جین کا ذکر بھی سنا تھا۔ جوڈی کے بعد یہ دوسرا نام تھا جس کا عمر خاصا ذکر کرتا تھا مگر اس کے باوجود اس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ جین کا اصلی نام کیا ہے۔ اس کے نزدیک یہ بات کبھی اتنی اہمیت کی حامل رہی ہی نہیں تھی۔
اور اب وہ ماؤف ہوتے ہوئے ذہن کے ساتھ ان دونوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ جنید ابراہیم ،عمر جہانگیر اپنے بہترین دوست کے ساتھ باندھنا کیوں چاہتا ہے عمر مجھے…دونوں کو دھوکا دیتے ہوئے۔ مجھے بھی جنید کو بھی۔

جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔