Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 57

امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 57
۔۔۔۔۔
باب 51

”سر! میجر لطیف کور کمانڈر کا بیٹا ہے۔” بابر جاوید اگلے دن عمر جہانگیر کو میجر لطیف کے کوائف سے آگاہ کر رہا تھا۔ عمر نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔
”دو ماہ پہلے پروموشن ہوئی ہے اس کی۔” بابر جاوید نے مزید بتایا۔ وہ پچھلے پندرہ منٹ سے عمر جہانگیر کو اس کی ہدایات کے مطابق میجر لطیف کے بارے میں بتا رہا تھا اور عمر کی تشویش میں اضافہ ہو رہا تھا۔ مضبوط فیملی بیک گراؤنڈ کا مطلب اس کے لیے پریشانی کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ میجر لطیف کے طور طریقوں سے یہ اندازہ تو اسے پہلے ہی ہو چکا تھا کہ وہ کسی سیدھے سادے عام سے گھرانے کا سپوت نہیں تھا…اس کی گردن کے سیرے میں اسی طرح کے خم تھے۔ جس طرح کے عمر جہانگیر میں تھے اسی لیے عمر جہانگیر نے اس کے طور طریقوں سے یہ اندازہ لگا لیا تھا اور یقیناً عمر جہانگیر کے بارے میں یہ اندازہ میجر لطیف بھی لگا چکا تھا۔ ایسے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کو بڑی آسانی سے پہچان جاتے ہیں مگر اس کے باوجود کسی موہوم سی امید پر عمر نے میجر لطیف کے بیک گراؤنڈ کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تھی۔
مگر جو تفصیلات بابر جاوید لایا تھا، وہ خاصی حوصلہ شکن تھیں۔ اس کا پورا بائیو ڈیٹا آرمی سے شروع ہو کر آرمی پر ہی ختم ہو جاتا تھا۔
Babar we have to be very careful (ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے)

عمر نے اس کی تمام باتیں سننے کے بعد کہا۔ ” فی الحال ہمارے پاس اس آدمی کے خلاف کچھ نہیں ہے جس کو ہم استعمال کر سکیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم قدرے محتاط ہو جائیں۔ میں نہیں چاہتا اسے آتے ہی میرے اوپر کوئی edge حاصل ہو جائے۔ عمر نے بابر کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔
”سر میں نے پہلے ہی تمام پولیس سٹیشن کے انچارجز کو وارن کر دیا ہے، خود ریکارڈ چیک کرنا شروع کر دیا ہے میں نے۔ پولیس پٹرولنگ کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی شکایت نہیں ہو گی۔” بابر جاوید نے عمر کو یقین دلاتے ہوئے کہا۔
”مجھے تو کوئی شکایت ہو یا نہ ہو، میں یہ چاہتا ہوں کہ آرمی مانیٹرنگ ٹیم تک میری کوئی شکایت نہ پہنچے۔” عمر نے اس کی بات کے جواب میں کہا۔ ”اور ان سب لوگوں کو بتا دو کہ مجھ تک ان کی کرپشن کا کوئی معاملہ نہیں آنا چاہیے۔ اگر مجھ تک اس طرح کا کوئی معاملہ آیا تو میں کچھ دیکھے یا سنے بغیر Suspend (معطل) کر دوں گا اور اس معاملے میں کوئی وضاحت قبول نہیں کروں گا۔” عمر نے بابر جاوید کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔
”خود تم بھی اپنے ”کھانے پینے” کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے موقوف کر دو…تمہارا بینک بیلنس خاصی اچھی حالت میں ہے۔ ابھی کافی لمبا عرصہ تم اس میں مزید اضافے کے بغیر وقت گزار سکتے ہو۔”
عمر جہانگیر اب خود بابر جاوید کی بات کرنے لگا ، جس کے چہرے پر ایک کھسیانی مسکراہٹ نمودار ہو گئی تھی۔
”یس سر!” اس نے اسی انداز میں اپنی خفت کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
”خالی یس سر نہیں میں واقعی تمہیں بتا رہا ہوں۔ اس بارے میں تمہیں بھی نہیں بخشوں گا۔ پہلے تو تمہارے بارے میں جتنی شکایتیں آتی رہی ہیں، انہیں نظر انداز کرتا رہا ہوں مگر اس بار میرے لیے یہ ممکن نہیں ہوگا، یہ میں تمہیں صاف صاف بتا رہا ہوں۔”
عمر جہانگیر کا لہجہ بابر جاوید کو خلاف معمول سنجیدہ لگا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ آج کل وہ جس قسم کی مصیبت میں پھنسے ہوئے تھے اس میں یہ احتیاطی اقدامات عمر جہانگیر کی مجبوری تھے، اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ شاید آرمی مانیٹرنگ کمیٹی کی موجودگی کے بغیر عمر جہانگیر اس قسم کی کوئی ہدایات دیتا اور ان پر عمل کروانے کی کوشش کرتا تو اس کا پورا ماتحت عملہ اس کے خلاف ایک طوفان کھڑا کر دیتا، عمر جہانگیر کو اس سے پہلے اپنی پوسٹنگز میں کچھ اس طرح کے تلخ تجربات ہو چکے تھے، جب اس نے اپنے ماتحت عملے پر کچھ سختی کرنے کی کوشش کی اور اس کا نتیجہ اس کے لیے اچھا نہیں نکلا تھا۔ خود اس کا اپنا پی اے اس کے ممکنہ اقدامات کے بارے میں تمام اطلاعات اس سے نیچے عملے کو پہنچاتا رہا تھا۔ اس کے علاقے کے Political big wigs کو اس کے تمام فیصلوں اور اس کی ممکنہ نقل و حرکت کے بارے میں تمام اطلاعات ہوتی تھیں۔ نتیجہ اس کے ہر ریڈ کی ناکامی کی صورت میں نکلتا تھا۔ صورت حال کچھ اس طرح کی بن چکی تھی کہ اس کے شہر کی پوری پولیس ایک ڈی ایس پی کی قیادت میں ایک طرف تھی اور وہ اکیلا ایک طرف تھا۔ بظاہر ڈی ایس پی اور باقی تمام پولیس اس کے احکامات پر مستعدی سے عمل کرتے تھے مگر اندرون خانہ اس کے احکامات کی افادیت کو زائل کرنے کے لیے وہ اس کے احکامات آنے سے پہلے ہی سرگرم عمل ہو چکے ہوتے تھے۔ مقامی اخبارات، پولیس کے سربراہ اور اس کے ”ایڈونیچرز” کی مضحکہ خیز کہانیوں سے بھرا ہوتا جس میں سچائی کم اور مرچ مسالا زیادہ ہوتا تھا، ابتدائی دو ماہ میں انہوں نے عمر جہانگیر کو زچ کر دیا تھا۔ اس وقت عباس حیدر اس کے کام آیا تھا وہ سروس میں اس سے پانچ سال سینئر اور تمام داؤ پیچ سے اچھی طرح واقف تھا۔
”سروس میں تمہارے بہترین ساتھی تمہارا ڈرائیور، تمہارے گارڈ، تمہارا پی اے اور تمہارا آپریٹر ہوتے ہیں اور کسی بھی پولیس سٹیشن کا ایس ایچ او تمہارے ڈی ایس پی اور اے ایس پی نہیں۔”
عمر عباس نے اسے گُر سکھانے شروع کیے تھے۔

”تم سے ایک دو درجے نیچے کے افسر جو خود بھی سول سروس کے ذریعے سے آئے ہیں، وہ کبھی تمہارے وفادار ساتھی نہیں ہو سکتے۔ نہ ہی انہیں ایسا سمجھنے کی کوشش کرنا۔ ان کے ساتھ گپ شپ کرو، گالف کھیلو…جم جاؤ…کھاؤ پیو…مگر یہ کبھی مت سوچو کہ وہ تمہارے کام میں تمہاری مدد کریں گے۔”
وہ دلچسپی سے عباس کی ہدایات سنتا رہا۔
”پولیس سروس میں ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی ضلع کے ایس پی کی کارکردگی شاندار ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے ڈی ایس پی اور اے ایس پی ڈفر اور نااہل ہیں اور جس ضلع کا ایس پی اپنے کام میں اچھا نہیں ہے اس کا مطلب ہے کہ وہاں اصلی باس ڈی ایس پی یا اے ایس پی ہوگا۔ اور وہ ایس پی سے زیادہ اہل آدمی ہوتا ہے۔ یہ Definition ذہن میں رکھتے ہوئے یہ بات ذہن نشین کر لو کہ وہ دونوں تمہیں کبھی بھی کہیں بھی سیٹ نہیں ہونے دیں گے۔ تم انہیں ایک حکم دو گے آگے پہنچانے کے لیے، وہ اس میں معمولی سی تبدیلی کریں گے۔ بظاہر وہ تبدیلی بڑی پازیٹو لگے گی مگر اس سے وہ حکم تمہارے گلے میں چھچھوندر کی طرح اٹک جائے گا اور وہ بری الذمہ رہیں گے۔”
”ایس پی صاحب کا حکم تھا جی یہ۔۔۔” یہ ان کا گھسا پٹا جواب ہوگا۔ اس لیے کام اگر تمہیں کروانا ہے تو سیدھا ایس ایچ او کے ذریعے کراؤ ان کو بائی پاس کرتے ہوئے۔ البتہ وہ والے احکامات تم ان ہی کے ذریعے نچلے عملے تک پہنچاؤ جو ماتحت عملے کے لیے کسی نہ کسی حوالے سے تکلیف دہ ہوں اور جس پر شور مچنا ہو، نچلے عملے کو اگر ڈانٹ ڈپٹ بھی کروانی ہے تو اے ایس پی کے ذریعے کراؤ۔ تم ایسے الو کے پٹھے ثابت ہوئے ہو۔ ” عباس نے بے تکلفی سے اسے جھڑکا ” کہ تم نے آتے ہی شاہد حمید جیسے نکمے آدمی کو اس قابل کر دیا ہے کہ وہ پورا ڈیپارٹمنٹ لے کر ایک طرف کھڑا ہو گیا ہے۔” عباس نے اس کے اے ایس پی کا نام لیتے ہوئے کہا۔ ”ہم لوگ اس دن ہیڈ کوارٹر میں بیٹھے تمہارا ذکر کر رہے تھے اور ہنس رہے تھے تم پہ سب لوگ …جو بندہ شاہد حمید جیسے نکمے آدمی کو نکیل نہیں ڈال سکتا وہ، آگے چل کر کیا کرے گا۔ دو چار اور بڑے شہروں میں تمہاری پوسٹنگز ہو گئیں تو تمہارے ما تحت تو مل کر تمہیں ویسے ہی بلیک لسٹ کروا دیں گے۔ ایسے ایسے چلتے پرزے تمہارے جونیر آفیسرز کے طور پر آئیں گے کہ تمہارے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔ اپنے علاقے میں ایک آدمی نہیں ہے جس کے ساتھ تم نے بنا کر رکھی ہو۔ نہ اپنے عملے کے ساتھ …نہ وہاں کے سیاسی یا صنعتی گھرانوں کے ساتھ …تم پتا نہیں کون سی سولو فلائٹ کر رہے ہو۔”
”میرا مسئلہ میرے شہر کا پریس ہے۔ اس طرح کی بے ہودہ خبریں لگاتے ہیں وہ میرے بارے میں کہ میں …اور آگے سے وہ خبریں نیشنل پریس پک کر لیتا ہے۔”
”تمہارا مسئلہ تم خود ہو۔” عباس نے اس کی بات کاٹی۔ ”ایک لوکل اخبار کی کیا حیثیت ہوتی ہے۔ ایس پی کے بارے میں کچھ غلط چھاپتے ہوئے جان نکلتی ہے ان کی۔ تمہارے بارے میں اگر اتنے دھڑلے سے اور اتنی بے خوفی سے خبریں چھپ رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں کسی کی پشت پناہی حاصل ہے اور وہ بھی خود تمہارے محکمے میں سے کسی نے کی اور تمہارے ڈی ایس پی کے علاوہ یہ کام اور کون کر سکتا ہو گا۔” اور خود تم نے حد کر دی ہے۔ ڈی آئی جی اس دن بری طرح ہنس رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے اپنی پوری سروس میں اتنے ریڈز کولیڈ نہیں کیا جتنے تمہارے کزن نے آتے ہی دو ماہ میں کئے ہیں۔ اڑتالیس ریڈ اور ہر ریڈ فیک …دو ماہ میں اڑتالیس ریڈ …خود سوچو عمر ! کوئی اپنی عقل استعمال کرو کون کہہ رہا ہے تمہیں اس طرح اتنا کام کرنے کو اور وہ بھی اپنا مذاق بنوانے کے لئے۔ جب تمہارا ہر ریڈ بے سود ثابت ہوتا ہے۔ اس پر پریس مذاق نہ اڑائے تو اور کیا کہے۔”
”مگر عباس ! میرے شہر کا لا اینڈ آرڈر بھی تو بہت خراب ہے۔ ” عمر نے کمزور لہجے میں اپنا دفاع کیا۔
”مجھے یہ بتاؤ کہ لا اینڈ آرڈر پاکستان کے کس شہر کا صحیح ہے۔” عباس اس کی دلیل سے متاثر ہوئے بغیر بولا۔
”اور مان لیا کہ ریڈ کرنا پڑ ہی جاتا ہے تو ہر ریڈ کی قیادت خود کرنے کی کیا تک بنتی ہے۔ تم ہر کولیس بننے کی کوشش کیوں کر رہے ہو ہر ریڈ میں خود موجود، یہ ضروری نہیں کہ اس طرح منہ اٹھا کر خود نکل پڑو …ویسے ان ریڈز کے لئے تمہیں Tips کہاں سے ملی تھیں؟”
عباس نے بات کرتے کرتے پوچھا۔
”کچھ تو پولیس انفارمرز کے ذریعے اور کچھ میرے پرسنل نمبر پر کرینک کالز آئی تھیں۔” عمر نے اسے بتایا۔ عباس نے لا پروائی سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”ہاں میں پہلے ہی توقع کر رہا تھا، ان کرنیک کالرز کو لوکیٹ کیوں نہیں کیا؟”
”کوشش کی تھی مگر آپریٹر نے کہا کہ پی سی او سے کالز کی گئی ہیں۔” عمر نے بتایا ”تو پی سی او اس کرہ ارض سے باہر تو کہیں واقع نہیں ہیں۔ انہیں لوکیٹ کرواتے، اس علاقے کے پولیس سٹیشن کے انچارج سے کہتے کہ اپنے انفارمز کے ذریعے اس انفارمیشن کی تصدیق کرنے …تم منہ اٹھا کر پولیس پارٹی لے کر ریڈ کرنے پہنچ گئے۔”
عمر اس بار کچھ بھی نہ بولا وہ کچھ خفت آمیز انداز میں مسکراتا رہا۔

”یاد رکھو …تمہارا آپریٹر، تمہارا پی اے، تمہارا ڈرائیور، تمہارے گارڈز اور کسی ایک پولیس اسٹیشن کا کوئی ایک تیز قسم کا ایس ایچ او، چلتا پرزہ ٹائپ کا یہ تمہارے بہترین ہتھیار ہیں اور اس وقت تمہارے پاس ان میں سے ایک بھی ہتھیار نہیں ہے۔ جتنی کرینک کالز تمہارے پاس آئی ہیں، تمہارے آپریٹر کو ان سب کا کچا چٹھا پتا ہو گا۔ تمہارے پی اے کو پتا ہو گا اس سب کا۔” عباس ایک بار پھر سنجیدہ ہو گیا۔ ”نہ صرف یہ بلکہ مال کمانے اور بنانے کے جتنے مواقع تمہارے پاس آنے ہیں، وہ ان ہی آدمیوں کے ذریعے آنے ہیں۔ تمہارا ڈی ایس پی اور اے ایس پی کوئی ڈیل یا کوئی آفر نہیں لے کر آئے گا تمہارے پاس، یہی چار پانچ لوگ لے کر آئیں گے۔ اس لئے ان کے ساتھ قدرے خاص سلوک کرو۔ Let them befriend you. (ان سے دوستی کرو) عباس نے کہا۔
عمر نے اس کی بات پر بے اختیار نخوت آمیز انداز میں اپنے کندھے جھٹکے۔ be friend me کانسٹیبل سب انسپکٹر، کلرک ٹائپ کے لوگوں کو میں اپنے دوستوں کی فہرست میں شامل کر لوں امپاسبل۔ ان ٹکے ٹکے کے لوگوں کو میں اپنے سر پر بٹھا لوں۔” اس نے قطعیت سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”پہلے بھی تو وہ تمہارے سر پر ہی بیٹھے ہوئے ہیں۔” عباس نے چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔
”ان جیسے جھوٹے اور کرپٹ لوگوں کو میں سلام کرتا پھروں۔” عمر جہانگیر کے لہجے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
”اوئے تیرا کیا جاتا ہے۔ اگر وہ جھوٹ بولتے ہیں یا فراڈ کرتے ہیں۔ تجھے کیا ہے ” عباس نے اسے بری طرح جھڑکتے ہوئے کہا۔
”نہیں آخر کیوں؟ میں ایسے لوگوں کو کیوں منہ لگاؤں، صرف ان سے خوفزدہ ہو کر۔” عمر اب بھی اس کی باتوں سے متاثر نہیں ہوا تھا۔
”اگر آپ انہیں منہ نہیں لگائیں گے تو پھر یہ آپ کے پیروں کی ایسی رسی بن جائیں گے کہ آپ کو اپنی جگہ سے ہلنے نہیں دیں گے۔” عباس نے اس بار اسے پچکارتے ہوئے کہا۔
”مجھے اگر ثبوت مل گئے کہ ان لوگوں نے جان بوجھ کر مجھ تک غلط انفارمیشن پہنچائی ہے تو میں اب سب کو معطل کر دوں گا۔”
”اس سے کیا فرق پڑے گا۔ ان کی جگہ جو دوسرے لوگ آئیں گے۔ وہ بھی آپ کے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔” عباس نے لا پروائی سے کہا۔”جب تک آپ اپنا طریقہ کار نہیں بدلیں گے، آپ کے ساتھ یہی ہوتا رہے گا۔”
”یہ لوگ اتنے طاقتور نہیں ہیں، جتنا تم انہیں میرے سامنے بنا کر پیش کر رہے ہو۔” عمر نے عباس کی بات کے جواب میں کہا۔
”آپ ایک مقابلے کا امتحان پاس کر کے آئے ہیں عمر جہانگیر صاحب …یہ لوگ کیا کیا چیزیں ”پاس” کر کے آئے ہیں آپ کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہے۔” عباس نے طنزیہ لہجے میں اس سے کہا۔ ”صرف تعلیم نہیں ہے ان کے پاس …اس طرح کی تعلیم جسے آپ اور میں تعلیم سمجھتے ہیں …مگر انہیں ہر وہ ہتھکنڈہ آتا ہے جس سے اس سوسائٹی میں ان کی Survival (بقا) ممکن ہوتی ہے۔” عباس نے ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا۔ ”تمہیں پتا ہے یہ ڈرائیور، گارڈ، پی اے، ٹائپ کے تمام لوگ سیاسی سفارشوں پر بھرتی ہوئے ہوتے ہیں، اور جو لوگ ان کو اس محکمے میں بھرتی کرواتے ہیں وہ صرف ان کی دعائیں لینے کے لئے تو یہ کام نہیں کرتے۔”
اس نے سگریٹ کا پیکٹ عمر کے سامنے کھسکاتے ہوئے کہا۔ عمر نے خاموشی سے اس پر نظریں جمائے ہوئے اس پیکٹ کو اٹھا کر اس میں سے ایک سگریٹ نکال لیا۔ عباس اب لائٹر کے ساتھ اپنے ٹیبل سے کچھ آگے جھکتے ہوئے عمر کے سگریٹ کو سلگا رہا تھا۔
”یہ ان سیاسی لیڈرز کے گرگے ہوتے ہیں، نمک حلالی کرتے ہیں ان کے ساتھ …یہ ہم لوگوں اور سیاست دانوں کے درمیانی پل کا کام کرتے ہیں اور کسی بھی پل کو کبھی بیکار سمجھ کر توڑنا نہیں چاہیے۔” عباس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ”تم ان میں کسی ایک کو معطل کر کے دیکھو کہاں کہاں سے سفارشیں تمہارے پاس آئیں گی تم خود حیران ہو جاؤ گے۔” عباس نے سگریٹ کا ایک کش لیتے ہوئے کہا۔
”مثلاً میرے ڈرائیور کا ایک بیٹا ڈی سی کے دفتر میں جونئیر کلرک ہے۔ اس کا ایک بھائی سیکرٹریٹ میں چوکیدار ہے۔ ایک اور بھائی گورنر ہاؤس میں مالی ہے اور ایک اور بھائی آئی جی صاحب کی گاڑی کا ڈرائیور ہے اس سے زیادہ با رسوخ خاندان کوئی ہو سکتا ہے۔”
عباس نے آخری جملہ ایک قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ ”مجھے بڑا محتاط رہنا پڑتا ہے اس کے سامنے …کیونکہ ہر بات وہ ہر جگہ پہنچا دیتا ہے۔ اسی طرح مجھے اس کے ذریعے وہاں کی تمام باتوں کا پتہ چلتا رہتا ہے …حتیٰ کہ آئی جی صاحب نے جب اپنی دوسری بیوی کو طلاق دینی تھی تو ان کی بیوی سے پہلے مجھے پتا چل چکا تھا۔”
اس بار عمر اس کی بات پر مسکرایا۔
”دراصل عمر ! یہ لوگ وہ طوطے ہیں جن کے قبضے میں ہماری جان ہوتی ہے۔ انہیں ہمارے بارے میں سب کچھ پتا ہوتا ہے یا یہ سب کچھ پتا چلا لیتے ہیں۔ با خبر آدمی بہت نقصان دہ ہوتا ہے اس صورت میں اگر وہ آپ کا دشمن بھی ہو۔”
اس سے پہلے کہ عباس مزید کچھ کہتا عباس کا پی اے اندر آ گیا تھا۔
”مدثر صاحب سے ملوایا ہے تمہیں میں نے؟” اس سے پہلے کہ اس کا پی اے کچھ کہتا عباس نے عمر سے پوچھا عمر نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ اس دن پہلی بار عباس کے آفس گیا تھا۔
”مدثر صاحب ! یہ میرے کزن ہیں عمر جہانگیر اور عمر ! یہ مدثر صاحب ہیں، بہت ہی کمال کے آدمی ہیں، میں نے تو آفس کا سارا کام ان سے سیکھا ہے۔”

عباس نے بڑی خوش دلی کے ساتھ اس ادھیڑ عمر آدمی کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔
”ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں یہ جنہیں رولز اور ریگولیشنز زبانی یاد ہیں۔” عمر نے کچھ حیرانی سے عباس کو دیکھا جو اپنے پی اے کی ایک فائل پر کچھ سائن کر رہا تھا اور پی اے کے چہرے پر کچھ فخریہ مسکراہٹ تھی، عمر نے دھیمے لہجے میں انگلش میں اس سے کچھ کہنا چاہا۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا عباس نے برق رفتاری سے اس کی بات کاٹی اوربڑی بے تکلفی سے کہا۔ ”بھئی ! یہ ہیں ہی بڑے قابل آدمی، ایسے بندے کی تعریف تو کرنی ہی پڑتی ہے۔ میں نے بتایا نا تمہیں کہ میں نے تو سارا آفس ورک ان ہی سے سیکھا ہے۔”
اس بار عمر نے کچھ مسکرا کر اس شخص کو دیکھا۔
”سر ! ایسے ہی تعریف کر رہے ہیں۔ میں کس قابل ہوں …عباس صاحب تو خود بڑے ذہین آدمی ہیں۔”
اس بار اس کے پی اے نے کچھ عاجزانہ سے انداز میں کہا۔
”میں آپ کے آنے سے پہلے عمر سے آپ کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ میں اس کو بتا رہا تھا کہ پی اے اچھا مل جائے تو آدھا کام آسان ہو جاتا ہے۔”
عمر حیرانی سے عباس کو دیکھتا رہا عباس اس کے تاثرات پر غور کئے بغیر اپنے پی اے سے بات کرتا رہا۔ وہ اب اسے کوئی اور ہدایت دے رہا تھا، کچھ دیر بعد جیسے ہی اس کے پی اے نے کمرے سے باہر قدم رکھا۔ عباس نے بڑے اطمینان سے عمر سے کہا۔
”اب تم دیکھو، اس حرامزادے نے میرے ساتھ کیا کیا تھا؟” عباس نے انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ عمر اس کے جملے پر ہکا بکا رہ گیا ”اس کمینے نے میرے کمرے میں ایسا سسٹم لگایا تھا جس سے کمرے کی باتیں سنی جا سکیں …جب میں نے یہاں چارج لیا۔”
”مگر تم تو اس کی تعریف کر رہے تھے۔” عمر نے کچھ سنبھلتے ہوئے کہا۔
”تو تمہارا مطلب ہے، یہ گالیاں میں اس کے سامنے دوں اسے۔” عباس نے عجیب سے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔
”اسی لئے تم اس کے سامنے انگلش میں مجھ سے ساری تفصیل پوچھنے لگے تھے۔ عقل کا استعمال کیا کرو عمر …! ان لوگوں کو بڑی اچھی طرح پتا ہوتا ہے کہ صاحب لوگ انگلش اس وقت بولتے ہیں جب وہ کوئی بات ان سے چھپانا چاہتے ہیں یا اس بات کے الٹ کوئی بات کہہ رہے ہوں جو ان کے سامنے کی جا رہی ہو۔ اس لئے انگلش ان کے سامنے کبھی مت بولو۔ بہتر ہے پنجابی میں بات کرو …دیکھو کس طرح کام آسان ہوتے ہیں۔” عباس خود ہی محظوظ ہوتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”تمہییں کیسے پتا چلا کہ اس نے کمرہ Bug کروایا ہوا ہے؟” عمر نے پوچھا۔
”وہ میرا بیج میٹ نہیں تھا اسجد خاکوانی …اس نے مجھے اس آدمی کے بارے میں خاصا بریف کیا تھا۔ پہلے وہی تھا میری پوسٹ پر …میں نے پہلے دن آتے ہی کمرہ چیک کروایا اور پتا ہے کس سے کروایا۔ پرائیویٹ طور پر ایک آدمی کو بلوا کر۔”
عباس بات کرتے کرتے ہنسا۔
”ورنہ اپنے محکمے کے کسی آدمی کو بلوا کر یہ کام کرواتا تو اس نے کہنا تھا کہ کمرہ Bugged نہیں ہے۔ پھر میں نے ”مدثر صاحب” کو بلوایا اور انہیں صاف صاف بتایا کہ مجھ پر یہ ہتھکنڈے استعمال نہ کریں …میرے کمرے میں دوبارہ کوئی چیز آئی تو میں آپ کے علاوہ کسی اور کو نہیں پکڑوں گا۔ ان حضرت نے بڑی قسمیں کھائیں کہ انہیں کچھ پتا نہیں ہے وغیرہ وغیرہ مگر اس کے بعد دوبارہ میرا کمرہ Bug نہیں کیا گیا۔ کئی دفعہ میں اچانک چیکنگ کرواتا رہتا ہوں۔”
عباس کہتے کہتے ایش ٹرے میں سگریٹ پھینکتے ہوئے بولا۔
”اور تمہیں پتا ہے خود میں نے ان لوگوں کے ساتھ کیا کیا ہے۔ میں نے ان سب کے کمرے Bug کروائے ہوئے ہیں۔” عمر نے اس کی بات پر بے اختیار قہقہہ لگایا۔
”تو بھی بڑا چلتا پرزہ ہے عباس۔”
”ضروری تھا یار …! تم گھر آنا میں تمہیں ان لوگوں کی گفتگو سناؤں گا۔ جو گالیاں یہ مجھے دیتے ہیں انہیں سن کر تمہاری طبیعت صاف ہو جائے گی۔” عباس نے ہنس کر کہا۔
”تم تو کہہ رہے تھے بڑا قابل آدمی ہے۔”
”اس کی قابلیت میں کوئی شبہ نہیں ہے مجھے، بیس سال کی سروس ہے اس کی …کسی رول کے بارے میں بات کر لو …اسے سب پتا ہے۔ کسی دفعہ کی بات کر لو …خود تم حیران ہو جاؤ گے یوں لگے گا جیسے کسی وکیل سے بات کر رہے ہو …حسن ترمذی کا نام سنا ہے؟” اس نے بات کرتے کرتے اس سے پوچھا۔
”ہاں بالکل سنا ہے۔ بڑا ایماندار قسم کا آفیسر ہے۔” عمر کو یاد آیا۔
”ہاں بے حد آؤٹ اسٹینڈنگ قسم کا آدمی تھا۔ ایک سال میری اس پوسٹ پر بھی کام کیا ہے۔ روتے ہوئے نکلا تھا اس آفس سے …اس بندے نے یہاں ما تحت لوگوں کے ساتھ مل کر تگنی کا ناچ نچا دیا تھا اسے، حالانکہ دیکھنے میں تمہیں کتنا مسکین اور مودب لگا ہو گا۔ مگر ترمذی یہاں سے اپنا سروس ریکارڈ خراب کروا کر نکلا تھا ان اسکینڈلز میں پھنسا وہ جن کا اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہو گا اور میں بہر حال حسن ترمذی تو نہیں ہوں کہ اس جیسے دو کوڑی کے پی اے کے ہاتھوں خوار ہوتا۔” عباس اب اسے تفصیل بتا رہا تھا۔
”اس لئے تمہیں کہہ رہا ہوں کہ ان لوگوں کے ساتھ بنا کر رکھو۔ یہ نہیں کہہ رہا کہ اعتبار کرو یا آستین کا سانپ بنا لو مگر انہیں اسی طرح استعمال کرو جس طرح یہ لوگ ہمارے نام کو استعمال کرتے ہیں۔” عباس اسے سمجھا رہا تھا ”میں کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہوں اگر یہ لوگ دوسروں سے کہیں گے کہ میں اچھا نہیں ہوں تو سب مجھے برا ہی سمجھیں گے اور میں کتنا ہی برا کیوں نہ ہوں اگر یہ لوگ سب سے کہیں گے کہ میں اچھا ہوں تو سب مجھے اچھا ہی سمجھیں گے۔ اس آدمی کے ذریعے اس سال میں نے دو کروڑ روپے کمائے ہیں۔ اس نے خود کتنا کمایا ہے مجھے نہیں پتا مگر بہر حال مجھے دو کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے اور ریپوٹیشن میری یہی ہے کہ میں بڑا اچھا آفیسر ہوں۔” وہ مزے سے کہتا جا رہا تھا۔ عباس نے واقعی عمر کو اپنے ما تحت عملے کے ساتھ نپٹنے کے سارے گر سکھا دئیے تھے۔ اپنی پہلی پوسٹنگ پر باقی کے ڈھائی سال عمر نے بڑے اطمینان کے ساتھ گزارے تھے اور دوسری پوسٹنگ تک وہ اپنے فن میں کچھ اور طاق ہو گیا تھا۔ اسی فن کو وہ یہاں بھی استعمال کر رہا تھا خود کرپشن پر براہ راست عملے کو ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے وہ موقع ملنے پر بابر جاوید کو استعمال کر رہا تھا اپنے ضلع میں اس کا نام واقعی اس کے ما تحت عملے کے لئے ایک ہوا بن گیا تھا مگر عباس کی ہدایات کے مطابق اس کے اپنے ڈرائیور، پی اے، گارڈز اور شہر کے دو سب سے بد نام زمانہ ایس ایچ اوز کے ساتھ تعلقات بہت اچھے تھے۔ اس نے جسٹس نیاز کے بیٹے اور اس کے دوستوں کے قتل کے سلسلے میں عباس کے عملے کی مہارت اور وفاداری دیکھی تھی۔ اوپر سے لے کر نیچے تک ہر ایک نے عباس کو ہر طرح سے بچایا تھا اور اسے پہلی بار ما تحت عملے کی وفاداری کی اہمیت کا احساس ہوا تھا۔
٭٭٭
اگلے دن صبح وہ کچھ دیر سے ناشتے کے لئے آئی تھی۔
”جنید نے صبح دو تین بار فون کیا تھا۔” نانو نے اسے دیکھتے ہی اطلاع دی۔
وہ کوئی رد عمل ظاہر کئے بغیر ناشتہ کے لئے ڈائننگ ٹیبل پر جا بیٹھی۔ مرید بابا اسے دیکھ کر ناشتہ لگانے لگے۔
”تمہیں یاد ہے نا آج رات ثمینہ آ رہی ہے؟” نانو نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا۔
”جی ۔۔۔” اس نے مختصر جواب دیا۔
”تم میرے ساتھ ائیر پورٹ اسے ریسیو کرنے چلو گی؟” نانو نے اس سے کہا وہ لاؤنج کے ایک صوفہ پر بیٹھی ہوئی تھیں، جب کہ علیزہ ان سے قدرے فاصلے پر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی ہوئی تھی اس لئے نانو کو قدرے بلند آواز میں بات کرنی پڑ رہی تھی۔
”چلی جاؤں گی۔” علیزہ نے پھر اسی انداز میں جواب دیا۔ علیزہ نے ناشتہ شروع کر دیا نانو کچھ دیر دور بیٹھے ہوئی اسے دیکھتی رہیں پھر اٹھ کر اس کے قریب چلی آئیں، ایک کرسی کھینچ کر اس کے قریب بیٹھتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
”کیا ہوا تھا رات کو تمہارے اور جنید کے درمیان؟”
سلائس کھاتے ہوئے ایک لمحے کے لئے علیزہ کا ہاتھ رکا مگر پھر اس نے سنی ان سنی کرتے ہوئے سلائس کھانا جاری رکھا۔
”تم لوگوں کا جھگڑا ہوا تھا؟” نانو کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرتی رہیں پھر پوچھا۔
علیزہ نے اس بار بھی کچھ نہیں کہا وہ اسی طرح سر جھکائے سلائس کھاتی رہی۔
”جھگڑا تم کرتی ہو اور تمہاری وجہ سے پریشانی مجھے اٹھانی پڑتی ہے۔” اس بار نانو نے بے صبری سے کہا۔ ”اب کس بات پر جھگڑا ہوا تھا؟” علیزہ نے اس بار بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
”علیزہ ! اب یہ بچپنا چھوڑ دو …بیس دن رہ گئے ہیں تمہاری شادی میں اور تم اب بھی بچوں کی طرح اس سے لڑنے میں مصروف ہو۔ وہ کیا سوچتا ہو گا تمہارے بارے میں اور ہماری فیملی کے بارے میں؟” نانو نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
سلائس پر اس کی گرفت کچھ سخت ہوئی مگر اس نے سر پھر بھی نہیں اٹھایا۔ وہ بد ستور سلائس کھاتی رہی۔
”تم میری بات سن رہی ہو؟” اس بار نانو کی خفگی میں کچھ اضافہ ہوا۔ ”میں تم سے مخاطب ہوں۔”
”میں سب سن رہی ہوں نانو!” اس نے بالآخر سر اٹھا کر کہا۔
نانو کو اس کے چہرے کے تاثرات بہت عجیب سے لگے۔
”تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟” انہوں نے تشویش سے پوچھا۔
”جی ۔۔۔” وہ ایک بار پھر سلائس کھانے لگی۔
”جنید کا فون ریسیو کر لینا …بلکہ بہتر ہے کہ تم خود اس کو کال کر لو …اس نے کہا تو نہیں مگر تم کال کرو گی تو اسے اچھا لگے گا۔” انہیں اچانک پھر جنید کا خیال آیا۔
”جی ! ” اس نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔
”شہلا کب آ رہی ہے۔ آج کچھ کپڑے لینے کے لئے مارکیٹ جانا تھا تم لوگوں کو۔” نانو نے کچھ مطمئن ہو کر اٹھتے ہوئے کہا۔
”وہ آج نہیں آ رہی۔”
”کیوں؟”
”وہ کچھ مصروف ہے اس لئے۔”
”تم اکیلی چلی جاتیں۔”
”نہیں میں اکیلے نہیں جانا چاہتی۔”
”چلو ٹھیک ہے، آج ثمینہ آ جائے گی تو کل وہ بھی تمہارے ساتھ چلی جائے گی۔” نانو کو اچانک خیال آیا۔
علیزہ نے اس بار کچھ نہیں کہا۔ اس نے چائے کا کپ اٹھایا ہی تھا جب فون کی گھنٹی بجنے لگی۔
”جنید کا فون ہو گا۔ تم اٹھا لو۔” نانو نے لاؤنج سے نکلتے ہوئے کہا۔
چائے کا کپ وہیں رکھ کر وہ فون کی طرف بڑھ آئی۔ دوسری طرف جنید ہی تھا۔ رسمی سلام دعا کے بعد جنید نے اس سے کہا۔
”میں صبح سے تین بار فون کر چکا ہوں۔”

”ہاں نانو نے مجھے بتایا تھا” علیزہ نے سر سری سے انداز میں کہا، وہ کچھ دیر تک خاموش رہا۔
”تمہارا موڈ اب کیسا ہے؟”
”ٹھیک ہے۔”
”ناراضی ختم ہو گئی ہے؟”
”ہاں۔”
”مجھے توقع تھی کہ تمہارا غصہ جلد ختم ہو جائے گا اور تم میرا پوائنٹ آف ویو سمجھ جاؤ گی۔” جنید نے بے اختیار اطمینان بھرا سانس لیتے ہوئے کہا۔
وہ خاموش رہی۔
”میں تو ساری رات بہت ٹینس رہا ہوں، تمہاری ناراضی کی وجہ سے۔”
وہ پھر خاموش رہی۔
”تم کچھ بات نہیں کر رہیں؟” جنید کو اچانک محسوس ہوا۔
”کیا بات کروں؟”
”کچھ بھی …کیا میرا بتانا ضروری ہے؟”
”میرے ذہن میں کوئی بھی بات نہیں ہے فی الحال ۔۔۔” اس نے کہا۔
”اچھا میں تمہیں رات کو فون کروں گا۔” جنید نے کہا ”اس وقت میں گاڑی میں ہوں۔”
”نہیں رات کو فون نہ کریں …ممی آ رہی ہیں۔ ہم لوگ مصروف ہوں گے۔” علیزہ نے کہا۔
”ارے ہاں مجھے خیال ہی نہیں رہا …رات کو تم خاصی مصروف رہو گی۔ کتنے بجے کی فلائٹ سے آ رہی ہیں؟”
”نو بجے کی فلائٹ سے۔”
”ٹھیک ہے پھر کل بات ہو گی تم سے۔” جنید نے خدا حافظ کہتے ہوئے فون بند کر دیا وہ یک دم بہت پر سکون ہو گیا تھا ورنہ پچھلی رات سے وہ مسلسل علیزہ کے رویے کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا۔
آفس میں کام کرتے رہنے کے بعد شام کو وہ گھر چلا گیا اور رات کو جلد ہی سو گیا۔
٭٭٭

”میجر لطیف بات کرنا چاہتے ہیں آپ سے۔” آپریٹر کے جملے پر عمر کے ماتھے پر کچھ بل آ گئے۔ اس ہفتے کے دوران میجر لطیف کی طرف سے ملنے والی یہ چھٹی کال تھی۔
”بات کرائیں۔” اس نے ہونٹ بھینچتے ہوئے کہا۔ یہ آدمی واقعی اس کا ناک میں دم کر رہا تھا۔ رسمی سلام دعا کے بعد وہ سیدھا کام کی بات پر آ گیا ایک پولیس اسٹیشن کا حدود و اربعہ بتاتے ہوئے اس نے عمر سے کہا۔
”اس پولیس اسٹیشن کے بارے میں ایک شہری کی طرف سے شکایت آئی ہے ہمارے پاس۔”
”جی فرمائیے۔ کیا شکایت آئی ہے آپ کے پاس؟”
”اس پولیس اسٹیشن کے انچارج نے اس شخص کے بیٹے کو چوری کے جھوٹے الزام میں پچھلے چھ ماہ سے بند کیا ہوا ہے۔” میجر لطیف نے تیز لہجے میں کہا۔
عمر بڑے تحمل سے اس کی بات سننے لگا۔
”اس شخص نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کئے بغیر اس آدمی کو گرفتار کیا ہے۔”
”آپ اس شخص کا نام بتا دیں، جس کی بات کر رہے ہیں۔” عمر نے سامنے ٹیبل پر پڑا پین اٹھاتے ہوئے نوٹ پیڈ اپنی طرف کھسکایا۔ میجر لطیف نے دوسری طرف سے اس شخص کے کوائف نوٹ کروائے۔ عمر نے اپنے سامنے پڑے نوٹ پیڈ پر اس آدمی کے کوائف تیز رفتاری سے لکھے۔
”میں چیک کرتا ہوں کہ اس شخص کی شکایت ٹھیک ہے یا نہیں۔” عمر نے اس آدمی کے کوائف نوٹ کرنے کے بعد کہا۔
”اس کی ضرورت نہیں ہے میں پہلے ہی چیک کر چکا ہوں، اس شخص کی شکایت بالکل درست ہے۔” دوسری طرف سے میجر لطیف نے کہا۔ عمر کے ہونٹ بھینچ گئے۔
”اس شخص کے بیٹے کو واقعی ایف آئی آر درج کئے بغیر غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔” میجر لطیف دوسری طرف سے کہہ رہا تھا۔ ”وہ پچھلے چھ ماہ سے وہ اس پولیس اسٹیشن کے انچارج کی تحویل میں تھا۔”
”آپ نے جہاں یہ چیک کرنے کی زحمت کی۔ وہاں اسے چھڑوانے کی زحمت بھی کر لیتے۔” عمر نے کچھ طنزیہ انداز میں اس سے کہا۔
”جی یہ زحمت بھی کر چکا ہوں میں۔ چھڑا چکا ہوں اب سے کچھ گھنٹے پہلے۔” میجر لطیف نے بھی دوسری طرف سے اسی طنزیہ انداز میں کہا۔
”تو پھر جب آپ نے دونوں کام خود ہی کر لئے، تو مجھ سے رابطے کی زحمت کس لئے کی آپ نے؟” عمر نے اسی انداز میں بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
”یقیناً آپ کا بہت قیمتی وقت ضائع ہوا ہو گا میری اس کال سے۔ مگر میں نے ضروری سمجھا کہ آپ کو اطلاع دے دوں کہ آپ کے انڈر پولیس اسٹیشنز میں کیا ہو رہا ہے۔ پھر ان بے ضابطگیوں کی اطلاع اگر اسی طرح اوپر گئی تو آپ کو اور آپ کے ما تحتوں کو خاصی تکلیف ہو گی۔” میجر لطیف نے بھی اپنا طنزیہ انداز برقرار رکھا۔
”بڑی مہربانی آپ کی …اس اطلاع کے لئے۔” عمر نے مختصراً کہا۔
”اپنے ما تحتوں کا تو مجھے پتا نہیں مگر مجھے آپ کی ان رپورٹس سے کوئی تکلیف یا زحمت نہیں ہو گی۔ آپ ان رپورٹس کا سلسلہ جاری رکھیں۔” عمر نے سنجیدگی سے کہا۔
”اس ہفتے میرے پاس آنے والی یہ اٹھارویں شکایت ہے اور ہر بار مجھے اس پر خود ہی ایکشن لینا پڑا ہے۔” میجرلطیف نے کچھ جتانے والے انداز میں کہا۔
”میجر صاحب ! آپ نے اپنا کام کافی بڑھا نہیں لیا۔ اصولی طور پر آپ کو یہ تمام شکایات مجھ تک ریفر کر دینی چاہیے تھیں۔ میں خود اس سے نمٹ لیتا، آپ کو خوامخواہ اس طرح کی زحمت نہ کرنی پڑتی۔” عمر نے میجر لطیف سے کہا۔
”زحمت والی تو کوئی بات نہیں۔ آپ اور آپ کے ما تحت اتنے Efficient ہوتے تو ہمیں یہاں آنا ہی کیوں پڑتا۔ آپ کو تو میں اس سب سے صرف اس لئے انفارم کر رہا ہوں تا کہ آپ اپنے ماتحتوں پر چیک رکھیں اور کبھی کبھار تکلفاً اپنے دفتر کے علاوہ کہیں ادھر ادھر بھی چکر لگا لیا کریں۔” اس بار میجر لطیف کا لہجہ پہلے سے زیادہ طنزیہ تھا۔
”ہماری زحمت کا آپ کو اتنا خیال ہو تو آپ اپنے ما تحتوں کو خود نکیل ڈال کر رکھیں۔”
”میجر صاحب آپ اگر منہ اٹھا کر میری حدود کے آخری پولیس اسٹیشنز کا طواف کرتے پھریں گے تو پھر کوئی الٰہ دین کا جن ہی ہو گا جو آپ کی زحمت میں کمی کر سکے گا۔” عمر کے لہجے میں بھی اس بار پہلے سے زیادہ تندی و تیزی تھی۔
”ہر شکایت آپ دیہاتیوں کی لے کر آ رہے ہیں۔ شہر کے اندر کے پولیس اسٹیشنز کی بات کریں۔ وہاں کی ورکنگ بھی دیکھیں۔”
”کیوں شہر سے باہر کے پولیس اسٹیشنز آپ کے انڈر نہیں آتے یا پھر دیہاتیوں کو آپ نے پاکستان کے شہریوں کی فہرست سے نکال دیا ہے۔” میجر لطیف نے بڑے کٹیلے انداز میں کہا۔
”میں نے آپ کو فون آپ کے طنز سننے کے لئے نہیں کیا۔ آپ کو یہ بتانے کے لئے کیا ہے کہ آپ کے عملے کے بارے میں ہمارے پاس بے تحاشا شکایات آ رہی ہیں۔ آپ ان کا سد باب کرنے کے لئے کچھ کریں ورنہ ۔۔۔” عمر نے اسے اپنی بات مکمل کرنے نہیں دی۔

”ٹھیک ہے میں چیک کر لوں گا آپ کی انفارمیشن کے لئے آپ کا شکریہ۔” عمر نے فون بند کر دیا۔
میجر لطیف اس کو واقعی ناکوں چنے چبوا رہا تھا اس نے آتے ہی شہر کے نواحی علاقوں میں قائم پولیس اسٹیشنز کو دیکھنا شروع کر دیا تھا جب کہ عمر کا خیال تھا کہ وہ شہر کے اندر کے پولیس اسٹیشنز کو دیکھے گا اور نواحی علاقوں کو سرے سے نظر انداز کر دے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی ہدایات پر شہر کے اندر کے تمام اسٹیشنز پر خاص چیک رکھا گیا تھا اس کے ما تحتوں نے نہ صرف اپنا ریکارڈ اپ ریٹ کیا تھا بلکہ باقی تمام معاملات میں بھی ان کا رویہ بہت محتاط ہو گیا تھا۔ ایف آئی آر درج کرنے کے سلسلے میں بھی ان کی کارکردگی بہت بہتر ہو گئی تھی۔
میجر لطیف کو اندازہ تھا کہ عمر کہاں سے کام شروع کرے گا۔ اس نے اس کی توقعات کے بر عکس سب سے پہلے ان پولیس اسٹیشنز کو دیکھنا شروع کیا تھا جو نواحی علاقے میں تھے اور اس کے حسب توقع وہاں بے شمار بے قاعدگیاں اور بے ضابطگیاں تھیں۔ چند ہفتوں میں ہی اس کے پاس شکایات کی بھر مار ہو گئی تھی اور میجر لطیف ان شکایات پر دھڑا دھڑ اپنی رپورٹس بنا کر بھجوا رہا تھا۔
عمر جہانگیر ان ہفتوں کے دوران تین بار ہیڈ کوارٹر جا چکا تھا، جہاں ان رپورٹس پر اس کی اور اس کے ما تحت عملے کی کارکردگی زیر بحث آئی تھی۔ تیسری بار وہ ہیڈ کوارٹر جاتے ہوئے خاصا مشتعل تھا اور اس کا یہ اشتعال اس وقت بھی کم نہیں ہوا تھا جب وہ آئی جی کے سامنے پیش ہوا تھا۔
”جب تک یہ آدمی میرے سر پر بیٹھا رہے گا۔ مجھے اسی طرح بار بار یہاں آنا پڑے گا۔ یہ آدمی میرے خلاف ذاتی مخاصمت …رکھتا ہے۔” اس نے آئی جی سے کہا تھا۔
”میں کچھ بھی کر لوں، یہ پھر بھی اسی طرح کی شکایتوں کا ڈھیر یہاں پہنچاتا رہے گا۔ میں اس معاملے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔”
”جسٹ کول ڈاؤن عمر ! میں تمہارا مسئلہ سمجھتا ہوں اور تمہاری پوزیشن بھی۔ مگر میں اس سلسلے میں مجبور ہوں۔ کام تمہیں میجر لطیف کے ساتھ ہی کرنا ہے اور اپنی کارکردگی بھی بہتر بنانی ہے۔”
انہوں نے بڑے نرم لہجے میں اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔ وہ عمر جہانگیر کے فیملی بیک گراؤنڈ سے اچھی طرح واقف تھے اور وہ ملک کی اس طاقتور ترین فیملی کے پس منظر کو بھی جانتے تھے اور وہ عمر جہانگیر کو ایک معمولی جونئیر آفیسر کے طور پر ٹریٹ نہیں کر سکتے تھے۔
“Sir Im already doing my optimum best”
عمر جہانگیر نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ”اگر ایک آدمی یہ طے کئے بیٹھا ہے کہ اس نے میرے خلاف کوئی پازیٹو رپورٹ بھجوانی ہی نہیں ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔” عمر نے کہا۔
”میں نے آپ کے تمام اعتراضات نوٹ کئے۔ میں انہیں فارورڈ بھی کر دوں گا۔ مگر میں بتا دوں وہ میجر لطیف کو نہیں بدلیں گے نہ ہی وہ یہ بات ماننے کو تیار ہوں گے کہ وہ اپنا کام ٹھیک ہی نہیں کر رہا یا جان بوجھ کر تمہیں تنگ کر رہا ہے۔ تم جانتے ہو وہ کور کمانڈر کا بیٹا ہے۔”
آئی جی نے بہت صاف اور واضح لفظوں میں اس سے کہا۔
”کور کمانڈر کا بیٹا ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر سکتا۔” عمر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا۔
”فی الحال اس کا یہی مطلب ہے۔” آئی جی نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔
”میں اس سے زیادہ بہتر کام نہیں کر سکتا۔ میں جتنا کر سکتا ہوں کر رہا ہوں۔” عمر نے کہا۔
”تم اپنے اور میرے لئے مسئلے کھڑے کرنے کی کوشش نہ کرو، میری پہلے ہی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ میں کس کس کا دفاع کروں، کوئی دن ایسا نہیں جا رہا جب مجھے تم لوگوں میں سے، کسی نہ کسی کو یہاں بلا کر تنبیہہ نہ کرنا پڑ رہی ہو اور بعض دفعہ تو تم لوگوں کی وجہ سے خود مجھے بڑی شرمندگی ہوئی ہے۔”
آئی جی شاید اس دن خاصے پریشان تھے اس لئے وہ عمر جہانگیر کے سامنے اپنے دکھڑے رونے لگے۔ عمر ہونٹ بھینچتے ان کی باتیں سنتا رہا۔
”اب مجھے بتاؤ میں کیا کروں تمہارے لئے؟” کافی دیر بعد آئی جی دوبارہ اس کے مسئلے پر آ گئے۔ ”ٹرانسفر کروا دوں تمہاری؟”
”آپ اس کی ٹرانسفر کروا دیں۔”
”میں یہ نہیں کر سکتا۔”
”تو پھر میری ٹرانسفر کیوں؟ وہ تو پہلے ہی چاہتا ہے یہ تو ہتھیار ڈال کر بھاگ جانے والی بات ہوئی۔” عمر کے اشتعال میں کچھ اور اضافہ ہوا۔
”مگر تمہاری جان تو چھوٹ جائے گی اس سے۔” آئی جی نے تصویر کا روشن پہلو اسے دکھانے کی کوشش کی۔
”ویسے بھی یہاں تمہاری پوسٹنگ کا دورانیہ تو کچھ اور ماہ کے بعد پورا ہو ہی جائے گا تب بھی تو تمہیں کہیں اور جانا ہی ہے۔”

”تب کی اور بات ہے۔ وہ تو ایک معمول کا حصہ ہے مگر اب اس طرح تو کہیں نہیں جانا۔” عمر نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا۔ ”آپ میری ٹرانسفر کرنا کہاں چاہتے ہیں، بڑے شہروں میں تو کہیں بھی جگہ نہیں ہے اور مجھے کسی چھوٹے شہر میں نہیں جانا۔” عمر نے کہا۔
”فیڈرل گورنمنٹ میں بھجوا دوں؟” آئی جی نے فوراً کہا۔
”سر مجھے کسی دوسرے صوبے میں نہیں جانا …مجھے پنجاب میں ہی کام کرنا ہے۔ فیڈرل گورنمنٹ نے مجھے کسی چھوٹے صوبے میں بھجوا دیا تو میری ساری سروس خراب ہو جائے گی۔ مجھے یہیں رہنے دیں۔ جب چند ماہ بعد میری ٹرانسفر ہو گی تب دیکھا جائے گا مگر فی الحال میں اپنا علاقہ چھوڑنا نہیں چاہتا۔” عمر نے آئی جی سے کہا۔
”جب چند ماہ کی بات رہ گئی ہے تو کچھ اور محتاط ہوجاؤ اور اس سے کو آپریٹ کرو، تا کہ کم از کم وہ اوپر رپورٹس بھجوانی تو بند کرے …اور اس کے کہنے پر چھوٹے موٹے ما تحتوں کو معطل کرتے رہو کم از کم یہ تو ظاہر ہو کہ تم ایکشن لے رہے ہو۔” آئی جی نے اس کو اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے ہوئے کہا۔
”سر ! میں پہلے ہی دس ما تحتوں کو معطل کر چکا ہوں اگرمیجر لطیف کے مشوروں پر کام کروں گا تو پھر اگلے ماہ تک میرے ساتھ کام کرنے والے تمام لوگ معطل ہو چکے ہوں گے۔ اس پر پھر آپ کو شکایت ہو گی۔” عمر کے پاس ہر بات کا گھڑا گھڑایا جواب موجود تھا آئی جی نے ایک طویل گہرا سانس لیا۔
”ٹھیک ہے تم جاؤ اور میں ایک بار پھر تم سے کہہ رہا ہوں کہ محتاط رہو۔”
اس بار عمر جہانگیر نے ان کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا وہ انہیں خدا حافظ کہتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔ کیونکہ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ آئی جی اب اس ساری بحث سے تنگ آ چکے تھے۔ عمر کو ان کی پریشانی کا بھی اندازہ تھا، وہ بھی بری طرح پھنسے ہوئے تھے۔ اگر ایک طرف آرمی تھی تو دوسری طرف عمر جہانگیر کا خاندان …وہ دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی بگاڑ نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی بگاڑ سکتے تھے۔ کیونکہ عمر جہانگیر کا خاندان معمولی سی بات پر بھی ہنگامہ اور طوفان اٹھا دینے میں کمال مہارت رکھتا تھا۔
عمر جہانگیر اچھی طرح جانتا تھا کہ ٹرانسفر سے وہ واقعی میجر لطیف سے چھٹکارا پا لیتا مگر خود اس کے اپنے سروس ریکارڈ کے لئے یہ بہتر نہیں ہوتا اس کے باوجود اس دن آئی جی کے آفس سے آنے کے بعد اس نے بڑے ٹھنڈے دماغ سے اس سارے معاملے پر غور و خوض کیا تھا کہ وہ اپنی جاب میں اپنی دلچسپی کھو رہا تھا اس کے ہاتھ اب بندھ چکے تھے۔
٭٭٭

اگلی صبح جنید حسب معمول نو بجے کے قریب ناشتے کے لئے آیا تھا۔
”بابا نظر نہیں آ رہے؟” اس نے کرسی پر بیٹھتے ہی اپنی امی سے پوچھا۔
”وہ آج کچھ دیر سے آفس جائیں گے اس لئے ابھی نہیں اٹھے۔” اس کی امی نے بتایا، وہ اب اسے ناشتہ سرو کر رہی تھیں۔
”علیزہ کی امی آ گئی ہیں؟” انہوں نے جنید کو چائے سرو کرتے ہوئے پوچھا۔
”پتا نہیں رات نو بجے فلائٹ تھی۔ میری اس کے بعد اس سے بات نہیں ہوئی۔ آ گئی ہوں گی۔” جنید نے اخبار کھولتے ہوئے کہا۔
”میں آج ان کی طرف جانے کا سوچ رہی ہوں۔” اس کی امی نے کہا۔
”ہاں ضرور جائیں ۔۔۔” جنید نے خوش دلی سے کہا۔
”مگر پہلے میں فون پر ان سے بات کر لوں تا کہ ان کی کوئی اور مصروفیت نہ ہو آج کے دن کے لئے۔” اس کی امی نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔

جنید ان کی بات پر سر ہلاتے ہوئے اخبار دیکھتا رہا۔ فرنٹ پیج پر سرخیاں پڑھنے کے بعد اس نے اخبار کا پچھلا صفحہ دیکھا اور اس پر ایک سر سری سی نظر دوڑائی۔ صفحے کے نیچے ایک نوٹس پر نظر ڈالتے ہی اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا چائے کا کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔
”کیا ہوا جنید؟” اس کی امی نے کچھ چونک کر اسے دیکھا، جنید کا رنگ فق تھا وہ اخبار کے نچلے حصے میں موجود ایک خبر پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
٭٭٭
عمر نے فون اٹھایا، دوسری طرف سے آپریٹر اسے کسی کرنل حمید کے آن لائن ہونے کی اطلاع دے رہا تھا۔ عمر کے ماتھے پر چند بل نمودار ہوئے یہ نام اس کے لئے آشنا نہیں تھا۔
”بات کرواؤ۔” اس نے آپریٹر کو لائن ملانے کے لئے کہا۔
کچھ دیر بعد …دوسری طرف سے …کسی سلام دعا کے بغیر اکھڑ لہجے میں کہہ رہا تھا۔
”ایس پی عمر جہانگیر بات کر رہا ہے؟” عمر کے ماتھے کے بلوں میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ ”بول رہا ہوں۔”
”میرا نام کرنل حمید ہے، میں تم سے پوچھتا ہوں کہ تم کس طرح اس شہر کو چلا رہے ہو۔” اپنا تعارف کروانے کے بعد اب کرنل حمید کے لہجے میں بہت تندی و تیزی آ گئی۔ ”پولیس کے بھیس میں تم غنڈوں کا گینگ چلا رہے ہو …جو کسی کو بھی اٹھا کر پولیس اسٹیشن میں بند کر دیتے ہیں۔”
عمر کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
”اتنی لمبی بات کرنے کے بجائے تم صرف یہ بتاؤ کہ تمہارا پرابلم کیا ہے؟” عمر نے اس کی بات کاٹ کر۔ تمام ادب آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے تم کہہ کر مخاطب کیا۔ ”میرے پاس اس طرح کی باتیں سننے کے لئے وقت نہیں ہے۔”
”حالانکہ تمہارے پاس وقت ہی وقت ہونا چاہیے۔ کام تو تمہارے لئے تمہارے گرُگے کر ہی دیتے ہیں۔”
کرنل حمید کو اس کے اکھڑ لہجے نے کچھ اور مشتعل کیا، شاید اسے توقع تھی کہ عمر اس کے سامنے کچھ مدافعانہ یا معذرت خواہانہ انداز اختیار کرے گا۔
”میں نے تم سے کہا ہے کہ تم لمبی تقریروں کے بجائے صرف کام کی بات کرو ورنہ میں فون بند کر رہا ہوں۔”
”تمہارے آدمیوں نے میرے بیٹے کو پکڑ لیا ہے، میں دس منٹ میں اپنے بیٹے کو اپنے گھر میں دیکھنا چاہتا ہوں۔
”کیوں پکڑا ہے؟” عمر نے سرد لہجے میں کہا۔
”تم لوگوں نے اس پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ گاڑی چلا رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کو زخمی کیا ہے۔ حالانکہ نہ تو وہ گاڑی چلا رہا تھا نہ ہی اس نے کسی آدمی کو زخمی کیا ہے میں ڈائریکٹ آرمی مانیٹرنگ کمیٹی کے پاس جا سکتا تھا مگر میں تمہیں ایک موقع دیتے ہوئے فون کر رہا ہوں کہ تم اسے چھوڑ دو۔”
”کہاں ہے وہ؟” کرنل حمید نے اسے اس پولیس اسٹیشن کا نام بتایا۔
”نام کیا ہے اس کا ؟”
”ارمغان۔”
”عمر؟”
”پندرہ سال۔”
عمر وہاں بیٹھے بیٹھے بھی بتا سکتا تھا کہ کیا ہوا ہو گا۔ اس کم عمر بچے نے گاڑی چلاتے ہوئے کسی کو زخمی کیا ہو گا اور اب کرنل حمید اس بات سے ہی انکاری تھا کہ اس نے ایسا کیا تھا۔
”گاڑی کون چلا رہا تھا؟”
”میرا ڈرائیور۔”
”وہ بھی پولیس اسٹیشن میں ہے؟”
”نہیں اسے کسی نے نہیں پکڑا صرف میرے بیٹے کو پکڑ لیا حالانکہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں تھا۔”
”میں چیک کرتا ہوں۔”
”میں نے تمہیں چیک کرانے کے لئے فون نہیں کیا …میں اسے دس منٹ کے اندر اپنے گھر پر دیکھنا چاہتا ہوں۔”
”میرے پاس کوئی الٰہ دین کا چراغ نہیں ہے کہ میں دس منٹ کے اندر اسے تمہارے گھر پہنچا دوں۔” عمر نے تند و تیز لہجے میں کہا۔” اسے پکڑا گیا تو یقیناً اس نے کچھ نہ کچھ تو غلط کیا ہو گا۔ میں صرف یہ دیکھوں گا کہ اس نے کیا کیا ہے، اگر اس نے کچھ نہیں کیا تو وہ تمہارے گھر آ جائے گا لیکن اگر اس نے کچھ کیا ہے تو پھر تمہارا باپ بھی آ کر اسے نہیں چھڑا سکے گا۔” عمر نے اسے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا۔
”میرے باپ کو اسے چھڑوانے کی زحمت نہیں کرنی پڑے گی، میں تمہارے باپ کے ذریعے اسے چھڑوالوں گا۔” کرنل حمید نے اس بار تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔

”ٹھیک ہے، تم میرے باپ کے ذریعے اسے چھڑوا کر دکھاؤ۔” عمر نے اس کا جواب سنے بغیر فون بند کر دیا اور پھر آپریٹر سے اس پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او سے بات کروانے کے لئے کہا …جہاں کرنل حمید کا بیٹا بند تھا۔
”سر ! بات کریں۔” آپریٹر نے کچھ دیر بعد فون پر اس سے کہا۔
”آج تم نے بارہ بجے کے قریب کسی کرنل حمید کے بیٹے ارمغان کو پکڑا ہے۔”
عمر نے انسپکٹر عاطف سے پوچھا، وہ اسے ذاتی طور پر جانتا تھا اور اس بات سے واقف تھا کہ وہ عام پولیس والوں کے بر عکس بہت ایماندار تھا۔ وہ ایک سال سے اس پولیس اسٹیشن میں کام کر رہا تھا اور صرف اسی کا پولیس اسٹیشن وہ واحد پولیس اسٹیشن تھا جس کے بارے میں عمر کو سب سے کم شکایات ملتی تھیں۔ اسی لئے اسے کرنل حمید سے بات کرتے ہوئے بھی یقین تھا کہ اگر وہ انسپکٹر عاطف کے پولیس اسٹیشن پر ہے تو اس کا واقعی یہ مطلب تھا کہ اس نے کچھ غلط کیا تھ?امربیل از عمیرہاحمد
۔۔۔۔
قسط نمبر 56
۔۔۔۔۔
باب 50

علیزہ جنید کے ساتھ اس وقت ہوٹل میں بیٹھی تھی، وہ دونوں وہاں کھانا کھانے کے لیے آئے تھے۔ جنید نے اسے کچھ شاپنگ بھی کروائی تھی شاپنگ سے واپسی پر وہ اس ہوٹل میں چلے آئے۔
”یہ شادی سے پہلے ہمارا آخری کھانا ہے۔” ویٹر کو آرڈر دینے کے بعد جنید نے علیزہ سے کہا۔
”اگلی بار تو ہم ایسی کسی جگہ پر شادی کے بعد ہی بیٹھے ہوں گے۔”
”کوئی آخری خواہش ہے تمہاری…کوئی ایسا کام جو تم آج کرنا چاہو۔۔۔” جنید نے گہرا سانس لیا۔
علیزہ کو اس کی سنجیدگی پر ہنسی آگئی۔ ”آپ کس طرح کی باتیں کر رہے ہیں جنید…آخری خواہش سے کیا مطلب ہے آپ کا؟”
”کوئی ایس چیز جو ہم یا تم آج کر سکتی ہو مگر تین ہفتے بعد نہ کر سکو، میرا مطلب ہے شادی کے بعد۔”
”میرے ذہن میں تو ایسی کوئی چیز نہیں آ رہی جو میں اب کر سکتی ہوں اور شادی کے بعد نہیں کر سکتی۔” علیزہ نے لاپروائی سے کہا۔
”یار سوچو…ذہن پر زور ڈالو۔ کچھ نہ کچھ تو ایسا ہوگا جو ہم آج کر سکتے ہیں مگر شادی کے بعد نہیں کر سکیں گے۔ اب تین ہفتے تک تو میں تم سے مل نہیں سکوں گا اس لیے اگر تمہاری کوئی خواہش ادھوری رہ گئی تو پھر مجھے مت کہنا۔”
”میں نے ذہن پر بہت زور دیا ہے مگر میری سمجھ میں نہیں آ رہا بس یہ ہے کہ شادی تک آپ سے دوبارہ ملاقات نہیں ہو گی اور تو کچھ بھی ایسا نہیں ہے جو چھٹ جائے اور جہاں تک آپ سے ملاقات کی بات ہے تو شادی کے بعد آپ سے ملاقات تو روز ہی ہوتی رہے گی۔ پھر اور کیا ہے۔” علیزہ نے کہا
”ہاں واقعی اور ایسا ہے ہی کیا جو چھٹ جائے گا یعنی تمہاری کوئی ایسی خواہش نہیں ہے جو ادھوری رہ جائے گی؟”
”نہیں میری ایسی کوئی خواہش نہیں ہے جو ادھوری رہ جائے گی۔”
”پھر بھی یار! اگر کچھ منوانا ہو تو آج منوا لو، میں بہت اچھے موڈ میں ہوں، شاید بعد میں تمہاری فرمائش اس طرح نہ پوری کروں جس طرح اب کرنے پر تیار ہوں۔” جنید نے فراخ دلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
”میں نے آپ سے کبھی بھی کوئی فرمائش نہیں کی یہ آپ کو یاد رکھنا چاہیے۔” علیزہ نے اسے جتایا۔
”یعنی میں خود ہی تمہارا اتنا خیال رکھتا ہوں کہ تمہیں فرمائش کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ تم یہی کہنا چاہ رہی ہو نا؟” جنید نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
”نہیں میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ میں فرمائشوں پر کچھ زیادہ یقین نہیں رکھتی، خاصی قناعت پسندی ہے مجھ میں۔”
”اسی لیے تو تمہیں میں نے آفر کی ہے۔”
علیزہ نے اس کے مسکراتے چہرے کو غور سے دیکھا۔
”اگر آپ اتنا اصرار کر رہے ہیں کسی فرمائش کے لیے تو آپ میری ایک خواہش پوری کر دیں۔” اس نے چند لمحے کچھ سوچتے رہنے کے بعد یکدم سنجیدگی سے کہا۔
”بالکل ضرور کیوں نہیں۔” جنید نے کچھ دلچسپی کے ساتھ ٹیبل پر اپنی کہنیاں ٹکاتے ہوئے کہا۔
”عمر سے دوبارہ کبھی مت ملیں۔”
جنید کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ وہ ایک بار پھر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ ”یہ کیا بات ہوئی؟”
”آپ نے خود ہی کوئی فرمائش کرنے کے لیے کہا تھا۔” علیزہ نے اسے یاد دلایا۔
”مگر یہ تو خاصی نامناسب سی فرمائش ہے۔” جنید یکدم سنجیدہ ہو گیا۔
”نہیں کوئی اتنی نامناسب نہیں ہے۔” علیزہ نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ پہلے کی طرح اب بھی عمر سے کوئی رابطہ نہ رکھیں۔ اس سے ملنے سے احتراز کریں اس میں نامناسب بات کیا ہے؟”
”میں اس سے بہت زیادہ تو نہیں ملتا ہوں۔”
”میں چاہتی ہوں آپ اس سے نہ ملیں نہ کم نہ زیادہ۔ سرے سے ہی نہ ملیں۔”
”کیوں؟”
”کیونکہ میں اسے پسند نہیں کرتی۔” اس نے بڑی صاف گوئی سے کہا۔
”تم اسے پسند کیوں نہیں کرتیں؟”
”آپ جانتے ہیں۔”
جنید نے اس کی بات پر قدرے ناگواری سے سر جھٹکا ”صرف ایک واقعہ کی بنا پر کسی کے بارے میں اس طرح کی حتمی رائے بنا لینا اور کسی کو ناپسند کرنے لگنا کچھ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے…بہت illogical (غیر منطقی) اور Unreasonable (نامناسب) قسم کی بات ہے۔”
”ایک یا دو واقعات کی بات نہیں ہے۔ بہت ساری وجوہات ہیں اس کے لیے میری ناپسندیدگی کی۔” علیزہ نے سنجیدگی سے کہا۔
”تم ذرا روشنی ڈالنا پسند کرو گی، ان بہت ساری وجوہات میں سے چند ایک پر۔”
”اگر میں نے یہ کام شروع کیا تو ہم لوگ خاصا وقت ضائع کریں گے۔” علیزہ نے بات کو گول کرتے ہوئے کہا۔
”کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ تم عمر کو اس کے پروفیشن سے ہٹ کر صرف ایک فیملی ممبر کے طور پر دیکھو۔ اس کے پروفیشن کے حوالے سے اسے جج نہ کرو۔” جنید نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
”اس کے باوجود اس کے لیے میری ناپسندیدگی اسی طرح قائم رہے گی۔” علیزہ نے دوٹوک انداز میں کہا۔ ”اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ میں اسے اس کے پروفیشن کے حوالے سے جج کروں یا نہ کروں۔”
”مجھے حیرت ہوتی ہے اس نے ہمیشہ تمہاری تعریف کی ہے اور تم اس کے بارے میں اتنی نیگیٹو سوچ رکھتی ہو۔”
”وہ بھی مجھے ناپسند کرتا ہے۔” علیزہ نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
”نہیں کم از کم میں تمہاری اس بات پر یقین نہیں کر سکتا۔” جنید نے قطعیت سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”اتنے سالوں میں میں نے ایک بار بھی عمر کے منہ سے تمہارے خلاف کبھی کچھ نہیں سنا۔ وہ ہمیشہ تمہارے بارے میں بہت فکر مند رہا ہے۔ اس نے ہمیشہ تمہاری تعریف کی ہے۔”
جنید روانی سے کہتا جا رہا تھا، علیزہ بے حس و حرکت پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھ رہی تھی۔
”ہو سکتا ہے تم دونوں کے درمیان کچھ غلط فہمی ہو جسے دور ہو جانا چاہیے اور مجھے غلط فہمی کے سوا یہ کچھ اور لگتا بھی نہیں، جب تم اپنے کسی اور کزن پر اس کے کیریئر یا پروفیشن کے حوالے سے تنقید نہیں کرتیں یا اسے ناپسند نہیں کرتیں تو پھر آخر عمر ہی کیوں، کیا یہ اس کے ساتھ زیادتی نہیں ہے۔”
جنید بات کرتے کرتے رک گیا۔ علیزہ کے چہرے کے تاثرات بہت عجیب تھے۔
”کیا ہوا؟ کیا میں نے کچھ غلط کہا؟” جنید نے اس سے پوچھا۔
”کتنے سالوں سے جانتے ہیں آپ عمر کو؟” اس نے سرد آواز میں جنید سے کہا وہ اسے دیکھنے لگا۔
”کتنے سالوں سے؟”
”ہاں کتنے سالوں سے؟ آپ نے کہا…آپ نے ”اتنے سالوں” سے کبھی عمر کے منہ سے میرے بارے میں کچھ برا نہیں سنا، تو آپ اور عمر ایک دوسرے کو کب سے جانتے ہیں؟”
جنید نے مسکرانے کی کوشش کی ”نہیں میں نے تو یہ نہیں کہا۔”
”آپ نے یہی کہا ہے۔” اس نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
اس سے پہلے کہ جنید کچھ کہتا ویٹر ٹیبل پر کھانا سرو کرنے لگا۔ علیزہ کی بھوک ختم ہو چکی تھی۔ کیا آج پھر کوئی اینٹی کلائمکس ہونے والا تھا، چند منٹ کے بعد ویٹر کھانا لگا کر چلا گیا۔
”چند دن پہلے بھی آپ نے فون پر مجھ سے یہی کہا تھا کہ سات آٹھ سال پہلے تو مجھے غصہ نہیں آتا تھا، میں نے سوچا کہ آپ نے بے دھیانی میں ایسا کہا ہے مگر ایسا تو نہیں ہے۔ آپ مجھے کب سے اور کتنا جانتے ہیں۔”
”علیزہ چھوڑو یار! ہم دونوں کیا فضول باتیں لے کر بیٹھے ہیں۔ کھانا کھاتے ہیں۔” جنید نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
”میں یہاں سے اٹھ کر چلی جاؤں گی، اگر آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔ عمر کو آپ کب سے جانتے ہیں؟” اس بار اس کی آواز میں واضح طور پر ناراضی تھی۔
جنید یکدم سنجیدہ ہو گیا، کچھ دیر وہ ایک دوسرے کے چہرے دیکھتے رہے پھر جنید نے ایک گہرا سانس لے کر جیسے ہتھیار ڈال دیئے۔
”پندرہ سال سے۔۔۔” وہ دم بخود رہ گئی۔
اس وسیع عریض ڈائننگ ہال میں اسے اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اپنے ہاتھ کی کپکپاہٹ کو چھپانے اور خود کو جیسے سہارا دینے کے لیے اس نے اپنے ہاتھوں کو ٹیبل پر رکھ دیا۔ وہ اس کے بالمقابل اپنی کرسی پر بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا، وہ آدمی جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ وہ عمر کے برعکس اس سے ہمیشہ مخلص رہا ہے وہ آدمی جس کے بارے میں اسے خوش فہمی تھی کہ وہ کبھی اسے کسی چیز کے بارے میں دھوکے میں نہیں رکھے گا۔
جنید اب بات کرتے کرتے کچھ دیر کے لیے رک گیا تھا، شاید وہ بات جاری رکھنے کے لیے کچھ مناسب لفظوں کی تلاش میں تھا۔
علیزہ فق رنگت کے ساتھ اس کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ دم بخود اور ساکت۔
”ہم لوگ فلیٹ میٹس تھے۔ ہمارے ڈیپارٹمنٹس الگ تھے مگر ہم لوگوں کی دوستی پر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ یونیورسٹی کے بعد بھی کچھ عرصہ ہم اکٹھے ہی رہے پھر عمر لندن چلا گیا۔ میں واپس پاکستان آ گیا۔ میں نے اپنے بابا کی فرم کو جوائن کر لیا مگر ہم دونوں ہمیشہ رابطے میں تھے۔” جنید نے رک کر اپنے گلاس میں پانی ڈالا۔ وہ کہہ رہا تھا۔
”بہت گہری قسم کی دوستی ہے ہماری…عمر جب بھی پاکستان آتا تھا میرے یہاں بھی آتا تھا۔ بعد میں سول سروس میں آنے کے بعد یہ تعلق کچھ اور گہرا ہو گیا۔ جتنا عرصہ وہ پاکستان میں رہا بڑی باقاعدگی سے ہمارے یہاں آتا رہا۔ بعض دفعہ وہ ہمارے گھر ٹھہرتا بھی رہا ہے۔ پندرہ سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے، یہ کوئی پندرہ دن نہیں ہوتے کہ انسان ایک دوسرے کو جان نہ سکے۔ میں عمر کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں، بہت ہی اچھی طرح اسی لیے جب تم اس پر تنقید کرتی تھیں تو میں۔۔۔” جنید نے پانی کا گھونٹ بھرا۔

”میں کبھی یقین نہیں کر سکتا کہ عمر اس طرح کا ہے جس طرح کا تم اسے بتاتی ہو۔ اگر ساری دنیا بھی میرے سامنے جمع ہو کر ایک وقت میں وہی باتیں کہے جو تم کہتی ہو، تب بھی میں یقین نہیں کروں گا۔” اس کے لہجے اور انداز میں قطعیت تھی۔
”وہ میرا بہترین دوست ہے اور میں اسے کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ اچھی طرح جانتا ہوں۔” وہ خالی خالی نظروں سے اس کا چہرہ دیکھے گئی۔
جنید ابراہیم کا چہرہ، اپنے منگیتر کا چہرہ، عمر جہانگیر کے بہترین دوست کا چہرہ۔
جنید نے اپنی بات جاری رکھی۔ ”صرف میں ہی نہیں میرے گھر والوں کے لیے بھی وہ کوئی اجنبی شخص نہیں ہے۔ وہ ہماری فیملی کا ایک فرد ہے، یہ سمجھ لو کہ میری امی کا تیسرا بیٹا ہے وہ۔ اگر وہ آئے نہ تب بھی فون پر میرے گھر والوں سے اس کا رابطہ رہتا ہے۔ میرے پیرنٹس سے خاص طور پر میری چھوٹی بہن سے…فری سے۔۔۔”
”تو آپ عباس کے دوست نہیں ہیں؟” اس نے ایک لمبی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔
”نہیں۔۔۔” جنید نے نفی میں سر ہلایا۔ ”عمر کے توسط سے میں تمہیں اور تمہاری فیملی کے اور بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں اور ان میں عباس بھی شامل ہے مگر عبا س سے میری کوئی دوستی نہیں ہے۔ صرف جان پہچان ہے۔” جنید نے کہا۔
”اور مجھے…مجھے آپ کب سے جانتے ہیں؟” اس نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
جنید کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری۔” بہت سال ہو گئے ہیں۔ یہ کہنا بہتر ہے کہ بہت سالوں سے …پہلی بار میں تب تم سے ملا تھا جب عمر سول سروس کے امتحان کے لیے پاکستان میں تھا۔ عمر کے ساتھ میں تمہارے گھر آیا تھا۔ تم اس وقت کہیں جا رہی تھیں اور ہم لوگ لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر نے ہم دونوں کا تعارف کروایا تھا پھر دو تین بار میں نے فون کیا تھا عمر کے لیے اور تم نے فون ریسیو کیا تھا۔
علیزہ کو یاد آیا کہ جنید سے پہلی بار بھوربن میں ملاقات کے دوران اسے بار بار یوں لگتا تھا جیسے وہ اسے پہلے بھی کہیں دیکھ چکی ہے مگر کوشش کے باوجود وہ یہ یاد کرنے میں ناکام رہی تھی کہ اس نے اسے کہاں دیکھا تھا، بعد میں اس نے اپنے اس خیال کو جھٹک دیا تھا۔
”اس کا مطلب ہے نانو بھی آپ کو بہت عرصہ سے جانتی ہوں گی؟”
”ہاں تب ہی سے، جب میں عمر کے ساتھ دوچار بار ان کے ہاں آیا۔ بعد میں بھی ان سے بات وغیرہ تو ہوتی تھی مگر ملاقات کا سلسلہ قدرے محدود ہی رہا کیونکہ میں کچھ اور تعلیم کے لیے ایک بار پھر باہر چلا گیا تھا۔” جنید بڑے آرام سے بتاتا گیا۔
”عمر سے میں نے تمہارا بہت ذکر سنا تھا۔ تم ان چند لوگوں میں سے ہو…جن کا نام ہمیشہ اس کی زبان پر رہا ہے۔ تمہارے لیے کسی زمانے میں بہت پریشان بھی رہتا تھا اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم دونوں کی کسی زمانے میں آپس میں بہت اچھی دوستی تھی۔”
وہ گم صم اس کی باتیں سن رہی تھی۔
”پھر عمر کے کیریئر کی وجہ سے تمہارے اور اس کے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں اور تم اسے برا سمجھنے لگیں۔ مگر عمر کی رائے تمہارے بارے میں ہمیشہ اچھی رہی، میں نے اسے کبھی تمہارے بارے میں کچھ بھی برا کہتے ہوئے نہیں سنا۔ کبھی بھی نہیں…تمہاری ہمیشہ تعریف کرتا ہے وہ۔” جنید دھیمے لہجے میں کہتا جا رہا تھا۔
”مجھ سے شادی کرنے کے لیے کس نے کہا تھا آپ کو؟عمر نے؟”
اپنے ہونٹ بھنچتے ہوئے اس نے جنید کی بات کو ان سنی کرکے پوچھا۔ جنید اس کی بات کے جواب میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا وہ کچھ نہ کہتا، تب بھی وہ اس سوال کا جواب جان چکی تھی۔ شکست خوردہ انداز میں اس نے اپنے سامنے پڑا ہوا پانی کا گلاس اٹھا لیا۔
”کئی سال پہلے اس نے مجھ سے ایک بار ایسی بات کی تھی۔” جنید کا لہجہ اب پہلے سے بھی زیادہ دھیما تھا، شاید وہ علیزہ کے تاثرات سے اس کی دلی کیفیت جان رہا تھا۔
”اس وقت میں شادی کے بارے میں سیریس نہیں تھا بلکہ اس وقت میں نے اس بارے میں کچھ سوچا ہی نہیں تھا کیونکہ میں اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہ رہا تھا اور یہ بات میں نے اس کو بتا دی تھی مگر وہ بضد تھا کہ جب بھی شادی کروں اس کے خاندان میں کروں، تم سے کروں…وہ چاہتاتھا کہ میں اس کے خاندان کا ایک حصہ بن جاؤں، مجھے اس وقت اس کی بات پر ہنسی آتی تھی کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ جتنا تمہارا ذکر کرتا تھا شاید وہ خود تم میں انٹرسٹڈ تھا مگر بعد میں میرا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔”
ہاتھ میں پکڑے ہوئے گلاس پر علیزہ کی گرفت کچھ اور سخت ہو گئی۔
”میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے دوبارہ باہر چلا گیا مگر عمر بار بار مجھے یہ یاد دلاتا رہا کہ واپس آکر مجھے تم سے شادی کرنی ہے۔” جنید نے ایک بار پھر کہنا شروع کیا۔ ”واپس آ کر بھی وہ مجھ سے یہی کہتا رہا کہ میں اپنی شادی کے بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں کیونکہ وہ بہت عرصہ پہلے ہی یہ طے کر چکا ہے کہ مجھے کس کے ساتھ شادی کرنی ہے۔ پھر آخر کار جب کچھ سیٹ ہو جانے کے بعد میں نے شادی کا فیصلہ کیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں تم سے ایک بار مل لوں، اس نے یہ بھی کہا کہ میں یہ ظاہر نہ کروں کہ میں عمر کا دوست ہوں کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اس صورت میں تم کبھی مجھ سے شادی پر تیار نہیں ہوگی۔ اس لیے عباس کے گھر والوں کی مدد لینی پڑی۔” وہ ایک بار پھر بات کرتے کرتے رکا۔
”بھوربن میں عباس کی ممی تمہیں مجھ سے ملوانے کے لیے ہی لے کر آئی تھیں۔ وہ خود ذاتی طور پر مجھ سے صرف ایک بار ہی ملی تھیں اور میری فیملی کو بھی نہیں جانتی تھیں مگر عمر نے ان سے کہا کہ وہ تمہیں لے کر بھوربن جائیں اور مجھ سے ملوا دیں۔”
وہ خالی الذہنی کے عالم میں اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔

”میری اور عمر کی دوستی اس نوعیت کی ہے کہ میں اس کی بات نہیں ٹال سکتا۔ وہ تمہارے بجائے مجھے کسی اور لڑکی سے بھی شادی کا کہتا تو میں تب بھی تیار ہو جاتا۔ تمہاری تو خیر بات ہی دوسری تھی۔ تمہارے بارے میں تو وہ کئی سالوں سے میری برین واشنگ کرتا آرہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بھوربن میں تم سے اتنے سالوں بعد دوبارہ ملنے پر مجھے تمہارے لیے کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ مجھے یونہی لگا جیسے میں بہت سالوں سے تم سے ملتا رہا ہوں۔”
جنید رکا۔
”تم نے مجھے پہچانا نہیں، حالانکہ مجھے اس کا خدشہ تھا مگر عمر کو یقین تھا کہ تم مجھے نہیں پہچان سکو گی۔ تمہارے بارے میں اس کے اندازے ہمیشہ صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ میرے گھر والوں نے بھی میرے کہنے پر تم پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ عمر کو جانتے ہیں یا عمر ہمارے ہاں آتا جاتا ہے۔ میں نے تمہاری اور عمر کی آپس میں غلط فہمی کے بارے میں انہیں بھی بتا دیا ہے مگر یہ سب ہمیشہ ایسا نہیں رہ سکتا تھا۔ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی طرح تمہیں یہ بات ضرور پتا چل جاتی کہ میں اور عمر آپس میں دوست رہے تھے اور پھر تم۔۔۔” جنید بات کرتے کرتے رک گیا۔
”شناسائی، پسندیدگی، محبت…ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ میرے لیے عمر کا ایک اور احسان…بس اور کیا تھا جنید ابراہیم۔۔۔” علیزہ نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھتے ہوئے بے یقینی سے سوچا ”اور میں پچھلے ایک سال سے اس گمان اور خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ یہ شخص مجھ کو دیکھ کر…مجھ سے مل کر میری محبت میں گرفتار ہو گیا ہے اور میں نے اپنے وجود کو خوش فہمیوں اور سرابوں کی کتنی لمبی زنجیر میں جکڑ لیا تھا۔ کیا دنیا میں واقعی محبت نام کی کوئی چیز ہوتی ہے اور یہ شخص عمر کا یار غار جنید ابراہیم …جو مجھے یہ بتا رہا ہے کہ یہ عمر کے کہنے پر کسی سے بھی شادی کر سکتا تھا۔ یہ میری محبت میں اپنے دل کے کہنے پر کہاں مبتلا ہو سکتا تھا۔” وہ ماؤف ذہن کے ساتھ اسے دیکھے جا رہی تھی ۔ تھکن کا ایک عجیب احساس اس کے اندر سرایت کرتا جا رہا تھا ، کچھ دیر پہلے کی خوشی اور طمانیت جیسے بھک سے اڑ گئی تھی۔ جنید اس سے پھر کچھ کہہ رہا تھا۔
”میں جانتا ہوں ، یہ سب کچھ سن کر تمہیں بہت غصہ آ رہا ہوگا۔ مگر۔۔۔” جنید کہہ رہا تھا۔
”غصہ…؟” علیزہ نے اپنی کیفیات کو جانچا نہیں اسے غصہ نہیں آرہا تھا۔ شاید آج پہلی بار اس طرح کے انکشافات سن کر اسے غصہ نہیں آیا تھا۔ نہ عمر جہانگیر پر، نہ جنید ابراہیم پر، نہ اپنے آپ پر اور وہ یہ بات جنید ابراہیم کو بتانا چاہ رہی تھی کہ اسے جنید پر غصہ نہیں آرہا تھا۔ مگر یکدم ہی اسے احساس ہو رہا تھا کہ لفظوں کو چننا اور جوڑ کر ادا کرنا اس کے لیے بہت مشکل ہو گیا تھا ۔ لفظ اپنی وقعت اور اپنی آواز بھی کھو گئے تھے۔
”میں تمہیں اس سب کے بارے میں کبھی بھی دھوکے میں نہ رکھتا، جلد یا بدیر میں تمہیں یہ سب کچھ بتا دیتا۔” وہ کہہ رہا تھا۔
”جلد یا بدیر؟” وہ پھر سوچنے لگی۔ ”کتنی جلدی اور کتنی دیر سے۔ اگر آج میں اصرار نہ کرتی تو کیا یہ مجھے سب کچھ بتا دیتا۔” اس نے جنید کو دیکھتے ہوئے سوچا۔ ”اور اگر مجھے یہ سب کچھ شادی کے بعد پتا چلتا تو…تو میں کیا کر سکتی تھی؟”
”حالانکہ عمر یہ چاہتا تھا کہ تمہیں یہ سب کچھ کبھی نہ بتایا جائے لیکن میں یہ نہیں کر سکتا۔ تمہیں نہ بتانے کا مطلب ہے کہ عمر میرے گھر نہ آ سکے گا۔ نہ ہی میں اس سے اس طرح کھلے عام مل سکوں گا جس طرح اب ملتا ہوں اور میں اس سے اپنی دوستی کسی طرح ختم نہیں کر سکتا۔ کسی قیمت پر نہیں۔” وہ قطعیت سے کہہ رہا تھا۔ ”اسی لیے یہ چاہتا ہوں کہ تم اس کے بارے میں ہر غلط فہمی دور کر لو۔ عمر ایک بہت اچھا انسان ہے اور وہ ہمیشہ میرا بہترین دوست رہے گا۔ میں تمہارے کہنے پر یا کسی کے بھی کہنے پر اسے نہیں چھوڑوں گا۔”
علیزہ نے دوسری کرسی پر پڑا اپنا بیگ اٹھا لیا اور وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ جنید حیران رہ گیا۔ ”تم کہاں جا رہی ہو؟”
علیزہ نے جواب دینے کے بجائے قدم بڑھا دیئے۔
”علیزہ…علیزہ! جنید کچھ پریشان ہوتے ہوئے خود بھی اٹھ کھڑا ہوا مگر علیزہ نے مڑ کر اسے نہیں دیکھا۔ جنید نے اپنے والٹ میں سے کچھ نوٹ نکال کر میز پر رکھ دیئے اور خود بھی علیزہ کے پیچھے آ گیا۔ وہ اب دروازہ کھول کر سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
”علیزہ! علیزہ…!جنید ایک بار پھر سے آوازیں دینے لگا۔ اس نے مڑے بغیر سیڑھیاں اترنا جاری رکھا وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے سامنے آگیا۔
”کیا ہوا؟ تم اس طرح باہر کیوں نکل آئی ہو؟”
علیزہ رک گئی ۔ وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا، وہ آگے نہیں جا سکتی تھی۔
”کیا ہوا ہے تمہیں؟” اس نے پریشانی سے پوچھا۔

”اس طرح کھانا چھوڑ کر کیوں آگئی ہو؟”
”میں گھر جانا چاہتی ہوں…ابھی…اسی وقت۔۔۔” اس نے سُتے ہوئے لہجے میں کہا۔
”ہمیں گھر ہی جانا تھا مگر اس طرح کھانا چھوڑ کر۔۔۔”
”آپ کھانا کھائیں…آپ کیوں کھانا چھوڑ کر آگئے ہیں؟ میں چلی جاؤں گی۔” اس نے جنید کے دائیں طرف سے نکلنے کی کوشش کی۔
”میں خود یہاں کھانا کھانے نہیں آیا تھا علیزہ! تمہارے ساتھ کھانا کھانے آیا تھا۔”
جنید نے افسوس سے کہا۔ وہ اب اس کے ساتھ چل رہا تھا۔ علیزہ خاموشی سے چلتی رہی۔
”ٹھیک ہے میں تمہیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔” جنید نے بالآخر ہتھیار ڈال دیئے۔
علیزہ نے اپنے قدم روک دیئے۔ جنید اب پارکنگ کی طرف جا رہا تھا وہ وہیں کھڑی رہی۔ کچھ دیر کے بعد وہ گاڑی اس کے قریب لے آیا۔ اس نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول دیا، وہ خاموشی سے اندر بیٹھ گئی۔
”میں جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض ہو مگر میں نے ہر بات کی وضاحت کی ہے۔”
جنید یقیناً اب پریشان تھا اسی لیے اس نے گاڑی کو مین روڈ پر لاتے ہی ایک بار پھر اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ وہ اس کی طرف دیکھے بغیر ونڈ سکرین سے باہر دیکھتی رہی۔
”علیزہ…! میری طرف سے کسی غلط فہمی کو دل میں جگہ مت دو۔”
علیزہ کی خاموشی جنید کی پریشانی میں اضافہ کر رہی تھی۔
”میں نے کچھ ہفتے پہلے بھی ایک دن تم سے یہ کہا تھا کہ میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ میں یہی بات ہیں بتانا چاہتا تھا۔” وہ کہہ رہا تھا ”بلکہ میں عمر سے اپنی دوستی کو سرے سے چھپانا چاہتا ہی نہیں تھا۔ یہ اس کا اصرار تھا جس پر مجھے ایسا کرنا پڑا مگر اس میں تمہیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچا نہ میری طرف سے نہ عمر کی طرف سے اور ہمیں ایسا کیوں کرنا پڑا…میں تمہیں بتا چکا ہوں۔”
جنید کا لہجہ قدرے بے ربط ہو رہا تھا۔ علیزہ اب بھی ونڈ سکرین سے باہر دیکھتی رہی۔
جنید قدرے بے چارگی کے عالم میں خاموش ہو گیا۔ ”میں پھر بھی ایکسکیوز کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے تمہیں یہ سب کچھ بہت برا لگا ہو یا اس سے کوئی تکلیف پہنچی ہو تو۔۔۔” وہ چپ ہو گیا۔ شاید اس کے پاس کرنے کے لیے کوئی اور بات باقی نہیں رہی تھی۔
علیزہ کے گھر کے گیٹ پر اس نے ہارن بجا کر چوکیدار کو متوجہ کیا مگر گاڑی گیٹ پر رکتے ہی علیزہ دروازہ کھولنے لگی۔
”علیزہ! میں گاڑی اندر لے کر جا رہا ہوں۔” جنید نے کہا۔
”نہیں آپ یہیں سے چلے جائیں، اندر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔” علیزہ نے سرد آواز میں اس سے کہا۔ جنید کا چہرہ خفت سے سرخ ہوا۔ چوکیدار اب گیٹ کھول رہا تھا۔
”تم اپنے شاپرز اٹھا لو۔”
جنید نے پچھلی سیٹ پر رکھے ہوئے شاپرز کی طرف اشارہ کیا مگر اس سے پہلے کہ وہ انہیں اٹھا کر اس کی طرف بڑھاتا، وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اتر گئی۔ جنید نے اسے آواز دی مگر اس نے پیچھے مڑے بغیر گیٹ عبور کر لیا۔
کچھ جھنجھلاتے ہوئے جنید گاڑی کو آہستہ آہستہ اندر لے آیا۔ علیزہ کا رویہ۔ اس کے لیے بہت ناقابل یقین تھا۔ اگر اس کے وہم و گمان میں بھی یہ ہوتا کہ وہ اس طرح کے ردعمل کا اظہار کر سکتی ہے تو وہ کبھی اس کے سامنے اس طرح کے انکشافات نہ کرتا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ تھوڑا بہت ناراض ہو گی مگر وہ اسے سمجھا بجھا کر اس کی یہ ناراضی دور کر لے گا۔ مگر اس سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ اس طرح بالکل چپ سادھ لے گی۔
علیزہ اپنے پیچھے اس کی گاڑی کے اندر آنے کی آواز سن رہی تھی مگر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ لاؤنج کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہو گئی۔ نانو لاؤنج میں ہی بیٹھی تھیں۔ انہوں نے علیزہ کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔
”تم بہت جلد آگئیں میں سوچ رہی تھی قدرے دیر سے آؤ گی۔”
انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے حیرت سے کہا۔ علیزہ نے ان کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ ایک نظر انہیں دیکھنے کے بعد وہ رکے بغیر لاؤنج سے گزر گئی۔ نانو نے حیرت سے اسے جاتے دیکھا۔ وہ اس کے چہرے کے تاثرات سے کچھ بھی اندازہ نہیں کر سکی تھیں۔
علیزہ وہاں رکے بغیر سیدھا اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنے بیگ کو اپنے بستر پر اچھال دیا اور خود دیوار کے ساتھ پڑے صوفہ کی طرف بڑھ گئی۔ اپنے جوتے اتار کر دونوں پیر صوفہ کے اوپر رکھتے ہوئے کشن گود میں لے کر بیٹھ گئی۔ وہ اپنی کیفیات خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آج خلاف معمول اسے رونا نہیں آرہا تھا۔

”جنید ابراہیم۔۔۔” اس نے زیر لب اس کا نام دہرایا۔ اس نے کچھ دیر پہلے اس کے ہونٹوں سے نکلنے والے تمام جملوں کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ اس کا شاک ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ اندازہ نہیں کر پا رہی تھی کہ اسے غم زیادہ ہوا تھا یا پھر غصہ اور ان دونوں چیزوں کا تعلق کس سے تھا جنید سے…؟عمر سے…؟ نانو سے… یا پھر ان تینوں سے؟
دروازے پر دستک دے کر نانو اندر آ گئی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں شاپرز تھے یقیناً جنید وہ شاپرز انہیں دے گیا تھا۔
”تم یہ ساری چیزیں اس کی گاڑی میں کیوں چھوڑ آئیں؟” نانو نے تنبیہی انداز میں کہا۔
”اور موڈ کیوں خراب ہے تمہارا؟” انہوں نے شاپرز بیڈ پر رکھتے ہوئے کہا۔
”پھر کوئی جھگڑا ہو گیا ہے تم دونوں میں؟” وہ اب اس سے پوچھ رہی تھیں۔
ان کے لہجے میں تشویش کا عنصر نمایاں تھا۔ ”جنید بھی کچھ پریشان نظر آرہا تھا۔ میرے روکنے کے باوجود رکا نہیں۔ اوپر سے تمہارے منہ پر بھی بارہ بجے ہوئے ہیں، آخر ہوا کیا ہے؟”
علیزہ ان کو مکمل طور پر نظر انداز کیے اپنے دانتوں سے انگلیوں کے ناخن کترتی رہی۔
”تم کچھ بتاؤ گی یا اسی طرح بیٹھی رہو گی منہ بند کرکے؟” اس بار نانو نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔ علیزہ نے اس بار بھی ان کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ”شادی سے پہلے اس طرح جھگڑ رہے ہو تم دونوں تو بعد میں کیا ہوگا؟ میں اسی لیے لمبی کورٹ شپ کے حق میں نہیں تھی اور علیزہ ! کم از کم تم سے تو میں اس طرح کی حماقت کی توقع بھی نہیں کر سکتی تھی۔”
علیزہ نے اس بار بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اب بھی خاموشی سے پہلے کی طرح اپنے ناخنوں کوکترتی رہی۔
”کیا تم قسم کھا کر بیٹھی ہو کہ تم بالکل گونگی ہو جاؤ گی اور کچھ بولو گی ہی نہیں ۔ آخر کچھ کہو تو؟” نانو کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو نے لگا۔
”نانو ! آپ اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔ میں آپ سے صبح بات کروں گی۔” ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے نانو سے کہا۔
”مگر آخر تمہیں ہوا کیا ہے؟” نانو نے کچھ تشویش آمیز انداز میں کہا۔
”جو بھی ہوا ہے میں اس کے بارے میں صبح آپ سے بات کروں گی۔ اس وقت آپ مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔”
علیزہ نے اسی انداز میں کہا۔ نانو کچھ دیر کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں اسے دیکھتی رہیں پھر انہوں نے پوچھا۔ ”کھانا کھا لیا ہے تم نے؟”
”سب کچھ کھا چکی ہوں، آپ پریشان نہ ہوں۔” علیزہ نے اکھڑ لہجے میں کہا۔
نانو کچھ دیر اسی طرح کھڑی اسے دیکھتی رہیں پھر کچھ کہے بغیر اس کے کمرے سے باہر نکل گئیں۔ علیزہ اپنے بیڈ پر پڑے ہوئے ان شاپرز کو گھورنے لگی جن میں موجود چیزوں کو کچھ دیر پہلے اس نے بڑے شوق سے جنید کے ساتھ خریدا تھا۔ اس وقت اسے ان تمام چیزوں سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔
اسے سب کچھ ناقابل یقین لگ رہا تھا۔ ”آخر یہ کیسے ہوا کہ مجھے کبھی بھی جنید ابراہیم پر شبہ نہیں ہوا۔ کبھی بھی یہ خیال نہیں آیا کہ عباس کے بجائے وہ خود بھی عمر کا دوست ہو سکتا تھا۔ تب بھی نہیں جب وہ اتنے زور و شور سے عمر کی حمایت کرنے میں مصروف تھا، مجھے سوچنا چاہیے تھا کہ یہ صرف معمولی سی شناسائی تو نہیں ہو سکتی جو جنید کو اس طرح مجھ سے ناراض کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ صرف عباس کے کہنے پر یا عباس کے لیے تو وہ عمر کے لیے اس طرح کی فیلنگز کا اظہار نہیں کر سکتا تھا۔
اور پھر اس دن وہاں کے ایف سی میں ان دونوں کو اکٹھے دیکھ کر بھی میں نے یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ یہ دوستی دیرینہ بھی ہو سکتی تھی۔ ان دونوں کے درمیان نظر آنے والی بے تکلفی کے باوجود میں نے یہی سوچا کہ یہ تعلقات ابھی حال ہی میں استوار ہوئے ہیں اور وہ بھی عمر کی کوشش سے…عمر کو جنید کے گھر دیکھ کر بھی مجھے اس پر کوئی شبہ نہیں ہوا۔ آخر کیوں؟ کیا واقعی میں اس حد تک بے وقوف ہوں کہ کوئی بھی جب دل چاہے مجھے بے وقوف بنا سکتا ہے اور وہ بھی اس حد تک…وہ غم و غصہ کے عالم میں سوچ رہی تھی اور…آخر عمر جہانگیر چاہتا کیا ہے، کیا کرنا چاہتا ہے؟ اپنے بہترین دوست کو میرے گلے میں کیوں باندھ رہا ہے اور وہ بھی اسے اس بات سے بے خبر رکھ کر کہ میں عمر جہانگیر سے محبت کرتی رہی ہوں اور اس سے شادی کی خواہش مند تھی اور مجھے اس بات سے بے خبر رکھ کر کہ جنید سے اس کے تعلقات اس نوعیت کے تھے۔ وہ آخر یہ کیوں چاہتا ہے کہ میں اس سے شادی کر لوں۔ اس سے عمر جہانگیر کو کیا ملے گا اور باقی سب لوگ نانو، عباس، عباس کی ممی آخر ان سب نے میرے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیوں کیا۔ کیا انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ میں کبھی یہ سب جان جاؤں گی اور پھر… پھر میں ان کے بارے میں کیا سوچوں گی۔”
اسے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا ، اتنے بہترین طریقے سے اسے ٹریپ کیا گیا تھا کہ آج اگر جنید خود اسے سب کچھ نہ بتا دیتا تو اسے کبھی بھی ان سب پر شک نہ ہوتا ، نہ وہ اصلیت جان سکتی۔
علیزہ کو اب بھی یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے عمر کے ساتھ آج سے کئی سال پہلے جنید کو دیکھا تھا۔ ان دنوں سرسری طور پر اس نے کئی بار عمر کے بہت سے دوستوں کو دیکھا تھا اور ان میں سے جنید کو پہچاننا اور یاد رکھنا ناممکن کام تھا، جب تک کہ خاص طور پر وہ ان دونوں کو آپس میں متعارف نہ کرواتا اور ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہ اگر اس سے ملی بھی تھی تو سرسری انداز میں مگر جہاں تک جنید کے فون کالز ریسیو کرنے کا تعلق تھا اسے وہ یاد آگئی تھیں۔ عمر جنید کو جین کہا کرتا تھا اور کئی بار فون کرنے پر وہ عمر تک جین کے پیغام بھی پہنچایا کرتی تھی۔ عمر کے منہ سے اس نے بہت دفعہ جین کا ذکر بھی سنا تھا۔ جوڈی کے بعد یہ دوسرا نام تھا جس کا عمر خاصا ذکر کرتا تھا مگر اس کے باوجود اس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ جین کا اصلی نام کیا ہے۔ اس کے نزدیک یہ بات کبھی اتنی اہمیت کی حامل رہی ہی نہیں تھی۔
اور اب وہ ماؤف ہوتے ہوئے ذہن کے ساتھ ان دونوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ جنید ابراہیم ،عمر جہانگیر اپنے بہترین دوست کے ساتھ باندھنا کیوں چاہتا ہے عمر مجھے…دونوں کو دھوکا دیتے ہوئے۔ مجھے بھی جنید کو بھی۔

جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔